Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان منجدھار میں پھنس گیا، آگے کنواں پیچھے کھائی، تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان منجدھار میں پھنس گیا، آگے کنواں پیچھے کھائی، تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت امریکہ سمیت دنیا کی عالمی طاقتیں اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے ایران کو جوہری بم بنانے سے روکا جائے۔ ایک طرف اسرائیل ، گلف ممالک اور امریکہ کی موجودہ انتظامیہ اس چیز پر زور لگا رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایران کے ساتھ جنگ چیڑ کر یا ایسے حالات پیدا کر کے حالات کو اس نہج پر رکھا جائے کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ آنے کے بعد بھی حالات کنٹرول میں نہ آئیں اور ایران کے ساتھ نہ صرف معاملات گرم رہیں بلکےایران کو دنیا بھر سے کاٹ کے تنہا کر دیا جائے۔ ایسے موقع پر ایران کے لیئے چین اور روس کی مدد اسے ان حالات میں اپنے پیروں پر کھڑا رکھے ہوئے ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں نے ویانا میں بدھ کے روز منعقدہ ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران تہران سے اپیل کی کہ وہ اس معاہدے کی خلاف ورزیاں روک دے اور اس کی شرطوں پر مکمل عمل درآمد کرے۔سن 2018 میں اس جوہری معاہدے سے امریکا کے یک طرفہ طور پر الگ ہوجانے کے بعد سے معاہدے کے دیگر فریقین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، چین اور روس، اس معاہدے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مسلسل کوششیں کررہے ہیں اور بدھ کے روز ویانا میں ہونے والی میٹنگ اسی کا حصہ تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے پرامن مقاصد کے لیئے انیس سو پچاس میں امریکہ کی مدد سےایٹمی پلانٹ لگایا تھا اور اس پر ایرانی انقلاب تک کام جاری رہا۔ انقلاب ایران کے بعد اس پروگرام کو کیسل کر دیا گیا لیکن جلد ہی ایران کی نئی لیڈر شپ کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا۔اور اس پروگرام کو دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ جب سے لے کر آج تک اسرائیل، امریکہ اور گلف ممالک اس پروگرام کو روکنے، مکمل ختم کرنےاور تاخیر کا شکار کرنے کے لیئے دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر مسلسل کوشاں ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اوبامہ کے ایران کے ساتھ دو ہزار پندرہ میں ڈیل کے بعد اسرائیل نے اسے روکنے کے لیئے ذمہ داری خود لے لی اور مسلسل اس میں کوشاں ہے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ موجود دو آپشن پر غور کیا گیا کہ ایک تو یہ ہے کہ اسے بننے دیا جائے اور دوسرا یہ ہے کہ میزائلوں کی مدد سے اسے تباہ کر دیا جائے لیکن اس صورت میں خطے میں جنگ چھڑنے کی صورت میں گلف ممالک اور اسرائیل کو ڈائریکٹ نقصان پہنچنے کا کطرہ ہے اور پوارا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے کا خطرہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں ہم نے دیکھا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں کئی دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، اور sophesticated warfare electronic capabilities استعمال کر کے نقصان پہنچایا ہے۔لیکن اس ساری صورتحال نے پاکستان کو بھی مشکل میں مبتلا کر دیا ہےایک طرف اسرائیل اور گلف ممالک کا بلاک ایران کے خلاف تیار ہو چکا ہے جس میں اگر پاکستان ان کی ایران کے خلاف مدد نہیں کرتا تو مشکل میں پھنستا ہے تو دوسری طرف انڈیا، امریکہ، جاپان، اسٹریلیا کا Quad allience چین کے خلاف ہے جس میں پاکستان انڈیا کا حدف ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ بھی خطرہ ہے کہ بھارت جدید electronic warfare capabalities اپنے اتحادیوں سے لے کر پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے ایسے نازک وقت میں چین کے ساتھ دوستی پاکستان کے تحفظ کی ضمانت ہے کیونکہ چین امریکہ
    کی ہر ٹیکنالوجی کا توڑ نکالنے کے لیئے دن رات کوشان ہے اور اس نے اس حد تک ترقی کر لی ہے کہ اسے نقصان پہنچانا اتنا آسان نہیں ہے اور وہ اپنے تحفظ کے لیئے بنائی گئی ہر ٹیکنالوجی کو پاکستان کو درپیش خطرات سے بنٹےکے لیئے استعمال کر رہا ہے اور ہر فیلڈ میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے اس دو طرفہ الائنس سے بچنے کے لیئے پاکستان کے ساتھ مل کر گوادر پر ملٹری بیس بنا چکا ہے جو اس خطے میں پاکستان اور چین دونوں کے مفادات کا تحفط کر رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان یہ کام پہلی دفعہ نہیں کر رہا انیس اٹھاون میں امریکہ کوپشاور کے قریب Badaber base دس سال کی لیز پر دیا تھا کیونکہ اس میں پاکستان کا بھی مفاد تھا اور یہ سینٹرU.S. communications facility کےطور پر استعمال ہو رہا تھا جس سے روس کی قابلیت اور نیت کے حوالے سے درست معلومات قبل از وقت مل رہی تھی۔ لیکن اس کا بھارت کو یہ فائدہ ہوا کہ اسے روس نے جوہری سمیت ہر ہتھیار فراہم کیا اور پاکستان کے خلاف مضبوط کیا۔ پاکستان پر اس وقت انتہائی مشکل حالات چل رہے ہیں۔ شاید یہ حالات انیس سو اسی کی دہائی سے زیادہ مشکل ہیں .

