لندن :کورونا کی نئی قسم کا خوف کئی ممالک نے برطانیہ کی پروازوں پرپابندی لگادی ،اطلاعات کے مطابق یورپ میں کرونا وائرس کی نئی خطرناک قسم دریافت ہونے کے بعد ہلچل مچی ہوئی ہے ، ادھر کورونا کی نئی قسم کا خوف کئی ممالک نے برطانیہ کی پراوزوں پراپنے ملک میں داخل ہونے پرپابندی لگادی
برطانوی ایئرلائنزکے جن مزید ملکوں نے داخلے پرپابندی لگائی ہے ان میں جرمنی ، آئرلینڈ اورفرانس شامل ہیں
ذرائع کے مطابق برطانیہ اس وقت سخت مشکل میں ہے ادھر برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم دریافت ہونے کے بعد اٹلی ، نیدر لینڈ اور بیلجیئم نے وہاں سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کردیں جب کہ دیگر یورپی ممالک بھی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیدرلینڈ میں بھی ایک مریض میں کورونا وائرس کی ایسی نئی قسم پائی گئی ہے جو کہ برطانیہ میں بھی دریافت ہوچکی ہے جس کے بعد نیدر لینڈ نے برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن کو بند کردیا ہے۔
دوسری جانب بیلجیئم کی حکومت نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے برطانیہ سے آنے اور جانے والی پروازیں اور ٹرین سروسز کو معطل کردیا ہے۔ یہ پابندی بھی برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم دریافت ہونے پر کیا گیا ہے۔
اٹلی سے ذرائع کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں برطانیہ میں دریافت ہونےوالے اس نئے کرونا وائرس کے پھیلاو کے ڈرسے پابندی لگا دی ہے
دونوں ممالک کی جانب سے پروازوں اور ٹرینوں پر پابندی یکم جنوری تک برقرار رہیں گی تاہم اس کے بعد حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم دریافت ہوئی ہے جو ستر فیصد تک پھیلتا ہے اور یہ نوجوانوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
اسلام آباد :مودی اپنی حرکتوں سے بازآجا:ورنہ "اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں”اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے یو این گاڑی پر فائرنگ کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مودی اندرونی مسائل سےتوجہ ہٹانےکیلئےفالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے اگر فالس فلیگ آپریشن ہوا تو ہمارا جواب بھرپور ہو گا۔
I am making absolutely clear to the int community that if India was to be reckless enough to conduct a false flag operation against Pakistan, it would confront a strong national Pakistani resolve & be given a befitting response at all levels of the threat. Make no mistake.
ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ بھارت نےایل اوسی پرجان بوجھ کر یوا ین گاڑی کو نشانہ بنایا یو این گاڑی پرفائرنگ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اقوام متحدہ گاڑی پر نیلا جھنڈا لگے ہونےکے باوجود نشانہ بنایا گیا۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت پاکستان کے بارے میں برے عزائم بنا رہا ہے بھارت یہ یاد رکھ لے کہ اگرکوئی ایسی غلطی کی تو بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا پھران شا اللہ کئی پاکستان بنیں گے
In complete violation of int law, India's delib firing at LoC on UNMOGIP vehicle, despite clear UN markings & flying blue UN flag, shows India's total disregard for all int norms of acceptable state behaviour & respect for int law & UN. Pak strongly condemns this rogue behaviour.
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کی اس غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتا ہے، مودی اندرونی مسائل سےتوجہ ہٹانےکیلئےفالس فلیگ آپریشن کرسکتاہے، مودی حکومت کی کسی بھی ممکنہ گڑبڑ سے دنیا کو خبردار کرتا ہوں۔
Already, in 2020 alone, there have been 3000 Indian ceasefire violations along the LoC & Working Boundary, by unprovoked firing deliberately targeting civilians – resulting in 276 casualties, of which 92 were women & 68 children.
