Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وفاقی کابینہ اجلاس،دہری شہریت والوں کوالیکشن لڑنے کا حق دینے کا آئینی ترمیمی بل منظور

    وفاقی کابینہ اجلاس،دہری شہریت والوں کوالیکشن لڑنے کا حق دینے کا آئینی ترمیمی بل منظور

    وفاقی کابینہ اجلاس،دہری شہریت والوں کوالیکشن لڑنے کا حق دینے کی آئینی ترمیمی بل منظور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں 14 آئیٹمز منظور،2 موخر کر دیئے گئے،کابینہ اجلاس میں ملکی معاشی، سیاسی اور قومی امور پر مشاورت بھی مکمل کی گئی.

    وفاقی کابینہ اجلاس میں دہری شہریت والوں کوالیکشن لڑنے کا حق دینے کی آئینی ترمیمی بل کی منظوری دے دی گئی،سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری ختم کرنے کےلیے آئینی ترمیمی بل کی منظوری دی گئی،کابینہ نے جدید جیل کی تعمیرکےلیے اسلام آباد ماسٹر پلان میں ترمیم کی منظوری دے دی

    کابینہ نےپشاور،لاہور،راولپنڈی میں اسپیشل کورٹ کے ججزکی تعیناتیوں کی منظوری دے دی،چین اور پاکستان کی وزارت ٹیلی کمیونی کیشن میں ہونے والے ایم اویوکی بھی منظوری دی گئی،وفاقی کابینہ اجلاس میں پائلٹس کے مشکوک لائسنزکی منسوخی سے متعلق بریفنگ دی گئی،

    کابینہ ارکان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سنگین سزائیں دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کردیا۔ ارکان نے کہا کہ جنسی درندوں کو سخت اور فوری سزائیں دینے لیے قانون سازی کرنی ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا کہ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں

  • امریکی صحافی ڈینئل پرل کیس، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی استدعا کی مسترد

    امریکی صحافی ڈینئل پرل کیس، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی استدعا کی مسترد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ ، ڈینئل پرل کیس میں سندھ ہائیکورٹ فیصلے کےخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے مقدمے کی سماعت مقرر کرنے کےلیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا،سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی سندھ حکومت کی استدعا مسترد کر دی

    جسٹس منظور احمد ملک نے وکیل سے استفسار کیا کہ ڈینئل پرل کے اغوا کا گواہ کون ہے؟ وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اغوا کا گواہ ٹیکسی ڈرائیور ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا گواہ نے کہا کہ مغوی ڈینئل پرل تھا؟ استغاثہ کے گواہ ٹیکسی ڈرائیور کے بیان میں جھول ہے، ٹیکسی ڈرائیور کو کیسے علم ہوا کہ گورے رنگ کا یہ شخص ڈینئل پرل ہے؟ کیا کراچی میں صرف ڈینئل پرل ہی گورے رنگ کا تھا؟ ہمیں کیسے پتا کہ وہ ڈینئل پرل تھا؟

    فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ حالات و واقعات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ ڈینئل پرل تھا،جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے کیسے ڈینئل پرل کو پہچان لیا؟ جسٹس منظور احمد ملک نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو آپ کارنگ بھی گورا ہے،فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میرا رنگ اتنا گورا نہیں ہے

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سی پی ایل سی کے سربراہ سے ملنے کے بعد ڈینئل پرل عمر شیخ سے ملا،جس پر عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے تو دفعہ 302 کے تحت تو ملزمان کو سزا ہی نہیں دی،کیا آپ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا؟ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اس کیس میں کیپٹل ریفرنس فائل کیا گیا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ سازش ہوٹل میں نہیں ہوئی،میں یہ ثابت کروں گا کہ سازش ہوٹل میں ہوئی،

    حکومت سندھ اور امریکی صحافی ڈینیل پرل کے والدین نے صحافی ڈینئل پرل کے قتل میں ملوث ملزمان کی بریت سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ سندھ حکومت اور ڈینئل پرل کے والدین کی جانب سے دائر اپیلوں میں عدالت عظمی سے استدعاکی گئی ہے کہ امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں ملوث ملزمان کی بریت سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے اس کیس میں ملوث ملزمان کو دی گئی سزائیں بحال کی جائیں

