کس مفرور کا انٹرویو ائیر کروانا چاہتے ہیں؟ ریلیف نہیں دے سکتے، عدالت
عدالتی اشتہاریوں کی تقاریر نشر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت 16دسمبر تک ملتوی کر دی گئی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرلیے،عدالت نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ریلیف کس کے لیے مانگ رہے ہیں؟ اس آرڈر کا کسی کو تو فائدہ ہوگا، سابق صدر پرویزمشرف کیس میں پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں،حالیہ برسوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عدلیہ کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا،یہ بہت سنجیدہ سوال ہے،
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کیس میں کہہ چکے کسی مفرور کے لیے کوئی ریلیف نہیں ،یہ درخواست گزار بتا دیں کہ کس کے لیے ریلیف چاہ رہے ہیں؟پیمرا نے کس پر پابندی عائد کی ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیمرا نے کسی کے خلاف آرڈر پاس نہیں کیا، عدالت نے کہا کہ یہاں پر موجود درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں،اس آرڈر سے دو لوگ متاثر ہیں
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دو نہیں ہزارواں افراد متاثر ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ جو متاثرہ فریق ہے وہ پیمرا کے حکم کیخلاف اپیل کرسکتا ہے، درخواست گزار کس مفرور کا انٹرویو ائیر کروانا چاہتے ہیں؟ اس طرح تو پھر تمام مفرور ملزمان کو اجازت دی جائے،مفرور ملزم کی تو شہریت منسوخ ہوسکتی ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ ایسا نہیں ہے،
عدالت نے کہا کہ مفرور ملزم کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کیا جاتا ہے،مفرور ملزم پہلے عدالت کے سامنے سرنڈر کریں پھر وہ قانونی حقوق سے فائدہ اٹھائیں، مفرور ملزم خود عدالت سے رجوع نہیں کررہے،
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مفرور ہونا بہت سنجیدہ بات ہے،ہر مفرور چاہے گا اسے آن ائیر ٹائم دیا جائے،حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا، عدالت پیمرا کا آرڈر منسوخ کرتی ہے تو تمام مفرور کو آن ائیر جانے کا حق ملے گا، عدالت مفرور ملزمان کو ریلیف نہیں دے سکتی، یہ پارلیمنٹ کا سوال نہیں بلکہ عدلیہ پر اعتماد کا ہے،غیرقانونی حکم کو بھی کوئی مفرور کہیں چیلنج نہیں کرسکتا،
دہشت گردوں کی چیک پوسٹ پر فائرنگ،پاک فوج کے 2 جوان شہید
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی چیک پوسٹ پر فائرنگ سے دو جوان شہید ہو گئے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق وزیرستان میں پاش زیارت کے قریب رات گئے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی۔ جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری جواب دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے 2 جوان حوالدار مطلوب عالم ، عمر 32 سال اور سپاہی سلیمان شوکت عمر 25 سال شہید ہو گئے جبکہ ایک جوان زخمی ہوگیا۔
ڈی جیآئی ایس پیآر کے مطابق وزیرستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے جوان کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، واقعہ کے بعد علاقہ میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے.
لاہور:پاکستان میں کس طرح قانون کی آڑمیں منی لانڈرنگ کی جاتی ہے:مبشرلقمان نے بتادیا ،اطلاعات کے مطابق سنیئرصحافی مبشرلقمان نے پاکستان میں قانون کی آڑ میں ہونے والی منی لانڈرنگ کے متعلق بہت ہوشربا انکشافات کیئے ہیںں،
