Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوازشریف کےمزید برے دن آگئے:برطانیہ سےنکالا جاسکتا ہے

    نوازشریف کےمزید برے دن آگئے:برطانیہ سےنکالا جاسکتا ہے

    لاہور:لگتا ہے:نوازشریف کے اب مزید برے دن آگئے:کامران خان نے نوازشریف کو درپیش مشکلات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسےلگ رہا ہے جیسے کہ اب نوازشریف کے لیے دیارغیرکے دروازے بھی بند ہورہےہیں

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پرتبصرہ کرتے ہوئے کامران خان کہتے ہیں کہ !نواز شریف مزید بری خبریں مشکلات بڑھیں گی اسلام ہائیکورٹ نے نواز شریف کو مفرور اشتہاری کنفرم کردیا،اب عدالتوں کو مزید چکرنہیں دیئے جاسکتے

     

    کامران خان نے اپنے ٹویٹ میں اس حوالے سے گفتتگو کرتے ہوئے کہا کہ ! سزاکے خلاف عدالتی جنگ جیتنا ناممکن نیب کیس میں بریت بھی ناکارہ ہوجائے گی سپریم کورٹ پہلے ہی سیاست سے تاحیات ناہل کر چکی ہے

    کامران خان آگے چل کرکہتے ہیں کہ !کل hard talk انٹرویو سے لگا لندن میں رہائش آسان نہ ہوگی

    یاد رہے کہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کے خلاف سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ شخص ملک وقوم کوچکردینے کے بعد اب عدالتوں کوبھی چکر دے رہا لیکن اب ایسا نہیں چلے گا

