Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشن (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مٹھی بھر دہشتگرد بلوچستان اور پاکستان کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کا راستہ نہیں روک سکتے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں طلبہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا دوران نشست لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آپریشن بنیان المرصوص میں پاک افواج کی حکمت عملی اور کامیابی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ معرکہ حق میں فتح میں عوام کی حمایت بالخصوص نوجوانوں کا کردار اہم رہا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان اور پاکستان کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کا راستہ نہیں روک سکتے-

    کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی فتح پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا اور مزید ایسے انٹر ایکٹو سیشنز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل اضافہ،مودی حکومت خاموش تماشائی

    بابوسر ٹاپ :سیلابی ریلے میں بہنے والے 3 سالہ عبد الہادی کی لاش مل گئی

    سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا کے دل سوز انکشافات

  • ریاستی املاک اور شہداءکی یادگاروں پر حملے کرنے والے مجرمان کو قانون کے مطابق سزائیں

    ریاستی املاک اور شہداءکی یادگاروں پر حملے کرنے والے مجرمان کو قانون کے مطابق سزائیں

    9 مئی کوشرپسندوں نے سیاسی احتجاج کی آڑ میں ریاستی اداروں، ملٹری تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں کو نشانہ بنایا

    9 مئی 2023ء کو منظم انداز میں ملک بھر میں ریاستی اداروں پر حملے کئے گئے ،دنیا بھر میں ریاستی اداروں پر حملے کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جاتی ہیں،افواج پاکستان کی اعلی قیادت کا سانحہ 9 مئی کے حوالے سے موقف واضح اور دو ٹوک رہا ہے،آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے9مئی 2024ء کو لاہور گریژن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’9 مئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور مجرموں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘‘کور کمانڈرز کانفرنس مورخہ 5 مارچ 2024ء کے اعلامیہ کے مطابق;’’9مئی کے منصوبہ سازوں، اشتعال دلانے والوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور شہداء کی یادگاروں کی بےحرمتی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا‘‘ڈی جی آئی ایس پی آر واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ 9 مئی صرف افواج پاکستان کا نہیں بلکہ عوام پاکستان کا مقدمہ ہے،9 مئی کے ذمہ داران کو انصاف میں کٹہرے میں لایا جائیگا ، فوجی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے کئے ہیں ان کیلئے کوئی معافی نہیں ہے،

    سانحہ 9 مئی کے ملزمان کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد سزائیں سنائی گئیں،سانحہ 9 مئی کی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر قانونی عمل کے ذریعے شرپسندوں کو سزائیں سنائی گئی،ملٹری کورٹس نے 21 دسمبر 2024ء کو سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 مجرمان کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد سزائیں سنائیں،ملٹری کورٹس نے 26 دسمبر 2024ء کو سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو مستند شواہد اور ثبوت سامنے آنے پر سزائیں سنائیں.2 جنوری 2025ء کو سانحہ 9 مئی کے 19 مجرمان کو معافی کی درخواستیں دائر کرنے پر معاف کیا گیا

    ملڑی کورٹس ریاست پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق تشکیل دی گئی ہیں .انسداد دہشتگردی کی عدالتوں نے شواہد کی بنیاد پر سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنائی ہیں،انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے شواہد ثابت ہونے پر ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید ، اعجاز چوہدری اور سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائیں،انسداد دہشتگردی عدالت سرگودھا نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر ،احمد چٹھہ سمیت پی ٹی آئی کے 32 کارکنوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی

    قانون کی حکمرانی اور انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے سانحہ 9 مئی کے تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے،سانحہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور مجرموں کو سخت سزائیں دینا اآئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری ہے،ان سزاؤں سے واضح ہے کہ ریاست نے شہداء کی یادگاروں اور لواحقین کی حرمت کو اولین ترجیح دی ہے ،ریاست کسی بھی قسم کی بدامنی، انتشاریا قومی وقار پر حملے کو ہر گزبرداشت نہیں کرے گی

