Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پی ڈی ایم کا پشاور میں جلسہ ، سٹیج سجا لیا، حالات گرما گرم

    پی ڈی ایم کا پشاور میں جلسہ ، سٹیج سجا لیا، حالات گرما گرم

    باغی ٹی وی : پشاور میں‌سیاسی گرما گرم نے ٹھنڈ کو شکست دے دی ، پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ آج سیاسی قوت کا مظاہرہ کرے گی ، رنگ روڈ کبوتر چوک میں جلسہ کی تیاریاں مکمل ہیں، جلسہ گاہ کے قریب تجارتی مراکز اور روڈ بندکر دیئے گئے۔

    جلسہ میں ڈی جے بٹ کارکنوں کا لہو گرمائیں گے ،4 ہزارسے زائد پولیس افسران واہلکارامن وامان کی ڈیوٹی سرانجام دینگے۔ اپوزیشن رہنماوں کیلئے 8 فٹ اونچا ،32 فٹ چوڑا اور120 فٹ لمبا اسٹیج تیار کیا گیا ہے۔ ٹریفک کے نظام کو کنٹرول کرنےکے لیے ایک ہزار ٹریفک اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔جلسہ گاہ کے اطراف میں موبائل سروس جزوی بند کر دی گئی۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ عوامی تحفظ کے معاملے پر غیر ذمہ دارانہ سیاست کی جا رہی ہے، اپوزیشن ایسے وقت جلسے کرنے پر بضد ہے جب کورونا پھیل رہا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ پی ڈی ایم ارکان سخت لاک ڈاؤن چاہتے تھے اور تنقید کرتے تھے، اب یہ لوگ عدالتی احکامات کی خلاف وزری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا جب کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے یہ لوگ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور جلسہ منعقد کر رہے ہیں۔

    حکومتی موقف پر رد عمل دیتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ مولانافضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ جعلی حکمران جو مرضی کرلیں پشاور میں جلسہ ضرور ہوگا، ووٹ چوری کرنے والوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں تاریخی جلسہ ہوگا جسے دیکھ کر حکومت کے ہوش اڑیں گے

  • کورونا بے قابو ہو گیا ، مزید 59 افراد جان کی بازی ہار گئے

    کورونا بے قابو ہو گیا ، مزید 59 افراد جان کی بازی ہار گئے

    کورونا بے قابو ہو گیا ، مزید 59 افراد جان کی بازی ہار گئے

    باغی ٹی وی :کورونا سے مزید 59 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، اب تک اموات کی مجموعی تعداد 7 ہزار 662 تک پہنچ گئی۔ 2 ہزار 665 نئے مریض بھی سامنے آ گئے۔

    این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں 3 لاکھ 74 ہزار 173 شہری کورونا وبا سے متاثر ہو چکے ہیں، ایکٹو کیسز کی تعداد 36 ہزار 683 تک پہنچ گئی جن میں سے 1653 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

    ملک بھر میں تاحال 51 لاکھ 80 ہزار 26 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں، کورونا مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ سندھ میں ہے جہاں ایک لاکھ 62 ہزار 227 افراد وبا کا شکار ہوئے ہیں جبکہ پنجاب میں ایک لاکھ 14 ہزار 10، خیبرپختونخوا 44 ہزار 97، بلوچستان میں 16744 جبکہ گلگت بلستستان میں 4 ہزار 526 افراد مرض میں مبتلا ہیں۔

    آزاد جموں کشمیر میں متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہزار اور اسلام آباد میں 26 ہزار 569 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں.سلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد26 ہزار569، خیبرپختونخوا44 ہزار97، سندھ ایک لاکھ 62 ہزار227، پنجاب ایک لاکھ 14 ہزار10، بلوچستان 16 ہزار744، آزاد کشمیرمیں6ہزاراور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 526 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 2 ہزار848افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 2 ہزار816، خیبر پختونخوا ایک ہزار325، اسلام آباد278، گلگت بلتستان94، بلوچستان میں 161 اور آزاد کشمیر میں140 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہرشروع ہو چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سےعمل کرنا ہو گا۔این سی او سی کے مطابق ملک کے 15 شہروں میں کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے۔

    صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس میں ایس او پیز اور ماسک کو لازم قرار دیں

  • اپوزیشن والو ! حکومت سے دشمنی کروعوام سے نہ کرو،اس قوم پررحم کرو،کچھ توخوف خدا کرو:ڈاکٹربھی میدان میں آگئے

    اپوزیشن والو ! حکومت سے دشمنی کروعوام سے نہ کرو،اس قوم پررحم کرو،کچھ توخوف خدا کرو:ڈاکٹربھی میدان میں آگئے

    لاہور: اپوزیشن والو ! حکومت سے دشمنی کروعوام سے نہ کرو،تم توکسی سے ہاتھ نہیں ملاتے:ڈاکٹربھی میدان میں آگئے،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کے کردار سےتنگ آکرڈاکٹرز آف پاکستان بھی میدان میں آگئے ،

    ڈاکٹروں نے پی ڈی ایم سے ہاتھ جوڑ کردرخواست کرتےہیں کہ تم حکومت سے دشمنی ضرور کرو خدارا عوام سے دشمنی نہ کریں ، اس وقت ملک میں کرونا وائرس پھر سے تیزی کے ساتھ حملے کررہاہے ، جتنی زیادہ احتیاط اپنائٰیں اتنی زیادہ بچت ہوگی