  • انڈیا میں جناح کا دوبارہ جنم ،بھارتی مسلمانوں کے لیے امید کی نئی کرن ،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    انڈیا میں جناح کا دوبارہ جنم ،بھارتی مسلمانوں کے لیے امید کی نئی کرن ،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    انڈیا میں جناح کا دوبارہ جنم ،بھارتی مسلمانوں کے لیے امید کی نئی کرن ،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بہت سے لوگوں کا یہ موقف درست ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جس تباہی کی طرف بھارت کو لے جا رہا ہے بھارت کی بربادی کے لئے یہی کافی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ پورے خطے کے امن و آشتی کو بھی آگ میں جھونکنے پر تلا ہوا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی دہشت گرد اور متعصب وشدت پسند تنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے اور منشور پر عمل پیرا ہےجو کہ بھارت میں مسلم دشمنی پر مبنی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں ایک بار پھر مسلمانوں کے قتل عام کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ سکھوں کی تحریک کو ختم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مختصر یہ کہ مودی سرکار ہر طرح سے بھارت کے اندر اور پڑوسی ممالک کے ساتھ نفرت اور جنگ کی آگ بھڑکانے پر کمر بستہ ہے۔ اس وقت بھارتی مسلمان گھمبیر صورتحال سے دوچار اور سخت پریشان ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ کون سا راستہ اپنائیں اور کون سا ترک کریں۔ ان کے لیے دنیا آہستہ آہستہ تنگ کی جا رہی ہے۔ معاشی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ گائے کے نام پر کاٹا جا رہا ہے۔ لو جہاد کے نام پر ستایا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں مسلمان اپنا سر چھپانے کی جگہ تلاش رہے ہیں۔ اسی لیے اس وقت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یا کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے بھارت کے دوسرے حصوں میں توسیع کی جا رہی ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کئی دہائیوں تک شہر حیدرآباد تک محدود رہنے والی AIMIM اے آئی ایم آئی ایم نے بھارت کی اُن ریاستوں میں انتخابات لڑنے شروع کر دیے ہیں جن میں مسلمان اچھی خاصی تعداد میں رہتے ہیں۔ کرناٹک، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، اترپردیش اور بہار کے بعد اب یہ جماعت مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس پارٹی نے ریاست بہار میں حال ہی میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ نشستوں پر جیت حاصل کی تھی ۔ اگر اس کا موازنہ گانگریس سے ہی کر لیا جائے تو کافی اچھی کارکردگی تھی ۔ اس نے 24 اسمبلی حلقوں سے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا۔ بھارت میں یہ جماعت مسلمانوں کی ایک نئی سیاستی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے ۔۔ کیونکہ جس طرح کی سیاست بی جے پی کر رہی ہے ایسے ماحول میں بھارتی مسلمان ایک چھتری کی تلاش میں ہیں جہاں وہ خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہار میں اے آئی ایم آئی ایم کے پانچ امیدواروں کی جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان کیا چاہتے ہیں۔ اور ان کی سوچ بدل چکی ہے ۔ اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ اسی جماعت نے پانچ سال پہلے بھی بہار میں اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن ایک نشست بھی جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ مگر آج کی جیت بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ اترپردیش میں بی جے پی حکومت کی پالیسیاں دیکھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں رہی۔ مسلمانوں کے پاس مزاحمت ہی سب سے بڑا ہتھیار بچا ہے۔ اسی وجہ سے کانگریس بھی اور بی جے پی بھی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے پھیلاؤ سے کافی پریشان نظر آ رہی ہیں۔ کانگریس کا اے آئی ایم آئی ایم پر الزام ہے کہ یہ جماعت مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کر کے بی جے پی کو فائدہ پہنچا رہی ہے جبکہ بی جے پی کا الزام ہے کہ اسد الدین اویسی کی قیادت میں یہ جماعت نفرت کی سیاست کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ گانگریسی اور بی جی پی والے دنوں ہی اسد الدین اویسی کو دوسرا جناح کہہ رہے ہیں۔ بی جی پی والے تو اس چیز کا شور مچا رہے ہیں کہ اس جماعت کے لیڈر جہاں بھی جاتے ہیں نفرت پھیلاتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ پندرہ منٹ کے لیے پولیس ہٹا دو ہم فیصلہ کریں گے۔ اور کہتے ہیں کہ اویسی لڑیں یا اویسی جیسے 36 آجائیں آج کے بھارت میں بی جے پی کو ہرانے کی طاقت کسی میں نہیں۔ ہم اس ملک میں کوئی دوسرا جناح پیدا نہیں ہونے دیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہاصل میں گانگریس اور بی جے پی ۔۔۔ اویسی سے اس لیے ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس وہ کرشمہ اور طاقت ہے کہ وہ مسلمانوں کے قومی رہنما کی حیثیت سے ابھر سکتے ہیں۔ ۔ جو راستہ اسد الدین اویسی نے چنا ہے وہ پُرخطر ضرور ہے لیکن اس سے ہٹ کر کوئی راستہ بچا نہیں۔ کیونکہ اگر بھارت میں 180 ملین مسلمان ہیں تو ان کا سیاسی اور معاشی مستقبل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے؟ کیونکہ بی جے پی تو بے خوف ہو کر کہہ چکی ہے کہ بہت وقت تک ہم نے سوچا کہ ہم کانگریس جیسا بنیں گے اور مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے چلیں گے لیکن پھر ہمیں احساس ہوا کہ اگر ہم 15 فیصد مسلمانوں کو چھوڑ کر 85 فیصد ہندوؤں پر فوکس کریں گے تو اس میں کوئی عذر نہیں، مسلمان جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔بی جے پی کی یہ پالیسی کھلم کھلا ہے۔ اس میں کوئی راز داری نہیں۔ بی جے پی نے یہ باتیں آن ریکارڈ کہی ہیں۔ یہ ان کے منشور کا حصہ ہے ۔ آپ دیکھیں گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے 330 نشستیں حاصل کیں لیکن ان میں سے ایک بھی رکن مسلمان نہیں تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کمار، جو بدقسمتی سے رکن پارلیمان بھی ہیں، آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ ہم پرانے شہر حیدرآباد پر سرجیکل سٹرائیک کریں گے۔ اس طرح کے بیانات سے ان کی مسلم مخالف سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سوچ کے پیچھے خطرناک منصوبہ ہے۔۔ بھارت میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو ان کی آبادی اور نمائندگی کے تناسب سے وزارت نہیں ملتیں۔ خود بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی دس بڑی ریاستوں میں 80 فیصد مسلمان آباد ہیں ۔اس لحاظ سے وہ ریاستوں میں 281 وزارتوں کے حق دار بنتے ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ صرف 16 مسلمان ریاستی وزیر ہیں ۔بہار میں حالیہ ریاستی انتخابات کے نتینجے میں این ڈی اے کی حکومت بنی جس میں بی جے پی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے لیکن وہاں کی 15 رکنی کابینہ میں ایک بھی مسلمان وزیر نہیں ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چند دنوں کی ہی بات ہے کہ بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے پر مسلمان خاندان نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ 42 سالہ عبدالسلام ان کی 36 سالہ بیوی نور جہاں 14 سالہ بیٹی سلمیٰ اور 10 سالہ بیٹے قلندر نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایک چلتی مال بردار ریل گاڑی کے آگے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں اب ہمارا کوئی سرپرست نہیں نہ ہی کوئی مددگار ہے۔ ہم نے اپنے زندگی میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی نہ ہی ریاست کے لیے کچھ غلط کیا۔ ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے جسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے خاندان سمیت خودکشی کررہا ہوں۔ مگر اس پر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔۔۔ باقی آپ صورتحال کا اندازہ کر لیں ۔ کیونکہ بھارت میں مسلمانوں کے حوالے سے ایسی دسیوں ہزاروں خبریں روزہ مرہ معمول کا حصہ بن چکی ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں یہ بھی یاد کروادوں کہ ہفتہ قبل بھارت امریکی مسلم کونسل کے زیراہتمام نسل کشی کے موضوع پرآن لائن مباحثے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بھارت میں حکمران جماعت کی نگرانی میں
    20 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کا خدشہ ہے۔ ویسے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی ابھی بھی جاری ہے۔ کشمیراورآسام میں مسلمانوں پرظلم قتل عام سے پہلے کا مرحلہ تھا۔ بھارت میں انسانیت کیخلاف منظم جرائم کا سلسلہ جاری ہے۔ بابری مسجد کوگرانا اورمندرتعمیر کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ دہلی فسادات میں پولیس نے سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا۔ مسلمانوں پر ظلم انکی معاشی صورتحال کو بدترکر رہی ہے۔ مسلمان مستقل خوف اورعدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مسلمانوں پرظلم سے سماجی اوراقتصادی حالت خراب ہو رہی ہے۔ بھارت مسلمانوں کے انسانی اورآئینی حقوق سےانکار کر رہا ہے۔ اور بھارت کے مسلمانوں کو ایک نئے جناح کا انتظار ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسد الدین اویسی کی شکل میں بھارتی مسلمانوں کو نیا جناح مل پاتا ہے یا نہیں ۔

