Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کرونا کے حملوں سے بچنے کےلیےپنجاب کے 6 شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، نوٹیفیکیشن جاری

    کرونا کے حملوں سے بچنے کےلیےپنجاب کے 6 شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، نوٹیفیکیشن جاری

    لاہور :کرونا کے حملوں سے بچنے کےلیےپنجاب کے 6 شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، نوٹیفیکیشن جاری ،اطلاعات کے مطابق حکومت نے پنجاب کے 6 شہروں کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کردیا ۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”264350″ /]

    تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے چھ شہروں کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے ، جن شہروں میں لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے ان میں لاہور، ملتان، راولپنڈی، بہاولپور، بھکر اور شامل ہیں ۔ محکمہ سیکنڈری اینڈ پرائمری ہیلتھ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور دفاتر بند رہیں گے، جبکہ اشیائے ضروریہ اور میڈیکل سٹور کھلے رہیں گے ۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”264351″ /]

     

    ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی ۔ فارمیسی، کلیکشن پوائنٹ، ہسپتال اور کلینک 24 گھنٹے کھلے رہیں گے ۔ علاقہ مکینوں کی نقل و حمل محدود ہوگی، ضرورت کے پیش نظر صرف ایک فرد باہر نکل سکے گا۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”264359″ /]

     

    اسمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں دودھ، چکن اور گو بجے تک کھلی رہیں گی، سے شام شت کی دکانیں صبح لاہور میں پنجاب یونیورسٹی، ہاسٹل ڈی ایچ اے فیز ، ویلنشیا ٹاؤن، 4 سیکٹر اے اے، بی بی، سی سی ، ایف ایف، فیز 3 سیکٹر ایکس ایکس، فیز ون سیکٹر این، گلبرگ ، مسلم ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور بحریہ ٹاؤن کے علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے ۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”264363″ /]

    ملتان میں جلیل آباد، ریلوے روڈ، گلگشت کالونی اور گارڈن ٹاؤن میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ۔ بکھر میں گلشن مدینہ اور محلہ خورشید شاہ کے علاقوں کو بند کیا گیا ہے ۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”264366″ /]

    ذرائع کے مطابق یہ بھی ہدایات میں کہاگیا ہےکہ عوام تعاون کریں‌یہ ان کی جان وصحت کی حفاظت کے لیے تدابیراختیارکی گئیں‌ ہیں

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”264367″ /]

  • امریکہ کا دنیا بھرمیں ہدف بنانےوالےمیزائل کاتجربہ:چین،روس،پاکستان،سعودی عرب کوپیغام

    امریکہ کا دنیا بھرمیں ہدف بنانےوالےمیزائل کاتجربہ:چین،روس،پاکستان،سعودی عرب کوپیغام

    واشنگٹن : امریکہ کا دنیا بھرمیں ہدف بنانے والے میزائل کاتجربہ:چین،روس،پاکستان،سعودی عرب کوپیغام ،اطلاعات کے مطابق مریکہ نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کو گرانے کا پہلا کامیاب تجربہ کرلیا، جاپان کی بحری سیلف ڈیفنس فورس بھی مذکورہ انٹرسیپٹر میزائل کی تنصیب کرے گی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے جزائر مارشل کے ایک آزمائشی مقام پر پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ امریکہ کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ اس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کو گرانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

     

     

    اس مقصد کے لیے امریکہ اور جاپان کا مشترکہ طور پر تیار کردہ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیا گیا۔ وزارت کی میزائل دفاع کی ایجنسی نے گزشتہ روز بتایا کہ ایس ایم 3 بلاک آئی آئی اے انٹرسیپٹر میزائل نے ہوائی کے قریبی سمندر میں پیر کے روز اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔

     

     

    ایجنسی نے بتایا کہ ہوائی سے 4 ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع جزائر مارشل کے ایک آزمائشی مقام سے ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل داغا گیا۔ ایک جدید ریڈار سے اس ہدف کی نشاندہی کی گئی اور ایجس نظام سے لیس تباہ کن بحری جہاز سے فائر کیے گئے انٹرسپٹر نے ہدف کو مار گرایا۔

     

    درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کے تجربات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کو نشانہ بنانے کا پیر کے روز یہ پہلا تجربہ تھا۔

    امریکہ نے بظاہر شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کے مدنظر اپنے میزائل دفاعی نظام میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ، شمالی کوریا کی میزائل ترقی سے متعلق شدید خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔واضح رہے کہ جاپان کی بحری سیلف ڈیفنس فورس بھی ایس ایم 3 بلاک آئی آئی اے انٹرسیپٹر میزائل کی تنصیب کرے گی۔

  • اندھیر نگری، چوپٹ راج،بزدار کی نگری میں جعلی ڈاکٹروں کا گروہ بے نقاب

    اندھیر نگری، چوپٹ راج،بزدار کی نگری میں جعلی ڈاکٹروں کا گروہ بے نقاب

    اندھیر نگری، چوپٹ راج،بزدار کی نگری میں جعلی ڈاکٹروں کا گروہ بے نقاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں جعلی ڈاکٹر بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگا،دو بار کلینک سیل ہوئے تو جوہر ٹاؤن میں تیسرا کلینک کھول دیا، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے جعلسازی کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود جعلی ڈاکٹر کام کر رہا ہے ،ملزم خود کو ذہنی امراض کا پروفیسر ڈاکٹر بتاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایک سائنسدان ہے جس نے آٹزم اور دیگر بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا ہے تا ہم ڈاکٹر کے پاس ایم بی بی ایس کی ڈگری بھی نہیں ہے.

