Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • محکمہ اوقاف پنجاب قادیانیوں کو نوکری دینے لگا

    محکمہ اوقاف پنجاب قادیانیوں کو نوکری دینے لگا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کا محکمہ اوقاف قادیانیوں کو نوکریاں دینے لگا، اوقاف کی ہسپتال میں تمام تر قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے احمدی ڈاکٹر کو بھرتی کر لیا گیا

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر اہتمام داتا دربار کے قریب ڈینٹل ہسپتال چل رہا ہے، اس میں ڈینٹل سرجن کی ایک آسامی آئی تو پنجاب پبلک سروس کمیشن نے اشتہار جاری کیا، اس اشتہار کے بعد 144 امیدواروں نے بھرتی کے لئے درخواستیں جمع کروائیں

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق درخواستوں کے بعد کسی امیدوار کا تحریری امتحان نہیں لیا گیا جو کہ ضروری تھا نہ ہی اوپن شارٹ لسٹ جاری کی گئی بلکہ کسی بھی امتحان کے بغیر امیدواروں کو بذریعہ ای میل بتایا گیا کہ آپ کی یہ میرٹ لسٹ بنتی ہے،اسکے بعد ایک قادیانی ڈاکٹر کو صرف انٹرویو کی بنیاد پر ہسپتال میں تعینات کر دیا گیا.

    پنجاب کے محکمہ اوقاف کے ہسپتال میں قادیانی ڈاکٹر کی بغیر تحریری امتحان کیسے تعیناتی ہوئی ،اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے تحریری امتحان کیوں نہ لیا اس کی بھی انکوائری ہونی چاہئے

    پنجاب پبلک سروس کمیشن صوبہ پنجاب میں میں سرکاری ملازمین رکھنے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ گزشتہ دس سال سے میڈیکل یا ڈینٹل کے شعبے میں بھرتیاں محض انٹرویو کی بنیاد پر ہوتی رہی ہیں۔ ایک نشست پر امیدواروں کی تعداد جب ایک مخصوص نمبر سے بڑھ جائے تو قانون کے مطابق پبلک سروس کمیشن تحریری امتحان لینے کا مجاز ہے۔ لیکن میڈیکل جیسے حساس شعبے میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ انٹرویو کی بنیاد پر بھرتیاں ہوتی ہیں اور سفارش کلچر عام ہے۔ اس حوالہ سے بھی تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے کہ امیدواروں کا تحریری امتحان کیوں نہیں لیا جاتا؟

    قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

    کابینہ کے کتنے اراکین نے اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت کی حمایت کی تھی؟ وزیر مذہبی امور بول پڑے

    ختم نبوت کے عقیدے پر موجودہ حکومت کا ایک اور ڈاکہ

    پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ہسپتال میں ڈینٹل سرجن کی تعیناتی کے لئے جو میرٹ لسٹ جاری کی گئی اس میں پہلے نمبر پر احمدی ڈاکٹر سجیل احمد ولد محمد احمد اشرف سکنہ جھنگ کا نام لکھا گیا اور اسے ہی انٹرویو کرکے تعینات کر دیا گیا

    باغی ٹی وی کو دستیاب دستاویزات کے مطابق محکمہ اوقات کی ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر سجیل قادیانیوں کی ڈاکٹروں کی تنظیم احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کا سیکرٹری جنرل ہے، باغی ٹی وی کو ڈاکٹر سجیل کی جانب سے بطور سیکرٹری جنرل تنظیم کی جانب سے مختلف ڈاکٹرز کو لکھے گئے خطوط ملے ہیں ،ڈاکٹر سجیل کے شناختی کارڈ اور ان خطوط پر ایک ہی طرح کے دستخط ہیں

    احمدی میڈیکل ایسوسی ایشن کے لیٹر پیڈ پر ڈاکٹر کی جانب سے لکھے گئے لیٹر موجود ہیں،باغی ٹی وی کو احمدی میڈیکل ایسوسی ایشن کے رکن ڈاکڑز کی فہرست بھی موصول ہوئی ہے جس میں‌ ڈاکٹر سجیل کا نام موجود ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”265279″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”265278″ /]

    باغی ٹی وی نے ہسپتال ذرائع سے بھی خبر کی تصدیق کی جس کے بعد اس خبر کو شائع کیا جا رہا ہے، باغی ٹی وی نے پنجاب کے وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن سے بھی رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا، انکی طرف سے جو بھی موقف آئے گا اسکو من و عن شائع کیا جائے گا