وزیراعظم نے لکھا کہ بھارت میں کورونا، کسادبازاری اور کسانوں کےاحتجاج کےمسائل ہیں جب کہ ایل اوسی پر فائرنگ میں شہری آبادی کونشانہ بنایاگیا بھارت نے تھوڑے ہی عرصے میں 3ہزار سے زائد مرتبہ جارحیت کی ،جس کے نتیجے میں 276 شہری شہید ہوئے، بھارت کی شہری آبادی پرگولہ باری سے92خواتین اور 68 بچے شہیدہوئے۔
وزیراعظم نے خبردار کیا کہ عالمی برادری پر واضح کرتا ہوں کہ فالس فلیگ آپریشن ہوا تو ہمارا جواب بھرپور ہو گا، کسی بھی خطرےپرپاکستان جوابی کارروائی کاحق رکھتاہے۔
ادھر دوسری طرف بھارتی جارحیت پراس قدرسخت ردعمل آرہا ہے کہ ہرطرف یہ ایک دکھ بھری داستان بن گئی
پھر یہ ہی نہیں بلکہ ٹویٹر پرتو یہ ایک ٹاپ ٹرینڈ بن گیا یہ ٹرینڈ کچھ اس طرح ہے "بھارت نے اقوام متحدہ پر حملہ کردیا”
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق” بھارت نے اقوام متحدہ پر حملہ کردیا” EndiaAttackedUN# اس وقت ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ میں سے ہے . اس ٹرینڈ میں بھارت کی دہشت گردی کی مزمت کی جارہی ہے جو وہ اپنے ہمسایہ ممالک پر آئے روز بمباری کر کے اس کے نہتے شہریوںکو نشانہ بنا رہا ہے . اس سلسلے میںچند روز قبل بھارت نے ایل او سی پر فائرنگ کر کے اقوام متحدہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جس میں گاڑی کو بھارتی لانگ رینچ گنوں کے فائر لگے اور گاڑی کو نقصان پہنچا.
بھارت کی اس جارحیت ایک صارف نے تصاویر شیئر کی جس میں اقوام متحدہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا.
ارشد محمود نے کھا کہ بھارت اس وقت 66 سے زائد کیمپ چلا رہا ہے اور افغانستا ن کی زمین استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی برآمد کر رہا ہے.
ایک صارف حیا جان نے لکھا کہ بھارت مکمل طور پر عیاں ہو چکا ہے جو کہ دہشت گردی کا مدد گار بنا ہوا ہے.
حزیفہ شاہین نے لکھا کہ بھارت پاکستان کو الزم لگاتا ہے کہ اس کی دہشت گرد تنظیمیںہیں لیکن اپنی طرف دیکھے جو وہ جموں اور کشمیر میں کر رہا ہے.
واضح رہے کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کی جانب سے ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی گاڑی میں دو ملٹری آبزرورز موجود تھے، جو سیز فائر کی خلاف ورزی کے شکار افراد سے ملاقات کرنے پولاس گاؤں کی جانب سے جا رہے تھے۔
ترجمان پاک فوج نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ یہ بات نوٹس میں رہے کہ اقوام متحدہ کی گاڑیاں دور سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔ انڈٰین فوج کی گولیاں گاڑی کو لگیں تاہم خوش قسمتی سے اس میں موجود یو این مبصر محفوظ رہے۔ پاک فوج کی جانب سے مہمانوں کو فوری طور پر موقع سے بحفاظت نکالتے ہوئے راولا کوٹ پہنچایا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایس پی آر نے بھارت کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں فائرنگ اورمعصوم شہریوں کونشانہ بنانے پر بھارتی مکاری دنیا کے سامنے عیاں کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارتی خطرناک عزائم اس حد تک تجاوز کرگئے ہیں کہ بھارتی افواج نے اس علاقے میں امن کے لیے ذمہ داریاں نبھانے کے لیے اقوام متحدہ کے کارکنوں کوبھی معاف نہیں کیا اوران کو نشانہ بنایا ہے
پاک فوج کے ترجمان ادارے نے اس بات کا خدشہ ظاہرکیا ہے کہ بھارتی افواج جان بوجھ کرسویلین کونشانہ بنا رہی ہیں ،ادھر آئی ایس پی آر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کی امن کے حوالے سے کوششوں کی حمایت کرتا ہے اوربھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کے مبصرین کوگولیوں کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کوغلطی پر12 لاکھ جرمانہ:کپتان نےنہیں بنایا کوئی بہانہا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جرمانے کی رقم ادا کردی ہے یہ جرمانہ مشہورزمانہ بنی گالہ کیس کے نقشے کی منظوری لینے میں سست روی کی وجہ سے وزیراعظم کو کیا گیا ہے
