اسلام آباد:چین کے صدر کا جلد دورہ پاکستان کا امکان،دونوں ملکوں کی تاریخ کا اہم دورہ قراردیا جارہا ہے،اطلاعات کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔
اسلام آباد سے پاکستان اور چین کے سفارتی ذرائع کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، چینی صدر کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا تعین کیا جارہا ہے۔
کرونا کے تناظر میں چین کے صدر پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ ہوں گے، چینی صدر کے دورے کے دوران خطے میں بدلتی صورت حال پر بھی اہم امور زیر غور آئیں گے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے صدر کے دورے کے دوران سی پیک کے لیے مزید سرمایہ کاری کا اعلان ہوگا، ان کا پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب بھی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔
چینی صدر نے خطےمیں قیام امن کےلئےپاکستان کی کوششوں کی تعریف کی تھی اور ترقی کےنئےسفرمیں پاک چین کمیونٹی میں رابطوں کےفروغ کافیصلہ کیا گیا اور مضبوط برادرہمسایہ ممالک اسٹریٹجک کوآپریٹوشراکت داری بڑھانے پراتفاق کیا گیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے چینی صدرکوپاکستان کی بھرپورحمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان چین کیساتھ ہرشعبےمیں تعاون جاری رکھےگا، سی پیک منصوبہ کی تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں اسلام آباد میں آیا ہوں، کچھ سٹوری پر کام کر رہا تھا، یہاں پر اور بھی سٹوریز پتہ چلی ہیں، پتہ چلا ہے کہ سعودیہ کے حالات اس وقت بہت گرم ہیں،سعودیہ میں بڑی تشویش پائی جا رہی ہے کہ شاہ محمود قریشی کا جو بیان آیا،ان کے ایمبیسڈر اب جگہ جگہ ملاقاتیں کر رہے ہیں.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک کے تنازعے موجود ہیں لیکن دو تنازعے بہت اہم ہیں جن کا ذکر ہو رہا ہے، ایک امریکہ چائنہ دوسرا سعودی ایران، ان دونوں تنازعات نے بہت سے ممالک کے حالات خراب کر دیئے ہیں اور اب ہر اس ملک کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کس کے ساتھ کھڑا ہے،اور کس بلاک کے ساتھ ہے، سعودی ایران تنازعے میں سعودی عرب اس حد تک آگے نکل گیا ہے کہ وہ ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے تیار ہے،اور محمد بن سلمان نے 2 اپریل 2018 کو ایک امریکن جریدہ کو شائع ہونے والے انٹرویو میں پہلی بار کھل کر کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے بقا کا حق حاصل ہے اور ساتھ ہی محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے رقبے کو دیکھا جائے تو تقابلی لحاظ سے بڑی معیشت ہے اور سعودی عرب اور اسرائیل کے بہت سے مفادات مشترک ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امن قائم ہو جائے تو اسرائیل خلیجی کونسل کی رکن ممالک اور مصر اردن جیسے ممالک کی اسرائیل کے ساتھ بہت سی قدریں مشترک ہوں گی، یہ بہت اہم سٹیٹمنٹ تھی،اور اس کا صاف مطلب ہے کہ سعودی کے لئے معاشی مفاد سب سے پہلے ہے نہ کہ امت مسلمہ کا، ویسے بھی سعودی عرب اور اسرائیل کا ایک ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں کا دشمن بھی ایک ہے اور دوست بھی ایک ہے، دونوں کا دشمن ایران ہے، دونوں کا سرپرست امریکہ ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب اب واضح طور پر سعودی کی پالیسی سعودی میڈیا میں نظر آتی ہے،سعودی میڈیا میں اسرائیل کی حمایت میں مضمون چھاپے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں جس میں ام ہارون کو دکھایا جا رہا ہے، یہودیوں کے بارے میں سوفٹ کارنر ہے، پاکستان کے ساتھ سعودیہ کے حالیہ تنازعے اور نئے بلاک کی مخالفت کی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کے کہنے پر اگر سعودی عرب بھارت کا ساتھ چھوڑتا ہے اور کشمیر پر آواز اٹھاتا ہے تو کہ فلسطین پر بھی اسے مسلم امہ کا ساتھ دینا پڑے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح وہ امریکہ اسرائیل اور بھارت سے دور ہو جا ئے گا، محمد بن سلمان کے مفادات معاشی رہے ہٰیں اس لئے وہ ان ممالک سے دوری نہیں کر سکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں تناؤ ضرور آ گیا ہے،پاکستان نے سعودیہ سے کشمیر پر ساتھ دینے کا مطالبہ کیا اور ساتھ نہ دینے نئے بلاک کا اشارہ کیا تو سعودی عرب نے پاکستان کا تیل بند کر دیا، اربوں ڈالر کی امداد بھی بند کر دی لیکن