    امریکہ میں 25 سال قیام کے بعد شاہد حسین شیخ نام کا شہری لاہور آیا، لاہور کے علاقے شادمان میں کلینک بنایا اور کہا کہ میں سائنسدان ہوں. بچوں کے دماغی امراض کا علاج کرتا ہوں ،ڈاکٹر کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے اس پر جعلسازی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے بعد اسکا شادمان والا کلینک سیل کیا گیا ہے، بعد ازاں ڈاکٹر شاہد حسین شیخ نے اپنی بیوی کے نام پر شیخ میڈیکل سنٹر کے نام سے کلینک کھولا، وہ بھی سیل ہو گیا،

    دوسرا کلینک سیل ہونے کے بعد جعلی ڈاکٹر باز نہ آیا اور اس نے علاقہ بدل کر لاہور کے دوسرے علاقے جوہر ٹاؤن میں کلینک کھول لیا جس کا نام حبیب سلیمان میڈیکل سنٹر رکھا،اور اسی میڈیکل سنٹر پر تاحال اس نے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، محکمہ ہیلتھ نے اسکے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی.

    ڈاکٹرشاہد حسین شیخ کے خلاف پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے 7 اکتوبر 2017 کو مقدمہ نمبر 376/17 تھانہ شادمان لاہو رمیں درج کیا گیا تھا، جس میں 420،471،468 جعلی ڈگری بنا کر استعمال کرنے اور جعلی پریکٹس کرنے کی دفعات لگی تھیں، مقدمہ درج ہونے کے بعد شادمان میں نیورو میڈیکل سنٹر سیل کر دیا تھا، کیونکہ پی ایم ڈی سی کی رجسٹریشن بھی جعلی ہے.

    ہیلتھ کیئر کمیشن کیس میں ایک سال اشتہاری رہنے کے بعد جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کو گرفتار کیا گیا بعد ازاں ضمانت پر اسکی رہائی ہوئی،رہائی کے بعد بیوی کے نام پر رابعہ نذر جو یو ای ٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر یو ای ٹی لاہو رہیں شیخ میڈیکل سنٹر بنایا ،محکمہ صحت نے اس پر بھی کاروائی کی اور اکتوبر 2019 میں اسے سیل کیا .تھانہ شادمان میں درج ایف آئی آر نمبر 46/20 کے مطابق شاہد حسین شیخ اور اسکی بیوی رابعہ نذر راجہ یہاں پر بھنگ کا مکروہ دھندہ کرتے تھے اور مریضوں کو بھنگ کے کیپسول بیچتے تھے،

    شادمان میں دوسرا کلینک سیل ہونے کے بعد ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کراچی بھاگ گیا،کراچی میں چار پانچ ماہ رہنے کے بعد ڈاکٹر شاہد حسین شیخ دوبارہ لاہو رواپس آیا اور لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں کلینک بنا لیا جہاں سے اب کام جاری ہے.

    ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کے خلاف فراڈ اور چیک ڈس آنر کے مقدمے بھی درج ہیں، اقبال ٹاؤن پولیس بھی اسے گرفتار کر چکی ہے بعد ازاں اسے عدالت نے ضمانت دی، رینبو سوسائٹی جو ہر ٹاؤن لاہور میں جس مقام پر ڈاکٹر نے کلینک بنایا اسکا کرایہ نامہ اس نے اپنے وکیل کے نام پرلکھوایا ہے، ڈاکٹر کے خلاف لاہور کے معروف صحافی و کالم نگار نے بھی مقدمہ درج کروا رکھا ہے

    اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شاہد حسین شیخ اور اسکی اہلیہ بھنگ کے کیپسول بیچتے ہیں، ڈاکٹری کے نام پر مکروہ دھندا چل رہا ہے، ذہنی معزور بیمار بچوں کو ڈرپ لگائی جاتی ہے جس کے لاکھوں بٹورے جاتے ہیں، ڈاکٹر نے ایک ٹرسٹ بھی بنا رکھا ہے .

    جو ہر ٹاؤن میں بنائے گئے نئے کلینک میں جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ نے ڈاکٹروں کی ٹیم بنا رکھی ہے، پانچ ڈاکٹروں کے ساتھ ملکر وہاں کام کر رہے ہیں ،ڈاکٹر شاہد حسین شیخ نے اب دوبارہ رجسٹریشن کے لئے ڈاکٹر فواز سلیم کے نام سے درخواست جمع کروائی ہے.

    جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ شہر قائد کراچی سے ارسلان نامی بندے سے "ڈی این اے” نام کے کیپسول منگواتے ہیں جس میں بھنگ ہوتی ہے اور یہی کیپسول مریضوں کو دیئے جاتے ہیں،20 ہزار کی بوتل دی جاتی ہے جس میں دس سے 15 کیپسول ہوتے ہیں، اسی طرح ڈرپ لگانے کے بھی دس سے پندرہ ہزار روپے لئے جاتے ہیں جبکہ ایک مریض کو د س سے 15 ڈرپیں ہی لگائی جاتی ہیں

