Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مالاکنڈ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، 8 گرفتار

    مالاکنڈ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، 8 گرفتار

    خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مشترکہ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک، 2 زخمی جبکہ 8 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    درگئی تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر وحید اللہ خان کے مطابق، یہ بڑا آپریشن مہردے کے علاقے میں کیا گیا، جس میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے بھرپور حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہوئے، جبکہ دو کو زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید بتایا کہ زخمی دہشت گردوں کو طبی امداد کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال درگئی منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر گرفتار دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔

    اے سی درگئی کے مطابق، یہ دہشت گرد گروہ علاقے میں دہشت گرد حملوں اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا، جن کے خلاف خفیہ اطلاع پر یہ کامیاب کارروائی عمل میں لائی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

    ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب کو نقصان کی خبروں پر ٹرمپ کا ردعمل

    خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ الیکشن کا فیصلہ

    لاس اینجلس میں کلب کے باہر گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، 30 افراد زخمی

  • بلوچستان میں دہشتگردانہ حملہ،  میجر محمد انور کاکڑ شہید

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملہ، میجر محمد انور کاکڑ شہید

    بلوچستان کے پشین ضلع سے تعلق رکھنے والے پاکستان آرمی کے افسر، میجر محمد انور کاکڑ، دہشتگردحملے میں شہید ہو گئے۔ یہ حملہ دہشتگرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” کے ایجنٹس نے بزدلانہ انداز میں کیا، جس نے ملک کے دفاع کا ایک عظیم سپوت ہم سے چھین لیا۔

    میجر انور کاکڑ نے بلوچستان میں پاکستان کے دفاع کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصہ خدمات انجام دیں۔ وہ نہ صرف پاک فوج کی صفوں میں فرنٹ لائن پر دشمن کے خلاف لڑتے رہے بلکہ معلوماتی جنگ میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ ان کا مقصد خطے میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانا تھا۔میجر کاکڑ کی قیادت میں کئی اہم آپریشنز کامیابی سے انجام پائے، جنہوں نے بھارت کے گماشتوں کی سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔ وہ نہایت بہادری، لگن اور جذبے کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہے۔

    بھارت، جسے پاکستان سے براہ راست مقابلہ کرنے میں کئی مرتبہ ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا، اب دہشتگرد گروہوں کو مالی اور اسلحہ فراہم کر کے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر میجر انور کاکڑ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے دفاع کا جذبہ کبھی کمزور نہیں ہوگا اور دشمن کی سازشیں ناکام ہو کر رہیں گی۔میجر انور کاکڑ پیچھے اپنی والدین، بیوی اور تین بچوں کو چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی شہادت پاکستان کی حفاظت کرنے والوں کی غیرمتزلزل حوصلے اور قربانی کی ایک زندہ مثال ہے۔پاکستان کو میجر انور کاکڑ جیسے بیٹوں پر فخر ہے، جنہوں نے جان کی بازی لگا کر وطن کی سلامتی کو یقینی بنایا۔

  • بھارت کو بڑا دھچکا، برازیل نے آکاش میزائل خریداری کے مذاکرات ختم کردیئے

    بھارت کو بڑا دھچکا، برازیل نے آکاش میزائل خریداری کے مذاکرات ختم کردیئے

    بھارت کو بڑا دھچکا، برازیل نے آکاش میزائل خریداری کے مذاکرات ختم کردیئے

    بھارت کو آپریشن سندور میں عبرتناک شکست کے بعد عالمی سطح پرہزیمت کا سامناہے ،دکن ہیرالڈ کے مطابق برازیل نے بھارت کے آکاش میزائل سسٹم کی خریداری کے لیے مذاکرات ختم کر دیے، ڈیفنس ایکسپیرس کے مطابق مذاکرات کا اختتام بھارت کی جانب سے سسٹم کاجدیدترین ورژن فراہم نہ کرنے پر ہوا، برازیلی فوج درمیانے سے طویل رینج کے فضائی دفاعی نظام کی تلاش میں ہے، بھارتی کمپنیوں نے صرف آکاش کا پرانا ورژن فراہم کرنے کی پیشکش کی، برازیل نے اس پرانے ورژن کو "فرسودہ” قرار دے کر مسترد کر دیا،معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 5 ارب بھارتی روپے ہے،مذاکرات کے ختم ہونے کے بعد برازیل نے اٹلی کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا، برازیل اب اطالوی ایئرڈیفنس سسٹم EMADS حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے، معرکہ حق میں شکست کےبعد بھارتی ہتھیاروں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے.