اسلام آباد سے سی ڈی اے کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کو قانونی قرار دے دیا گیا ہے، جب کہ سی ڈی اے نے وزیراعظم کے گھر کے نقشے کی منظوری دے دی ہے۔
سی ڈی اے نے وزیراعظم عمران خان پر 12 لاکھ 6 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا، اور عمران خان نے جرمانے کی رقم بینک ڈرافٹ کے ذریعے ادا کی، جس کے بعد ان کے گھر کو قانونی قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں اپنی دونوں رہائشی عمارتوں کی ریگولرائزیشن کے لیے سی ڈی اے کو درخواست دی تھی، اور ڈھائی سو کنال پر مشتمل اپنی رہائشگاہ اوراس سے ملحقہ بیٹھک کی عمارت کے کاغذات جمع کروائے تھے۔
عمران خان نے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے خط تحریر کیا تھا جس پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا تھا۔
عمران خان نے اپنے خط میں کہا تھا کہ بنی گالہ میں لینڈ مافیا سرگرم ہے جو غیر قانونی تعمیرات کررہی ہے جس کے خلاف سی ڈی اے سمیت کوئی بھی متعلقہ ادارہ کارروائی نہیں کررہا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سی ڈی اے سے معاملے پر تفصیلی جواب طلب کیا تھا۔
اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بنی گالا تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ سب سے پہلے عمران خان کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ وہ اس کیس میں درخواست گزار ہیں، انہوں نے خود بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ خود اٹھایا تھا، وہ فیصلہ کرکے اپنے گھر کا جرمانہ ادا کریں۔
اسلام آباد :سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بھارت کی رکنیت معطل کریں:پھریقین ہوگا :رحمان ملک حکومتی ترجمان بن گئے،اطلاعات کے مطابق سینیٹر رحمان ملک کا سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے بھارت کا سیکورٹی کونسل کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بھارت کی رکنیت معطل نہیں کی جاتی اس وقت تک کسی کی غیرجانبداری کا یقین نہیں کرسکتے
سینیٹررحمان ملک نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نام پاکستان کے مطالبے میں کہا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول پر اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کی گاڑی کو نشانہ بنایا،
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کیطرف سے اقوام متحدہ امن مشن پر حملہ پورے اقوم عالم پر حملہ ہے، سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ افسوس کہ اس گھناؤنی جرم پر اقوام متحدہ نے ابھی تک بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے،
سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ سکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے اپیل ہے اس مجرمانہ فعل پر بھارت کی اقوام متحدہ کی رکنیت فوری معطل کردیں، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ امن مشن پر حملہ پر بھارت کا اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی رکنیت بھی ختم کیجائے،
سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ آئے روز بھارت جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے،بھارت مسلسل خلاف ورزیوں اور دوسرے ممالک میں مداخلت سے پورے خطے کے امن کو خطرہ میں ڈال رہا ہے،
سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا نوٹس لے،
موغادیشو: وزیر اعظم خود کش حملے میں بال بال بچ گئے، 15 افراد ہلاک،اطلاعات کے مطابق ایک اسلامی ملک کے وزیراعظم محمد حسین روبلے کی آمد سے زرا دیر پہلے ایک زور دار بم دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صومالیہ کے وزیراعظم کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، خوش قسمتی سے محمد حسین روبلے محفوظ رہے تاہم اُن کے 3 محافظوں سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے۔
صومالیہ کی سرکاری نیوز ایجنسی سونا نے وزیراعظم پر حملے کی تصدیق کر تے ہوئے بتایا کہ بم دھماکا وزیراعظم کی آمد سے زرا دیر قبل ہوا تھا۔
