Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جناح ہاؤس حملہ کیس،عمرایوب کی ضمانت خارج

    جناح ہاؤس حملہ کیس،عمرایوب کی ضمانت خارج

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اہم مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔ یہ مقدمات جناح ہاؤس، عسکری ٹاور پر حملے اور تھانہ شادمان کو جلانے کے واقعات سے متعلق ہیں۔

    انسداد دہشت گردی عدالت میں ان مقدمات کی سماعت ہوئی جہاں عمر ایوب کی عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔ اس دوران عمر ایوب عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکلا نے عدالت سے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست دی۔عمر ایوب کے وکلا کا موقف تھا کہ ان کے موکل کو پہلے ہی 10 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور انہوں نے حفاظتی ضمانت کے لیے پشاور ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، لہٰذا حفاظتی ضمانت کے بغیر عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں۔تاہم عدالت نے وکلا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمر ایوب کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں اور واضح کیا کہ اگر عدالت نے سزا سنائی ہے تو سزا یافتہ ملزم کو عدالت کے سامنے خود پیش ہونا ہوگا۔ عدالت نے مزید کہا کہ سزا یافتہ مجرم کو حفاظتی راہداری یا ضمانت نہیں دی جاتی اور سرنڈر سے پہلے اپیل دائر کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

  • ژوب،فتنہ الہندوستان کے خارجیوں کی دراندازی کوشش ناکام،33 جہنم واصل

    ژوب،فتنہ الہندوستان کے خارجیوں کی دراندازی کوشش ناکام،33 جہنم واصل

    فتنہ الہندوستان کے خوارجیوں کی افغان سرحد سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ خوارج نے 7 اور 8 اگست کی رات کو افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش کرنے والے 33 خوارجیوں کو ہلاک کردیا،آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ژوب کے علاقے سمبازہ میں خوارج کی نقل وحرکت کا پتا لگایا اورموثرطور پربھارتی حمایت یافتہ خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی۔ مارے گئے خوارج کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمدہوا۔سکیورٹی فورسز سرحدوں کے دفاع اور بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت  انفارمیشن ٹیکنالوجی  کے اقدامات بارے جائزہ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات بارے جائزہ اجلاس

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت این آئی ٹی بی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس کو این آئی ٹی بی کی ازسر نو تنظیم پر پیش رفت اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025 میں وزارت کے اقدامات کی بدولت پاکستان کی آئی ٹی شعبے کی برآمدات نے 19 فیصد نمو کے ساتھ 3.8 ارب ڈالر کا ہدف عبور کیا جبکہ ملک میں فری لانسرز کی تعداد میں 91 فیصد اضافہ ہوا.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے تحت 386 نئے اسٹارٹ-اَپس کو معاونت فراہم کی گئی، 14 کو عالمی سطح پر بھیجا گیا جبکہ ملک کے 26 شہروں میں 40 ای-روزگار مراکز قائم کئے گئے. 4 پاکستانی ٹیمز بلیک-ہیٹ ایم ای اے (Black Hat MEA) میں دنیا کی 50 بہترین ٹمیز میں شمار ہوئیں، جبکہ 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں ہوئیں.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی جس میں خواتین کو شعبہ انفارمیںشن ٹیکنالوجی میں یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے تقریباِ 1 لاکھ 15 ہزار خواتین بھی شامل ہیں. نیشنل انکیوبیشن سینٹر میں 130 خواتین کی سربراہی میں قائم اسٹارٹ-اَپس کو معاونت فراہم کی گئی جبکہ ملک بھر میں خواتین کیلئے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کئے گئے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 2200 وفاقی سرکاری افسران و اہلکاروں کو تربیت فراہم کی گئی. اسی طرح تقریباً 3 ہزار طلباء و طالبات کو سائیبر سیکیورٹی میں تربیت دی گئی.

