Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • میاں محمود الرشید مریم نواز کی ضمانت خارج کروانے کے حامی کیوں نہیں؟مبشر لقمان کو خصوصی انٹرویو میں بتا دیا

    میاں محمود الرشید مریم نواز کی ضمانت خارج کروانے کے حامی کیوں نہیں؟مبشر لقمان کو خصوصی انٹرویو میں بتا دیا

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی صوبائی وزیر برائے ہاؤسنگ و کالونیز میاں محمود الرشید سے خصوصی گفتگو

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کو مبارکباد دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس حکمت عملی کی سمجھ نہیں آئی کہ دس جماعتوں کا جلسہ اور صرف گیارہ ہزار لوگوں کا آنا آخر یہ آپ نے کیسے کیا؟ جس کے جواب میں صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ یہ سب سے پہلے اللہ نے کیا ہے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ ناکام ہوا ہے

    صوبائی وزیر میاں محمود الرشید نے نے مزید پی ڈی ایم جلسے کی ناکامی کے اسباب بتاتے ہوئے کہا کہ ایک تو 13 دسمبر کا دن اور رات کے وقت 6 بجے جلسہ کرنا یہ ناکامی کی وجہ ہے اور اسے مریم نواز نے بھی تسلیم کیا ہے دوسرا مریم نواز جس انداز سے آٹھ نکلیں ان کے بیانیے کو اہل لاہور نے پسند نہیں کیا کرونا کے دنوں میں لوگوں کو موبلائز کرنا بیوقوفی تھی اس پر سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ لاہور میں لکی ایرانی سرکس والے بھی تین دن سے زیادہ نہیں لگاتے ان کو پتہ ہے کہ لوگ نہیں آئیں گے

    صوبائی وزیر میاں محمود الرشید نے کہا کہ لاہوریے بیوقوف نہیں ہیں کہ وہ کوویڈ کے دنوں میں نکلیں صوبائی وزیر نے کہا کہ میں نے جلسے سے دو دن قبل اہل لاہور سے کہا تھا کہ آپ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور اس طرح کے کسی جلسے میں نہیں جائیں گے جس سے لوگوں کی جان کو خطرہ ہو انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسلم لیگ ن کے لیے بڑا سوالیہ نشان ہے کہ تحت لاہور کا دعویٰ ان کا خاک میں مل گیا ہے اور حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی بجائے یہ جلسہ ان کی سیاست میں آخری کیل ثابت ہوا ہے یہ کہتے تھے کہ لاہور جلسہ ریفرنڈم ہو گا تو عوام نے ریفرنڈم کر دیا ہے اور اہل لاہور نے فیصلہ دے دیا ہے

    اس پر سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں مریم نواز سے سخت نالاں ہیں جس کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ انہیں بالکل نالاں ہونا چاہیے کیوں کہ مریم نواز پر اعتماد تھیں کہ لاہور نکلے گا اور لاکھوں لوگ جلسے میں آئیں گے مگر ایسا نہیں ہوا اور جلسے کے چشم دید گواہوں کو کہنا ہے کہ جلسے میں گیارہ ہزار سے لوگوں سے زیادہ لوگ نہیں تھے

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ حکومت کی نا اہلی ہے کہ ایک عورت ضمانت پہ باہر ہے اور حکومت اس کی ضمانت کینسل کرانے میں ناکام ہے جس کے جواب میں صوبائی وزیر میاں محمود الرشید نے کہا کہ یہ وفاق کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ ان کی ضمانت خارج کروانی ہے اور کب کروانی ہے لیکن میری ذاتی رائے میں ان کی ضمانت خارج نہیں کروانی چاہیے جس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سے بہتر موقع کیسے مل سکتا ہے کہ مریم نواز خود ہی ایکسپوز ہو گئی ہیں ،جس طرح سے وہ اپنی پارٹی کو تباہی کی طرف لے کے جا رہی ہیں تو وہ اپنا کام خود تمام کرکے ہمارا کام آسان کر رہی ہیں ہم اس چیز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں

  • کپتان کی کمال حکمت عملی:سعودی عرب کو1ارب ڈالرقرض کی دوسری قسط بھی اداکردی

    کپتان کی کمال حکمت عملی:سعودی عرب کو1ارب ڈالرقرض کی دوسری قسط بھی اداکردی

    اسلام آباد:کپتان کی کمال حکمت عملی:سعودی عرب کو1ارب ڈالرقرض کی دوسری قسط بھی اداکردی،اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکومت نے سعودی عرب سے لئے گئے قرض کی دوسری قسط ایک بلین ڈالر کی صورت میں واپس کر دی ہے۔ اب آخری قسط آئندہ سال جنوری میں ادا کر دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر اسے 3 ارب ڈالر کی رقم بطور قرض فراہم کی گئی تھی۔ پاکستانی حکومت اس سے قبل سعودی عرب کے تقاضے میں 1 ارب ڈالر پہلے ہی ادا کر چکا ہے۔

    پاکستانی ذرائع کے مطابق دوسری قسط بھی ادا کی جا چکی ہے جو اتنی ہی کثیر رقم بنتی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دوسری قسط کی ادائیگی کیلئے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، تاہم پاکستان نے اسے پہلے ہی ادا کر دیا۔ اب آخری قسط جنوری 2021ء میں ادا کر دی جائے گی۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی یہ خطیر رقم بطور قرض ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے دی گئی تھی۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان نے چین سے پیسے لے کر سعودی عرب کو دیئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کے مرکزی بینک کے پاس اس وقت 13٫3 بلین ڈالرز کے فارن ریزورز ہیں۔ سعودی عرب کو حالیہ اور آئندہ ماہ اربوں ڈالرز دینے سے ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