  • چین نے بھارت سے دوستی کرلی !پہلی بارچینی بھارتی چاول کھائیں گے

    چین نے بھارت سے دوستی کرلی !پہلی بارچینی بھارتی چاول کھائیں گے

    بیجنگ :چین نے بھارت سے دوستی کرلی !پہلی بارچینی بھارتی چاول کھائیں گے،اطلاعات کے مطابق چین کے بارے میں وہ تاثر کامیاب ہورہا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چینی اپنے مفاد کی خاطردوست کودشمن اوردشمن کودوست بناسکتا ہے اوراس کا عملی اظہارہوچکا ہے ،

    ویسے تو پچھلے چند ماہ سے یہ خبریں آرہی تھیں کہ بھارت اورچین کے درمیان سخت کشیدگی ہےاس بات میں شک بھی نہیں ، ان حالات میں جب ہمالیہ میں ایک سرحدی تنازعہ کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین سیاسی تناؤ زیادہ ہے۔بھارت اورچین کے درمیان ایک بہت بڑا معاہدہ ہوا ہے

    “پہلی بار چین نے چاول کی خریداری کی ہے۔اس حوالے سے چاول ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بی وی کرشنا راؤ نے بتایا کہ ہندوستانی فصل کا معیار دیکھ کر اگلے سال ان کی خریداری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    چاول ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بی وی کرشنا راؤ اورانڈسٹری کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی تاجروں نے دسمبر فروری کی ترسیل کے لئے ایک لاکھ ٹن ٹوٹا ہوا چاول 300 ٹن کے حساب سے برآمد کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