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب روس افغانستان تک پہنچ چکا تھا اور گر م پانی تک پہنچنے کے لیئے اس کا اگلا ٹارگٹ پاکستان تھا۔ پاکستان نے اس وقت تو حالات کو بڑی خوبصورتی سےڈیل کر لیا تھا لیکن اس کے مضمرات آج تک پاکستان پر پڑھ رہے ہیں۔
    اس وقت پاکستان کشمیری اور فلسطینی عوام کے لیئے آواز اٹھانے والا سب سے لیڈنگ ملک ہے ایک طرف بھارت کی دکھتی رگ ہے تو دوسری طرف اسرائیل کی۔ اور یہ دونوں ممالک ان دونوں بلاکوں کو جن کا میں نے پہلے ذکر کیا پاکستان کے خلاف استعمال نہ صرف کر سکتے ہیں بلکہ کر رہے ہیں۔ اس کشمکش کے دوران دنیا بھر کے ممالک بھارت کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر کے پاکستان کے مقابلہ میں ملٹری بیلنس اپ سٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو پاکستان کو کسی صورت بھی منظور نہیں کیونکہ یہ پاکستان کی سالمیت کی ضامن ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ معاملہ ایران پر آئے تو پاکستان اپنے آپ کو تنہا نہیں رکھ سکتا کیونکہ ایک ہمسایہ ملک میں ہونے والے واقعات دوسرے ملک پر اس کا گہرا اثر ڈالتے ہیں جس کی ایک زندہ مثال افغانستان ہے، معاملہ چین کا ہو تو بھی پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ اپنے آپ کو اس سے نیوٹرل رکھ سکے کیونکہ پاکستان کے دفاع کا انحصار اب چینی ٹیکنالوجی پر ہے کیونکہ اب چیزیں ٹینکوں اور بندوقوں سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب ایسی تیکنالوجی آ چکی ہیں کہ دشمن اپنے گھر میں بیٹھ کر آپ کے نظام کو دھرم بھرم کر سکتا ہے، آپ کا کمیونیکیشن سسٹم تباہ کر سکتا ہے، فون نیٹ ورک بند کر سکتا ہےآپ کے بجلی کے نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو کئی سو کلومیٹر دور اور کئی ہزار فٹ کی بلندی سے ٹارگٹ کر سکتا ہے۔ اس لیئے ہم کسی بھی صورت اپنے دفاع، اپنی سالمیت، اپنے مفادات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ایران کے جوہری معاملے پر اگلے چند ہفتے کافی ہنگامہ خیز ہوسکتے ہیں۔ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے کی کوشش کرنے والے، سفارت کاری اور معاہدے کو مستحکم کرنے کے امکانات کو تباہ کرنے کے لیے کافی سخت محنت کررہے ہیں ،اور پاکستان کو اس میں استعمال کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کو اس تاریک گلی سے بچ کر نکلنا ہے۔ کیونکہ مقابلہ سخت اور وقت کم ہے۔

  • بھارت نے غلطی سے سرحد پار کرنے والے دو پاکستانی شہری شہید کر دئیے

    بھارت نے غلطی سے سرحد پار کرنے والے دو پاکستانی شہری شہید کر دئیے

    غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں جانے والے دو پاکستانی شہریوں کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نےفائرنگ کر کے شہید کردیااور دونوں پر دہشت گرد ہونے کا نہ صرف الزام لگادیا بلکہ ان کے قبضہ سے جدید ترین اسلحہ بھی برآمد کرنے کا دعوی کردیا۔ باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں بے گناہ پاکستانی لاہور کے قریب واہگہ بارڈر کے ساتھ ساتھ جارہے تھے کہ شدید دھند کی وجہ سے بھارتی علاقے میں داخل ہو گئے۔ بی ایس ایف نے دونوں افراد کو روکنے کی بجائے ان پر

    فوری طور پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقعہ پر شہید ہو گئے۔ بھارتی فورسز نے ان کی لاشیں اٹھا کر انہیں سرحد سے کچھ فاصلے پر لگائی گئی باڑ کے ساتھ رکھا اور دونوں کے ہاتھ میں جدید ترین اے کے 56 کلاشنکوف اور میگنم رائفل دے کر ان کی تصاویر بناکر میڈیا کو جاری کردیں۔ یہ بھی دعوی کیا گیا کہ بھارتی فورسز نے ان کے قبضہ سے ایک میگزین جس میں 29 راونڈ گولیوں کے موجود تھے، برآمد کئے گئے۔ اس کے علاوہ دونوں بے گناہ پاکستانی شہریوں سے ایک پستول بمعہ گولیوں کے دو راونڈز، دس فٹ لمبا پی وی سی پائپ اور 30 پاکستانی روپے بھی برآمد کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ بی ایس ایف حکام نے اسی علاقے سے قیمتی ہیروئین کے تین پیکٹ بھی قبضہ میں لینے کا دعوی کیا ہے جن سے دو کلو گرام ہیروئین برآمد ہوئی لیکن ان پیکٹوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ بھی شہید ہونے والے انہی دونوں پاکستانی شہریوں کے قبضہ سے ملے ہیں۔ 

