Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک، چین مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز:چنی فوج شاہینوں کی پروازسے متاثر

    پاک، چین مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز:چنی فوج شاہینوں کی پروازسے متاثر

    اسلام آباد:پاک، چین مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز:چنی فوج شاہینوں کی پروازسے متاثر،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز ہو گیا ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق مشق کا انعقاد پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئربیس پر ہو رہا ہے۔ چینی فضائیہ کا دستہ ہوا بازوں، ایئرڈیفنس کنٹرولرز اور تکنیکی عملے پر مشتمل ہے۔

     

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ڈپٹی چیف آف ایئراسٹاف آپریشنزایئروائس مارشل وقاص احمد سلہری نے مشقوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ چینی فضائیہ کےاسسٹنٹ چیف آف اسٹاف میجرجنرل سن ہانگ بھی تقریب کاحصہ تھے۔

    یاد رہے کہ چینی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان مشترکہ طور پر ہونے والی فوجی مشقوں "شاہین – IX” میں شرکت کے لئے چین فوجی 7 دسمبر کو پاکستان پہنچ چکے تھے ۔

    یہ مشترکہ تربیتی مشقیں 2020 کے چین پاکستان فوجی تعاون کے ایک منصوبے کے تحت منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد دونوں ممالک کے فوجیوں کے مابین تعلقات کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کی فضائیہ کے مابین عملی تعاون کو وسعت دینا ہے۔

    ان مشقوں سے دونوں اطراف کی افواج کی حقیقی جنگی تربیت اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ مشقیں دسمبر کے آخر میں اختتام پذیر ہوں گی۔

  • جب تک ہم یہ کام نہیں کرینگے  ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،وزیراعظم

    جب تک ہم یہ کام نہیں کرینگے ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،وزیراعظم

    جب تک ہم یہ کام نہیں کرینگے ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں بزنس کمیونٹی سے ملنے آیا ہوں ،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں سیالکوٹ ایکسپورٹرز کا سینٹر بن جائیگا،سیالکوٹ نے خود پیسے جمع کرکے شاندار ایئر پورٹ بنایا،ایئر سیال سے سیالکوٹ اور پاکستان کو فائدہ ہوگا،کورونا کے دوران مشکلات کا سامنا تھا،کورونا کی پہلی لہر کے دوران عوام نے تعاون کیا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن تنقید کررہی تھی کہ میں مکمل لاک ڈاوَن نہیں کررہا،آج وہی اپوزیشن کورورنا کی دوسری لہر کے دوران جلسے کررہی ہے،امریکہ میں بہت تیزی سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے،اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا تو اپنی انڈسٹری اور لوگوں کو بچاسکتے ہیں،ماسک کے استعمال سے کورونا وبا سے بچا جاسکتا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 60 کی دہائی میں پاکستانی تیزی سے ترقی کررہا تھا،ہم نے بزنس کمیونٹی کی رکاوٹیں دور کرنی ہیں،جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان پر خاص توجہ دی جائے،گلگت بلتستان،فاٹا اور بلوچستان پیچھے رہ گیا ہے،ڈی جی خان کے قبائلی علاقے سب سے پیچھے رہ گئے ہیں ،وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا جہاں چھوٹا سا طبقہ امیر اور باقی غریب ہوں ،چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا،چین سی پیک کے ذریعے اپنے مغربی چین کو اوپر اٹھانا چاہتا ہے،پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ زرمبادلہ ذخائر نہیں ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے،جب تک ہمارے ملک کی دولت نہیں بڑھے گی ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،انڈسٹریلائزیشن کے ذریعے ملک کو اوپر اٹھائیں گے،ہم نے اپنی ایکسپورٹس میں اضافہ کرنا ہے،سیالکوٹ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنا رہے ہیں،

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سیالکوٹ پہنچ گئے ہیں،معاون خصوصی عثمان ڈارسمیت وفاقی وزراکی ٹیم بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے،وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر غلام سرور خان اور حماد اظہر بھی ہیں ،وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں ائیر سیال کا افتتاح کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی سیالکوٹ پہنچ چکے ہیں اور تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہیں

  • سپریم کورٹ نے کیں چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب

    سپریم کورٹ نے کیں چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب

    سپریم کورٹ نے کیں چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاوَنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب کر لیں.عدالت نے کہا کہ پراسیکوٹر جنرل نیب چیئرمین نیب سے وجوہات پتہ کر کے عدالت کو آگاہ کریں نیب وضاحت کرے کہ ملزمان کی گرفتاری میں تفریق کیوں کی جاتی ہے؟

    رشید اے رضوی وکیل ڈاکٹر ڈنشا نے کہا کہ میرا موکل 20 ماہ سے جیل میں ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آج بھی احتساب کا موسم ہے،کچھ ملزمان کو پکڑنے اور کچھ کو نہ پکڑنے کی کیا منطق ہے؟

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ چیئرمین نیب کس اتھارٹی سے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ کرتے ہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ 25ملزمان میں سےصرف 4 کو پکڑا گیا،جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو کچھ نہیں نظر آتا،کچھ جگہوں پر نیب کے پر جلتے ہیں،سب کو پتا ہے کہ عمارت کس کی ہے،ڈاکٹر ڈنشا 20 ماہ سے جیل میں ہے ابھی تک چارج بھی فریم نہیں ہوا،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم نیب تحقیقات کی شفافیت پر بات کر رہے ہیں،عدالت نے نیب سے ملزمان کی گرفتاری کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

  • وزیراعظم نے سیالکوٹ میں ایئر سیال کا افتتاح کر دیا

    وزیراعظم نے سیالکوٹ میں ایئر سیال کا افتتاح کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سیالکوٹ پہنچ گئے

    معاون خصوصی عثمان ڈارسمیت وفاقی وزراکی ٹیم بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے،وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر غلام سرور خان اور حماد اظہر بھی ہیں

    وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں ائیر سیال کا افتتاح کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی سیالکوٹ پہنچ چکے ہیں اور تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہیں

    وزیر اعظم ائیر سیال کا افتتاح کریں گے اور معروف کاروباری شخصیات سے ملاقات اور خطاب کریں گے۔وزیراعظم سیالکوٹ کے پارلیمنٹیرینز اور پی ٹی آئی اراکین سے ملاقات کریں گے۔

    ائیرسیال کی لانچنگ سے علاقائی سطح پر روزگار کے وسیع مواقع ملیں گے،ایکسپورٹ انڈسٹری اور فضائی سفر میں مزید سہولت ملے گی،ایئر سیال کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں آپریشنز شروع کیے جائیں گے، جن میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، سیالکوٹ اور پشاور شامل ہیں، مستقبل میں پروازوں کا دائرہ کار دیگر شہروں تک بھی بڑھا دیا جائے گا۔یہ نجی ایئر لائن سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان کا منصوبہ ہے، اس منصوبے کی بنیاد 2015 میں سیالکوٹ میں بزنس کمیونٹی کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت ایئرپورٹ تعمیر کرنے کے بعد رکھی گئی، سیالکوٹ کا یہ ایئرپورٹ ملک کا پہلا اور واحد نجی ایئرپورٹ ہے۔

    ایئرسیال نے دنیا کی سب سے بڑی ہوائی جہاز کے لیز پر دینے والی کمپنی ایری کیپ سے تینوں ہوائی جہاز کرائے پر لیئے ہیں۔نجی ملکیت والی ہوائی کمپنی کو 2017 میں ہوابازی ڈویژن کے ذریعہ اپنے آپریشن چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس سے قبل اس پرواز کی کارروائیوں کا آغاز رواں سال جون میں متوقع تھا ، لیکن وبائی امراض کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ تاہم ، اب ایئر لائن دسمبر کے وسط تک پاکستان میں اپنی پہلی پرواز شروع کرے گی۔

  • منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی کونسی پالیسی کا وزیراعظم نے کیا خیر مقدم

    منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی کونسی پالیسی کا وزیراعظم نے کیا خیر مقدم

    منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی کونسی پالیسی کا وزیراعظم نے کیا خیر مقدم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جوبائیڈن کی غیرقانونی پیسے سے متعلق پالیسی کا خیرمقدم کرتا ہوں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ناجائز دولت کو ہدف بنانے کے حوالے سے منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کےعزائم کا خیرمقدم کرتاہوں۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک اپنی بدعنوان اشرافیہ جو منی لانڈرنگ کے ذریعے دولت امیر ملکوں اورٹیکس چوری کےغیر ملکی ٹھکانوں میں منتقل کرتی ہے، کےہاتھوں مفلسی کے گھاٹ اتارے جا رہےہیں

    امریکی انتخابات، ٹرمپ نے الزامات کی بوچھاڑ کر دی،ٹرمپ کو میڈیا کا بھی بڑا جھٹکا

    ٹرمپ بمقابلہ جوبائیڈن ، امریکی الیکشن میں کس کا پلڑابھاری ، حیران کن نتائج آنا

    امریکی انتخابات، جوبائیڈن نے نتائج مکمل ہونے سے پہلے ہی بڑا اعلان کر دیا

    ٹرمپ نے ووٹ چوری کا الزام لگا دیا، ٹویٹر نے بھی فوری ایکشن دکھا دیا

    امریکی الیکشن مسلمان خاتون الہان عمرعبداللہ ری پبلکن کو شکست دے کر کامیاب

    امریکی انتخابات نتائج، ٹرمپ کی پہلی باربرتری،جوبائیڈن پھر آگے نکل گئے

    کامیابی کا جشن منانے کی تیاری کررہے ہیں،ٹرمپ

    شکست خوردہ ٹرمپ نے ایسا قدم اٹھا لیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی

    امریکی انتخابات، حتمی نتائج سے قبل ہی ہنگامے، جلاؤ گھیراؤ، گرفتاریاں شروع

    جوبائیڈن کے حامیوں کا ٹرمپ سے وائیٹ ہاؤس چھوڑنے کا مطالبہ

    ٹرمپ کے حامیوں  نے الیکشن سینٹر کا گھیراو کر لیا

    ٹرمپ کی بے بسی، کس نے بات ماننے سے انکار کر دیا؟

    جوبائیڈن کے آنے سے سعودی عرب کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں

    مودی نے دوست بدلنا شروع کر دیئے، ٹرمپ کو چھوڑ کر جوبائیڈن سے رابطہ کر لیا

  • 86 فیصد پاکستانی آئندہ انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کے حامی،کیوں؟ خلیج میگزین کا سروے

    86 فیصد پاکستانی آئندہ انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کے حامی،کیوں؟ خلیج میگزین کا سروے

    دبئی: 86 فیصد پاکستانی آئندہ انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کے حامی،کیوں؟ خلیج میگزین کا سروے،اطلاعات کے مطابق عرب نیوز کے بعد اب ایک اور غیر ملکی جریدے کے آن لائن سروے میں 86 فی صد سے زائد پاکستانیوں نے 2023 کے عام انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کے حق میں رائے دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق خلیج میگزین نامی ادارے نے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ایک سروے کیا جس میں صارفین سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ 2023 میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں کس سیاسی جماعت کی حمایت کریں گے؟

    اس سوال کے جواب میں سب سے زیادہ 86 اعشاریہ 9 فیصد جواب دہندگان نے حکمران جماعت تحریک انصاف کے حق میں رائے دی۔ اس سروے پول میں 6 اعشاریہ 6 فی صد جواب دہندگان نے پاکستان مسلم لیگ ن، 4 اعشاریہ 7 فی صد نے پاکستان پیپلز پارٹی اور 1 اعشاریہ 8 فی صد نے جمیعت علمائے اسلام کے حق میں رائے دی۔

    اس سروے میں اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتیں مجموعی طور پر 15 فی صد رائے دہندگان کی حمایت بھی حاصل نہیں کرسکیں۔ مجموعی طور پر اس آن لائن سروے میں 42 ہزار 179 سوشل میڈیا صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