    چاول کے تجارتی عہدیداروں کے مطابق چین کے روایتی سپلائرز جیسے تھائی لینڈ ، ویتنام ، میانمار اور پاکستان کے پاس برآمد کے لیے چاول بھی کم اوروہ دے بھی مہنگا رہے ہیں ان حالات میں بھارتی چاول کے معیاراورقیمتوں نے چین کوبھارتی چاول کھانے پرمجبورکردیا

  • اسلام آبادہائی کورٹ نے نوازشریف کونامی گرامی مجرم قر اردیتے ہوئے پھراشتہاری قراردیا

    اسلام آبادہائی کورٹ نے نوازشریف کونامی گرامی مجرم قر اردیتے ہوئے پھراشتہاری قراردیا

    اسلام اباد:اسلام آبادہائی کورٹ نے نوازشریف کوپھراشتہاری قراردیا،اطلاعات کے مطابق آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرپشن پربرطرف سابق وزیراعظم کوعدالتوں میں پیش نہ ہونے پراور عدل وانصاف کوچکردینے پراشتہاری قرار دیا ہے

    نوازشریف کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سخت ریمارکس،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرپشن کیس میں برطرف سابق وزیراعظم کے حوالے سے عدالت نے تنگ آکر سخت ریمارکس دیتے ہوئے نامی گرامی مجرم سے تعبیر کردیا ہے ،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت ہوئی.اس سماعت کے دوران معزز عدالت کی طرف سے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نوازشریف ملک وقوم کوچکردینے کے ساتھ ساتھ عدل اورانصاف کوبھی چکردے رہا ہے

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان کا بیان قلمبند ہونا شروع ہوا،گواہ مبشر خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے عدالت سے جاری نواز شریف کے اشتہارات موصول کیے، میں نے اشتہارات دفتر خارجہ سے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھیجے،

    ایون فیلڈریفرنس میں عدالت نے نواز شریف کی 10 سالہ سزا معطل کررکھی ہے جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل زیرسماعت ہے، العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نےنوازشریف کو7سال قید سزاسنائی تھی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا ،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تحریری حکم نامہ جاری کیا ، تحریری حکمنامے میں عدالت نے کہا کہ نواز شریف کے اشتہارات اخبارات میں شائع کیے گئے، نواز شریف کا اشتہار رہائش گاہ اور اہم مقامات پر چسپاں کیا گیا، وفاق کے مطابق رائل میل کے ذریعے بھیجا گیا طلبی اشتہار نواز شریف نے وصول کیا، نیب کے مطابق اصولی طور پر اشتہار بھیجنے اور چسپاں کرنے والوں بیان ریکارڈ کیا جائے

    تحریری حکمنامے کے مطابق نواز شریف کا اشتہار چسپاں کرنے والے ایف آئی اے افسر اعجاز احمد اور طارق 2 دسمبر کو طلب کئے گئے تھے،نواز شریف کا اشتہار برطانیہ بھیجنے والے وزارت خارجہ کا افسر مبشر خان کو بھی طلب کیاگیا تھا ،عدالت گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا ہے

  • زرداری اور نوازشریف پر اللہ کا عذاب ،لوگ مر رہے ہیں، اپوزیشن جلسے کر رہی ہے، وزیراعظم

    زرداری اور نوازشریف پر اللہ کا عذاب ،لوگ مر رہے ہیں، اپوزیشن جلسے کر رہی ہے، وزیراعظم

