Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • قیادت ہوتو ایسی ہو:ڈاکٹرز،حکومت،دنیاکرونا سے بچانےکی کوشش میں: پی ڈی ایم کرونا سے مارنے پربضد:دنیانوحہ کناں،سخت غصے میں

    قیادت ہوتو ایسی ہو:ڈاکٹرز،حکومت،دنیاکرونا سے بچانےکی کوشش میں: پی ڈی ایم کرونا سے مارنے پربضد:دنیانوحہ کناں،سخت غصے میں

    لاہور:قیادت ہوتو ایسی ہو:ڈاکٹرز،حکومت،دنیاکرونا سے بچنے کی نصیحت جبکہ پی ڈی ایم کرونا سے ملنے پربضد:مارین طب سخت غصےمیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھرمیں جس طرح کرونا وائرس تباہیاں پھیلا رہا ہے اورگھروں کے گھر،شہروں کے شہراجاڑ رہا ہے وہاں‌ اس کی رفتار میں کمی آنے کی بجائے تیزی آگئی ہے

    ساری دنیا جن میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں اورجن کے پاس کافی وسائل اورکم آبادی ہے وہ بھی کرونا وبا پرقابو پانے میں ناکام نظرآرہے ہیں ، ادھر ذرائع کے مطابق دنیا کے بڑے بڑے ماہرین طب جوکہ ایک وقت حکومت پاکستان کی کرونا کے خلاف حکمت عملی پرخوش تھے آج وہ پاکستان کی اپوزیشن کے کرونا سے محبت ہرسخت نالاں ہیں

    عالمی ذرائع ابلاغ جن میں بی بی سی ، سی این این ، رائٹرز اورٹی آرٹی جیسے ادارے پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاو پرجہاں سخت پریشان ہیں وہاں ان عالمی نشریاتی اداروں نے اس بات پربڑے افسوس کا اظہار بھی کررہے ہیں

    یہ نہیں کہ صرف عالمی نشریاتی ادارے ہی افسوس کا اظہارکررہے ہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت ، اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے بھی پاکستانی اپوزیشن کی عوام دشمن انسانیت دشمن پالیسیوں پرنوحہ کناں ہیں

    دنیا کے اس ردعمل پرپاکستانی اپوزیشن کوکوئی اثرنہیں ہورہا ، وہ غریب عوام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کررہے ہیں .دنیا کہتی ہےکہ عجیب معاملہ ہے کہ یہ لیڈر خود توکسی سے سلام تک نہیں لیتے ، ہاتھ سے ہاتھ نہیں ملاتے لیکن افسوس غریب عوام کوجلسوں میں بلاکراحتیاط کی تمام صورت کا قتل کروا رہے ہیںں

    پاکستان میں آج ملتان میں ہونے والے جلسے میں جہاں حکومت کی کوشش ہے کہ لوگ احتیاط برتیں‌ اپوزیشن وہاں لوگوں کرونا وائرس کے شکارکرانے کے لیے سازشی سیاست کوپروان چڑھا رہے ہیں

    اپوزیشن کی ان اداوں‌کودیکھ کرعالمی ادارے یہ کہنے مجبورہیں کہ پاکستان میں اس وقت عمران خان کے مخالف اپنی دشمنی میں لوگوں‌کا کندھا استعمال کررہے ہیں دنیا کرونا سے بچنے کی جدوجہد میں مگرمریم ،بلاول ، مولانا سمیت دیگر اپوزیش قائدین ان غریب عوام کومروانے کے لیے کوشاں ہیں

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دنیا پاکستان کی اپوزیشن کے لیڈروں کی ان اداوں پرنوحہ کناں ہیں

  • وزیر خارجہ کی مکہ مکرمہ آمد۔ عمرہ کی سعادت حاصل کی

    وزیر خارجہ کی مکہ مکرمہ آمد۔ عمرہ کی سعادت حاصل کی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس آتے ہوئے مکہ مکرمہ میں مختصر قیام. وزیر خارجہ نے عمرہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کی اور وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں. سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وفد کے دیگر اراکین بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے۔ وزیر خارجہ عمرہ ادائیگی کے فوری بعد واپس وطن روانہ ہو گئے