  • 10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی، سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ،وزیرعظم

    10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی، سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ،وزیرعظم

    کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج "یوم الحاق پاکستان” اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ جموں کشمیر کی بھارتی قبضے سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں نے 19 جولائی 1947ء کو سرینگر کے علاقے آبی گزر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے تاریخی اجلاس میں متفقہ طور پر پاکستان کے ساتھ جموں کشمیر کے الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔یہ قرارداد جموں کشمیر اور پاکستان کے درمیان گہرے مذہبی ، جغرافیائی ، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کی عکاس ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت کی چیرہ دستیوں کے باوجود کشمیری عوام کا الحاق پاکستان کا خواب زندہ و جاوید ہے ، وہ اپنے 19 جولائی 1947ء کے عہد پر قائم و دائم ہے۔انہوں نے کہا کہ عظیم آزادی پسند قائد سید علی گیلانی شہید کا نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیریوں کی پہچان بن چکا ہے ، بھارت کا بے انتہا جبر و ستم انکے دلوں سے پاکستان کی محبت نکال نہیں سکا اور وہ اس کے تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یوم الحاق کشمیر ہر سال 19 جولائی 1947 میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سری نگر کے اجلاس کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کشمیر کے غیور عوام نے ریاست جموں و کشمیر کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی جو داستان 1947ء میں شروع ہوئی تھی وہ آج بھی نہ صرف جار ی و ساری ہے بلکہ10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی اور سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں اضافہ ہو اہے ۔ آج کشمیریوں کی تیسری نسل بھی اپنے حق خوداردیت کے حصول کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی طرح پرعزم ہے.دہائیوں پہ محیط غیور کشمیریوں کی غیر قانونی تسلط کے خلاف جدوجہد ان کی جذبہ حب الوطنی اور آزادی کے لیے سچی طلب کی غمازی کرتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل ہی کشمیریوں کے حقوق اور خطے میں امن کا ضامن ہے۔ حکومت اور پاکستان کے عوام کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے.

  • پاک بھارت جنگ،5 طیارے تباہ ہوئے تھے،ٹرمپ کی تصدیق

    پاک بھارت جنگ،5 طیارے تباہ ہوئے تھے،ٹرمپ کی تصدیق

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت کے 5 لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ری پبلکن اراکین کانگریس سے خطاب کے دوران سامنے آیا، جہاں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ پاک بھارت جنگ کے دوران کل 5 طیارے تباہ ہوئے تھے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہو رہی تھی اور اس جنگ کو روکنا ضروری تھا، جس کے لیے انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ قریبی رابطہ کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ملکوں کو خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی نہ کی گئی تو امریکا ان سے تجارتی تعلقات ختم کر سکتا ہے، جس کے بعد 10 مئی کو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔

    اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا اور اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔امریکا نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی لیکن پاکستان پر الزام عائد کرنے کے بھارتی دعوے کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس، بھارت نے اپنی طاقت اور جارحیت کے نشے میں 7 مئی کو پاکستان پر جنگ مسلط کردی، جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔

    7 مئی کے بعد پاک بھارت فضائی جنگ میں دونوں طرف سے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کا استعمال ہوا۔ پاکستان نے بھارت کے معروف لڑاکا طیارے رافیل سمیت 5 طیارے مار گرائے تھے،بھارت طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کرنے سے ہمیشہ گریز کرتا رہا ہے، مگر صدر ٹرمپ کی حالیہ تصدیق نے اس دعوے کو تقویت دی ہے کہ واقعی بھارت کے 5 طیارے تباہ ہوئے تھے۔

  • کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان گرفتار

    کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان گرفتار

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے 40 ارب روپے کے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 8 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں 2 سرکاری افسران، 2 بینکرز اور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ اسکینڈل صوبے کا سب سے بڑا مالیاتی کرپشن کیس قرار دیا جا رہا ہے جس کی تحقیقات کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    گرفتار ملزمان میں شفیق الرحمان قریشی (ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر)،محمد ریاض (سابق کیشیئر بینک اور ڈمی کنٹریکٹر)،فضل حسین (آڈیٹر، اے جی آفس پشاور)،طاہر تنویر (سابق مینیجر بینک)،دوراج خان (ٹھیکیدار)،عامر سعید (ٹھیکیدار)،صوبیدار (ٹھیکیدار)،محمد ایوب (ٹھیکیدار)شامل ہیں،ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی چیکوں کی منظوری اور دستخط کے ذریعے جعلی تعمیراتی فرمز کا استعمال کرتے ہوئے اربوں روپے کی خردبرد کی۔ مالیاتی دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت سے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فنڈز منتقل کیے گئے۔ اس پورے عمل میں مواصلات و تعمیرات ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی بھی شمولیت شامل ہے، جنہوں نے اس اسکینڈل کو ممکن بنایا۔

    سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ شفیق الرحمان قریشی نے اپر کوہستان میں جعلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G-10113 کے تحت جعلی ٹریژری چیکوں کی منظوری اور دستخط میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ دیگر ملزمان نے مالیاتی دھوکہ دہی اور بینک کی سہولت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس میگا کرپشن اسکینڈل میں مزید گرفتاریوں کا امکان موجود ہے۔ ملزمان سے مزید شواہد حاصل کرنے اور مالی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کرپشن کے خلاف حکومت کی سنجیدہ اور مؤثر کوششوں کا حصہ ہے اور عوام کے اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیا کے کمانڈر ان چیف کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر گفتگو

    وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیا کے کمانڈر ان چیف کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر گفتگو

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ ابو قاسم ہفتار نے آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے لیبیا کے کمانڈر ان چیف اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

    ملاقات کے دوران دفاع، تربیت، سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    برطانیہ کی روس پر نئی پابندیاں، 20 سے زائد مبینہ جاسوس اور ہیکرز نشانے پر

    چین میں 300 پاکستانی طلبہ کی زرعی ٹریننگ مکمل، وزیراعظم کا تعاون پر اظہار تشکر

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس

    لاس اینجلس میں زور دار دھماکا، بم اسکواڈ کمپاؤنڈ میں 3 افراد ہلاک

  • پاکستان کامجید بریگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیموں کے نیٹ روک میں شامل کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کامجید بریگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیموں کے نیٹ روک میں شامل کرنے کا مطالبہ

    ترجمان دفتر خارجہ نےکہا ہے کہ پاکستان ہر قسم اور ہر شکل میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری اور بین الاقوامی تعاون ہماری پالیسی کی بنیاد ہیں۔ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف محاذِ اول پر رہا ہے اور اپنی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے ذریعے عالمی امن کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس میں ماسٹر مائنڈ دہشت گرد شریف اللہ کی گرفتار بھی شامل ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ کی تحقیقات، جو کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ جموں کشمیر میں پیش آیا، ابھی تک غیر حتمی ہیں۔القاعدہ یا لشکر طیبہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق، جو کہ پاکستان میں ممنوعہ اور ختم شدہ تنظیم ہے، پاکستان نے متعلقہ تنظیموں کو مؤثر اور مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، ان کے قائدین کو گرفتار اور مقدمات چلائے ہیں، پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی بے مثال قربانیوں اور مؤثر اقدامات کے ساتھ میدان میں کھڑا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس عالمی وباء سے نمٹنے کے لیے غیر جانبدار اور موثر پالیسیاں اپنائیں اور دہشت گرد تنظیموں جیسے بی ایل اے کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے.

  • پاک افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام،5 خود کش حملہ آور گرفتار

    پاک افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام،5 خود کش حملہ آور گرفتار

    پاک افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، (5) مبینہ خودکش حملہ آور گرفتارکر لیے گئے

    17 جولائی کی شام 5 بجے خوارج نے پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کی،سکیورٹی فورسز نے اطلاع ملتے ہی پانچ مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی، شام 6 بج کر 25 منٹ پر خوارج سرحد سے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے،دراندازی کے بعد خوارج نے عزیز خیل اور منڈی خیل کی سمت پیش قدمی کی، سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باعث انہوں نے بیسی خیل کی مسجد میں پناہ لے لی، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر مسجد کا محاصرہ کرلیا، سکیورٹی فورسز کی بہترین حکمت عملی کے باعث خوارج نے ہتھیار ڈال دیئے،

