Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نومئی کیس،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو 10 سال قید کی سزا

    نومئی کیس،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو 10 سال قید کی سزا

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے کوٹ لکھپت جیل میں 9 مئی کو شیر پاؤ پل پر ہونے والے اشتعال انگیز جلسے اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر کو 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کے تحت دیگر ملزمان کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اہم فیصلے کا اعلان کیا۔ عدالت میں ملزمان کے وکلاء اور سرکاری وکیل نے حتمی دلائل پیش کیے جن کے بعد مقدمے کا جیل ٹرائل مکمل کیا گیا۔

    عدالت نے ایم این اے احمد چھٹہ سمیت تمام دیگر کارکنوں کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔ تاہم فیصلے کے وقت اپوزیشن لیڈر ملک احمد بھچر سمیت کوئی بھی ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔

    مزید برآں، انسداد دہشت گردی عدالت نے بتایا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کل صبح 10 بجے مزید دلائل دیں گے جس کے بعد ان کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا۔ عدالت نے اس کیس میں دیگر 14 ملزمان کے خلاف بھی ٹرائل مکمل کیا ،اس مقدمے میں 61 سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جو عدالت میں پیش کیے گئے۔ یاد رہے کہ میانوالی میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے کیس کے بیشتر ملزمان ضمانت پر ہیں۔

  • چلاس: بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں متعدد سیاح لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    چلاس: بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں متعدد سیاح لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت بلتستان کے خوبصورت ضلع دیامر میں واقع سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر شدید سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ہے۔ دریاؤں میں اچانک آنے والے فلیش فلڈ (سیلابی ریلے) کی وجہ سے متعدد سیاح بہہ کر لاپتا ہو گئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی لوگ مل کر متاثرہ سیاحوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان کے مطابق بابو سر سے نیچے تھک کے مقام پر اچانک کلاوڈ برسٹ (آسمانی طوفان) ہوا، جس کے باعث شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور بابو سر روڈ مکمل طور پر بند ہوگئی۔ تقریباً 7 سے 8 کلومیٹر سڑک تباہ ہو چکی ہے، جس سے علاقے کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ڈی سی نے بتایا کہ سیلاب میں اب تک 3 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں ریسکیو کر کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس قافلہ میں 10 سے 15 گاڑیاں، جن میں کوسٹرز بھی شامل ہیں، سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔قدرتی آفت کی وجہ سے بجلی اور فائبر آپٹک لائنز بھی متاثر ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں رابطہ منقطع ہے۔ حکام نے مشینری کے ذریعے سڑکیں کھولنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ناران سے بھی بابو سر روڈ کو کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    مقامی لوگوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے ریسکیو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کے ردعمل میں جو کچھ بھی ممکن ہے کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ صبح سے سرچ آپریشن جاری ہے اور لاپتا افراد کی تلاش میں تیزی لائی گئی ہے۔ سیلاب کی شدت کی وجہ سے گرلز اسکول، 2 ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔ تقریباً 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثر ہے اور 15 مقامات پر روڈ بلاک ہے۔ بابو سر پر 4 رابطہ پل بھی تباہ ہو چکے ہیں۔فیض اللہ فراق نے مزید کہا کہ سیکڑوں پھنسے ہوئے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔ مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے کئی سیاح اپنے گھروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے، تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو مفت کھول دیا گیا ہے تاکہ متاثرین کو مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاک فوج نے بھی فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ شاہراہ بابو سر اور قراقرم ہائی وے پر پھنسے ہوئے سیاحوں اور مسافروں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاک فوج اور گلگت بلتستان اسکاوٹس ٹیمیں متاثرہ افراد کو اشیائے خوردونوش فراہم کر رہی ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ، مشینری اور افرادی قوت سڑکوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ جلد از جلد شاہراہ بابو سر کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔

  • خیبر پختونخوا ، سینیٹ انتخابات، حکومت اور اپوزیشن اتحاد نے تمام 11 نشستیں جیت لیں