  • ملتان میں حالات  کشیدہ، مزید اہم شخصیات کی نظر بندیاں

    ملتان میں حالات کشیدہ، مزید اہم شخصیات کی نظر بندیاں

    ملتان میں حالات کشیدہ، مزید اہم شخصیات کی نظر بندیاں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملتان میں‌حالات مزید کشیدہ ہوگئے . پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں‌مزید نظر بندیاں عمل میں لائی گئی ہیں. ملتان میں سابق ایم پی اےڈاکٹرجاویدصدیقی اورپیپلزپارٹی رہنما جواداحمد کو بھی30روزکیلئےنظربند کردیا گیا. ڈپٹی کمشنر ملتان نے نظر بندی کے احکامات 16ایم پی او کے تحت جاری کیے.

    اس سے قبل پولیس نے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی کو گرفتار کرلیاگیا .30نومبر کو ملتان میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کے پیش نظر پولیس نے کنٹینر لگا کرقاسم باغ کی جانب جانےوالے راستے بند کردیئے ۔ کارکنوں نے کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کی تو پولیس بھی ایکشن میں آگئی۔ پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں ہوئیں،پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا پولیس کی بھاری نفری سٹیڈیم پہنچ گئی ، سی پی او ملتان بھی سٹیڈیم پہنچ گئے۔

    پولیس نے کریک ڈاؤن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی سمیت 40جیالوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں سابق ایم پی ڈاکٹر جاوید صدیقی بھی شامل ہیں۔علی حیدر گیلانی نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے میرے بھائی علی قاسم گیلانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ کارکنوں نے علی حیدر گیلانی کی گرفتاری ناکام بنادی۔
    قاسم گیلانی کو ملتان پولیس نے گرفتار کرکے تھانہ گلگشت منتقل کردیا، پیپلز پارٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملتان میں گلگشت پولیس نے قاسم گیلانی پر تشدد کیا اور ملاقات کروانے سے انکار کر دیا


    واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ نے تیس نومبر کو ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا تھا تاہم انتظامیہ نے کورونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت کو دیکھتے ہوئے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور گزشتہ روز کہنہ قاسم باغ کے اطراف میں کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیئے گئے تھے۔

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اب تک گجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جلسے کر چکا ہے اور اس نے تیس نومبر کو ملتان اور تیرہ دسمبر کو لاہور میں جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے

  • کورونا میں مزید تیزی،  2ہزار 829نئے کیسز سامنے آگئے، اموات میں بھی اضافہ

    کورونا میں مزید تیزی، 2ہزار 829نئے کیسز سامنے آگئے، اموات میں بھی اضافہ

    کورونا میں مزید تیزی، 2ہزار 829نئے کیسز سامنے آگئے،اموات میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی : پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے 2ہزار 829نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد 3لاکھ 95ہزار185 ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی :نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں کے دوران کورونا سے 43اموات ہوئی ہیں اور مرنے والوں کی مجموعی تعداد 7ہزار985 تک پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں3 لاکھ 39 ہزار810کورونا متاثرین صحتیاب ہوئے ہوچکے ہیں اور47ہزار390 زیر علاج ہیں۔

    اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 29 ہزار782، خیبر پختونخوا میں 46 ہزار 877، سندھ میں ایک لاکھ 71 ہزار 595، پنجاب میں ایک لاکھ 18 ہزار511، بلوچستان میں 17 ہزار101، آزاد کشمیر میں 6 ہزار 682 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 637 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 2 ہزار 979 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 2 ہزار911، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 359، اسلام آباد میں 309، گلگت بلتستان میں 97، بلوچستان میں 166 اور آزاد کشمیر میں 164 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔پاکستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح7.20 فیصد ہوگئی ہے۔ پشاور میں مثبت کیسز کی شرح سب سے زیادہ ہے جو 19.65 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ کراچی 17.73 اور حیدر آباد میں مثبت کیسز کی شرح 16.32 فیصد ہے۔

    آزادکشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.79، پنجاب3.59، سندھ13.25، بلوچستان6.41، گلگت بلتستان 4.81 اور اسلام آباد میں5.84 فیصد ہے۔کورونا کیسزکی مثبت شرح خیبرپختونخوا میں 9.25 فیصد، لاہور4.52،راولپنڈی 11.49، کراچی17.73، حیدرآباد 16.32، کوئٹہ9.77 اور مظفرآباد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 10.34 فیصد ہے۔

    این سی او سی کے مطابق ملک کے 15 شہروں میں کورونا وباتیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے,

    کرونا ویکسین کا راز ہیکرز کی جانب سے چوری کرنے کی کوشش ناکام

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

    معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہو چکی ہے۔ دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سےعمل کرنا ہو گا۔ احتیاطی تدابیر پرعمل پیرا ہو کر ہم کورونا کی دوسری لہرسے نمٹ سکتے ہیں

  • ملتان پی ڈی ایم جلسہ سے قبل حالات کشیدہ،سابق وزیراعظم کے بیٹے سمیت متعدد گرفتار

    ملتان پی ڈی ایم جلسہ سے قبل حالات کشیدہ،سابق وزیراعظم کے بیٹے سمیت متعدد گرفتار

    ملتان پی ڈی ایم جلسہ سے قبل حالات کشیدہ،سابق وزیراعظم کے بیٹے سمیت متعدد گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کا 30نومبر کو ملتان میں جلسہ ، قاسم باغ کے باہر حالات کشیدہ ہوگئے۔ پولیس نے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی کو گرفتار کرلیا۔

    30نومبر کو ملتان میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کے پیش نظر پولیس نے کنٹینر لگا کرقاسم باغ کی جانب جانےوالے راستے بند کردیئے ۔ کارکنوں نے کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کی تو پولیس بھی ایکشن میں آگئی۔ پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں ہوئیں،پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا پولیس کی بھاری نفری سٹیڈیم پہنچ گئی ، سی پی او ملتان بھی سٹیڈیم پہنچ گئے۔

    پولیس نے کریک ڈاؤن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی سمیت 40جیالوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں سابق ایم پی ڈاکٹر جاوید صدیقی بھی شامل ہیں۔علی حیدر گیلانی نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے میرے بھائی علی قاسم گیلانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ کارکنوں نے علی حیدر گیلانی کی گرفتاری ناکام بنادی۔

    قاسم گیلانی کو ملتان پولیس نے گرفتار کرکے تھانہ گلگشت منتقل کردیا، پیپلز پارٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملتان میں گلگشت پولیس نے قاسم گیلانی پر تشدد کیا اور ملاقات کروانے سے انکار کر دیا

    واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ نے تیس نومبر کو ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا تھا تاہم انتظامیہ نے کورونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت کو دیکھتے ہوئے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور گزشتہ روز کہنہ قاسم باغ کے اطراف میں کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیئے گئے تھے۔

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اب تک گجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جلسے کر چکا ہے اور اس نے تیس نومبر کو ملتان اور تیرہ دسمبر کو لاہور میں جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے

  • ایرانی سائنسدان کی شہادت نئی جنگ کا پیش خیمہ،اسرائیل اور سعودی عرب کا کردار، تہلکہ خیز انکشافات