     

    https://twitter.com/KhaleejMag/status/1334154386000535554

    سروے میں ایک اہم بات پرحقیقت بیان کرتےہوئے کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے باوجود اکثریت عمران خان کی حامی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ملک وقوم کےساتھ مخلص ہیں اورایماندار بھی ہیں

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ وہ ابھی تک مہنگائی پرقابونہیں‌پاسکے لیکن اس مہنگائی میں بھی تین پہلو نمایاں ہیں ، ان کے مطابق پہلا جو ایشو ہے وہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے لیکن یہ زیادہ متاثر نہیں کررہا جبکہ دوسرا خودساختہ مہنگائی ہے جوحکومت مخالف قوتیں ، افراد پیدا کیے ہوئے ہیں ، تیسری مہنگائی کرونا کی وجہ سے ہے جس سے پوری دنیا متاثرہے

    یاد رہےکہ اس سے پہلے عرب نیوز بھی یہ دعوی کرچکا ہے کہ عوام جانتے ہیں کہ کرپٹ لوگ عمران خان کوچلنے نہیں دے رہے ، اوروہ اس کو ناکام کرکے آئندہ الیکشن میں اقتدار سے محروم رکھنا چاہتے ہیں لیکن پڑھا لکھا طبقہ اس پراپیگنڈہ کو مسترد کرچکا اوروہ یہ سمجھتا ہےکہ اگرعمران خان کی جگہ کوئی پھرآگیا تو پھر وہ وڈیروں ، صنعتکاروں ، جاگیرداروں کے رحم وکرم پرمحتاجی کی زندگی گزاریں‌ گے

    یہ بھی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس عارضی تکلیف کو برداشت کرلیں گے لیکن اس ملک کوچوراورکرپٹ حکمرانوں کے سپرد نہیں کریں گے

  • پاک بحریہ کا 49 ہنگورڈے:دشمن پرایک بارپھرہیبت طاری

    پاک بحریہ کا 49 ہنگورڈے:دشمن پرایک بارپھرہیبت طاری

    کراچی :پاک بحریہ کا 49 ہنگورڈے:دشمن پرایک بارپھرہیبت طاری ،اطلاعات کے مطابق آج پاک بحریہ 49 واں ہنگور ڈے منارہی ہے، یہ دن 71 کی پاک بھارت جنگ میں پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کی جانب سے بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس ککری کو سمندر برد کرنے کے عظیم کارنامے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔پاک بحریہ میں9 دسمبر بطور ہنگور ڈے منایا جاتا ہے۔

    یہ دن 71 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی آبدوز ہنگورکی بے مثال بہادری اور غیر متزلزل عزم کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور نے بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس ککری کو 9 دسمبر کے دن سمندر برد کر دیا تھا جس کی یاد میں ہرسال کی طرح اس سال بھی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    دنیا کی جنگی تاریخ کا اس عالی شان فتح یاب واقعے میں بھارتی جہاز کو ڈبونے کا یہ شاندار کارنامہ بھارت کے مغربی ساحل پر ڈیو ہیڈ(Diu Head) کے جنوب مشرق میں 30 میل دور وقوع پزیر ہوا تھا۔ یہ واقعہ بحری جنگی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب کسی آبدوز نے ایک بحری جنگی جہاز کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا کر سمندر برد کر دیا ہو۔

    پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کے عملے کی اس بہادری کو سراہتے ہوئے 4 ستارہ جئرات، 6 تمغئۃ جرات اور 14 امتیازی اسناد سے نوازا گیا۔ یہ تعداد کے لحاظ سے پاک بحریہ کے کسی ایک یونٹ کو دیئے جانے والے بہادری کے تمغوں میں سب سے زیادہ ہیں۔

     

     

    71 کی جنگ میں آبدورز ہنگور پاک بحریہ کا فخر رہی۔ مہمان خصوصی نے مزید کہا کہ آئی این ایس ککری کے ڈوبنے سے بھارتی بحریہ کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا جس میں ان کے 18 افسر اور 176 سیلر ہلاک ہوئے۔