  • خبردارہوشیار: اینٹی بائیوٹک دوائیں  کم عمر بچوں میں متعدد بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں

    خبردارہوشیار: اینٹی بائیوٹک دوائیں کم عمر بچوں میں متعدد بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں

    واشنگٹن : اینٹی بائیوٹک دوائیں کم عمر بچوں میں متعدد بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں ،اطلاعات کے مطابق امریکا میں ہونے والی ایک طویل تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دو سال یا اس سے کم عمر بچوں کو اینٹی بائیوٹک ادویات دینے سے ان میں متعدد بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

    ہزاروں بچوں پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق 2 سال یا اس سے کم عمر ایسے بچے جنہیں کم از کم ایک اینٹی بائیوٹک دوا دی جاتی ہے، ان میں نو عمری یا بلوغت کے وقت استھما، الرجی، نظام ہاضمہ کی خرابی، کم وزنی، یا موٹاپے سمیت سوزش جیسی بیماریاں یا شکایات عام ہوجاتی ہیں۔

    امریکہ میں ہونے والی اس جدید تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لڑکوں یا لڑکیوں کو ایک سے زائد اینٹی بائیوٹک دوا دی جاتی ہے، ان میں بڑھتی عمر میں مزید سنگین طبی مسائل یا بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

    امریکی طبی جریدے مایو کلینک پروسیڈنگز میں شائع تحقیق کے مطابق امریکا میں کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ 2 سال یا اس سے کم عمر بچوں کو صرف ایک اینٹی بائیوٹک دوا دینے سے بھی ان میں استھما، الرجی، وزن کی کمی یا موٹاپے جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8 سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے دوران مجموعی طور پر ساڑھے 14 ہزار بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا، جن میں ساڑھے 7 ہزار سے زائد لڑکے جب کہ 7 ہزار تک لڑکیاں شامل تھیں۔

    تمام بچوں کے میڈیکل ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ 2 سال یا اس سے کم عمر ایسے بچوں کو جن کو مختلف طرح کی اینٹی بائیوٹک ادویات دی گئی تھیں، ان میں نوعمری میں مختلف طبی مسائل سامنے آئے۔

    اسی حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نتائج سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اینٹی بائیوٹک ادویات بچوں پر ان کی عمر، جنس اور وزن کے حساب سے مختلف طرح سے اثر انداز ہوتی ہیں، تاہم ان ادویات سے ہر طرح کے بچوں کو مختلف بیماریاں یا طبی مسائل پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

     

    https://www.childrens.com/health-wellness/antibiotics-and-kids

    نتائج سے معلوم ہوا کہ 2 سال یا اس سے کم عمر لڑکیوں کو اگر ایک ہی اینٹی بائیوٹک دوائی دینے سے ان میں استھما اور نظام ہاضمہ کے مسائل ان لڑکیوں کے مقابلے زیادہ سامنے آئے، جنہیں کوئی اینٹی بائیوٹک دوائی نہیں دی گئی تھی۔

    اسی طرح نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لڑکوں اور لڑکیوں کو بیک وقت 5 ادویات دی گئیں ان میں استھما، الرجی، نظام ہاضمہ کی بیماریاں، سوزش، بخار، وزن کی کمی یا موٹاپے جیسے مسائل پیدا ہوئے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان بچوں میں ایسے طبی مسائل یا بیماریاں نہیں پائی گئیں، جنہیں کوئی بھی اینٹی بائیوٹک دوا نہیں دی گئی تھی۔

    امریکی طبی ماہرین کے مطابق اینٹی بائیوٹک ادویات کا خاص مقصد اعصابی نصاب، جسمانی نصاب اور نظام ہاضمہ میں پیدا ہونے والے بیکٹیریاز کو ختم کرنا یا انہیں مار دینا ہے۔

    تاہم اینٹی بائیوٹکس میں یہ اچھے اور برے بیکٹیریاز کو پہنچاننے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے وہ خراب بیکٹیریاز سمیت اچھے بیکٹیریاز کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    اچھے بیکٹیریاز کے سکڑنے، نشانہ بننے یا مرجانے کی وجہ سےہی بچوں میں استھما، الرجی، نظام ہاضمہ کی خرابی، سوزش، وزن کی کمی یا موٹاپے سمیت بخار جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