    ایرانی سائنسدان کی شہادت نئی جنگ کا پیش خیمہ،اسرائیل اور سعودی عرب کا کردار، تہلکہ خیز انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بہت ہی دکھ والی خبر آئی ہے کہ محسن فخر زادہ کو شہید کر دیا گیا ایک دھماکے میں اور زیادہ پریشانی کی بات ہے کہ دھماکہ کرنے والے موقع پر ہی مارے گئے وہ پکڑے جاتے تو پتہ چل جاتا کہ کس نے انکو بھیجا، ابھی بھی تانے بانے ہمارے پاس ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو اصل مین جو لوگ سمجھتے نہیں ہیں انکو پتہ ہے کہ ایران کی جو سٹرینتھ ہے وہ 4 ہزار سال پرانی ہے، بہت ہی ہمت والے اور صبر کرنے والے لوگ ہیں یہ ،انکی ہزاروں سال کی تاریخ ہے، انکو آرام سے ،جلد بازی میں کام نہیں کروا سکتے جو کوشش کی جا رہی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محسن فخر زادہ کی شہادت یہ ایگزٹ گو ہیڈ دیا گیا ہے کہ نیوم میں جو میٹنگ ہوئی سعودی عرب کے اندر اس میں تین ملکوں کے لوگ تھے، سعودی عرب، امریکہ ،اسرائیل، اس سے قبل بھی تین یا چار مرتبہ حملے ہو چکے ہیں، یہ انکے لئے نئی بات نہیں تھی یہ ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ تھے، ایران کے اندر حملہ ایران کی سلامتی پرہے، خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی اس طرح کے دو تین اٹیک ہو سکتے ہیں،یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح جنرل سلیمانی کو شہید کیا گیا تھا تو اسکو ایکٹ آف وار سمجھ لیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محسن فخر زادہ کو شہید کیا گیا یہ بھی ایکٹ آف وار ہے، یہ ڈکیتی کی کوشش نہیں کہ مارے گئے، یہ ملک کے اندر گئے اور اس ملک میں کسی کو خریدا اور ٹارگٹ دیا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق یہ ایکٹ آف وار ہے،امریکہ کے جو سیکرٹری آف سٹیٹ بن رہے ہیں وہ بڑے اوپن ہیں،ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر چار دفعہ سٹیٹمنٹ دے چکے ہیں، جوبائیڈن صدر امریکہ کے کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ کو ری وزٹ کرنا ہے اور اسکو دوبارہ ایکتویٹ کرنا ہے جو اوبامہ کے دور مین تھا اور ٹرمپ کے دور میں ختم ہوا، محسن فخر زارہ پر حملہ کہا جا رہا ہے کہ ڈائریکٹ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کروایا ہے، ٹرمپ جانے سے پہلے خطے میں بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے تا کہ بائیڈن سیٹل نہ ہوں سکیں، ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ میں دوبارہ الیکشن لڑ رہا ہوں اور ابھی سے ڈونیشن جمع کرنا شروع کر دی ہے، ٹرمپ نے اتنے زیادہ ووٹ لئے وہ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ جیت سکتے ہیں، اس طرح انکی یہ کوشش ہے کہ دو تین ایسے حملے ہو جائیں تو وہ خطے کو جنگ میں جھونک کر چلے جائیں گے پھر ایران کے ساتھ جوبائیڈن کی امن کی کوشش فیل ہو جائے گی یہی اسرائیل ،سعودی عرب کی خواہش ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا کیوں سوچا جا رہا ہے، ہم جب مسلمانوں کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ فوری ری ایکٹ کرتے ہیں، اب انکا خیال ہے کہ ایرانی جواب دیں گے اور اس کو ایکٹ آف وار سمجھا جائے گا پھر ایران کے اوپر جنگ مسلط کر دی جائے گی،ایران اب کس طرح جواب دے گا؟ تو اس وجہ سے مڈل ایسٹ میں سیکورٹی ٹایٹ ہو گئی ہے،ایران کے ساتھ سافٹ ویلی متحدہ عرب امارات کی ہے اگر ایران کسی طر ح سے متحدہ عرب امارات میں کچھ کر کے اون کرتا ہے کہ ہم نے جواب دیا کیونکہ وہاں امریکن ٹروپس ہیں، سعودی عرب نے اسرائیل کو ریکنگنائیز کرنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا لیکن سعودی ایئر سپیس دی ہے، اگر اسرائیلی فائیٹر نے جانا ہو تو انکو کوئی روک ٹوک نہین، لیبیا کے اوپر سے کوئی بھی نہیں روک سکتا، ترکی اور اسرائیل کے ڈپلومیٹک ریلیشن تو ہیں لیکن سعودی کنگ نے چار پانچ دن پہلے اردگان کو کال کی تھی جس میں اردگان نے فوری جی ٹونٹی کی حمایت کر دی تھی، اور کہا تھا کہ اسکو بہتر کریں گے، یہ سارے رابطے اسلئے ہیں کہ جن راستوں سے ایران پر حملہ ہو سکتا ہے اسکو کلیئر کیا جائے