کچھ طاقتیں موجود ہیں کہ حالات خراب نہ کئے جائیں ،کیونکہ اگر حالات خراب ہوئے تو ملٹری الائنس جس کے سربراہ پاکستان آرمی کے سابق چیف جنرل ر راحیل شریف ہیں تو وہ الائنس بھی ختم ہو جائے گا اور اس سے سعودیہ کے لئے مشکل ہو گی،یہی وجہ ہے کہ سعودی سفیر نے پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی امکان ہے کہ سعودی عرب کوشش کرے کہ آنے والے دنوں میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب کا دورہ کریں ،پاکستان کی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں، ہو سکتا ہے کہ آرمی چیف کے دورے کے بعد پاکستان کوئی لچک تو پیدا کر لے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ معاملات جیسے پہلے چل رہے تھے ویسے ہی چلیں، اگر سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان اس کا ساتھ دے تو سعودی عرب کو بھی پاکستان کا ساتھ دینا ہو گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپو وسطی یورپ کے ممالک کے ایک ہفتے کے دورے پر ہیں، دورے کے دوران پومپو آسٹریا، پولینڈ بھی جائیں گے، دورہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کا حصہ قرا ر دیا جا رہا ہے کہ چائنہ روس کے بڑھتے اثرات کو یہاں کم کرنا ہے، اعلیٰ امریکی عہدیداد کا 2011 کے بعد یہ پہلا دورہ ہو گا،فائیو جی ٹیکنالوجی کے مشترکہ اعلامئے پر دستخط ہوں گے، امریکہ جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے گا،تا کہ اس علاقے میں چینی مداخلت کو ختم کیا جائے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون جرمنی سے 12 ہزار فوجیوں کو واپس بلانے اور انکی کچھ تعداد کو پولینڈ و دیگر ممالک میں تعینات کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے، دورے میں توانائی کے منصوبے پر بھی بات ہو گی،امریکہ چائنہ کو شکست دینے کے لئے ہر محاذ پر کام کر رہا ہے، بھارت کے ذریعے دفاعی بنیادوں اور باقی ممالک کے ژریعے معاشی بنیادوں کے ذریعے،دوسرا سعودی عرب ایران کے خلاف ہر اس ممالک کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہے خواہ اسکے ساتھ کتنے ہی مذہبی یا نظریاتی اختلافات کیوں نہ ہوں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب دو اہم باتیں بتاؤن گا، سعودی عرب اس وقت سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح شاہ محمود قریشی کو پی ٹی آئی میں اچھی نظر سے نہ دیکھا جائے اور کسی طرح سعودی عرب پرانی پوزیشن پر آ جائے، دوسری طرف ایرانی سفیر کی کل شیخ رشید سے ملاقات ہوئی ہے، انہوں نے آفر کی ہے کہ کوئٹہ سے تفتان تک ٹرین کی پٹڑی کو بچھایا جائے یہ بہت اہم پروجیکٹ ہے پاکستان اگر وہاں سے لنک ہوتا ہے تو پھر یہ جو بلاک ہے اسکا انفراسٹرکچر بھی ڈیولپمنٹ ہونا شروع ہو جائے گا یہ بات کاغذوں تک نہیں رہے گی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جو بات پتہ چلی ہے ،کہ ایران اور چائنہ ملکر یمن کے اندر انویسمنٹ کر نے جا رہے ہیں سب سے پہلے وہ انرجی سیکٹر میں انویسمنٹ کرنے جا رہے ہیں پھر وہاں بیس بننے جا رہا ہے،ملٹری بیس ہو گا،اس کی جلد کنفرمیشن ہو جائے گی، خطے میں بہت بڑی تبدیلی آ رہی ہے،اور ہر ایک کو اپنے ساتھ ملانے ،جوڑنے کے لئے تیار ہے، مسئلہ انڈیا کو ہے، گوادر اور چاہ بہار لنک ہو جاتے ہین تو انڈیا کے لئے ٹریڈ روٹ یورپ کا نا مکمل ہو جائے گا،پہلے ریڈ سی کراس کرے گا پھر آگے جائے گا ،انڈیا کو بہت مشکل ہے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے کنٹرول جانا جس پر وہ انویسمنٹ کررہا ہے، اب وہ چائنہ لے گیا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ پاکستان کا حلیف اور دوست ہے،اس مین کوئی دو رائے نہیں، اب پاکستان کے لئے اہم سوال ہے پاکستان نے اپنی پوزیشن کو کلیر کرنا ہے سارا پلڑا چائنہ کی گود میں ڈال دینا ہے یا امریکہ کے ہاتھ میں ہمیشہ رہنا ہے،پاکستان کے لئے مشکل ہے، پاکستان ہر ایک کے ساتھ مناسب تعلق رکھنا چاہتا ہے اور کسی کے ساتھ ان بن نہیں چاہتا،
اسلام آباد : روزویلٹ ہوٹل کوقرض سے چھٹکارادلانے کیلیے حکومت پاکستان کے احسن اقدامات :105ملین ڈالر کی منظوری ،اطلاعات کے م طابق پی آئی اے کے نیویارک میں واقع ہوٹل روزویلٹ کو قرض سے چھٹکارا دلانے کیلئے حکومت پاکستان نے احسن اقدامات کئے ہیں،حکومت پاکستان کے اس اقدام کو بہت سراہا جارہا ہے
باغی ٹی وی کے مطابق اس ساری کوشش کے پیچھے وفاقی وزیر ہوابازی کا بڑا کردار ہے ، ان کی خصوصی کاوش سے پاکستان کا اہم بین الاقوامی اثاثہ قرضے سے پاک ہوجائے گا۔