    خیبر پختونخوا ، سینیٹ انتخابات، حکومت اور اپوزیشن اتحاد نے تمام 11 نشستیں جیت لیں

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں حالیہ سینیٹ انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے اتحاد نے تمام 11 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی ہے۔ حکومتی اتحاد کو 6 جبکہ اپوزیشن اتحاد کو 5 نشستیں حاصل ہوئیں۔

    جنرل نشستیں: کل 7 جنرل نشستوں میں سے 4 پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جبکہ 3 پر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔
    خواتین کی نشستیں: 2 خواتین کی نشستوں میں ایک پر پی ٹی آئی کی روبینہ ناز جبکہ دوسری پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار کامیاب ہوئیں۔
    ٹیکنوکریٹ نشستیں: ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں میں سے ایک پر تحریک انصاف کے اعظم سواتی اور دوسری پر جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے دلاور خان کامیاب قرار پائے۔

    اعظم سواتی (پی ٹی آئی، ٹیکنوکریٹ) — 89 ووٹ حاصل کیے۔دلاور خان (جے یو آئی ف، ٹیکنوکریٹ) — 54 ووٹ حاصل کیے۔مراد سعید (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 26 ووٹ حاصل کیے۔فیصل جاوید (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 22 ووٹ حاصل کیے۔نورالحق قادری (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 21 ووٹ حاصل کیے۔مرزا آفریدی (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 21 ووٹ حاصل کیے۔روبینہ ناز ( خواتین کی نشست) — 89 ووٹ حاصل کیے۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت الیکشن کمیشن نے ایک گھنٹہ بڑھا کر شام 5 بجے تک کر دیا تھا، جب کہ شروع میں پولنگ کا وقت صبح 11 بجے سے دوپہر 4 بجے تک مقرر تھا۔سب سے پہلا ووٹ جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی سجاد اللّٰہ نے ڈال کر انتخاب کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے احمد کنڈی، پی ٹی آئی کے اقبال وزیر، آزاد رکن علی حادی، اور دیگر اہم سیاسی شخصیات نے بھی حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کے پیر مصور، ملک لیاقت، اکبر ایوب اور مخدوم آفتاب حیدر نے بھی ووٹ ڈالے۔الیکشن کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال کو الیکشن روم کے طور پر مخصوص کیا گیا تھا جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تاکہ انتخابات مکمل شفافیت اور تحفظ کے ساتھ مکمل ہوں۔ہے۔

  • مسلم لیگ ن کے حافظ عبدالکریم 243ووٹ لیکر سینیٹر منتخب

    مسلم لیگ ن کے حافظ عبدالکریم 243ووٹ لیکر سینیٹر منتخب

    مسلم لیگ ن کے حافظ عبدالکریم 243ووٹ لیکر سینیٹر منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مہر عبدالستار کو 99ووٹ ملے، ن لیگ نے پنجاب میں سینیٹ کی نشست پر میدان مار لیا،الیکشن کمیشن نے نتائج کا اعلان کردیا، 3 ووٹ مسترد ہوئے

    حافظ عبدالکریم مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر ہیں، سینیٹر ساجد میر کی وفات کے بعد انہیں امیر منتخب کیا گیا تھا،حالیہ سینیٹ انتخابات میں ن لیگ نے حافظ عبدالکریم کو سینیٹ کا ٹکٹ جاری کیا تھا، وہ ن لیگ کے امیدوار تھے.وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی پنجاب اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

  • بلوچستان میں غیرت کے نام پر جوڑا قتل،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کا نوٹس

    بلوچستان میں غیرت کے نام پر جوڑا قتل،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کا نوٹس

    چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے مارگٹ میں جوڑے کے قتل کے واقعے کا نوٹس لے لیا

    عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو کل طلب کرلیا،دوسری جانب خاتون اور مرد قتل، جوڈیشل مجسٹریٹ 13 اختر شاہ نے خاتون کی قبر کشائی کا حکم دے دیا، جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں ڈیگاری میں مقتول خاتون کی قبر کشائی کی جارہی ہے