  • صوبے کے نام پر بڑا دھوکہ ہوا جنوبی پنجاب کو اپنوں نے لوٹ لیا ہے  سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے تہلکہ خیز انکشافات

    صوبے کے نام پر بڑا دھوکہ ہوا جنوبی پنجاب کو اپنوں نے لوٹ لیا ہے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے تہلکہ خیز انکشافات

    سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کے بنتے ہی پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے اس علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں پاکستان کے صف اول کے سینئیر صحافی مبشر لقمان نے سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی –

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی اے جنوبی پنجاب میں بہت بڑا جلسہ کرنے جا رہی ہے معلوم کہ جلسے میں بات ہو گی یا نہیں کہ ساؤتھ پنجاب کوصوبہ بنانے کے لئے اپوزیشن پارٹیز نے کیا کیا ہے اور حکومت نے کیا کیا ہے کیونکہ بہر حال جب کہ منصوبہ بننا ہوگا یا بنے گا تو دونوں کو کوآپریٹ کرنا پڑے گا تب ہی ایک بڑی تعداد اسمبلی میں خاص طور پر صوبائی اسمبلی میں وہ اس کو ووٹ کرے گی عثمان بزدار نے جنوبی پبجاب میں جو سارا انتظام کیا ہے ان کے بقول اب وہاں پر بڑی آسانیاں ہو گئی ہیں-

    سئینئر اینکر پرسن نے کہا کہ آج سے وہ ایک سیریز شروع کر رہے ہیں جنوبی پنجاب کے مختلف ساتھیوں کو دوستوں کو دعوت دے کر کہ وہ آئیں اور ہمیں بتائیں کہ جنوبی پنجاب کے منصوبے کی حقیقت کیا ہے کیا ان کے معاملات آسان ہوئے ہیں-

    آج کی اس قسط میں مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے سوال پوچھا کہ اب ان کا صوبہ کیسا لگ رہا ہے ؟

    جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبہ تو ابھی نہیں بنا میں تو بنیاد ی طور پر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو صوبہ ماننے کے حق میں ہوں لیکن ابھی تک یہ ہوا ہے کہ وہاں پر ایک سیٹلائٹ سیکرٹریٹ بنا دیا گیا ہے کہ اس سیکرٹریٹ کے بنتے ہیں پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے-

    جس پر مبشر لقمان نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو وزیراعظم ہے یہاں پر جنوبی پنجاب کا اور آپ کے تو بڑے وزرا ہیں وفاق میں تو آپ دوسرے درجے کے کیسے ہیں جس پر سابقہ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے مسئلے ہی یہی ہیں کہ ہمارے وزیراعلی بھی ہوتے ہیں اور وزرا بھی ہوتے ہیں –

    ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار اور سوکالڈ ایلیکٹیبل جو ہیں ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو تا کہ تخف لاہور پر وہ بیٹھ سکیں اور مرکز میں بڑے عہدے لے سکیں وزیراعظم بن سکیں لیکن عوام غریب کے غریب ہی رہیں محروم ہی رہیں –

    محمد علی درانی نے انکشاف کیا کہ جو کچھ سکرٹریٹ بنا ہے اس میں تخت لاہور کا کوئی کردار نہیں ہے اس کے سب ڈیزائن کو میں جانتا ہوں اس کو جنوبی پنجاب کے وڈیروں نے خود بنایا ہے اور خود ان کو لاگو کرایا ہے اس کا ان کو اس چیز کا ایک یہ فائدہ ہے کہ لوگ ان کے غلام ان کے غلام ہی رہیں گے اور وہاں نہ ترقی ہو گی نہ وہ ڈویلپمنٹ ہوگا بلکہ اس نئی ڈویلپمنٹ کی وجہ سے پورے پنجاب کی ڈویلپمنٹ متاثر ہو گی-