    گورننس کی بہتری کیلئے وزیرِ اعظم کے ویژن کے مطابق ڈیجیٹائیزیشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاک-ایپ (Pak-App) کے ذریعے 6.2 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا. وفاقی سرکاری دفاتر میں 98 فیصد ای-آفس کا اطلاق اور 51 ایسے نئے سسٹمز متعارف کروائے گئے جس سے گورننس کی بہتری میں معاونت ملے گی.ٹیلی کام سیکٹر کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت کے اقدامات کی بدولت گزشتہ برس میں 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد لوگوں کی 4G تک رسائی کے ہدف کو عبور کیا گیا. گزشتہ مالی سال میں ٹیلی کام کنیکشنز نے 20 کروڑ کی حد کو عبور کیا، 10 لاکھ نئے انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا.اجلاس کو این آئی ٹی بی کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نئے نظام کی تشکیل پر کام تیزی سے جاری اور حتمی مراحل میں ہے. اس وقت این آئی ٹی بی 179 سے زائد ویب سائٹس، 31 سے زائد موبائل ایپلیکیشنز، 113 سے زائد پوٹلز اور 57 کنسلٹینسی منصوبوں پر کام کر رہا ہے. این آئی ٹی بی کی ازسر نو تنظیم میں صارف کے تجربے کو بہترین، مستقبل کی تبدیلیوں کو ملحوظ خاطر، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر، گورننس و سروس ڈیلیوری کی بہتری، سائبر سیکیورٹی، رسک مینجمنٹ، تحقیق، جدت اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کو مد نظر رکھا جا رہا ہے.

    وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے اور ملکی آئی ٹی برآمدات کو آئندہ برسوں میں 30 ارب ڈالر پر پہنچانے کیلئے بتدریج سالانہ اضافے پر مبنی اہداف کا لائحہ پیش کرنے کی ہدایت کی.

  • باجوڑ میں خارجیوں کا جھوٹ بے نقاب

    باجوڑ میں خارجیوں کا جھوٹ بے نقاب

    باجوڑ میں قبائل اور خارجیوں کے بارے میں بات چیت میں جان بوجھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

    زمینی حقائق کچھ اس طرح ہیں;
    (1)خوارج باجوڑ میں آبادی کے درمیان رہ کر دہشتگردانہ اور مجرمانہ کاررائیوں میں ملوث ہیں
    (2)خیبرپختونخوا کی حکومت بشمول وزیر اعلیٰ اور سکیورٹی حکام نے وہاں کے قبائل کے سامنے تین نکات رکھے
    اول۔ ان خارجیوں کو جن کی زیادہ تعداد افغانیوں پر مشتمل ہے، کو باہر نکالیں
    دوئم ۔ اگر قبائل خوارجین خود نہیں نکال سکتے تو ایک یا دو دن کے لئے علاقہ خالی کردیں تاکہ سکیورٹی فورسز ان خوارجین کو اُن کے انجام تک پہنچا سکیں
    سوئم ۔ اگر یہ دونوں کام نہیں کئے جاسکتے تو حتی الامکان حد تک Collateral Damageسے بچیں کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی ہر صورت جاری رہے گی۔

    خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ حکومتی سطح پر کوئی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک کے وہ ریاست کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم نہ کردیں۔ جاری شدہ قبائلی جرگہ ایک منطقی قدم ہے تاکہ کاروائی سے پہلے حتی الامکان حد تک عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ تاہم اسلام اور ریاست کے ننگ دشمن خوارج کے ساتھ کمپرومائز کرنے کی نہ دین اجازت دیتا ہے نہ ریاست اور نہ خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کی اقدار، کسی بھی طرح کی مسلح کاروائی کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے،

  • چین اور پاکستان کا ٹیکنالوجی میں تعاون، جوہری توانائی، خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت تک پھیل گیا

    چین اور پاکستان کا ٹیکنالوجی میں تعاون، جوہری توانائی، خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت تک پھیل گیا

    پاکستان چین کے ساتھ تکنیکی تعاون کو مزید گہرا کر رہا ہے، جو اب ہوائی جہازوں اور میزائلوں سے آگے بڑھ کر خلائی تحقیق اور جوہری ٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں تک پہنچ گیا ہے، پاکستان کے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ سائنسی شراکت داری کو مضبوط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبوں میں۔