باغی ٹی وی کے ذرائع کا اس حوالےسے کہنا ہےکہ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل پر 105 ملین ڈالر کا قرضہ ادا کرکے حکومت مزید قرض اور سود سے نجات حاصل کرلے گی
یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ روزویلٹ ہوٹل کوقرض سے نجات دلوانے کے لیے وزیر ہوابازی کی جانب سے ای سی سی کو مطمئن کرنے کے بعد فیصلے کی منظوری لے لی گئی ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ روزویلٹ ہوٹل نیویارک میں دوسرے شہرت یافتہ ہوٹلوں کی طرح کرونا کے باعث شدید مالی دباو کا شکار تھا
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیویارک میں 80 سے زائد ہوٹل اب تک ہوٹل صنعت کی بندش کے باعث کاروبار ختم کرچکے ہیں ، ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روزویلٹ کو چلانے کیلئے مزید رقم کی ضرورت تھی جس کیلئے قرض لینے کا منصوبہ تھا
* اس اہم قومی اثاثے کی اہمیت کے پیش نظر قرض خود اتارنے کا منصوبہ وزیر ہوابازی کی جانب سے پیش کیا گیا۔ باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق نیویارک میں پی آئی اے کے روزویلٹ ہوٹل کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہےکہ مشیر خزانہ کی ذاتی دلچسپی سے باعث فیصلہ بہترین قومی مفاد میں کیا گیا
باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 4 اگست 2020 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز انویسٹمنٹ لمیٹڈ ( PIAIL ) کے چیئرمین نے اپنے خط میں ایوی ایشن ڈویژن کو آگاہ کیا ہے کہ پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ(PIACL) کی مالی حالت اس قابل نہیں کہ مستقبل قریب میں PlAIL کو 50 ملین ڈالر لوٹاسکے اور نہ ہی گروی رکھے گئے اثاثوں کی وجہ سے مزید قرض لیا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے یہ مشاورت کی گئی کہ ہر صورت پی آئی اے کی اس قیمتی جائیداد کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی ، یہی وجہ ہےکہ خط کے مطابق، حکومت سے فوری طور پر 105 ملین ڈالر فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ نیویارک میں واقع پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ( پی آئی اے ) کا ملکیتی ہوٹل قرض میں ڈوب چکا ہے اور اس کے اثاثے خطرے کی زد میں ہیں۔
پاکستان کے خفیہ اداروں نے بھارتی ایجنسیوں کا بڑا سائبر حملہ ناکام بنا دیا
باغی ٹی وی :آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیز نے بھارتی انٹلیجنس ایجنسیوں کے ایک بڑے سائبر حملے کی نشاندہی کی ہے جس میں سائبر جرائم شامل ہیں جس میں سرکاری موبائل فونز سرکاری عہدیداروں اور فوجی اہلکاروں کے تکنیکی آلات کو ہیک کرکے اہم معلومات اور راز حاصل کرنا مقصود تھا ۔
آئی ایس پی آرکے مطابق دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مختلف اہداف کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ پاک فوج نے سائبر سیکیورٹی سے متعلق (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی سمیت ایسی سرگرمیوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔
تمام سرکاری محکموں / اداروں کو غلطیوں کی نشاندہی کرنے اور سائبر سیکیورٹی کے متعلقہ اقدامات کو بڑھانے کے لئے بھی ہدایات بھیجی جارہی ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت جاری ہے
قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشت گردی بل 2020کی منظوری دے دی، قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی بل 2020 وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے پیش کیا
پی ٹی آئی ،پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن اورجے یو آئی ف نے انسداد دہشت گردی بل کی حما یت کی،جماعت اسلامی کے رکن عبدالاکبر چترالی نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت کی،قومی اسمبلی نے کمپنیز بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ،قومی اسمبلی نے منشیات کی روک تھام ترمیمی بل 2020کی بھی منظوری دے دی
قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل پہ سردار اختر مینگل نے اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ نہیں آزاد بنچز پہ بیٹھے ہیں ، دہشت گرد کی تعریف کریں کیا اس ملک میں وزیر اعظم کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا؟ پہلے آئین توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر بل کی حمایت کریں گے