    غازی اور ہنگور دو ایسے نام ہیں جنہوں نے پاکستان سمیت پوری دنیا کی بحری افواج کے سامنے ہمت و جواں مردی ، ملک کے لیے قربانی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔1965ء کی جنگ کے دوران بحری بیڑے میں موجود آبدوزوں کے باعث پاکستان کو ناپاک عزائم رکھنے والے بھارت کے مقابلے میں واضح سبقت حاصل تھی۔

    جہا ں پاکستان کی بری فوج کے جوانوں نے زمینی راستے سے داخل ہونے پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا او رپاک فضائیہ کے طیارے دشمن کے مورچوں پر گولے برساتے رہے وہیںپاک بحریہ عوام کی نظروں سے اوجھل سمندر اور زیر سمندر اپنے مشن کی تکمیل کے لیے موجود تھیں۔ سب میرین غازی پاکستان بحریہ کی طرف سے تشکیل دی گئی بحری جنگی حکمت عملی کا اہم جزو تھی۔

     

    ذرائع کے مطابق غازی کو بھارتی بندر گاہوں کے قریب زیر سمندر رہتے ہوئے دشمن اور اُس کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ غازی کئی دن تک ممبئی ہاربر کے قریب زیر سمندر موجود رہی اور بھارتی جنگی جہازوں اور باالخصوص طیارہ بردار جہاز وکرانت کی حرکات و سکنات کا بغور مشاہدہ کرتی رہی۔

    پاکستان بحریہ کے بیڑے میں شامل آبدوزوں نے بھارتی بحریہ کو سمندر کے راستے کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کرنے سے روکے رکھا یہی وجہ تھی کے جنگ کے دوران بھی بھارتی جنگی جہاز ممبئی کا ساحل چھوڑنے سے گھبراتے رہے۔ بھارتی بحریہ کا یہی خوف پاکستان کے لیے کارگر ثابت ہوا اور پاکستان بحریہ نے اپنی آبدوز کی مدد سے بھارتی ساحلی مقام دوارکا پر حملہ کرتے ہوئے بھارتی بحری اثاثوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ نہ صرف غازی نے بھارتی بحریہ کو 65 کی جنگ میں اُن کے جنگی منصوبوں کی تکمیل سے باز رکھا بلکہ 71ء کی جنگ میں بھی اپنی اسی تاریخ کو دہراتے ہوئے عقل کو دنگ کردینے والے معرکے سر انجام دیے۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=ciIZ2Utk6Vo

     

    مشرقی پاستان میں حالات کشیدہ ہونے کے ساتھ ہی غازی سب میرین کے کمانڈر کو ہیڈ کواٹر کی جانب سے بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت کو ڈھونڈ کر تباہ کرنے کا حکم ملا۔ وکرانت بھارتی بحریہ کا وہ واحد سہارا تھا جس کے بل بوطہ پر وہ سمندر پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہی تھی۔ وکرانت کے پاکستانی آبدوز کے ہاتھوں نشانہ بننے کے خوف کے باعث بھارت طیار ہ بردار جہاز کو مغربی ساحلوں کی جانب لانے سے کترا تا رہا۔ تین ہزار مربع کلو میٹر کے وسیع علاقے میں تنِ تنہا دشمن کا مقابلہ کرنے کی ذمے داری انجام دیتے ہوئے غازی انتہائی خاموشی سے بنگال کے ساحل کے قریب پہنچ گئی جہاں بدقسمتی سے آبدوز کو ایک المناک حادثہ پیش آیاجس کے نتیجے میں غازی تباہ ہو گئی۔ لیکن شاطر دشمن نے غازی کو تباہ کرنیکی کی ذمے داری لینے کی ناکام کوشش کی۔ بعد میں ہونے والی چھان بین میں آبدوز کی تباہی کی اصل وجہ سامنے آئی جس کے بعد دشمن کو بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک سے دور ایک المناک حادثے کا شکار ہونے کے باوجود غازی کی ہمت اور بہادری کی داستان جو بظاہر نا ممکن لگتی ہے آج بھی ہمارے دلوں میں نقش ہے۔

