Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کا فیصلہ درست ثابت، بھارت کے خلاف ایران کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان کا فیصلہ درست ثابت، بھارت کے خلاف ایران کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان کا فیصلہ درست ثابت، بھارت کے خلاف ایران کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہونے والی تبدیلی کے بعد سعودیہ عرب مکمل طور پر حواس باختہ ہوا ہوا ہے اور ایران سعودی حکمرانوں کے سر پر اس حد تک سوار ہے کہ پہلے شاہ سلمان نے ایران کے خلاف بیان دے کر عالمی برادری سے درخواست کی لیکن جب اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو اب محمد بن سلمان خود میدان میں اتر آئے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ مملکت کو دھمکانے والوں اور سیکیورٹی اوراستحکام کے لیے خطرہ بننے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور یہ بیان انہوں نے جدہ میں غیرمسلموں کے ایک قبرستان میں ہونے والے حملے کے بعد ہونے والے سعودی مجلس شوری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے۔ یہ دھماکا جس تقریب کے دوران ہوا تھا اس میں فرانس کے علاوہ امریکی، برطانوی، اطالوی اور یونانی سفارت کار بھی موجود تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول بھی کی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ یہ دھماکے دراصل فرانس میں جو گستاخانہ خاکوں کا معاملہ ہوا اس کا reaction ہیں کیونکہ اس سے پہلے جدہ میں واقع فرانسیسی قونصل خانے کے باہر تعینات سیکیورٹی گارڈ پرایک شخص نے خنجر سے حملہ کرکے اسے زخمی بھی کیا تھا۔ لیکن محمد بن سلمان اس حملے کو جواز بنا کر دراصل ایران کے بڑھتے اثرورسوخ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ جس طرح ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ ہوا ہے اور اس میں جو پراجیکٹس ڈسکس ہوئے ہیں اگراس پرعملی پیش رفت شروع ہو جاتی ہے تو سعودیہ عرب کا اثرورسوخ پاکستان میں ایک طرح سے بالکل ختم ہو کر رہ جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب میں آپ کو کچھ تفصیلات ان پراجیکٹس کے بارے میں بھی بتاتا ہوں جو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ملاقاتوں میں ڈسکس ہوئی ہیں۔ایران نے پاکستان کے ساتھ باہمی تعاون وتجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ سرحد پرایک نیابارڈر کراسنگ پوائنٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بارڈر کراسنگ پوائنٹ ریمدان کے مقام پر ہو گا جو چاہ بہار بندرگاہ سے 130 کلو میٹر کے فاصلہ پر سیستان اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے۔ جبکہ یہ امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان بھی اپنی جانب سے گبڈ کراسنگ پوائنٹ کھول دے تاکہ دونو ں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جاسکے کیونکہ یہ سبزیوں،پھل،لائیواسٹاک اور پٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لیے بہترین مقام ہے۔ ریمدان جدید مواصلاتی سہولتوں سے آراستہ ہے اور جانوروں کورکھنےکے بھی یہاں پر انتظامات ہیں جب کہ پشین مند کا سرحدی راستہ 900 کلو میٹر پاک ایران بارڈر کے درمیان میں ہے۔ ان دو سرحدی راستوں کے کھل جانے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے مال بردار ٹرک کراچی سے سامان لے کر ایک دن میں ہی ایران میں داخل ہو سکیں گے۔ ساتھ ہی تافتان بارڈر سے داخلے کے لیے جن مال بردار ٹرکوں کواب کراچی سے کوئٹہ جانے ہوتا ہے اور اس میں تین گنا زیادہ وقت لگتا ہے لیکن ریمدان گبڈ کراسنگ کھلنے سے مکران کوسٹل ہائی وے کے راستے سے یہ سفر بھی کم وقت میں طے ہو گا۔ ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان نئی سرحدی مارکیٹس کھولنے کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی راستوں سے ہونے والی تجارت اس وقت بمشکل 5 ارب ڈالرز ہےجو ان راستوں کے کھلنے سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک تجارت کے فروغ کے لئے ایک جوائنٹ اکنامک کمیشن بنانے پربھی رضامند ہوگئے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان نئے سرحدی راستے کھولنے کا معاہدہ 2011 میں طے پایا تھا لیکن سعودیہ عرب کے دباو کی وجہ سے اس پرعمل نہیں ہوسکا تھا۔ اسی طرح دونوں ملکوں کے درمیان کروڈ آئل پائپ لائن،کوئٹہ زاہدان 663 کلو میٹر لمبے ریلوے ٹریک کی اپ گریڈنگ،143 کلو میٹر نوشکی دالبندین ہائی وے کی تعمیر، زاہدان سے کوئٹہ کو 1000 میگا واٹ بجلی کی ترسیل کے لیے ٹرانسمشن لائن جیسے منصوبوں پربھی بات چیت ہوئی تھی لیکن ان پر کام رکا ہوا تھا۔ حالانکہ دو ہزار گیارہ سے تیرہ کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی پاکستان اور ایران کے تعلقات پر کافی کام کیا تھا لیکن بد قسمتی سے اس وقت ان منصوبوں پر کام نہ ہو سکا۔ اگر صرف ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر جو کام شروع کیا گیا تھا اس پرہی اگر دوبارہ کام شروع کر لیا جائے اور وہ مکمل ہو جاتا ہے توپاکستان کو ملنے والی گیس بلوچستان میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اس معاہدہ کے تحت پاکستان کو 750 ملین کیوبک فیٹ گیس روزانہ سپلائی ہو سکے گی جس سے4000 میگا واٹ بجلی روزانہ پیدا ہو سکتی ہے۔ ایران اس وقت بھی 74 میگا واٹ بجلی پاکستان کے سرحدی علاقے مند اور اس کے آپس پاس کے علاقے کو فراہم کر رہا ہے۔اسی طرح پورٹ سٹی گوادر کو 100میگا واٹ بجلی دی جارہی ہے۔