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آپ کو منی لانڈرنگ کرنے والوں کی ایک ایسی کاروائی بتاوں گا جو کہ ہو تو بہت عرصے سے رہی ہے لیکن اس طریقہ کار پر ہمارے انویسٹی گیشن کرنے والے اداروں کی طرف سے زیادہ فوکس نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ وہ طریقہ ہے جس کے زریعے Money laundererسب سے زیادہ پیسہ بناتے ہیں۔ اور یہ طریقہ چھوٹے سے چھوٹے بزنس سے لے کر بڑے سے بڑے بزنس تک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اور وہ طریقہ ہےover invoiceingکا۔اس حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی ایف آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہover invoiceingکے ذریعے جو منی لانڈرنگ کی جا رہی ہیں ان کی تحقیقات کی جائیں۔ اور یہ کوئی حالیہ واقع نہیں ہے جس پر یہ مطالبہ کیا جارہا ہے یہ شکایت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے 2013 میں ایف آئی اے کو بھجوائی تھی کہ کوئلے کی درآمد میںover invoiceingکے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی جا رہی ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب میں آپ کو اس شکایت کے بارے میں کچھ تفصیلات بتاتا ہوں کہ کہانی کیا ہے۔۔ جس سے آپ کو یہ بھی سمجھ آجائے گی کہ یہ تمام کاروائی ہوتی کیسے ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وائس چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان جسٹس (ر) ڈاکٹر غوث محمد نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو ایک خط میں یونس برادر گروپ وائی بی جی کی ایک کمپنی کے ذریعہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں شکایت سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ پچھلے سات سال سے یہ منی لانڈرنگ کی جا رہی ہے۔Lucky Commodities (Pvt.) Limited Pakistanکوئلےکی ایک کمرشل امپورٹر ہے یہ کمپنی 2013 کے شروع سے کوئلے کی تجارت کررہی ہے اور یہ کمپنی یونس برادر گروپ وائی بی جی کی بہت سی کمپنیوں میں سے صرف ایک کمپنی ہے۔طاہر احمد خانLucky Commoditiesکے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شیئر ہولڈر ہیں جبکہ ساتھ ہی یہGlobal Commodities Limited Dubaiکے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شیئر ہولڈر بھی ہیں۔اور اب جوinterestingکام ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جون 2019 میں طاہر احمد خان نےGlobal Commodities Limited Dubaiکے سی ای او کی حیثیت سےLucky Commodities (Pvt.) LimitedPakistanکے سی ای او طاہر احمد خان کے ساتھ 37،215 ٹن کوئلہ فروخت کرنے کا معاہدہ کیا۔
مبشرلقمان انکشاف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسی مہینے طاہر احمد خان نےGlobal Commodities Limited Dubaiکے سی ای او کی حیثیت سےMercuria Singaporeکے ساتھ55،000 MTکوئلہ خریدنے کا معاہدہ بھی کیا جس میں قیمت 66.10 امریکی ڈالر فی ایم ٹی کے حساب سے رکھی گئی۔ جبکہ اس طرح کے کوئلے کی قیمت 5،814 بتائی جاتی ہے۔اب قیمتوں کے فرق کو اس لئےignorنہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں کمپنیوں کے سی ای او بھی ایک ہی ہیں اور وہ کوئلہ جس کی خریدوفروخت یہ کمپنیز کرتی ہیں ان کے کوئلے کا بھی ایک ہی معیار ہے اور یہ تمام کام ایک ساتھ ہونا محض کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا۔اور دونوں کمپینوں کے سی ای او ایک ہونا اس لئے بھی کنفرم ہے کہGlobal Commodities DubaiنےMercuria Singaporeکے ساتھ اپنے معاہدے میںcommunicationکے لئے جوای میل ایڈریس دیا گیا تھا وہ بھی لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کا ہی تھا۔ اور روٹین میں باقی تمام معاملات کے لئے بھی ایسا ہی ہے گلوبل کموڈٹیز کے لئے لکی کموڈیٹیز کا ہی ای میل ایڈریس استعمال ہوتا ہے۔ اور طاہر احمد یہاں کراچی میں بیٹھ کر گلوبل کموڈٹیز دبئی کے سی ای او کی حیثیت سے تمام کمپنیز سے ڈیل کرکے ان کے ساتھ تمام معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں۔اور کیا یہ جاتا ہے کہ پوری کھیپ کوTanjung Sabau Anchorage, South Kalimantan and Indonesiaسےکراچی ایک ہیvesselجس کا نامSB/ Taurusہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس کے زریعے بھیجا جاتا ہے۔ جبکہ لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کو جی سی ایل دبئی کی طرف سے پانچ اورMercuria Singaporeکے ذریعہ جی سی ایل دبئی کو پانچ کمرشل رسید جاری کی گئیں تھیں۔ یہ رسیدیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ جی سی ایل کے ذریعہ خریدا گیا کوئلہ کبھی دبئی نہیں جانا تھا جہاں جی سی ایل کمپنی واقع ہے۔ اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ جی سی ایل دبئی کا تعلق لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان سے ہے اور وہ فرنٹ اینڈ شیل کمپنی کے طور پر کام کررہی ہے جس کے ذریعے لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان اپنے ہی کوئلے کو امپورٹ کرکے پاکستان منتقل کرتا ہے۔بعد میں لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان نے جی سی ایل دبئی کے ساتھ کوئلہ خریدنے کا معاہدہ کیا۔ جی سی ایل دبئی کی جانب سے لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کو فروخت کیا جانے والا کوئلہ وہی کوئلہ تھا جو جی سی ایل نے Mercuriaسے خریدا تھا۔ اور یہ معاہدہ 76.05امریکی ڈالر پر کیا گیا تھا جو کہ اصل قیمت سے زیادہ تھی اورفریٹ چارج کا معاملہ الگ ہے۔
مبشرلقمان کہتےہیں کہ ایک ہی مال کو ایک کمپنی نے اصل سے زیادہ قیمت پر اپنی ہی دوسری کمپنی کو فروخت کیا۔ مال اپنی جگہ پر ہی موجود رہا لیکن صرف پیسے پاکستان سے باہر بھیجے گئے اور وہ بھی اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ۔ اوراس کے بعد اس سے بھی زیادہ قیمت پر تیسری کمپنی کووہ مال فروخت کیا جاتا ہے۔ یعنی کاغذات میں ہی صرف تمام کاروائی کی جاتی رہی۔ اصل قیمت کے علاوہ ٹرانسپورٹ چارجز بھی ڈالے جاتے ہیں جبکہ مال کہیں گیا بھی نہیں ہوتا۔ صرف کاغذات میں ہی سب ادھر ادھر کیا جاتا رہا۔
جبکہ فی ٹن 5.05 امریکی ڈالر کے حساب سے 2.5 ملین ٹن کوئلے پرover invoicingکرکے تقریبا 126 ملین امریکی ڈالر کمائے گئے۔ اور یہ صرف ایک کیس ہے جس کی شکایت 2013 میں سامنے آئی تھی اس کے بعد سے اب تک لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کے ذریعہ جو کاروبار ہوتا رہا ہے اگر اس کے ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی جائے تو اس سے بھی کہیں زیادہ رسیدوں کا معاملہ بھی سامنے آسکتا ہے۔
اس طرح کیover invoicingکرکے پاکستان سے غیرقانونی طور پر فنڈز ٹرانسفر کئے جاتے ہیں اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فنڈز imported commoditiesکے لئے استعمال ہوتے ہیں۔اور قانونی طور پر اس معاملے کو اس طرح سے تحفظ دیا جاتا ہےکہ یہ تمام کمپنیز اورtransactionsسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریکارڈ میں شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس طرح تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں خدشہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ رقم دہشت گردوں کی مالی مدد میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس لئے جو مالی بے ضابطگیاں اسمگلنگ اور ڈرگز کی صورت میں سر عام کی جاتی ہیں ان کے ساتھ ساتھ اس طرح کی منی لانڈرنگ پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو کہ تجارت کی آڑ میں کی جاتی ہے۔ اور یہ تمام طریقے ابھی تک ہمارے تحقیقاتی اداروں کی آنکھ سے بھی اوجھل ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے سرمایہ کار مال بنانے میں مصروف ہیں۔
سنیئر صحافی کہتے ہین کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی ایف آئی اے سے درخواست کا مقصد بھی یہی ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی 1974 ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کو مختلف جرائم کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے تاکہ اس طرح کی منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے ورنہ سات سالوں سے جاری یہ سلسلہ آگے بھی کَی سالوں تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔
لاہور:اگلی بڑی جنگ کہاں ہوگی،تیاریاں مکمل ہوچکیں:مبشرلقمان نے حقائق سے پردہ اٹھادیا،اطلاعات کے مطابق اس وقت دنیا کے دفاعی تجزیہ نگار،ماہرین اورجنگ کے کھلاڑی اس بات پرپریشان ہیں کہ اگلی ہونے والی جنگ دنیا کواپنی لپیٹ میںلے لے گی، لیکن ساتھ ساتھ یہ بحث بھی زورپکڑرہی ہےکہ یہ جنگ کہاں اورکن ممالک کے درمیان ہوگی اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے خطے کے معاشی ،معاشرتی اوردفاعی حالات کی منظرکشی کی ہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ !۔ بندرگاہیں اور آبی راستے قوموں کی ترقی میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ان ہی کی مرہون منت ہیں۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں ۔ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق 2018ء تک چین کی 84 فیصد تجارت آبنائے ملاکا (Strait of Malacca)کے ذریعے کی گئی ہے اور اب امریکا کی نظریں اسی ۔۔ سٹریٹ آف ملاکا ۔۔۔ پر جمی ہوئی ہیں۔ سٹریٹ آف ملاکا انڈونیشیا اور ملائیشیا کے مابین اسٹریٹجک بحری گزرگاہ ہے ۔ چین کی زیا دہ تر امپورٹس ۔۔۔ سٹریٹ آف ملاکا ۔۔ سے ہی گزرتی ہیں۔ بحر ہند کی طرف دیکھیں تو یہ 45 ملین مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور رابرٹ ڈی کپلان امریکا اور اس کی حلیف طاقتوں کی ۔۔۔ بحر ہند میں کشمکش ۔۔۔ کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کر چکا ہے کہ کل کا جنگی میدان جرمنی یا آسٹریا نہیں اور نہ ہی یہ روس اور امریکا کی فضائوں اور سمندروں میں ہو گا بلکہ بحیرہ ہند کا یہی حصہ ”Center Stage for The 21st Centuary‘‘ بنے گا۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکا گوادر پورٹ، سی پیک اور سٹریٹ آف ملاکا کو اپنے نشانے پر رکھنے کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بحر ہند میں شاید انہی مقاصد کے لئے فوجی اڈے اور باہمی مشقیں کراتے ہوئے کمال چالاکی سے آسٹریلیا اور بھارت کو استعمال کرتے ہوئے انہیں سینٹرل ایشیا، جنوبی ایشیا، پیسیفک ایشیا اور بحر ہند کی حکمرانی دینے کے خواب دکھا رہا ہے۔
۔ اس وقت امریکہ دنیا کو بظاہر تاثر دے رہا ھے کہ ھم یعنی امریکہ، جاپان، بھارت اور آسٹریلیا مل کر کرونا لاک ڈاؤن کے بعد کے معاشی معاملات کو سنبھالنے سے متعلق ایک فورم پر اکٹھے ھوئے ھیں۔ جبکہ کھلی سچائی یہ ھے کہ اس وقت امریکہ چین کی بڑھتی ھوئی معاشی و فوجی طاقت کے سامنے بندھ باندھنا چاھتا ھے۔ چاھے چین کی تجارتی ناکہ بندی کرنی پڑے یا چاھے کھلی جنگ کرنی پڑے۔
۔ امریکہ کا ھمیشہ یہ وطیرہ رہا ھے کہ کسی بھی ملک کے خلاف جنگ میں امریکہ اکیلا نہیں کودتا۔ بالخصوص چین جیسی فوجی طاقت جو جنگ کی صورت میں امریکی سٹیلائیٹس تک کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ھے۔ اسکے خلاف امریکہ اکیلا کیسے جنگ چھیڑ سکتا ھے۔ لہذا اسی مقصد کے تحت امریکہ نے مشرقی ملک جاپان، چین کے قریب ترین ھمسایے بھارت اور نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے ملک اسٹریلیا کو ساتھ ملایا ھے۔
۔ اس وقت ان چاروں ممالک پر مشتمل ۔۔۔ quad ۔۔۔ اتحاد کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ساؤتھ چائنہ سی میں چین کی تجارت کو روکنا کیسے ھے۔ پلان کے تحت ۔۔۔ نیکو بار جزیرے ۔۔۔ پر بیٹھ کر بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر۔۔۔ اسٹریٹ آف ملاکا ۔۔۔سے گزر کر آنے والی چینی تجارت کی ناکہ بندی کر کے چینی تجارت کو روکنے کی کوشش کریگا۔ جبکہ امریکہ جاپان کے ساتھ مل کر ویتنام اور ساؤتھ چائنہ سی میں بھی چین کو روکے گا۔۔ امریکا نے بڑی ہی خاموشی سے تائیوان کے ساتھ 620ملین ڈالر اسلحہ کے فروخت کی ڈیل کی ہے جس میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے پیٹریاٹ میزائل بھی شامل ہیں تاکہ چین کے مقابلے میں اسے ہر طرح سے تیار کیا جا سکے۔ چین نے اسلحہ کی اس ڈیل کے جواب میں امریکا کے دفاعی کنٹریکٹر ۔۔ Lockheed Martin۔۔ پر پابندی عائد کرتے ہوئے امریکا کو وارننگ دی ہے کہ ۔۔ تم دیکھو گے کہ بہت جلد تائیوان چین کا حصہ ہو گا کیونکہ وہاں کی اکثریت چین کے ساتھ شامل ہونے کے لئے بے تاب ہے۔