    لاہور کے معروف صحافی ،روزنامہ جنگ کے کالم نگار گل نوخیراختر نے جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کے خلاف مقدمہ درج کروا رکھا ہے، مقدمہ گزشتہ برس دسمبر 2019 میں درج کیا گیا، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ لاہور میرا نام گل نوخیز اختر ہے-آپ نیوز میں سئنئیر سکرپٹ ایڈیٹر ہوں اور روزمانہ جنگ میں کالم نگار ہوں- میرا چھوٹا بیٹا مہروز جس کی عمر 14 سال ہے -آٹزم کا مریض ہے بول نہیں سکتا،توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتا اور غصے میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے -اسی وجہ سے اس کی تعلیم کا سلسلہ بھی نہیں شروع ہو سکا-میں اور میری اہلیہ جگہ جگہ اس کے علاج کے لئے جا چُکے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا- تقریباً چھ ماہ پہلے اخباروں میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد کی جانب سے ایک اشتہار شائع ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایسے بچوں کو ٹھیک کر سکتے ہیں-اشتہار میں ڈاکٹر صاحب کو سائنسدان کہا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ وہ امریکہ سے متعدد ڈگریاں اور انعامات لے چکے ہیں میں اور میری اہلیہ نے خدا کا شُکر ادا کیا کہ ہمیں اپنے بچے کے علاج کے لئے بالآخر ایک مسیحا مل گیا-

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ میں نے اشتہار میں دیئے گئے شیخ میڈیکل سنٹر کے لینڈ لائن نمبر 042-35970664 پر رابطہ کر کرکے اپائنمٹ لی ہمیں اگلے دن کا وقت دیا گیا-میں اور میری اہلیہ اگلے روز جب شیخ میڈیکل سنٹر -126 شادمان 2 لاہور پہنچے تو کچھ انتظار کے بعد ہمیں ڈاکٹر شاہد شیخ کے کمرے میں جانے کے لئے کہا گیا جہاں ڈاکٹر شاہد شیخ موجود تھا-اُس نے ہمیں بتایا کہ اُس کے پاس ایک فارمولا ہے جو اُس نے امریکہ میں ایک انگریز کے پی ایچ ڈی کے مقالے کے بغور مطالعے سے حاصل کیا ہے اور یہ کہ یہ فارمولا اس کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ہے- ڈاکٹر شیخ شاہد نے بتایا کہ وہ امریکہ میں بھی کئی آٹزم کے مریض ٹھیک کر چُکا ہےلیکن پاکستان کی محبت میں وہ اہنے وطن چلا آیا ہے تاکہ یہاں دماغی امراض میں مبتلا افراد کو ٹھیک کر سکے -آدھے گھنٹے کی اس گفتگو میں ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ وہ ایک نہایت اعلیٰ قسم کا سائنسدان ہے اور اس نے نیورو پیتھی کے نام سے یہ طریقہ علاج ایجاد کیا ہے -اس موقع پو اس کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نذر بھی موجود تھی جس کے بارے میں ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ بھی میری طرح ڈاکٹر ہے ڈاکٹر شاہد شیخ نے ہمیں آگاہ کیا کہ انشاءاللہ نہ صرف ہمارا بچہ ٹھیک ہوگا بلکہ اس کلینک میں ہی بیہٹھ کر باتیں بھی کرے گا – لمحہ بہ لمحہ کرب میں گزرتے والدین کے لئے اس سے زیادہ پُر امید جُملہ کوئی نہیں ہو سکتا لہذاٰ ہم بھی بہت خوش ہوئے- ڈاکٹر شاہد شیخ نے بتایا کہ سب سے پہلے بچے کے خون کا ایک لیبارٹری ٹیسٹ ہوگا جس کے چارجز پندرہ ہزار روپے ہوں گے اس کے بعد بچے کو ڈاکٹر شاہد کے تیار کردہ فارمولے کی ڈرپس لگیں گی اور یہ ایک ڈرپ پندرہ ہزار روپے کی ہو گی ہمارے پوچھنے پر اس نے بتای کہ بچے کو تقریباً بیس سے پچیس ڈرپس لگیں گیساتھ میں ایک کیپسول (Sudden Anger) کھانے کے لئے دیا جائے گا اور جب پچیس ڈرپس کا یہ کورس مکمل ہو جائے گا تو بچہ نارمل ہو جائے گا-

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ یہ بہت زیادہ خرچ تھا لیکن بچے کی زندگی سے زیادہ نہیں -انہی دنوں میں اپنے چھوٹے سے پلاٹ پر گھر بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا لیکن شاہد شیخ کے نئے دعوےٰ نے مجھے نئی امید دلا دی- میں اور میری اہلیہ نے طے کیا کہ گھر بنانے کی بعد میں سوچیں گے پہلے جمع کی گئی رقم سے بچے کا علاج کرواتے ہیں کیونکہ بچہ ٹھیک ہو جاتا تو ہمیں زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل جاتی – ڈاکٹر شاہد شیخ نے اس پہلی میٹنگ کے عوض اپنی فیس 3000 وصول کی ہم نے بچے کا بلڈ ٹیسٹ کرانے کے فیس ادا کی اور ڈرپش لگانے کا آغاز ہو گیا- یہ ڈرپس شیخ میڈیکل سنٹر کے مذکورہ بالا ایڈریس پر لگتی رہیں اس دوران میں ، میری اہلیہ اور میرا بیٹا وہیں موجود رہتے اور ڈرپس لگوانے کے بعد بچے کو گھر لے آتے- ہر ڈرپس کے عوض ہم پندرہ ہزار روپے کیش کی شکل میں ادا کرتے رہتے جبکہ کیپسول کی بھی ڈبی بھی ہمیں الگ سے پندرہ ہزار روپے کے عوض دی جاتی تھی – شیخ شاہد کے کلینک میں اور بھی لوگ اپنے بچوں کو لے کر آتے تھے اور انہیں بھی یہی ڈرپس اور کیپسول دیئے جا رہے تھے-سروسز ہسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر ای این ٹی اور رجسٹرار ڈاکٹر خالد حسین بھی یہاں موجود ہوتے تھے اور ڈاکٹر کے ساتھ ملک شیخ میڈیکل سنٹر میں لوگوں کو لُوٹ رہے تھے- اس دوران میں نے کئی بار ڈاکٹر شاہد سے پوچھا کہ ڈرپس میں کون سے سنجکشن ڈالے جا رہے ہیں لیکن ڈاکٹر شاہد شیخ نے ہمیشہ یہ بات ٹال دی-ہم لوگ بچے کو ڈرپس لگواتے رہے میرے لئے اس رقم کا انتظام معمولی بات نہیں تھی سو میں نے دوستوں عزیزوں سے ادھار رقم لے کر بھی ڈرپس میں خلل نہیں آنے دیا –