    انہیں خطرات کے پیشن نظر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم سمیت سینئر ڈاکٹرز نے کرونا کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر سیاستدانوں سے جلسے جلوس نہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اکرم نے سیاستدانوں اور عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خدارا کرونا کو سنجیدہ لیں کیونکہ اس کی دوسری لہر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے‘۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’کھلے فضا یا بند مقامات دونوں مقامات پر جمع ہونے کی صورت میں وبا پھیلتی ہے، کرونا کی ویکسین اب تک نہیں آئی بس ایک ہی حل احتیاط ہے، آئیں مل کر اس واحد حل پر عمل کرتے ہیں‘۔

    ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ’کرونا وبا دوسری لہر میں تیزی سے پھیل رہی ہے، اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو بہت نقصان ہوگا، ہمارے اسپتالوں کا نظام بھی بیٹھ سکتا ہے‘۔

    جناح اسپتال کی ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر اور ایم ایس ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ ’بے احتیاطی اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے پہلے کی نسبت کرونا کے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں‘۔

    دونوں ڈاکٹرز نے سیاستدانوں سے مطالبہ کیا کہ خدارا! کرونا کی موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سیاسی جلسے اور جلوس ملتوی کردیں۔

    ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ آپ توشوق پوراکرلیں گے تباہی توغریبوں کی ہونی ہے جن کے پاس وسائل نہیں ،

    ڈاکٹرزآف پاکستان نے اپوزیشن آف پاکستان سے کہا ہے کہ اپنی قوم پرترس کھائین خود بھی احتیاط برتیں اوردوسروں کوبھی احتیاط برتنے کا سبق دیں ، ڈاکٹرز آف پاکستان نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ہےکہ اپوزیشن والو ! حکومت سے دشمنی کروعوام سے نہ کرو،اس قوم پررحم کرو،کچھ توخوف خدا کرو

    دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 2843 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 42 مریضوں کی اموات ہوئیں۔

  • کرونا وائرس نے تباہی پھیلا دی ملکراس سے نمٹیں گے،اس اتحاد نے اپنی صلاحیتوں کا پہلے بھی لوہا منوایا: شاہ سلمان

    کرونا وائرس نے تباہی پھیلا دی ملکراس سے نمٹیں گے،اس اتحاد نے اپنی صلاحیتوں کا پہلے بھی لوہا منوایا: شاہ سلمان

    ریاض : کرونا وائرس نے تباہی پھیلا دی ملکراس سے نمٹیں گے،اس اتحاد نے اپنی صلاحیتوں کا پہلے بھی لوہا منوایا: اطلاعات کے مطابق آج سعودی عرب میں ہونے والے جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ بیس بڑی عالمی معیشتوں پر مشتمل گروپ 20 نے دنیا میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وَبا کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے کوششوں کے ضمن میں اپنی مضبوطی اور اہلیت ثابت کردی ہے۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سنیچر کو ریاض میں جی ٹوئنٹی ورچوئل سربراہ کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ سال غیر معمولی تھا۔ کورونا وبا نے بڑا دھچکا پہنچایا اور پوری دنیا کو اقتصادی اور سماجی نقصانات سے دوچار کیا۔‘

     

     

     

    شاہ سلمان نے مزید کہا کہ ’ہمارے عوام اور معیشتیں کورونا وبا کے جھٹکے برداشت کر رہی ہیں۔ کورونا بحران کو سر کرنے کے لیے عالمی تعاون کے ذریعے کوشاں ہیں

    انھوں نے یہ بات ہفتے کے روز جی 20 کے سربراہ اجلاس کے آغاز سے چندے قبل ایک ٹویٹ میں کہی ہے۔وہ الریاض سے اس گروپ کے ورچوئل سربراہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔انھوں نے کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے تمام ملکوں کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زوردیا ہے اور اب تک گروپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔

    شاہ سلمان نے کہا کہ ’’ ہماری ذمہ داری یہ رہی ہے اور رہے گی کہ ہم تمام لوگوں کے لیے ایک بہتر ، صحت مند اور خوش حال مستقبل کی جانب آگے بڑھیں۔‘‘

     

     

    ماضی میں گروپ بیس کے سربراہ اجلاس بالمشافہ منعقد ہوتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے آن لائن اجلا س ہورہا ہے اور اس میں دنیا کو درپیش ماحولیاتی مسائل اور بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات سمیت مختلف مسائل پر غور کیا جارہا ہے لیکن کرونا کی وبا ،اس کے عالمی معیشت پر اثرات اوراس کی بحالی کے لیے اقدامات کانفرنس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہیں۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب جی 20 سربراہ اجلاس کی میزبانی کرنے والا پہلا عرب ملک ہے۔اس نے اس گروپ کے صدر ملک کی حیثیت سے موجودہ نامساعد حالات کے باوجود اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا سکہ منوایا ہے۔

    جی ٹوئنٹی کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟
    آج سے ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں صنعتی طور پر ترقی یافتہ دنیا کے بیس ممالک کے سربراہ مملکت و حکومت تیرہویں مرتبہ اکھٹے ہو رہے ہیں۔ جی ٹوئنٹی گروپ ہے کیا اور ان کا سالانہ اجلاس کتنا اہم ہے؟