    پاکستان اور ایران کے درمیان نو سو کلومیٹرطویل سرحد ہے جس پر باہمی اعتماد کی وجہ سے فوج تعینات نہیں کی جاتی اس سے دونوں ملکوں کو کئی ملین ڈالرز کی بچت ہوتی ہے۔ لیکن کشیدہ تعلقات کی صورت میں بھارت فائدہ اٹھا کردونوں ملکوں میں غلط فہمیاں پیدا کرتا جو پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ بنتا ہے۔ ایران کی چاہ بہاربندرگاہ سے بھارت کئی بار ایسی کاروائیاں کرتا رہا ہے۔ لیکن اب اس پر بھی کام ہو رہا ہے حال ہی میں ایران نے بھارت کو اپنے کچھ منصوبوں سے علیحدہ کیا ہے جو ایران اور پاکستان کو مزید قریب لا رہا ہے۔ اور دوسری جانب پاکستان بھی کافی حد تک سعودی دباو سے نکل چکا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سی پیک کی وجہ سے چین جیسا طاقتور ملک بھی پاکستان اورایران کا ساتھ دینے کو تیار ہے یعنی سعودیہ عرب کا دوست ملک بھارت کزور ہو رہا ہے اور چین پاکستان اور ایران کا بلاک مضبوط ہو رہا ہے۔ اور یہی وہ اصل پریشانی ہے جس پر سعودیہ عرب تلملا رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب پہلے اگر سعودیہ عرب خود ایران کے خلاف کچھ نہیں بھی کر سکتا تھا تو وہ سارے کام وہ امریکہ سے کرواتا تھا۔ صدر اوباما کے دورمیں جو ایران کےساتھ جوہری معاہدہ کیا گیا تھا جس کے بدلے ایران پر تجارتی سختیاں ختم کرکے جوہری سرگرمیوں پر نگرانی بڑھ گئی تھی۔ اس معاہدے کوصدر ٹرمپ نے بدترین معاہدہ قرار دے کر اس کے لیے امریکی حمایت ختم کر دی تھی اور یہ سب ٹرمپ نے سعودیہ عرب کی محبت اور دوستی میں ہی کیا تھا۔ لیکن اب سعودیہ عرب کو فکر ہے کہ وائٹ ہاؤس دوبارہ تہران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے میں دلچسپی رکھ سکتا ہےجس سے ان کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ اور اس کے داماد کے دراصل سعودی حکمران شاہ سلمان اوران کے بیٹے محمد بن سلمان کے ساتھ ذاتی تعلقات ہیں۔ اسی وجہ سے ٹرمپ نے صدر بنتے ہی 2017 میں سب سے پہلا صدارتی دورہ ریاض کا کیا تھا۔ 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کا جب قتل ہوا تو ساری دنیا نے محمد بن سلمان کے خلاف آواز اٹھائی لیکن ٹرمپ نے کھل کر کبھی اس معاملے پر بات نہیں کی اور اس معاملے کو ہمیشہ دباتے رہے۔اسی طرح یمن کی جنگ میں بھی صدر اوباما نے امریکی فوج اور خفیہ آپریشنز کے لیے فنڈ روک دیے تھے جس کی وجہ سے سعودیہ کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا لیکن ٹرمپ نے اس اقدام کو ختم کرکے یمن میں کارروائیوں کے لیے سعودی عرب کو کھلی چھوٹ دے دی تھی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اب لگ رہا ہے کہ معاملہ پھر الٹ جائے گا۔ جو بائیڈن نے کونسل برائے خارجی امور کو بتایا تھا کہ وہ یمن میں تباہ کن سعودی جنگ کے لیے امریکہ کی حمایت ختم کردیں گے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کا حکم دیں گے۔ اس کے علاوہ ایک اہم معاملہ قطر کا بھی ہے۔ العدید ایئر بیس جہاں سے امریکہ شام اور افغانستان میں اپنے فضائی آپریشن کرتا ہے اس کی وجہ سے قطر امریکہ کے لئے بہت اہم ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے قطر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ یہ بائیکاٹ شروع ہی تب ہوا تھا جب ٹرمپ نے ریاض کا دورہ کیا تھا۔ کیونکہ سعودیہ عرب کو پتا تھا کہ وہ جو بھی کریں گے انھیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہوگی۔
    لیکن اب محمد بن سلمان جانتے ہیں کہ جوبائیڈن چاہیں گے کہ خلیجی ممالک میں اس اندرونی تنازع کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اس طرح محمد بن سلمان کو اب اپنی ضد چھوڑ کر ایک بار پھر اپنی سفارتی پالیسی میں تبدیلی کرنی ہو گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان جو ٹرمپ کے ساتھ مل کربھارت کے ساتھ جا بیٹھے تھے بھارت کے ساتھ کاروبار بڑھائے گئے تھے تو اب پاکستان بھی پہلے کی طرح سعودیہ کا ساتھ نہیں دے گا۔ اسے اپنے معاملات خود طے کرنا ہوں گے۔ ویسے بھی پاکستان نے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے سعودیہ عرب سے کنارہ کیا تھا کیونکہ مسئلہ کشمیر پر سعودیہ عرب پاکستان کا ساتھ دینے کی بجائے بھارت کی حمایت میں خاموش تھا لیکن اب ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ تمام معاشی اور تجارتی معاملات کے ساتھ ساتھ کشمیر کے معاملے پر بھی ایران پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پتہ یہ چلتا ہے کہ پاکستان نے اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے جو فیصلہ کیا تھا وہ بالکل صحیح ثابت ہوا ہے ہمیں کشیمر جیسے معاملے پر اپنے حمایتی حاصل ہو رہے ہیں جبکہ سعودیہ عرب جس نے پاکستان جیسے دوست کو چھوڑ کر بھارت اور امریکہ کا ساتھ دیا تھا وہ اب ٹرمپ کے جانے کہ وجہ سے مشکلات کو شکار ہو گئے ہیں۔