  • مسلح افواج ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، آرمی چیف

    مسلح افواج ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، آرمی چیف

    گوجرانوالا: مسلح افواج ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، آرمی چیف،اطلاعات کے مطابق آج آرمی چیف ، ایئرچیف کا گوجرنوالا کورکا دورہ کیا جہاں پاک فوج کی جاری مشقیں دیکھیں:جوانوں سے خطاب بھی کیا،

    آئی ایس پی آر کے مطابق آج پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ اورائیرچیف مارشل مجاہد انورخان نے گوجرانوالا کورہیڈکوارٹرکادورہ کیاپاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان کمانڈر آرمی ایئر ڈیفنس نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر کور کمانڈر منگلا اور گوجرانوالہ بھی موجود تھے۔مسلح افواج ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں

    پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ جنگ میں چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید مہارت اور تعاون ضروری ہے۔ مسلح افواج ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گوجرانوالہ میں فیلڈ مشقوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور ایئر چیف مارشل نے طویل فاصلہ تک مار کرنیوالے اسلحہ کی مشقوں کا معائنہ کیا اور ایئر ڈیفنس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ آرمی چیف نے ایئر ڈیفنس کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید مہارت اور تعاون ہونا ضروری ہے۔ مسلح افواج عوام کی حمایت سے ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ے یک جان ہے اورہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیارہے

  • 73 سال میں جوکام 18 وزرائے اعظم18صدورنہ کرسکے:وہ کام اکیلے عمران خان نے دوسال میں کردیا

    73 سال میں جوکام 18 وزرائے اعظم18صدورنہ کرسکے:وہ کام اکیلے عمران خان نے دوسال میں کردیا

    کراچی : 73 سال میں جوکام 18 وزرائے اعظم18صدورنہ کرسکے:وہ کام اکیلے عمران خان نے دوسال میں کردیا،اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو کتابوں کی اشاعت کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے مطابق جب ملک بھر میں یہ نظام لاگو ہوجائے گا تو کسی نجی اسکول یا مدرسے میں کوئی اور نصاب پڑھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    یاد رہے کہ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے آئندہ تعلیمی سال سے یکساں قومی نصاب کے ملک بھر میں نفاذ کے پہلے مرحلے یعنی نرسری اور پہلی سے پانچویں جماعت کے لیے ایک نصاب رائج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    دوسرا مرحلہ چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک سال 2022 جبکہ یکساں قومی نصاب کا تیسرا اور آخری مرحلہ نویں سے بارہویں جماعت کا نصاب ملک میں آئندہ عام انتخابات کے سال یعنی سال2023 میں نافذ کیا جائے گا۔

    پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے وضع کردہ وہ بنیادی نکات جن پر یکساں قومی نصاب کو تشکیل دیا جا رہا ہے ان میں قرآن و سنت کی تعلیمات، آئین پاکستان کا تعارف، بانیِ پاکستان محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے افکار شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ قومی پالیسیاں، خواہشات اور قومی معیارات، جنس، رنگ نسل یا مذہب کے حوالے سے روادی اور تعمیری سوچ کی ترویج بھی اس کا اہم حصہ ہے۔

    وضع کردہ وہ بنیادی نکات کے مطابق تعلیمی نظام کی بہتری کے حوالے سے پاکستان کے بین الاقوامی معاہدوں خصوصاً پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول، ملک میں تعلیمی اداروں، اساتذہ اور پیشہ ورانہ تربیت میں اضافے سمیت اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ بچے کیا پڑھیں گے، کیا سیکھیں گے اور ان تعلیمات کا بچوں پر کیا اثرات ہوں گے۔

  • انڈواسرائیل چیمبرآف کامرس نے عرب امارات میں پنجے گاڑدیئے،دبئی میں مرکزی دفترکا قیام:پاکستان کوآوٹ‌کرنے کا منصوبہ

    انڈواسرائیل چیمبرآف کامرس نے عرب امارات میں پنجے گاڑدیئے،دبئی میں مرکزی دفترکا قیام:پاکستان کوآوٹ‌کرنے کا منصوبہ

    دبئی :انڈواسرائیل چیمبرآف کامرس نے عرب امارات میں پنجے گاڑدیئے،دبئی میں مرکزی دفترکا قیام ،اطلاعات کے مطابق بھارت اوراسرائیل کے درمیان تجاری ، معاشی اوراقتصادی مشترکہ مفادات کا دائرہ کار اب عرب دنیا میں بھی پھیلنے لگا ہے ، اس سلسلے کی تازہ کڑی عرب امارات میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف انڈواسرائیل چیمبر آف کامرس نے دبئی میں اپنے مرکزی دفتر کو قائم کرکے آج اس کا افتتاح بھی کردیا ہے

    اس مشترکہ تجاری ، اقتصادی اورمعاشی ادارے کے قیام کا مقصد دنیا بھر میں اسرائیل اوربھارتیوں کے درمیان محبت ،تجارت ، سرمایہ کاری اورایسے ہی دیگر ثقافتی اورمعاشرتی اقدار کو مضبوط کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے

    اس حوالے سے انڈواسرائیل چیمبر آف کامرس کے تعاون سے دبئی میں ابراہیم ایکارڈز کی بنیاد رکھی گئی ہے ، جس کی تقریب میں جو کہ متحدہ عرب امارات میں ہوئی اس میں ہندوستانی سفیر پیون کپور نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر احمد عبدالرحمٰن البانا ، یو اے ای کے ہندوستان میں سفیر۔ اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IRENA) میں اسرائیل کے مشن کے سربراہ ، ڈاکٹر ڈین شہام۔ ڈاکٹر رون مالکا ، ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر اور اسرائیل میں ہندوستان کے سفیر سنجیو کمار سنگلا نے شرکت کی۔

    اس حوالے سے ایک اہم اسرائیلی شخصیت نے اپنے خیالات کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ "اسرائیل ، ہندوستان ، اور متحدہ عرب امارات اور دنیا بھر کے ہندوستانی تارکین وطن سے سے میرا رابطہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔

    اس موقع پردونوں ملکوں کی اہم شخصیات نے اس امید کا اظہارکیا کہ عرب امارات کے ساتھ مل کرخطے میں مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں گے

    اس موقع پر اس بات کا عہد کیا گیا کہ تینوں ممالک کے درمیان سائنسی تحقیق ، آئی ٹی ، ایگری ٹیک ، فوڈ سیکیورٹی ، صحت کی دیکھ بھال ، میڈ ٹیک ، اور پائیداری کے رشتوں کومضبوط کریں گے

    اس موقع پراس عزم کااظہاربھی کیا گیا کہ پہلے عرب امارات اوربھارت اسٹراٹیجک پارٹنرز تھے تواب اسرائیل ،بھارت اورعرب امارات ایک پارٹنرہوں گے

    پون کپور جو مارچ 2016 سے ستمبر 2019 تک اسرائیل میں ہندوستان کے سفیر رہے تھے نے کہا کہ "حالیہ امن معاہدے اور متحدہ عرب امارات اور اسرائیل دونوں کے ساتھ ہندوستان کے بہترین تعلقات کے تناظر میں متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی ڈاسپ پورا کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    ڈاکٹر البنا جو کہ بھارت میں عرب امارات کے سفیر کہتے ہیں کہ "میں IFIICC کے بانیوں مرزی اور روییو کو فیڈریشن کے بروقت آغاز کے لئے مبارکباد دیتا ہوں۔ ابراہیم ایکارڈز کی مدد سے اس سہ فریقی تنظیم کا مقصد اسرائیل ، متحدہ عرب امارات اور اب ہندوستان میں کاروباری طبقات کے لئے مشترکہ قیادت اور مربوط اقدامات کی فراہمی ہے۔ ”

    اسرائیل میں ہندوستان کے سفیر سنجیو کمار سنگلا نے کہا کہ "اگرچہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی معیشت سائز کے لحاظ سے ہیں ، لیکن متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہندوستان کی تجارت اسرائیل کے ساتھ اس کی تجارت کے مقابلے میں 12 گنا ہے۔ اب اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایک نیا باب شروع کیا ہے۔ ان تعلقات میں ، ان تینوں ممالک کے لئے نئے کاروبار کے مواقع پیش کرنا جن میں جدت شامل ہے۔ ”

    دوسری طرف بھارت اسرائیل اورعرب امارات کے درمیان اس تازہ ڈویلپمنٹ نے خطے کے دوسرے ممالک کے لیے بڑے پغام چھوڑ دیئے ہیں‌، بھارت اسرائیل عرب امارات میں اپنا اثرورسوخ بڑھا چکے ہیں اور عرب امارات کی اس انداز سے برین واشنگ کرکے پاکستان کے مفادات کوسخت نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اس صورت میں پاکستان کوعرب امارات کی منڈیوں سے آوٹ بھی کیا جاسکتا ہے