مبشرلقمان جائزہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح گلوان میں بھارت چینی فوج کے قبضے پر بھارت اچھل کود رہا ہے۔ سائوتھ چائنہ سمندر کےParacelجزیرے میں چینی فوج کی بڑھتی ہوئی تعداد اور وہاں F-6J بمبار کی deployment پر ویتنام پھنکار رہا ہے۔ چین کی اس پیش قدمی کا مقصد امریکا کو سخت جواب دینا ہے۔ ۔ چین نے اس ۔۔۔quad۔۔۔ اتحاد کا زور توڑتے ھوئے ھمسایہ ملک کمبوڈیا کے ساتھ بڑے معائدے کر لیے ھیں۔ چین نے quad alliance کیخلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے کمبوڈیا کیساتھ ایک بڑا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چین کمبوڈیا میںnaval base تعمیر کرے گا۔ جہاں سے چین بھارت اور امریکہ پر بیک وقت نظررکھے گا۔ بھارت جو اپنے۔۔ نیکو بار آئی لینڈ ۔۔ پر بیٹھ کر سٹریٹ آف ملاکا بند کرنے جا رہا تھا۔ اب چین کمبوڈیا میں بیٹھ کر بھارتی و امریکی سمندری راستے آسانی سے بند کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف کمبوڈیا نے چین کے ساتھ معاہدے کے فوری بعد وہاں موجود american naval baseکی عمارت بھی گرا دی ہے۔ اب اس جگہ پرchinese naval baseکی تعمیر ہونے جا رہی ہے، کمبوڈیا نے چین کو 99 سال کیلیے لیز پر یہ نیول بیس دیا ھے۔ کمبوڈیا کے ساحلی علاقوں کی کمانڈ چین کو دی جا رہی ہے۔ جو اس چار ملکی امریکی الائنس کیلئے خطرہ ہے۔ چین8.3 ارب ڈالرز سے کمبوڈیا کے ساحلوں پر سیاحت کے فروغ کیلیے ریزورٹس اور ہوٹلز تعمیر کر رہا ہے۔ اور کمبوڈیا کو تجارتی حب بنانے کی تیاری جاری ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مائک پومپیو کا کہنا ہے، کمبوڈیا میں چینی نیول بیس کے قیام کے بعد indo pacific strategy کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ جس سے ہمارے اتحادیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ کمبوڈیا کے ساتھ معائدے کے بعد اب ساؤتھ چائنہ سی میں پاور گیم الٹ چکی ہے۔ کیونکہ اب چار ملکی چین مخالف اتحاد بےاثر ھونے جا رہا ھے۔ادھر اسٹریٹ آف ملاکا میں ناکہ بندی کر کے چین کی تجارت روکنے کی کوشش کرنے والوں کو یہ نہیں پتہ کہ چین belt and road initiativeکے ساتھ سی پیک اور ون بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹس کو منسلک کر کے دنیا کے ستر ممالک کے ساتھ مختصر ترین زمینی رابطے بحال کرنے جا رہا ھے۔ جو چین کی تجارت کو چار چاند لگا دے گا۔
سٹریٹجکلی پاکستان بحرہند میں سٹریٹ آف ہرمز کیلئے بہت اہم گیٹ وے ہے اور اسی سٹریٹ سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی لیے گوادر پورٹ کے بننے سے پاکستان ایک معاشی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ اگر ہم اس کی اہمیت فوجی لحاظ سے دیکھیں تو اس بندر گاہ سے بحیرہ عرب پر ہمارا تسلط قائم ہوتا ہے۔ خاص طور پر بھارت سے ہمارا فاصلہ 460 کلو میٹر بڑھ جاتا ہے۔ ہم بھارت کی آنکھوں سے دور اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو گیا ہے کیونکہ گوادر پورٹ سے سی لائنز آف کمیونیکیشنز ( Sea Line of Communications )کو مانیٹر کرنے میں مدد ملے گی۔۔ اسی لیے یہ بندرگاہ جہاں وسط ایشیائی ریاستوں اور چین کی آنکھوں کا تارا ہے تو وہاں کچھ ممالک کی آنکھوں کا کانٹا بھی ہے۔
اگر امریکہ ملاکا سٹریٹ بند کردیتا ہے تو چین کیلئے بحرہند اورمغربی ایشیاکی تجارت صرف گوادر پورٹ سے ہی ممکن ہے۔ چین بھی اس لئے اس بندر گاہ میں دلچسپی رکھتا ہے کہ اس سے نہ صرف وہ بھارتی نیوی کی نگرانی کرسکتا ہے بلکہ خلیج فارس سے اپنی توانائی کی 60 فیصد ضروریات بھی پوری کرسکتا ہے کیونکہ اس کا صفیانہ آئل فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا آف شور آئل فیلڈ ہے۔ اسی لیے اس اکنامک کوریڈور کو سڑک، ریل اور آپٹک فائبر کے ذریعے باہم منسلک کیا جا رہا ہے جبکہ تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق گوادر پورٹ اور اکنامک کوریڈور کام شروع کرتے ہی چین کو سالانہ تیل کی درآمد کی مد میں 20 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ دینے لگیں گے جبکہ پاکستان کو محض محصول کی وصولی پر 5 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ جو ممالک چین کے اس منصوبے کا حصہ بننے جا رہے ھیں وہ یقینی طور پر چین کے مضبوط دفاعی اور اسٹریٹیجک اتحادی بھی بن جائیں گے۔ یہی ممالک ان شاءالله اب امریکہ و بھارت کہ بجائے چین کے ھمدرد اور اتحادی ھوں گے۔ جیسے نیپال بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں شامل ھو کر بھارتی دباؤ سے نکل رہا ھے۔ ایران بھی امریکہ بھارتی کیمپ سے نکل کر چینی کیمپ میں آچکا ھے۔ افغانستان جو اب طالبان کا ملک بننے جا رہا ھے وہ بھی اب چین کے ساتھ کھڑا ھو گا۔ روس پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ کھڑے ھیں۔