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ ہوا مورخہ 16 ستمبر ء2019 کو میں ، میری اہلیہ اور میرا بڑا بیٹا چھوٹے بیٹے کو حسب معمول ڈرپس لگوانے شیخ میڈیکل سنٹر گئے- میرے بیٹے مہروز کو ڈرپ لگ گئی- اسی دوران مجھے میرے آفس آپ نیوز سے کال آ گئی لہذاٰ میں اپنے بیٹے اہلیہ اور چھوٹے بیٹے مہروز کو وہیں چھوڑ کر کچھ دیر کے لئے آفس روانہ ہو گیا- کچھ دیر بعد واپس پہنچا تو شیخ میڈیکل سنٹر میں داخل ہوتے ہی ایک دھماچوکڑی سی مچی دیکھی- کچھ سمجھ میں نہ آیا- پوچھنے پر پتہ چل کہ ہیلتھ کئیر کمیشن نے چھاپہ مارا ہے کیونکہ نہ صرف ڈاکٹر شیخ ایک جعلی ڈاکٹر ہے بلکہ اس کی ڈگریاں بھی جعلی ہیں اور شیخ میڈیکل سنٹر کو ہیلتھ کئیر کمیشن والوں کی طرف سے seal کیا گیا ہے جسے ڈاکٹر شیخ شاہد اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نے غیر قانونی طور پر کھول کر دوبارہ اپنے جعلی دھندے کا آغاز کر دیا ہے- میں اور میری اہلیہ سکتے میں آگئے- تاہم میں نے ڈاکٹر شاہد شیخ سے تصدیق چاہی کہ کیا ہیلتھ کئیر کمیشن والے سچ کہہ رہے ہیں جواب میں ڈاکٹر شیخ شاہد نے ساری بات کی نفی کر دی – میں نے ہییلتھ کئیر کمیشن کے عملے سے بات کی تو انہوں نے یہ ہولناک انکشاف کیا کہ ڈاکٹر شاہد شیخ پرجعلی ڈگریاں جمع کرانے اور جعلی پریکٹس کرنے پر ایک سال پہلے 2017 ایف آئی آر درج ہو چکی ہے- یہ ایف آئی آر ہیلتھ کمیشن والوں کی طرف سے آپ ہی کے تھانے میں درج ہے جا کا نمبر17 – 376 ہے اور یہ 17-8-25 کو درج ہوئی اور اور اس کا تفتیشی اے ایس آئی رفیع ہے لیکن ڈاکٹر ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا اور دوبارہ کلینک کھول کر بیٹھ گیا-

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ میرے لئے یہ صورتحال نہایت پریشان کن تھی – میں نے اپنے طور پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ واقعی ڈاکٹر شاہد شیخ پر ء2017 میں عطائیت کا کیس بن چُکا ہے اور اس کی خبریں بھی ملک کے نمایاں اخبار میں شائع ہو چکی ہیں یاد رہے کہ تب تک ہم اپنے بچے کو پچاس ڈرپس لگوا چکے تھے اور تین ڈبیاں کیپسول کی خرید چُکے تھے میرا بچہ اس دوران اونگھ کی کیفیت میں رہتا تھا ڈاکٹر شاہد شیخ بہتری کی طرف گامزن قرار دیتا رہا میں نے کیپسول چیک کرائے تو پتہ چلا کہ نشے کے کیپسول ہیں دیواروں سے ٹکریں مارتا اور خود کو زخمی کر لیتا میں نے شدید غصے کے عالم میں ڈاکٹرشاہد شیخ کو فون کیا تو اس نے مجھے دوبارہ بچے کا علاج شروع کرانے کا کہا اور مجھے میسج کیا کہ بچے کا ایک بار پھر بلڈ ٹیسٹ کروا کر مجھے رپورٹ بھیجیں اس دوران اس نے مجھے اپنے بچے کو کیپسول جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی اور کہہ کر کہ اگر آپ اپنے بچے کی ڈرپس افورڈ نہیں کر سکتے تو بچے کو کیپسول کھلاتے رہیں یعنی ایک ہزار کا ایک کیپسول اور روزانہ دو کیپسول – اس مقصد کے لئے انہوں نے مجھے میسج کیا کہ یہ کیپسول آپ حکیم آصف نامی بندے سے منگوا سکتے ہیں میں نے انہیں اپنا ڈیلر مقرر کیا ہوا ہے ڈاکٹر شاہد شیخ نے مجھے حکیم آصف کا موبائل نمبر 03006957313 میسج کیا-میں نے حکیم آصف کو فون کیا تو اس نے مجھے کہا کہ میں وہاڑی میں ہوتا ہوں ، تو آپ مجھے اپنا ایڈریس بھیجیں تو میں آپ کو کیپسول وی پی پارسل کر دیتا ہوں- تاہم میں نے یہ کیپسول نہیں منگوائے اور ڈاکٹر کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا-