وزیراعظم محمد حسین روبلے محمد پر حملے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ الشباب نے قبول کرلی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار نے اسٹیڈیم کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ناکامی پر وزیراعظم کے سیکیورٹی اسٹاف کے نزدیک خود کو دھماکے سے اُڑادیا۔
خود کش دھماکا اسٹیڈیم کے باہر کیا گیا جہاں وزیراعظم محمد حسین روبلے نے خطاب کرنے آرہے تھے۔ الشباب صومالیہ میں سرکاری عمارتوں اور افسران کو نشانہ بنانے میں ملوث رہی ہے۔
باغی ٹی وی :کابل پھر دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے . کابل میں ہونے والے دھماکے سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے . دھماکے کے بعد ہر طرف بھگدڑ مچ گئی، زخمیوں میں بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دھماکے سے تین گاڑیوں کو آگ لگ گئی جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، دھماکے کا ٹارگٹ رکن اسمبلی حاجی خان محمد تھے جو بال بال بچ گئے۔
واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
اسلام آباد:سی پیک پر برطانوی ہائی کمشنرکے بیان نے بھارت امریکہ کوگہرے زخم دے دیئے ،اطلاعات کے مطابق سی پیک پربرطانوی موقف کے سامنے آنے پربھارت ،امریکہ اوردیگرسی پیک مخالفین سیخ پا ہوگئے ہیں، سی پیک کے حوالے سے برطانیہ کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے اسے ( برطانیہ) کوئی خطرہ نہیں۔
ذرائع کے مطابق سی پیک کے حوالے سے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنز کرسچیئن ٹرنر کا کہنا تھا کہ وہ سی پیک کے بارے میں بہت کلیئر ہیں اور اسے برطانوی مفادات کے لیے خطرہ نہیں سمجھتے۔
انھوں نے کہا کہ اگر سی پیک کے تحت اس انداز سے سرمایہ کاری ہو جسے پاکستان کو فائدہ پہنچا تو یہ کاروباری ماحول کے لیے بھی اچھا ہوگا۔برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ باہمی تجارت سے دیگردنیا کوبھی توفوائد حاصل ہوں گے
بھارت کے ساتھ تجارت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سیاق و سباق میں اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے تاہم ورلڈ بینک کی اسٹڈی کے مطابق سرحد پار تجارت سے پاکستان کی جی ڈی پی میں 30 فیصد تک نمو ہوسکتی ہے۔
کرونا کا مبینہ طور پر واحد علاج فائز کمپنی کی ویکسین کے سائیڈ افیکٹ سامنے آنے لگے، ماہرین نے سر پکڑ لیے
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کرونا کا علاج سمجھی جانے فائزرکمپنی کی ویکسین کا سائیڈ افیکٹ سامنے آگیا اس سلسلے میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) فائزر کورونا وائرس ویکسین کے بارے میں الرجی جیسے سائیڈ افیکٹ یا ردعمل کی تحقیقات کر رہی ہے ، یہ رد عمل فائزر ویکسین کے استعمال کے ایک ہفتے کے اندر امریکہ کی متعدد ریاستوں میں رپورٹ ہوا تھا .
ایف ڈی اے کے مرکز برائے تشخیص حیاتیات اور تحقیق کے ڈائریکٹر پیٹر مارکس نے جمعہ کے روز دیر گئے صحافیوں کو بتایا کہ الاسکا کے علاوہ ایک سے زیادہ ریاستوں میں بھی اس کے بارے میں ایسا رد عمل ظاہر ہوا ہے اور ایف ڈی اے پانچ رد عمل کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "ہم بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ، اور ہم واقعتا اپنے برطانیہ کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ، جنھوں نے یقینا الرجی کے رد عمل کی اطلاع دی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ان رد عمل میں سے ہر ایک سے حاصل ہونے والے تمام اعداد و شمار کو تلاش کرینگے جو واقعی ہوا تھا ، اور ہم یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ویکسین کا کون سا جزو ان کی تیاری میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔اسی طرح شکاگو کے ہسپتال کرونا ویکسین کے رد عمل کی وجہ سے مریضوں کو لگانا ترک کردیا ہے جب اس کے چار افراد کو پر منفی رد عمل واضح ہونا شروع ہوا .