    زرداری اور نوازشریف پر اللہ کا عذاب ،لوگ مر رہے ہیں، اپوزیشن جلسے کر رہی ہے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آصف زرداری اور نوازشریف پر اللہ کا عذاب آیا ہے،یہ لیڈرکبھی لندن اور کبھی سعودی عرب جاتے ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لیڈرمیں دو خصوصیت صادق اور امین ہونا بہت ضروری ہے، حرام کا پیسہ اللہ کی لعنت ہے،آصف زرداری اور نوازشریف کو 40 سال سے جانتا ہوں،آصف زرداری اور نوازشریف پر اللہ کا عذاب آیا ہے،یہ لیڈرکبھی لندن اور کبھی سعودی عرب جاتے ہیں،حرام کا پیسہ خود ایک عذاب ہے اور یہ لیڈر کرپشن بچانے کے لیے جلسے کرتے ہیں،اسحاق ڈار کا انٹرویو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ پریشانی کیا ہوتی ہے،اسٹریس دیکھنا ہے تو کل اسحاق ڈار کی شکل دیکھ لیتے،اسحاق ڈار جھوٹ پر جھوٹ بول رہا تھا، سب دیکھ رہے تھے، ذہنی دباؤانسان کوسب سےزیادہ نقصان پہنچاتا ہے ،کورونا سے لوگ مر رہے ہیں، اپوزیشن جلسے کررہی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان حکومت اچھا کام کرے گی تو اللہ راضی رہے گا ،گلگت بلتستان سی پیک کےراستے میں ہے،یہاں پہلااسپیشل اکنامک زون بنائیں گے،ہماری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان کو ٹورازم حب بنا دیں، ہائیڈرو الیکٹرک پاور کے ساتھ اسپیشل اکنامک زون بنتا جائے گا،اسکردو میں ڈھائی سو بیڈ کے اسپتال پر کام جاری ہے، جو مکمل کیا جائے گا،گلگت بلتستان کیلئے تین سو میگاواٹ بجلی پیدوار کے منصوبے بنا رہے ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے سب سے بہترین نظام سیلف گورننس کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں پہلی ترجیح کمزور طبقے کو ترقی دینا تھا، ہماری ترجیح کمزور طبقے کو ترقی دینا ہے،

    گلگت الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی، وفاقی وزراء نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

    گلگت الیکشن،سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے،مریم برس پڑیں

    شاہد خاقان عباسی نے گلگت الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کر دیئے

    ووٹ چوری ہوا، بلاول، پی پی کا ریٹرننگ افسرکے دفتر کے باہر دھرنا جاری

    گلگت بلتستان الیکشن،مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آ گئے،بڑا اعلان کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کوجس راستے پرڈالیں گے عوام کی زندگی بدل جائے گی،گلگت بلتستان حکومت گورننس کے نئے معیارقائم کرے گی،گلگت بلتستان کے تمام لوگوں کیلئے ہیلتھ انشورنس لے کر آرہے ہیں،ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک کا علاج کرایا جا سکتا ہے،سیاحت کوفروغ دینے کے لیے سستے قرضے دیئے جائیں گے،قرضوں سے لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا،گزشتہ ہفتے آسٹریا کی ایک بڑی کمپنی کے وفد سے ملاقات ہوئی ،اسکردو میں 250بیڈز کا اسپتال بنا رہے ہیں،گلگت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلیے خوشگوار ماحول فراہم کریں گے

  • گلگت بلتستان کابینہ کی حلف برداری،وزیراعظم عمران خان کی شرکت، نئی حکومت کیسے کام کریگی؟ بتا دیا

    گلگت بلتستان کابینہ کی حلف برداری،وزیراعظم عمران خان کی شرکت، نئی حکومت کیسے کام کریگی؟ بتا دیا

    گلگت بلتستان کابینہ کی حلف برداری،وزیراعظم عمران خان کی شرکت، نئی حکومت کیسے کام کریگی؟ بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دورہ گلگت میں گلگت والوں کے دل جیت لئے

    وزیر اعظم عمران خان گلگت بلتستان کابینہ کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے،گلگت بلتستان کابینہ کی تقریب حلف برداری میں کورونا ایس او پیز کا خیال رکھا گیا گلگت بلتستان کابینہ کی حلف برداری کی تقریب باہر منعقد کی گئی،گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین نے کابینہ سے حلف لیا،وزیر اعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کابینہ کو مبارکباد دی