    دوسری جانب ڈیگاری واقعہ، پولیس نےساتکزئی ہاوس پر چھاپہ مارا ہے اور ساتکزئی قبیلے کے سربراہ کو گرفتار کر لیا پسند کی شادی پر جوڑے کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم بشیر احمد سمیت 20 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، گرفتار ملزمان میں ساتکزئی قبیلے کے سربراہ شیرباز ساتکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظ بھی شامل ہیں، واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔ ملزمان کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    سردار شیر باز ساتکزئی کی گرفتاری پر سراوان کے سرداروں کاردعمل سامنے آیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ڈیگاری واقعہ کو جواز بنا کر قبیلے کے سربراہ کی گرفتاری درست عمل نہیں

  • آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی،پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،دشمن کی زبان بولنے والےبھارت جائیں

    آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی،پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،دشمن کی زبان بولنے والےبھارت جائیں

    پہلگام ڈرامے کے بعد بھارت نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر پاکستان پر فوجی حملہ کر دیا۔ اس حملے کا مقصد پاکستان کی عسکری اور سیاسی حیثیت کو کمزور کرنا تھا، لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے نہایت ہمت، مہارت اور عزم کے ساتھ بھارتی جارحیت کا جواب دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا اور کئی رافیل طیارے مار گرائے، جس سے بھارت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

    آپریشن بنیان مرصوص ایک بہترین منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا جس نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس آپریشن کی کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی عزت و توقیر کو بڑھایا۔بنیان مرصوص آپریشن کے دوران ملک بھر میں جذبہ حب الوطنی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ گلیوں کوچوں میں سبز ہلالی پرچموں کا جھنڈا لہرا رہا تھا، نوجوانوں نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند کیے۔ اسکولوں، کالجوں، دفاتر اور گھروں میں ہر طرف پاکستانی افواج کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی افواج پاکستان کی بہادری اور کارکردگی کی داد دی جا رہی تھی۔

    پاکستان کی اس فتح کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار اعتراف کیا کہ بھارت کی درخواست پر انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان فوری سیز فائر کروایا تاکہ حالات قابو میں آ سکیں۔ ٹرمپ کے بیانات نے بھارت کی عالمی سطح پر تنقید کو بڑھاوا دیا اور پاکستان کی فوجی حکمت عملی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروایا۔

    دوسری جانب پاکستان کے اندر ایسے عناصر بھی سامنے آئے جو بھارت کی زبان بولتے اور بھارتی پالیسیوں کی حمایت کرتے نظر آئے۔ یہ لوگ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے بھی دشمن کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی سازشیں اور مکروہ چہرے قوم کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔خاص طور پر تحریک انصاف کے چند رہنماؤں اور حامیوں کی سوشل میڈیا سرگرمیاں بھارت کے حق میں دیکھنے میں آئیں، جو کہ پاکستان کی دفاعی فتح کی روح کے خلاف ہیں۔ ان میں صنم جاوید خان، علیمہ خان، سلمان احمد، فلک جاوید خان، عادل راجہ، وقار ملک، عمران افضل راجہ، بابا کوڈا، شیر بانو، طیبہ راجہ، انور لودھی، امجد حمید اور دیگر شامل ہیں۔ ان رہنماؤں اور کارکنوں نے نہ صرف بھارت کی زبان بولی بلکہ اپنے مؤقف سے قوم کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔یہ صورتحال پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے عناصر کی موجودگی جو پاکستان کی سلامتی اور عزت کو نقصان پہنچانے کے خواہش مند ہوں، ملکی مفادات کے خلاف ہیں۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ پاکستان کی سالمیت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • کیپٹن عبدالرحیم شہید،  ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    کیپٹن عبدالرحیم شہید، ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    پاک فوج کے بہادر سپوت کیپٹن عبدالرحیم شہید، ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    پاکستانی قوم کیپٹن عبدالرحیم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے،راولپنڈی کینٹ میں موجود ایک چوک کا نام کیپٹن عبدالرحیم شہید کی یاد میں رکھا گیا ہے ،کیپٹن عبدالرحیم شہید 2 دسمبر 1959ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں پیدا ہوئے، 10 جون 1983 ء کو کیپٹن عبدالرحیم شہید نے پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا،کیپٹن عبدالرحیم شہید کی میراث غیر معمولی بہادری کے کارناموں سے بھری ہے،دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک کیپٹن عبدالرحیم شہید نےپاکستان آرمی ایوی ایشن میں خدمات سرانجام دیں،کیپٹن عبدالرحیم شہید کا پرواز کا وسیع تجربہ تھا ،کیپٹن عبدالرحیم شہید کافکسڈ ونگ پر 800 گھنٹے جبکہ روٹری ونگ پر 4000 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا،1985ء میں آرمی ایوی ایشن میں شمولیت کے بعد کیپٹن عبدالرحیم نے لاما ہیلی کاپٹر کی پروازیں سکردو میں شروع کیں، آپ کا شمار ہیلی کاپٹرز کو اڑانے والے صفِ اول کے پائلٹس میں رہا