  • دیوالی کے موقعہ پر بھارتی فوج کا بے بنیاد پروپیگنڈا

    دیوالی کے موقعہ پر بھارتی فوج کا بے بنیاد پروپیگنڈا

    بھارتی فوج نے بھارت میں دیوالی کے موقعہ پر اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ پاکستان نے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی علاقے میں فائرنگ کی جس کے بعد بھارتی فوجوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے گیارہ فوجی شہید کر دئیے۔ بھارتی فوج نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ مضحکہ خیزخبر بھی دی کہ شہید ہونے والوں میں پاکستان آرمی سپیشل سروسز گروپ کے دو سے تین کمانڈوز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پندرہ سے سولہ پاکستانی فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔ بھارتی فوج نے دعوی کیا کہ پاکستان نے 13 نومبر کو بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اڑی سے گوریز کے علاقے کے درمیان فائرنگ کی جس کا جواب بھارتی فوج نے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مصنوعی اور فرضی واقعہ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں بھارتی فوج نی ایک ویران علاقے میں موجود ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس ویڈیو میں جو غلطی کی گئی وہ فوری طور پر ہر خاص و عام نے پکڑ لی۔ مکان تباہ ہونے کی صرف مٹی اور دھول اڑی لیکن وہاں کوئی بھی لاش نظر نہیں آئی۔ اس بھارتی "معرکے”  میں بھارتی فوج نے اسرائیل سے حال ہی میں خریدے گئے جدید ترین سپائیک انٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل استعمال کئے جانے کا دعوی کیا۔ بھارتی عوام کو یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اس واقعے میں 4 بھارتی فوجی اور 5 بھارتی شہری ہلاک اور 3 فوج زخمی بھی ہو گئے۔ بھارتی فوج نے یہ بے بنیاد واقعہ کی تشہیر پورے بھارتی میڈیا پر کی لیکن بھارت کے کئی دفاعی ماہرین نے اس پر دھیان نہیں دیا اور اسے بھی ماضی میں بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا ری میک قرار دیا۔ 