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امید ہے نئی حکومت گورننس کا سسٹم متعارف کرائے گی، گلگت بلتستان آکر کرکٹ کھیلتے تھے،گلگت بلتستان کے علاقوں سے واقف ہوں گلگت کے تمام مسائل سے آگاہ ہوں، گلگت بلتستان کے لوگوں کو وسائل دینے کے خواہاں ہیں ،گلگت بلتستان کے نوجوان پوچھتے تھے کیا ہم پاکستانی ہیں یا نہیں،گلگت بلتستان حکومت ایک نئی روایت قائم کرے گی ،گلگت بلتستان میں ہم احساس کفالت پروگرام لائیں گے ،گلگت بلتستان کوصوبائی حیثیت دینے کیلئے کمیٹی بنائیں گے ،گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دینے کیلئےفوری کام کریں گے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کوجس راستے پرڈالیں گے عوام کی زندگی بدل جائے گی،گلگت بلتستان حکومت گورننس کے نئے معیارقائم کرے گی،گلگت بلتستان کے تمام لوگوں کیلئے ہیلتھ انشورنس لے کر آرہے ہیں،ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک کا علاج کرایا جا سکتا ہے،سیاحت کوفروغ دینے کے لیے سستے قرضے دیئے جائیں گے،قرضوں سے لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا،گزشتہ ہفتے آسٹریا کی ایک بڑی کمپنی کے وفد سے ملاقات ہوئی ،اسکردو میں 250بیڈز کا اسپتال بنا رہے ہیں،گلگت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلیے خوشگوار ماحول فراہم کریں گے

    گلگت الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی، وفاقی وزراء نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

    گلگت الیکشن،سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے،مریم برس پڑیں

    شاہد خاقان عباسی نے گلگت الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کر دیئے

    ووٹ چوری ہوا، بلاول، پی پی کا ریٹرننگ افسرکے دفتر کے باہر دھرنا جاری

    گلگت بلتستان الیکشن،مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آ گئے،بڑا اعلان کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی خالد خورشید کو نیا وزیراعلیٰ گلگت بلتستان منتخب کر لیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کیلئے اپوزیشن کی طرف سے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی امجد ایڈوکیٹ امیدوار تھے۔ وزیراعلیٰ خالد خورشید کو 22 اراکین کی جبکہ اپوزیشن کے امجد ایڈوکیٹ کو 9 اراکین کی حمایت حاصل ہوئی۔

    اس سے قبل 26 نومبر کو سید امجد علی زیدی گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر جبکہ پی ٹی آئی کے نذیر احمد ڈپٹی سپیکر منتخب ہو گئے تھے۔ سپیکر امجد علی نے 18 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے حریف غلام محمد نے آٹھ ووٹ حاصل کئے۔ڈپٹی سپیکر نذیر احمد نے بائیس ووٹ حاصل کیے جبکہ اپوزیشن کے نامزد امیدوار کو نو ووٹ ملے۔ بعد ازاں سبکدوش ہونے والے سپیکر فدا محمد ناشاد نے نئے منتخب سپیکر سے حلف لیا۔

  • اسحاق ڈار اینکر کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے، عدالتوں کا کیسے دیں گے،شہزاد اکبر

    اسحاق ڈار اینکر کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے، عدالتوں کا کیسے دیں گے،شہزاد اکبر

    اسحاق ڈار اینکر کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے، عدالتوں کا کیسے دیں گے،شہزاد اکبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ گزشتہ رو ز مفرور اسحاق ڈار نے کہا میری ایک ہی پراپرٹی ہے،گزشتہ روز اسحاق ڈار غیر ملکی صحافی کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے،

    مشیر داخلہ شہزاد اکبرکا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار اگر پاکستان آجاتے عدالتوں کے سوالات کا جوابات کیسے دیتے، سابق وزیرخزانہ نے کہا نیب کی حراست میں درجنوں لوگ انتقال کرگئے،اسحاق ڈار نے انٹرویو میں کئی مضحکہ خیز با تیں کیں،اسحاق ڈار نے کہا میری ایک جائیداد ہے جس پر حکومت نے قبضہ کرلیا،اسلام آباد میں اسحاق ڈار کی6ایکڑ زمین ہے،الفلاح ہاوَسنگ سوسائٹی میں اسحاق ڈار کے 3پلاٹ ہیں،اسحاق ڈار کی8گاڑیاں ہیں،اسحاق ڈار کی کچھ کمپنیاں بھی ہیں اور کچھ میں پارٹنر شپ، اسحاق ڈار کے کافی بینک اکاوَنٹس بھی ہیں جن میں رقم موجود ہے،کل مفرور کا انٹرویو چلا جسے عوام دیکھ کر محظوظ ہوئے، اسحاق ڈار اینکر کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے، عدالتوں کا کیسے دیں گے، اسحاق ڈار نے انٹرویو میں مضحکہ خیز باتیں کیں،