  • الحمدللہ ۔۔ پاکستان کا عظیم کارنامہ۔، صدیوں کا سفر لمحوں میں طے،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    الحمدللہ ۔۔ پاکستان کا عظیم کارنامہ۔، صدیوں کا سفر لمحوں میں طے،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    الحمدللہ ۔۔ پاکستان کا عظیم کارنامہ۔، صدیوں کا سفر لمحوں میں طے،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت اتنا سامان اسلحہ خرید رہا ہے اگر جنگ ہو تی ہے تو کیا پاکستان بھارت کا مقابلہ کر لے گا، ایک جنگ ہوتی ہے اور ایک نعرے بازے ہوتی ہے، میزائل اور ایئرپاور اہم ہیں، بھارت رافیل چھوڑ کر جو مرضی کر لے پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے آپ پاکستان اور چین کی ائیر فورسز کی ایکسر سائزز کے بارے میں سن رہے ہیں جو سات دسمبر کو شروع ہوئی اور لیٹ دسمبر تک جاری رہیں گی۔ کہنے کو تو یہ ایک روٹین لگتی ہے لیکن دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی اس شاہین سیریز ایکسر سائز نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ملٹری بیلنس کو upset کر کے رکھ دیا ہے۔ اور پاکستانی ائیر فورس بھارت کے مقابلے میں بہت ایڈوانس ہو گئی ہے اس کی تفصیل میں آپ کو آگے چل کر بتاوں گا۔ دسمبر دو ہزار بیس میں ہونے والی اس ایکسر سائز کو Shaheen ix(9) کا نام دیا گیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکہ کے دفاعی ماہرین اسے بڑی گہری نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ یہ ایکسر سائز ہی ہیں جس کی مدد سے پاکستان نے ستائیس فروری کو بھارت کو سرپرائز دیا، اس کے ریڈار اورCommunication systemکو جام کر دیا تو غلط نہ ہو گا، ابھی نندن کو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ بھارت میں گرا ہے یا پاکستان میں۔ بھارت کے ایک جہاز نے اپنے ہی جہاز یا ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔ پاکستان نے بھارت کے communication & radar system کو ایسے مفلوج کر دیا کہ انہیں سمجھ ہی نہ آئی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان نے انتہائی ایڈوانس ٹیکنالوجیElectromegnatic warfare attack capability
    کا مظاہری کیا تھا اور اپنے جہازوں میں اسے integrated اورair manouver profile میں شامل کر لیا تھا۔ پاکستان ان ایکسر سائزز میں اس سے کہیں زیادہ قابلیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔چین کی ائیر فورس
    Electromegnatic warfare میں ایک لیڈینگ کردار رکھتی ہے۔ اور پاکستان کو اس کے ساتھ مل کر کام کرنا اور اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔چینی وزیر دفاع کے دورہ پاکستان کےدرمیان فوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ چینی وزیر دفاع کے دورے اور اس مشق کو خطے میں اہم پیشرفت سمجھا جارہا ہے اور اس دورے کے ایک ہفتہ بعدچینی فضائیہ کا دستہ مشترکہ فضائیہ کی مشقوں کے لیئےپاکستان میں ٹھٹہ کے قریب ائیر بیس پر پہنچا جو بھارتی گجرات اور سمندر کے بہت قریب ہے یہاں پر ایکسر سائز کرنے سے پاکستان نہ صرف بھارت بلکہ سمندر میں بھی آپریشن کرنے کی بہتر صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔اس مشق میں جنگی پائلٹ ، ایئر ڈیفنس کنٹرولرز اور تکنیکی زمینی عملہ پر مشتمل ایئر فورسPLA AF حصہ لے رہی ہے۔ جبکہ دنیا کہہ رہی ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران ان مشقوں کا کرنا بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
    اور ظاہری سے بات ہے اس طرح کی مشقوں کا مقصد اپنے دشمن کی صلاحیتوں پر بر تری حاصل کرنا ہوتا ہے اور پاکستان اور چین کا مشترکہ دشمن کون ہے اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ بہت بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔
    پاکستان اور چین نے دو ہزار پندرہ میںStrategic Support Force بنائی اور اس کا کمانڈ اسٹیشن پاکستان اور چین میں موجود ہے۔جوcyber-warfare, high-tech reconnaissance, electronic warfare and psychological warfare سمیت بے تحاشا چیزوں کو ڈیل کرتا ہے اور دونوں فورسز کیcoordinationکو مثالی بناتا ہے، وہ بھی ان ایکسر سائز میں شامل ہوتے ہیں۔

    ان ایکسر سائزز کا مقصدelectronic warfare attack capabilitiesکو ایک نئے لیول تک لے کر جانا ہے۔پاکستان کوصرف tectical forceکی بجائے ایک ایسی فورس بنانا جوoperational fieldمیں لیڈ کرادار ادا کریں اور جہاں پر
    outcome matterکرتی ہو۔ اور پاکستان ائیر فورس فیصلہ کن کردار ادا کرے جیسے ہمیشہ ماضی میں بھارت کی پٹائی کرتی رہی ہے۔ کیو نکہ جدید دور میں زمینی فوج کی بجائے ائیر فورس فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں جیسے امریکہ نے دنیا بھر میں کیا کہ اس کے ایک بھی فوجی کے زمین پر قدم رکھنے سے پہلے فضائیہ دشمن پر ایسی بمباری کرتی ہے کہ دشمن کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ ان مشقوں میں جو جہاز استعمال ہو رہے ہیں ان میں
    China’s fourth-generation Shenyang J-11, Chengdu J-10 multirole fighter aircraft, Chengdu F-7 interceptor اورJF-17 Thunder multirole combat aircraft, شامل ہیں۔جبکہ دہائیوں تک پاکستان ائیر فورس کی backbone سمجھا جانے والا۔ ایف سولہ ان مشقوں میں استعمال نہیں کیا گیا تاکہ امریکہ کو کسی بھی قسم کی بات کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ امریکہ اس حوالے سے اکثر الزام لگاتا رہا ہے کہ چین اس کی ٹیکنالوجی چوری کر سکتا ہے۔اگر میں آپ کوelectromegnatic spectrumکے بارے میں آسان الفاظ میں سمجھاوں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سورج سات طرح کی شعاعیں پھینکتا ہے اور ہماری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔radio wave ،micro wave
    infrared wavev،isibile light wave .ultra light wavesیہ سب ایک جیسی ہیں لیکن ان کی wave length میں فرق ہے اور ان شعاوں کے مجموعہ کوہم air, land, sea domainمیںconnectivityکے لیئے استعمال کرتے ہیں۔
    چاہے رافیل ہو یا f35 اسconnectivityکے بغیر سب بیکار ہے اور اس فیلڈ میں قابلیت اور اسٹریٹجی ہی سب کچھ ہے۔یہ آپ کوwar fighting communication situation awarness میں مدد دیتی ہے۔