     

    جی ٹوئنٹی ہے کیا؟

    بیس کے گروپ کو عام طور پر جی ٹوئنٹی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس میں یورپی یونین سمیت انیس ممالک شامل ہیں۔ اس گروپ کا اجلاس سالانہ بنیادوں پر ہوتا ہے، جس میں سربراہ حکومت و ممالک کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک کے سربراہان بھی شرکت کرتے ہیں۔ اس دوران دنیا بھر میں مالیاتی استحکام اور اقتصادی امور جیسے موضوعات پر بات چیت ہوتی ہے۔

    جی ٹوئنٹی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کو ایک سیاسی بیان کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس پر عمل کرنا لازمی نہیں ہوتا

    ۔

    جی ٹوئنٹی میں یورپی یونین، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، برطانیہ، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ترکی اور امریکا شامل ہیں۔ جی ٹوئنٹی ممالک مشترکہ طور پر عالمی اقتصادی پیداوار کے تقریباً 85 فیصد جب کہ اسی فیصد عالمی تجارت کے ذمے دار ہیں۔ دنیا کی دو تہائی آبادی ان ممالک میں آباد ہے۔

    اس گروپ کے وزرائے خارجہ اور وزرائے مالیات کے اجلاس بھی ہوتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں یورپی یونین کی نمائندگی یورپی کمیشن اور یورپی سینٹرل بینک کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جی ٹوئنٹی اپنے اجلاسوں میں کچھ مستقل مہمان ممالک کو بھی مدعو کرتا ہے، جس میں افریقی یونین، ایشیا پیسیفک کوآپریشن، عالمی مالیاتی فنڈ، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ تجارت اور اسپین شامل ہیں۔

    جی ٹوئنٹی کی تاریخ

    جون 1999ء میں جرمن شہر کولون میں جی آٹھ (بعد میں جی سیون) کا اجلاس ہوا، جس میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، امریکا، برطانیہ اور روس شامل تھے۔ روس کی رکنیت 2014ء میں منسوخ کر دی گئی تھی۔ 1997ء میں ایشیا کے مالیاتی بحران سے سبق سیکھتے ہوئے جی آٹھ کے ارکان نے اس گروپ میں توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے اسی جی ٹوئنٹی بنا دیا۔ جی ٹوئنٹی کی پہلی باقاعدہ میٹنگ دسمبر 1999ء میں برلن میں ہوئی تھی۔

  • ہمارا اور خطے کا مستقبل سی پیک سے جڑا ہوا ہے۔ وزیرخارجہ

    ہمارا اور خطے کا مستقبل سی پیک سے جڑا ہوا ہے۔ وزیرخارجہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پچھلے دنوں انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک ڈوزئیر پیش کیا تھا جس میں انہوں نے شواہد کے ساتھ واضح کیا تھا کہ کس طرح ہندوستان پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور سی پیک کے تحت منصوبوں کو نشانہ بنانے کے درپے ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ہندوستان نے اس مقصد کیلئے ایک سیل بنایا ہے جس کے لیے 80 ارب کے لگ بھگ رقم مختص کی گئی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا اور اس خطے کا مستقبل سی پیک سے جڑا ہوا ہے اس کی ہر ممکن حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ہم پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین بھی اس اقتصادی راہداری کی اہمیت کو سمجھتا ہے اس لیے انہوں نے سی پیک کی سیکورٹی کے حوالے سے واضح پیغام دیا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ ملکر سی پیک کی حفاظت کریں گے اور ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ڈوزئیر میں ظاہر کیے گئے خدشات کو ہم اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت تمام اہم عالمی فورمز پر اٹھائیں گے جب کہ سی پیک کےخلاف سازش کرنےپر بھارت کوناکامی ہوگی۔ شاہ محمودقریشی نے واضح کیا کہ بھارتی ہتھکنڈوں پرپاکستان خاموش نہیں رہےگا۔ بھارت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اس کو ہر محاٖذ پر ناکامی ہوگی۔

  • خادم حسین رضوی کے بعد تحریک لبیک اپنا مقام برقراررکھ سکے گی؟ نئےسربراہ سعد حسین رضوی کن خوبیوں کے مالک ہیں

    خادم حسین رضوی کے بعد تحریک لبیک اپنا مقام برقراررکھ سکے گی؟ نئےسربراہ سعد حسین رضوی کن خوبیوں کے مالک ہیں

    لاہور:تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد حسین رضوی اپنے باپ کے نقش قدم پرچلیں گے یا پھراپنا سکّہ چلائیں گے،اہم رپورٹ ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے سابق سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد اب ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا ، تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد حسین رضوی اپنے باپ کے نقش قدم پرچلیں گے یا پھر باقی مذہبی جماعتوں‌کی طرح چلائیں‌ گے یا پھراپنا سکّہ چلائیں گے

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بحث بھی زورپکڑ رہی ہے کہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد کیا یہ جماعت اپنا وقاراورمعیار اسی طرح برقرار رکھ پائے پائے گی یہ پھر یہ جماعت ایک علامتی جماعت بن کر رہ جائے گی ، اس جماعت کا مستقبل کیا ہوگا اس کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی

    اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ تحریک لبیک کے مرحوم سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی کم و بیش چار سالہ سیاسی زندگی نے ریاست پاکستان پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ اب ان کی وفات کے بعد یہ سوال فطری طور پر جنم لے رہا ہے کہ ان کی جماعت کا مستقبل کیا ہوگا؟

    کیا یہ جماعت ایسے ہی پاکستان بھر میں بالعموم اور پنجاب میں باالخصوص شدت پسندانہ رجحان والے مذہبی نظریات کو فروغ دے کر ملکی معاشرت و سیاست پر اثرانداز ہوگی یا پھر ماضی کی ان مذہبی سیاسی جماعتوں کی فہرست میں شامل ہو گی جو اپنے قائدین کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد ماضی کا قصہ بن کر رہ گئیں۔

    ویسے تو آج لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کے عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنے والد کے نظریات سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے

    آج علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد تحریک لبیک کی اٹھارہ رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا۔ان کے سربراہ کے طوراعلان کے بعد دنیا اس وقت مختلف قیاس آرائیوں کی لپیٹ میں ہے ، بعض کا کہنا ہے کہ سعد رضوی علامہ خادم حسین کے فرزند ارجمند ہیں‌لیکن وہ ریاست کی رٹ کوچیلنج کرنے میں‌ شاید وہ عجلت نہ دکھائیں جوعلامہ خادم حسین رضوی دکھاتے رہے

    تحریک لبیک کے نئے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے فرزند ارجمند سعد حسین رضوی لاہور میں اپنے والد محترم کے مدرسہ جامعہ ابوزرغفاری میں درس نظامی کے آخری سال کے طالبعلم ہیں۔ وہ طالب علم تو ضرور ہیں لیکن وہ اس مدرسے کے مہتمم بھی ہیں‌ اوربہت کامیاب مہتمم کے طورپرجانے جاتے ہیں‌، اپنے والد محترم کی موجودگی اورغیرموجودگی میں مدرسے کے سارے انتظامات خود سرانجام دینے کے ماہر بھی تھے اورعادی بھی

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ سعد حسین رضوی ہی تھے جواپنے والد محترم کی رہنمائی کرتے تھے ان کے سکرپٹ رائٹربھی سعد رضوی ہی تھے ،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مولانا خادم حسین رضوی اپنے فرزند ارجمند سے بہت زیادہ مشاورت بھی کیا کرتے تھے ۔

    علامہ خادم حسین رضوی نے پچھلے تین چار سال سے اپنے اس بیٹے کو قیادت کے لیے تیارکرنا شروع کردیا تھا ، یہی وجہ ہےکہ تحریک کے تمام فیصلوں میں سعد رضوی کی مشاورت اور پھررضامندی کو سعادت سمجھا جاتا تھا،

    سعد حسین رضوی پچھلے تین چار سال سے سے عملی طور پر تحریک لبیک کے تنظیمی امور چلا رہے تھے اس لیے ان کے لیے اس جماعت کو چلانا کوئی نئی بات نہیں ہوگی کیونکہ وہ اکثر معاملات کو پہلے سے خود جانتے اور نگرانی کرتے رہے ہیں۔

    سعد‌ حسین رضوی تعلقات عامہ کے بڑے ماہر جانے جاتے ہیں ان کے علمی طبقے کے بہت سے لوگوں سے مضبوط رابطے تھے اورہیں ، یہ بھی بات کھل کرسامنے آئی ہے کہ ان کی سوشل نیٹ ورکنگ بہت کامیاب ہے ،

    اپنے والد محترم کی طرح وہ شاعری سے خصوصی شغف رکھتے اور سب سے اہم یہ کہ وہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے بھی خوب واقف ہیں اور فیس بک اور ٹویٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔

    علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پران کے مخالفین بھی غمگین ہوئے ہیں اکثرکا کہنا ہےکہ ہمیں ان کے جارحانہ انداز سے اتفاق نہیں تھا لیکن ان کے مشن سے اختلاف بھی نہیں تھا ، ان حالات کی موجودگی میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سعد رضوی کی دیگرجماعتوں میں عزت ان کے باپ کے مشن کی وجہ سے کی جائے گی

    پاکستانی سیاست ، مذہبی جماعتوں کا یہ المیہ رہاہےکہ وہ اپنے قائد کے جانے کے بعد پٹڑی سے اترجاتے ہیں لیکن اس جماعت میں اس چیز کا امکان کم ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایک ہی نظریہ ہے اوروہ نظریہ ایک مسلمان کا عقیدہ اورایمان ہے کہ حرمت رسول پرجان بھی قربان ہے ، اس نظریے کواس جماعت نے اگرتھامے رکھا تو اس جماعت کے سفراورمعاشرے پراثرات میں کوئی کمی نہیں آئے گی

    یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستانی سیاست میں پیدا ہونے والے اس خلا کو بعض مبصرین کے مطابق سنی بریلوی عقیدہ کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے بہت تیزی سے پر کیا تھا۔ جس کی قیادت اب عملی طور پر نوجوان سعد رضوی کے ہاتھ میں آگئی ہے۔