    ناقابلِ فراموش نقصان اُٹھانے کے باوجود پاکستان بحریہ نے اپنی دوسری آبدوز پی این ایس ایم ہنگور کو دشمن کے علاقے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ حکم ملتے ہی ہنگور شارک کی مانند بھارتی مغربی ساحلوں کی جانب گامزن ہو گئی۔ ناسازگار حالات اور تکنیکی مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود ہنگور دشمن کی نظروں میں آئے بغیر آگے بڑھتی رہی اور غازی کا ادھورا مشن مکمل کرنے کے لیے بالآخر 9 دسمبر 1971ء کو بھارتی بحری جہاز کے نہایت قریب پہنچ کر اُسے تباہ کرنے کے لیے پوزیشن سنبھال لی۔

    ہنگور نے نشانے پر رکھے ہوئے جہاز کْکری پر یکے بعد دیگرے دو تار پیڈو داغے جس میں سے ایک نے بھارتی جہاز کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا اور محض دو منٹ کے دورانیے میں بھارتی جہاز عملے کے 200 لوگوں سمیت سمندر بُرد ہو گیا۔

    ہنگور کا سفر یہاں تمام نہ ہوا بلکہ کْکری کے کچھ فاصلے پر موجود ایک اور بھارتی جہاز پر تیسرا تارپیڈو داغ دیا جس نے جہاز کو شدید نقصان پہنچایا۔ بھارتی جہاز کی تباہی جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا بھر میں یہ پہلا واقعہ تھا کے کہ کسی آبدوز کی مدد سے بحری جہاز کو تباہ کیا گیا ہو جسے عالمی طور پر تسلیم کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر اپنی شکست اور بھاری نقصان اُٹھانے پر بھارتی بحریہ میں کھلبلی مچ گئی اور بدلے کی غرض سے اپنے تمام وسائل اور وسیع بحری بیڑے کو ہنگور کی تلاش پر لگا دیا۔

     

    دوسری طرف ہنگور آپریشن کی تکمیل کے بعد بوکھلائے ہوئے دشمن کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے خیر و با عافیت کراچی بندرکاہ پہنچ گئی۔ اس تاریخی کارنامے کے بدلے اس آبدوز اورعملے کوبڑے انعامات سے نوازا گیا ۔ یہ تعداد پاکستان بحریہ میں کسی بھی یونٹ کو دیے گئے تمغوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    اسی دن کی مناسبت کے حوالے سے کل پاکستان 49 واں ہنگورڈے منایا جارہا ہے ، اس موقع پر پوری قوم اپنے پاک افواج کے ساتھ ہیں اورقوم کی دعائیں بھی اپنے پاک افواج کے ساتھ ہیں

  • کورہیڈ کوارٹرپشاورمیں کرونا سے متعلق اہم اجلاس،بڑوں بڑوں نے کی شرکت

    کورہیڈ کوارٹرپشاورمیں کرونا سے متعلق اہم اجلاس،بڑوں بڑوں نے کی شرکت

    راولپنڈی :کورہیڈ کوارٹرپشاورمیں کرونا سے متعلق اہم اجلاس،بڑوں بڑوں نے کی شرکت،اطلاعات کے مطابق آج کے پی میں‌ COVID-19 سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس کور HQ پشاور میں ہوا۔

    ذرائع کے مطابق اس اہم اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پی محمود خان ، کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اور دیگر اعلی سول اور فوجی افسران نے شریک ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق اس موقع پر کوویڈ 19 کی صورتحال کا جائزہ لینے اور کورونا وائرس ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے کی جانے والی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اس اہم مینٹنگ میں شرکا کو COVID مریضوں کے لئے اسپتالوں کی موجودہ صلاحیت اور مزید بڑھانے کے لئے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق این سی او سی ہدایات کی روشنی میں غیر فارماسیوٹیکل کے نفاذ کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا

  • بھارتی آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب  اصل کہانی کیا ہے. جانیے مبشر لقمان کے وی لاگ میں

    بھارتی آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب اصل کہانی کیا ہے. جانیے مبشر لقمان کے وی لاگ میں