انہوں نے مزید کہا ، "مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس صحیح الرجک رد عمل کے علاج معالجے کی دستیابی کے ساتھ صحیح حکمت عملی موجود ہے ، اور ہم اس کی بہت قریب سے نگرانی کرتے رہیں گے.
مارکس نے کہا کہ ایف ڈی اے کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ ان کی وجہ سے کیا رد عمل ہوا ہے لیکن انہوں نے پولیٹین گلیکول نامی کیمیکل کا اشارہ کیا ، جو فائزر اور بائیو ٹیک کے ساتھ ساتھ موڈرنہ کے ذریعہ تیار کردہ ویکسینوں میں موجود ہے جو کہ اس سائیڈ افیکٹ کی وجہ بن سکتا ہے
کورونا کی دوسری لہر بے قابو، مزید اموات مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی : کورونا کی دوسری لہر بے قابو ہو گئی، مزید 80 افراد جاں بحق ہو گئے، مجموعی تعداد 9 ہزار 330 تک پہنچ گئی، 2 ہزار 615 نئے مریض سامنے آ گئے۔
این سی او سی کے مطابق مہلک وائرس سے اب تک چار لاکھ 57 ہزار 288 شہری متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ایکٹو کیسز کی تعداد 40 ہزار 553 ہو گئی۔ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 ہزار 206 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2615 مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں اب تک 63 لاکھ ایک ہزار 341 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
صوبہ سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں 2 لاکھ 4 ہزار 103 کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 31 ہزار 428، خیبر پختونخوا 54 ہزار 948، بلوچستان میں 17 ہزار 909 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اسلام آباد میں 36 ہزار 117 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 822 کیسز سامنے آئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کورونا مریضوں کی تعداد 7 ہزار 961 تک پہنچ گئی.
ملک بھرمیں مثبت کیسز کی شرح 6.61 فیصد ہو گئی ہے۔ حیدرآباد میں کورونا مثبت کیسزکی شرح سب سے زیادہ 24.59فیصد ہوگئی ہے۔
کراچی میں کورونا مثبت کیسزکی شرح 11.20 فیصد، راولپنڈی17.21، آزاد جموں کشمیر 7.47، بلوچستان 3.56، گلگت بلتستان 1.07، اسلام آباد 3.5 فیصد ہے۔
لاھور: بھارت خطرناک ترین ملک ۔۔۔ عالمی ادارے کی رپورٹ ۔۔۔!!مودی سرکارکی پالیسیاں جلد بھارت کوتوڑدیں گی:مبشرلقمان کے انکشافات نے بھارتی حکومت کے عزائم کو ننگا کردیا ہے وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں کسانوں کی تحریک شروع ہوئے اب تو کئی دن گزر چکے ہیں۔ لیکن مسئلہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ہر ایک گزرتے دن کے ساتھ موسم شدید سرد ہوتا جا رہا ہے لیکن غریب کسان سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سے کسان اپنی جان بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ پنجاب کے بائیس اور مجموعی طور38کسان اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ دہلی کے کنڈلی بارڈر پر جاری کسان تحریک میں شامل سکھ سنت یعنی سکھ مذہبی رہنما رام سنگھ نے بھی خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی ہے۔ اور انہوں نے اپنی خودکشی کے نوٹ میں لکھا ہے کہ حکومت انصاف نہیں کر رہی اور انھیں اپنے کسان بھائیوں کو اس حالت میں دیکھ کر شدید تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔۔ اس خودکشی کی وجہ سے کسانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن مودی سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگھ رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے کسانوں کےمعاملے پر کمیٹی بنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اور حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان قوانین کا نفاذ روک دے تاکہ کشیدگی نہ بڑھے لیکن حکومت پھر بھی بضد ہے کہ انہوں نے یہ قوانین نافذ کرنے ہیں اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اگر یہ نافذ نہ کئے گئے تو کسان مذاکرات کے لئے سامنے نہیں آئیں گے۔