    یہ خطرے سے نکلنے والی انرجی کو کئی سو کلومیٹر دور سے locate کرتی ہےElectronic Support Electronic attackاورelectronic protection فراہم کرتی ہے یعنی دشمن کے اٹیک سے بچانا۔اگر بھارت کہ پاس یہ قابلیت ہوتی تو اسےپاکستان کے اٹیک سے کسی حد تک protectionمل سکتی تھی اور کمیونیکیشن جام نہ ہوتی اور ریڈار کام کرنا نہ چھوڑتے۔پاکستان center of artificial intellengence & computing پر کا م کر رہا ہے اور یہ
    information wave form signals from radar اور بہت سی چیزوں کو خودہی سمجھ کر خود اپلائی کر دیتا ہے،یہ سینسر فیوژن ٹکنالوجی تیار کرنے میں مدد دے گا ، جو ریڈار، کیمرہ اور دیگر کئی سینسرز کی معلومات کو یکجاکرتا ہے اور اس میں بیلینس کرتا ہے۔ اس میں بگ ڈیٹا ، مشین لرننگ ، ڈیپ لرننگ ، prediction analysisnatural language processingشامل ہیں۔ اصل گیم یہ ہے کہ اسے اپلائی کیسے کرناہے جو پاکستان اور چین مشقوں کے زریعے کر رہے ہیں۔یہ پاکستان کی ترقی میں ایک Quantam jumpہے۔ پاکستان اس ٹیکنالوجی کو اپنے ڈرونز، multi altitute UAV میں بھی استعمال کررہا ہے۔پاکستان نے کچھ عرصہ پہلے ہی EW & Radar lab
    کا افتتاع کیا ہے۔artificial intelligence پر کام جاری ہےایک وقت آئے گا جب پاکستانی ربوٹ انسانی مدد کے بغیر کام کریں گے۔

    چین اور پاکستان ۔ اسٹریٹجک شراکت داری میں1950 کی دہائی سے ترقی یافتہ دفاعی ، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون سے لطف اندوز ہو رہےہے۔ دفاعی تعاون ،اعلی سطحی فوجی تبادلے ، مشترکہ مشقوں ، اہلکاروں کی تربیت ، مشترکہ دفاعی پیداوار اور دفاعی تجارت پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ دونوں ہمسایہ ممالک دفاعی شراکت داری ، مشترکہ منصوبوں بالخصوص ہوائی جہاز ، سب میرینز ، ٹینکوں اور دیگر فوجی سازو سامان کی تیاری سمیت وسیع تر تعاون کر رہے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیئے امریکہ کا محتاج نہیں رہا اگر پاکستان ابھی تک امریکہ پر دفاعی انحصار کرتا رہتا تو موجودہ حالات میں پاکستان کو ناقابل تسخیر نقصان پہنچنا تھا۔کیونکہ امریکہ نے ہمیشہ اپنا مفاد دیکھا ہے اور اب اسے بھارت کے ساتھ ملنے میں مفاد نظر آ رہا ہے۔پاک چین تعاون کی خبریں امریکہ اور پاکستان کے مابین آہستہ آہستہ خراب ہوتے تعلقات پر حاوی رہتی ہیں۔
    اس مشق کا تازہ ترین ایڈیشن مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ جاری بھارت چین کشیدگی کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جس میں امریکہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔الحمد اللہ اللہ پاک فضائیہ دنیا کی واحد فضائیہ ہے جو دشمنوں پر مکمل فضائی فوقیت رکھتی ہے۔لیکن اب جو کام پاکستان نے کر دیا ہے اس نے پاک فصائیہ کو اپنے دشمن کے مقابلے میں ناقابل تسخیر کر دیا ہے۔