  • ایک جانب ایل او سی پر کشیدگی،دوسری جانب بھارتی چیف کا دورہ مڈل ایسٹ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    ایک جانب ایل او سی پر کشیدگی،دوسری جانب بھارتی چیف کا دورہ مڈل ایسٹ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    ایک جانب ایل او سی پر کشیدگی،دوسری جانب بھارتی چیف کا دورہ مڈل ایسٹ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت کتنے مکروہ طریقے سے خطے کے امن کو تباہ کر رہا ہے، روز بدامنی پھیلائی ہوئی ہے، کبھی دہشت گردی، کبھی ایل او سی پر فائرنگ، بھارت پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے ،کشمیر میں وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہا ہے،کشیدگی بڑھتی ہے، ہائی الرٹ رہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ لوگ کہیں پاکستان میں یہ ہو رہا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حالت یہ ہے کہ بھارت نے 2014سے 2019کے دوران 9ہزار 215مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں ایک ہزار 403اموات ہوئیں۔ رواں سال میں بھارت 1595مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا تھا۔ یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ ابھی کل ہی ایسے واقعے پر پاک فوج کے جوان شہید ہوئے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے جواب میں ہمیشہ محتاط ردِعمل کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ سرحد پر پیدا ہونے والی کشیدگی خطے کی دو جوہری طاقتوں کو میدانِ جنگ میں اُترنے پر مجبور نہ کر دے۔ پاکستان نے ہمیشہ تدبر کا مظاہرہ کیا، اندرونی طور پر انڈیا کو اتنے مسائل ہو رہے ہیں کہ دہلی میں کسانوں نے محاصرہ کیا ہوا ہے، مودی چاہتا ہوا ہے کہ اس سے توجہ ہٹائی جائے، اور یہ کہے کہ جنگ چھڑ جائے اور یہ احتجاج ختم کرو ، کسانوں کے احتجاج نے مودی کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں،پاک فوج منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے، اسوقت مودی بھارتیوں پر ظلم کر رہا ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایل او سی پر گزشتہ ماہ سے بھارتی جارحیت میں شدت آئی ہے جس کی وجہ بھارت کے اندرونی حالات بتائے جا رہے ہیں جیسا کہ کسان تحریک نے مودی کی فاشسٹ حکومت کی نیندیں اُڑا دی ہیں جب کہ خالصتان موومنٹ کے ایک بار پھر ابھرنے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر پاکستانی مسلح افواج بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اِن اعداد و شمار کے باوجود پاکستان نے مصالحت اور امن کا راستہ اختیار کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان پُرامن جنوبی ایشیا کا اپنا مقدمہ ہر عالمی فورم پر پیش کرے تا کہ دنیا کے سامنے مودی سرکارکا اصل چہرہ بےنقاب کیا جا سکے۔ آپ دیکھیں بھارت پاکستان دشمنی میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا ہے پھر چاہے وہ افغانستان ہو یا مشرق وسطیٰ ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی تبدیلیوں کے پس منظر میں بھارتی آرمی چیف کے حالیہ دورہ مشرق وسطی کو بھی اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔ جسے بھارتی حکومت اور میڈیا نے تاریخی قرار دے دیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارتی آرمی چیف کے حالیہ دورے سے سعودی عرب اور بھارت کے مابین نہ صرف فوجی تعاون بڑھے گا بلکہ سعودی فوجیوں کو تربیت کیلئے بھارت بھیجا جائے گا اور بھارتی فوجی بھی سعودیہ میں فوجی تربیت حاصل کریں گے جبکہ یہ امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں ممالک کی افواج مشترکہ فوجی مشقوں کا بھی آغاز کریں۔ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں پاکستان کا اثر و رسوخ ختم کرکے اپنی جگہ بنائے جو پاکستان کیلئے یقینا کسی دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عربوں کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے کی طرح گرمجوش نہیں رہے اور سب کچھ ٹھیک نہیں لیکن اگر دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی گئی تو آنے والے وقت میں مزید دوریاں پیدا ہوں گی جس کا فائدہ یقیناً ہمارا دشمن ملک بھارت اٹھائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت انڈیا کا ایک ہدف یہ ہے کہ پاکستان کی خلیجی ممالک میں اہمیت کو کم کیا جائے۔ عرب دنیا میں پاکستان کا لیبیا، اردن، شام، عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، قطر اور عمان سے عسکری تعاون رہا ہے۔ کیا انڈیا عسکری تعاون کے میدان میں پاکستان کا نعم البدل ہو سکتا ہے اس بات پر خلیجی ممالک کو غور کرنا ہوگا۔ پاک فوج کا جوان اسلام کی محبت سے سرشار ہے اور دہشتگردی کیخلاف کامیاب جنگ لڑ کر صلاحیت میں بہت آگے ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انڈین آرمی چیف کے دورے کا دوسرا بڑا ہدف خلیجی ممالک کو اسلحہ بیچنا ہے۔ اس سلسلہ میں براہموس کروز میزائل سسٹم بہت اہم ہے۔ انڈیا نے یہ خاصا مہنگا کروز میزائل سسٹم روس کے اشتراک سے بنایا ہے اور یہ زمین سے زمینی ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔ اس کی رینج آٹھ سو کلو میٹر ہے اور خلیج کا عرض سوا تین سو کلو میٹر ہے۔ انڈیا زمین سے آسمان میں چالیس کلو میٹر مار کرنے والے آکاش میزائل بھی بیچنا چاہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خلیجی ممالک سے تعاون بڑھانے کیلئے واضح حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہم جس کو مرضی قصوروار ٹھہرا لیں ۔ مسائل کا حل ہم کو خود تلاش کرنا پڑے گا ۔ دیکھنا پڑے گا کہ ہم سے کہاں کیا غلطیاں ہوئی ہیں عرب ہم سے دور ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ ہم سارا الزام عرب حکمرانوں یا بھارت کی سازشوں پرنہیں ڈال سکتے ہیں ۔ ہم کو اپنے گریبانوں میں بھی جانکنا پڑے گا ۔ کیونکہ ہر جنگ ، ہر بحران ، ہر آفت ، ہر مصیبت اور ہر معاشی مسئلے کے دوران عرب ہمارے ساتھ نہ صرف کھڑے رہے ہیں بلکہ انھوں مالی اور اخلاقی مدد بھی مہیا کی ۔ تو میرے خیال میں دوست کو دشمن بننا کسی صورت عقل مندی نہیں ہے