    سابق وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اس وقت پنجاب کا 82 فیصد بجٹ نان ڈویلپمنٹل ہے 82 فیصد بجٹ تنخواہوں اور مراعات وغیرہ میں چلا جاتا ہے ان مراعات کا ایک اور بنڈل پنجاب کے اوپر لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کا بالفرض اگر 100 ارب کا بجٹ ہو تو اس میں سے ساٹھ سے 70 ارب روہے اس سیکرٹریٹ پر لگ جائیں گے مطلب مرے کو مارے جو غریب لوگ وہاں کے ان کے ڈویلپمنٹ کا بجٹ تھا وہ اور کم ہوگیا پہلے یہ تھا کہ جنوبی پنجاب کے شہری پنجاب کے شہریوں کے برابر تھے تو ان میں سے کوئی بھی آکر لاہور کے سیکرٹریٹ کے اندر بتا سکتا تھا تولیکن اس نئے سیکرٹریٹ کے بعد ان کو جانوروں کی طرح ایک جنوبی پنجاب کے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے –

    مبشر لقمان نے اس پر کہا کہ آپ کسی بھی حالات میں خوش نہیں ہوتے سیکٹریٹ مانگا آپ کو دیا اس پر بھی آپ خوش نہی ہوئے-

    اس پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایک عوام کا نمائندہ ایک عوام کا مطالبہ ایسا دے دیں جس نے سیکرٹریٹ مانگا اور ہم نے جو صوبہ مانگا تھا وہ گوانتاما جیل بن گیا ہے میں دلیل پر بات کرتا ہوں ویسے میں بات ہی نہیں کرتا وہاں پر بیٹھا آدمی مسائل کی وجہ سے لاہور آتا تھا تو اس کے دومسائل ہوتے تھے ایک خرچہ اور دوسرا فاصلہ اب اس کے 4 مسائل ہوگئے ہیں-

    کیونکہ اب وہ تب تک یہاں آ نہیں سکتا جب تک وہاں کا آڈیشنل آئی جی اسے پرمٹ نہیں دے گا وہ آئی جی کے پاس پرابلم نہیں لا سکتا وہاں کی آڈیشنل کی سیکرٹری اسے پرمیشن لیٹر نہیں دے گی آڈیشنل آئی جی کے پاس شہریوں کے مسائل حل کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے اس نے جو ایکشن بھی لینا ہے آئی جی کی ہدایات پر لینا ہے یا آئی جی کی آگاہی پر لے گامطلب وہ با حکم آئی جی ہے وہاں پر کوئی بھی چیز چیف سیکرٹیری اور آئی جی کے انتظام کے بغیر نہیں ہو سکتی-

    محمد علی درانی نے کہا کہ اب اس کے اوپر ظلم پر ظلم یہ کہ آدھا سیکرٹریٹ ملتان میں اور آدھا بہاولپور میں ہے آپ بتائیں پنجاب میں آدھا سیکرٹریت لاہور میں رکھیں اور آدھا اسلام آباد میں بھیج دیں تو مطلب یہ ہے کہ نہ لاہور والوں کو کچھ ملے گا نہ راولپنڈی والوں کو کچھ ملے گا ایک سیکرٹری ادھر بیٹھا ہوگا آڈیشنل سیکرٹری ادھر بیٹھا ہو گا مطلب بہاولپور اور جنوبی پنجاب سے متعلق کوئی مسئلہ بھی جو ہے وہ 4 گُنا زیادہ گھمبیر ہو گیا ہے اس ڈویلپمنٹ کے باعث اس کے بعد آپ کو نوکریں ملیں گی لیکن نوکریوں کا کوئی نشان ہی نہیں ہے یہ ہمارے لئے صوبہ نہیں ہے جیل خانہ ہے-

    مبشر لقمان نے کہا کہ سولہ وزرا ہیں جنوبی پنجاب کے وفاق میں تو ابھی بھی آپ یہ سب کہہ رہے ہیں-