    گرفتار کئے گئے تمام خوارج افغان شہری ہیں جن میں سے تین کے پاس افغان شناختی کارڈ بھی موجود ہیں، گرفتار افراد کی عمریں 15 سے 18 سال کے درمیان ہیں، تمام خوارج کو مزید تفتیش کے لیے نا معلوم مقام پرمنتقل کر دیا گیاسیکیورٹی حکام نے سرحدی علاقوں میں الرٹ جاری کرتے ہوئے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے،

    یہ پہلا موقع نہیں کہ خوارج پاک افغان سرحد سے دراندازی کر رہے تھے،شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے 25 سے 27 اپریل 2025 کے دوران کامیاب آپریشن میں 71 خوارج ہلاک کئے،4جولائی 2025ء کو بھارتی حمایت یافتہ خوارج کی پاک افغان سرحد کوشش کے دوران 30 خوارج جہنم واصل ہوئے تھے،23 مارچ 2025ء کو بھی افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش میں 16 خوارج جہنم واصل کئے گئے تھے،پاک افغان سرحد سے دراندازی سے لیکر پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے تک فتنتہ الخوراج کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے

  • جج کی تحقیر عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے،سپریم کورٹ

    جج کی تحقیر عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے متعلق سخت ریمارکس خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جونیئر ججز پر سخت ریمارکس سے پہلے تحقیق اور احتیاط لازم ہے، غلطی انسانی فطرت ہے، جج بھی غلطی کر سکتے ہیں، بدنیتی ثابت کرنا لازم ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کراچی کے جج ذاکر حسین نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ اور ریمارکس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جسٹس محمد مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا گیا، انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج ذاکر حسین کے دو عدالتی احکامات سندھ ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیے تھے، ہائیکورٹ نے ملزم کو پولیس کی بجائے جوڈیشل کسٹڈی میں دینے اور جے آئی ٹی کے قیام پر اعتراض کیا، ہائی کورٹ نے والد کی جج کے چیمبر میں موجودگی کو بنیاد بنا کر بدنیتی بھی قرار دی،ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی عدالت کراچی کے ایڈمنسٹریٹر جج سے انتظامی اختیارات واپس لینے کی سفارش کی تھی جس پر انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج ذاکر حسین نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ اور ریمارکس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا،

    سپریم کورٹ نے جونیئر جج کے خلاف ہائیکورٹ ججز کے سخت ریمارکس خارج کر دیے، پٹیشنر جج کا انتظامی عہدہ بحال نہیں کیا گیا کیونکہ نیا جج مقرر ہو چکا تھا،فیصلہ کے مطابق سندھ حکومت نے 26 فروری 2025 کو جج کے اختیارات واپس لے لیے تھے، پٹیشنر کو وضاحت کا موقع دیے بغیر سخت الزامات لگائے گئے، ہائی کورٹ کو جونئیر ججز کے خلاف اظہارِ رائے سے پہلے منصفانہ سماعت کا حق دینا چاہئے،عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی کہ سخت عدالتی ریمارکس ججز کے کیریئر پر دائمی اثر چھوڑتے ہیں، عدلیہ میں باہمی احترام اور ڈسپلن کو مقدم رکھا جائے، عدالتی ریمارکس اگر اخبارات یا فیصلوں میں آئیں تو ہمیشہ کے لیے ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں،
    جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلہ میں کہا ہے کہ ایسے الزامات خفیہ رپورٹ کے ذریعے چیف جسٹس ہائیکورٹ کو بھیجے جائیں، عدالتیں جونیئر ججز کی رہنمائی کریں، تنقید نہیں، پٹیشنر کو دفاع کا موقع نہ دینا آرٹیکل 10-A کی خلاف ورزی ہے،سخت ریمارکس زبانی الزامات کی بنیاد پر دیے گئے، جو ناقابل قبول ہے، جج کی تحقیر عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، غلطی انسانی فطرت ہے، جج بھی غلطی کر سکتے ہیں، بدنیتی ثابت کرنا لازم ہے۔