نقشے میں دیکھ لیجیے پورے خطے کے ممالک اس منصوبے کا حصہ ھیں لیکن بھارت کو اس منصوبے سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ھے۔ چین کے مشرق و مغرب میں بلکہ مشرقی یورپ تک اب چین کے اتحادی ممالک کا جال بچھنے جا رہا ھے۔ کہاں کہاں روک سکتا ھے امریکہ چین کو؟ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کے تمام ممالک تجارت کے ساتھ ساتھ دفاع میں بھی چین کے اتحادی ھوں گے۔ چین کی طاقت کا مطلب ھے امریکہ کی موت۔ اسی طرح چین نے ایران، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو اپنے ساتھ ملا کر بھارت کا بھی خطے میں ذلالت اور تنہائی سے حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ھے۔اسی لیے رابرٹ ڈی کپلان نے دس برس پہلے اپنی رپورٹ میں مغرب اور امریکا کو خبردار کیا تھا ۔ تم لوگ ایک ایسے سمندر کو نظر انداز کر رہے ہو جو بہت جلد توانائی، دفاعی اور تجارتی مقاصد کے لئے انتہائی اہمیت اختیار کرنے جا رہا ہے اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تم نے بحر ہند جیسے اس اہم۔۔ جیوگرافک اوشن ۔۔کے گرد سینٹرل ایشیا اور افریقہ میں وجود میں آنے والے نئے ممالک اور وہاں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو نظر انداز کر رکھا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ پاکستان نے چین کا ساتھ دے کر ساری دنیا کی دشمنی مول لے لی۔ کہا جا سکتا ہے کہ سی پیک سے پہلے پاکستان کے لئے چین کی سپورٹ ٹیکٹیکل حجم کی حامل تھی لیکن اعلانِ سی پیک کے بعد یہ سائز سٹرٹیجک مقدار اور معیار کا حامل ہو گیا ہے ۔
وزیراعظم کابل پہنچ گئے، کون کون ہمراہ؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر کابل پہنچ گئے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،عبدالرزاق داوَد بھی وزیراعظم عمرا ن خان کے ہمراہ ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی ہیں،سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اورافغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق بھی ہمراہ ہیں،وزیراعظم اوروفد کا کابل ایئرپورٹ پر افغان وزیرخارجہ محمد حنیف اتمرنے استقبال کیا
وزیراعظم عمران خان دورہ افغانستان میں افغان امن عمل، دوطرفہ تعلقات پر بات کریں گے۔ وزیراعظم ایک روزہ دورہ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ افغانستان انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے۔وزیراعظم کا دورہ افغانستان کثیر الجہتی تعلقات فروغ دینے میں معاون ہوگا ،وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے وفد میں وزیرخارجہ، مشیرتجارت اوردیگراعلیٰ حکام شامل ہوںگے ،وزیراعظم کے دورہ افغانستان کے حوالہ سے کابل میں تیاریاں جاری ہیں،کابل میں پاکستانی پرچم لگائے گئے ہیں جبکہ عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے،افغانستان میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ کے حوالہ سے جوش و خروش پایا جاتا ہے
اسلام آباد:مفادات کی جنگ یا رنگ میں بھنگ:پی ڈی ایم کے سربراہان آپس میں لڑپڑے،اطلاعات کے مطابق حکومت مخالف اتحاد آپس مخالف ہوگیا ،مفادات کی جنگ یا رنگ میں میں بھنگ مگراس کے باوجود دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے، پی ٹی ایم اورپی ڈی ایم کے سربراہان ایک دوسرے سے لڑپڑے
ان اختلافات کا اس وقت نقارہ بجا جب مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی ایم کے سربراہ محسن داوڑ کوپی ڈی ایم اجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا اس اجلاس میں یہ باتیں بھی سننے کو ملیں کہ !آپ آئندہ اجلاس میں شرکت نہ کریں،