    اس جماعت کی مقبولیت کا اندازہ پہلے بھی ہرکوئی کرچکا اب بھی علامہ خادم رضوی کا جنازہ بتارہا ہے کہ یہ جماعت مستقبل میں اپنی سٹریٹ پاور کے ساتھ پاکستان کے فیصلہ سازوں پر اثرانداز ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔

    یہ وہ واحد جماعت جس نے پاکستان کی ’سنی العقیدہ جماعتوں کے خلا کو پر کیا ہے جو ریاست نے دوسری تنظیموں سے دوری اختیار کر کے پیدا کیا تھا۔‘

    اس دوران یہ جماعت عملی طور پر پاکستان کی اکثر مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے سربراہ یعنی علامہ خادم رضوی کے گرد ہی گھومتی رہی۔جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرانسان کا اپنا مقدر ہوتا ہے جواندازبیان ، جرات ، بہادری اوروفا علامہ خادم حسین رضوی کے حصے میں وہ شاید اب بعد میں آنے والے کے مقدر میں نہ ہو

    تحریک کی طرف سے خادم رضوی کے بیٹے سعد رضوی کو جماعت کا نیا سربراہ مقرر کرنا جماعت کے ووٹ بینک اور چاہنے والوں کو یکجا رکھنے کی کوشش نظر آرہی ہے۔ کسی اور کی جانشینی کی صورت میں جماعت کے اندر مختلف گروہ بن سکتے تھے مگر خادم رضوی کے بیٹے کا نام سامنے آنے سے جماعت کو گروہوں میں تقسیم ہونے سے بظاہر بچالیا گیا ہے۔

    سعد رضوی کی تعیناتی کے بعد تحریک لبیک میں موروثیت کا قیام اپنی جگہ لیکن اصل سوال اس جماعت کے پلیٹ فارم سے شدت پسندی کا مبینہ فروغ ہے جو جماعت کا نیا قائد آنے کے بعد فی الحال نئی اور شاید توانا شکل ضرور اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    علامہ خادم رضوی کے حکومت کے ساتھ معاہدہ بھی سعد رضوی کوایک ہیروبھی بناسکتا ہے اورزیربھی لیکن یہ فی الحال ابتدائی تصورات ہیں‌ اس بات کا آگے چل کرپتہ چلے گا کہ سعد کس خوبی کے مالک ہیں‌

    لیکن ایک بات جوسامنے آئی ہے وہ کافی قابل غور ہے ، وہ یہ ہے کہ اس ملک میں جس طرح خانقاہوں میں گدی نشینی بھی نسل درنسل باپ سے بیٹے کومنتقل ہوتی رہی ہے ، ایسے ہی سیاسی جماعتوں کا المیہ ہیے ، باپ کے بعد بیٹا وارث بن جاتاہے ، آج یہی صورت حال تحریک لبیک میں دیکھی گئی کہ علامہ خادم حسین رضوی کے بعد ان کے بیٹے کوقیادت سونپ دی گئی ، اس سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہےکہ کیا اٹھارہ رکنی کمیٹی میں بڑے بڑے علما ، قابل اورفہم وفراست کا مالک کوئی بھی شخص نہیں تھا جسے یہ ذمہ داری اداکرنے کا کہا جاتا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سعد ملک میں‌ مذہبی شدت پسندی کے خلاف ہیں لیکن اصل امتحان تب ہوگا جب 18 رکنی کمیٹی کواپنے پیچھے پیچھے چلانے میں کامیاب ہوں گے ، یہی 18 رکنی کمیٹی ہی سعد کے عروج اورزوال کا سبب بنے گی

    تحریک لبیک پاکستان تحفظ ناموس کے نام پر سیاست تو کررہی تھی اور سندھ اسمبلی میں اس کے دو براہ راست طور پر منتخب اور ایک مخصوص نشست پر اراکین صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے جو نہ تو حکومت کا حصہ تھے اور نہ اپوزیشن کے کسی اتحاد کا حصہ۔

    عملی طور پر تحریک لبیک پاکستان کو صرف بڑی سیاسی جماعت جمعیت العلمائے پاکستان سے ہی نہیں بلکہ سنی العقیدہ دیگر جماعتوں سے بھی خطرہ ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی شخصیت نے ان جماعتوں کی چودھراہٹ کا ستیا ناس کردیا ، یہ جماعتیں اسی وجہ سے خادم حسین رضوی کے خلاف ایک سوچ رکھتی ہیں‌،

    ان میں سب سے اہم ڈاکٹر آصف جلالی کی جماعت تحریک لبیک ہے جسکا مرکز بھی لاہور اور گرد ونواح کے علاقے ہیں۔ یہ ڈاکٹر آصف جلالی وہی ہیں جو کسی زمانے میں علامہ خادم رضوی کے ہمراہ تحریک لبیک پاکستان کے قائدین میں شامل تھے۔ مگر بعض تنظیمی امور پر اختلافات کے باعث دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔

    علامہ خادم رضوی کی جماعت کے پیروکارخطاب کے دوران مرحوم کی سخت اور بعض اوقات قابل اعتراض زبان کے بھی دلدادہ تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا والد کی طرح بیٹا بھی اپنی جماعت کے پیروکاروں میں اضافے کے لیے والد کی طرح طرز خطاب اپناتے ہیں یا وہ اس میں کوئی میانہ روی متعارف کرواتے ہیں؟