    انہوں نے یہ بات پیر کے روز بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے میں اپنی چین کے ہفتہ بھر کے دورے کے دوران کہی۔ اپریل میں، پاکستان کے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی یونٹ 3 نے، جو چینی ساختہ "ہوالونگ ون” ری ایکٹر استعمال کرتا ہے، اپنے آخری ٹیسٹ مکمل کیے اور جلد ہی مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ یہ کراچی پلانٹ میں دوسرا یونٹ ہے جو چینی ری ایکٹر سے لیس ہے۔ ہوا لونگ ون چین کا خود تیار کردہ تیسری نسل کا پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہے، جس میں ہر یونٹ سالانہ 10 ارب کلو واٹ آور (kWh) سے زیادہ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چین-پاکستان خلائی تعاون میں سیٹلائٹ لانچز اور اگلے سال پاکستانی خلابازوں کو چین کے خلائی اسٹیشن میں بھیجنے کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ تعاون پاکستان کے خلائی پروگرام کو مزید ترقی دینے میں مدد دے گا، اور جنوبی ایشیائی ملک کا سپارکو (SUPARCO) چاند گاڑی مشن چین کے "چانگ ای-8” مشن کا حصہ ہوگا۔ یہ چینی مشن 2029 میں چاند کے جنوبی قطب پر اُترے گا، جو ایک سائنسی طور پر قیمتی لیکن پیچیدہ علاقہ ہے، جہاں سطح کی جانچ، تحقیق اور مستقبل کے خلائی مشنز کے تجربات کیے جائیں گے۔

    چین کے دورے کے دوران،احسن اقبال نے 31 جولائی کو پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ-1 کی لانچنگ کا مشاہدہ کیا، جو جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے ژی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کی گئی۔ یہ سیٹلائٹ زمین کی پیمائش اور قدرتی آفات کے انتظام میں مدد دے گا۔

    گزشتہ ماہ پاکستان کے انگریزی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں،احسن اقبال نے اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ “علم، جدت اور تہذیب سازی میں اپنی تاریخی قیادت کو 21ویں صدی میں دوبارہ حاصل کرے”۔ انہوں نے زور دیا کہ “ہنگامی بنیادوں پر، اتحاد کے ساتھ اور اعلیٰ تعلیم کی جرات مندانہ نئی تشریح کے ساتھ” ایسا ممکن ہے۔ احسن اقبال نے لکھا، “وسائل کو یکجا کر کے، مہارت کا تبادلہ کر کے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بروئے کار لا کر ہم بکھراؤ پر قابو پا سکتے ہیں اور ایسا علمی ماحولیاتی نظام بنا سکتے ہیں جو امریکہ یا چین جیسے عالمی رہنماؤں کا مقابلہ کر سکے۔”

    جب ان سے چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت میں تعاون کے بارے میں پوچھا گیا، تو احسن اقبال نے کہا کہ چین پہلے ہی پاکستان کے سائنس دانوں اور انجینئروں کو مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تربیت دینے پر رضامند ہو چکا ہے۔ چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اکتوبر میں پاکستان کے دورے کے دوران STEM (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) میں پاکستانی ہنر کو ترقی دینے کی تجویز پیش کی تھی۔

  • بلاول بھٹو سے امریکی سیکیورٹی کونسل کے  ڈائریکٹر کی ملاقات،خطے کی سلامتی پر گفتگو

    بلاول بھٹو سے امریکی سیکیورٹی کونسل کے ڈائریکٹر کی ملاقات،خطے کی سلامتی پر گفتگو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سینئر ڈائریکٹر رکی گل نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اعلامیہ کے مطابق، اس موقع پر آصفہ بھٹو زرداری، سینیٹر شیری رحمان اور امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔

    پیپلز پارٹی کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، علاقائی سلامتی، تجارتی و سفارتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو ناقابل فراموش قرار دیا اور کہا کہ ان کی امن کی کوششیں نوبیل انعام کے قابل ہیں۔بلاول نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ تجارتی تعلقات میں وسعت کا خواہاں ہے اور امریکا کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

    امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سینئر ڈائریکٹر رکی گل نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم کا برآمدات میں 17 فیصد اضافے پر اظہار اطمینان

    حماس کا اسرائیل کے جنگ بندی مذاکرات سے پیچھے ہٹنے پر شدید ردعمل

    پاکستانی کرکٹر حیدر علی انگلینڈ میں مبینہ جنسی ہراسانی کیس میں گرفتار

    پاکستانی کرکٹر حیدر علی انگلینڈ میں مبینہ جنسی ہراسانی کیس میں گرفتار

  • اسلام آباد میں پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات کی تیاریاں مکمل

    اسلام آباد میں پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات کی تیاریاں مکمل