  • افغانستان کا حل کیسے ممکن وزیر اعظم نے بتادیا

    افغانستان کا حل کیسے ممکن وزیر اعظم نے بتادیا

    افغانستان کا حل کیسے ممکن وزیر اعظم نے بتادیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ کابل کا میرا دورہ افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کے عزمِ صمیم کے اظہار کی جانب ایک اور قدم ہے۔ میں کبھی بھی (تنازعات کے) عسکری حل کا قائل نہیں رہا چنانچہ ہمیشہ سے میرا ایمان رہا ہے کہ افغانستان میں امن سیاسی گفت و شنید ہی سے حاصل ہوگا۔


    واضح‌ رہے کہ وزیراعظم افغانستان کے دورے سے واپس لوٹے ہیں ، اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان کی افغان صدر سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کے باوجود پرتشدد واقعات پر تشویش ہے۔ پاکستان افغانستان کے بعد ایک ایسا ملک ہے ، جو افغانستان میں امن کے لئے سب سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

    اُنہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے امریکیوں کے ساتھ طالبان کی بات چیت شروع کرنے اور پھر انٹرا افغان مذاکرات کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے عوام چار دہائیوں سے تشدد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کا سابقہ ​​فاٹا خطہ بھی تباہ ہوگیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلیوں کا ذریعہ معاش بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس سے خطے کو اربوں روپے مالیت کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سرحد کے دونوں اطراف کے عوام امن، تجارت اور رابطے چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے مابین اس تجارت اور رابطے میں اضافہ ہوگا

    عمران خان کا دورہ افغانستان سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش ناکام

  • علامہ خادم رضوی کا گزشتہ برس باغی ٹی وی کو دیا گیا خصوصی انٹرویو

    علامہ خادم رضوی کا گزشتہ برس باغی ٹی وی کو دیا گیا خصوصی انٹرویو

    علامہ خادم رضوی کا گزشتہ برس باغی ٹی وی کو دیا گیا خصوصی انٹرویو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ روز وفات پا چکے ہیں، انکی نماز جنازہ کل ہفتہ کو صبح مینار پاکستان گراونڈ میں ادا کی جائے گی.

    علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کی خبر ملنے کے بعد تحریک لبیک کے ملک بھر سے کارکنان لاہور پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جو انکے نماز جنازہ میں شرکت کریں گے، خادم رضوی کی تدفین انکے آبائی علاقے ضلع اٹک میں کی جائے گی

    علامہ خادم حسین رضوی نے گزشتہ برس باغی ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو دیا تھا، انٹرویو سننے کے لئے لنک پر کلک کریں

    باغی ٹی وی کو انٹرویو میں علامہ خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسلام کو نافذ کیا جائے، کشمیر کا مسئلہ حل کیا جائے،مسئلہ کشمیر کرکٹ نہیں جنگ سے ہو گا،،علامہ خادم حسین رضوی نے انٹرویو میں مزید کیا کہا؟ سننے کے لئے لنک پر کلک کریں

    فیض آباد، تحریک لبیک کا احتجاج جاری، پولیس کا رات گئے آپریشن ناکام

    تحریک لبیک احتجاج، اسلام آباد میں کون کونسے راستے بند ہیں؟ ڈی سی نے بتا دیا

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

    فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

    علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    علامہ خادم رضوی کے نماز جنازہ کا وقت تبدیل، تدفین کہاں ہو گی؟

  • آرمی چیف سے مصری سفیر کی ملاقات ،  باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت

    آرمی چیف سے مصری سفیر کی ملاقات ، باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت

    آرمی چیف سے مصری سفیر کی ملاقات ، باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مصر کے سفیر طارق محمد دہرگ نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔
    ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور ، علاقائی سلامتی اور دفاع و سلامتی کے تمام شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اور مصر باہمی تعلقات سے خوش اور اس کو مزید مستکم بنانا چاہتے ہیں اور انہوں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ معزز سفیر نے علاقائی امن و استحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔

  • حکومت بچوں کے حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے،وزیراعظم

    حکومت بچوں کے حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے،وزیراعظم

    حکومت بچوں کے حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی آج عالمی یوم اطفال منا رہا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بچے کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی وسائل ہوتے ہیں،بچے قوموں کے مستقبل کی واحد ضمانت ہوتے ہیں،حکومت بچوں کے حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے، حکومت بچوں کی تعلیم،صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کےل یے پرعزم ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کےلیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں،بچے کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں،بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن تشکیل دیا گیا،کمیشن میں ایک لڑکی اور ایک لڑکے کو نمائندگی دی گئی ہے،بچوں کے تحفظ کے لیے زینب الرٹ ایکٹ نافذ کیا گیا،جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 اور آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ نافذ کیا گیا،