    واضح رہے کہ 2 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں تھیں جبکہ مرکزی ملزم عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

    بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔احمد عمر سعید شیخ کیونکہ پچھلے 18 سالوں سے جیل میں تھے لہٰذا ان کی 7 سال کی سزا پورے وقت سے شمار کیے جانے کے بعد ان کی بھی رہائی متوقع تھی۔

    تاہم 3 اپریل کو بڑی پیش رفت سامنے آئی تھی اور محکمہ داخلہ سندھ نے سی آئی اے کے ڈی آئی جی کی درخواست پر چاروں ملزمان کو مزید 90 روز کے لیے دوبارہ حراست میں لینے کا حکم دے دیا تھا۔یہ صحافی کے قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دوسری درخواست ہے۔سندھ حکومت نے 22 اپریل کو صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔28 اپریل کو سندھ حکومت نے اپنی درخواست کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت نے خواجہ حارث سے سوال پوچھ رکھا ہے، پہلے سن لیتے ہیں، خواجہ حارث کو دلائل دینے دیں کہ کیا اشتہاری ہوتے ہوئے نواز شریف کی اپیل سنی جا سکتی ہے؟اگر نواز شریف کی عدم حاضری پر اپیل سنی جا سکتی ہے تو پھر نیب کو بھی سن لیتے ہیں،

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عدالت میں درخواست کیوں دائر کی گئی؟ ابھی توطے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں، پریس میں ایک بات غلط رپورٹ ہوئی کہ اپیلوں پر سماعت کی بات کی گئی، ہم صرف نواز شریف کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی بات کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں خواجہ حارث نے دوران سماعت مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا، خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو دوسری عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے،بغیر سنے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا گیا،خواجہ حارث نے سابق صدر پرویز مشرف کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر عدالت نے کہا کہ جب کوئی اشتہاری قرار دے دیا جائے تو کیا ضمانت منسوخی کی الگ ضرورت ہے، کیا اشتہاری قرار دینے والے ملزم کی درخواست سن سکتے ہیں؟

    نیب کی نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت،عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کیوں نہیں کی؟ راجہ بشارت نے کیا اہم انکشاف

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی، بہارہ کہو میں کارکنان نے کیا استقبال

    عدالت پہنچنے پر مریم نواز نے کارکنان کے لئے جاری کیا حکم،ن لیگی رہنماؤں کو روک دیا گیا

    میری ضد ہو گی کہ نواز شریف یہ کام کریں، مریم نواز کی غیر رسمی گفتگو

    نواز شریف ضمانت پر نہیں، وکیل کا عدالت میں اعتراف،ہمیں سزا معطلی سے متعلق بتائیں، عدالت

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نیب نے عدالت میں کہا کہ نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت منسوخ کی جائے،نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست احتیاطی تدابیر کے طور پر دائر کی،جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں، ابھی طے کرنا ہے کیا نواز شریف کی درخواست سنی جاسکتی ہے یا نہیں؟ ابھی نیب کی نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست التوا میں رکھ رہے ہیں،اگر نواز شریف کی درخواستیں قابل سماعت قرار دیں تو اس کو سنیں گے،

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

  • پاک فضائیہ کا طیارہ پنڈی گھیب کے قریب گر کر تباہ

    پاک فضائیہ کا طیارہ پنڈی گھیب کے قریب گر کر تباہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ کا طیارہ پنڈی گھیب کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ کا طیارہ پنڈی گھیب کے قریب کر کر تباہ ہوا ہے،پائلٹ محفوظ رہا، امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی طرف پہنچ چکی ہیں

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق طیارہ حادثے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا،طیارہ معمول کے تربیتی مشن پر تھا،زمین پر کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی،پائلٹ جہازسےبحفاظت نکل گیا،