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ جعلی ڈاکٹر شاہد شیخ اس وقت a-1-94 ٹاؤن شپ میں رہائش پذیر ہے – اس کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نذر بھی اس کے ساتھ رہتی ہے جو کہ یو ای ٹی میں پڑھاتی ہے اور ڈاکٹر شاہد شیخ کے دھندے میں اس کی ساتھی ہے ڈاکٹر شاہد شیخ اپنے ڈرائیور کے ذریعے یہ کیپسول اور ڈرپس مختلف کارنوں کو سپلائی کرتا ہے جو اسے آگے مجبور اور پریشان لوگوں کو بھاری رقم کے عوض بیچتے ہیںڈاکٹر شاہد شیخ کے گھر میں یہ کیپسول اب بھی اوپر والی منزل پر بھاری مقدار میں موجود ہیں آپ سے گزارش ہے کہ مجھے Prime Victim کی حیثیت سے اس کیس کا مدعی بنائیں اور ڈاکٹر شاہد شیخ ، اس کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نذر، ڈاکٹر خالد حسین، حاکم علی، حکیم آصف ،ڈاکٹر کے ڈرائیور شاہد اور ڈاکٹر جاوید کے خلاف سخت ترین کاروائی کریں تاکی کسی مجبور والدین کی معذور اولاد کے ساتھ ایسا گھناؤنا مذاق کرنے کی جرات نہ ہو شکریہ.

  • تین سو بیڈ کا حامل جدید ہسپتال وزیراعظم کی طرف سے فیصل آبادوالوں کے لیے تحفہ

    تین سو بیڈ کا حامل جدید ہسپتال وزیراعظم کی طرف سے فیصل آبادوالوں کے لیے تحفہ

    فیصل آباد :تین سو بیڈ کا حامل جدید ہسپتال وزیراعظم کی طرف سے فیصل آبادوالوں کے لیے تحفہ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں 300 بیڈ کا اسپتال بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے فیصل آباد میں صنعت کاروں سے ملاقات کی ، ملاقات کے دوران انھوں نے فیصل آباد میں تین سوبیڈ کااسپتال بنانے کا اعلان کیا۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ اسپتال کیلئے50 فیصد فنڈ وفاقی حکومت اور 40 فیصد فنڈ صنعتکار دیں گے جبکہ تعمیرات کے 10فیصد اخراجات پنجاب حکومت دے گی۔انھوں نے ملاقات میں مزید کہا کہ ارن ڈیوٹی پر پانچ فیصد چھوٹ دی جائے گی اور الائیڈ اسپتال کی اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی۔

    واضح رہےکہ وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل آباد میں ہائیکورٹ کے قیام کے مطالبے سے متفق ہوں، ہائیکورٹ ہر ڈویژن کی سطح پر ہونی چاہیئے، جو بلدیاتی نظام لیکر آ رہے ہیں یہ پاکستان کا بہترین بلدیاتی نظام ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ہر شہر کا اپنا میئر ہوتا ہے، اس کا اپنا نظام ہوتا ہے، پوری دنیا میں بڑے شہروں کا میئر اپنی کابینہ بناتا ہے، میئر کے الیکشن براہ راست ہوں گے، ماضی کے تجربات سے سیکھ کر نیا بلدیاتی سسٹم لا رہے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کو سہولتیں فراہم کرے، ایک دن مانچسٹر کہے گا فیصل آباد ہم سے آگے نکل گیا، صوبائی ترقیاتی فنڈز سے شہر ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

  • فیصل آبادوالو!مجھے آپ سے بہت محبت ہے ،آج بہت اہم اعلان اس محبت کی دلیل ہیں :وزیراعظم کا خطاب

    فیصل آبادوالو!مجھے آپ سے بہت محبت ہے ،آج بہت اہم اعلان اس محبت کی دلیل ہیں :وزیراعظم کا خطاب

    فیصل آباد: فیصل آبادوالو!مجھے آپ سے بہت محبت ہے ،آج بہت اہم اعلان اس کی دلیل ہیں :وزیراعظم کا خطاب،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں صنعت کاروں ،ماہرین تعلیم ، وکلا اوردیگرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ! فیصل آبادوالو!مجھے آپ سے بہت محبت ہے ،آج بہت اہم اعلان اس کی دلیل ہیں : وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہماری ایکسپورٹ بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، حکومت کا کام صنعتکاروں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے، مافیا نے گٹھ جوڑ کر کے چینی کی قیمت بڑھائی، جو جائز منافع کمائے اسے ٹیکس بھی دینا چاہیئے۔