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر ملکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے، قانون سازی میں اپوزیشن کی مثبت شراکت ہوئی،اسلام پرامن مذہب ہے،اسکی صحیح ترجمانی ہونی چاہیے
دہشتگردوں کی مدد و مالی معاونت کرنے والوں کیخلاف سخت قوانین متعارف،اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کی مدد و مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین متعارف کروادیے گئے، جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات کی روشنی میں بنائے گئے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم متعارف کروائی گئی ہیں۔ ترامیم کے مطابق مشتبہ افراد کی فہرست شیڈول 4 میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے۔
شیڈول 4 میں شامل افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا، مشتبہ دہشت گرد کو قرض دینے والے شخص پر ڈھائی کروڑ جرمانہ ہوگا۔
کراچی میں نالوں کی صفائی، سپریم کورٹ نے این ڈی ایم کو بڑا حکم دے دیا،کہا مزید ذمہ داری بھی دیں گے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں حا جی کیمو گوٹھ تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
سپریم کورٹ نے کراچی بھر کے نالوں کی صفائی کے لیے این ڈی ایم اے کو ہدایت کر دی،چیف جسٹس نے کہا کہ این ڈی ایم اے نالوں کے اطراف سے تجاوزات بھی فوری ختم کریں سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کو 3 ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا،
چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ نالوں کی صفائی کا کیا ہوا ؟ این ڈی ایم اے بھی کررہی تھی ؟ جس پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ کراچی میں 38 بڑے نالے ہیں اور 514 چھوٹے نالے ہیں جس میں سے این ڈی ایم اے نے تین بڑے نالے صاف کیئے ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ این ڈی ایم اے نے پورے شہر کے نالوں کی صفائی کیوں نہیں کرائی؟ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے دو روز قبل آئے تھے آج نہین آسکے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ یہ تو صوبائی حکومت کی ناکامی ہے وفاقی حکومت کو آنا پڑا، لوگوں کے بھی حقوق ہیں مگر شہریوں کو کوئی بنیادی حق نہیں دیا جارہا، یہ کیسی طرز حکمرانی ہے کہ صوبے کے لوگوں کو کا ہی خیال نہیں ؟
ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حاجی لیموں گوٹھ میں پتلی گلیاں ہیں، ، تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو نقص امن کا مسلہ ہوجاتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ پورا شہر انکروچ ہوا ہوا ہے ، یہ آپ کی ناکامی ہے کہ تجاوزات ختم نہیں کرسکے
جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دئے کہ میرا تعلق اسی صوبے سے ہے مگر حال دیکھیں یہاں کا، آپ عوام کے حقوق کو نقصان پہنچا رہے ہیں، پچھلے چالیس سال میں کراچی کا برا حال کردیا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوے کہا کہ یہاں مافیا آپریٹ کررہے ہیں کوئی قانون کی عمل داری نہیں، پوری حکومتی مشینری سب ملوث ہیں ، افسر شاہی اب ملے ہوے ہین، کروڑوں روپے کما رہے ہیں غیرقانونی دستاوئزات کو رجسٹرڈ کرلیا جاتا ہے، سب رجسٹرار آفس میں پیسہ چلتا ہے ، معلوم نہیں کا کی پراپرٹی کس کے نام ہر رجسٹر ہوگئی، جب مرجائے گا تو بچوں کو پتا چلے گا کہ قبضہ ہوگیا، کورونا واہرس میں سب سے پہلے سب رجسٹرار کا آفس کھول دیا گیا تھا۔لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان جائیدادیں کس کس کے نام منتقل ہوچکی ہیں، یہ کس قسم کا کلچر بن گیا ہے
جسٹس فیصل عرب نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ لوگوں کی اصل ضروریات صحت اور تعلیم ہے لیکن لوگوں کو پانی اور بجلی فراہم کرنے کے بنیادی حقوق ہی نہیں دے سکے تو تعلیم تو دور کی بات ہے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دئے کہ ملک کی معیشت کا 75فیصد زراعت پر انحصار کرتی ہے لیکن زرعی زمینوں کو پانی تک فراہم نہیں کیا جارہا، ایک مجسٹریٹ نے ٹیل تک پانی پہنچانے کےلئے حکم دیا تو سارے ذمہ دار اس کے خلاف متحرک ہوگئے اور اس کا تبادلہ کرانے کےلئے کوشش کرتے رہے، کیا پسماندہ علاقوں میں بھی لوگ اتنے طاقتور ہوگئے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کراچی میں حکومت کی رٹ کہاں پر ہے؟ سندھ کو بہتر کون بنائے گا؟پاکستان وسائل کے حساب سے بہتر ممالک میں مانا جاتا ہے،کراچی میں روڈ نہیں، بجلی نہیں، پانی نہیں ہے، کیا باہر کے ملکوں میں بھی لوگ مسائل پر سپریم کورٹ جاتے ہیں؟لوگ بیچارے مجبور ہوگئے ہیں،لوگ نالوں پر بیٹھ کر گھر بنا رہے ہیں،یہاں پر مافیا بیٹھے ہیں جن کا مقصد صرف کمائی ہے بس ،آپ کو پتا بھی نہیں کس کی جائیداد کس کے نام سے رجسٹرڈ ہوگئی ہے؟ جتنے منصوبے سندھ میں شروع کیے سب ضائع ہوگیے،