    پاکستان بچوں کو ہر طرح کے استحصال ، امتیاز اور پسماندگی سے بچانے کے لئے پر عزم ہے۔ بچوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ اس دن کا مقصد بچوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ، بچوں کے حقوق کو فروغ دینا اور متعلقہ اداروں کے مابین یکجہتی اور بیداری کو فروغ دینا ہے۔

    1989 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے منظور شدہ حقوق کا اعلان کیا جس کے بعد 20 نومبر 1990 کو دنیا کے تقریباً 186 ممالک نے بچوں کے عالمی دن کی منظور شدہ حقوق کے مطابق باضابطہ حمایت کرکے اسے قانونی شکل دے دی اور ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن قرار دیا۔

    اس موقع پر دنیا بھر میں اس دن کی مناسبت سے تقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے جن میں والدین سے بچوں کی مناسب تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر پرورش کرنے پر بھی زور دیا جائے گا۔

    بچوں کا عالمی دن، دنیا کشمیری بچوں کی حالت زار کا نوٹس لے، پاکستان

  • علامہ خادم رضوی کے نماز جنازہ کا وقت تبدیل، تدفین کہاں ہو گی؟

    علامہ خادم رضوی کے نماز جنازہ کا وقت تبدیل، تدفین کہاں ہو گی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی وفات پا گئے، انکے نماز جنازہ کا اعلان کر دیا گیا ہے

    ‏تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ بعد نماز ہفتہ کو صبح دس بجے مینار پاکستان لاہور میں ادا کی جائے گی۔ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ میں تحریک لبیک کے ہزاروں کارکنان شریک ہوں گے اسلئے انکی نماز جنازہ وسیع و عریض گراؤنڈ مینار پاکستان میں ادا کی جائے گی

    قبل ازیں اعلان کیا گیا تھا کہ نماز جنازہ آج جمعہ کو ادا کی جائے گی لیکن انکے کارکنان کی ملک بھر سے آمد کے پیش نظر اب نماز جنازہ کا وقت ہفتہ کا رکھ دیا گیا ہے

    نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انکی میت آبائی گاؤن منتقل کی جائے گی، خادم رضوی کی دفین انکے ضلع اٹک کے آبائی گائوں نکا توت میں کی جائے گی

    علامہ خادم رضوی 2017میں ملک کے سیاسی منظرپرنمودار ہوئے ، جب انہوں نے راولپنڈی میں فیض آباد دھرنے سے شہرت حاصل کی، ا س دوران اپنے اندازِ خطابت اور سیاست کے باعث سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچائے رکھی۔ انہوں نے 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد رکھی۔الیکشن 2018 میں ان کی جماعت حیران کن طور پر ملک کی چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ۔

    نومبر 2017 میں اسلام آباد کے طویل دھرنے اور اپنے منفرد انداز خطابت کے باعث انہوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ تحریک لبیک نے چند روز قبل فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا تھا جس کی قیادت علامہ رضوی نے کی تھی تاہم حکومتی ٹیم سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا تھا ۔ دھرنے میں انہوں نے کارکنوں سے خطاب میں کہا تھا کہ میری طبیعت 5 روز سے ناساز ہے لیکن اسکے باوجود دھرنے میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔

    فیض آباد، تحریک لبیک کا احتجاج جاری، پولیس کا رات گئے آپریشن ناکام

    تحریک لبیک احتجاج، اسلام آباد میں کون کونسے راستے بند ہیں؟ ڈی سی نے بتا دیا

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

    فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

    علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    علامہ خادم حسین رضوی لاہور میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام پیر مکی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد کے بعد انہوں نے کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی جس کی وجہ سے انہیں محکمہ اوقاف نے ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ علامہ رضوی روحانی طور پر سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد المعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو، جہلم سے مرید تھے ۔ مرحوم دو عشروں سے جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کر رہے تھے ۔

  • علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پرآرمی چیف کااظہارافسوس، تعزیت بھی کی

    علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پرآرمی چیف کااظہارافسوس، تعزیت بھی کی