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم اجلاس میں آپ کےسربراہ شریک ہوتےتوبات قابل قبول تھی،جس کے جواب میں محس داوڑنے کہاکہ میں ذاتی حیثیت سےشریک ہوتاہوں
ایک موقع پر یہ بھی سننے کو ملا کہ محسن داوڑکوہم نےدعوت نہیں دی،تمام پارٹیوں کامولانافضل الرحمان کومشترکہ جواب
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ کی پارٹی آپ کوتسلیم بھی نہیں کرتی اورآپ سےلاتعلقی کااظہارکرچکی ہے ،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ کی جماعت پی ٹی ایم سیاسی جماعت نہیں،نہ ہی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈہے
مولانافضل الرحمان نےمحسن داوڑکوآئندہ پی ڈی ایم اجلاس میں شرکت سےروک دیا،مولانا نے کہاکہ یہ تنظیمی اجلاس ہے اورآپ بغیر دعوت کے اجلاس میں گھس آئے اس پرمحسن داوڑ نے مولانا کی طرف بڑے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہیں جومجھے اس قسم کے احکامات سنارہےییں اس بحث ومباحثہ کے بعد اجلاس کوختم کردیا گیا
لاہور:سکولوں میں چھٹیاں کب سے کب تک ہوں گی ،فیصلہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے خطرات کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پرسکلوں میں چھٹیاں کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے،
ذرائع کے مطابق پچھلے دو دن سے اس سلسلے میں مشاورت جاری تھی دوسری طرف عالمی ادارہ صحت نے بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان کے سکولوں سے کرونا وائرس کے پھیلنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
ادھر پرسوں کے اجلاس کے بعد آج وزارت تعلیم نے کورونا بڑھنے پرتعلیمی اداروں کے لیے تجاویزصوبوں کو بھجوادیں، ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں جو تجویز سامنے آئی ہے اس کے مطابق تعلیمی اداروں کو 24نومبر سے31جنوری تک بند کر دیا جائے،
جبکہ اس حوالے سے دوسری تجویز یہ سامنے آئی کہ 24نومبر سے پرائمری اسکولز بند کر دئیے جائیں،یہ بھی کہا گیا ہےکہ 2دسمبرسےمڈل سکولز بند کر دئیے جائیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ 15دسمبر سے ہائرسیکنڈری سکولز کے بچوں کو اداروں میں آنے سے روک دیا جائے،
دوسری طرف اساتذہ اورماہرین طب کا کہنا ہےکہ حکومت کے اس فیصلے کا مقصد اصل میں اساتذہ کو کورونا کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ، ادھر حکام اساتذہ کو تعلیمی اداروں میں بلانے پر بضد ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اساتذہ کو بلایا جائے،آن لائن ایجوکیشن کے لیے تیاری کی جائے،
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں بین الصوبائی وزرائےتعلیم کانفرنس 23نومبرکوہوگی،صوبے تجاویزلائیں ،تعطیلات کےہوم ورک کےشیڈول پررپورٹ صوبائی حکومت کوپیش کی جائے گی
رپورٹ کی بنیاد پر این سی او سی کو بھی آگاہ کیا جائے گا،دوسری طرف سی ای اوز کو20 نومبرتک موسم سرماکی تعطیلات کیلئےشیڈول جمع کرانےکا حکم دے دیا گیا ہے
ادھر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کے سی ای اوز شیڈول جمع کروا کر سفارشات بھی کریں گے، ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہےکہ پنجاب کے سرکاری اسکولزمیں موسم سرما کی تعطیلات کی تیاریاں کی جاری ہیں،
ادھر ان مسائل کے پیش نظر محکمہ اسکولزنے صوبے بھر کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو مراسلہ ارسال کردیا۔
بیجنگ :امریکہ کا سارا دفاعی نظام ،ہوائی اڈے ،ایٹمی تنصیبات چینی سیٹلائٹ کے قبضے میں،اطلاعات کے مطابق اس وقت جہاں ایک طرف امریکہ اورچین کے درمیان سرد جنگ میں شدت آگئی ہے وہاں ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ چین اس وقت امریکہ کے لیے ایک انتہائی خطرناک دشمن کے طورپرسامنے آرہا ہے
ذرائع کے مطابق اس بات کا واضح ثبوت اس وقت سامنے آیا جب چینی سیٹلائٹ (بائیڈو نیویگیشن سیٹلائٹ) نے امریکہ کے سارے رازوں سے پردہ اٹھا دیا ، امریکہ بھی اس وجہ سے سخت پریشان ہے ،