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ،سکھر ،حیدرآباد ،لاڑکانہ ،دادو سمیت سندھ کے کسی ضلع میں کام نہیں ہوا،ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا، پیسے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،کراچی میں صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے، حکومت تو بنی ہوئی ہیں لیکن کام نہیں کر رہے،
سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کو کراچی بھر کے نالوں کی صفائی کی ہدایت کردی۔ عدالت نے نالوں کے اطراف مین قائم تجاوزات بھئ فوری ختم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ متاثرین کی بحالی اور متبادل کیلئے سندھ حکومت اقدامات کرے۔ عدالت نے این ڈی ایم اے کو نالوں کی صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے تین ماہ کا وقت دے دیا جبکہ سندھ حکومت این ڈی ایم اے کی مکمل معاونت کی ہدایت کی۔ عدالت نے سندھ حکومت کو حاجی لیموں گوٹھ کے نالوں سے تجاوزات ختم کرکے متاثرین کی بحالی کا حکم بھی دیا۔
اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ہم آگے چل کر این ڈی ایم اے کو مزید ذمہ داریاں دیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سارے رشتہ دار لگے ہوے ہیں نوکریوں پر، ڈپٹی کمشنر رجسٹرار وغیرہ سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔
عدالت میں اس موقع پر حاجی لیموں گوٹھ کی ایک متاثرہ خاتون نے چیف جسٹس کو بتایا کہ کمشنر کراچی مافیا کو سپورٹ کررہے ہیں جس پر چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوگیا تو یہ کمشنر فارغ ہوجائیں گے
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کراچی میں برساتی نالوں کی صفائی کا کام جاری ہے، وزیراعظم عمران خان نے این ڈی ایم اے کو کہا تھا کہ وہ شہر قائد میں نالوں کی صفائی کریں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میں بتدریج کمی ہو رہی ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 17 اموات ہوئی ہیں جبکہ 730 نئے مریض سامنے آئے ہیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 6ہزار129ہوگئی ہے اور16 ہزار 599 ایکٹیو کیسز ہیں،
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 730 نئے کیسز اور 17 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ مجموعی طور پر دو لاکھ85 ہزار 921 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جب کہ 2 لاکھ 63 ہزار 193 صحتیاب ہوئے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ کرونا کیسز ہیں،سندھ میں کورونا کے ایک لاکھ 24 ہزار 556 کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 94 ہزار715، خیبرپختونخوا میں 34ہزار859، بلوچستان میں 11ہزار956، اسلام آباد میں 15 ہزار296، آزاد کشمیر میں 2ہزار157 اور گلگت میں کورونا کیسز کی تعداد 23ہزار بیاسی ہوگئی ہے،
پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 177، سندھ میں 2 ہزار 290، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 235، اسلام آباد میں 172، بلوچستان میں 138، آزاد کشمیر میں 59 اور گلگت بلتستان میں 58 ہو چکی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران 20 ہزار 631 ٹیسٹ کیے گئے اور اب تک21 لاکھ 86 ہزار 442 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ ملک بھرکے ہسپتالوں میں 147 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں۔