    پاکستان اور چین کے درمیان سالانہ اسٹریٹجک مذاکرات کا چھٹا دور اگست میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس کے لیے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کریں گے، جبکہ چینی وزیر خارجہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات،اسٹریٹجک، سیاسی اور اقتصادی تعاون،دفاعی اور سلامتی امور اور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی روابط جیسے اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تیاریاں تیز کر دی ہیں اور مختلف متعلقہ وزارتوں، چینی وزارت خارجہ اور چینی سفارت خانے سے قریبی رابطے میں ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس ان مذاکرات کا پانچواں دور 15 مئی کو بیجنگ میں ہوا تھا، جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    بیرونی قرضوں کی ادائیگی،زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی

    عمر ایوب نااہلی ریفرنس، الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کردی

    اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین کا سمندری مارچ، جنگ بندی کا مطالبہ

  • بحریہ ٹاؤن سے منسلک 3 کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی

    بحریہ ٹاؤن سے منسلک 3 کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی

    قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے بحریہ ٹاؤن سے منسلک 3 کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی کردی۔ تین کےلیے قابل قبول بولی نہ آنے پر نیلامی کا عمل دوبارہ ہو گا۔

    نیلامی 2019 کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے کی گئی ہے۔نیب اعلامیے کے مطابق ایک مارکی 50 کروڑ 80 لاکھ روپے میں نیلام ہوئی۔ یہ رقم مقررہ قیمت سے 2 کروڑ روپے زائد میں نیلام ہوئی ہے۔ کارپوریٹ آفس ون کیلئے87 کروڑ 60 لاکھ روپے کی مشروط بولی موصول ہوئی ہے، جس کی حتمی منظوری تاحال زیر غور ہے۔ کارپوریٹ آفس ٹو کے لیے 88 کروڑ 15 لاکھ روپے کی مشروط بولی موصول ہوئی۔ اس کا فیصلہ نیب اتھارٹی کرے گی۔

    تین پراپرٹیز کی نیلامی کیلئے قابلِ قبول بولی نہ آنے پر دوبارہ نیلامی کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

  • بڑھتی ہوئی آبادی،ایک قومی سطح کی پالیسی کی ضرورت ہے، وزیراعظم

    بڑھتی ہوئی آبادی،ایک قومی سطح کی پالیسی کی ضرورت ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اسکے حوالے سے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کے حوالے سے اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آبادی کے بڑھنے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ترقی اور انکو اپنی معیشت کا فعال حصہ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، ملکی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان ہمارے ملک کا انتہائی اہم اور قیمتی اثاثہ ہیں،نوجوانوں کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات لیے جا رہے ہیں،خواتین ہماری افرادی قوت کا بہت بڑا حصہ ہیں،خواتین کو ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات لیے جائیں، بڑھتی ہوئی آبادی اور انکے مسائل سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے تعاون سے مؤثر حکمت عملی تشکیل دی جائے،اس حوالے سے قومی سطح کی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے،

    وزیراعظم نےمؤثر پالیسی اور حکمت عملی بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی،اجلاس میں وزیراعظم کو اس حوالے مختلف گزارشات پیش کی گئیں،اس دوران بریفنگ میں بتایاگیا کہ صوبوں کے تعاون سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اسکے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک قومی سطح کی پالیسی کی ضرورت ہے، معاشی ترقی کے تناظر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے عوام میں قومی سطح پر آگاہی مہم چلانا ناگزیر ہے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔

  • بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی ایک ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ،عطا تارڑ کا انکشاف

    بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی ایک ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ،عطا تارڑ کا انکشاف

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ ایف آئی اے نے کامیاب کاروائی میں بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی ایک ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ، ہنڈی حوالہ نیٹ ورک اور سفاری ہسپتال کو فرنٹ آفس بنانے کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کر لیے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کے حقوق محفوظ اور قانون شکنوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اربوں روپے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجے جا رہے تھے۔ یہ سارے پیسہ ایک اسپتال میں رکھا گیا تھا ایف آئی اے نے جب چھاپہ مارا تو اس ریکارڈ کو آگ لگائی جا رہی تھی،اگر کچھ چھپانے کو نہ ہوتا تو ریکارڈ جلانے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ زیادہ تر دستاویزات ایف آئی اے نے برآمد کر لی ہیں، جو ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا ثبوت ہیں۔ اربوں روپے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ ایف آئی اے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے، مفرور افراد کی معلومات بھی حاصل ہو چکی ہیں۔ جلد مزید حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