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق طیارے کو حادثہ مکیال کے قریب پیش آیا، طیارہ تربیتی پرواز پر تھا، حادثے کی تحقیقات کیلئے بورڈ تشکیل دے دیاگیا

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارتی آرمی چیف کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب،بھارت نے کی راہ فرار اختیار

    بھارت کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق

    بھارت ایک اور ڈرامہ رچانے میں مصروف، 26/11 طرز کے حملے کا الرٹ جاری

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    پاک فضائیہ کا راشد منہاس شہید نشان حیدر کے یوم شہادت پر خراج عقیدت

    طیارہ کھیتوں مٰیں گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں، جائے وقوعہ کو عام شہریوں کے لئے بند کر دیا گیا ہے

  • چھٹیاں ختم، چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے

    چھٹیاں ختم، چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں بند تعلیمی ادارے آج 6 ماہ بعد کھل گئے ہیں۔

    پہلے مرحلے میں انٹر اور یونیورسٹی کے طلبہ کو تعلیمی اداروں میں بلایا گیا ہے جبکہ باقی تعلیمی ادارے بتدریج اگلے دو ہفتوں میں کھلیں گے،

    تعلیمی اداروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے اسپرے کیے گئے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے بینرز بھی آویزاں کئے گئے ہیں،پہلے مرحلے میں نویں، دسویں اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو بلایا گیا ہے۔ اس کے ایک ہفتے بعد 23 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کو سکول آنے کی اجازت ہوگی۔ جبکہ تیسرے مرحلے میں تمام پرائمری سکول کے بچوں کو 30 ستمبر سے سکول جائیں گے۔

    تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل این سی او سی نے والدین اور اسکولوں کیلئے ایس او پیز جاری کیے ہیں۔ ایس او پیز کے مطابق ایک کلاس روم میں بچوں کی آدھی تعداد کو بٹھایا جائے گا، جیسا کہ اگر ایک کلاس میں 40 بچے پڑھتے ہیں تو ایک دن 20 بچے آئیں گے اور اگلے دن 20 بچوں کو سکول بلایا جائے گا۔

    بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی دوری اپنائی جائے گی۔ بچے اور والدین ماسک لازمی پہن کر سکول آئیں چاہے کپڑے کا ماسک ہی کیوں نا ہو۔ اسکول میں بچوں کو ہاتھ دھونے کی ترغیب دی جائے گی اور اس کو یقینی بنانا تعلیمی اداروں ذمہ داری ہوگی۔ بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر والدین انہیں اسکول ہر گز نہ بھیجیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہو تو ٹیسٹ کرائیں، کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر فوری اسکول انتظامیہ کو آگاہ کریں۔

    مراد راس ڈنگر ڈاکٹر، ڈگری جعلی ہو سکتی ہے،اساتذہ کے معاشی قتل عام کا ذمہ دارمراد راس، کاشف مرزا کے سنگین الزامات

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا صوبے میں سکول کھلنے کے حوالے اہم اعلان

    جہاں بھی اسکولز کھل رہے ہیں وہاں کورونا سے متعلق مسائل سامنے آرہے ہیں،مراد راس

    تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل وزیراعظم نے دیا اہم پیغام

    کسی بھی شخص کو درجہ حرارت چیک کیے بغیر تعلیمی اداروں میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ بچے کسی سے ہاتھ نہ نہیں ملائیں گے اور اسکول میں جھولا بھی نہیں جھولیں گے۔ محکمہ تعلیم کی مختلف ٹیمیں اسکولوں کا دورہ کریں گی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کاجائزہ لیں گی

    تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل این سی او سی نے جاری کیں اہم ہدایات