    1999 میں، کیپٹن عبدالرحیم شہید کو اسکردو سے تقریباً 14,000 فٹ کی بلندی پر ایئر فورس کے ایک ریڈار کو منتقل کرنے کا اہم مشن سونپا گیا،8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے دوران آرمی ایوی ایشن کے *آپریشن لائف لائن* میں کیپٹن عبدالرحیم شہید صف اول کے پائلٹ تھے،کیپٹن عبدالرحیم نے 8 سے 15 اکتوبر 2005 کے دوران 22,500 کلوگرام امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا،انہوں نے اسی عرصے میں 229 میتوں کی منتقلی کی،زلزلے کے پہلے سات دنوں میں انہوں نے 32 گھنٹے کی پرواز مکمل کی،یہ روزانہ اوسطاً 4 سے 5 گھنٹے کی مسلسل فلائنگ اور ریسکیو مشن کے برابر تھا،15 اکتوبر 2005 کو امدادی مشن کے دوران کیپٹن عبدالرحیم شہید کا ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث قریبی پہاڑی سے ٹکرا گیا ،اس افسوسناک حادثے میں تمام سات افراد، جن میں کیپٹن عبدالرحیم اور دیگر عملے کے ارکان شامل تھے، شہید ہو گئے،1992 میں، کیپٹن عبدالرحیم شہید نے برفانی تودے کی زد میں آنے والے 21,000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک پوسٹ سے تین افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا ،اس کامیاب ریسکیو آپریشن پر کیپٹن عبدالرحیم شہید کو ستارہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا

    کیپٹن عبدالرحیم شہید کا منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ انہیں تمغہ بسالت کے اعزاز سے ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ نوازا گیا،تمغہ بسالت کا پہلا اعزاز انہیں شہادت سے قبل، 2005 کے دوران سیاچن میں 2,000 گھنٹے کی محفوظ پرواز مکمل کرنے پر دیا گیا،اسی بے مثال کردار کے اعتراف میں، صدرِ پاکستان نے کیپٹن عبدالرحیم شہید کو 2006 میں بعد از شہادت تمغۂ بسالت سے نوازا،دھمیال بیس راولپنڈی میں یادگارِ شہداء کیپٹن عبدالرحیم شہید کے نام سے منسوب ہے جسے ان کے بیٹے نے ڈیزائن کیا ہے،کیپٹن عبدالرحیم شہید صرف ایک سپاہی نہیں بلکہ غیر متزلزل حوصلے کی علامت تھے،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پر نوٹس جاری کیا،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر کیس کی آئندہ سماعت ہو گی،