  • نجکاری کمیشن میں جاری کام کی پیشرفت کی خود نگرانی کروں گا،وزیراعظم

    نجکاری کمیشن میں جاری کام کی پیشرفت کی خود نگرانی کروں گا،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت رہاستی ملکیتی اداروں (SOEs ) کی نجکاری کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری ملکی معیشت کی بہتری اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے ، نجکاری کے عمل کو موثر ، جامع اور مستعدی سے کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،منتخب اداروں کی نجکاری میں تمام قانونی مراحل اور شفافیت کے تقاضے پورے کیے جائیں ، قومی اداروں کی بیش قیمت اراضی پر ناجائز قبضہ کسی صورت قابل قبول نہیں، نجکاری کے مراحل میں قومی اداروں کی ملکیت میں بیش قیمت اراضی کی تصفیہ میں ہر ممکن احتیاط ملحوظ خاطر رکھی جائے،مذکورہ اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کے اہداف مارکیٹ کے معاشی ماحول کے مطابق مقرر کیے جائیں تاکہ قومی خزانے کو ممکنہ نقصان سے ہر صورت بچایا جا سکے ، نجکاری کے مراحل میں سرخ فیتےاور غیر ضروری عناصر کا خاتمہ کرنے کے لئے نجکاری کمیشن کو قانون کے مطابق مکمل خود مختاری دی جائے گی، تمام فیصلوں پر مکمل اور موثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے ،نجکاری کمیشن میں جاری کام کی پیشرفت کی باقاعدگی سے خود نگرانی کروں گا،نجکاری کے مراحل اور اداروں کی تشکیل نو میں پیشہ ور ماہرین کی مشاورت اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھا جائے

    وزیراعظم کو 2024 میں نجکاری لسٹ میں شامل کیے گئے اداروں کی نجکاری پر پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن ، منتخب اداروں کی مرحلہ وار نجکاری میں قانونی، مالیاتی اور شعبہ جاتی تقاضوں کو مد نظر رکھ رہا ہے ، منتخب اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کو کابینہ سے منظور شدہ پروگرام کے تحت مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا ، پی آئی اے، بجلی کی ترسیل کار کمپنیز (ڈسکوز)، سمیت نجکاری کی لسٹ میں شامل تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ معاشی، اداراجاتی اور انتظامی اہداف کے مطابق مکمل کیا جائے گا، اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس خان لغاری، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ سرکاری افسران اور اعلی حکام نے شرکت کی۔

  • ٹرمپ کے سیز فائر دعوؤں پر راہول گاندھی وزیراعظم مودی پر برس پڑے

    ٹرمپ کے سیز فائر دعوؤں پر راہول گاندھی وزیراعظم مودی پر برس پڑے

    کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کی ہے

    راہول گاندھی نے امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوؤں پر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھا دیا، راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ;’وزیراعظم بیان کیسے دے سکتے ہیں؟ کیا بولیں گے؟ ٹرمپ نے اس کا اعلان کیا ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے، لیکن یہ سچ ہے، پوری دنیا جانتی ہے کہ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان "جنگ بندی” کا اعلان کیا ، یہ حقیقت ہے اور اس سے چھپا نہیں جاسکتا،یہ مسئلہ صرف جنگ بندی تک محدود نہیں ہے، کئی اہم مسائل پر بات کرنے کی ضرورت ہے،دفاع، دفاعی مینوفیکچرنگ، اور آپریشن سندور سب پر بات ہونی چاہئے،حالات اچھے نہیں ہیں، پوری قوم جانتی ہے،وزیر اعظم نے ٹرمپ کے دعوؤں کا ایک بھی جواب نہیں دیا ہے، جو لوگ خود کو ‘دیش بھکت’ کہتے ہیں وہ بھاگ گئے ہیں،ٹرمپ نے 25 بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا ، ٹرمپ کون ہوتا ہے یہ کام اس کا نہیں ہے،وزیراعظم نے ایک بار بھی جواب نہیں دیا ، یہی سچائی ہے جو چھپ نہیں سکتی،

  • امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    ناکام "آپریشن سندور” کا بھارتی دعویٰ ایک بار پھر جھوٹا ثابت ، امریکی صدر کے ہاتھوں بھارت کو سبکی مل رہی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نےری پبلکن اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ جنگ نہ رکواتے تو ایٹمی جنگ چھڑ سکتی تھی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ بھی اپنے نام کیا اور کہا کہ میں نے دونوں ملکوں سے کہا کہ جنگ نہ روکی تو امریکا آپ سے تجارت نہیں کرے گا، بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں 5 لڑاکا طیارے مار گرائے گئے،

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا بیان اس سے قبل بھی سامنے آچکا ہے