  • رفاء یونیورسٹی اسلام آباد سیل کر دی گئی

    رفاء یونیورسٹی اسلام آباد سیل کر دی گئی

    ملک میں تعلیمی ادارے کھلنے سے ایک روز قبل کورونا وائرس کا بڑا وار۔
    اسلام آباد میں قائم رفاء یونیورسٹی سیل کر دی گئی۔ ایک ہی دن میں رفاء یونیورسٹی میں سولہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ڈی ایچ او حکام کے مطابق انہیں پتہ چلا تھا کہ ایک طالب علم میں کورونا کی علامات ہیں۔جس کے بعد ٹیسٹ کروائے گئے تو سولہ افراد کی کورونا رپورٹ مثبت آئی۔

  • موٹروے کیس، ملزم بری ہو جائیں گے، عابد باکسر نے اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا

    موٹروے کیس، ملزم بری ہو جائیں گے، عابد باکسر نے اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک انٹرویو دکھانے لگے ہیں ،جو کمزور دل افراد نہ دیکھیں، ہم اس کو اسی طرح آن ایئر کر رہے ہیں،ہم ایڈٹ کر سکتے ہیں، بیپ لگا سکتے ہیں ،لیکن پھر اس کی سپرٹ جو انٹرویو کی ہے وہ ہرٹ ہو جائے گی، کمزور دل افراد اس کو مت دیکھیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے آج خاص درخواست پر مہمان آئے ہیں، کسی تعارف کے مہمان نہیں لیکن بہت کم ٹی وی پر آٹے ہیں، عابد باکسر صاحب، پہلے دبئی میں تھے ، تب ان کا انٹرویو کیا تھا،پاکستان آ گئے ہیں اب کافی عرصے سے، عابد باکسر کو لوگ مختلف طریقوں سے جانتے ہیں، جو انکو اچھی طرح جانتے ہیں وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں، یہ سٹرانگ پرسنلٹی والے کے ساتھ نقصان ہوتا ہے،یہ ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے، جو ہمیں پسند کرتا ہے وہ دل سے کرتا ہے اور جو پسند نہیں کرتا وہ بھی دل سے نہیں کرتا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حالیہ جو واقعہ ہوا ،اور خاص طور پر ایک تو واقعہ ہو گیا، چوری ، ڈکیتی کا، یہ ایسا جرم ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا،ایک تو ہو جاتے ہیں، انکو شائد اس طرح لوگ ڈسکس نہ کریں لیکن جب بچوں کے سامنے ایسا ہوا تو ہر ماں باپ کانپ گیا، جس کی بہنیں، بیٹیاں ہوں اور انکی حرمت کا پاس ہو انکی نیند اڑ جاتی ہے، اس کیس کے حوالہ سے چند سوال پوچھنے ہیں