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    بی بی سی کا نوازشریف کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ایسا انٹریوکہ ڈارجی پانی پانی ہوگئے

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

    خورشید شاہ پیشی.عدالت نے ایسا کیا کہا کہ نیب حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    اسحاق ڈار کا بیٹا غصے میں آ گیا، حکومت کے خلاف بڑا اعلان کر دیا

    سال کی سب سے اچھی خبر وفاقی وزیر علی زیدی نے بتا دی

    مشیر داخلہ شہزاد اکبرکا کہنا تھا کہ اسحاق ڈا ر سے متعلق معلومات جے آئی ٹی میں سامنے آئی تھیں ،اسحاق ڈار اپنےا وپر لگائی گئی چارچ شیٹ کا جواب نہیں دے رہے،ملک اس وقت بہتری کی طرف جارہا ہے، کورونا کی دوسری لہر خطرناک ہے،کوروناکے ساتھ ساتھ ہمیں کاروبار اور تجارت کو بھی بچانا ہے،گزشتہ رو ز اسلام آباد کے ہوٹلز، ریسٹورنٹس میں بیٹھ کر کھانے پر پابندی لگی,سب کے تعاون سے کورنا کی پہلی لہر سے آسانی سے نکل گئے

    مشیر داخلہ شہزاد اکبرکا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار ملک سے 3 سال پہلے بھاگے تھے,ڈار صاحب کا ماضی میں بھی اقبالی بیان دے چکے ہیں،قاضی فیملی کے نام پر منی لانڈرنگ شریف فیملی کیلئے کی گئی تھی،باہر بیٹھ کر یہ لوگ قومی اداروں کے خلاف بولتے ہیں یہ ملک کا پیسہ لوٹ کر کہتے ہیں ہمارا موقف نہیں سنا جاتا

    وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کون سا ایسا کام کیا جس پر یہ حکومت کو فاشسٹ کہتے ہیں؟اسحاق ڈار سے ان کی صحت سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا آپ کوپتہ نہیں وہاں کیا ہوتا ہے؟ اسحاق ڈار نے انٹرویو میں سوال اور جواب اور دیا

     

    اسحٰق ڈار کا انٹرویو کروانے والے بیوقوف کی تاج پوشی کرنا چاہتا ہوں،علی زیدی

  • شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کی مدت بڑھا دی گئی

    شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کی مدت بڑھا دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کی مدت میں ایک روز توسیع کی منظوری دے دی۔

    دونوں لیگی رہنماؤں کا پرول آج دوپہر ڈھائی بجے ختم ہو رہا تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پرول میں توسیع پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس کے دوران پرول میں توسیع کی منظوری دی۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ پرول میں توسیع انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

    ‏معاون خصوصی وزیراعلیٰ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا حکومت پنجاب نے وزیراعلی عثمان بزدار صاحب کی ہدایت پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست پر اگلے 24 گھنٹے کیلئے پرول میں توسیع کر دی۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے پیرول پر رہائی میں توسیع کے حوالہ سے حکومت سے رجوع کیا تھا،مسلم لیگ ن نے اس حوالہ سے درخواست محکمہ داخلہ پنجاب کو دے دی ہے، عطااللہ تارڈ کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے افسوس کیلئے بہت سارے لوگ آنا چاہتے ہیں۔ اس لئے پیرول میں رہائی میں مزید توسیع کی جائے

    یاد رہے شہباز شریف اور حمزہ کی پیرول پر رہائی کی مدت کا آج آخری روز ہے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے دونوں رہنماوں کو 14 روز کے لئے پے رول پر رہا کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاہم پنجاب کابینہ اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے 5 روز کے لئے رہائی کی منظوری ملی۔ پنجاب حکومت نے پاکستان پریزن رولز 1978 کے سیکشن 545 بی کے تحت پے رول پر رہائی کی اجازت دی۔