    ان حالات میں جبکہ ایک طرف حرمت رسول کی وجہ سے تحریک لبیک نے اپنا منہج دنیا کے سامنے رکھا ، ان کے ملکی سیاست میں اندازسے حکومت ، اداروں اوردیگراہم شخصیات کواختلاف ضرور تھا لیکن ان کے مشن سے کوئی اختلاف کا سوچ بھی نہیں سکتا ان کی وفات پرجس طرح ملک کی مقتدرشخصیات ،مذہبی رہنماوں نے ان کی وفات پرگہرے دکھ کا اظہارکیا یہی ان کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

    بشکریہ :بی بی سی

  • فرانس سے مسلمانوں کی نفرت کھل کر سامنے آ گئی،کالا قانون دیکھ کر مودی بھی شرما جائے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    فرانس سے مسلمانوں کی نفرت کھل کر سامنے آ گئی،کالا قانون دیکھ کر مودی بھی شرما جائے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    فرانس سے مسلمانوں کی نفرت کھل کر سامنے آ گئی،کالا قانون دیکھ کر مودی بھی شرما جائے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ آخر کار فرانس کے صدر کی مسلمانوں سے نفرت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ان کی طرف سے مسلمان رہنماؤں کو charter of republican values کو قبول کرنے کے لیے 15 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے اور ساتھ ہی اس charter سے متعلق نکات کو French council of Muslim Faith کے سامنے بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نکات یہ ہیں کہ:اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے بجائے صرف مذہب سمجھاجائےگا اور مقامی مسلمان گروپوں میں بیرونی مداخلت بھی ممنوع ہوگی۔ مساجد میں اماموں کا تقرر سرکاری طور پر ہوگا اور انہیں کونسل کی جانب سے معزول بھی کیا جا سکے گا۔فرانس میں گھریلو تعلیم پر پابندی ہوگی اور مذہبی بنیادوں پر کسی سرکاری اہلکار کو دھمکانے پر بھی سخت سزا ہوگی۔نئے قانون کے مطابق تمام خاندانوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول لازمی بھیجیں، بچوں کو ایک شناختی نمبر الاٹ کیا جائے گا جس کی مدد سے ان کی اسکول میں حاضری مانیٹر کی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں والدین کو قید سمیت بھاری جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اس شخص تک پہنچانے پر پابندی ہوگی جو اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہو۔ قانون سازی کا یہ بل 9 دسمبر کو فرنچ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جائیگا۔ لیکن مسلمان رہنماؤں پر یہ دباو ڈالا جا رہا ہے کہ ان کو یہ قانون ماننا پڑے گا تاکہ ملک میں کسی قسم کا انتشار نہ پھیلے ۔ اور بات یہیں نہیں رکتی بلکہ ایک اور قانون بھی فرانس میں لاگو کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جس کے بعد فرانس میں مظاہرے بھی شروع ہو چکے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور وہ قانون یہ ہے کہ ملک بھر میں کہیں بھی اور کسی بھی قسم کے حوالے سےفرانس پولیس کے خاکے شائع کرنا قابل جرم قرار دے دیا جائے گا۔ نہ تو کسی اخبار،نہ ٹیلی ویژن چینل اور نہ ہی دیواروں پر اشتہار لگا کر فرانس پولیس کا کسی قسم کا مذاق اڑایا جائے گااور نہ ہی انہیں تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی تصویر شائع کی جائے گی۔ پولیس آفسران کی تصویر یا ویڈیو بنانا بھی قانون کی خلاف ورزی consider ہو گی۔ اس دونوں قوانین کی ابھی تجویز آئی ہے مگر لاگو نہیں کئے گئے لیکن اس سے پہلے ہی فرانس کی عوام ان قوانین کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے ہیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے اور علی الاعلان کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کے کسی کالے قانون کو لاگو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مطلب فرانس میں پولیس والوں کی ویڈیوز یا تصاویر بنا کر تضحیک کرنا تو غلط ہے اس پر تو قانون بن سکتا ہے لیکن مسلمانوں کے بارے میں یہ قانون بنانے کی بات نہیں کی گئی کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی نہ کی جائے ان کے گستاخانہ خاکوں پر پابندی نہیں لگائی جا رہی۔ دوسرا یہ کہ اس charter of republican values کے ذریعے یہ ہماری مذہبی تعلیمات کے تبلیغ پر بھی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کہ امام بھی فرانسیسی حکومت کی مرضی سے لگایا جائے۔ جو حکومت کی مرضی سے کام کرے گا ورنہ اس کو ہٹا دیا جائے گا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر لوگوں پر یہ بھی پابندی ہو گی کہ وہ اپنے بچوں کو گھر میں کوئی تعلیمات دے سکیں۔ اور ہر بچہ سکول جائے گا تاکہ حکومت اپنی مرضی سے ان کی Brain washing کر سکے۔ اور ماں باپ ان کی گھر پر اصلاح بھی نہ کر سکیں۔ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں وہی سکیھیں اور مذہب کو ویسے ہی سمجھیں جیسے وہاں کی غیر مسلم حکومت چاہتی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ قانون برداشت کرنا آسان نہیں ہے۔ ایک اہم نقطہ اور بھی ہے جس بنیاد پر ان قوانین کو بالکل بھی ignore نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر فرانس میں یہ مثال قائم کر دی جاتی ہے تو ایک تو فرانس میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ یہ ظلم ہو گا اور دوسرا یہ کہ پھر باقی ممالک میں بھی اسی طرح کے قوانین بنائے جائیں گے خاص کر کہ بھارت۔۔ مودی سرکار جس طرح سے فرانس کے صدر Emmanuel Macron کی حمایت کر رہی تھی اس کے پیچھے بھی یہی عزائم ہی تھے۔ جبکہ 20 کروڑ مسلمان پہلے ہی بھارت میں نسل کشی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور یہ نسل کشی بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ہو رہی ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں پہلے ہی مسلمانوں کو مظالم کا سامنا ہے اس لئے اگر مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے خلاف بننے والے ان قوانین کو نہ روکا گیا تو معاملات بہت زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