دوسری جانب اتنے کسانوں کے جان سے چلے جانے کے بعد اگر ہوا ہے تو صرف اتنا کہ مودی نے بیان جاری کیا ہے کہ میں تمام سیاسی جماعتوں سے ہاتھ جوڑ کر منت کرتا ہوں، سہرہ اپنے سر باندھ لیں۔ میں آپ کے پرانے انتخابی منشوروں کو کریڈٹ دے رہا ہوں۔ میں صرف کسانوں کی زندگی آسان بنانا چاہتا ہوں، میں ان کی ترقی چاہتا ہوں اور زراعت میں جدیدیت لانا چاہتا ہوں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ قانون کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھارتی وزیر زراعت نے ایک آٹھ صفحات کا خط بھی جاری کر دیا ہے جس میں چن چن کر زرعی قوانین کی تعریف کی گئی ہے۔ کسانوں کو ان کے فائدہ کے بارے میں بتایا ہے۔ اور تو اور مودی نے بھی کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خط کو پڑھیں۔
ان کا مزید کہناتھا کہ لیکن اصل میں اس خط کی آڑ میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ وزرا سے لے کر وزیر اعلی تک محاذ سنبھال رہے ہیں اور کسانوں کے مخالف حکومت ایک اپنی نئی تحریک شروع کرنے کے موڈ میں ہے۔ اس مہم کے تحت مودی نے پہلے اپنے گجرات دورے کے دوران کسانوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی ہے۔ آج وہ اپنے مدھیہ پردیش کے دورے کےدوران وہاں کے کسانوں سے ملاقات کرے گا۔ دوسری طرف کچھ وزراء آج اتر پردیش میں میرٹھ کےکسانوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اور تمام ملاقاتوں کا مقصد یہ ہے کہ کسانوں کے اتحاد کو توڑا جائے ان کو تقسیم کیا جائے تاکہ یہ تحریک دم توڑ دے۔ اس مقصد کے لئے بی جے پی کے سوشل میڈیا سیل کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے جس کے زریعے سوشل میڈیا پر کچھ کسانوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں جو کہ مودی کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔ تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ بہت سے کسان اس بل کی حمایت کر چکے ہیں۔ جوکہ بالکل جھوٹ اور فراڈ ہے کسان بالکل بھی اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں وہ اپنی جانیں دے رہے ہیں لیکن اپنے احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹ رہے اور حکومت جو بھی کرلے وہ ان کو نہیں ہٹا سکتی۔
بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی پہلے ہی اپنی رپورٹ پیش کر چکی ہے کہ اگر حکومت نے کسانوں کو دبانے کی یا ان کے خلاف گولی چلانے کی کوشش کی تومرکز کو توڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آپ کو بتا دوں کہ نریندر مودی جس ہندوتوا سوچ کا مالک ہے اور جس طرح سے جنگی جنون اس کے سر پر سوار رہتا ہے تو اس کے بعد اب جلد ہی وہ ان کسانوں کے خلاف آپریشن کرے گا۔ کیونکہ وہ اپنے بیان میں بھی کہہ چکا ہے کہ وہ یہ قانون کسی صورت واپس نہیں لے گا۔ اس لئے یہ جو اپیل اورملاقاتیں کی جا رہی ہیں یہ صرف اور صرف ایک ڈرامہ ہے۔ اور اس سے پہلے بھی مودی سرکار یہ سب کچھ کرچکی ہے کشمیر میں جاری مظالم کو آپ ایک منٹ کے لئے سائیڈ پر بھی کر دیں تو آپ یاد کریں کہ شہریت کے متنازعہ بل پر اس مودی سرکار نے اپنے ہی ملک کے مسلمانوں کے خلاف کیا کیا تھا کیسے شاہین باغ میں عورتوں اور بچوں تک کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا۔ سٹوڈنٹس تک کو مارا پیٹا جاتا تھا لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں لوٹ مار کے بعد آگ تک بھی لگا دی گئی تھی۔
