Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوازشریف کی جان میں جان آگئی:شرپسندی پھیلانے کے لیے 6 ماہ اورمل گئے

    نوازشریف کی جان میں جان آگئی:شرپسندی پھیلانے کے لیے 6 ماہ اورمل گئے

    اسلام آباد: نوازشریف کی جان میں جان آگئی:شرپسندی پھیلانے کے لیے 6 ماہ اورمل گئے،اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے نواز شریف کو برطانیہ میں 6 ماہ کی توسیع مل گئی۔

    ذرائع کے مطابق نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ برطانوی حکومت کے پاس ہماری باقاعدہ تحریر جاچکی ہے جس میں برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کا ویزا ختم کردیں۔

    شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف کے پاس اب دو تین آپشنز ہیں جس پر وہ برطانیہ میں رہ سکتے ہیں، وہ بیماری کا کہہ کر برطانیہ میں رہ سکتے ہیں لیکن بیماری کا بتانا ہوگا، انہیں بتانا ہوگا کس علاج کے لیے آئے اور کیا پاکستان میں علاج ممکن نہیں تھا۔

    معاون خصوصی کے مطابق نواز شریف بانی متحدہ کی طرح سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے سکتے ہیں، نواز شریف کو واپس لانے کے لیے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف کے پاس ملٹی پل 10 سال کا ویزا تھا جس بنیاد پر وہ باہر گئے، برطانوی حکومت کو نواز شریف کی ضمانت کی ٹرم اینڈ کنڈیشن سے آگاہ کیا تھا، برطانیہ کو اب آگاہ کردیا ہے کہ نواز شریف کا اسٹیٹس مفرور مجرم کا ہے، برطانوی حکومت ان کا اسٹیٹس دیکھ رہی ہے۔

    اسحاق ڈار کے حوالے سے شہزاد اکبر نے کہا کہ دیکھنا ہوگا اسحاق ڈار اس وقت برطانیہ میں کس اسٹیٹس پر رہ رہے ہیں، وہ برطانیہ میں ایک سال سے زائد عرصے سے رہے ہے ہیں، انہیں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے ان کی پراپرٹی سیل ہوچکی ہے۔

  • علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی وفات پا گئے،

    خادم رضوی کی آج شب لاہور میں شیخ زید ہسپتال میں موت ہوئی ہے، طبیعت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا

    تحریک لبیک نے گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے 15 نومبر کو اسلام آباد میں لیاقت باغ سے فیض آباد تک مارچ کیا تھا اور دوسرے روز حکومت سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا تھا، اس مارچ کے آخری روز علامہ خادم رضوی نے بھی خطاب کیا تھا،

    تحریک لبیک نے حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا،حکومتی مذاکراتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔معاہدے پر وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ،وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور کمشنر اسلام آباد کے دستخط بھی موجود ہیں،حکومتی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے 4 نکاتی تحریری معاہدے جاری کیا گیا ،معاہدے کے مطابق حکومت دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی،فرانس میں پاکستانی سفیر تعینات نہیں کیا جائے گا،فرانس کی مصنوعات کا سرکاری طور پر بائیکاٹ کیا جائے گا،تحریک لبیک پاکستان کے گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے گا،

    فیض آباد، تحریک لبیک کا احتجاج جاری، پولیس کا رات گئے آپریشن ناکام

    تحریک لبیک احتجاج، اسلام آباد میں کون کونسے راستے بند ہیں؟ ڈی سی نے بتا دیا

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

    فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

    تحفظ ناموس رسالت مارچ لیاقت باغ تا فیض آباد تحریکِ لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے تھے، وفاقی وزیر داخلہ برگیڈیر(ر) اعجاز شاہ، وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، کمشنر اسلام آباد و دیگر وزراء کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے پنجاب کے امیر علامہ پیر سید عنایت الحق شاہ سلطانپوری اور کے پی کے امیر علامہ ڈاکٹر محمد شفیق آمینی ٹی ایل پی پنجاب کے ناظم اعلی علامہ مفتی غلام عباس فیضی تھے

    علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد حکومت کی جانب سے کیا جانے والے معاہدے پر عمل ہوتا ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، اگر معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو کیا پھر دوبارہ دھرنا ہو گا اور اب مارچ کی قیادت کون کرے گا، اسکا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا

  • تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کون تھے ،کہاں پیداہوئےاورشہرت کیسے پائی

    تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کون تھے ،کہاں پیداہوئےاورشہرت کیسے پائی

    لاہور:تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی آج 55 سال کی عمر میں وفات پاگئے ،علامہ خادم حسین رضوی کوکون نہیں جانتا ، انہوں نے جس انداز سے شہرت کمائی شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوجوان کے مزاج اورحالات زندگی سے واقف نہ ہو، پھربھی اگرکسی کوان کی زندگی کے سفر کا کوئی خاص علم نہیں توپھرآج باغی ٹی وی اپنے چاہنے والوں کوبتاتا ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کون تھے ،کہاں پیداہوئےاورشہرت کیسے پائی،

    ذرائع کے مطابق مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ نومبر 2017 کی بات ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی نے ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد پر دھرنا دیا۔ تین برس بعد نومبر 2020 میں ایک مرتبہ پھر ان کی جماعت کے کارکنوں نے اسی مقام پر دھرنا دیا تھا ، جس کے بارے میں‌ پچھلے دودن سے بڑی گرم خبریں آرہی تھیں کہ معاہدہ بہت ہی اہم تھا

    ادھر ذرائع کے مطابق ان کے بارے میں حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ لاہور کی ایک مسجد کے 52 سالہ خطیب نے اصل شہرت نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنا دے کر حاصل کی تھی۔ اس سے قبل وہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے معاملے میں بھی کافی سرگرم رہے تھے اور وہیں سے انھوں نے اپنی دینی سرگرمیوں کو سیاست کا رنگ دیا۔

    مولانا خادم حسین رضوی جوکہ بریلوی مکتبہ فکرسے تعلق رکھتے تھے ان کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

    انہیں اسباب کی وجہ سے ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے بریلوی طبقے کے قدامت پسندوں نے زیادہ متحرک سیاسی کردار اپنایا ہے۔ لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ اور بریلوی دیوبندی اختلاف سال 2012 کے بعد سے دیکھا جا رہاتھا ۔خادم حسین رضوی کو گذشتہ برس کے احتجاجی دھرنے میں سنی تحریک کی بھی حمایت حاصل رہی تھی۔

    ویل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود خادم حسین رضوی پاکستان میں توہین رسالت کے متنازع قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے ۔ وہ اس قانون کے غلط استعمال کے الزام سے بھی متفق نہیں۔ ان کا انداز بیان کافی سخت ہوتا تھا ۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے کوریج نہ ملنے کا حل بظاہر انھوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر کے نکالا ۔ ناصرف اردو اور انگریزی میں ان کی ویب سائٹس اب موجود ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی اکاؤنٹ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کا ’چوکیدار‘ کہہ کر بلاتے تھے ۔

    خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سےتھا ۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے ۔ ان کے دو بیٹے بھی مختلف احتجاج میں شریک رہے ہیں۔ خادم حسین ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے ۔

    علامہ خادم حسین رضوی 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ ان پر مختلف نوعیت کے کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ اعجاز اشرفی نے بتایا کہ ان مقدمات کی تعداد کتنی ہے انھیں یاد نہیں۔ لیکن تحریک کے آغاز سے اب تک انھیں گرفتار نہیں کیا گیا تھا ۔ شاید اس کی وجہ ان کی ’سٹریٹ پاور‘ ہے۔

    جنوری 2017 میں بھی توہین مذہب کے قانون کے حق میں انھوں نے لاہور میں ایک ریلی نکالی تھی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔ انھیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا اور انھیں آج بھی پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انھیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو آگاہ رکھنا ہوتا ہے۔ ’خادم حسین رضوی اپنے اونچے عہدے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے ساتھ بدتمیز تصورکیے جاتے تھے‘۔

  • عمران خان کا دورہ افغانستان سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش ناکام

    عمران خان کا دورہ افغانستان سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش ناکام

    کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ افغانستان کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے ایک سینئر افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باغی ٹی وی کو جو حقائق بتائے اس سے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ اس افسے کے مطابق بھارت نے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں عمران خان کے خلاف مظاہرے کرنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کئے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ لوگ جن کو پیسے دئیے گئے وہ کم از کم پانچ پانچ سو لوگ تمام بڑے شہروں میں مظاہرے میں اکٹھا کریں گے لیکن خوست اور پکتیا کے سوا کسی جگہ پر بھی بھارت کو اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ہو سکی اور کہیں پر بھی لوگوں کو عمران خان کے خلاف مظاہروں میں شرکت کے لئے باہر نہ نکالا جا سکا۔ خوست میں کئے جانے والے مظاہرے میں صرف 11 لوگ شامل ہوئے جب کہ پکتیا میں 50 کے قرہب لوگ باہر نکالے جاسکے۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے نے خوست اور پکتیا کے "مظاہروں” کی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی بھی کوشش کی لیکن ان کی یہ کوشش بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ 

  • مولانا خادم حسین رضوی وفات پاگئے

    مولانا خادم حسین رضوی وفات پاگئے

    :لاہور:مولانا خادم حسین رضوی وفات پاگئے ،خبرجنگل میں‌آگ کی طرح پھیل گئی ، ،اطلاعات کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پرایک خبرتیزی سے گردش کررہی ہےکہ مولانا خادم رضوی وفات پاگئے ہیں ، اس حوالے سے بعض ذرائع نے اس خبرکومصدقہ قراردیا

    ذرائع کے مطابق مولانا خادم رضوی کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی دل کے عارضے میں مبتلا تھے اوراس سے پہلے بھی ان کوکئی مرتبہ دل کی تکلیف ہوئی تھی

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ پچھلے دودن سے مولانا خادم حسین رضوی کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی

    2018 میں بھی تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا ۔ خادم حسین رضوی کو لاہور کے جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا تھا ۔ڈاکٹرو ںنے ای سی جی ،ایکسرے ،اور بلڈٹیسٹ کئے۔بعد ازاں حالت خطرے سے باہر ہونے کے بعد سخت سیکیورٹی حصار میں اسپتال کے پرایﺅیٹ روم میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔

  • سندھ میں کرونا کی وجہ سے حالات خراب: ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، طبی عملےکی چھٹیاں منسوخ

    سندھ میں کرونا کی وجہ سے حالات خراب: ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، طبی عملےکی چھٹیاں منسوخ

    کراچی :سندھ میں کرونا کی وجہ سے حالات خراب: ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ،اطلاعات کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز بڑھنے پر صوبائی حکومت نے ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر کے محکمہ صحت کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔

    تفصیلات کے مطابق کورونا کی نئی لہر کے پیشِ نظر سندھ حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ نےایمرجنسی کنٹرول روم کانوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی چھٹی منزل پر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کیاگیاہے جس میں 4 ڈاکٹرز سمیت 9افسران فرائض انجام دیں گے۔

    سندھ حکومت نےمحکمہ صحت میں ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں۔اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کومیڈیکل بنیادوں پرصرف چھٹی مل سکے گی جب کہ محکمہ صحت میں گریڈ1سے18تک کےتبادلےاورتقرریوں پربھی پابندی عائد ہوگی۔

  • آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات.اہم امور پر بات چیت

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات.اہم امور پر بات چیت

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات.اہم امور پر بات چیت

    باغی ٹی وی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات, ملاقات میں افغان امن عمل پربات چیت،آئی ایس پی آر, امریکی ناظم الامورنے افغان اورعلاقائی امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا محترمہ انگیلا ایجلر ، امریکی چارج ڈی ’اففئرس آف پاکستان‘ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال خصوصا ریجنل افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


    دونوں معززین کا دورہ کرنے سے خطے میں تنازعات کی روک تھام اور پاکستان کے امن عمل میں فراہم کی جانے والی انتھک امداد کے لئے پاکستان کے تعاون کو سراہا گیا۔ فریقین نے افغانستان میں امن کے مشترکہ مقصد کے لئے امریکی تعاون کو جاری رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

  • کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہیئے،وزیراعظم

    کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہیئے،وزیراعظم

    کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہیئے،وزیراعظم

    افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں،افغانستان آنے پر وزیراعظم عمران خان کا مشکور ہوں،پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت سے سب آگاہ ہے،آزادی اظہار رائے کے حوالے سے منفی اور فمثبت ریوں میں تفریق ضروری ہے،رسولﷺ کی ناموس تمام مسلمانوں کی عزت سے جڑی ہے ،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دورہ کابل کے لیے آپ کی دعوت کامشکور ہوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں،60کی دہائی میں کابل سیاحت کےلیے بہترین مانا جاتا تھا،پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا تاریخی پس منظر ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مفاہمتی عمل میں پاکستان  نے اپنا مثبت کردار ادا کیا ،خطے میں معاشی ترقی اور مثبت رابطے کے افغانستان میں امن ناگزیر ہے ،حکومت پاکستان اور عوام افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقے متاثر ہوئے،افغان حکومت اور طالبان کےدرمیان جنگ بندی چاہتے ہیں،کابل اور اسلام آبادکے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہییں،امن مذاکرات کے باوجود افغانستان میں پر تشدد واقعات پر تشویش ہے

