Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امریکہ کوعرب امارات کے لیے ایف 35 جنگی جہازدینے پرآمادہ کرلیا:اسرائیل کا دعویٰ

    امریکہ کوعرب امارات کے لیے ایف 35 جنگی جہازدینے پرآمادہ کرلیا:اسرائیل کا دعویٰ

    یروشلم:امریکہ کوعرب امارات کے لیے ایف 35 جنگی جہازدینے پرآمادہ کرلیا:اسرائیل کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے پیش کیا کہ اسرائیل نے امریکہ کے لئے متحدہ عرب امارات کو ایف -35 لڑاکا طیارے لینے کے لئے رضامندی دے دی ہے جس کے نتیجے میں وسطی ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہوں گے۔

    ذراائع کے مطابق ماہرین کا کہنا ہےکہ اسرائیل کے اس اقدام سےمتحدہ عرب امارات کو پہلی عرب قوم اور اسرائیل کے بعد مشرق وسطی کا صرف دوسرا ملک بنادے گا –

    نیتن یاھو نے بار بار اس بات پر اصرار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ "امن کے لئے امن” ہے اور اسلحہ کے معاہدے اس معاہدے کا حصہ نہیں تھے۔ لیکن متحدہ عرب امارات کے عہدے داروں نے اس معاملے پر مفاہمت کا اشارہ کیا ہے ، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ طیاروں کے لئے متحدہ عرب امارات کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ یہ فروخت متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے بعد ہوئی ۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے پینٹاگون میں مذاکرات کے لئے ایک پیشہ ور وفد واشنگٹن روانہ کیا جس میں امریکہ نے اس بات کی گارنٹی دی کہ امریکہ خطے میں اسرائیل کے فوجی مفادات کے تحفظ کی ضمانت دیتا رہے گا

    متحدہ عرب امارات نے معاہدے کو امریکہ اور اسرائیل نے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ پیش رفت اصل میں بحرین اورسوڈان کواسرائیل کوتسلیم کرنے کے بعد آئی ہے

  • افغانستان میں انتشار کا نقصان پاکستان کو پہنچا،امن پوری دنیا کے لئے ناگزیر ہے، وزیراعظم

    افغانستان میں انتشار کا نقصان پاکستان کو پہنچا،امن پوری دنیا کے لئے ناگزیر ہے، وزیراعظم

    افغانستان میں انتشار کا نقصان پاکستان کو پہنچا،امن پوری دنیا کے لئے ناگزیر ہے، وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے قومی اسمبلی پاکستان کے زیراہتمام پاک افغان تجارت و سرمایہ کاری فورم 2020 کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کےسا تھ تعلقات صدیوں پرانہ ہے دونوں ممالک زبان ثقافت ، تہذیت ، تمدن ، مذہب اور دیگر مماثلت رکھتے ہیں افغانستان میں امن نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ناگزیر ہے ۔ افغانستان چار دہائیوں سے انتشارکا شکار رہا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچا ہے دونوں ممالک نے دہشت گردی کی جنگ میں بے شمار جانی و مالی قربانیاں دیں ہیں ۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہمسایہ ملک بھارت کی موجودہ حکومت وقت کی بدترین حکومت ثابت ہوئی ہے جس نے دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کا دعویٰ کرنے والے کا چہرا بے نقاب کردیا ہے ۔ بھارت میں اقلیتوں کا جینا محال ہوچکا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دنیا کی بدترین انسانی حقوق کی پامالی، ناانسافی اور ظلم و بربریت کی مثال پیدا کر دی ہے گزشتہ کئی ماہ سے معصوم نہتے 80لاکھ کشمیریوں کو قید و بندکر دیا گیا ہے ۔ موجودہ حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر کے ہر اہم فورم پر اجاگر کرکے مقبوضہ کشمیر کی حالت زار دنیا کے سامنے پیش کی ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی نتظیمیں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھا رہے ہیں ۔وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا بہتر مستقبل ہمارے اتحاد ، سرمایہ کاری اور تجارت سے منسلک ہے ۔ افغانستان سے تجارت اور سرمایہ کاری کےفروغ کے لیے، مشیر تجارت کوخصوصی ہدایات جاری کر رکھیں ہیں اور دونوں ممالک کے تاجروں اور سرمایاکاروں کو ہر ممکن سہولت اور معاونت فراہم کی جائے گی ۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں تجارت سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے موثر انداز میں مستفید ہوکر نہ صرف اس خطے بلکہ جنوبی ایشیا کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان علاقائی تجارت کا مرکز ثابت ہوسکتے ہیں۔ CPEC کی بدولت مشرق وسطہ کے ممالک تک رسائی سے پاکستان تجارت و سرمایہ کاری کامرکز ثابت ہوگا۔ انہوں نے سیمینار کے شرکا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے امن اور سلامتی کے حوالے سے جتنی کاوشیں پاکستان نے سرانجام دیں ہیں دنیا کے کسی دوسرے ملک نے نہیں کیں۔ اس لیے پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتا رہا ہے اور اس کے لیے بھرپور اقدامات بھی اٹھائے جس کاواضح ثبوت ہے کہ دنیا بھر نے پاکستان کی افغان امن کے لیے کوششوں کو سراہا ہے ۔ وزیر اعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پاکستان اور افغانستان میں سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لیے شاندار سیمینار کے انعقاد پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے راہیں ہموار کرنے سے ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب پاکستان اور افغانستان ملکر ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ تاجر برادری اور عوامی سطح پر روابط کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں اسپیکر قومی اسمبلی نے ان خیالات کا اظہار پاکستان افغانستان تجارت و سرمایہ کاری فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