  • ’’خونِ دل دے کر نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے‘‘کشمیریوں اوراہل وطن کوپاک فوج کا پیغام

    ’’خونِ دل دے کر نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے‘‘کشمیریوں اوراہل وطن کوپاک فوج کا پیغام

    راولپنڈی: ’’خونِ دل دے کر نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے‘‘کشمیریوں اوراہل وطن کوپاک فوج کا پیغام،پاک فوج کی طرف سے اہل وطن اوراہل کشمیرکے لیے اس پیغام نے بھارت سمیت بھارتی حلیفوں کی نیندیں حرام کردی ہیں

     

    پاک فوج کی طرف سے یہ بہت بڑا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ عزیزہم وطنو! کشمیریو!گھبرانا نہیں ، پریشان نہیں ہونا ہم تیار ہیں ، تیار ہیں ، ہمارے گھوڑے بھی تیارہیں ہم تمہیں تکلیف میں نہیں‌دیکھ سکتے ہم توعالمی برادری سے ہزارہابارکہہ چکے ہیں کہ کشمیریوں‌ پرمظالم کوروکیں اگرآپ نے روک سکے توپھرہم خود روک کردکھائیں لیکن اس وقت پھرتم ہمیں نہیں روک سکوگے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=vbPw7365IIY

    آج کے اس اہم پیغام میں پاک فوج کی طرف سے اہل وطن خصوصا کشمیریوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ’’خونِ دل دے کر نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=au9n8orsYe4

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے اہم مواقع پر بھی اہل وطن اہل پاکستان اوراہل کشمیرکوتسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ گھبرانا نہیں ہم تیاربیٹھے ہیں ، اس سال 5 فروری کوبھی یہی پیغام دیاتھا، اورچند دن پہلے بھی پاک فوج کے سربراہ نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ بس ہم رسم دنیا کا اتنظارکررہےہیں کہ کوئی آگے بڑھے اوریہ مسئلہ حل کروا دے

    https://www.youtube.com/watch?v=8vFn5kQyk-Q

    اپنے پیغام میں جنرل قمر جاوید باجوہ کہہ چکے ہیں‌ کہ وادی کشمیر کو جیل میں تبدیل کر کے لاکھوں کشمیریوں کو قید کر دیا گیا ہے، کشمیری اقوام متحدہ سے اپنا حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں۔ مرد، خواتین، بوڑھے اور بچے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

     

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہندوستانی جبر کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والے کشمیری بہن بھائیوں کو سلام، اس جدوجہد میں کشمیری اکیلے نہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

     

    پاک فوج کے سربراہ کہتے ہیں‌ کہ ہم دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، کشمیریوں کے لیے ہماری غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی۔ پائیدار امن ابھی تک ایک خواہش سے زیادہ کچھ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج ایل او سی پر اشتعال انگیزیاں کر رہی ہیں، جان بوجھ کر آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جوانوں اور شہریوں کی لازوال قربانیاں جدوجہد آزادی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=ZvRcVsNJ8t4

    آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے فرائض کی انجام دہی میں مستعد ہے، پاک فوج ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور استعداد رکھتی ہے۔ امن کی خواہش اور بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کے نقصان کے پیش نظر صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

     

    یہ پیغام اس وقت دیا جارہا ہے جب گلگت بلتستان میں انتخابات ہونے جارہے ہیں اوربھارت کی طرف سے شرارت کا امکان ہے ، پاک فوج نے گلگت بلتستان کے لوگوں کوتسلّی اورحوصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گھبرانا نہیں ’’خونِ دل دے کر نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

  • کشمیری مجاہدین کے ساتھ  جھڑپ میں افسران سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے

    کشمیری مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں افسران سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے

    راولپنڈی: مقبوضہ جموں کشمیر میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مجاہدین اور بھارتی فوج میں جھڑپ مقبوضہ وادی میں ہوئی، بھارتی فوج کا کپواڑہ میں مجاہدین سے سات اور آٹھ نومبرکی شب سامنا ہوا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بجائے اپنی طرف دیکھنے کے اور مسئلہ حل کرنے کے بھارتی فوج نے 13 نومبر کو لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔ بھارتی فوج کو اپنی عوام کے سامنے شدید ہزیمت اٹھانی پڑی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دشمن کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ میں توپخانہ اور بھاری ہتھیار استعمال کئے گئے۔ ٹارگٹ ایریاز میں لائن آف کنٹرول کے کئی سیکٹرز شامل ہیں۔ دانستہ بلااشتعال فائرنگ میں بھارتی فوج انسانی حقوق عالمی معاہدوں کو بھی بھول گئی۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے چار سویلین شہید اور بارہ زخمی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا اور انتہائی موثر جواب دیا۔ پاک فوج کی جانب سے جوابی کاروائی میں بھارتی فوج کو جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس نقصان کو بھارتی میڈیا نے خود تسلیم کیا ہے۔ اس بہادرانہ کارروائی میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور پاک فوج اسی اصول پر عمل کرتی ہے، اپنے مادروطن اور کشمیری بھائیوں کا خون کے آخری قطرے تک دفاع کرینگے۔

  • حافظ حسین احمد کا مذہبی موروثی قبضہ مافیا کے خلاف اعلان جہاد

    حافظ حسین احمد کا مذہبی موروثی قبضہ مافیا کے خلاف اعلان جہاد

    اسلام آباد:مولانا حافظ حسین احمد کا مذہبی قبضہ مافیا کے خلاف اعلان جہاد،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ایک بہت ہی معتبر اورمعتدل جانی جانے والی مذہبی شخصیت حافظ حسین احمد نے مذہبی جماعتوں کے اندرموروثیت کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہوئے کہا ہےکہ نسل درنسل جماعتوں پرقابض رہنے والے کس منہ سے جمہوریت کی بات کرتے ہیں

    ممتازعالم دین حافظ حسین احمد کے اس اعلان کے بعد نہ صرف جمعیت علمائے اسلام بلکہ دیگرایسی جماعتوں میں ہلچل مچ گئی ہیں جہاں نسل درنسل اس جماعت کے کارکنان ان مذہبی کے خود ساختہ سربراہوں ، امیروں اورقائدین کے سامنے بے بس ہیں

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پہل اوربہت بڑے مشن کا اعلان کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ بہت برداشت کرلیا مگراب ایسا نہیں چلے گا

     

     

    جمیعت علمائے اسلام ف کی طرف سے حافظ حسین احمد کی تحقیر اورپھر میڈیا پران کے خلاف بیانات اورایسے ہی ان کونوٹس دینے کی دھمکیوں کے بعد اپنے ایک اہم پیغام کے اندر وہ کہتے ہیں کہ !جے یو آئی کی طرف سے مجھے باضابطہ کوئی شوکاز نوٹس نہیں ملا اگرشوکاز نوٹس ملا تو اس کا جواب پبلک کیا جائے گا

    حافظ حسین احمد لکھتے ہیں کہ !اب ایسا نہیں چلے وہ اسی آواز کوکچھ اس طرح بیان کرتے ہیں اورپیغآم دے رہے ہیں کہ!ہم جے یو آئی میں موروثیت کے قائل نہیں ہیں،

  • وادی نیلم میں‌بھارتی فوج کی فائرنگ سے 4 پاکستانی شہید۔27 زخمی

    وادی نیلم میں‌بھارتی فوج کی فائرنگ سے 4 پاکستانی شہید۔27 زخمی

    نیلم ویلی: وادی نیلم میں‌بھارتی فوج کی فائرنگ سے 4 پاکستانی شہید۔27 زخمی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے آج پھر بدمعاشی کرتے ہوئے وادی نیلم کے علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کرکے 4 پاکستانیوں کوشہید جبکہ 27 کوزخمی کردیا ہے ،

     

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی فوج کی طرف سے یہ فائرنگ وادی نیلم کے نواحی علاقوں میں‌کی گئی ، یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ سرحدی گاوں دودھنیال پربھارتی فوج کی شدید فارنگ سے 4 کشمیری شہید ہوگئے ہیں‌،

    بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 27 پاکستانیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں ہیں‌ جنہیں مظفرآباد ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ،