  • نوازشریف مودی کوخط لکھے یامودی نوازشریف کوتوغدّار:عمران خان لکھے تومحب وطن؛دہرامعیارکیوں ؟

    نوازشریف مودی کوخط لکھے یامودی نوازشریف کوتوغدّار:عمران خان لکھے تومحب وطن؛دہرامعیارکیوں ؟

    لاہور:نوازشریف مودی کوخط لکھے یامودی نوازشریف کوتوغدّار:عمران خان لکھے تومحب وطن؛دہرامعیارکیوں ؟

    یہ بہت ہی اہم موضوع ہے جس کوسمجنے کے لیے حالات وواقعات پرنطررکھنا بھی بہت ضروری ہے

    اس بات سے کسی کوانکارنہیں کہ خط کیوں لکھا ؟ دوستوں ، رشتہ داروں کی طرح حکومتیں اورحکومتوں کے سربراہ ایک دوسرے کوخط لکھتے رہتے ہیں

    اس سے پہلے کہ میں اس دہرے معیار کے متعلق کچھ بتاوں پہلے کچھ مختصرسا پاکستان اوربھارت کے سربراہان کے درمیان خط وکتابت کے حوالے سے بات ہوہی جائے

     

    نوازشریف کو مودی نے پہلی مرتبہ خط نہیں لکھا بلکہ اس سے پہلے بیگم کلثوم نواز کی وفات پربھی مودی نے خط لکھ کراظہارتعزیت کیا تھا ،

    اس سے پہلے مودی نے نواز شریف کو 2014میں بھی خط لکھا تھا جس میں مودی نے نواز شریف کو خط لکھتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے

     

    مودی اس خط میں لکھتے ہیں کہ میں اس مشکل صورت حال میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں‌،جہاں آپ پسند کریں گے بھارت آپ کے ساتھ تعاون کرے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سفارتی خط وکتابت کے علاوہ ان دونوں وزرائے اعظم کےدرمیان بالواسطہ بھی بہت بڑی راز کی باتیں ہوئی جن میں بھارت میں اسٹیل انڈسٹری کے ٹائکون جندال جیسے کئی دوست بھی رابطہ کاراورسہولت کار کے طور پرکام کرتے رہے اورآج بھی کررہے ہیں

     

     

    دوسری طرف نواز شریف نے بھی بھارتی وزیراعظم کوخیرسگالی کے طور خطوط لکھے

    ان خطوط کو بھارتی میڈیا نے کچھ زیادہ ہی ذاتی تعلقات کی طرف موڑنے کی کوشش کی

    شاید بھارتی میڈیا نے ان خطوط کوذاتی تعلقات کوپروان چڑھانے کی خط وکتابت اس لیے قرار دیا کہ ان خطوط میں نوازشریف نے جب بھی بات کی یہ کہا کہ میں اورمیرا خاندان آپ سے تعلقات کوآگے بڑھانے کا خواہاں ہے ،ایسے تاثردیا گیا کہ نوازشریف ریاست کی طرف سے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت سے خط لکھ رہے ہیں

    بہرکیف ان خطوط میں بظاہردونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کوبہتر کرنا شامل تھا

     

    نوازشریف اس سے پہلے بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجبائی کوبھی محبت بھرا خط لکھ چکے ہیں‌

    ان خطوط کوبنیاد بنا کرکہا جاتا ہے کہ مودی اورنواز شریف کے درمیان تعلقات بظاہرریاستی ثابت کیے گئے لیکن نواز شریف ان خطوط سے ہٹ کرمودی سے ذاتی تعلقات کے خواہاں تھے

    شاید اسی وجہ سے نواز شریف کو مودی کا یارکہاجاتا ہے

    یہ نطریہ کس قدر درست اورحقیقت پرمبنی ہے اس پراگے چل کربات ہوگی اب بات کرتے ہیں عمران خان کی تو: عمران خان نے بھی مودی کوخط لکھا جس میں دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات کوبہترکرنے کے لیے نیک نیتی ظاہرکی گئی ہے

    یہاں پرایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان بھی وہی کام کرے جونوازشریف نے کیئے توپھران میں فرق کیوں ؟

    اس کوسمجھنے کےلیے ان حالات،حقیقت اورمعاشرتی پہلوکوسمجھنا زیادہ ضروری ہے

    خاندانوں اوربرادریوں میں دیکھا گیا ہے کہ جن خاندانوں میں دشمنی اوردوری ہوتو ایک خاندان دوسرے خاندان کی خوشی میں کم ہی شریک ہوتا ہے ،

     

    ان حالات میں جب ایک خاندان رشتہ داریوں میں اس قدر جکڑا ہوکہ وہ تمام تراختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے

    ایسے میں ایک خاندان کا سربراہ جو فیصلہ کرتا ہے اس کی اولاد اس کو فالو کرتی ہے لیکن اگراس دوران اگراولاد میں سے ایک بیٹا "شریکاں نال چوری چوری ملے "اورخاندان کے بڑے کی عزت وتکریم کا خیال نہ کرے تویہ خاندان کی عزت کوخاک میں ملانے کے مترادف ہوتا ہے ،