    بھارتی آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب اصل کہانی کیا ہے. جانیے مبشر لقمان کے وی لاگ میں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق. سینئر صحافی مبشر لقمان نے اپنی یو ٹیوب ویڈیو میں کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف پہلے آرمی کے سربراہ ہوں گے. جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کا دورہ کریں گے. اس سے لگتا ہے بہت بڑے فیصلے ہونے جا رہے ہیں . انہوں نے اینکر پرسن تجزیہ نگار معید پیر زادہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اور بھارت اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات پچھلے چھ سات سال سے کافی بہتر ہور ہے ہیں. بھارت کا سترہ فیصد تیل سعودی عرب سے امپورت ہوتا ہے یہ تناست تو کم ہے لیکن بھارت ایک بہت بڑی معیشت ہے اسی طرح نائن الیون کے بعد بھارت اور امریکا ایک دوسرے؛ کے ساتھ قریب ہونا بہت اہم ہے.

    اسی طرح بھارت اور اسرائیل کا مودی حکومت میں قریب ہونا بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا دورہ کرنا اور اسرائیلی وزیر اعظم کا بھارت کا دور کرنا . پھر حال ہی‌ میں اسرائیلی وزیر اعظم کا سعودی عرب کے شہر نیوم میں شہزادہ سلمان سے ملاقات کرنا جس میں ان کے ساتھ موساد کے چیف اور مائک پومپیو بھی ساتھ تھے . یہ اصل میں امریکا کی کوشش ہے جس میں اپنے بلاک کو نئے سرے سے منظم کر رہا ہے . امریکا ہر اس ملک کے خلاف منظم ہو رہا ہے جس کا چین کے ساتھ تعلق یا اتحاد ہے . جیسے پاکستان ، قطر ، ایران وغیرہ لیکن اس میں اتنا جلدی کچھ نہیں‌ہونے جا رہا بھی یہ کہا جائے فورا ہی کوئی واضح تبدیلی آ جائے گی ایسا کچھ نہیں ہے . بھارت کی پہلی دفعہ ملٹری ٹو ملٹری ڈپلومیسی شروع ہوئی ہے. بھارت فوری طور پر پاکستان کو سعودی عرب سے نکالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے. مبشر لقمان نے ایک سوال کیا کہ ڈاکٹر باسط کو دیکھ رہا تھا کہ زلفی بخاری نے بہت بڑا الزام لگایا کہ زلفی بخاری ناکام ہو چکے ہیں‌ وہ مڈل ایسٹ میں تعلقات بنانے اور اس کو آگے بڑھانے میں ناکام ہوئے ہیں. اس کے جواب ؛میں‌ ڈا کٹر معید کا کہنا تھا کہ یہ باتیں بس وجوہات بتانے والی باتیں ہیں جب کسی ملک سے سٹریجک تعلقات میں تبدیلی کی جائے تو ایسے بہانے بتائے جاتے ہیں کبھی کسی شیعہ وزیر ہونے کا الزام اور کبھی کوئی اور کسی کو مورد الزام ٹھہرانا .
    مبشر لقمان نے سوال کیا ہے کہ کیا بھارت فوجی اتحاد کا حصہ بن جا؛ئے گا. تو اس کے جواب میں ڈاکٹر معید کا کہنا تھا کہ یہ بات ایسی ہے کہ پاکستان اس کو جلدی نہیں‌ہونے گا کیونکہ پاکستان کے سعودی ملٹر ی آفیشل سے پرانےتعلقات ہیں. پاکستان کے آرمی چیف ، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور اسی طرح آئی ایس آئی چیف سال میں دو دو دفعہ سعودی عرب کا دورہ کرتے ہیں اور وہ بھارت کے اثرورسوخ اتنی جلدی سعودی عرب قائم نہیں‌ ہونے دیں گے. دسری بات چین بھی سعودی عرب پر اثر رکھتا ہے اور وہ سعودی عرب کو امریکا کے اس کیمپ میں اتنی جلدی نہیں جانے گا . اس کو بیلنس رکھنا ہو گا . کیونکہ سعودی عرب چین کا پریشر برداشت نہیں‌کر سکتا .