    عافیہ صدیقی کا کیس مقرر کرنے اور کاز لسٹ جاری نہ کرنے پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق نےچیف جسٹس آفس پر اظہار برہمی کیا کہا آج کیس مقرر کیا لیکن کاز لسٹ ہی جاری نہیں کی گئیم کیا چیف جسٹس کے پاس کاز لسٹ پر دستظ کیلئے تیس سیکنڈز ہی نہیں؟ جج چھٹی کے دن عدالت میں انصاف مہیا کرنے کے لیے بیٹھنا چاہتاہے،ایک بار پھر ایڈمنسٹریٹیو پاور کو جوڈیشل پاور کے لیے استعمال کیاگیا، میں انصاف کو شکست کا سامنا نہیں کرنے دوں گا،ہائیکورٹ کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے میں اپنی جوڈیشل پاورز کا استعمال کروں گا۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا روسٹر چیف جسٹس آفس ہینڈل کرتا ہے،
    حکومت نے سپریم کورٹ میں میرے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے،جج اگر چاہے تو چھٹیوں میں بھی کام نہیں کر سکتا، میری چھٹیاں آج سے شروع ہونی تھیں، میں نے فوزیہ صدیقی کیس دیگر کیسز کے ساتھ آج مقرر کیا تھا،ہائیکورٹ کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جوڈیشل پاورز کا بھرپور استعمال کروں گا،

    واضح رہے کہ عدالت نے 10 دن پہلے ہی واضح طور پر 21 جولائی کی تاریخ دی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے انتظامی اختیارات والوں نے بنچ دستیاب نہیں لکھ کر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت کی کازلسٹ ہی جاری نہیں کی

  • لوئر دیر ، دہشتگردوں کو علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم، تمام سیاسی جماعتیں امن کے لیے متحد

    لوئر دیر ، دہشتگردوں کو علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم، تمام سیاسی جماعتیں امن کے لیے متحد

    20 جولائی 2025 کو لوئر دیر کے علاقے کامبار بازار چوکی میں عوام کی جانب سے ریاست کے حق میں اور دہشتگردی کے خلاف اور امن کے حق میں ایک پرامن "پاسون” (اجتماع) کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد ریاستی اداروں سے اظہارِ یکجہتی اور دہشتگردوں کے خلاف عوامی ردعمل کا اظہار تھا۔

    یہ امن پاسون جماعت اسلامی، مقامی مشران، عمائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس میں تمام مقررین نے دہشتگردی کی کھل کر مذمت کی اور واضح مطالبہ کیا کہ خوارج فوراً علاقہ چھوڑ دیں۔ مقررین اور شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عوام اپنے علاقوں میں اب دہشتگردی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

    پاسون کے دوران کسی قسم کی ریاست مخالف یا فوج مخالف نعرہ بازی نہیں کی گئی، بلکہ عوام نے واضح طور پر ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا۔

    بدقسمتی سے، پی ٹی ایم نے حسبِ معمول اس پرامن اجتماع کو مسخ کرنے کی کوشش کی اور اسے سیکیورٹی اداروں کے خلاف احتجاج کے طور پر پیش کرنے کا جھوٹا پراپیگنڈا کیا۔ عوامی مؤقف اور پاسون کی حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا دراصل اس امر کا ثبوت ہے کہ پی ٹی ایم خوارج کا سیاسی چہرہ ہے اور اپنی مقبولیت ختم ہونے پر خود کو خبروں میں رکھنے کے لیے گمراہ کن اور منفی ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔

    عوام نے آج یہ ثابت کر دیا کہ امن کے لیے وہ متحد ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

  • قلات میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    قلات میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلاع قلات میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 19 اور 20 جولائی کی درمیانی شب کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں بھارتی ایجنٹ تنظیم ’ فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر آپریشن کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد ہلاک کر دیے گئےمارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں-

    وزیرداخلہ محسن نقوی ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور قوم کے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    قبل ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 19 اور 20 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع پر بلوچستان کے علاقے پہرود میں آپریشن کیا تھا، اس کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ، جن کے قبضے سے فتنۃ الہندوستان کا جھنڈا اور ہتھیار برآمد ہوئے۔

    پاکستانی پاسپورٹ میں والدہ کا نام بھی شامل کرنے کا فیصلہ