    یہ طرزعمل خاندان کی یکجہتی کوپارہ پارہ کرنے کا ایک گھنونا کھیل ہوتا ہے

    پھرجوبیٹا خاندان کی روایات کےبرعکس شریکا ں نوں‌ ملے اپنے خاندان ، برادری ، یا بھائیوں کوبائی پاس کرکے ملے تواس پر جوخاندان کے ساتھ گزرتی ہے تو وہ ہی بہتر جانتے ہیں ،

    نوازشریف کی مثال اس بچے کی ہے جوخاندان کی روایات کوبائی پاس کرتا ہوا یا پھر شریکاں دی شادی تے گھروالیاں نوچھڈ کے خود ہی چلا جاوے یا پھرشریکاں نال چوری چوری ملے” کی طرح ہے

    اس لیے جولوگ یہ کہتے ہیں وہ انہیں روایات کی بنیاد پرکہتے ہیں

     

     

    اورعمران خان اگرمودی کوخط لکھے یا ملے تو اس کی مثال ایسے ہی کہ جب ایک خاندان کودوسرے خاندان کی طرف سے خاندانی اختلافات کے باجود شادی کی دعوت ہوتو گھروالے ، خاندان کا سربراہ سب ملکر کسی ایک کو "شریکاں دی شادی ” میں بھیج دیتے ہیں تاکہ شادی بھی بھگتائی جائے اورخاندان کا بھرم بھی قائم رہے

    عمران خان اس فرد کی طرح ہے جس پرخاندان کواعتبارہوتا ہے کہ یہ خاندان کی عزت اورروایات کوکبھی بھی ضائع نہیں ہونے دے گا

    دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو فون کیا اس کے پیچھے ذاتی نہیں ملکی مفادات تھے

    عمران خان کا بھارت میں کاروبارنہیں یا دیگرممالک میں بھارتیوں کے ساتھ کاروباری شیئرز نہیں

    عمران خان کے اسٹیل ٹائیکون جندال جیسے افراد کے ساتھ کاروبارکی بنیاد پرتعلقات نہیں

    اس کے برعکس نوازشریف ، حسن نوازاورحسین نواز کے جوبھارتیوں سے کاروباری لین دین اورشیئرز ہیں ان کے ہوتے ہوئے ریاستی مفادات کا دفاع بہتر انداز سے نہیں ہوسکتا

    انہیں حقائق کی بنیاد پرتبصرہ نگار،تجزیہ نگاراوردوسرے اہم حلقے نوازشریف کوپاکستان سے زیادہ بھارت کا وفادار سمجھتے ہیں جس سے متعلق بڑے بڑے راز ابھی بھی نظروں سے اوجھل ہیں لیکن کب تک رہیں ایسے ممکن نہیں ہے

  • بھارتی وزیراعظم کی طرف سے نوازشریف کولکھا گیا دوسرا خط بھی باغی ٹی وی نےحاصل کرلیا

    بھارتی وزیراعظم کی طرف سے نوازشریف کولکھا گیا دوسرا خط بھی باغی ٹی وی نےحاصل کرلیا

    لاہور:بھارتی وزیراعظم کی طرف سے نوازشریف کولکھا گیا دوسرا خط بھی باغی ٹی وی نےحاصل کرلیا،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک عجیب سی کیفیت بپا ہے ،بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی نوازشریف سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے پردوسرا خط بھی لکھ دیا

    باغی ٹی وی کے مطابق نریندرا مودی کیطرف سے پہلے نوازشریف کوخط لکھا گیا جس میں ان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا گیا کہ جب وہ 2015 میں آپ کی خصوصی دعوت پرلاہورحاضرہوئے تھے تواس وقت آپ کی والدہ محترمہ سے ملاقات ہوئی تھی

     

     

    نریندرامودی نے اس خط میں مزید لکھا کہ آپ کی والدہ نے مجھے بہت پیار دیا میں وہ کبھی بھی بھول نہیں سکتا

    یاد رہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے باغی ٹی وی نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے مریم نواز کولکھے گئے خط کوحاصل کرکے اہل پاکستان کواس خط کے پیچھے فلسفے سے بھی آگاہ کردیا تھا

    لیکن دوسری طرف مبصرین کہتے ہیں کہ یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی کہ اگرنوازشریف کو خط لکھ دیا گیا تھا توپھرمریم نواز کے نام خط میں یہ درخواست کیوں کی گئی کہ یہ خط نوازشریف تک پہنچایا جائے

    دوسری طرف اس وقت مودی نوازشریف کے درمیان ہونے والی پیش رفت پرپاکستانی بھی حیران وپریشان ہیں

    سوشل میڈیا پربھی ایک طوفان بپا ہے کہ مودی نے نوازشریف سے ٹیلی فون پرتعزیت کرلی تھی توپھران خطوط کو لکھنے کا کیا مقصد ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اگرخطوط لکھ دیئے گئے توپھران کواسی وقت کیوں میڈیا کے سامنا نہیں لایا گیا

    عوام الناس اس وقت اس کھیل کوبڑے غورسے دیکھ رہے ہیں اوراسے پاکستان کے لیے خطرناک تصور کررہے ہیں‌