     

    ہسپتال ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں ڈاکٹرفیاض احمد ، محمد شعیب ، محمد پرویز اورایک ساجدہ قیوم نامی خاتون بھی شامل ہیں

    دوسری طرف یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں مین بچے بوڑھے مردوخواتین سب شامل ہیں

  • سابقہ وزیراعظم نے بلوچستان سے زیادہ لندن کے دورے کئے، وزیراعظم

    سابقہ وزیراعظم نے بلوچستان سے زیادہ لندن کے دورے کئے، وزیراعظم

    سابقہ وزیراعظم نے بلوچستان سے زیادہ لندن کے دورے کئے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کے جنوبی اضلاع کے عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان باقی پاکستان سے پیچھے رہ گیا،بہت کام وفاقی حکومتوں نے بلوچستان کا سوچا،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے سیاستدانوں نے زیادہ تر اپنا سوچا ،پاکستان میں سیاسی لوگوں نے ملک سے زیادہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچایا،سابقہ وزیراعظم نے بلوچستان سے زیادہ لندن کے دورے کئے،یک صدر نے بلوچستان سے زیادہ دبئی کےد ورے کیے،چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا،چین چاہتا تھا کہ مغربی چین سی پیک کے ذریعے تیزی سے ترقی کرے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ زور لگائیں گے کہ بلوچستان کو اوپر اٹھائیں،ملک ایک گھر ہوتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ 2 بچے آگے نکل جائیں اور باقی پیچھے رہ جائیں،اس وقت دنیامیں جو ملک سب سے تیزی ترقی کررہا ہے وہ چین ہے، سب کو نظر آرہا ہے کہ چین چند سال بعد سب سے اوپر چلا جائے گا، 2 ہزار ارب ڈالر چین کی ٹریڈ ہے،ساری دنیا میں کورونا وائرس کا عذاب آیا ہوا ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے بھارت کے معاشی حالات بہت خراب ہیں،آنے والے دنوں میں ہمیں بہت احتیاط کرنا ہوگی ،کورونا کی وجہ سے 900 ارب روپے کم ٹیکس جمع ہوا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو ایس اوپیز پر عمل درآمد اور ماسک پہننا ہوگا،پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے، نیا پاکستان ہاوَسنگ اسکیم اب بلوچستان لے کر آرہے ہیں،کمزور طبقے کو اوپر اٹھائیں گے تو ملک ترقی کرے گا،

    اس سے قبل ان کی آمد پر گورنر امان اللہ یاسین زئی اور وزیراعلیٰ جام کمال نے وزیراعظم کا استقبال کیا، دورے کے دوران وزیر اعظم جنوبی بلوچستان کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان کریں گے اور تربت میں ترقیاتی اور سماجی بہبود کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔

    وزیر اعظم عمران خان گورنر بلوچستان اور وزیر اعلیٰ جام کمال کے علاوہ قبائلی عمائدین سے ملاقات بھی کریں گے۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر اسدعمر، مرادسعید، شبلی فراز وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

  • وزیر اعظم  نے بلوچستان  کے لیے سب سے بڑا اعلان کر دیا

    وزیر اعظم نے بلوچستان کے لیے سب سے بڑا اعلان کر دیا

    وزیر اعظم نے بلوچستان کے لیے سب سے بڑا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے کہا ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہم آج پیچھے رہ گئے ہیں، کوشش ہے پیچھے رہ جانے والے علاقوں پر توجہ دیں، بلوچستان پر سب سے زیادہ فنڈنگ کر رہے ہیں۔

    تربت میں ترقیاتی و سماجی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا پورا پاکستان دیکھا مگر تربت جیسے شہر میں پہلی بار آیا، جہاز سے تربت دیکھا، ایک تاریخی اور خوبصورت شہر ہے، تعلیم کے بغیر کسی معاشرے نے ترقی نہیں کی، تربت یونیورسٹی میں پہلی بار آیا ہوں، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، علم ہمیں دیگر مخلوقات سے نمایاں کرتا ہے۔

    اس سے قبل ان کی آمد پر گورنر امان اللہ یاسین زئی اور وزیراعلیٰ جام کمال نے وزیراعظم کا استقبال کیا، دورے کے دوران وزیر اعظم جنوبی بلوچستان کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان کریں گے اور تربت میں ترقیاتی اور سماجی بہبود کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔

    وزیر اعظم عمران خان گورنر بلوچستان اور وزیر اعلیٰ جام کمال کے علاوہ قبائلی عمائدین سے ملاقات بھی کریں گے۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر اسدعمر، مرادسعید، شبلی فراز وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

    وزیر اعظم صوبائی ممبران اسمبلی اور پارٹی رہنماوں سے ملاقات کریں گے اور انھیں صوبہ میں سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

  • میں نہ مانوں، نواز شریف کی سوات جلسے میں ایک بار پھر اداروں پر کڑی تنقید

    میں نہ مانوں، نواز شریف کی سوات جلسے میں ایک بار پھر اداروں پر کڑی تنقید

    میں نہ مانوں، نواز شریف کی سوات جلسے میں ایک بار پھر اداروں پر کڑی تنقید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے سوات میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر اداروں کو نشانہ بنایا ہے

    نواز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی فتح کو شکست میں بدلا گیا، اور لاڈلے کو اقتدار میں لانے کے لئے جو کچھ ہوا وہ بچہ بچہ جانتا ہے، سوات والوں کوبھی معلوم ہے آپ نے بچوں کی تعلیم نوجوانوں کا روزگار عوام سے دوائیاں تک چھین لی ہیں اس ملک کے ساتھ زیادتی کی گئی، بائیس کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی کی گئی، ہمارے مستقبل کے ساتھ کھیلا گیا، اسکا جواب کون دے گا،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ جواب دیں ،پاکستان کے ساتھ سلوک کیا، پاکستان کو تباہی کے گڑھے میں کیوں پھینکا،کہتے ہیں ہمارا نام کیوں لیتا ہے تو سوال ہے کہ آپ ہی مجھے بتا دیجئے کا میں کس کا نام لوں، میں چند آدمیوں کی لاقانونیت کو پوری فوج پر الزام نہیں دے سکتا،کیا ہمارے جذبات کی کوئی قدر وقیمت نہیں ۔جب ایک وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے کسی ادارے کو حق نہیں کہ آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کو اغوا کر لے، چادر و چاردیواری کی توہین کی گئی،اس رپورٹ پر نظر ڈالیں جو پریس ریلیز ہے وہ انکے اپنے خلاف ایف آئی آر ہے، سیاست میں مداخلت بند ہونی چاہیے عوام کے ووٹ کی عزت ہونی چاہیے

    نوز شریف کا مزید کہنا تھا کہ افسروں کے جذبات بھڑک گئے، مزار کا احترام کرتے ہو تو قائداعظم کا بھی احترام کرو، اسکی تعلیمات کا بھی احترام کرو،حکومت پر شب خون مارا جاتا ہے اسوقت کیوں جوش نہیں مارتے،منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں اس وقت جوش کیوں نہیں مارتے، گرفتار کیا جا تا ہے،اسوقت جوش کیوں نہیں مارتے، نیب کا خوش جوش مارتا ہے تو کسی کو بھی اٹھا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، ایک پریس ریلیز جاری کرنے والوں نے اتنا بھی نہیں سوچا،

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف وہ شخص ہے جو بطور وزیر اعظم کی تمام تنخواہیں نواز شریف کیڈنی ہسپتال سوات کو دیتا تھا ،آئین کا خیال اور اپنے حرف کا خیال کیوں نہیں آتا،صوبائی پولیس کے سربراہ کو اغوا کیا جاتاہے. ایف آئی آر درج کرنے کا ذکر ہی نہیں ہے، نام تک نہیں بتائے گئے، اسلئے کہ نام مقدس ہیں، یہ نہیں چلے گا،نام لے کر دھاندلی کا بتائیں گے، سب کے نام لئے جائیں گے، جمہوریت کی بات کریں گے ،میں اس پریس ریلیز کو دوبارہ مسترد کرتا ہوں،

  • اگلے چند گھنٹے بڑے اہم:گلگت بلتستان الیکشن پاکستان کا الیکشن،کون کہاں اورکیا کررہا ہے،اہم رپورٹ

    اگلے چند گھنٹے بڑے اہم:گلگت بلتستان الیکشن پاکستان کا الیکشن،کون کہاں اورکیا کررہا ہے،اہم رپورٹ