  • فلسطین و کشمیر کا حل نہ ہونا عالمی برادری کا دہرا معیار ہے، اسحاق ڈار

    فلسطین و کشمیر کا حل نہ ہونا عالمی برادری کا دہرا معیار ہے، اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر جیسے اہم مسائل کا حل نہ ہونا عالمی برادری کے دہرا معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے بجائے سفارت کاری اور پُرامن مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر مکمل یقین رکھتا ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ عالمی امن سے متعلق موجودہ مباحثہ انتہائی اہم ہے، اور اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی منظوری ایک مثبت پیش رفت ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے بھارت کے خلاف ایک واضح چارج شیٹ پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل میں تاخیر عالمی کشیدگی کو جنم دیتی ہے اور پاکستان ایسے معاملات میں فعال اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں پائیدار امن کے لیے کثیر الجہتی حل ناگزیر ہیں، اور پاکستان ہمیشہ عالمی امن کے قیام کا خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے فلسطین میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 58 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے، اور اس پر کسی قسم کا تنازع پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، عدم مداخلت اور پُرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ مباحثہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کثیرالجہتی تنازعات کے حل سے متعلق ہوا، جس کی صدارت خود نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کی۔ پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو اقوام متحدہ نے منظور کرلیا، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

    غزہ میں شدید بھوک ، فرانسیسی ادارے نے صحافیوں کی موت کا خدشہ ظاہر کر دیا

    ٹرمپ کا ایک بار پھر یونیسکو سے انخلا کا اعلان، اطلاق 2026 سے

    کوئٹہ: کار سوار کی مظاہرین پر فائرنگ، 4 افراد زخمی، گاڑی نذرِ آتش

    اپووا وفد کی جے یو آئی پنجاب کے ترجمان مولانا غضنفر عزیز سے ملاقات

  • نومئی مقدمہ،یاسمین راشد،میاں محمودالرشید،عمر سرفراز چیمہ،اعجاز چوہدری کو 10 برس قید ،شاہ محمود قریشی بری

    نومئی مقدمہ،یاسمین راشد،میاں محمودالرشید،عمر سرفراز چیمہ،اعجاز چوہدری کو 10 برس قید ،شاہ محمود قریشی بری

    انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید ،عمر سرفراز چیمہ،اعجاز چوہدری کو نو مئی کے پُرتشدد واقعات میں ملوث ہونے، اشتعال انگیزی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے شیر پاؤ پل مقدمے کا فیصلہ سنایا

    اس مقدمے میں کل 14 ملزمان شامل تھے جن میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی شامل تھے، تاہم عدالت نے ان میں سے شاہ محمود قریشی سمیت چھ افراد کو بری کر دیا ہے۔اسی کیس میں سینٹر اعجاز چودھری کو بھی 10 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے مقدمے کی کارروائی کے دوران ٹھوس شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا، جس میں رہنماؤں پر الزام تھا کہ انہوں نے نو مئی کے دن پُرتشدد واقعات میں حصہ لیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

    عدالت نے ۹ مئی شیر پاو پل پر اشتعال انگیز تقاریر اور جلاو گھیراو کے مقدمے کا فیصلہ سنا یا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے مقدمے پر فیصلہ سنایا،،و مئی کے مقدمہ 97/23 میں 8 ملزمان کو سزائیں دے دی گئی۔ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید،افضال عظیم پاہٹ، خالد قیوم اور ریاض حسین کو دس دس سال قید کی سزا دی گئی جبکہ چھ ملزمان بری کر دیے گئے، جس میں شاہ محمود قریشی، رانا تنویر، حمزہ عظیم، افتخار احمد، زیاس خان اور اعتزاز شامل ہیں۔

  • مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کیلئے کاوشیں تیز،مولانا فضل الرحمان متحرک

    مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کیلئے کاوشیں تیز،مولانا فضل الرحمان متحرک

    اسلام آباد: ملک میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی بحالی اور مضبوطی کے لیے کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔ جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غیر فعال ہو چکی متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں سے رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ ایک جامع اور مؤثر اتحاد تشکیل دیا جا سکے۔