    اسپیکر نے کہا کہ 2640کلومیٹر پاک۔افغان سرحد نہ صرف پاکستان کی اپنے کسی بھی ہمسایہ ممالک کے ساتھ طویل ترین سرحد ہے بلکہ یہ ہماری دونوں قوموں کو تاریخی سماجی ، ثقافتی ، لسانی ، اقتصادی ، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کی لڑی میں بھی پروتی ہے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس کے علاوہ وسطی اور جنوبی ایشیاء کے سنگم پر ہونے کے ناطے افغانستان کامحل وقوع بہترین علاقائی رابطے کاحامل ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کی قیادتوں کے لئے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ ہمارے مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اپنے درمیان ہم آہنگی ، مفاہمت اور اتفاق رائے پیدا کریں ۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ ہمیں مل کر ان عالمگیر آزمائشوں با الخصوص غربت اور عدم استحکام کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دینا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کےنمایاں شراکت دار ہیں تاہم کئی سالوں سے تجارت بتدریج کمی ہوئی ہے اور اب کورونا وائرس کی عالمی وبا نے اس حجم کو مزید کم کر دیا ہے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور تاجروں کو سہولت پہنچانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کے حجم میں اضافہ ہو گا اور غربت کے خاتمے اور سماجی ترقی میں بھی بہت مدد ملے گی اور ملازمت کے مواقع پیدا ہونگے اور اسی طرح سرحد کی دونوں جانب ٹیرف کے علاوہ دیگر رکاوٹوں کو کم کرنے سے باہمی تجارت میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر روابط کی حوصلہ افزائی کرنے اور دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے سہولت فراہم کرنے کی بابت پاکستان۔ افغانستان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ اور اس کی ٹاسک فورسز کا قیام افغانستان کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے ہمارے عزم کا ایک عملی ثبوت ہے۔ قومی اسمبلی پاکستان کا پاک۔افغان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ اعتماد میں اضافے اور دو طرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ کی کوششیں جاری رکھنے میں سرگرم رہا ہے۔

    شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراسنگ پوئنٹس ، بندرگاہوں اور دیگر مقامات پر تاجربرادری کی سہولت اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ جبکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے سرحد پار کرنے کو مزید تین مقامات پر بارڈر چیک پوائنٹس بھی کھول رہے ہیں اور اس طرح پارلیمانی غوروفکر کے بعد نئی ویزا پالیسی کی منظوری دی گئی۔یہ ویزا پالیسی افغانستان کے ساتھ ہمارے مضبوط برادرانہ تعلقات اور باہمی خوشحالی کے لئے مخلصانہ تعاون کا مظہر ہے ۔یہ افغان بھائیوں ، طلبہ، کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور مریضوں کے لئے سہولت پیدا کر کے ہمارے سماجی اور معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب پیشرفت میں معاون ہو گا۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ افغانستان۔پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA)کے مذاکرات کی شرائط کا جائزہ لینے کے لئے تشکیل دی گئی ، ٹاسک فورس کی مدت سال 2021ء میں ختم ہو رہی ہے اور مستقبل کے ایک جامع تجارتی معاہدے کے لئے سرحد کے دونوں جانب سے اراکین پارلیمان اور اداراتی اسٹیک ہولڈرز سے رائے لینے کی ضرورت ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان پارلیمانی سفارت کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور افغانستان کے ساتھ باہمی مفادات کے تجارتی تعلقات کے لئے مضبوط رابطوں کو استوار کرنے میں اپنا کر دار ادا کرنے کے لئے تیارہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پر امن اقتصادی تعاون اور بہترین تجارتی اور ٹرانزٹ سہولیات بحیرہ عرب کے راستوں کو وسط ایشیاء کے ساتھ ملانے میں مدد گار ثابت ہوں گی اور اس سے ایک مشترکہ اور خوشحال مستقبل کے لئے راہ ہموار ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل اور بین الافغان مذاکرات کے لئے پاکستان کی حمایت کو نہ صرف افغان حکومت بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھی سراہا ہے اور ہم امن کے عمل کے لئے اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کر تے ہیں۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے یو ایس ایڈ (US AID) کے PREIA کے تحت اس سیمینار کے تعاون پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تقریب کے انعقاد میں بھرپور معاونت کی ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سیمینار کی بدولت تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیےمستقبل میں عملی اقدمات اٹھانے میں مدد ملے گی۔