  • مودی کا اپنے یار نواز شریف کی بیٹی مریم کو خط۔ باغی ٹی وی نے خط حاصل کر لیا

    مودی کا اپنے یار نواز شریف کی بیٹی مریم کو خط۔ باغی ٹی وی نے خط حاصل کر لیا

    اسلام آباد :مودی کا اپنے یار نواز شریف کی بیٹی مریم کو خط۔ باغی ٹی وی نے خط حاصل کر لیا.بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بالآخرنوازشریف کوخط لکھ ہی دیا،اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مریم نواز شریف کوخط لکھا ہے

     

     

    ذرائع کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے والدہ کے انتقال پر نوازشریف سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کے والدہ کے انتقال پر بہت افسوس ہوا، 2015 میں مختصر دورے میں آپ کی والدہ سے بھی ملا تھا، آپ کی والدہ کی سادگی بہت متاثر کن تھی۔

     

    بھارتی ہائی کمشنر نے11دسمبر کو تعزیتی خط مریم نواز کو بھجوایا اور بھارتی ہائی کمشنر نے مریم نواز کو تعزیتی خط نوازشریف تک خود پہنچانے کی درخواست کی۔

    دوسری طرف اہم حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تعزیت واقعی ایک اظہارافسوس کا طریقہ ہے ، اورجس کسی کا کوئی فوت ہوتو یہ اندازاپنایا جاتا ہے

    سوال اب یہ اٹھایا جارہا ہے کہ جدید دورمیں جبکہ لندن میں نوازشریف کے ساتھ بڑی بڑی شخصیات کے رابطے ہیں پھرمریم نوازکو کیوں کہا گیا کہ وہ اس خط کو پاکستان سے لندن بھجوائیں

     

     

     

    اس حوالے سے یہ کہا جارہا ہےکہ اس موقع پرمودی شریف خاندان سے قائم روابط سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ طریقہ اختیارکررہے ہیں تاکہ نوازشریف پرمودی سے رابطوں کے حوالے سے تنقید کرنے والوں‌کویہ تاثردیا جائے کہ اگرنوازشریف سے رابطے مضبوط ہوتے تومودی کبھی بھی مریم سے ناں کہتے کہ میرا خط نوازشریف کو پہنچائیں

     

    ادھر ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر نے خط مریم نواز کے حوالے کردیا ہے

  • مریم نوازاسرائیل کی ترجمان ؟ٹویٹرپراسرائیل سے یاری پرن لیگ اورپی ٹی آئی آمنے سامنے

    مریم نوازاسرائیل کی ترجمان ؟ٹویٹرپراسرائیل سے یاری پرن لیگ اورپی ٹی آئی آمنے سامنے

    لاہور: مریم نوازاسرائیل کی ترجمان ؟ٹویٹرپراسرائیل سے یاری پرن لیگ اورپی ٹی آئی آمنے سامنے ،اطلاعات کے مطابق اس وقت خاص کر16 دسمبر کی رات سے ٹویٹر پرایک ٹرینڈ شروع ہوا اوردیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    یہ ٹرینڈ اسرائیل کا دورہ کرنے والی کسی اہم شخصیت کے بارے میں ہے ، یہ شخصیت کون ہے اب یہ مسئلہ بنا ہوا ہے ،

    دوسری طرف اسرائیلی موقف اوراسرائیل کی آواز کو پاکستان تک پہنچانے میں مریم نواز اہم کردار ادا کررہی ہیں ، مریم نواز کو یہ باتیں کون بتا رہا ہے اور کون ٹویٹرپران الزامات کو شیر کرنے کی خفیہ ہدایات دے رہا ہے یہ بھی بڑا اہم سوال ہے اسی وجہ سے بعض ذمہ دار یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ مریم نواز اسرائیلی عزائم کوپہنچانے میں مرکزی کردار ادا کررہی ہیں اورانہیں پیغامات کے ذریعے اوہ اپنا کھویا ہوا سٹیٹس جو لاہور جلسے مٰیں برباد ہوگیا تھا اسے بحال کرنے کی چال چل رہی ہیں

    دوسری طرف اس وقت ٹویٹرپر اسی حوالے سے چند اہم ٹرینڈ چل رہے ہیں ، یہ ٹرینڈ شروع تو ن لیگ کی طرف سے ہوا مگراس سے نقاب پی ٹی آئی نے اتار کرساری حقیقت عوام کے سامنے کھول کررکھ دی ہے

    یاد رہے کہ اسرائیل کے ایک اخبار ‘اسرائیل ہائیوم’ نے دعویٰ کیا تھا کہ دو ہفتوں قبل ایک ایشیائی مسلم اکثریتی ملک کے سربراہ کے مشیر کی سربراہی میں ایک وفد تل ابیب میں موجود تھا۔

    اخبار نے یہ بھی لکھا کہ اس ملک سے اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ملکی سلامتی اور حساس سفارتی معاملے کی وجہ سے وہ ملک کا نام اور وفد میں شامل لوگوں کی شناخت ظاہر نہیں کرسکتا۔

    اسرائیلی اخبار کی خبر سے پہلے ہی پاکستان میں اپوزیشن کی طرف سے گاہے بگاہے یہ الزامات لگائے جارہے تھے لیکن اسرائیلی حکومت کے بیان کوجواسرائیلی اخبار نے شائع کیا اس کو مریم نواز نے اپنے ٹویٹ پیج سے شائع کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جو خبراسرائیلی حکام کی طرف سے اسرائیلی اخبار اورپھرساتھ ہی پاکستان میں برطانوی ادارے انڈیپنڈنٹ کی اردو ویب سائٹ نے بھی خبر شائع کی ہے وہ کسی اور کے پاس نہیں

     