  • تحریک لبیک کے نومتنخب امیر،خادم رضوی کے بیٹے کا کارکنان کے نام اہم پیغام آ‌گیا

    تحریک لبیک کے نومتنخب امیر،خادم رضوی کے بیٹے کا کارکنان کے نام اہم پیغام آ‌گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ مینار پاکستان ادا کی گئی.

    تحریک لبیک پاکستان پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ونشریات مولانا محمد عبداللطیف قادری کے مطابق نماز جنازہ کی امامت انکے بیٹے مولانا صاحبزادہ حافظ محمد سعد حسین رضوی نے کروائی.

    نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک کے نومنتخب سربراہ مولانا صاحبزادہ حافظ محمد سعد حسین رضوی کا کہنا تھا کہ ہمارے قائد دنیا فانی سے رحلت فرماگے لیکن انکا مشین ہرصورت جاری رہے گا

    مولانا صاحبزادہ حافظ محمد سعد حسین رضوی نے کارکنان سے حلف لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے قائد سے عہد وفاکرتے ہوئے اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ حرمت ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور پاکستان کی تعمیرو ترقی اور نظام مصطفی کے نفاذ کیلئے ہمیشہ جہدوجہد جاری رکھیں گے ، اسلام کیخلاف طاغوتی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہمیشہ اپنا کردار ادا کر تے رہیں گے

    اس موقع پر تحریک لبیک پاکستان پنجاب کے امیر علامہ پیر سید عنایت الحق شاہ سلطانپوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی فرمایا کر تے تھے کہ ہم جنا کہ کام کرتے ہیں وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑتے قوم نے یہ منظر لیاقت باغ تافیض آباد بھی دیکھا اور آج نماز جنازہ میں ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں نے شرکت کرکے ثابت کردیا کہ جو ناموس رسالت کیلئے کام کرے اللہ تعالی اسے دنیا اور آخرت میں سرخرو فرماتاہے .

    تحریک لبیک پاکستان کے نائب امیر علامہ پیر سید ظہیر الحسن شاہ نے اعلان کیا کہ مرکزی مجلس شوری کے فیصلے کے مطابق علامہ خادم حسین رضوی کے بیٹے مولانا صاحبزادہ حافظ محمد سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک پاکستان کا مرکزی امیر مقرر کیا گیا ہے اور انہوں نےکہا کہ ہم خون کے آخری قطرہ تک عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ اسلام کی بالادستی کیلئے مولانا صاحبزادہ حافظ محمد سعد حسین رضوی کے ساتھ ہیں.

    اس موقع پر تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ پیر قاضی محمود احمد قادری اعوانی شیخ الحدیث علامہ پیر سید ضیاء الحق شاہ سلطان پوری ڈاکٹر محمد شفیق آمینی غلام غوث بغدادی علامہ مفتی غلام عباس فیضی ایم پی اے مولانا مفتی محمد قاسم فخری ممتاز حسین قادری کے والد گرامی ملک محمد بشیر اعوان مفتی اعظم پاکستان رویت ہلال کمیٹی چیئرمین علامہ مفتی منیب الرحمن مولانا محمد عبدالستار سعیدی تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا صاحبزادہ عبدالمصطفی ہزاروی پیر محمد افضل قادری سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری علامہ ثاقب رضا مصطفائی پیراجمل رضا علامہ صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ سلطان پوری علام سید عرفان شاہ مشہدی مولانا ڈکٹر راغب حسین نعیمی پیر میاں محمد حنفی سیفی دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری کے بیٹے مولانا صاحبزادہ بلال قادری مولانا صاحبزادہ احسان الحق شاہ سلطان پوری جماعت اہلسنت کےپیر عبدالخالق سنی تحریک کے مولانا صاحبزادہ بلال سلیم قادری جماعت اسلامی کےلیاقت بلوچ مفتی قاضی محمد سعید الرحمن قادری مولانا حنیف قریشی مولانا غفران محمود سیالوی صاحبزادہ خالد محمود ضیاء پیر محمد قاسم سیفی ملک بھر سے ہزاروں علماء ومشائخ وکلاء ڈاکٹرز تاجر برادری صحافی برادری اور تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کے آراکین نے شرکت کی.