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے موثر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سےآگاہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بل گیٹس کو فون کر کے رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے کوروناصورتحال اور انسداد پولیو مہم پر گفتگو کی۔وزیراعظم نے بل گیٹس کو موثر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سےآگاہ کیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بروقت اور دوراندیش اقدام سےکورونا کے اثرات کم کرنےمیں مددملی، بروقت اور محتاط اقدام سےمعیشت پر کوروناکے منفی اثرات کم رہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اسمارٹ لاک ڈان پالیسی وبا سے قابو پانے کے لیے مؤثر رہی، حکومت کے بروقت اقدامات نےصحت،معیشت کےشعبوں کوبڑی تباہی سےبچا لیا وزیراعظم نے انسداد پولیو کے لیے عز کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
چند روز قبل دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بل گیٹس نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے نہ صرف پاکستان کی کرونا وائرس کی وبا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کیا بلکہ پاکستان میں کرونا کی صورت حال کا موازنہ یورپ کے ساتھ بھی کیا۔
بل گیٹس نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا پاکستان نے کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے کڑی محنت کی، سخت اقدامات کے باعث پاکستان میں کرونا کیسز میں بڑے پیمانے پر کمی آئی۔بل گیٹس نے پاکستان میں کرونا کی صورت حال کا موازنہ یورپ سے کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایک وقت میں کرونا کیسز کی تعداد خطرناک حد پر تھی لیکن اب صورت حال یورپ جیسی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ محمد بن سلمان کے پاس وقت کم ہے، تخت تا تختہ کا وقت آ چکا ہے،سی آئی اے اور امریکی اسٹیبلشمنٹ محمد بن سلمان کے خلاف قبیلوں میں بغاوت کے شعلے کسی بھی وقت آگ پکڑنے کو تیار ہیں،شاہ سلمان کی بیماری ڈرامہ ہے یا حقیقت یہ تو وقت پر ہی پتہ چلے گا لیکن اقتدار کی منتقلی کیسے ہو گی، انتشار کی صورتحال یا پر امن
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسوقت سعودی عرب میں اقتدار کا کھیل بڑا گرم ہو چکا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں محمد بن سلمان سعودی عرب کا بادشاہ بننے جا رہے ہیں وہ یہ کام امریکی الیکشن سے قبل کرنا چاہتے ہیں، شاہ سلمان کی بیماری بھی اس اقتدار کے کھیل کی ایک کڑی ہے، ٹرمپ اور انکے داماد انکی جیب میں ہیں جبکہ سی آئی اے انکے خلاف ہیں جو بائیڈن محمد بن نائف کو سپورٹ کر رہے ہیں اور اگر وہ صدر بن جاتے ہیں تو ٹرمپ کے ہر اس کام کو انڈو کر دیں گے جو محمد بن سلمان کے لئے کیا گیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کا مستقبل اسکی فارن پالیسی امریکی الیکشن پر منحصر ہے، اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اقتدار کا کھیل شروع ہونے سے پہلے کئی ممالک اپنی سپورٹ اور ہمدردیاں واضح کر رہے ہیں، محمد بن سلمان اقتدار حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے تو نئے بادشاہ کے قریب وہ لوگ یا ممالک ہوں گے جنہوں نے محمد بن سلمان کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا ہو، ہو سکتا ہے پاکستان بھی ان چیزوں کو دیکھ رہا ہو اور اپنی پالیسی ترتیب دے رہا ہو.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب محمد بن سلمان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے مخالفین کو ختم کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا، کچھ کو قتل کیا گیا، سزا دی گئی،محمد بن سلمان نے آل سعود کے تخت نشینی کے معاہدے کے خلاف ورزی کی، سابق ولی عہد کو ہٹایا، سینئر شہزادوں کو گرفتار کیا، انکو چھوڑنے کے لئے خاندانوں سے رقم وصول کی، جمال خشوگی واضح مثال ہے، سعد الجبری منظر عام پر ہیں اور ایم بی ایس پر سنگین الزام لگا رہے ہیں،محمد بن سلمان نے قطر کے ساتھ تعلقات خراب کئے،عبداللہ الحامد اور صالح جیسے مخالفین کو قتل کروایا، تیل کی قیمتوں کی جنگ شروع کروائی، یمن میں قتل عام بھی انہی کا کارنامہ ہے
محمد بن سلمان سعودی بادشاہت کے لئے نئے دشمن روز بنا رہا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آل سعود کے جان لیوا دشمن القاعدہ کو نہ بھولیں جو صحیح وقت کے انتظار میں ہیں، سعودی رائل کوٹ کی طرف سے شاہ سلمان کی بیماری کی خبر سازش کا حصہ ہے جو محمد بن سلمان نے بادشاہ بننے کے لئے رچایا تا کہ امریکہ الیکشن سے قبل اس کو پورا کیا جائے، شاہی خاندان کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، قبائلی اتحاد جنہوں نے مملکت کو متحد کرنے میں کردار ادا کیا، شاہی خاندان کو متحد کرنے میں بادشاہ کا اہم رول ہوتا ہے اسکے بعد امریکی مدد جو بادشاہ کو اپنے تخت کی بنیاد مضبوط کرنے میں مدد کرتی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تمام سعودی بادشاہوں نے ہمیشہ امریکہ کی رضامندی حاصل کی اسکے بعد قبیلنے میں معاملات کو بیلنس کیا تا کہ کوئی اپوزیشن نہ ہو، عظیم شہزادے امریکہ کی آشیر باد حاصل کرنے کے لئے امریکہ کے سامنے اپنے بچے پیش کرنے کے لئے دوڑیں لگاتے ہیں،شاہ فہد کے معاملے میں یہ بات واضح ہو گئی تھی جب انہوں نے اپنے بیٹےکو امریکی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے پیش کیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے جرائم کی حمایت کی ہے، بادشاہ ہے یا نہیں، ولی عہد شہزادہ بننے کے بعد ہی اصل حکمران رہا ہے، جب سلمان کی موت ہوتی ہے تو قبائلی دشمنیاں پہلے خفیہ طور پر اور پھر سرعام بڑھ جائیں گے،لیکن سلمان کی موت اور ٹرمپ کے صدر نہ رہنے کی صورت مین حالات بدل جائیں گے، امریکی اسٹیبلشمنٹ محمد بن سلمان سے نفرت کرتی ہے،علاقائی دشمنوں کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے، آل سعود خاندان کے بہت سے لوگ محمد بن سلمان سے نفرت رکھتے ہیں، اس قبیلے میں قریبی ساتھی پرنس مطیب انکے شانہ بشانہ ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت سارے آل سعود کے چھوٹے شہزادے اقتدار کے پیاسے ہین جن کے نام ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے، محمد بن نائف، محمد عبداللہ ،القاعدہ یہ ایم بی ایس کے لئے سنگین خطرہ ہیں، وہ بادشاہ بن بھی گئے پھر بھی انکے لئے خطرہ ہے، پورے امریکہ میں ان سے نفرت کی جاتی ہے، اگر جوبائیڈن جیت جاتے ہین تو میز مکمل طور پر گھوم جائے گی، ایم بی ایس کی حمایت کا راستہ ختم ہو جائے گا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج مریم صفدر کی پیشی تھی نیب میں، رائیونڈ اراضی کیس سلسلہ میں ،وہاں عجیب ڈرامہ ہوا، اس کے پیچھے پوشیدہ جو باتیں ہیں وہ منظر عام پر نہیں آئیں اور شاید آئیں بھی ناں لیکن لوگوں نے تانے بانے جوڑنا شروع کر دیئے ہیں کیونکہ لوگ اب بے وقوف نہیں ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بات یہ ہے کہ وہاں پر مریم جب پہنچی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ موٹروے سے آ رہی تھیں اور وہ راستہ بھول گئیں اور غلط سائیڈ سے گئیں، انکے کچھ کارکنان پہلے سے نیب کے آفس پہنچے ہوئے تھے، دوسرے گیٹ سے انہوں نے جانا تھا کیپٹن صفدر نے سب کو میسج دلوایا کہ ہم ادھر سے آ رہے ہیں اس سائیڈ پر آ جاؤ پھر وہ سب لوگ گھوم کر اس سائیڈ پر آ گئے،بیریئرز لگے ہوئے ہیں، لوگ شاپرز کے اندر پتھر لے کر آئے،انہوں نے نیب کے دفتر پر شدید پتھراؤ شروع کیا، پولیس آئی، لاٹھی چارج ہوا، واٹر شلینگ ہوئی، جو کچھ ایک بری چیز ہو سکتی تھی یا ایک سیاسی اپوزیشن لیڈر کو فائدہ ہو سکتا تھا وہ آج پہنچایا گیا مریم نواز کو
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مریم نواز جو آج تک چپ بیٹھی تھی اور کئی دنوں سے ٹویٹ بھی نہیں کی تھی وہ آج لوگوں کا ہجوم لے کر کیوں گئیں جن کا حملہ کرنے کا پورا منصوبہ تھا، ایک گاڑی میں پتھر لائے گئے تھے،گاڑی کا نمبر ہے ایل ای 3378، اس گاڑی میں شاپر پتھر سے بھر کر لائے گئے تھے، میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ یہ نمبر جعلی ہے، بہت ہی مشکل ہے کہ ایک اصل نمبر پلیٹ کے ساتھ کسی قسم کا ہتھیار یا پتھر وغیرہ لے کر سرکاری ادارے پر پتھراؤ کیا جائے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد مریم نواز وہاں بیٹھ گئیں اور انکی گاڑی کے بھی شیشے ٹوٹے،پولیس کا جو پتھراؤ ٹی وی کے کیمروں نے کور کیا، ایک کیمرہ مین زخمی بھی ہوئے، ایک کا کیمرہ ٹوٹ گیا،یہ سب کچھ کیوںہوا، ایک پیشی کے لئے مریم کو بلایاتھا تو وہ اس کو اندر جانے دیتے، کارکنوں نے زبردستی کیوں کی،مریم نواز پہلے بھی کافی پیشیاں دے چکی ہین پہلے تو ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا، آج یہ واقعہ کیوں ہوا، آج ہی وہ دن ہے جب عثمان بزدار کو اسلام آباد میں بلایا ہوا تھا آپ سمجھیں کہ ان کی بھی ایک پیشی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار تو بضد ہیں کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دینا نیب دفتر جانے سے پہلے،لوگ کہتے ہیں کہ انکو استعفیٰ دینا چاہئے، کافی لوگوں کا خیال ہے کہ مریم نواز اور انکے