    اسلام آباد سے صحافی شیراز احمد شیرازی کےذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اتحاد کی بحالی کے سلسلے میں اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ ساجد نقوی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ اس ملاقات میں ملک کی سیاسی صورت حال اور مذہبی جماعتوں کی سیاسی یکجہتی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔اسی طرح مولانا فضل الرحمان نے جمیعت اہلحدیث کے سربراہ حافظ عبد الکریم اور معروف مذہبی رہنما مولانا اویس نورانی سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ ان رابطوں کا مقصد مختلف مذہبی سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے جلد ہی متحدہ مجلس عمل کے تمام اہم رہنماؤں کو اپنی رہائش گاہ پر مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں ایک اہم اجلاس کے ذریعے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یہ اجلاس مذہبی سیاسی اتحاد کی بحالی میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی کے پیش نظر مذہبی جماعتوں کا ایک ساتھ آنا سیاسی منظر نامے میں ایک نمایاں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اتحاد کی بحالی سے مذہبی سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی سرگرمیاں مضبوط کر سکیں گی اور ملکی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گی۔

  • چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

    چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سمیت پورے ملک میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی کو موثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات لیے جا رہے ہیں، سیف سٹی منصوبے اس بڑھتی ہوئی استعداد کی بہترین مثال ہیں،پورے ملک میں عالمی معیار کے مطابق سیف سٹی منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں،چین ہمارا دوست ملک ہے، چین کے ساتھ بھائی چارے پر مبنی ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان اور چین کا انتہائی اہم مشترکہ منصوبہ ہے،چین پاکستان اقتصادی راہداری اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس میں دونوں ممالک کے مابین بزنس ٹو بزنس طرز پر معاملات طے کیے جائیں گے،چین پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی کے تناظر میں پاکستان میں چینی باشندوں کا تحفظ مزید اہمیت کا حامل ہو چکا ہے، ہم ملک میں چینی برادری کے لیے ایک محفوظ اور کاروبار دوست ماحول تعمیر کر رہے ہیں،پاکستانی معیشت میں چینی کمپنیوں کا اعتماد ہمارے معاشی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے،پورے ملک میں ہوائی اڈوں پر چینی باشندوں کی آمد و رفت سہولت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات لیے جائیں،

    اجلاس میں وزیراعظم کو پورے ملک میں چینی باشندوں کے لیے خصوصی سیکیورٹی انتظامات کی پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،اجلاس میں وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو پورے ملک میں سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر چینی باشندوں کی خصوصی سیکیورٹی کے انتظامات نافذ العمل ہیں،وفاق اور تمام صوبے اس ضمن میں بھرپور تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں، پورے ملک میں سیف سٹی منصوبے زیر تعمیر ہیں،چینی باشندوں کو سفر کے لیے سیکیورٹی ایسکورٹ کی سہولت دی جا رہی ہے، تمام نئے رہائشی منصوبوں میں سیف سٹی کے معیار کے کیمرے نصب کیے جائیں گے،

    اجلاس میں وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت طلال چوہدری, وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

  • پولیس افسران کو تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔وزیراعظم

    پولیس افسران کو تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کےافسران و اہلکار دہشت گردی کے خاتمے کےلیے پرعزم ہیں ، عوام کے جان ومال کا تحفظ اور عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی پولیس کا نصب العین ہے،میرٹ پرعملدرآمد ایک شاندارمعاشرے کے قیام کےلئے باوقار معیار ہے، نیشنل پولیس اکیڈمی میں معیاری تربیت اور رہائش کی بہترین سہولیات کی فراہمی کےلیے بھرپورتعاون کریں گے،تربیت کے لئے افسران کو چین بھی بھجوایا جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیر تربیت پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں وفاقی وزیر دخلہ سید محسن نقوی،وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اعلیٰ پولیس افسران بھی موجو د تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ پولیس افسران نے تربیت کے بعد میدان عمل میں ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عام لوگو ں کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے، ان کی جان ومال کا تحفظ کرنا ہوتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ کی تربیت کا معیار بہترین ہو اور اس کےلیے پولیس افسران کوتمام تر سہولیات مہیا کی جائیں اور تربیت کے نصاب کا بنیادی مقصد عام لوگوں کی حفاظت اور انہیں انصاف مہیا کرنا ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کےلئے یہ تمام عوامل انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، اہداف کا حصول تبھی ممکن ہے جب آپ کی تربیت اور بہترین سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں بطوروزیراعلیٰ ہم نے ایلیٹ فورس قائم کی تھی اوراس پولیس فورس کے قیام کا مقصد اشرافیہ کی حفاظت نہیں بلکہ دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کرنا ہے ،اسی طرح ہم نے پاکستان اورخطے کے پہلے سیف سٹی پراجیکٹ کا نفاذ عمل میں لایا جب دہشت گردی عروج پر تھی اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایاجارہا تھا تو انسداد دہشت گردی کا ادارہ قائم کیا گیا،یہ ایک مایہ ناز ادارہ ہے ،اسی طرح لاہور میں ملک کی پہلی فرانزک لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا گیا،یہ ادارے دہشت گردی اور سماج دشمن عناصر کے خاتمے کےلئے سرگرم کردار ادا کررہے ہیں ، سب اداروں نے مل کر عام آدمی کی جان ومال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے پولیس افسران کو اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں ،پولیس اکیڈمی میں معیاری تربیت اور رہائش کی بہترین سہولیات کی فراہمی کےلئے بھرپورتعاون کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں ان کی وزارت اعلی ٰ کے دور میں پولیس اہلکار میرٹ پربھرتی کیے گئے ، اگرمجھے کوئی شکایت بھی ملی تو ذمہ دار افسران کومعطل کیا گیا، میرٹ پرعملدرآمد ایک شاندارمعاشرے کے قیام کےلیے باوقار معیار ہے، وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم اس مقصد کے لیے دن رات محنت کررہی ہے ،وہ انشاء اللہ قوم کی امیدوں پر پور ا اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے ماحول کو بہتر بنانا ہے، وزیرداخلہ نیشنل پولیس اکیڈمی کی مکمل تزئین و آرائش کا فیصلہ کرچکے ہیں ، اکیڈمی میں ایسا ماحول قائم ہوگا جو کسی بھی تربیت گاہ میں ہونا لازم ہے،پولیس اکیڈمی میں ماسٹرز کی ڈگری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 25ایکڑ پرمحیط نیشنل پولیس اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے،جس طرح بیدیا ں لاہور میں ایلیٹ ٹریننگ سکول قائم کیا گیا ہے اسی طرح اسلام آباد میں بھی اس سے بھی بہتر ایلیٹ ٹریننگ سکول قائم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ فائرنگ رینج بھی بنائی جائے گی،زیر تربیت افسران کےلئے ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائے گا،پولیس افسران کو ایک ماہ کی تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ زیر تربیت پولیس افسران قوم کے مایہ ناز بیٹے اور بیٹیا ں ہیں ، ان کا تعلق پنجاب ، سندھ ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے ہے، وزیر داخلہ گلگت بلتستان کے کوٹے پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ شہداء میں ہمارے پولیس کے افسران اورجوان بھی شامل ہیں ، جہلم میں ایک پولیس اہلکار لوگو ں کی جانیں بچاتے ہوئے خود شہید ہوگیا، اسی طرح پولیس کے افسران اورجوان فر ض کی ادائیگی ، عوام کے جان ومال کے تحفظ اور مادر وطن کی حفاظت کےلیے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اس سے بڑ ی اور کوئی قربانی نہیں ہوسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ہماری بہادر افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، رینجرز اور ایف سی بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں ، اپنے بچوں کویتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں ۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے زیر تربیت پولیس افسران میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے اور زیر تربیت پولیس افسران کو سہولیات کی فراہمی اور تربیت کے معیار کی بہتری کیلئے فائرنگ رینج اور ہاسٹل کی تعمیر کے دو منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

    قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے اکیڈمی کا دورہ کیا تھاتو اس کی حالت بہت خستہ تھی، اکیڈمی میں کوئی سٹاف ممبر نہیں تھا بلکہ یہ ایک ڈمپنگ سٹیشن بن چکی تھی، وزیراعظم سے اکیڈمی کی تزئین و آرائش سے متعلق بات کی، پی ایم اے طرز پر پولیس اکیڈمی اور تربیت کا معیار بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں دوسرے ممالک کے لوگ تربیت کیلئے آتے تھے، اب اکیڈمی میں اقوام متحدہ اپنا پروگرام بھی شروع کرے گا، سائبر کرائم، کریمنالوجی جیسے جدید نئے کورسز متعارف کرائے جائیں گے، تربیت دینے والے افسران کو مناسب تنخواہیں دی جائیں گی ، ہمارا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی جدید تربیت کو فروغ دینا ہے ، اسسٹنٹ کورس کمانڈرز بھی دیئے جائیں گے تاکہ بہترین افسران تیار کئے جا سکیں، اب نیشنل پولیس اکیڈمی ڈمپنگ سٹیشن نہیں رہے گی۔