    وزیراعظم عمران خان نے صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا فیصل آباد میں ہائیکورٹ کے قیام کے مطالبے سے متفق ہوں، ہائیکورٹ ہر ڈویژن کی سطح پر ہونی چاہیئے، جو بلدیاتی نظام لیکر آ رہے ہیں یہ پاکستان کا بہترین بلدیاتی نظام ہوگا، پوری دنیا میں ہر شہر کا اپنا میئر ہوتا ہے، اس کا اپنا نظام ہوتا ہے، پوری دنیا میں بڑے شہروں کا میئر اپنی کابینہ بناتا ہے، میئر کے الیکشن براہ راست ہوں گے، ماضی کے تجربات سے سیکھ کر نیا بلدیاتی سسٹم لا رہے ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کو سہولتیں فراہم کرے، ایک دن مانچسٹر کہے گا فیصل آباد ہم سے آگے نکل گیا، صوبائی ترقیاتی فنڈز سے شہر ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کرنسی کی قدر گرنے سے مہنگائی آتی ہے، مہنگائی کی وجہ سے ہماری حکومت کو بھی برا بھلا کہا گیا، سابق حکومت نے روپے کی مصنوعی قدر کو بر قرار رکھا، حکومت میں آئے تو 20 ارب ڈالر خسارے کا سامنا تھا، ہمارے باہر کے دوستوں نے مدد کی، دیوالیہ ہونے سے بچ گئے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا 60 کی دہائی میں پاکستان ترقی کرتی دنیا میں ایک ماڈل تھا، دبئی کے شیخ چھٹیاں منانے کراچی آتے تھے، 60 کی دہائی میں پاکستان ترقی کرتی دنیا میں ایک ماڈل تھا، 60 کی دہائی میں دنیا پاکستان کی مثال دیتی تھی، 60 کی دہائی میں پاکستان کا مقام تھا، امریکی صدر استقبال کیلئے آتا تھا، 60 کی دہائی میں ادارے بھی مضبوط تھے۔

  • سابق صدر زرداری کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت پرجتنی خوشی ہوئی اتنی امریکہ کوبھی شاید نہیں تھی:براک اوبامہ

    سابق صدر زرداری کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت پرجتنی خوشی ہوئی اتنی امریکہ کوبھی شاید نہیں تھی:براک اوبامہ

    واشنگٹن :سابق صدر زرداری نےاسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کو جتنی خوشی ہوئی اتنی امریکہ کوبھی شاید نہیں تھی:اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایک بہت بڑا انکشاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی جتنی خوشی سابق صدر آصف علی زرداری کوہوئی اتنی شاید امریکہ کوبھی نہ ہوئی ہوگی ،

    بی بی سی کے مطابق امریکہ کے سابق صدر براک اوباما اپنی نئی کتاب ’اے پرامسڈ لینڈ‘ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں نیوی سیلز کے آپریشن میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اُن کا خیال تھا کہ سب سے مشکل فون کال پاکستانی صدر آصف زرداری کو ہو گی کیونکہ اس واقعے کے بعد ان پر پورے ملک سے دباؤ ہو گا کہ پاکستان کی سالمیت کی تضحیک ہوئی ہے۔

    وہ لکھتے ہیں کہ ‘میں توقع کر رہا تھا کہ یہ کافی مشکل کال ہو گی لیکن جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو ایسا بالکل نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی رد عمل ہو، یہ بہت خوشی کی خبر ہے۔‘

    اوباما لکھتے ہیں کہ صدر آصف زرداری اس فون کال پر واضح طور پر جذباتی تھے اور انھوں نے اپنی اہلیہ بینظیر بھٹو کا بھی ذکر کیا جنھیں ’القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔‘

    اس کتاب کے دیباچے میں براک اوباما نے لکھا کہ جب انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دور صدارت کی داستان تحریر کریں گے، تو ان کا خیال تھا کہ وہ 500 صفحات پر مبنی کتاب ہو گی جسے وہ سال بھر میں مکمل کر لیں گے۔ لیکن مزید تین سال، اور 200 مزید صفحات کے باوجود ان کی کہانی کا صرف پہلا حصہ ہی مکمل ہوا ہے۔

    یہ کتاب براک اوباما کے بچپن سے لے کر ان کے پہلے دور صدارت کے سب سے اہم واقعے، مئی 2011 میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت تک کے واقعات تک محدود ہے۔ وہ اپنی آپ بیتی کا دوسرا والیم لکھ رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی اشاعت کب ہو گی۔

    سات حصوں اور 27 ابواب پر مشتمل کتاب کا آخری باب اسامہ بن لادن پر پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیے گئے حملے اور اس کی جامع منصوبہ بندی کے بارے میں ہے جس میں صدر اوبامہ لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت امریکی حکام نے اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے کا سلسلہ تقریباً چھوڑ دیا تھا لیکن انھوں نے اس کو اپنی سب سے اوّلین ترجیح بنا لیا۔

    اوبامہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے قریبی مشیروں کو مئی 2009 میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کی کھوج لگانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے منصوبہ بندی شروع کی جائے اور ہر تیس دن کے بعد انھیں اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

    اس بارے میں امریکی صدر لکھتے ہیں کہ ان کے لیے سب سے ضروری امر یہ تھا کہ اس منصوبہ کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور نہ صرف امریکی انتظامیہ میں نہایت گنتی کے کچھ لوگوں کو اس کے بارے میں علم تھا، پاکستانی حکام تک اس منصوبے کی بھنک بھی نہ پڑنے دی گئی۔

    ’پاکستانی حکومت نے افغانستان کے معاملے پر ہمارا بہت ساتھ دیا لیکن یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ان کی فوج اور خفیہ اداروں میں چند ایسے عناصر ہیں جو ابھی بھی القاعدہ اور طالبان سے تعلقات قائم رکھتے ہیں اور ان کو بطور اثاثہ استعمال کرتے ہیں جن کی مدد سے انڈیا کو کمزور کیا جا سکے۔‘

    براک اوباما لکھتے ہیں کہ جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو وہ وائٹ ہاؤس میں اپنی رہائش گاہ کے حصے ’ٹریٹی روم‘ میں موجود تھے اور ٹی وی پر باسکٹ بال کا مقابلہ چل رہا تھا۔