امریکہ کےتمام فوجی اڈے ،ایٹمی تنصیبات،اورخفیہ مقامات چین کے جدید سیٹلائیٹ سسٹم کے قبضے میں ،امریکہ کی ہوائیاں اڑ گئیں pic.twitter.com/gIYjF2Bm0b
ادھر ذرائع کے مطابق عالمی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان جاسوسی کا لیول ہے کہ چینی سیٹلائٹ (بائیڈو نیویگیشن سیٹلائٹ) امریکی ریاست ہوائی میں موجود پرل ہاربر فوجی اڈے پر کھڑے تمام طیاروں کی HD تصاویر اور دیگر معلومات چین کے پاس محفوظ ہیں
یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ہر ایک لمحے نئی تصویر اور اپڈیٹ چین کے پاس پہنچ جاتی ہے. امریکہ اور بھارت اسی لئے چین سے خوفزدہ ہیں کہ پتہ نہیں چین کے پاس اور کیا کیا ہے
اسلام آباد :عرب امارات نے پاکستان سمیت 12 ممالک کیلئے وزٹ ویزے کا اجرا معطل کردیا ہے، اطلاعات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان سمیت 12 ممالک کو وزٹ ویزا کے اجرا کا عمل عارضی طور پر غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے۔
زاہد حفیظ چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ یو اے ای انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر کیا گیا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام سے سرکاری طور پر تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ معطلی کا اطلاق پہلے سے جاری کردہ ویزوں پر نہیں ہوگا۔ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ معطلی کا اطلاق ویزا کی کتنی کیٹیگریز پر ہوگا۔یہ بھی یاد رہنی چاہیے کہ متحدہ عرب امارات میں بزنس، سیاحت، ٹرانزٹ اور طلبا سمیت ویزے کی متعدد اقسام ہیں۔
واضح رہے کہ جون میں پاکستان میں تیزی سے کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن ایمیریٹس نے پاکستان سے 3 جولائی تک کے لیے مسافر سروس عارضی طور پر معطل کردی تھی۔
یہ فیصلہ ایمیریٹس کی پرواز کے ذریعے ہانگ کانگ جانے والے 30 پاکستانی شہریوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایئرلائن نے جولائی میں پروازیں بحال کردی تھیں۔
بھارتی ریاست بہار کے شہر وشالی میں رسالپور گاوں کی 20 سالہ مسلمان لڑکی گلناز خاتون کومذہب تبدیل کر کے ہندو لڑکے سے شادی کرنے سے انکار کرنے پر زندہ جلائے جانے کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی جس کے بعد پولیس نےبالآخر ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق گلناز خاتون جس کی آئندہ ماہ شادی ہونے والی تھی، علاقے کا ایک نوجوان ستیش کماراس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ چونکہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتا تھا اس لئے گلناز نے اس سے شادی سے انکار کردیا جس کا ستیش کمار کو بے حد رنج تھا۔ گلناز کے گھر والوں نے اس کی شادی طے کر دی۔ 30 اکتوبر کو گلناز اپنی بہن گلشن پروین کے ہمراہ گھر کا کوڑا کرکٹ پھینکنے باہر نکلی تو ستیش کمار نے اپنے کزن چندن اور اس کے باپ وجے رائے کی مدد سے گلناز کو پکڑ لیااور اسے ایک بار پھر شادی کے لئے مجبور کیا۔ گلناز نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے اور ہندو سے شادی نہیں کر سکتی تو ستیش نے اسے مڈہب تبدیل کرنے کو کہا۔ گلناز کے انکار پر چندن نے اسے پکڑاجب کہ اس کے باپ وجے رائے نے اس پر مٹی کا تیل چھڑکا اور ستیش نے اسے آگ لگا دی جس سے گلناز کا 75 فی صد جسم جل گیا۔ تینوں ملزمان وہاں سے فرار ہوگئے۔ گلناز کی بہن گلشن کی گواہی اور ملزمان کے بارے میں بتانے کے باوجود پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ گلناز خاتون نے ایک ویڈیو میں تمام حقائق ریکارڈ کر کے ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ گلناز 15 نومبر کو انتقال کر گئی۔ جس کے بعد وشالی اور پٹنہ بھر میں کئی این جی اوز اور سیاسی جماعتوں نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس پر دباو ڈالا۔ گزشتہ روز پولیس نے ستیش کمار کو گرفتار کرلیا جب کہ دیگر دو ملزموں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