    وزیراعظم عرمان خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور روابط میں اضافہ ہوگا ،افغانستان میں امن ہمارے اپنے مفاد میں ہے،

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کابل میں افغان صدارتی محل پہنچ گئے ,وزیراعظم عمران خان کا افغان صدراشرف غنی نے استقبال کیا.وزیراعظم نے اپنے وفد کا افغان صدر سے تعارف کرایا،افغان صدرنے وزیراعظم کا اپنے وفد سے تعارف کرایا

    وزیراعظم عمران خان اور وفد کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی،صدارتی محل میں وزیراعظم عمران خان کو گارڈ آف آنر پیش کیا جا رہا ہے وزیراعظم عمران خان کو افغان مسلح افواج کے دستے نے سلامی پیش کی،تقریب کے آغاز پر دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے

    وزیراعظم کابل پہنچ گئے، کون کون ہمراہ؟

    افغان صدارتی محل میں وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،عبدالرزاق داوَد بھی وزیراعظم عمرا ن خان کے ہمراہ ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی ہیں،سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اورافغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق بھی ہمراہ ہیں،وزیراعظم اوروفد کا کابل ایئرپورٹ پر افغان وزیرخارجہ محمد حنیف اتمرنے استقبال کیا

    وزیراعظم عمران خان دورہ افغانستان میں افغان امن عمل، دوطرفہ تعلقات پر بات کریں گے۔ وزیراعظم ایک روزہ دورہ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ افغانستان انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے۔وزیراعظم کا دورہ افغانستان کثیر الجہتی تعلقات فروغ دینے میں معاون ہوگا ،وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

    وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ افغان ہم منصب سے ملاقات

  • اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے پاکستانی صحافی مبشرلقمان کی گفتگوبڑی اہمیت کی حامل ہے:اسرائیلی اخبار”یروشلم پوسٹ”

    اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے پاکستانی صحافی مبشرلقمان کی گفتگوبڑی اہمیت کی حامل ہے:اسرائیلی اخبار”یروشلم پوسٹ”

    یروشلم :اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے پاکستانی صحافی مبشرلقمان کی گفتگوبڑی اہمیت کی حامل ہے:اسرائیلی اخباریروشلم کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی معروف اخبار یروشلم پوسٹ نے پاکستان کے معروف صحافی مبشرلقمان کی پاکستان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے گفتگو بڑی اہمیت کی حامل ہے

    یروشلم پوسٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس صحافی نے جوخطرات اورخدشات بیان کیئے ہیں وہ قابل غورہیں ،یروشلم پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ مبشرلقمان کا یہ کہنا کہ پاکستان پراس وقت کچھ ممالک کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے بالواسطہ اوربلا واسطہ دبوضرور ہے

     

    یروشلم پوسٹ کے مطابق 24 نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز پاکستانی صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے والا ملک ہے۔

    یروشلم پوسٹ کا کہنا کہ مبشرلقمان کا بیان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد ہے کہ امریکہ اور دیگر بے نام ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے اسلام آباد کو "دباؤ میں” رکھا ہے۔

     

     

    اخبار کے مطابق مبشرلقمان کہتے ہیں کہ "مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے ،پاکستان پردباوبڑھانے میں سب سے پہلے سعودی عرب ہے ،یروشلم پوسٹ کے مطابق مبشرلقمان نے آئی 24 کوانٹریوکے دوران کو بتایا۔ "صرف چار ممالک ہیں جو پاکستان پردباوبڑھا سکتے ہیں ، ان میں‌ ایک امریکہ ، دوسرا اسرائیل ، تیسرا ہندوستان اور چوتھا سعودی عرب۔ کوئی پانچواں ملک ایسا نہیں ہے جوپاکستان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے بارگیننگ کررہے ہیں