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

    فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

    علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    علامہ خادم رضوی کا دو روز قبل انتقال ہوا تھا، انہیں شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تا ہم ڈاکٹرز نے انکی موت کی تصدیق کی، جس کے بعد انکے ورثا نے نماز جنازہ کا اعلان کیا تھا

    علامہ خادم رضوی کی وفات پر آرمی چیف، وزیراعظم سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان نے اظہار تعزیت کیا تھا

    علامہ خادم رضوی کے نماز جنازہ کا وقت دس بجے مقرر کیا گیا تھا تا ہم جسد خاکی مینار پاکستان گراؤنڈ میں لیٹ پہنچنے کی وجہ سے نماز جنازہ کی لیٹ ادائیگی ہوئی.

  • بچوں اورخواتین سے زیادتی کے مجرمان کو سخت سزائیں دینے کے لئے وزیراعظم کا بڑا حکم

    بچوں اورخواتین سے زیادتی کے مجرمان کو سخت سزائیں دینے کے لئے وزیراعظم کا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیاہے،

    فیصلہ وزیراعظم کی زیرصدارت قانونی ٹیم کے اجلاس میں کیا گیا،مجرموں کو سخت سزائیں دینے کا آرڈیننس آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش ہونے کا امکان ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قانونی ٹیم کااجلاس ہوا،اجلاس میں وزیرقانون فروغ نسیم اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے شرکت کی،اجلاس میں زیادتی کے مجرمان کو سخت سزا کے طریقے کار سے متعلق آگاہی دی گئی ،اس کے علاوہ گواہوں کے تحفظ کے طریقہ کار سے متعلق بھی آگاہی دی گئی ۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ زیادتی کے مجرموں کے خلاف سخت قانون لایا جائے، ایسا قانون لائیں کہ مثاثرہ خواتین یا بچے اپنی شکایات درج کرا سکیں، قانون میں متاثرہ خواتین و بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ کا خیال رکھا جائے،ہم نے اپنے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا ہے،

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب

    موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار

    ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    موٹروے زیادتی کیس،گجرپورہ سے تفتیش تبدیل ،مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بلاک

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام ہر صورت یقینی بنانی ہوگی،سنگین نوعیت کے معاملے پر ایک لمحے کی تاخیر بھی نقصان دہ ہے ،دن رات کام کریں لیکن معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں، فاسٹ ٹریک مقدمات کے ذریعے انصاف فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

  • علامہ خادم رضوی کی وفات، تحریک لبیک کے نئے امیر کا اعلان کر دیا گیا

    علامہ خادم رضوی کی وفات، تحریک لبیک کے نئے امیر کا اعلان کر دیا گیا

    علامہ خادم رضوی کی وفات، تحریک لبیک کے نئے امیر کا اعلان کر دیا گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، نماز جنازہ میں لاکھوں افراد شریک ہوئے

    خادم حسین رضوی صاحب کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی تحریک لبیک پاکستان کے امیر مقررکر دیئے گئے، نماز جنازہ سے قبل انہیں امیر مقرر کیا گیا اور ان سے حلف لیا گیا،

    نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اب عوام گھروں کی جانب جانے کے لئے تیار ہیں، گریٹر اقبال پارک کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے ہیں تا کہ کسی بھگدڑ سے بچا جا سکے،انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ شہری باہر نکلنے میں احتیاط کریں،

    علامہ خادم رضوی کے نماز جنازہ میں شرکت کے لئے گزشتہ شب سے شہری مینار پاکستان گراؤنڈ میں پہنچ گئے تھے، نماز جنازہ کے بعد دعا کروائی گئی.

    مینار پاکستان گراؤنڈ میں عوام کا جم غفیر تھا، تحریک لبیک کے کارکنان روتے نظر آئے وہ اپنے قائد کی موت پر غمزدہ تھے،نماز جنازہ میں علماء کرام، طلبا، سمیت تمام مکاتب فکر کے افراد شریک ہوئے

    نماز جنازہ کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، علامہ خادم رضوی کے جسد خاکی کو یتیم خانہ چوک سے مینار پاکستان ایمبولینس کے ذریعے پہنچایا گیا، سمن آباد، چوبرجی چوک، ایم اے او کالج، کچہری، داتا دربار سے ہوتا ہوا قافلہ مینار پاکستان پہنچا تھا جہاں انکی نماز جنازہ ادا کی گئی

    فیض آباد، تحریک لبیک کا احتجاج جاری، پولیس کا رات گئے آپریشن ناکام

    تحریک لبیک احتجاج، اسلام آباد میں کون کونسے راستے بند ہیں؟ ڈی سی نے بتا دیا

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

    فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

    علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    علامہ خادم رضوی کا دو روز قبل انتقال ہوا تھا، انہیں شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تا ہم ڈاکٹرز نے انکی موت کی تصدیق کی، جس کے بعد انکے ورثا نے نماز جنازہ کا اعلان کیا تھا

    علامہ خادم رضوی کی وفات پر آرمی چیف، وزیراعظم سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان نے اظہار تعزیت کیا تھا

    علامہ خادم رضوی کے نماز جنازہ کا وقت دس بجے مقرر کیا گیا تھا تا ہم جسد خاکی مینار پاکستان گراؤنڈ میں لیٹ پہنچنے کی وجہ سے نماز جنازہ کی لیٹ ادائیگی ہوئی.