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ میں ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا کہ بیچاری مظلوم فیملی ہے ان کے زخموں پر نمک پاشی نہیں کرنا چاہتا ،ایسے الفاظ میں بولنا نہیں چاہ رہا،لیکن سی سی پی او کا جو رویہ دیکھا، اگر سی سی پی او سامنے آجائے تو گارنٹی نہیں دے سکتا کیا ہو گا، کیا پولیس والے اتنے مادر پدر آزاد ہو گئے ہیں کہ ان کو لوگوں کی عزتوں کا خیال نہین ، جس پر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ میں انکے ساتھ رہا نہیں اسلئے کوئی ایسے کمنٹ نہیں کرنا چاہتا جو میرے علم میں نہیں، ایک لفظ ہے،میرے والد صاحب ہیں، ایک بات ہے میری والدہ کے شوہر ہیں،انداز بیان سے بات بہت دور چلی جاتی ہے، وہ سخت بول گئے، اچھے طریقے سے سمجھایا جا سکتا تھا، میں اس پر اتنا ہی کمنٹس دے سکتا ہوں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم 17 سال سے انوسٹی گیٹو شو کرر ہے ہیں،ہم بھی بڑے بڑے کن ٹٹوں کو ملتے ہیں، اپنے جیسوں کو بھی ملتے ہیں، تفتیش کرنی ہے تو کہاں سے شروع کرنی ہے، میری کتاب میں ون فائیو کی کال سے تفتیش بنتی ہے، انکو کیوں نہیں شامل کیا گیا جس پر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ میں تھوڑا سا اختلاف کرنے کا حق رکھتا ہوں،ہم نے یہ نہیں دیکھنا کہ ون فائیو نے کال سنی یا نہیں، ڈولفن گئی یا نہیں، اب ہم نے پورا زور لگانا ہے کہ پولیس زور لگائے اور ملزموں کو پکڑے، سب سے پہلے ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ انسان ہیں یا نہیں، یہ انسان نہیں ہیں، آپ آئے روز دیکھتے ہیں کارپوریشن والے کتے مار رہے ہوتے ہیں،وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں،لیکن اپنی قوم ، فیملی کی فلاح کے لئے بے زبان کو مارتے ہیں، جو انسان نہیں اور انسانیت کے لئے ناسور بن گیا ،اس کے لئے قانون مین لچک ہونی چاہئے، میں یہ نہیں کہتا کہ لاقانونیت ہونی چاہئے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ زینب کے قاتل کو پھانسی اسلئے ہوئی کہ وہ قتل ہو گئی تھی، ریپسٹ کو تو سزا ہوتی ہی نہیں، وہ باہر آ جاتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے جس پر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ اگر میرٹ پر بالکل فری اس کی تفتیش اور عدالت میں کیس گیا تو یہ ملزمان بری ہو جائیں گے، میں ثابت کر دیتا ہوں، اصل جو ظلم ہوا اس فیملی کے ساتھ وہ فیملی دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی، وہ میری بہن ہے، بیٹی ہے،جب وہ عدالت آئے گی تو کئی لوگ میرے جیسے سیلفی لینے پہنچ جائیں گے،ابھی اس کو چند لوگوں نے دیکھا ہے، ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہر پاکستانی اسکی شکل سے شناخت کر لے گا، پھر وہ جہاں جائے گی اسکو عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جائے گا، اسکے ساتھ اسکی ساری فیملی مر گئی، اب اسکو ڈرایا جائے گا، وہ واپس فرانس چلی جائے گی،جب شہادت نہیں دے گی تو ملزمان بری ہو جائیں گے،

