Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پی اے سی نے شوگر ملز مالکان کے نام مانگ لئے

    پی اے سی نے شوگر ملز مالکان کے نام مانگ لئے

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی کی امپورٹ اور قیمتوں میں اضافے پرایف بی آر حکام سے ملز مالکان کے نام مانگ لیے۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہوا جہاں چینی بحران پر بحث ہوئی جب کہ سیکرٹری صنعت و پیداوار نے چینی بحران پر بریفنگ دی،اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ریاض فتیانہ نے کہا کہ چینی کی قیمت کی مد میں قوم کے ساتھ 287 ارب روپے کا دھوکا کیا گیا ہے، اس کی نشاندہی کرنے والے پنجاب کےکین کمشنر زمان وٹوکو ہٹاکرکھڈے لائن لگا دیا گیا، کبھی کہتے ہیں کہ چینی سرپلس ہے اور کبھی شارٹ فال کا بتایا جاتا ہے،سیکرٹری صنعت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شوگر انڈسٹری کو صوبائی حکومتیں ریگولیٹ کرتی ہیں، شوگرایڈوائزری بورڈمیں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، بورڈ میں شوگر انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں اور بورڈ چینی کے موجودہ اسٹاک اور ضروریات کا جائزہ لیتا ہے، کرشنگ سیزن 15 نومبر سے 15 مارچ تک ہوتا ہے، چینی کے موجودہ اسٹاک اور متوقع پیداوار کا ڈیٹا صوبائی حکومتیں فراہم کرتی ہیں۔

    اس موقع پر چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کہا کہ شوگر ملز مالکان کو برآمد کے لیے سبسڈی کیوں دی گئی؟ ریاض فتیانہ نے پوچھا کیا وجہ تھی کہ راتوں رات ایس آراو جاری کر کے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی؟ اجلاس کے دوران کمیٹی ممبر معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ شوگر مافیا حکومتوں کا حصہ ہے، چیئرمین پی اے سی نے سیکرٹری صنعت سے کہا ہم نے آپ سے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کی تھیں؟کہاں ہیں تفصیلات؟ اس پر سیکرٹری نے جواب دیا ہمارے پاس شوگر ملز کی فہرست ہے، جنید اکبر نے کہا شوگر ملز نہیں مالکان اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی دیں۔

    حکام وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ اس سال 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ چینی سرپلس رہی، 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی اگلے سال کیلئے ریزرو رکھی گئی، وفاقی کابینہ اور ای سی سی نے 3 مراحل میں7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کرنےکی اجازت دی، چینی برآمد کرکے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ کمایا گیا،حکام نے مزید بتایا کہ جب چینی ایکسپورٹ کی گئی تو مقامی مارکیٹ میں قیمت 143 روپے کلو تھی اور اب قیمت 173 روپے فی کلو ہے، مارکیٹ میں قیمت بڑھنے پر وزیراعظم نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارکی سربراہی میں کمیٹی قائم کی۔، پی اے سی اجلاس میں چینی کی امپورٹ سے متعلق ایف بی آر کا ایس آراو بھی زیربحث آیا اور رکن کمیٹی ثناء اللہ مستی خیل نے پوچھا کن کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایف بی آر نے ایس آر او جاری کیا، چینی کی ایک روپیہ قیمت بڑھانے سے 44 ارب کمائے جاتے ہیں، برسوں سےچوہے بلی کا کھیل جاری ہے،خدارا ہمیں معاف کر دیں، مل مالکان ساری ملز پاکستانیوں کے حوالے کردیں ہم چلا لیں گے۔

    رکن کمیٹی معین عامر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستانیوں کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں، شوگر ایڈوائزری بورڈ سارے فساد کی جڑ ہے اس میں عوامی نمائندے ہونے چاہئیں، بتایا جائے کہ چینی کی امپورٹ سے ہمارے کتنے ڈالرز ضائع ہونگے،رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے چینی ایکسپورٹ کرنے والی ملز کے مالکان کون کون ہیں،ایف بی آر حکام نے جواب دیا آپ جب حکم کریں گے ہم مالکان کے ناموں کی تفصیلات دے دیں گے، اس پر کمیٹی چیئرمین جنید اکبر نے کہا کہ میں نے حکم دیا تھا لیکن آپ مالکان کے نام نہیں لائے.بعد ازاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر سے ملز مالکان کے نام طلب کر لیے

  • فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب

    فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب

    فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب ہو گیا

    نام نہادلاپتہ افراد کی آڑمیں دہشت گردی کے ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آگئے، سیکورٹی ذرائع کے مطابق قلات آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل ہے،اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد نام نہاد لاپتہ افرادکی لسٹ میں شامل تھے،مارچ 2024 کوگوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل تھا، اسکے علاوہ نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا،ماہ رنگ لانگو نے ہمیشہ نام نہاد لاپتہ افراد کابیانیہ اپنے مضموم عزائم اور ریاست کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا، ہلاک دہشتگرد صہیب لانگو کی ماہ رنگ لانگو کے ساتھ مظاہروں میں کئی تصاویر اورویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں، نام نہاد لا پتہ افراد وہی ہیں جو فتنہ الہندوستان کے آلہ کاربن کر کر نہتے اور معصوم پاکستانیوں پر دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہیں،

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق 21 جولائی 2025 کو قلات آپریشن کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کا دہشتگرد صہیب لانگو جہنم واصل ہوا، فتنہ الہندوستان نے دہشتگرد صہیب لانگو عرف عامر بخش کی ہلاکت اور خودسے وابستگی کو تسلیم کیا، فتنہ ہندوستان سے منسلک میڈیا پلیٹ فارم پانک اور بھام نے دہشتگردصہیب لانگو کو 25 جولائی 2024 کولاپتہ قرار دیا تھا، بام نے یہ دعوی کیا تھا کہ دہشت گرد صہیب لانگو کو 24 جولائی 2024 کو کلی سریاب کوئٹہ سے جبرا گمشدہ کیا گیا، ماہ رنگ لانگو اور اس کے سہولت کاروں نے نہتے اور معصوم پاکستانیوں پرفتنہ الہندوستان کے دہشتگردانہ حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی،مستند شواہد سے واضح ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی دراصل فتنہ الہندوستان کی پراکسی ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہروں میں منہ چھپائے لوگ اصل میں دہشتگردوں کے آلہ کار اور سہولت کارہیں،حقائق سے واضح ہے کہ جن لوگوں کو لاپتہ افراد بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ اصل میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردہیں،

  • مودی کا جنگی جنون، ہتھیاروں کی دوڑ ، خطے کو ایٹمی تصادم کی جانب دھکیلنے کی سازش

    مودی کا جنگی جنون، ہتھیاروں کی دوڑ ، خطے کو ایٹمی تصادم کی جانب دھکیلنے کی سازش

    مودی کا بڑھتا ہوا جنگی جنون بھارت کو ایک انتہا پسند فوجی ریاست میں بدل رہا ہے

    جنوبی ایشیا میں عسکری دباؤ بڑھانے کے لیے مودی سرکار ہائپرسانک میزائلوں جیسے مہلک ہتھیاروں پر اندھا دھند سرمایہ لگا رہی ہے،تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل سے منہ موڑ کر مودی سرکار اپنی ناکامیوں کو اسلحے کے ڈھیر میں چھپانے کی کوشش میں مصروف ہے،بھارتی دفاعی تحقیقاتی ادارے (IDRW) نے براہموس 2 منصوبے کی تفصیلات جاری کر دیں، رپورٹ کے مطابق؛بھارت اور روس براہموس 2 ہائپر سونک میزائل کی مشترکہ تیاری کے لیے سرگرم ہے،روسی صدر پیوٹن کے دورہ بھارت کے دوران براہموس 2 کی منظوری اور ٹیکنالوجی شیئرنگ پر فیصلہ متوقع ہے،براہموس 2 روس کے "زرکون” میزائل پر مبنی ہوگا جس کی رفتار میک 8 اور رینج 1500 کلومیٹر تک ہوگی، براہموس 2 ہائپر سونک میزائل زمین اور سمندر دونوں پر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا، بھارت میں براہموس 2 کی تیاری ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت ہو رہی ہے، براہموس 2 کی ٹیکنالوجی بھارتی تیار کردہ سکیم جیٹ انجن اور روسی ڈیزائن کا امتزاج ہوگی جو بھارت کے "میک ان انڈیا” منصوبے کا حصہ ہے، براہموس 2 صرف بھارت اور روس کے لیے مخصوص رہے گا اور اس کی برآمد کی اجازت نہیں ہوگی، بھارت کی پالیسیوں کا مرکز اب عوامی بہبود نہیں بلکہ اسلحے کی دوڑ اور خطے میں فوجی غلبے کا خطرناک جنون ہے،امن کو روند کر مودی سرکار جنوبی ایشیا کو ایٹمی تصادم کی دہلیز پر لے جا رہی ہے