    راولپنڈی:علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پرآرمی چیف کااظہارافسوس تعزیت بھی کی،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پرپاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی اظہارافسوس کیا ہے

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے علامہ خادم حسین کی وفات پرگہرے دکھا اظہارکیا ہے اورکہا ہےکہ علامہ خادم حسین ایک اچھے انسان تھے ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے

    اپنے پیغام میں آرمی چیف نے کہا کہ وہ غم کی اس گھڑی میں خاندان کے برابر کے شریک ہیں

    دوسری طرف وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اورجمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پرگہرے دکھ کا اظہارکیا ہے

    یاد رہےکہ علامہ خادم حسین رضوی آج شام لاہورمیں قضائے الہٰی سے وفات پاگئے تھے

  • فرانس میں مسلم رہنماؤں کو فرانسیسی صدرکی طرف سے دھمکیاں

    فرانس میں مسلم رہنماؤں کو فرانسیسی صدرکی طرف سے دھمکیاں

    پرس: فرانس میں مسلم رہنماؤں کو فرانسیسی صدرکی طرف سے دھمکیاں ،اطلاعات کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسلم رہنماؤں کو 15 روز کا الٹی میٹم دیا ہےکہ وہ فرانس میں بنیاد پرستی کو کو روکنے کے لیے ‘میثاقِ جمہوری اقدار’ کو قبول کرلیں۔

    فرانسیسی صدر کی جانب سے یہ الٹی میٹم فرانس میں ریاست سے رابطے کے لیے مسلمانوں کی تسلیم شدہ باڈی ‘فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ’ کو دیاگیا ہے۔گذشتہ روز ہی فرانسیسی صدر نے وزیر داخلہ کے ہمراہ فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔میثاق کے مطابق اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے بجائے صرف مذہب سمجھاجائےگا اور مقامی مسلمان گروپوں میں بیرونی مداخلت بھی ممنوع ہوگی۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ نے ‘نیشنل کونسل آف امام’ کے قیام پر رضامندی ظاہر کردی ہے جس کے تحت مساجد میں اماموں کا تقرر سرکاری طور پر ہوگا اور انہیں کونسل کی جانب سے معزول بھی کیا جاسکے گا۔فرانسیسی صدر کی جانب سے بنیاد پرستی سے نمٹنے کے اقدامات کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔فوری اقدامات کے طور پر پارلیمنٹ میں ایک وسیع تناظر کاحامل بل لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ‘بنیاد پرستی’ کو روکا جاسکے۔

    فرانسیسی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیاگیا ہے کہ فرانس میں گھریلو تعلیم پر پابندی ہوگی اور مذہبی بنیادوں پر کسی سرکاری اہلکار کو دھمکانے پر بھی سخت سزا ہوگی۔

    نئے قانون کے تحت تمام افراد کو بچوں کو اسکول بھیجنا لازمی ہوگا، بچوں کو ایک شناختی نمبر الاٹ کیا جائے گا جس کی مدد سے ان کی اسکول میں حاضری مانیٹر کی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں والدین کو قیدسمیت بھاری جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔اس کے علاوہ کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اس شخص تک پہنچانے پر پابندی ہوگی جو اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہو۔

    فرانسیسی وزیر داخلہ کاکہنا ہے کہ ہمیں اپنےبچوں کو اسلامی انتہاپسندوں کے چنگل سے بچانا ہوگا، اس حوالے سے قانون سازی کا بل 9 دسمبر کو پالیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جائےگا۔اس پیش رفت کا تعلق فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے بعد ہونے والے حملوں سے جوڑا جارہا ہے۔

    خیال رہے کہ فرانس کےایک اسکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس واقعے اور اسی سے متعلق دیگرحملوں کے خلاف فرانسیسی سیکولرازم کی کھل کر حمایت کی اور متنازع بیانات بھی دیے جس کے بعد فرانس کو دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور مصنوعات کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