    عابد باکسر کا مزید کہنا تھا کہ میری آئی جی پنجاب سے درخواست ہے کہ تھوڑا سا قانون میں کچھ کریں، ایک مثال دینے لگا ہوں، عامر ذوالفقار ایس ایس پی لاہور تھے تو ایک باپ نے اپنی تینوں بیٹیوں کو ذبح کر دیا، ایک کو ذبح کیا تو دو چھپ گئیں، وہ گرفتار ہو گیا ماڈل ٹاؤن تھانے میں عامر ذوالفقار صاحب آئے تو انہوں نے پوچھا تو ملزم نے جواب دیا کہ مجھے پیر صاحب کا حکم تھا،وہاں پر ایک راجہ ندیم کمانڈو تھا ،اس نے پسٹل نکالا روتے ہوئے اور پوری گولیاں اسکے سینے میں ڈال دیں، کیونکہ وہ ایک بیٹی کا باپ تھا، اسوقت عامر ذوالفقار کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے جب وہ کہہ رہا تھا کہ پیر صاحب کے کہنے پر میں نے تینوں بیٹیاں ذبح کر دیں، جس کے بعد ندیم کمانڈو جیل چلا گیا، محکمے نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا،چند اسکے دوست ایلیٹ والے رہ گئے وہ میرے پاس آئے، میں ایک وفد بنا کر انکے گھر گیا اور درخواست کی کہ اس نے جذباتی ہو کر یہ قدم اٹھایا، آپ کی تین بیٹیاں مر گئی ہیں،اسنے ذبح کر دی ہیں، اس نے اس کو معاف کیا اور وہ باہر آیا، مین کسی کو اکسا نہیں آ رہا کہ لاقانونیت کریں، کسی وقت ایسا ٹائم آ جاتا ہے، پولیس والے بھی انسان ہیں، تو میری درخواست ہے کہ ملزمان کوئی بھی ہیں ،یہ انسان نہیں ہیں، فیصلہ آپ نے کرنا ہے، آئی جی نے کہا کہ میں سات بہنوں کا بھائی ہے، انصاف کروں گا، انعام غنی صاحب انصاف نظر آنا چاہئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انصاف تو پتہ نہین کیا ہو گا، میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو درخت کے ساتھ ٹانگ دینا چاہئے اور اسوقت نہیں اتارنا چاہئے جب تک گدھ ان کی بوٹیاں نہیں کھا لیتے،عابد باکسر نے کہا کہ دیکھیں اب ایک بندے کو ہم اسکو اتنا لمبا کیوں لے کر جائیں، ایک بندہ ہے اسکو پتہ ہے اسنے مر جانا ہے،جب پکڑا جائے گا تو شاید پبلک ہی اسکو نہ چھوڑے، اس نے مزاحمت کرنی ہے ہر قیمت پر،مزاحمت کا پولیس کو موقع پر جواب دینا چاہئے لیکن پلیز جو ڈی این اے ٹیسٹ ہو رہے ہیں ، قصور میں بے گناہ اسی طرح مارا گیا، اپنی تفتیش کیجیے، کسی جگہ میری ضرورت پڑی، میں ساتھ دوں گا محکمے کا بے شک میں فورس میں نہیں ہوں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بھی بتائیں کہ آجکل جو پولیس والے فورس میں ہیں وہ اس قابل نہین کہ کیس کو سلجھائیں جس پر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ قابل ہیں لیکن سب ڈرے ہوئے ہیں، میں تو نوکری میں نہیں ہوں اسلئے بیان دے سکتا ہوں، میں چار دن پہلے ساہیوال جیل میں سزائے موت کے قیدی آصف خان ایک دوست کو ملنے گیا،چار سال پہلے ایک‌ ڈاکو پکڑا گیا، پبلک نے مارا، وہ پولیس کے پاس پہنچا مر گیا، سزائے موت ہو گئی، آج تک اسکی ملاقات کے لئے کوئی نہیں گیا،میں یہ نہیں کہتا کہ پولیس افسران کرائم میں ساتھ دیں، اتنا تو دیکھیں غیر دانستہ نوکری کے دوران کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو اتنا تو کریں کہ میری فیملی سروائیو کرسکے، دیکھیں ، مبشر صاحب ،آپ نے میرا پہلا پروگرام کیا، میری تفتیش تبدیل ہوئی تھی، نہیں ہوئی تھی، میں کہتا رہا کہ مین بے گناہ ہوں، مجھے بورڈ نے بے گناہ کر دیا، ملزم جنہوں نے میرے اوپر جھوٹے پرچے بنائے،کسی ایک کا نام آپ کے سامنے آیا، میں سب میں بے گناہ ہو گیا، میرے ماموں کو دوران تفتیش قتل کر دیا گیا،کیا انصاف ملا، عمران خان صاحب آپ کے تو بڑے بڑے دعوے تھے، مجھ سے شروع کیجیے،انویسٹی گیشن کروایئے،میرے ساتھ ہوا کیا، اتنے پرچے، تین بار انٹرپول نے پکڑا، اتنا تو پوچھیں کہ یہ بے گناہ ہو گیا، اس پر پرچے کس نے کروائے تھے، میں 21 مارچ 