    اس خبر کی اشاعت کے بعد مریم نوازکے حوالے سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ مریم نواز ااس اسرائیلی اخبار کی ترجمان کے طوریہ خبرشائع کررہی ہیں کس نے یہ اختیار دیا

    اسی حوالے سے جب مریم نواز نے یہ محسوس کیا کہ اسرائیلی اخبار کی خبرکوجس ذمہ داری کے ساتھ انہوں نےٹویٹ کیا اس کے تانے بانے اگرعوام تک پہنچ گئے تو پھرایک اورمصیبت آن پڑے گی ، ان خطرات کے پیش نظرمریم نواز نے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی

    ادھر بعض معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نوازکو سخت ہزیمت کا سامنا ہے اوروہ اس حوالے سے کوئی نیا پیغام ٹویٹر پر دینے کا سوچ رہی ہیں تاکہ وہ لوگوں کویہ سوال پوچھنے سے روک سکیں کہ مریم نوازاسرائیلی اخبارکی ترجمان کے طورپرکب سے کام کررہی ہیں

    یہ بھی یاد رہےکہ اسرائیل کے حوالے سے اپوزیشن اورپھر سوشل میڈیا پرچلنے والی جھوٹی مہم کے حوالے عمران خان اور ان کی حکومت کئی بار یہ واضح کرچکی ہے کہ اسرائیل کو نہ تو تسلیم کیا ہے اور نہ ہیں کریں یہ ایمان کا حصہ بھی ہے

    حکومت کی طرف سے بار بار وضاحت کے اپوزیشن کیطرف سے ایسا کھیل کھیلنے کا مقصد عمران خان کومذہبی حلقوں میں ایک کمترظاہرکرکے ثابت کرنا ہے جس میں اپوزیشن ناکام نظرآرہی ہے اورخاص کرمریم نواز کی طرف سے ٹویٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کرنے کے عمل مریم نواز کے حوالے سے چند سوالات کھڑے کردیئے ہیں کہ کیا مریم نواز اسرائیلی حکومت یا اسرائیلی اخبار کی ترجمان ہیں یا پاکستان میں نمائندہ جو اس قسم کی خبریں اپنے پیچ سے شائع کرتی ہیں‌

    خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں یو اے ای، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل سے تعلقات بحال کیے ہیں جبکہ سعودی ولی عہدہ شہزادہ محمد بن سلمان سے سعودی عرب میں اسرائیلی وفد کی ملاقات کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تاہم سعودی عرب نے اس کی تردید کی تھی۔

  • برطانوی ہائی کمشنرکی جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج کی خدمات کوخوب سراہا

    برطانوی ہائی کمشنرکی جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج کی خدمات کوخوب سراہا

    راولپنڈی :برطانوی ہائی کمشنرکی جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج کی خدمات کوخوب سراہا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر ایچ ای ڈاکٹر کرسچن ٹرنرنے آج پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ سے اہم ملاقات کی

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق اس اہم ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور مجموعی طور پر علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹرکرسچن ٹرنر نے افغان امن عمل اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں پاک فوج کے کردار کو سراہا

    برطانوی ہائی کمشنر پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی

  • عمران خان یہ کام نہیں کر سکتا،ادارے وزیراعظم کا حکم مت مانیں، مریم نواز

    عمران خان یہ کام نہیں کر سکتا،ادارے وزیراعظم کا حکم مت مانیں، مریم نواز

    عمران خان یہ کام نہیں کر سکتا،ادارے وزیراعظم کا حکم مت مانیں، مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی حکمت عملی کا فیصلہ میٹنگ کے بعد ہوگا،

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب عوام جاگ اٹھتی ہے تو الزامات کارگر ثابت نہیں ہوتے، اگر آپ کو پی ڈی ایم کے جلسے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تو ایک مہینہ پہلے الیکشن کیوں اناؤنس کئے، پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا،انکو سمجھ آ گئی ہے کہ حکومت کے پاس کچھ نہیں بچا، جو بی ہتھکنڈے اپنا لیں اب انہیں جلدی گھر جانا پڑے گا،ووٹ کو عزت اب ملے کر رہے گی سیلکٹڈ نظام زمین بوس ہو گا ،سینیٹ الیکشن کے بارے میں فیصلے سے جاتی حکومت کو دوام نہیں ملے گا،

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ پہلے قومی اداروں کو تباہ کیا، پاکستان کے قومی اداروں کو سیاست میں گھسیٹتے رہے اور اپنے لئے استعمال کرتے رہے، بشیر میمن نے کیا گواہی دی تھی کہ وزیراعظم ہاوس میں بلا کر دھمکا رہے تھے، خفیہ ایجنسیز کا کام بھی خود ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں، اب الیکشن کمیشن کے چیئرمین بھی خود ہی بن بیٹھے ہیں، الیکشن ،الیکشن کمیشن نے اناؤنس کرنا ہے، وزیراعظم یہ کام نہیں کر سکتا، پھر ایک ماہ پہلے الیکشن کروانے کا اعلان کس حیثیت سے کیا، کیا آئین کو نہیں دیکھا، مشیران کی فوج نے نہیں بتایا کہ الیکشن الیکشن کمیشن کا کام ہے،