    افغان پارلیمنٹ ولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمٰن رحمانی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام اور افغان امن عمل مذاکرات میں پاکستان کے کردار کےشکر گزار ہیں۔ پاکستان کےساتھ دوستانہ تعلقات کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کئی قدریں مشترک ہیں جن پر ہم سب کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں سرمایہ کاری و تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں ان سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان اور پاکستان قدرتی معدنیات کی دولت سے مالا مال ہیں۔ دونوں ممالک موثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے کر معاشی ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے جو آسانیاں پیدا کیں ہیں اس سے نمایاں بہتری آئی ہے اور کنٹینر کے مسئلے کو بھی احسن طریقے سےحل کیا گیا ہے۔ 28 دنوں میں مکمل ہونے والا عمل اب محض تین دنوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔ اضافی کراسنگ پوائنٹس کی سہولت سے بھی تجارت اور آمد ورفت میں بہتری ہوگی۔ دونوں ممالک کے تاجر اور سرمایہ کار دموجود سہولیات سے مستفید ہوسکیں گے

  • پاکستان اورترکی کے مابین تاریخی تعلقات، آرمی چیف سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات

    پاکستان اورترکی کے مابین تاریخی تعلقات، آرمی چیف سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی آکارکی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی آکارکی ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات میں باہمی دلچسپی،دفاع اور سیکیورٹی سےمتعلق امورپربات چیت کی گئی.ملاقات میں خطے میں امن واستحکام کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی ،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اورترکی کے درمیان تاریخی اوربرادرانہ تعلقات ہیں،ان تعلقات کو پائیدار شراکت داری میں تبدیل کیا جا رہا ہے

    قبل ازیں گزشتہ روز ترکی کے وزیردفاع ہلوسی آکار کی پاکستان کے چیئرمین جوائنٹس چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے ملاقات ہوئی تھی. ملاقات میں دو طرفہ دفاعی تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کی سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا

    پاک ترک دوستی کا ایک اور سنگ میل پاک نیوی کے ملجم کلاس کارویٹ کی تعمیر کا آغاز

  • گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے معاملے پر پاکستان کا فرانس سے شدید احتجاج

    گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے معاملے پر پاکستان کا فرانس سے شدید احتجاج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کے بیان پر فرانسیسی سفیرکی دفتر خارجہ طلبی ہوئی ہے

    پاکستان نے فرانسیسی سفیر کے سامنے دو ٹوک موقف رکھا،فرانسیسی سفیر مارک بریٹی کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا، فرانسیسی سفیر کو اسپیشل سیکریٹری یورپ نے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا،گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے معاملے پر پاکستان نے فرانس سے شدید احتجاج کیا ہے ،خاکوں کے بعد فرانسیسی صدرکے گستاخانہ بیان پربھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا،

    قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ سے اسلام مخالف بیانیہ کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، وزیر خارجہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اسلام مخالف بیان پر فرانسیسی سفیر کودفتر خارجہ طلب کیاگیا ہے،اسلام مخالف بیانیے پرہم اپنااحتجاج ریکارڈ کرائیں گے،گستاخانہ خاکوں سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے ،15 مارچ اسلاموفوبیا کیخلاف عالمی دن کے طورپرطے کرنے کی تجویزدیں گے،مہذب ملکوں کو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے،نائیجر میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں قراردادپیش کروں گا،وقت آگیا ہے کہ اس معاملے پر اجتماعی فیصلہ ہونا چاہیے،ہولوکاسٹ کیخلاف مہم پر معاشروں نے پابندی لگائی،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم قرار دینے اور گستاخانہ خاکوں کی اجازت دینے جیسے مکروہ عمل کو منافقانہ قوانین قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر زور دیا ہے۔

    وزیراعظم کافیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے اسلام مخالف مواد پر فوری پابندی کا مطالبہ

    فرانس کے اسلام مخالف بیان پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، وزیر خارجہ نے بتا دیا

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری پیغام میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جب اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں ایسی مذموم کارروائیوں کی اجازت دی جائے تو انتہا پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ زیادہ تر یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار جرم ہے اور پھر بھی توہین آمیز کارٹونوں کی عوامی نمائش کی اجازت دینے پر اصرار کیا جاتا ہے تو ایسے منافقانہ قوانین کو تبدیل کرنا ہوگا۔

    قبل ازیں پاکستان نے آزادی اظہار رائے کے نام پر منظم اسلامو فوبیا مہم کی شدید مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے ہے کہ پاکستان کچھ ترقی یافتہ ممالک میں حضور اکرمۖ خاتم النبیین کی عظمت کے خلاف توہین آمیز کارروائی اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ہم کچھ سیاست دانوں کی جانب سے پریشان کن بیانات پر مزید خوفزدہ ہیںکہ وہ آزادی اظہار کی آڑ میں ایسی گھناؤنی کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہیں اور صرف سیاسی فوائد کیلئے دہشت گردی کو اسلام سے منسلک کرتے ہیں۔

    فرانس کی اسلام دشمنی،پنجاب اور کے پی اسمبلی میں قرارداد مذمت جمع

  • بھارت سے دوستی کرنے میں ناکام رہے، کوشش پھر بھی کرینگے ،وزیراعظم

    بھارت سے دوستی کرنے میں ناکام رہے، کوشش پھر بھی کرینگے ،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوامی روابط سے باہمی تعلقات کو فروغ ملتا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا پاک افغان تجارت و سرمایہ کاری فورم کے زیر اہتمام سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستا ن کے ساتھ ہمارے روابطہ سالوں سے ہیں،افغانستان کو ہردور میں خطے میں اہمیت حاصل رہی ہے،بدقسمتی سے 40 سال سے افغانستان میں انتشار ہے،افغانستان میں انتشار سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا،،ہم نے پھر بھی ماضی سے سبق نہیں سیکھا

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لوگوں کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے بیرونی دباوَ سے افغانستان کے عوام پر رائے مسلط نہیں ہوسکتی،بھارت سے دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ، بھارت سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش پھر بھی کریں گے ،ہمیں احساس ہوا کہ بھارت نظریاتی طور پر پاکستان کے خلاف ہے ،بھارت میں مودی حکومت اپنے ملک کے ہی مسلمانوں کے خلاف ہے

    کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک برس مکمل ہونے پروزارت پوسٹل سروس کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

    بھارتی آئیڈیالوجی نفرت پر مبنی،اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے سامنے وزیراعظم نے کیا مودی کو بے نقاب

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے لئے یہ کام کرے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کی اپیل

    اقوام متحدہ امن مشن میں کتنی پاکستانی خواتین اہلکار ہیں؟ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتا دیا

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں ترقی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے جیسے افغانستا ن میں امن آئے گا ،پاکستان اور دیگر علاقوں کوفائدہ ہوگا،ماضی سےنکل کرتجارت ،معیشت اور امن کی جانب جانا چاہیے،ودونوں ممالک میں عوامی اورسیاسی روابط کوفروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،تجارت کے ذریعے خطے میں خوشحالی آئے گی

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انسان ماضی سے سیکھتا ہے، ماضی میں رہتا نہیں، ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیئے، پاکستان افغانستان میں جو بھی حکومت ہوگی اس سے تعلقات مضبوط رکھے گا، 72 سال میں بھارت میں مسلمانوں سےنفرت کرنیوالی ایسی حکومت نہیں آئی، افغانستان میں 40 سال سے انتشار ہے، افغانستان سے لوگ تجارت کیلئے کلکتہ جاتے تھے، پاک افغان تعلقات کی ایک تاریخ ہے، افغان جنگ کے باعث سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا

    اقوام متحدہ کے قیام کی 75ویں سالگرہ،وزیراعظم نے کشمیر کا مقدمہ ایک بار پھر پیش کر دیا

  • پارلیمنٹ حملہ کیس، وزیراعظم عمران خان نے بریت کی درخواست پر تحریری دلائل عدالت میں جمع کروا دیئے

    پارلیمنٹ حملہ کیس، وزیراعظم عمران خان نے بریت کی درخواست پر تحریری دلائل عدالت میں جمع کروا دیئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ حملہ کیس، وزیراعظم عمران خان نے بریت کی درخواست پر تحریری دلائل عدالت میں جمع کروادیئے

    تحریری دلائل میں کہا گیا کہ عمران خان کو کیس میں مجرم قرار دینے کےلیے کوئی متضاد مواد موجود نہیں، مزید التوا قانونی طریقہ کار کا غلط استعمال اور عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا،کسی ایک گواہ نے بھی اپنے بیان میں عمران خان کو وقوعہ میں ملوث قرار نہیں دیا،

    تحریری درخواست میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف بلاواسطہ یا بالواسطہ کوئی شواہد موجود نہیں ہیں، مزید قانونی چارہ جوئی کی ضرورت نہیں عمران خان کو بری کیا جائے،کیس کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران خان کو سزا دیئےجانے کا کوئی امکان نہیں،استغاثہ بھی عمران خان کے خلاف مزید قانونی چارہ جوئی کرنے کو تیار نہیں،

    وزیراعظم کی پارلیمنٹ حملہ کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا،

    پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کو او ایس ڈٰی بنا دیا گیا

    پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،پارلیمنٹ کا جنگلہ کیوں توڑا گیا تھا؟ وکیل نے بتا دیا

    واضح رہے کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔

    اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں

  • فرانس کے اسلام مخالف بیان پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، وزیر خارجہ نے بتا دیا

    فرانس کے اسلام مخالف بیان پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، وزیر خارجہ نے بتا دیا

    فرانس کے اسلام مخالف بیان پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، وزیر خارجہ نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ان کے نتائج شدید ہوں گے

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ سے اسلام مخالف بیانیہ کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، وزیر خارجہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اسلام مخالف بیان پر فرانسیسی سفیر کودفتر خارجہ طلب کیاگیا ہے،اسلام مخالف بیانیے پرہم اپنااحتجاج ریکارڈ کرائیں گے،گستاخانہ خاکوں سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے ،15 مارچ اسلاموفوبیا کیخلاف عالمی دن کے طورپرطے کرنے کی تجویزدیں گے،مہذب ملکوں کو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے،نائیجر میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں قراردادپیش کروں گا،وقت آگیا ہے کہ اس معاملے پر اجتماعی فیصلہ ہونا چاہیے،ہولوکاسٹ کیخلاف مہم پر معاشروں نے پابندی لگائی،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم قرار دینے اور گستاخانہ خاکوں کی اجازت دینے جیسے مکروہ عمل کو منافقانہ قوانین قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر زور دیا ہے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری پیغام میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جب اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں ایسی مذموم کارروائیوں کی اجازت دی جائے تو انتہا پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ زیادہ تر یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار جرم ہے اور پھر بھی توہین آمیز کارٹونوں کی عوامی نمائش کی اجازت دینے پر اصرار کیا جاتا ہے تو ایسے منافقانہ قوانین کو تبدیل کرنا ہوگا۔

    قبل ازیں پاکستان نے آزادی اظہار رائے کے نام پر منظم اسلامو فوبیا مہم کی شدید مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے ہے کہ پاکستان کچھ ترقی یافتہ ممالک میں حضور اکرمۖ خاتم النبیین کی عظمت کے خلاف توہین آمیز کارروائی اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ہم کچھ سیاست دانوں کی جانب سے پریشان کن بیانات پر مزید خوفزدہ ہیںکہ وہ آزادی اظہار کی آڑ میں ایسی گھناؤنی کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہیں اور صرف سیاسی فوائد کیلئے دہشت گردی کو اسلام سے منسلک کرتے ہیں۔

    وزیراعظم کافیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے اسلام مخالف مواد پر فوری پابندی کا مطالبہ