  • آپریشن مہادیو کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں فیک انکاؤنٹرز شروع

    آپریشن مہادیو کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں فیک انکاؤنٹرز شروع

    آپریشن سندور” کی ناکامی ، بھارت نے آپریشن مہادیو کے نام پر فیک انکاؤنٹرز شروع کردیئے

    بھارت نے "آپریشن سندور” کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے نیا فوجی منصوبہ "آپریشن مہادیو” شروع کر دیا ، سکیورٹی ذرائع کے مطابق "آپریشن مہادیو” کے نام پر غیر قانونی ، جبراً حراست میں رکھے معصوم پاکستانیوں کو فیک انکاؤنٹرز میں استعمال کرنے کا مذموم منصوبہ بے نقاب ہو گیا،”آپریشن مہادیو” کا مقصد نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی تحریکِ آزادی کو کچلنا ہے بلکہ اندرون ملک سیاسی ساکھ بحال کرنا ہے، بھارت یہ کوشش کر رہا ہے کہ اسے ایک کامیاب فوجی مہم کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ "آپریشن سندور” کی خفت مٹائی جا سکے،پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے فوری بعد بھی بھارتی فوج کی جانب سے فیک انکاؤنٹرز کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا ،اس سے پہلے بھی 24 اپریل کو آزاد جموں کشمیر کے دو شہریوں محمد فاروق اور محمد دین کو غلطی سے بارڈر کراس کر جانے پر بھارتی فوج نے بہیمانہ طریقے سے انکاؤنٹر میں مار دیا تھا،منصوبے کے تحت مختلف جیلوں میں قید افراد کو مارنے کے بعد پاکستان کی طرف سے سرحد پار دہشت گرد قرار دیا جائے گا، 29 اور 30 اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پریس کانفرنسز میں پہلے ہی 723 پاکستانی افراد جو مختلف بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر بند ہیں، کی تفصیلات بتا چکے ہیں، اسکے علاوہ 56 ایسے پاکستانی افراد بھی ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے غیر قانونی اور جبراً اپنی حراست میں رکھے ہیں،ان 56 افراد کی تفصیلات بھی ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی 29 اور 30 اپریل کو بتا چکے ہیں، حسب روایت فیک انکاؤنٹر زکے فوری بعد بھارتی میڈیا کو پہلے ہی سے ان افراد کی لاشیں اور پلانٹڈ ہتھیار وغیرہ کی ویڈیوز اور تصویریں شیئر کی جا رہی ہیں ،

    مصدقہ اطلاعات کے مطابق;’’ غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے گئے افراد کو زندہ دہشت گرد ظاہر کر کے میڈیا کے سامنے پاکستان مخالف بیانات اور اعتراف جرم کے بیان بھی دلوائے جا سکتے ہیں‘‘ان بھارتی حراست میں رکھے گئے افراد کو کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور جارحیت کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں فیک انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے طور پر بد نام زمانہ ہے، آپریشن مہادیو بھارتی فوج کی جانب سے فیک انکاؤنٹرز کا تسلسل ہے، پہلگام فالس فلیگ اور آپریشن سندور کی ناکامی میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت مکمل طور بوکھلا چکا ہے،

  • آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی جانب سے آپریشن مہادیو کے نام سے نیا ڈرامہ

    آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی جانب سے آپریشن مہادیو کے نام سے نیا ڈرامہ

    آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی جانب سے آپریشن مہادیو کے نام سے نیا ڈرامہ سامنے آ گیا

    سرینگر میں بھارتی قابض فوج نے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا اور دعویٰ کیا کہ خفیہ اطلاع پر کاروائی کی گئی، اس آپریشن کو آپریشن مہادیو کا نام دیا گیا،بھارتی فوج کی جانب سے آپریشن میں شہید ہونے والے افراد کی ابھی تک شناخت کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا کہ بھارتی میڈیا نے ان افراد کو پاکستانی قرار دے دیا، کیا اب بھارت پھر کوئی فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے،بھارت کی پارلیمنٹ میں‌مودی سرکار سے اپوزیشن جماعتیں آپریشن سندور کی ناکامی پر جواب مانگ رہی تھیں،ایسے میں سرینگر میں جعلی مقابلے میں تین کشمیریوں کو شہید کر کے پاکستانی اور دہشت گرد قرار دینا بھارت کی نئی چال ہے.