  • اسٹیبلشمنٹ، اپوزیشن اور حکومت، کیا کوئی اچھی خبر ہے؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    اسٹیبلشمنٹ، اپوزیشن اور حکومت، کیا کوئی اچھی خبر ہے؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر سے رہا ہے ۔ اس وقت پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر محاذ آرائی سامنا ہے ۔ بھارت پاکستان میں proxies کو ہوا دے رہا ہے ۔ تو افغانستان میں سے امریکہ نکل کر جا رہا ہے جس کے بعد کی منظر کشی دیکھائی نہیں دے رہی ۔ کہ وہاں اب کس کی حکومت ہوگی یا نہیں ہوگی یا خانہ جنگی ہوگی ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ معیشت کی حالت کافی پیچیدہ چل رہی ہے ۔ ملک کے اندرونی حالات دیکھیں تو مہنگائی اور بے روزگاری کا جن بے قابو ہوتا جا رہا ہے ۔ اوپر سے وباء نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا مگر حکومت اور عوام دونوں ہی ٹھنڈ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اس تمام صورتحال میں ملکی کے اندرونی سیاسی حالات میں کچھ اچھے نہیں چل رہے ہیں ۔ الزامات ، سازشیں اور سیاسی چالیں بھی پاکستان کو کسی صورت کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہی ہیں ۔ ایک کے بعد ایک بحران سر اٹھا رہا ہے ۔ اس صورتحال میں عمران خان نے آگے بڑھ کر اپوزیشن کو آفر کراوئی کہ آئیے مل کر بیٹھتے ہیں ۔ الیکشن اصلاحات سے لے کر تمام معاملات پر بات چیت کرلیتے ہیں ۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کا بات چیت کا کوئی موڈ نہیں ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کے بعد سلیکٹڈ وزیراعظم الیکشن اصلاحات کے نام پر دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان سے کسی بھی معاملات پر مذاکرات بے کار ہیں۔ آپ سے بات نہیں ہوگی۔ تو ن لیگ کے خواجہ آصف تو کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں انکا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال میں حالات پانچ گنا زیادہ بگڑ چکے ہیں۔ نئے الیکشن کرائے جائیں۔ نیا مینڈیٹ بنایا جائے۔ قومی یا عبوری حکومت قبول نہیں۔ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئی حکومت بنے تو بھی تین یا چھ ماہ کے اندر نئے الیکشن کرائے جائیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے تجزیہ کار اور صحافی جو یہ دعوے کر رہے تھے کہ اپوزیشن کا بیانیہ اب بدل گیا ہے ۔ خاص کر ن لیگ کا سوفٹ ویئر تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ جی بی الیکشن کے بعد اپوزیشن اب ٹھنڈی پڑ جائے گی ۔ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر جائے گی ۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔ یا اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو کامیاب نہیں ہوئی ۔ کیونکہ مریم اور مولانا کے حالیہ بیانات سے تو لگتا ہے کہ یہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔ یہ فرنٹ فٹ ہر کھیل رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہی حکومت کے درد سر میں اضافہ ہی کریں گے ۔ مریم نے تو مانسہرہ جلسہ میں ایک بار پھر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ اگرچہ اس جلسے میں کسی اہم عہدے پر فائز شخصیت کا نام نہیں لیا گیا ۔ مگر اشارے جس جانب تھے لوگ باآسانی سمجھ گئے ہیں ۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مریم نے کہا کہ ووٹ چوری کرکے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ ڈھائی سال پہلے کیے گئے وعدوں پر سوال کریں تو جواب ملتا ہے کہ ہمارے پاس الہ ٰ دین کا چراغ نہیں ہے۔ اس وقت مریم نواز بڑے ایک پلانڈ طریقے سے گلگت بلتستان الیکشن کو متنازعہ کرنے پر تلی بیٹھی ہیں ۔ کل پھر انھوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود ‘’سلیکٹڈ’’ نہیں جیت سکا۔ صرف 8 سیٹیں ملیں جو مسلم لیگ ن کے توڑے امیدواروں کی مرہون منت ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اصل میں جو بات مریم عوام اور لوگوں کو یہ بات نہیں بتا رہی ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ووٹ کو عزت دے کر نواز شریف کا فوج مخالف بیانیہ مسترد کر دیا۔ مریم نواز نے رنگ رنگ کی ٹوپیاں پہن کر ووٹ کو عزت دلوانے کی کوشش کی مگر گلگت بلتستان کے عوام بڑے سمجھدار نکلے ۔مثال میں آپکو دے دیتا ہوں ۔ آپ پورے پاکستان میں الیکشن کرا کے دیکھ لیں فوج مخالف بیانیہ مسلم لیگ کے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ آپ نواز شریف کی خواہشیں چیک کریں کہ کے بقول انہیں تین مرتبہ وزارت اعظمی سے نکالنا خلاف آیئن تھا لیکن عمران خان کو نکال باہر کرو ؟اسٹبلشمنٹ کو یہ کہنا کہ حکومت گرا دے کیا یہ جمہوریت ہے یا آئین ہے ؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے جیسے فوج سے ڈیل کرنے کے تمام دروازے کھڑکیاں بند ہوتی جارہی ہیں تو بیان بھی بدل رہا ہے کہ ہم فوج کے خلاف نہیں چند جرنیلوں کے خلاف ہیں۔ نواز شریف نے جنرل ضیاء الحق کے صدقے مسلم لیگ کے نام پر بڑی شہرت، پیسہ اور پاور کما لی تھی اچھا ہوتا عزت سے بڑھاپا گزارتے مگر الطاف حسین بن کر سب کچھ گنوا دیا ہے ۔ دراصل یہاں کوئی لیڈر کہلانے کے لائق نہیں کوئی قیادت ایماندار نہیں لیکن ووٹ کی عزت کا بڑا خیال ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ اس قوم نے بھی کبھی بندے کا پتر مانگا ہی نہیں۔ جس نے پیچھے لگا لیا آنکھیں بند کرکے لگ گئے۔ سیاسی قیادت کے کھمبے بنا لئے اور ان کی پوجا کرنے لگے۔عوام کو کم عقلی کی سزا مل رہی ہے۔ سیاستدانوں اور آمروں کے جھوٹ اتنے سچے ہوتے ہیں کہ عوام باآسانی بیوقوف بن جاتے ہیں۔ پاکستان نے کبھی حقیقی جمہوریت دیکھی ہی نہیں۔ کبھی سول آمریت اور کبھی فوجی آمریت رائج رہی۔ دو کنگز پارٹی اور ون مین شو کی باریاں لگتی رہیں ہیں ۔ سب نے خوب کھایا ، بنایا، لوٹا اور باہر بھاگ گئے۔ حکمرانی کے لئے واپس آتے ہیں پھر موٹے تازے جھوٹ بولتے ہیں ۔ عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ، چند سال پھر عیش کرتے ہیں پھر باہر لوٹ جاتے ہیں۔ اولاد باہر، علاج باہر، مال و دولت جائیدادیں باہر لیکن اقتدار اندر۔ اور جب جیل کے اندر جانے کی بات آئے تو سب ادارے غلط بس یہ لوگ سچے اور صاف ستھرے پاک صاف ؟مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوٹے بھرتی کریں تو جائز مگر کوئی انکو چھوڑ جائے تو لوٹا ؟ یہ اگر مخالفین کو عدالتوں میں گھسیٹیں تو جائز۔ اگر یہ خود گھسیٹے جائیں تو سازش ؟ یہ اگر زرداری سے ہاتھ ملائیں تو جائز ۔۔کوئی اور ملائے تو منافق ؟ یہ الیکشن جیتیں تو شفاف ۔ کوئی اور جیتے تو غیر شفاف ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صورتحال ہی کچھ عجیب و غریب ہے محض درجن بھر خاندانوں کا پاکستان کی 98 فیصد عوام پر مسلسل 70 سالوں سے راج کرتے آنا اور عوام کا پھر انہیں ووٹ ڈالنا بھی حیرت انگیز ہے یا تو عوام اس ماحول کی عادی ہوچکی ہے یا ووٹ ڈالے کہیں اور۔۔۔ گنے کہیں اور جاتے ہیں ۔ اگر سچ پوچھیں تو پاکستان میں جمہوریت دور دور تک نظر نہیں آتی جیسا کہ جمہوریت کی تعریف ہے عوام کی حکومت عوام کے لئے عوام کے ذریعے لیکن یہاں ایک وڈیرہ سرمایہ دار جاگیردار جاتا ہے تو دوسرا مسلط ہو جاتا ہے۔ اب یہ سب یونہی چلتا رہا تو آنے والا کل مزید خوفناک ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن کی جو بھی حالت ہے سو ہے مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت بھی کوئی win win position میں نہیں ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ایک طاقتور وزیراعظم تو نظر آرہے ہیں۔ ریاستی ادارے بھی یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہیں مگر حال ہی میں خلاف توقع ہونے والا ظہرانہ اس طرف اشارہ تھا کہ سب اچھا نہیں ہے۔ اتحادیوں کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے گو کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں مگر کسی اصول پر نہیں۔ کسی کے کہنے پر۔ اس حکومت کا بھی یہ مسئلہ رہا ہے کہ یہ اپنے ووٹر اور عوام کو خوش کرنا تو دور کی بات اپنے اتحادیوں کو بھی ساتھ نہیں لے کر چل پا رہے ہیں ۔ بعض دفعہ تو حیرانگی ہوتی ہے ۔ کہ کیا کوئی وزیر مشیر کے عہدے پر براجمان بندہ اتنا نااہل بھی ہوسکتا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہتر یہ ہی ہے کہ وزیراعظم مسائل کو پارلیمنٹ میں لے جائیں اور پارلیمانی طریقے سے مذاکرات کا آغاز کریں ۔ اور اردگرد سے نااہل اور نکمے لوگوں کو ہٹائیں ۔ کیونکہ لوگ انگلی ان پر نہیں بلکہ اب عمران خان پر اٹھنا شروع ہو گی ہے ۔ پی ٹی آئی میں بہت ہی sober سیاست کی سمجھ بوجھ والے اور قابل لوگ بھی ہیں ۔ جن کو موقع ملا تو یقیقناً پی ٹی آئی کے امیج کو بہتر ہی کریں گے ۔ فی الحال صورتحال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کسی طرف سے خیرکی کوئی خبر نہیں آر ہی ہے ۔
    ان covid times میں حکومت اور اپوزیشن کا سب سے بڑا امتحان تو عوام کی جان کا تحفظ ہے ۔ مگر لگتا ہے کہ دونوں کو صرف
    اپنی سیاست اپنی حکومت اپنی باری کی فکر ہے عوام چاہیئے جائیں بھاڑ میں ۔۔۔ کیونکہ حکومت سب کچھ بند کرنا چاہ رہی ہے ۔ مگر سکول نہیں بند کر رہی ۔ کیونکہ ان کے بچے کون سے پاکستانی پرائیوٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ وہ تو رہتے ہی باہر ہیں پڑھتے ہی باہر ہیں ۔ اوپر سے یہ پرائیوٹ سکولز کا مافیا اس ملک میں اس قدر مضبوط ہوچکا ہے کہ حکومت ۔ وزیر ۔ مشیر اور بیوروکریٹس یا تو انکے اتحادی ہیں یا پھر یہ ان کے سامنے بے بس ہیں ۔ دوسرے جانب اپوزیشن بھی جلسے جلوس کرنے پر بضد ہے۔ کیونکہ انکو اپنی باری کی فکر ہے ۔ ڈھائی سال گزر گئے ہیں بغیر کرسی کے ۔۔۔ یاد تو ستائے گی اب ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پی ڈی ایم کے ترجمان میاں افتخار حسین تو کہتے ہیں کہ 22 نومبر کو پشاور جلسہ ہر صورت ہوگا۔ تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ حکومت جلسے کو ناکام بنانے کے لئے لاکھ کوششیں کرے ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑیگا۔ دوسری طرف لاہور کے جلسے کے حوالے سے بھی ن لیگ کا یہ ہی موقف ہے ۔ کہ کورونا ۔۔۔ ورونا کچھ نہیں ۔۔۔ تحریک یونہی چلتی رہے گی ۔ عوام چاہے مر جائیں ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آخر میں پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان اگر اپنے پارٹی منشور کے مطابق سسٹم کی اصلاح کیلئے جو آئینی ترامیم لانا چاہتے ہیں انکی دوتہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کی خاطر انہیں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کرکے اسکے ساتھ معاملہ فہمی سے کام لینا ہوگا۔ اگر ہماری سیاست میں تحمل اور برداشت کا کلچر حاوی ہو جائے تو مطلوبہ قوانین منظور کرانے میں بھی کوئی دقت نہیں رہے گی اور انتخابی نتائج کو قبول کرنے کی روایت کا بھی آغاز ہو جائیگا۔ اگر وزیراعظم عمران خان اس معاملہ میں پیش رفت کرینگے تو ایک مدبر قومی قائد کی حیثیت سے انکی نیک نامی میں مزید اضافہ ہوگا۔ آج پوائنٹ سکورنگ کی سیاست سے زیادہ افہام و تفہیم کی سیاست کی ضرورت ہے جس سے ملک میں سیاسی استحکام بھی پیدا ہوگا ۔ پارلیمنٹ کی افادیت میں اضافہ ہوگا اور ملک میں مہذب معاشروں والی جمہوریت کی جانب اہم قدم ہوگا ۔