    دوسری جانب شہباز شریف کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لئے آنے والے افراد کا سلسلہ جاری ہے، برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن لارڈ نذیر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ملاقات کی ہے،لارڈ نذیر نے قائد حزب اختلاف سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کی ،لارڈ نذیر نے مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور اہل خانہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کی

    گورنر پنجاب چودھری سرور کا شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، گورنر پنجاب نے شہباز شریف سے والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات ہوئی، سلیم مانڈوی والا نے شہباز شریف سے والدہ کے انتقال پر تعزیت کی

    مسلم لیگ ن کی جانب سے دونوں رہنماوں کو 14 روز کے لئے پرول پر رہا کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاہم پنجاب کابینہ اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے 5 روز کے لئے رہائی کی منظوری ملی۔ پنجاب حکومت نے پاکستان پریزن رولز 1978 کے سیکشن 545 بی کے تحت پرول پر رہائی کی اجازت دی۔

  • آصفہ بھٹو:”گلی گلی میں شورہے؛نوازشریف چورہے”مریم نواز:’’زرداری سب سے بڑی بیماری‘‘:سیاسی شہزادیاں لڑپڑیں

    آصفہ بھٹو:”گلی گلی میں شورہے؛نوازشریف چورہے”مریم نواز:’’زرداری سب سے بڑی بیماری‘‘:سیاسی شہزادیاں لڑپڑیں

    لاہور : آصفہ بھٹو:”گلی گلی میں شورہے؛نوازشریف چورہے”مریم نواز:’’ زرداری سب سے بڑی بیماری ‘‘:سیاسی شہزادیاں لڑپڑیں ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے ملتان جلسے میں مریم نواز اور آصفہ بھٹو کی ایک ساتھ شرکت کے بعد سوشل میڈیا پر آصفہ بھٹو کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے حوالے سے ایک ٹوئٹ وائرل ہوا ہے ۔

     

    https://twitter.com/AseefaBZ/status/813712723133534208

    ذرائع کے مطابق 2016 میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد آصفہ بھٹو نے ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے نواز شریف کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’ گلی گلی میں شور ہے، نواز شریف چور ہے‘‘ ۔

     

     

     

    ان کے اس پرانے ٹوئٹ کو آج پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل پیج پر ری ٹوئٹ کیا گیا جس میں آصفہ بھٹو اور مریم نواز کی ایک ساتھ تصویر شیئر کی گئی اور ساتھ ہی آصفہ بھٹو کا ٹوئٹ بھی ۔

     

     

    https://twitter.com/ZahidSiddique_/status/1333755956359000065

    آصفہ بھٹو کے اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے اس سے اس بارے میں پوچھا کہ کیا اب ان کے خیالات یہی ہیں ؟ یا پھر یہ سیاسی بیان قرار دیا جائے گا ۔

     

     

    اس ٹوئٹ کے ساتھ ہی صارفین کی جانب سے ایک اور ٹوئٹ شیئر کیا جا رہا ہے جس میں نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے لکھا تھا کہ ’’ زرداری سب سے بڑی بیماری ‘‘۔

     

    https://twitter.com/pti_jawaid/status/1333764864934879233

    سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان ٹوئٹس کے سکرین شاٹس بھی لے کر شیئر کیے جا رہے ہیں، صارفین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی جواب نہیں دیں گی، بلکہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کر دیں گی ۔

  • جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے بعد جسٹس شوکت صدیقی کا کیس سپریم کورٹ:کیاکچھ ہونے جارہاہے؟

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے بعد جسٹس شوکت صدیقی کا کیس سپریم کورٹ:کیاکچھ ہونے جارہاہے؟

    اسلام آباد : جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے بعد جسٹس شوکت صدیقی کا کیس سپریم کورٹ:کیاکچھ ہونے جارہاہے؟اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ 9 دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔جسٹس فیصل عرب کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس سجاد علی شاہ لارجر بینچ میں شامل ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو 11 اکتوبر 2018 کو خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُس وقت کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے بیان پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آیا تھا جس میں ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