کارکنان نے پتھراؤ نہیں کیا، یہ انکے اوپر الزام لگایا جا رہا ہے، انکے اندر اور لوگ موجود تھے جنہوں نے پتھراؤ کیا یا اشتعال دلایا، میں نے بڑا پوچھا لوگوں سے کہ اس کا فائدہ کس کو ہو سکتا ہے، اسکا بینفشری کون ہو سکتا ہے،تو سب نے یہی کہا کہ وہاں پر کافی ایسے لوگ تھے جو ہمارے بھی تھے لیکن لگتے مسلم لیگی تھے، شائد ق لیگ کے کارکنان ہو،میں نے کہا کہ ق لیگ کے کارکنا ن پتھراؤ کیوں کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پتھراؤ کی وجہ سے لااینڈ آرڈر کی سیچوایشن کریٹ ہو گی، چودھری برادران جو بڑے ناراض ہیں،انکے اوپر نیب کی پیشیاں لگ رہی ہیں، مونس کا نام شوگر سیکنڈل میں آ رہا ہے، ایک طرف کوشش ہو رہی ہے مونس کو عہدہ دلوانے کی، دوسری طرف سیکنڈل میں نام آ رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایسی سیچوایشن پیدا کی جائے تا کہ انہیں پتہ چلے کہ انہیں ہماری کتنی ضرورت ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے جتنے رہنما ہیں، ان سب میں سے کسی کو کچھ نہیں پتہ، انکو اتنا ہی پتہ ہے جتنا ٹی وی سے پتہ چلا ہے، پھر وہ لوگ وہاں پر بیٹھے رہے،مریم نے کہا کہ میں نے جانا نہیں اگر ان میں ہمت نہیں ہے تو نواز شریف، شہباز شریف اور مجھے بار بار کیوں بلاتے ہیں،اور اگر بلاتے ہیں تو پھر فیس کریں، دو قسم کی چیزیں ہو رہی ہے ایک تو مریم بی بی کے حق میں نہیں کہہ رہا لیکن کہ رہا ہوں کہ یہ تحقیقات ہونی چاہئے جب پرچے کٹیں گے کہ کونسی پارٹی کے کارکنان تھے، ن لیگ والے توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کرتے نہیں ہیں ماسوائے انکا اگر کوئی انکا مخالف وہاں ہو ، اگر پی ٹی آئی کی ریلی وہاں جا رہی ہو تو کوئی بعید نہٰیں کہ وہ پتھراؤ کریں،لیکن سرکاری دفاتر پر اور ان حالات میں کہ نواز شریف باہر ہیں شہباز شریف کارنر ہیں، شاہد خاقان، خواجہ آصف، مریم سب خاموش ہیں ، یا تو آپ کہیں کہ ن لیگی کارکنان کو تیار کر کے یا پیسے دے کر کوئی لایا تھا تو اور بات ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف باتیں ہو رہی ہیں کہ میاں صاحب نے حکومت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم حکومت گرائیں گے نہیں اور دوسری طرف وہ اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں، یہ بات ضرور ٹیلی کرتی ہے کہ کوئی تیسری طاقت یا پارٹی ہے جس نے ایسا کروایا ہے، جس سے اسکو فائدہ ہو اان ڈائریکٹلی، آج تین لوگوں کو نقصان ہوا، ایک نیب کا نقصان، لوگ سوال پوچھیں گے، کیا انہوں نے ابھی تک پرچے کاٹے یا نہیں، نارمل پرچے کٹ رہے ہیں اور وہ بھی نامعلوم افراد پر کٹ رہے ہیں، وہاں پر کیمرے لگ رہے ہیں، ہر آدمی کی تصویر نادرا ڈیٹا بیس سے شناخت ہو سکتی ہے،اگر نامعلوم افراد کے خلاف پرچہ کٹا تو پھر واقعی دال میں کچھ کالا ہے اور بچایا جا رہا ہے،ان لوگوں کو جو لوگ وہاں پر پتھراؤ کر رہے تھے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز جو اتنے زیادہ کیسز میں پہلے ہی مطلوب ہیں، انکے اوپر اے ٹی سی کے تحت پرچے کٹ جاتے ہین یہ انکے لئے آزمائش کی ایک کڑی ہو گی، کیا عثمان بزدار کے لئے اور اسکی پولیس کے لئے سوالیہ نشان پڑ جائے گا کہ عثمان بزدار ہینڈل نہیں کر سکتے اور انکی پولیس بالکل ہی ہاتھ چھٹ ہے، لوگ لیڈر کے ساتھ آ رہے ہین تو انکا رائیٹ ہے، کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے،مریم ہوں، بلاول، عمران خان ہوں یا مولانا فضل الرحمان، کوئی بھی ہو اگر اسکے ہمدرد یا کارکنان آنا چاہتے ہیں تو ضرور آئیں، مین کئی بار عدالتوں میں گیا اور درجنوں افراد میرے ساتھ گئے اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ بدمعاشی کرنے گئے ہیں، اظہار یکجہتی کے لئے لوگ جاتے ہیں، اس موقع پر جو ہوا اسکا فائدہ کس کو ہوا، رپورٹرز نے کہا کہ غالبا ق لیگ والے تھے، کنفرم نہیں بتا سکتے کیونکہ کسی کے ماتھے پر کچھ نہیں لکھا ہوتا
مبشر لقمان کامزید کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں گورننس کمزور ہوتی ہے تو پرویز الہیٰ جن کو نیب نے طلب کر رہی ہے، مونس الہیٰ کو نیب طلب کر رہا ہے، انکو اس سے آسانی ملنے کی امید ہے کہ حکومت کے ہاتھ مضبوط کرو اور حکومت کو کہیں جانے نہ دو،سیاسی ایکٹوٹی ایک بار دوبارہ ہو سکتی ہے، اپوزیشن جو مری ہوئی بیٹھی تھی اور تیتر بیتر ہوئی تھی اپوزیشن کو نئی فورس مل گئی ہے، آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا کہ کیا ہو گا.