    بھارتی میڈیا یہ بھی دعویٰ کر رہا ہے کہ پہلگام ڈرامے میں ملوث افراد کو بھارتی فوج نے مارا ہے، تاہم بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعووں کو سچ کیسے مانا جائے، ابھی تک مارے جانے والے افراد کی بھارتی سیکورٹی اداروں کی جانب سے کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اگر پہلگام حملے میں ملوث افراد مارے گئے تو انکی شناخت کو بھارت کو سامنے لانا چاہئے.

    فوج کی چنار کور نے اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر تصدیق کی ہے کہ ’’تین دہشت گردوں کو ایک شدید فائرنگ کے تبادلے میں مار دیا گیا ہے۔ آپریشن تاحال جاری ہے۔‘‘

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ آپریشن بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) اور جموں و کشمیر پولیس کے درمیان قریبی اشتراک کا نتیجہ تھا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق مارے گئے تینوں افراد "ہائی ویلیو” ٹارگٹ تھے اور ان کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی۔واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور ایک مکمل سرچ اور کومبنگ آپریشن جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر چھپے ہوئے دیگرافراد کو تلاش کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں۔

  • مودی کا "میک اِن انڈیا” کا نعرہ، مگر میدان میں روسی ملبہ اور "بھارتی جگاڑ کلچر” کا راج

    مودی کا "میک اِن انڈیا” کا نعرہ، مگر میدان میں روسی ملبہ اور "بھارتی جگاڑ کلچر” کا راج

    مودی کی دفاعی خود انحصاری کا کھوکھلا نعرہ، ناقص پالیسیوں کی بدولت بھارت دفاعی بحران کا شکار ہے

    بھارت کا دفاعی نظام زوال پذیر، 62 سال پرانے جنگی جہازوں پر انحصارکیا جا رہا ہے، مودی کے میک اِن انڈیا کی قلعی کھل گئی، سوویت دور کے مگ 21 جنگی طیاروں پر آج بھی انحصار کیا جا رہا ہے،مودی کا دفاعی ماڈل فیل ,میک اِن انڈیا نہ ہتھیار لا سکا، نہ پرانا نظام بدل سکا , صرف ایک کھوکھلا سیاسی نعرہ ثابت ہوا ، دی وائر کی رپورٹ کے مطابق "میگ 21 کے آخری اسکواڈرن کی ریٹائرمنٹ تقریب 19 ستمبر کو چندی گڑھ میں منعقد ہوگی”بھارتی فوج کی "جگاڑ” سے مگ 21 طیارے 62 سال تک چلتے رہے ،جگاڑ بھارتی فوج کی منفرد ثقافت ہے جس میں فوری حل، جدت، اور انجینئرنگ کے طریقے شامل ہیں، اب تک بھارت میں تقریباً 450 MiG-21 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں 170 سے زائد پائلٹ جاں بحق ہوئے، بھارتی میڈیا میں MiG-21 کو ‘اڑتا ہوا تابوت’ اور ‘بیوائیں بنانے والا’ جیسے نام دیے گئے ہیں،تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حادثات کی وجوہات میں پائلٹ کی غلطی کے ساتھ پرانے جہاز، انجن کی خرابی، اور بوسیدہ ٹیکنالوجی شامل ہیں ،حادثات کے باوجود MiG-21 طیارے صرف مجبوری کے تحت چلائے گئے تاکہ اسکواڈرن کی تعداد برقرار رکھی جا سکے.مقامی لڑاکا طیاروں میں تاخیر اور متبادل کی سست خریداری نے MiG-21 کی تکنیکی عمر بڑھا کر اسے اصل صلاحیت سے کہیں زیادہ کاموں پر مجبور کیا .مگ-21 کی طویل سروس کی اہم وجہ مقامی لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (LCA) منصوبے میں مسلسل تاخیر تھی، جو 1983 میں اس کی جگہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا، عارضی حل کے طور پر 1990 کی دہائی کے آخر میں 125 MiG-21 ‘Bis’ طیارے کو ‘Bison’ معیار تک اپ گریڈ کیا گیا، جس میں بھارتی، روسی، فرانسیسی اور اسرائیلی ریڈار و ایویونکس شامل کیے گئے ،اپ گریڈ شدہ MiG-21 Bison طیارے ستمبر میں آخرکار ریٹائر کیے جا رہے ہیں، جس سے بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد 29 رہ جائے گی ،یہ کمی مجاز 42.5 اسکواڈرنز کی سطح سے کہیں کم ہے، جو آپریشنل کارکردگی پر بڑھتے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے

    مودی سرکار کا "میک اِن انڈیا” صرف میڈیا گِمک ہے زمینی حقائق صفر ہیں ، مودی حکومت کی دفاعی پالیسی میں سنگین ناکامیاں سامنے آ گئیں،ڈیڑھ دہائی پرانا LCA منصوبہ اب تک صرف فائلوں میں قید ہے،بھارتی فوج کا "جگاڑ کلچر” قومی سلامتی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے

  • پہلگام  حملہ، سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا

    پہلگام حملہ، سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا

    بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم نے پہلگام میں ہونے والے حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی حکومت کے دعوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کرے کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔

    مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں حالیہ فائرنگ کے واقعے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم پی چدمبرم نے ان الزامات کو سیاسی مفروضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "آخر بھارتی حکومت کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے؟ کیا حکومت نے ان کے پاکستانی ہونے کی کوئی شناخت ظاہر کی ہے؟”انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی اطلاعات اور تحقیقاتی اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حملہ آور بھارتی شہری تھے اور انہوں نے بھارت کے اندر ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔”یہ ایک اندرونی سکیورٹی ناکامی ہے جسے حکومت بیرونی دشمن پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل ذمہ داروں سے توجہ ہٹائی جا سکے،”

    پی چدمبرم کے بیان نے بھارتی سکیورٹی اداروں اور حکومت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے اس واقعے کی فوری مذمت کی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ چاہے تو پاکستان اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ اس کے باوجود، بھارت کی جانب سے اب تک پاکستان پر الزامات دہرائے جا رہے ہیں جبکہ تحقیقات میں کوئی واضح پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چدمبرم جیسے سینئر سیاستدان کی جانب سے ایسے بیانات حکومت کی ساکھ پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق:”جب ملک کا سابق وزیر داخلہ خود یہ کہے کہ ثبوت موجود نہیں، تو حکومت کو سنجیدگی سے اس پر غور کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ بغیر ثبوت کے الزام تراشی کی جائے۔”

  • باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے وادی تیراہ کے علاقے باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پرامن شہریوں پر خوارج کی فائرنگ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کےمکروہ عزائم ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے،دہشت گردوں اور دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی تیراہ واقعے پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تیراہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ مکمل ہمدردی ہے اور واقعے کے بعد قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں کا جرگہ پشاور طلب کرلیا۔ان کا کہنا تھاکہ جرگہ طلبی کا مقصد مقامی جذبات اور تحفظات کو سننا ہے، ضلعی انتظامیہ اور ادارے نظم و ضبط برقرار رکھیں۔وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کیلئے ایک ایک کروڑ اور زخمیوں کیلئے 25، 25 لاکھ روپے پیکج کا اعلان کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پائیدارامن، عوامی تحفظ اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، آل پارٹیزکانفرنس میں اِنہی واقعات اورمعاملات کو حل کرنے پرسنجیدگی سے غور کرکے تجاویز مرتب کیں، عمائدین اور مشران کے ساتھ جرگوں کا سلسلہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر اگلے ہفتے سے شروع ہوگا۔

  • خوارج کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ، احتجاجی شہریوں پر پہاڑوں سے فائرنگ، تین افراد شہید

    خوارج کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ، احتجاجی شہریوں پر پہاڑوں سے فائرنگ، تین افراد شہید

    آج باغ میدان میں مقامی شہری اپنے جائز مطالبات کے حق میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے سامنے پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ خوارج نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی روایتی بزدلی، مکاری اور فتنہ پروری کا مظاہرہ کیا۔

    موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوارج نےقریبی پہاڑوں سے احتجاجی عوام پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 3 بے گناہ شہری شہید اور 9 شدید زخمی ہو گئے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں عوامی جرگے نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر خوارج کے خلاف اجتماعی مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔ خوارج کو عوامی اتحاد کا یہ فیصلہ ایک خطرہ محسوس ہوا، اسی لیے انہوں نے عوام کو نشانہ بنا کر انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔

    سیکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا، کسی قسم کی جوابی کارروائی سے گریز کیا اور فوری طور پر زخمیوں کو ایف سی اسپتال شاکس منتقل کر کے مفت طبی امداد فراہم کی۔یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ خوارج اب اُن شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کے ناپاک عزائم کو مسترد کر چکے ہیں۔ لیکن عوام جانتے ہیں کہ ان کا اصل ہدف علاقے کا امن تباہ کرنا ہے

    اسکے ساتھ ساتھ آگ لگانے کے لئے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے بھارتی اسپانسرڈ پروپیگنڈا اکاؤنٹ جیسا کے بابا بنارس اور عمران ریاض خان نے جعلی اور پرانی ویڈیوز بھی پوسٹ کرنا شروع کر دی ہیں (نیچے ثبوت حاضر ہے) جو اس بات کا ثبوت ہے کے پاکستان میں بد امنی کی ہر کاروائی کے پیچھے بھارت اور اسکے کرائے پر لئے گئے عمران ریاض جیسے جھوٹ بولنے والے ہی شامل ہیں


    اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کے اب پی ٹی آئی نے بھی خیبر میں ایک احتجاج کی کال دے دی ہے- بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنی ذمہ داری قبول کریں ، پی ٹی آئی نے سیاسی گیم شروع کر دی ہے ۔سیکیورٹی فورسز عوام کے تحفظ، خدمت اور فلاح کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں، اور خوارج کے خلاف عوام کے ساتھ مل کر بھرپور عزم کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    وادی تیراہ کے علاقے باغ میں حالیہ فائرنگ کے افسوسناک واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا۔ اس جرگے میں کمانڈنٹ تیراہ ملیشیا، سول و عسکری حکام، اور مقامی عمائدین نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق، جرگے میں واقعے کی سنگینی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ حکام نے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تعاون اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ متاثرین کو فوری ریلیف، شفاف تحقیقات اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔جرگے میں وادی میں پائیدار امن کے قیام، مقامی آبادی اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی تجاویز پر غور کیا گیا۔حکام نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دیرپا امن و استحکام کے لیے تمام فریقین کو باہمی تعاون سے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

    آئی جی خیبر پختونخوا نارتھ نےایف سی ہسپتال میں وادیِ تیراہ میں خوارج کی فائرنگ سے ہونے والے زخمیوں کی عیادت کی،آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا نارتھ، میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے فرنٹیئر کور ٹیچنگ ہسپتال میں وادی تیراہ کے زخمیوں کی عیادت کی۔زخمیوں نے آئی جی ایف سی نارتھ کو خوارج کی فائرنگ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔زخمیوں نے اپنے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔واقعے کے زخمیوں نے خوارج سے اپنے علاقے کو پاک کرنے اور ایک فوج کے شانہ با شانہ خوارج کے خلاف لڑنے کے عزم کو دہرایا۔زخمیوں نے پاک فوج اور ایف سی نارتھ کا مفت علاج معالجہ فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

  • امریکی جنرل  کو نشانِ امتیاز (ملٹری) عطا، علاقائی امن میں خدمات کا اعتراف

    امریکی جنرل کو نشانِ امتیاز (ملٹری) عطا، علاقائی امن میں خدمات کا اعتراف

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ای کوریلا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا۔ یہ اعزاز انہیں علاقائی سلامتی اور پاک امریکا دفاعی تعلقات میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اعزازی تقریب ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں جنرل کوریلا کو تینوں مسلح افواج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔بیان کے مطابق جنرل مائیکل کوریلا نے اپنی اسلام آباد آمد کے دوران پاکستانی سول و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں دہشتگردی کے خلاف اشتراک اور دفاعی تعاون سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل کوریلا کا دورہ پاکستان اور انہیں دیا گیا یہ اعلیٰ ترین عسکری اعزاز دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ جنرل کوریلا کا وژن علاقائی امن، استحکام اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات میں اہم کردار کا حامل رہا ہے، جسے پاکستان نے سراہتے ہوئے یہ اعزاز عطا کیا۔

    علاقائی دفاعی تعاون ناگزیر، پاکستان کا پرامن و محفوظ خطے کے عزم کا اعادہ: فیلڈ مارشل عاصم منیر