اس وقت کچھ فنکار مسلمانوں کی مدد کو آئے تھے۔ اسی طرح ابھی کسانوں کے احتجاج میں بھی کچھ سکھ اداکار، کھلاڑی اور مختلف شعبہ زندگی کے افراد نے نہ صرف شرکت کر رہے ہیں بلکہ سکھوں کی عملی مدد بھی کر رہے ہیں۔ لنگر کے زریعے ان کو کھانا بھی پہنچایا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف اکشے کمار نے مودی کی حمایت کی ہےان سے ملاقات بھی کی ہے۔ کنگنا رناوت نے بھی اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ کے زریعے کسانوں کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ لیکن ہمارے مسلمان فنکار ہمیشہ کی طرح بے شرمی کے ساتھ چپ بیٹھے ہیں۔ نہ تو وہ مسلمانوں کے حق میں سامنے آئے تھے اور نہ ہی اب ان سکھ غریب کسانوں کے لئے کوئی آواز اٹھا رہے ہیں۔
اس لئے میں آپ کو آج ہی بتا رہا ہوں کہ اب چند روز میں کسانوں کے احتجاج کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہونے والا ہے۔ لیکن مودی سرکار کو ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر انہوں نے کسانوں کے ساتھ یہ کیا جس میں کہ زیادہ تر سکھ ہیں اگر سکھوں کے خلاف انہوں نے آپریشن کرنے کی غلطی کی تو پھر خالصتان تحریک ایک بار پھر عروج پر ہوگی اور پھر خالصتان کی آواز صرف بھارت کے اندر سے نہیں بلکہ کئی دوسرے ممالک سے بھی اٹھے گی۔ یہ تحریک پہلے بھی سکھ کسانوں کے احتجاج سے ہی شروع ہوئی تھی۔ اور بعد میں اس کا مرکز کینیڈا بنا لیا گیا۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو میں تو یہ کہوں گا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے سکھ بھائیوں کی مدد کرے انھیں کرتارپور بارڈر کے زریعے پاکستان میں پناہ دیں اور بین الاقوامی لیول پر بھی ان کی جو مدد ہوسکتی ہے وہ کی جانی چاہیے۔
ویسے مودی سرکار جو سب کچھ کر رہی ہے وہ خود ہی اپنے آپ کو بے نقاب کرتی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں انسانی حقوق خصوصا اقلیتیوں کی شہری آزادی کیلئے کام کرنے والی بین الاقومی تنظیم نے بھارت کو مسلمانوں اور اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیدیا ہےsouth asia state of minoritiesکی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان کیلئے شدید خطرناک اور پر تشدد ملک بن چکا ہے، بھارت کا شہریوں کا قومی رجسٹریشن کا قانون ممکنہ طور پر مسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کرسکتا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھارت میں صحافتی آزادی پر بھی قدغن ہے اور ٹی وی چینلز بھی سخت حکومتی سینسر شپ کا شکار ہیں، حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے اداروں کو بندش بھی کرنا پڑا ہے۔ جبکہ فروری میں ہونے والے بھارتی مسلم مخالف فسادات اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دینے کیلئے منظم طور پر چلائی گئی مہم کو بھی اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
اور اب بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔ کسانوں کے احتجاج کو دبانے کے لئے ایک بار پھر بھارت پاکستان کے ساتھ کوئیsurgical strikesشروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جس کا اظہار آج شاہ محمود قریشی اور معید یوسف بھی اپنی پریس کانفرنس میں کر چکے ہیں۔ لیکن اب اگر بھارت نے کچھ ایسا کیا تو ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف بھارت کو اس کو منہ توڑ جواب دیں بلکہ اپنے سکھ بھائیوں کا ساتھ دیں۔ تاکہ مودی سرکار کو سبق حاصل ہو سکے کہ وہ جو سلوک مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ بھارت میں کر رہا ہے اب وہ نہیں چلے گا اس ظلم کو اب ختم ہونا چاہیے۔