    یروشلم پوسٹ کے مبشرلقمان کا یہ دعویٰ‌ بہت وزن رکھتا ہےکہ پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے کسی کا دباوقبول نہیں کرے گا خاص کرموجودہ وزیراعظم عمران کی موجودگی میں تواس پربحث ہی فضول ہے

    یروشلم پوسٹ کے مطابق مبشرلقمان نے خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ گذشتہ برسوں میں اس کے ارتقاء کو بھی اجمالی خاکہ پیش کیا –

    جہاں ایک طرف پاکستان دباؤ کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے بہت ہمدردر چین ، ایران ، ترکی اور ملائیشیا کی شکل میں موجود ہیں ،ان حالات میں پاکستان پردنیا کے دباو کی کوئی حیثیت اوراہمیت نہیں ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک مضبوط سیاسی قیادت عمران خان کی شکل میں موجود ہے جودباو کوکبھی خاطر میں نہیں لاتے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پاکستان کواسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ آفرز ہیں ، لیکن پاکستان اپنے نظریات پرکبھی بھی سودا نہیں کرے گا

    مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورحکومت کے تیسرے سال پاکستان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے بہت زیادہ دباو تھا لیکن عمران خان نے اس کی پرواہ نہیں‌کی

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے دباو ہے تو وہ صرف صرف سعودی عرب کا ہے ،سعودی عرب پاکستان کی معاشی صورت حال کوکارڈ کے طورپراستعمال کرنے کی کوشش کی جسے عمران خان نے مسترد کردیا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکہ کے نئے منتخب ہونے والے صدرجوبائیڈن بھی اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان پردباو بڑھائین گے لیکن یہ بات طئے ہے کہ عمران خان اپنے نظریات اورپاکستانی موقف پرکبھی بھی سودا نہیں کریں گے,امریکی نومنتخب صدرجوبائیڈن افغانستان ، کشمیر ، ایران اورخطے کے دوسرے اہم مسائل کے حوالے سے بھی ایک الگ موقف رکھتے ہیں ،

     

     

    یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے دباو سے نکلنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے دی گئی امداد واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورپاکستان بہت جلد یہ 2 ارب ڈالرز سعودی عرب کوواپس کرکے سعودی عرب کے دباو کو دورپھینک مارے گا

  • افغان صدارتی محل میں وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش

    افغان صدارتی محل میں وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کابل میں افغان صدارتی محل پہنچ گئے

    وزیراعظم عمران خان کا افغان صدراشرف غنی نے استقبال کیا.وزیراعظم نے اپنے وفد کا افغان صدر سے تعارف کرایا،افغان صدرنے وزیراعظم کا اپنے وفد سے تعارف کرایا

    وزیراعظم عمران خان اور وفد کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی،صدارتی محل میں وزیراعظم عمران خان کو گارڈ آف آنر پیش کیا جا رہا ہے وزیراعظم عمران خان کو افغان مسلح افواج کے دستے نے سلامی پیش کی،تقریب کے آغاز پر دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،عبدالرزاق داوَد بھی وزیراعظم عمرا ن خان کے ہمراہ ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی ہیں،سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اورافغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق بھی ہمراہ ہیں،وزیراعظم اوروفد کا کابل ایئرپورٹ پر افغان وزیرخارجہ محمد حنیف اتمرنے استقبال کیا

    وزیراعظم عمران خان دورہ افغانستان میں افغان امن عمل، دوطرفہ تعلقات پر بات کریں گے۔ وزیراعظم ایک روزہ دورہ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ افغانستان انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے۔وزیراعظم کا دورہ افغانستان کثیر الجہتی تعلقات فروغ دینے میں معاون ہوگا ،وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

    وزیراعظم کے دورہ افغانستان کے حوالہ سے کابل میں پاکستانی پرچم لگائے گئے ہیں جبکہ عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے،افغانستان میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ کے حوالہ سے جوش و خروش پایا جاتا ہے

    گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کی ہر حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے پاک افغان تجارت سرمایہ کاری فورم 2020 کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کے افغانستان سے روابط صدیوں سے ہیں تاہم افغانستان میں انتشار کے باعث دونوں ممالک کو نقصان پہنچا۔ پاکستان پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔

    وزیراعظم کابل پہنچ گئے، کون کون ہمراہ؟