    گلگت :اگلے چند گھنٹے بڑے اہم:گلگت بلتستان الیکشن پاکستان کا الیکشن،کون کہاں اورکیا کررہا ہے،اہم رپورٹ،اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کے الیکشن کو پاکستان کا الیکشن کہا جارہا ہے،ان حالات میں جبکہ ایک طرف ساری اپوزیشن نے حکومت کے خلاف اکٹھ کیا ہوا ہے، اور ملک میں‌مہنگائی کی صورت حال نے بھی پریشان کررکھا ہے ، ان حالات میں‌ ووٹرکی رائے کوبڑا اہم قراردیا جارہا ہے

    ادھر گلگت بلتستان کے انتخابات پرنظررکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ اگر گلگت بلتستان کے انتخابات کوپاکستان کے انتخابات نہ کہا جائے تو یہ انصاف نہ ہوگا،

    دوسری طرف تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کے تیسرے انتخابات کے لیے میدان سج گیا ہے اور پولنگ میں محض گنتی کے چند گھٹنے باقی ہیں۔تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما جلسوں میں مصروف ہیں۔

    اتوار کو 23 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے جب کہ ایک حلقے میں امیدوار کے انتقال کر جانے کے باعث اس حلقے میں ووٹنگ 23 نومبر کو ہو گی۔

    گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد سات لاکھ 45 ہزار 361 ہے جن میں چار لاکھ پانچ ہزار 363 مرد اور تین لاکھ 39 ہزار 998 خواتین ووٹرز ہیں۔

    گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی 24 میں سے 23 نشستوں پر کل 327 امیدوار مدِ مقابل ہیں۔ ان میں سے 128 مختلف سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ ہیں جب کہ 197 امیدوار ذاتی اور انفرادی طور پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز گلگت بلتستان میں موجود ہیں جب کہ مرکز میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے کئی مرکزی رہنما مراد سعید، زلفی بخاری، علی امین گنڈاپور اور دیگر انتخابی جلسوں میں شریک ہو رہے ہیں۔

    انتخابات سے قبل گلگت بلتستان میں بھرپور جوش و خروش پایا جاتا ہے اور انتخابی جلسوں میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ بیشتر جماعتیں گلگت بلتستان کے انتخابی جلسوں کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر رہی ہیں۔

    حزبِ اختلاف میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی نے تمام حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے 21، 21 امیدوار میدان میں ہیں۔ دونوں جماعتوں نے ایک ایک نشست چھوٹی جماعتوں یا آزاد امیدواروں کے ساتھ ایڈجسمنٹ کی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے جماعت وحدت المسلمین کے ساتھ ایک نشست پر معاہدہ کیا ہے۔ ادھر اسلامی تحریک پاکستان کے 8 امیدوار میدان میں ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے 15، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12، جماعت اسلامی کے تین، متحدہ قومی موومنٹ کے چار جب کہ پاک سر زمین پارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ، گلگت بلتستان قومی موومنٹ، مجلس وحدت المسلمین اور پاکستان راہِ حق پارٹی کے تین تین امیدوار انتخابی اکھاڑے میں اتارے گئے ہیں۔

    پاکستان برابری پارٹی اور پاکستان عوامی لیگ کے دو، دو جب کہ عوامی ورکرز پارٹی کا ایک امیدوار میدان میں ہے۔

    عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ بابا جان ریاست مخالفت الزامات کے تحت 28 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اُن کی جماعت سے منسلک کئی اہم اور سرکردہ رہنما آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    انتخابی سرگرمیوں کی بات کریں تواس وقت تحریک انصاف کا مقابلہ پیپلزپارٹی سے ہوگا، البتہ ماضی کی روایات کے تحت وفاق میں برسراقتدار جماعت حکومت بنانے کیلئے ہر سیاسی حکمت عملی اختیار کریگی، آزاد امیدواروں و دیگر چھوٹی جماعتوں کیساتھ ملکر حکومت سازی کے لیے کام کریگی،

    یہ بات بڑی اہم ہےکہ اگر پیپلز پارٹی بھی ایسی صورت میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتی اگر ن لیگ 5 نشستوں پر کامیاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا، کیونکہ ن لیگ کی انتخابی مہم کافی کمزور دیکھائی دیتی ہے۔

    وفاق کو دیکھتے ہوئے اکثر لوگ تحریک انصاف کی جانب متوجہ ہے اور ووٹ بھی تحریک انصاف کو توقع سے زیادہ ملنے کا قوی امکان ہے، چونکہ تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے اور اکثر سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں صوبہ کے حق میں مظاہرے کررہے ہیں جو کہ براہ راست تحریک انصاف کو الیکشن میں مثبت نتائج دیے سکتا ہے