  • پاکستان کے پہلے "مدینۃ العلم” کی تعمیر ،وزیراعظم نے  ماسٹر پلان پیش کر دیا

    پاکستان کے پہلے "مدینۃ العلم” کی تعمیر ،وزیراعظم نے ماسٹر پلان پیش کر دیا

    پاکستان کے پہلے "مدینۃ العلم” کی تعمیر ،وزیراعظم نے ماسٹر پلان پیش کر دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلے نالج سٹی کا قیام میرا خواب ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پہلے "مدینۃ العلم” کی تعمیر کے میرے خواب کا خاکہ یعنی ماسٹر پلان .وزیر اعظم عمران خان نے نمل نالج سٹی میانوالی کے ماسٹرپلان کی ویڈیو بھی شیئر کی۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل میانوالی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومیں کپاس اور کپڑا فروخت کرنے سے نہیں بلکہ انسانوں پر اور تعلیم پر پیسہ لگانے سے امیر ہوتی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے دورہ میانوالی کے دوران تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عیسی ٰ خیل تحصیل میں لڑکیوں کے اسکولز میں اساتذہ نہیں تھیں،عثمان بزدار کے ساتھ عیسی ٰ خیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق بات کی ،لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں عثمان بزدار کو کیوں وزیراعلیٰ بنایا،ڈی جی خان میانوالی سےبھی پسماندہ ہے،عیسیٰ خیل تحصیل میں نرسیں نہیں ملتی تھیں،

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں تھانے، کچہری اور پٹواریوں کی سیاست تھی لیکن ہماری حکومت تھانے، کچہری اور پٹواریوں کی سیاست سے لوگوں کو آزاد کرنا چاہتی ہے اور میں چاہتا ہوں جو محنت کرے اس کو اس کا پھل ملے۔ پانی کا مسئلہ سب علاقوں کا حل کریں گے کیونکہ یہ بنیادی ضرور ت ہے، کیڈٹ کالج کو اپ گریڈ‌کرنے کا کہا گیا ہم بھر پور فنڈنگ کریں گے تا کہ کوالٹی ایجوکیشن ملے، اسکے بعد نمل جا رہا ہوں، نمل انٹرنیشنل یونیورسٹی ہے، وہ نالج سٹی بن رہی ہے، مختلف سکولز وہاں بنیں گے، زراعت پر ریسرچ کی جائے گی، پیداوار بڑھانے پر غور ہو گا، اسی ضلع میں ساراکام ہو گا، نمل سارے پاکستان کی مدد کرے گی.

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دور دراز علاقوں میں رہنے والی پسماندہ آبادی کے لئے علمی فضلیت کے مرکز کے طور پر اپنا تصور کردہ نمل نالج سٹی قائم کیا ہے تاکہ دوردراز کے پسماندہ علاقون کے بچے بھی علم سے مستفید ہوں سکیں-

    https://login.baaghitv.com/pmk-shalqya-kschhols-mein-asatza-ki-kmi/
  • ہولوکاسٹ کاانکارجرم،گستاخانہ خاکوں کی اجازت،یورپ قوانین تبدیل کرے:اسلام اورمسلمانوں کی توہین ناقابل برداشت: صدر

    ہولوکاسٹ کاانکارجرم،گستاخانہ خاکوں کی اجازت،یورپ قوانین تبدیل کرے:اسلام اورمسلمانوں کی توہین ناقابل برداشت: صدر

    اسلام آباد: ہولوکاسٹ کاانکارجرم،گستاخانہ خاکوں کی اجازت،یورپ قوانین تبدیل کرے:اسلام اورمسلمانوں کی توہین ناقابل برداشت ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کے بعد اب صدرمملکت نےاسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت اورتوہین پرسخت غصے کا اظہارکیا ہے،صدر مملکت کہتے ہیں کہ ہولوکاسٹ سے انکارجرم،گستاخانہ خاکوں کی اجازت،صدر نے منافقانہ قوانین بدلنے کا مطالبہ کردیا ،

     

     

     

    اطلاعات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم قرار دینے اور گستاخانہ خاکوں کی اجازت دینے جیسے مکروہ عمل کو منافقانہ قوانین قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر زور دیا ہے۔

     

     

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری پیغام میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جب اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں ایسی مذموم کارروائیوں کی اجازت دی جائے تو انتہا پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ زیادہ تر یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار جرم ہے اور پھر بھی توہین آمیز کارٹونوں کی عوامی نمائش کی اجازت دینے پر اصرار کیا جاتا ہے تو ایسے منافقانہ قوانین کو تبدیل کرناہوگا۔