  • افغانستان پھر لہو لہو، بھارت اپنی سازشوں سے باز نہ آیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    افغانستان پھر لہو لہو، بھارت اپنی سازشوں سے باز نہ آیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب سے ہمارے ہمسائے افغانستان میں امن معاہدہ کا اعلان ہوا ہے بہت سے طاقتیں اور قوتیں اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں جن میں بھارت پیش پیش ہے ۔ روز کوئی نہ کوئی دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات سامنے آرہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج بھی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں دارالحکومت کے ڈپٹی گورنر ہلاک ہوگئے ہیں ۔ رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے بم ان کی کار کے ساتھ منسلک کردیا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کابل کے ڈپٹی گورنر محبوب اللہ محبی کے ساتھ ان کے سیکریٹری بھی مارے گئے ہیں ۔ ابھی تک کسی عسکری گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اب جہاں ایک جانب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات کی کوششیں آگے بڑھ رہی ہیں وہیں افغانستان میں مسلسل شورش کے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔میں اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے جلدی جلدی آپکو چند دن پہلے واقعات بتا دیتا ہوں ۔ جیسےابھی گزشتہ ہفتے ہی کابل میں افغان حکومت کے ایک پراسیکیوٹر کو اس وقت گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا جب وہ اپنے کام پر جارہے تھے۔ جبکہ30 نومبر کو افغانستان میں فوجی اڈے پر ہونے والے ایک خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں 30 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے قبل 21 نومبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے گنجان آباد علاقوں پر متعدد راکٹ حملے ہوئے تھے جن میں کم از کم 8
    افراد ہلاک ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ ۔۔۔ داعش ۔۔۔ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    گزشتہ ماہ کے آغاز میں بھی کابل یونیورسٹی میں ایرانی کتب میلے کے افتتاح کے موقع پر بھی دھماکہ ہوا تھا ۔ داعش نے ہی اس دہشت گردی واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جن میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جن میں بیشتر طلبا تھے۔دوسری جانب افغان حکومت نے جنوبی صوبہ قندھار میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مبینہ فضائی حملے میں بچوں سمیت ایک درجن کے قریب شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہیں۔اتوار کے روز طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ۔۔۔ ارغنداب ۔۔۔ میں سرکاری فوج نے فضائی حملے میں کم از کم 13 شہریوں کو ہلاک کردیا تھا جس کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے فوری طور پر انکار کردیا گیا ۔ اور اس کے نتیجے میں اصرار کیا گیا کہ اس علاقے میں جب طالبان نے بم دھماکہ کیا تو سات شہری ہلاک ہوئے۔امریکہ میں مقیم ایک انسٹی ٹیوٹ نے گذشتہ ہفتے انتباہ کیا تھا کہ رواں سال جولائی سے ستمبر تک افغان سرکاری افواج کے فضائی حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے ، ایسے حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اس انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ۔ سن 2019 میں ، فضائی حملوں میں 700 عام شہری ہلاک ہوئے ۔ جبکہ گزشتہ چند ماہ کے واقعات میں یہ تعداد ایک ہزار سے زائد ہوچکی ہے ۔ جب سے امن معاہدہ اعلان ہوا ہے شاید ہی کوئی ہفتہ ہو جب کوئی پرتشدد واقعہ رپورٹ نہ ہوا ہو ۔افغانستان میں گزشتہ چند ماہ میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان 12 ستمبر سے قطر میں جاری امن مذاکرات کے باوجود کابل میں کئی جان لیوا حملے ہوچکے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میں پرتشدد واقعات میں امریکی فوجیوں کے جاری انخلا کے باوجود کمی نہیں آئی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وجہ میں آپکو بتا دیتا ہوں کہ بھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن ہو ۔ سب جاتنے ہیں کہ افغانستان میں داعش کے پیچھے بھارت ہے ۔ مودی ہے ۔۔ را۔۔ ہے ۔ اجیت ڈول ہے ۔ اب تو بین الاقوامی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹس آچکی ہیں جس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بھارت دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ سمیت ٹریننگ بھی مہیا کرتا ہے ۔ پاکستان اس حوالے سے اہم dosierدنیا کے سامنے لا چکا ہے ۔ indian chronicles والے نیٹ ورک بارے بھی بھارت بے نقاب ہوچکا ہے ۔ اس وقت بھی جو افغانستان میں کاروائیاں ہورہی ہیں ۔ وہ بھارت کے ایما پر ہورہی ہیں ۔ وہ چاہے اب افغان حکومت میں ہوں یا افغان آرمی میں یا پھر داعش یا ان جیسے کرائے کے قاتل ۔۔۔ جو بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ اور یہ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ یہ کسی نہ کسی طرح افغانستان کو ایک بار پھر خانہ جنگی میں جھونکنا چاہتے ہیں ۔ اور پاکستان کو افغانستان کے معاملے پر پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں ۔ دراصل عمران خان افغانستان کو انڈیا سے دور لے جا چکے ہیں ۔ جس کی بھارت کو بہت تکلیف ہے ۔ 19 نومبر کو جب عمران خان پہلی بار افغانستان کے دورے پر گئے تو افغان صدر اشرف غنی نے ان کے اس دورے کو تاریخی قرار دیا۔ عمران خان نے اس دورے کے دوران کہا تھا کہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے وہ ہرممکن مدد کریں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر افغانستان کو لگتا ہے کہ ہم کسی بھی محاذ پر امن کی بحالی میں اس کی مدد کر سکتے ہیں تو ہم بلا جھجک پوچھیں گے کیونکہ پاکستان بھی افغانستان میں ہونے والے تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔اور اسی وجہ سے بھارت کو افغانستان میں امن دکھتا ہے ۔ عمران خان کے اس دورے کو افغانستان اور پاکستان کی موجودہ حکومت کے درمیان بڑھتی قربت کے طور پر دیکھا گیا۔ اور یہ سوال کیا جانے لگا کہ عمران خان کی حکومت افغانستان کو انڈیا سے دور رکھنے میں کامیاب ہورہی ہے؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چین نے بھی اس ماہ کے آغاز میں سلامتی کونسل کے اعلی سطح غیر رسمی اجلاس میں کہا تھا کہ بیرونی عناصر اپنے ملکی ایجنڈے کی خاطر افغانستان کے مسئلے کو استعمال نہ کریں۔ چین کا واضح اشارہ بھارت کی جانب تھا ۔ چین نے مزید کہا تھا کہ افغان عوام کی خواہش کا احترام کرنا چاہئے اور یہ یقینی بنانا چاہئے کہ امن عمل افغان زیرقیادت اور افغان ملکیت میں ہو۔ افغانستان کو ایشیا کا دل قرار دیتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ افغان صورتحال کا خطے کے امن و استحکام پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔۔چینی سفیر نے کہا تھا کہ افغانستان کے ایک قریبی پڑوسی کی حیثیت سے ۔ چین کو پوری امید ہے کہ اس میں شامل فریقین امن مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو ختم اور جنگ ختم کرتے ہوئے ایک ایسا موثر سیاسی حل تلاش کر سکتے ہیں جو جلد ازجلد افغانستان میں امن ، استحکام اور ترقی لائے گا۔ابھی کل افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کا اگلا مرحلہ گھر پر ہی ہونا چاہئے۔ جبکہ ان کے ترجمان صدیق صدیقی نے ٹویٹ کیا۔ کہ ۔۔۔ افغان حکومت افغانستان کے اندر کہیں بھی مذاکرات کے لئے تیار ہے ۔۔۔ خیمے کے نیچے یا سردی میں ۔۔۔افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے عہدیداروں نے بھی مذاکرات کو گھر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔اب دونوں فریقوں افغان حکومت اور طالبان نے کہا ہے کہ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات 5 جنوری تک موقوف ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ طالبان اور کابل کی جانب سے دونوں نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے ۔۔۔ بین الاقوامی سطح پر بات چیت کے لئے ایجنڈا آئٹموں کی ابتدائی فہرستوں کا تبادلہ کیا اور ملاقاتوں کے دوبارہ شروع ہونے پر ان کا احاطہ کیا جائے گا۔میں آپکو بتاوں افغانستان میں امن تو آکر رہے گا ۔ تھوڑی مشکلات ہوں گے ۔ کیا پتہ ابھی مزید شدت پسندی کے واقعات بھی ہوں ۔ مگر یہ بات یقینی ہے کہ بھارت کو یہاں ایک بار پھر منہ کی کھانی ہوگی ۔ کیونکہ اب تو طالبان کے ساتھ ساتھ افغان حکومت اور عام افغانی عوام کو بھی معلوم ہوچکا ہے کہ بھارت ان کے ساتھ کیا کررہا ہے اور انکو کس طرح استعمال کر رہا ہے ۔ افغانیوں کو پتہ چل گیا ہے کہ ان کا خیر خواہ کون ہے اور دشمن کون ہے ۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ کریڈٹ میں عمران خان کو دوں گا وہ جہاں بھی گئے اور شروع دن سے انھوں نے افغان مسئلے کا حل مذاکرات بتایا اور جب سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے اس حوالے سے عملی اقدامات کیے ہیں اور پاکستان نے یہ کرکے دیکھا دیا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے اور بھارت خون کا پیاسا اور جارحیت پسند ہے ۔