    ایک اور سوال کیا کہ کیا اسرائیل جس نے ایران کا ایٹمی سائنسدان مارا اور امریکا سعودی عرب سے ایران پر حملہ کرے گا . اس سے خطے حالات نہیں‌بدلیں گے. اس کے جواب میں‌معید پیرزدہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں امریکا کے حوالےسے خوب پایا جارہا ہے کہ جو بائیڈن ایران کے ساتھ معاملات کو استوار کرناچاہتا ہے اور دوسرا محمد بن سلمان کو ڈر ہے جمال کشوگی کے کیس میں وہ محمد بن سلمان کا مواخذہ کریں گے. محمد بن سلمان اور استرائیل حالات کو اتنا گندہ کردیں گے کہ یہ معاملات پس پشت چلے جائیں. اس میں پاکستان متاثر نہ ہو گا ؟ ایک سوال کیا گیا تو اس کےجواب میں ڈاکٹر معید پیر زادہ نے کہا کہ اصل میں امریکا چین کو کاؤنٹر کرنے کے لے ہر اس ملک کو چین سے دور کرنے کوشش کرے گا جو اس کے ساتھ ہے پاکستان بھی ان میں شامل ہے . لیکن پاکستان کبھی بھی اس کیمپ میں نہیں ‌جاسکتا جہاں بھارت بھی ہو

  • 31دسمبرتک استعفے جمع کروادیں،اوراگرپھربھی خان نہ ڈرا تو لوگوں کا جینا مشکل کردیں گے:مولانا کی قوم کودھمکیاں

    31دسمبرتک استعفے جمع کروادیں،اوراگرپھربھی خان نہ ڈرا تو لوگوں کا جینا مشکل کردیں گے:مولانا کی قوم کودھمکیاں

    اسلام آباد: 31دسمبرتک استعفے جمع کروادیں،اوراگرپھربھی خان نہ ڈرا تو لوگوں کا جینا مشکل کردیں گے:مولانا،مریم ،بلاول دھمکیوں پراترآئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مریم نواز اوربلاول بھٹو کے ہمرا میڈیا ٹاک کرتے ہوئے بہت بڑی دھمکی دے دی ہے ،

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنے 31دسمبراستعفے جمع کروادیں،اوراگرپھربھی خان نہ ڈرا تو لوگوں کا جینا مشکل کردیں گے:

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج اجلاس میں ویڈیولنک کے ذریعے نوازشریف،آصف زرداری،اخترمینگل نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پی ڈی ایم رہنماؤں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ کل سٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔ جس میں لانگ مارچ کی تاریخ طے کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے مریم نواز اوربلاول بھٹو کے ساتھ مل کرقوم کودھمکی دیتے ہوئے کہا ہےکہ اگرعمران خان کواستعفوں سے بھی کوئی فرق نہ پڑا تو پھروہ پاکستانیوں کا جینا مشکل کردیں گے ،انہوں نے کہا کہ کل ہونے والے اجلاس میں ملک بھر میں مظاہروں کے شیڈول طے کیا جائے گا اور پہیہ جام ہڑتال، شٹر ڈاؤن کا شیڈول بھی طے کریں گے۔

    بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر تک تمام ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی اپنے استعفی اپنی اپنی پارٹیوں کو جمع کروائیں گے۔ استعفے دیں گے توپھران کی طرح استعفے واپس نہیں چاٹیں گے۔ لاہور کا جلسہ تاریخی ہوگا اور حکومت کیلیے آخری کیل ثابت ہوگا۔ جلسے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ملتان سے بھی براحشرکردیاجائیگا۔

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں نواز شریف نے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرانے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے خاتمہ پر مولانا فضل الرحمان استعفے سپیکر کو پیش کر دیں۔ تمام جماعتوں کی جانب سے نواز شریف کی تجویز کی حمایت کی گئی۔

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اپوزیشن کی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کواستعفے جمع کرانے پراپنے اپنے تحفظات پیش کیے ہیں اورکہا کہ وہ اپنی پارٹی کے سربراہ کو تو جمع کرواسکتے ہیں لیکن انہیں مولنا پراعتبارنہیں یہ ان استعفوں کواپنی سیاست کے لیے اسعتعمال کرکے ہماری سیاست تباہ کردیں‌گے