    جس پر محمد علی درانی نے کہا کہ اسی لئے تو جنوبی پنجاب میں یہ حالات ہیں سیکرٹریٹ بنا کر اپ نے ایک زنجیر باندھ دی ہے جنوبی پنجاب کے آگے اس کو کوئی جنوبی پنجاب کا شہری نہیں پار کر سکتا صوبے کی ڈیمانڈ وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے صوبے کی ضرورت وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے ڈویلپمنٹ کی ضرورت اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نان ڈویلپمینٹل بجٹ کم ہو-

  • او آئی سی اجلاس:مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد منظور،پاکستان کے موقف کی ترجمانی کی گئی

    او آئی سی اجلاس:مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد منظور،پاکستان کے موقف کی ترجمانی کی گئی

    نیامی: او آئی سی اجلاس:مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد منظور،پاکستان کے موقف کی ترجمانی کی گئی ،اطلاعات کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اجلاس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق نائجر کے دارالحکومت نیامی میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 47واں اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔

    قرارداد کے متن کے مطابق کشمیر تنازع 7 سے زائد دہائیوں سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے، بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات مسترد کرتے ہیں، بھارتی اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں کی براہ راست توہین ہیں۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے، بھارتی اقدامات استصواب رائے سمیت کشمیریوں کے دیگر حقوق چھیننا ہے۔

    ’بھارتی رویہ، بالا کوٹ سانحہ، ایل او سی، ورکنگ باؤنڈری پر جارحیت کی مذمت کی گئی‘۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کا کردار ایل او سی پر بڑھائے، بھارت تمام تنازعات عالمی قانون، معاہدات کے مطابق طے کرے۔

    عالمی برادری سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ’بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں صورتحال کی نگرانی کرے اور یواین، عالمی برادری پاک بھارت مذاکرات کی جلد بحالی کے لیے کردار ادا کرے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ خصوصی ایلچی کا تقرر کریں۔‘

    ’نمائندہ خصوصی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرے، نمائندہ خصوصی کشمیر صورت حال سے یواین سیکریٹری جنرل کو آگاہ کرے۔‘

    قرراداد میں انسانی حقوق کمیشن کو کشمیر میں داخلہ نہ دینے کی بھارتی اقدام کی مذمت کی گئی، قرارداد کے متن کے مطابق سیکریٹری جنرل او آئی سی، انسانی حقوق کمیشن رابطہ گروپ معاملے پر بھارت سے بات کرے۔

    قرارداد میں او آئی سی سیکریٹری جنرل سے کشمیر میں بھارتی مظالم پر رپورٹ تیار کرنے کی درخواست کی گئی اور کہا گیا کہ رپورٹ وزرا خارجہ کونسل کے آٗئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔

  • پاکستان کوفلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں اگریہ طریقہ کامیاب نہ ہوسکا توپھردوسرا اختیارکروں گا،وزیراعظم نے بہت بڑا اشارہ کردیا

    پاکستان کوفلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں اگریہ طریقہ کامیاب نہ ہوسکا توپھردوسرا اختیارکروں گا،وزیراعظم نے بہت بڑا اشارہ کردیا

    اسلام آباد :پاکستان کوفلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں اگریہ طریقہ کامیاب نہ ہوسکا توپھردوسرا اختیارکروں گا،وزیراعظم نے بہت بڑا اشارہ کردیا،اطلاعات کے مطابق انہوں ںے کہا کہ جس نے بھی اپنی زندگی میں مقابلہ کیا ہو وہ یوٹرن کا مطلب سمجھتا ہے۔ حالات کے ساتھ ساتھ حکمت عملی تبدیل کی جاتی ہے۔ میرا نظریہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے اور میں اسی مقصد کے لیے ایک طریقہ ناکام ہوگا تو دوسرا اختیار کروں گا۔

    اپوزیشن کے خلاف نیب کیسز کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تمام کیسز ہمارے آنے سے پہلے بنائے گئے تھے۔ نیب ہمارے ماتحت نہیں ہمارا اختیار صرف جیلوں پر ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا پہلے دن سے ایجنڈا ایک ہی تھا۔ ہم تو پہلے دن الیکشن پر تحقیقات کے لیے آمادہ تھے لیکن یہ اس کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں آئے تک نہیں۔ پھر فیٹیف کے لیے ہونے والی قانو سازی میں 34 ترامیم کا مطالبہ کیا جس کا مقصد نیب ختم کرنا تھا۔