  • بتا دو ان کو!سینیٹ انتخابات وقت سے پہلے ہونے جارہے ہیں : وزیراعظم عمران خان کے پیغام نے اپوزیشن کی چولیں ہلادیں‌

    بتا دو ان کو!سینیٹ انتخابات وقت سے پہلے ہونے جارہے ہیں : وزیراعظم عمران خان کے پیغام نے اپوزیشن کی چولیں ہلادیں‌

    پشاور:بتا دو ان کو!سینیٹ انتخابات وقت سے پہلے ہونے جارہے ہیں : وزیراعظم عمران خان کے پیغام نے اپوزیشن کی چولیں ہلادیں‌،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کروائیں گے، شو آف ہینڈز کے ذریعے الیکشن کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ آسان ہوتا ہے، ہم نے 20 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالا، ہم شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، وزیراعظم نے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن سے اپوزیشن کو بھاگنے نہیں دیں گے ، اپوزیشن کوڈرہے کہ جو ان کے اراکین ان کوقانونی سازی میں رکاوٹ ڈال کربچانے کی کوشش کررہے ہیں وہ نکل گئے تو پھر کیا ہوگا ، انہوں‌نے ڈائیلاگ کی بات کی تو اپوزیشن نے 34 صفحات کا این آر او مانگ لیا، این آر او کسی صورت نہیں دوں گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے خلاف کیسز ہماری حکومت میں نہیں بنے، اپوزیشن جن کیسز کا سامنا کر رہی وہ ماضی میں قائم ہوئے، ہماری حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، پہلے دن کہا تھا یہ سارے چور ڈاکو اکھٹے ہو جائیں گے،

    وزیراعظم نے صحافیو ں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آج پی ڈی ایم کے نام پر یہ سارے ایک ہو چکے ہیں، یہ کہتے ہیں ہم نے کب این آر او مانگا، انہوں نے نیب ترامیم کے معاملے پر لکھ کر این آر او مانگا، انہوں نے جو ترامیم دیں اس کا مطلب نیب کو دفن کرنے کے مترادف تھا، پوری قوم نے دیکھا جب یہ جلسہ کر رہے تھے تو میں کتنا پریشان تھا۔

  • وزیراعظم عمران خان گئے تواے پی ایس سانحے کے سلسلے میں پشاورمگرسامنا جھگڑے کا ہوگیا

    وزیراعظم عمران خان گئے تواے پی ایس سانحے کے سلسلے میں پشاورمگرسامنا جھگڑے کا ہوگیا

    پشاور:وزیراعظم عمران خان گئے تواے پی ایس سانحے کے سلسلے میں پشاورمگرسامنا جھگڑے کا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم پشاور پہنچے ہیں اوروہاں وہ اے پی ایس سانحے کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا مگرجب وزیراعظم پشاور پہنچے تو ان کا سامنا جھگڑے سے ہوگیا

    اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران کی حیات آباد سپورٹس کمپلیکس آمد سب سے پہلے وزیراعظم کے سامنے آنے والے صوبائی وزیرخزانہ تیمورسلیم جھگڑا تھے جنہوں نے استقبال کیا ، جھگڑے کے ساتھ استقبال کرنے والوں میں وزیرِ اعلی محمود خان، گورنر شاہ فرمان بھی شامل تھے

    تقریب شروع ہونے سے پہلے وزیرِ اعظم اور شرکاء نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی.