19 سے ، ڈیڑھ سال ہو گیا بے گناہ ہوں لیکن ابھی تک میرا نام ای سی ایل میں ہوں، میں نے رٹ کی تو قاسم خان صاحب نے فیصلہ دیا کہ نام ای سی ایل سے نکالا جائے میں ایئر پورٹ گیا تو کہا گیا کہ نام بلیک لسٹ میں ہے، میں نے پھر رٹ کی، پھر عدالت نے فیصلہ دیا کہ اسکو جانے دیا جائے ،میں پھر گیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی آئی بی ایم ایس ہے، اس لسٹ میں آپکا نام ہے، اب پھر میں رٹ پر جا رہا ہوں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اصل میں لوگ آپ سے پیار بہت کرتے ہیں، لیکن ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ میں ایک بڑا نقصان ہوتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ مجرم کے ساتھ ساتھ جرم بھی مرنا چاہئے، یہان ‌ہوتا ہے کہ مجرم مر جاتا ہے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا ،جرم رہتا ہے، مجرم کو ایسی سزا ہونی چاہئے قانون کے تحت جس کو لوگ صدیوں تک یاد رکھیں، جیسے پپو کے قاتلوں کو آج بھی لوگوں کو یاد ہے، لوگ نہیں بھولتے، ضیاء الحق میں سو برائیاں ہوں گی لیکن اس نے قتل اور ریپ کے کیسز پر قابو پا لیا تھا، جس پر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ ایک مثال ہے ، ریچھ، بھیڑئے اور شیر کی یاری تھی،شیر نے کہا کہ میں انکو چیک کروں یاری کیسی ہے، شیر نے ہرن کا شکار کیا اور ریچھ کو کہا کہ اس کے حصے کرو اپنے اور میرے ،ریچھ نے اچھا اچھا گوشت اپنے لئے رکھ لیا، گندا شیر کو دے دیا، شیر نے ریچھ کو لمبا ڈال لیا، اب اس نے بھیڑیئے کو کہا کہ تم انصاف کرو،بھیڑئے نے اچھا گوشت شیر کو دیا اور گندہ اپنے لئے رکھ لیا، شیر نے پوچھا کہ تم نے اتنا اچھا انصاف کر لیا جس پر اس نے کہا کہ ریچھ کو جوتے لگے مجھے انصاف سمجھ آ گیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب یہ بتائیں کہ پنجاب پولیس سے کوئی اچھائی کی امید ہے جس پر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ بہت اچھی فورس ہے، ذوالفقار ورک، فاروق اعوان جیسے پروفیشنل آفیسر ہیں، انکو تھوڑا سا ایزی کریں، یہ گھبرائے ہوئے ہیں، ہمارا انجام دیکھ کر،99 کا جب حکومت آگئی سب کو چن چن کر مار دیا گیا، سب کو ڈسمس کر کے فورس لی گئی اور سڑکوں پر مار دیا گیا، کسی کا کچھ نہین بنا، اب میں گارڈ رکھتا ہوں تو میں بدمعاش ہوں، میں گاڑی رکھتا ہوں تو غنڈہ گروپ ہوں،قبضہ گروپ ہوں، مجھ سے پوچھیں جواب دوں گا، اس طرح ڈی مورال کر دیا گیا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دو سال میں پانچ آئی جی اور کتنے افسران تبدیل ہوئے، پولیس والا جو آتا ہے وہ مٹھائی وغیرہ نہیں لیتا کہ سیاہی خشک ہونے سے پہلے اسکی ٹرانسفر ہو سکتی ہے،جس پر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ میں اسکا بہت اچھا جواب دے سکتا ہوں لیکن نہیں دوں گا،میرا ای سی ایل میں نام ہے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ مجھے جواب مل گیا، اس کا مطلب ہے کہ پولیس کو خود خراب کیا جا رہا ہے، عابد باکسر کا کہنا تھا کہ پولیس بہت خوفزدہ ہے،میں کبھی کبھی ان سے بات کرتا ہوں، دکھ ہوتا ہے، ابھی سب ہم پر انحصار کر رہے ہیں کہ ہم کنٹرول کر نے کے لئے کچھ کریں، جو لوگ کرٹسائز کرتے تھے مجھے اب کہتے ہیں عابد باکسر کو آنا چاہئے، کیوں؟ اب انکی خواہش ہے کہ میں آوں، جب میں ریپسٹ، اجرتی قاتل، دہشت گرد مارتا تھا جنکی تمام جوڈیشیل انکوائریز ہوئی ہیں، تو اسوقت برا تھا، آج ضرورت پیش آئی تو فلاں بھی آ جائے،اپنے رویئے ٹھیک کریں ہم آج بھی حاضر ہوں، ضروری نہین کہ میں پولیس فورس میں ہوں تو انکی خدمت کر سکتا ہوں،میں پولیس فورس کا حصہ رہا ہوں اور آج بھی حصہ رہوں گا.