    جب ہم کہتے ہیں کہ این آر او نہیں دیتے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ احستاب کے ان قوانین میں تبدیلی نہیں کرنے دیں گے۔ نہ صرف نیب بلکہ ایف آئی اے اور دیگر اداروں میں جو تحقیقات چل رہی ہیں ہم چاہتے ہیں وہ تکمیل تک پہنچیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں جہاں بھی کسی وزیر سے متعلق کرپشن کی اطلاعات ملتی ہیں تو میں اپنے ایسے ایک ایک وزیر کی آئی بی کے ذریعے خود تحقیقات کرواتا ہوں۔

    ہمارے زمانے میں صرف شہباز شریف کا کیس بنا ہے۔ ان کے دفتر میں کام کرنے والے دو ملازم پکڑے گئے جن کے بینک اکاؤنٹ سے اربوں روپوں کی منتقلی کے ثبوت ملے۔

    انہوں نے کہا کہ 5 سال میں نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہمارے پانچ سال میں نوکریاں ایک کروڑ اور گھر پچاس لاکھ سے بھی زیادہ ہوجائیں گے۔ بنڈل آئی لینڈ اور راوی اربن پراجیکٹ ہمارے دو بڑے منصوبے ہیں جس سے یہ ممکن ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی تاریخ میں سیمنٹ کی پیداوار سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔ یہ دو نئے شہر بسنے جارہے ہیں۔ راوی پراجیکٹ کے لیے لوگوں سے زمینیں لینے کے کوئی زبردستی نہیں کی جارہی، اس حوالے سے غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ان منصوبوں سے نوکریاں ملیں گی اور سمندر پار پاکستانی یہاں سرمایہ کریں گے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورت حال بہتر ہوگی۔

    عمران خان نے کہا کہ بی آر ٹی کا ایشیائی ترقیاتی بینک کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر ہمیں سبسڈی نہیں دینا پڑے گی۔ اس منصوبے کی شفافیت کے حوالے سے کوئی بھی سوال اٹھے گا تو ہم تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہیں۔

  • پچھلی حکومتوں نے پی ٹی وی کا بیڑہ غرق کیا ،پی ٹی وی کو بی بی سی اورٹی آرٹی کا ہم پلّہ بنانا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    پچھلی حکومتوں نے پی ٹی وی کا بیڑہ غرق کیا ،پی ٹی وی کو بی بی سی اورٹی آرٹی کا ہم پلّہ بنانا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    اسلام آباد :پچھلی حکومتوں نے پی ٹی وی کا بیڑہ غرق کیا ، بی بی سی اورٹی آرٹی کی طرز پربنانا چاہتے ہیں ،وزیراعظم نے بہت بڑی بات کہہ دی ، اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے عزم کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ پی ٹی وی کو ایک معیاری ادارے کے طورپردیکھنا چاہتے ہیں

    وزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومتوں‌نے پی ٹی وی کا بیڑہ غرق کردیا تھا، سیاستی اورذاتی پسند اورناپسند کی بنیاد پربھرتیاں ہوتی تھیں ، لیکن اب ایسا نہین ہوگا وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ٹیلی ویژن بھی بی بی سی اورٹی آرٹی کے ہم پلہ بن جائے

    پی ٹی وی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نعیم بخاری پناما میں میرے وکیل بعد میں بنے وہ گزشتہ50 سال سے پی ٹی وی سے وابستہ ہیں اور ان سے زیادہ اس ادارے کو شاید ہی کوئی سمجھتا ہو۔ ہماری درخواست پر انہوں نے یہ ذمے داری قبول کی ہے۔ یہ ایگزیکٹیو نہیں ہیں بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔ جو پالیسی بناتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر حکومت کا مؤقف سامنے آنا چاہیے لیکن اس کی ساکھ بھی بی بی سی اور ٹی آر ٹی کی طرح بنانے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی وی پر حزب اختلاف کو وقت ملنا چاہیے۔