    انھوں نے اپنی کتاب میں بتایا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ نے دو منصوبے بنائے تھے جن میں سے ایک تھا نیوی سیلز کے اہلکاروں کو پاکستان بھیجنا اور دوسرا قریبی فاصلے سے ڈرون حملہ کرنا۔

    ان کے قریبی ترین رفقا میں سے اکثریت نیوی سیلز کو بھیجنے پر راضی تھی البتہ اس وقت کے نائب صدر اور سنہ 2020 کے صدارتی انتخاب کے فاتح جو بائیڈن ان میں سے نہیں تھے۔ اوباما لکھتے ہیں کہ جو بائیڈن نے ان کو صبر کرنے کا مشورہ دیا اور وہ نیوی سیلز کو بھیجنے کے خلاف تھے۔

    براک اوبامہ لکھتے ہیں کہ سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس بھی اس حملے کے خلاف تھے اور اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جو بائیڈن نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ مشن کی ناکامی کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی گھمبیر ہوگی اور یہ کہ ’اس حملے کی اجازت دینے سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے ایبٹ آباد کے مکان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پورا یقین کر لیں۔‘

    سنہ 2011 کو یکم اور دو مئی کی درمیانی شب کو کیے گئے حملے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا۔

    صدر اوباما اس پر لکھتے ہیں: ’بطور صدر میرے ہر بڑے فیصلے پر میں نے جو بائیڈن کی اس خاصیت کو سراہا ہے کہ وہ میری ہاں میں ہاں نہیں ملاتے اور مجھ سے سخت سوالات کرتے ہیں، اور انھی کی وجہ سے مجھے خود ذہنی طور پر وہ آسانی اور جگہ ملتی ہے تاکہ میں اپنے فیصلوں پر مزید سوچ بچار کر سکوں۔‘

    اوباما لکھتے ہیں کہ جب نیوی سیلز نے تصدیق کر دی کہ القاعدہ کے سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا تو ان کو کچھ تسکین حاصل ہوئی اور جس کے بعد انھوں نے سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج بش جونیئر کو اس خبر کی اطلاع دی اور اس کے بعد چند اتحادی ممالک سے رابطہ کیا۔

    بشکریہ بی بی سی

  • قطرى امیری فضائیہ کے کمانڈر سٹاف کی آرمی چیف سے ملاقات

    قطرى امیری فضائیہ کے کمانڈر سٹاف کی آرمی چیف سے ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کمانڈر قطر امیری ائیررفورس کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یجر جنرل (پائلٹ) سالم حمد عقیل النابت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے .ملاقات کے دوران باہمی اور پیشہ ورانہ دلچسپی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہپاکستان قطر کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پاک فوج بھی قطر کی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی اور سلامتی کے تعاون کو آگے بڑھائے گی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دورہ کرنے والے معززین نے علاقائی امن و سلامتی اور قطر کی مسلح افواج کی تربیت میں کردار کے لئے پاک فوج کی خدمات کو سراہا۔

    قبل ازیں گزشتہ روز سٹاف میجر جنرل (پائلٹ) سالم حماد عقیل النابت سربراہ قطر امیری فضائیہ نے اپنے وفد کے ہمراہ آج ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔انکی آمد پر پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ پاک فضائیہ کے ایک چاق وچوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔معزز مہمان نے پاک فضائیہ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے یاد گارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

    قبل ازیں قطرى امیری فضائیہ کے کمانڈر سٹاف میجر جنرل سالم حمد عقیل النابت کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جناب جنرل ندیم رضا سے ملاقات ہوئی اس دوران پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، علاقائی امن و امان کی صورت حال اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

  • آئین پر عمل درآمد نہ ہوا توحکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین پر عمل درآمد نہ ہوا توحکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین پر عمل درآمد نہ ہوا توحکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا تذکرہ ہوا،عدالت نے اٹارنی جنرل، الیکشن کمیشن اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل درآمد نہ ہوا تو حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے.

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 14ماہ گزرگئے بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے، عوام کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے.تیسری دنیا کے ملکوں میں پہلی دنیا کا طرز حکمرانی کیا جا رہا ہے ، صوبائی حکومت کے وکلا کیوں ڈرتے ہیں۔ صوبائی حکومت کے وکلاء حکومت کو بچانے کی کوشس کیوں کر رہے ہیں۔ آپ عوام کے پیسے سے حکومت کرتے ہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی حفاظت کرنے والا اللہ ہے

     

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ ملک میں ہر طرف وی آئی پی کلچر کے تحت روٹ لگے ہوتے ہیں ،کیا ایسی ہوتی ہے ریاست مدینہ؟ ہر طرف مشین گنیں لگی نظر آتی ہیں.کچھ ہوا توکیا یہ گنین عوام پر ہی چلیں گی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ کشمیر پر الیکشن کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن صوبے میں بلدیاتی الکشن نہیں کرواتے ،

    قانون آرڈیننس کے ذریعے بنانے ہیں تو پارلیمان کو بند کر دیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    جوڈیشل کونسل کے خلاف سپریم کورٹ کا بینچ تحلیل

    کسی جج پر ذاتی اعتراض نہ اٹھائیں، جسٹس عمر عطا بندیال کا وکیل سے مکالمہ

    ججز کے خلاف ریفرنس، سپریم کورٹ باراحتجاج کے معاملہ پر تقسیم

    حکومت نے سپریم کورٹ‌ کے سینئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد صدر اور وزیر اعظم کو فورا مستعفی ہوجانا چاہئے، احسن اقبال