    حیات آباد کرکٹ سٹیڈیم کی بین الاقوامی کرکٹ کیلئے اپ گریڈیشن منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا.

    شائقین کیلئے بیٹھنے کی جگہ کو بڑھانے، ڈیجیٹل سکور بورڈ اور جنرل پبلک سٹینڈ کے علاوہ دیگر تمام ضروری توسیعحی کام سے سٹیڈیم میں آئی سی سی کے میچیز منعقد کرائے جا سکیں گے.

    حیات آباد کرکٹ سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن سے پشاور میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ سٹیدیمز کی تعداد دو ہو جائے گی جس سے مقامی نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع اور شائقین کو بین الاقوامی کرکٹ دیکھنا میسر ہوگا.

    اسکے علاوہ وزیرِ اعظم نے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں خواتین کیلئےجدید سہولیات سے آراستہ فٹنس جم، سوئمنگ پول کا بھی افتتاح کیا. وزیرِ عظم کو نہ صرف ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر پر پیش رفت سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا بلکہ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کالام میں کرکٹ سٹیڈیم اور گراسی کرکٹ گراؤنڈ سوات کا بھی سنگِ بنیاد رکھا.

    وزیرِ اعظم کو قومی کھیل ہاکی کی ترقی اور نوجوانوں کو اس میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کیلئے خیبر پختونخواہ کے 5 اضلاع میں ہاکی ٹرفز کی تعمیر پر پیش رفت اور ایٹھلیٹس کیلئے 4 اضلاع میں زیرِ تعمیر ٹارٹن ٹریکس پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئ.

    مزید شکواش کیلئے کئے گئے اقدامات اور ریگی سپورٹس سٹی کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئ.

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر مقامی کھیلوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کھیل جن کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں جانا جاتا ہے انکی ترقی کیلئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں. افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے کھیلوں کی طرف صحیح توجہ نہیں دی گئی. پاکستان دنیا بھر میں نوجوانوں کی آبادی کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے. ہمیں اپنے نوجوانوں کو اپنی توانائیوں کو مثبت سمت میں لگا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کیلئے بہتر اور عالمی معیار کے مطابق کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا ہیں.

  • وزیر اعظم نے سانحہ اے پی ایس پر اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے اہم پیغام دے دیا

    وزیر اعظم نے سانحہ اے پی ایس پر اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے اہم پیغام دے دیا

    وزیر اعظم نے سانحہ اے پی ایس پر اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے اہم پیغام دے دیا

    باغی ٹی وی :وزیراعظم نےسانحہ اے پی ایس کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا اس سانحہ کی وجہ سے دل آج بھی افسردہ، پوری قوم نے متحد ہوکر دہشت گردی کو شکست دی، محدود وسائل کے باوجود پی آئی سی پشاور کی تکمیل قابل تحسین ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے پی آئی سی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں ابھی تک امراض قلب کا کوئی ہسپتال نہیں تھا، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں امراض قلب وارڈ کے نتائج اچھے نہیں تھے، پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بہت ضرورت تھی، ہسپتالوں کی تعمیر میں تاخیر پر لاگت بڑھ جاتی ہے، افغانستان سے بھی مریض پشاور علاج کرانے آئیں گے، ہم نے کورونا کے دوران فنڈز ڈھونڈے اور ہسپتال مکمل کیا گیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا جتنا بھی ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے اس کا آدھا قرضوں کی مد میں چلا جاتا ہے، عوام کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہسپتال ریفارمز کا مقصد کارکردگی بہتر کرنا ہے، ریفارمز سے سرکاری ہسپتال بھی نجی ہسپتالوں کی طرح چلیں گے، سزا اور جزا کا قانون ختم ہونے سے گورنمنٹ ہسپتال نیچے آگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ایلیٹ لوگ یا وزرا علاج کرانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے کی ذمہ داری لی گئی تھی، خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے، ہیلتھ کارڈ سے پرائیویٹ یا گورنمنٹ ہسپتال میں علاج کرایا جاسکے گا، حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ پورے ملک میں ہسپتال بنائیں

    واضح‌رہے کہ 16دسمبر2014 کا سورج معمول کے مطابق طلوع ہوا۔ صبح دس بچ کر چالیس منٹ پر چھ دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کیا۔

    پشاور کی فضا دھماکوں اور گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھی، جدید اسحلے سے لیس امن دشمنوں نے نہتے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنایا۔

    علم کی روشنی پھیلانے والے اساتذہ نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کی فرض شناسی برسوں یاد رکھی جائے گی جو دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    دہشتگردوں نے معصوم بچوں کے خواب توچھین لیے مگر اس سفاکیت سے قوم کا عزم کمزورنہیں ہوا۔

    سانحہ اے پی ایس کے بعد قوم اور سیکیورٹی اداروں نے نئے عزم کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اوران پر پاک دھرتی کی زمین تنگ کر دی۔
    معصوم بچوں پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افواج پاکستان نے اسی وقت آپریشن میں جہنم واصل کردیا اور ان کے سہولت کار بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی 525 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشتگرد پاک فوج کو آپریشن ضرب عضب اور خیبرون سے روکنا چاہتے تھے