  • وزیر اعظم نے جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی حمایت کردی

    وزیر اعظم نے جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی حمایت کردی

    وزیر اعظم نے جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی حمایت کردی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق. وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے زیادتی کرنےوالوں کی سرعام پھانسی کی حمایت کا اعلان کیا ہے. وزیراعظم عمران نے موٹروے زیادتی کیس اور بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے لیے سرعام پھانسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو میرے خیال سے چوک پر لٹکانا چاہئے۔


    خیال رہے کہ چند دن پہلے موٹروے پرخاتون کے ساتھ زیادتی کی خبر پر پورے ملک میں‌یہ مطالبہ شدت اختیار کر گیا کہ ریپ کرنے والوں اور بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے والوں کو سرعام لٹکایا جائے.
    واضح رہے کہ لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھی، کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

    موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی اور موٹر وے پولیس بھی نہیں آئی۔ رشتے داروں کے پہنچنے سے پہلے ہی دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے۔

  • زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں وفد کی آرمی چیف سے ملاقات ، افغان امن میں ‌پاکستان کے تعاون پر شکریہ

    زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں وفد کی آرمی چیف سے ملاقات ، افغان امن میں ‌پاکستان کے تعاون پر شکریہ

    زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں وفد کی آرمی چیف سے ملاقات ، افغان امن میں ‌پاکستان کے تعاون پر شکریہ

    باغی ٹی وی : نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں ، ایک وفد نے ، افغانستان کے مفاہمت کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی ، جی ایچ کیو میں آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں سفیر محمد صادق ، پاک افغانستان کے نمائندہ خصوصی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور ، علاقائی سلامتی افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آنے والے معززین نے جاری امن عمل میں پاکستان کے کردار کو بے حد سراہا اور کہا کہ یہ پاکستان کی مخلص اور غیر مشروط حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔
    آرمی چیف نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے خطے میں امن اور رابطے کے حوالے سے واضح وژن دیا ہے اور قومی طاقت کے تمام عناصر اس وژن کو حقیقت بنانے کے لئے متحد ہیں تاکہ خطے میں طویل المعیاد امن ، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکے۔

  • بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ ھارتی شہر جودھ پور کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے گیارہ پاکستانی ہندو باشندوں کے حوالے سے پاکستان نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ہلاک ہونے والے ہندو باشندوں میں بچے بھی شامل تھے۔ واقعہ نو اگست کو لوڈتا ہارید اوست گاٶں ضلع جودھ پور ہندوستان کی ریاست راجھستان میں پیش آیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق بار بار دہلی میں موجود پاکستانی ہاٸ کمشنر کی طرف سے معاملہ اٹھانے کے باوجود بھارتی حکومت نے متعلقہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ مارے جانے والے خاندان کے سرپرست کی صاحبزادی شریماتی مکھی نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را ان کے والد ، ماں اور فیملی کے دوسرے افراد کے قتل میں ملوث ہے جب کہ را انھیں پاکستان میں جاسوسی کرنے اور پاکستان کے خلاف بیان دینے میں قاٸل کرنے میں ناکام رہا۔ دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کے حصول کے لیے پاکستانی ہندوٶں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ہندوستانی حکومت کو شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ جودھ پور کے واقعہ پر پاکستانی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ تمام معاملات سے باخبر رہے۔ بھارت پریہ بھی زور دیا گیا کہ معاملے کی جامع تحقیقات کی جاٸیں اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو لواحقین تک رسائی فراہم کی جاۓ۔ اس کے علاوہ ایف آٸی آر کی کاپیز پاکستانی ہاٸی کمیشن کو بھی دی جاٸیں۔
    بھارت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ بغیر کسی تاخیر کے پاکستانی ہائی کمشنر کی موجودگی میں پاکستانی نماٸندوں کو پوسٹ مارٹم کے معاملے تک سہولت فراہم کی جاۓ۔