    اس کیس میں فریق نہیں مگر..جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سپریم کورٹ پہنچ گئیں

  • امریکہ نے پاکستان کو کورونا ویکسین فراہم کرنے سے معذرت کر لی

    امریکہ نے پاکستان کو کورونا ویکسین فراہم کرنے سے معذرت کر لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان کو کورونا ویکسین فراہم کرنے سے معذرت کر لی

    واشنگٹن میں پاکستانی مشن نے حکومت کو امریکی ردعمل سے آگاہ کر دیا،دفتر خارجہ نے وزارت قومی صحت کو امریکی جواب سے آگاہ کر دیا،مراسلے کے مطابق امریکی کمپنی نے ویکسین فراہمی کی درخواست پر جواب نہیں دیا،

    نجی ٹی وی کے مطابق امریکہ نے جواب دیا کہ کمپنی پہلے فیز میں ویکسین کی مقامی ضرورت پورا کرے گی،جانسن اینڈ جانسن تاحال کورونا ویکسین کے کلینکل ٹرائلز کر رہی ہے،جانسن اینڈ جانسن کو کلینکل ٹرائلز میں وقتی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، واشنگٹن میں پاکستانی مشن کورونا ویکسین کے حصول کیلئے سرگرم ہے،پاکستانی مشن ویکسین پر کام کرنے والی کمپنیوں سے رابطے میں ہے،

    وزارت صحت کے امریکی کمپنیوں سے رابطوں کیلئے کوششیں جاری ہیں، پاکستان متوقع کورونا ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کیلئے کمپنیوں سے رابطے کر رہا ہے،امریکہ نے پہلے مرحلے میں پاکستان کو کورونا ویکسین فراہم کرنے سے معذرت کر لی

    دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمرکا کہنا ہے کہ گرمیوں سے پہلے پاکستان میں ویکسین کی بڑی مقدار کی دستیابی ممکن نہیں۔ بداحتیاطی کا نتیجہ ہے کہ کورونا کیسز میں 4 گنا اضافہ ہوا اور خدشہ ہے کہ اسپتالوں میں جون جیسے حالات ہوں۔

    واضح رہے کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کے لیے پاکستان نے ایڈوانس بکنگ کا فیصلہ کر لیا ہے ،وزیراعظم عمران خان نے کورونا ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کرانے کی منظوری دیدی ،وزارت قومی صحت کی پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے تصدیق کر دی،ڈاکٹر نوشین حامد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کورونا ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کرانے کی منظوری دیدی ہے،کورونا ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کیلئے عالمی سطح پر رابطے جاری ہیں،ایڈوانس بکنگ کیلئے 2 ویکسین ساز اداروں سے رابطے ہو چکے ہیں،

    ڈاکٹر نوشین حامد کا کہنا تھا کہ امید ہے پاکستان کورونا ویکسین کی ایڈوانس بکنگ میں کامیاب ہو گا، حکومت متوقع ویکسین کی ملک میں بروقت دستیابی کیلئے اقدامات کر رہی ہے،ویکسین بکنگ کیلئے 100 ملین ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی گئی تھی، پہلے فیز میں ہیلتھ ورکرز، ضعیف شہریوں کیلئے ویکسین بکنگ کی تجویز دی گئی تھی

    پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا کے 2208 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 37 اموات ہوئی ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 63 ہزار 380 ہوگئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی 7 ہزار 230 ہو گئی یے،پاکستان میں کورونا وائرس کے 3 لاکھ 25 ہزار 788 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    کرونا ویکسین کا راز ہیکرز کی جانب سے چوری کرنے کی کوشش ناکام

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

    این سی او سی کے مطابق ملک کے 15 شہروں میں کورونا وباتیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے,

    پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مثبت کیسز کی شرح 1.6 فیصد تھی، نومبر میں مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد تک پہنچ گئی

    معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہو چکی ہے۔ دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سےعمل کرنا ہو گا۔ احتیاطی تدابیر پرعمل پیرا ہو کر ہم کورونا کی دوسری لہرسے نمٹ سکتے ہیں

  • آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کاکوئٹہ کورکادورہ،اہم منصوبوں کاجائزہ

    آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کاکوئٹہ کورکادورہ،اہم منصوبوں کاجائزہ

    کوئٹہ :آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کاکوئٹہ کادورہ،بلوچستان کے سماجی ومعاشی ترقی کے منصوبوں کاجائزہ ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے آج کوئٹہ کورہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا کوئٹہ دورے کے دوران اہم منصوبوں کا جائزہ بھی لیا،

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے دورے کے دوران نیشنل ورکشاپ بلوچستان کےشرکاسےملاقات کی اورنیشنل ورکشاپ بلوچستان کے منصوبوں پرکام جائزہ بھی لیا

    ادھر ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان میں امن اورترقی پاکستان کی ترقی کےلیےاہم ہے،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی ملک کی ترقی ہے ،

    اس موقع پرآرمی چیف نے کہا کہ بلوچستان کی سماجی ومعاشی ترقی کےلیےکام جاری ہے،انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس کام کا جائزہ لے رہے ہیں اوربہت جلد اس خطے میں ترقی کے دروازے کھیلیں گے اورجس سے نوجوانوں کوروزگاربھی ملے گا

    پاک فوج کے سربرانے کہا کہ کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری لائےگا،انہوں‌نے مزید کہا کہ وہ کوئٹہ سیف سٹیا پروجیکٹ کو وسیع کرنا چاہتے ہیں اوربہت جلد اس کا دائرہ کاروسیع کردیا جائے گا