     

    صدرمملکت کا کہنا تھا کہ فرانس کو اپنی پالیسی میں تنہائی اور انتہا پسندی کے جال میں پھنسنے کی بجائے اپنی پوری آبادی کو متحد کرنے کے لئے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ کسی بھی مذہب کے پرامن پیروکاروں کو تنہا کرنے کی بجائے انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کی حوصلہ شکنی کیلئے نپے تلے بیانات دینے چاہیے۔

    وزیراعظم عمران خان کے بیان کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کی عمدہ ترجمانی ہے۔ ہم ان خیالات میں متحد ہیں۔ حضرت محمدﷺ کے بارے میں ہمارے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ آج دنیا کو اشد ضرورت ہے کہ لوگوں کو متحد کیا جائے۔اس سے قبل اپنے ایک ٹویٹ میں صدر نے کہا تھا کہ انتہا پسندانہ، مکروہ فلسفے کی حوصلہ افزائی کرنے والا ایک زوال پذیر معاشرہ ہی تعصبات کی اجازت دے سکتا ہے۔

     

     

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ بی جے پی، ہندوتوا اور آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ، مکروہ فلسفے کی حوصلہ افزائی کرنے والا ایک زوال پذیر معاشرہ ہی تعصبات کی اجازت دے سکتا ہے۔

    اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر بھارت کے شہر ممبئی کے ایک رہائشی منصوبہ میں مسلمانوں کے حوالہ سے تعصب پر مبنی اشتہار، جس میں کہا گیا ہے کہ جانوروں اور مسلمانوں کو داخلہ کی اجازت نہیں پر اپنے تبصرہ میں صدر مملکت نے کہا کہ اکیسویں صدی میں اس طرح کے تعصب کو بھارت میں ریاستی حمایت حاصل ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ بی جے پی، ہندوتوا اور آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ ، مکروہ فلسفے کی حوصلہ افزائی کرنے والا ایک زوال پذیر معاشرہ ہی اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

  • ’’مریم نواز صرف اس وقت سچ بولتی ہیں جب یہ نہیں بولتیں‘‘کرپشن بچانے کے لیے خونی رشتوں کوپہچاننے سے انکارکردیا

    ’’مریم نواز صرف اس وقت سچ بولتی ہیں جب یہ نہیں بولتیں‘‘کرپشن بچانے کے لیے خونی رشتوں کوپہچاننے سے انکارکردیا

    لاہور: ’’مریم نواز صرف اس وقت سچ بولتی ہیں جب یہ نہیں بولتیں‘‘کرپشن بچانے کے لیے خونی رشتوں کوپہچاننے سے انکارکردیا،اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ مریم نواز صرف اس وقت سچ بولتی ہیں جب یہ نہیں بولتی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق معاون خصوصی شہباز گل نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے اپنی کرپشن بچانے کے لیے والد، دادا، بہن بھائیوں کو پہچاننے سے انکار کیا تھا۔

    شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر محاورہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہے پاؤں باندھ کر جھوٹ بولنا روز جھوٹ بولنا، روز پکڑے جانا، پکڑے جانے پر شرمندہ بھی نہ ہونا۔‘

     

     

    واضح رہے کہ گزشتہ روز مریم نواز سے صحافی نے سوال کیا تھا کہ ’شہباز گل نے یہ کہا ہے کہ ’مریم نواز کی ضمانت اس لیے ہوئی تھی کہ والد صاحب کی دیکھ بھال کرسکیں۔‘مریم نواز نے جواب میں شہباز گل کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا تھا، مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’یہ کون صاحب ہیں میں انہیں نہیں جانتی۔‘

    یاد رہے کہ دو روز قبل شہباز گل کا کہنا تھا کہ گڑگڑاکر این آراو مانگا جارہا تھا جو نہیں ملا، کہا گیا ان کی بیٹی کا نوازشریف کی تیمارداری کےلیےجانا ضروری ہے، اشرافیہ اورعوام کے لئے قانون کی روش بدلنی پڑے گی۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھا خواتین کی عزت کی بات ہے توجیلوں میں خواتین کیوں ہیں؟ مریم نواز کو ملک کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے چھوڑا ہے تو دیگرخواتین کو بھی چھوڑیں، دہشت گردی میں ملوث خواتین بند رکھیں دیگرکو چھوڑیں، یہ وہ دہرے معیار ہیں جن پرچل کر یہ بادشاہ بنتے ہیں۔