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ترمیم نہیں کرسکتا ،صرف قانون کی تشریح کرسکتا ہے .آئینی ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے ،جب آپ کو اپنی حکومت جاتی نظر آرہی تو آپ کو شو آف ہینڈ یاد آ گیا؟ . آپ چاہتے ہیں کہ من پسند انتخاب کا طریقہ کا ر یاد آ گیا، یہ پارلیمنٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ میں کیوں جا رہے ہیں،اپوزیشن کو ناکام بنانے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا، خفیہ رائے شماری کا فائدہ اٹھایا گیا، اور آج جب آپ کو لگتا ہے کہ اراکین اپنے ان پر اعتماد نہیں اس لئے شو آف ہینڈ یاد آ گیا ، اسکے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے، پھر ہو گا، آرڈیننس کے ذریعے نہیں کر سکتے، یہ پارلیمنٹ کا کام ہے ،سینیٹ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، 11 مارچ کے بعدسینیٹرزنے حلف اٹھانا تھا،میں شو آف ہینڈ ز کے خلاف نہیں ہوں ،چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو ہم نے چیلنج کیا تھا، تب آپ کو شو آف ہینڈ یاد نہیں آیا؟

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا کام بھی خود ہی سنبھال لیا،پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہم بہت کچھ طے کریں گے، پاکستان کے آئین کو بگاڑنے کی اجازت نہیں دیں گے،قوم ای سی پر نظر لگا کر بیٹھی ہے اگر وہ غیر آئینی اقدامات کو مانتے ہیں تو صحیح نہیں ہو گا، ای سی پی قومی ادارہ ہے کسی کا ذاتی نہیں، قانون کے مطابق اس کو فیصلے کرنے چاہئے،الیکشن کمیشن وزیراعظم کے احکامات جو غیر آئینی ہیں کو ماننے سے انکار کرے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کو غیر معینہ مدت کے لئے توسیع دی گئی ہے، جعلی حکومت کا ادارے پر دباؤ ہے تا کہ من پسند فیصلے لئے جائیں، ای سی پی کو اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا ہو گا ،قوم کی نظریں آپ پر ہیں

    پی ڈی ایم کا جلسہ:اپوزیشن کا آخری شوبھی فلاپ:سچ کیا اورجھوٹ کیا:ممتازاعوان نے منظرکشی کردی

    پی ڈی ایم کو لاہورجلسہ الٹا پڑ گیا،مولانا ،بلاول اور نواز شریف کے واضح اشارے، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پی ڈی ایم مینار پاکستان جلسے میں ناکامی پر پی ڈی ایم سربراہ نے ایکشن لے لیا

    عمران خان نے بھی این آر او نہیں لیا،استعفے کب دینے ہیں؟ نواز شریف کا پی ڈی ایم جلسہ میں بڑا اعلان

    بٹ کڑاہی سے کھانا مریم نواز نے کھایا ، بد ہضمی حکومت کو ہوگئی مریم اورنگزیب

    مینار پاکستان گیٹ کے تالے ٹوٹ گئے، پی ڈی ایم کی جانب سے انتظامات جاری

    پی ڈی ایم والےعوام کی زندگیوں سے کھیلنا چھوڑ دیں ،قانونی کاروائی ہو گی، وزیراعلیٰ پنجاب

    پی ڈی ایم جلسے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    مریم نواز کا لکشمی چوک میں کھانا ،ہوٹل مالک کو "مہنگا” پڑ گیا

    جب مریم نواز کو کارکن نے ہاتھ لگایا تو کیا ہوا…؟

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    میاں صاحب جنوری میں خود آ کر استعفے سپیکر کو پیش کریں،اہم شخصیت کا مشورہ

    بات کرنی ہے تو عمران خان خود مریم اور بلاول کو فون کریں، اپوزیشن کی اہم شخصیت کا مشورہ

    مینار پاکستان جلسہ ٰمیں ناکامی کے بعد مریم نے سب کو بلا لیا، اجلاس جاری

    مینار پاکستان پر ثقافتی ورثے کا نقصان،فردوس عاشق نے کیا بڑا اعلان،اپوزیشن پریشان

    پی ڈی ایم جلسہ ،عوام کی عدم شرکت کے بعد اخبارات نے بھی "آئینہ” دکھا دیا

    مینار پاکستان جلسہ،مریم نواز سمیت ن لیگی قیادت پر مقدمہ درج

  • تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں،اب یہ کام کرنا ہو گا، وزیراعظم کی اہم ہدایات

    تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں،اب یہ کام کرنا ہو گا، وزیراعظم کی اہم ہدایات

    تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں،اب یہ کام کرنا ہو گا، وزیراعظم کی اہم ہدایات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا اجلاس ہوا

    ایس ایم ایز کو مالی معاونت فراہم کرنے کیلئے تمام شراکت داروں سے مشاورت کی گئی اور اس حوالہ سے بریفنگ دی گئی ،ایس ایم ایز کے فروغ کی خاطر قانونی اور ریگولیٹری مسائل کو حل کرنے کیلئے اہداف مقرر کئے گئے

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ کاروباری طبقے کی سہولت کیلئے ٹیکس فارم کو آسان بنایا جا رہا ہے ،رجسٹریشن پورٹل پر بھی کام جاری ہے، صوبوں میں ورکنگ گروپس قائم ہو چکے ہیں،صوبوں میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو مدد دیں گے، ایس ایم ایز کا ڈیٹا بیس ترجیحی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے،بڈیٹا بیس کی بنیاد پرحکومت ایس ایم ایز کو بروقت سہولت دے سکے گی،

    وزیراعظم عمران خان کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کا اہم جزو ہیں، ان کو فروغ دے کر معیشت مستحکم ہو گی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے، تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں،مزید بہتری کیلئے ایس ایم ایز کا فروغ ضروری ہے،

    وزیر اعظم نے ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے مقرر اہداف کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی.