محرم میں سول انتظامیہ کیساتھ مل کر ضروری اقدامات اور کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جائے، آرمی چیف
باغی ٹی وی : پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ محرم میں سول انتظامیہ کیساتھ مل کر ضروری اقدامات کیے جائیں، محرم کے دوران کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جائے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔
https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/1293198059166404609?s=20
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران جیو سٹرٹیجک اور ملکی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور پاک افغان بارڈرز اور ملکی داخلی سلامتی صورتحال پر بھی غور کیا گیا جبکہ افغان مفاہمتی عمل کی پیشرفت کو بھی سراہا گیا اور امید ظاہر کی افغان دھڑوں میں بات چیت جلد شروع ہو گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد نیب نے پیشی منسوخ کر دی ہے
نیب نے اس حوالہ سے اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مریم نوازکو ذاتی حیثیت میں طلب کیاگیاتھا،ن لیگی کارکنوں نے غنڈہ گردی کا مظاہر ہ کیا،نیب ایک قومی ادارہ ہے،
مسلم لیگ ن کے رہنمائوں و کارکنان کے غیر قانونی اقدام اور کارسرکارمیں مداخلت کی ایف آئی درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، نیب کا کہنا ہے کہ نیب قومی ادارہ ہے،جس کی وابستگیاں ملک و قوم کے ساتھ ہیں،کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں،پہلی مرتبہ قومی ادارے کے ساتھ اس نوعیت کا برتاو َرکھا گیا نیب عمارت پر پتھراؤ کیاگیا اور عملے کوزخمی کیاگیا،ن لیگی عہدیداروں کی جانب سے قانونی کارروائی میں مداخلت کی گئی،
نیب اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ آج منظم انداز میں غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پتھراوَ کیاگیا،جس پر مقدمہ درج کروائیں گے
مریم نواز کی نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ن لیگی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا,نیب آفس کے باہرلیگی کارکنوں کے پتھراؤ سے 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے،پولیس ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا، حراست میں لیے گئے کارکنوں کو مختلف تھانوں منتقل کردیا گیا،
مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر ن لیگ کے کارکنوں کا نیب آفس کے باہر سیکورٹی اہلکاروں سے جھگڑا ہوا ہے،نیب لاہور کے باہرمسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراوَ کیا گیا،پولیس نے ن لیگی کارکنان کو نیب آفس جانے سے روکا تو ن لیگی کارکنان بپھر گئے اور پولیس پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا جس پر پولیس کی جانب سے لیگی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کا استعمال کیا گیا
نیب نے مریم نواز کو مختلف موضع جات کی چودہ سو چالیس کنال اراضی کے متعلق تفتیش کیلئے طلب کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنے کارکنان کو رائیونڈ اور نیب لاہور آفس پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ جس کے بعد نیب آفس لاہور کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے اور خاردار تاریں لگا کر راستوں کو بند کر دیا گیا ہے.پولیس کی بھاری نفری نیب آفس کے باہر تعینات ہے اور غیر متعلقہ افراد کو نیب آفس میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.
نیب لاہور نے مریم نواز سے 1440 کنال اراضی کی رسیدیں مانگ لیں،مریم نواز کو تمام دستاویزات 11 اگست کو ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے،مریم نواز کو اراضی سے متعلق تفصیلات جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے
نیب کی جانب سے سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ اراضی کی خریداری پر کتنا ٹیکس اور کتنی ڈیوٹی دی مکمل تفصیلات فراہم کریں،حاصل کی گئی زمین کس مقصدکیلئےاستعمال کی جارہی ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر مریم نواز کی گاڑی پر حملہ ہوا ہے
مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مریم نواز نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں مریم نواز کا کہنا ہے کہ پولیس نے میری گاڑی پر پتھراؤ کر کے شیشہ توڑ دیا، پولیس نیب کے آفس سے پتھراؤ اور شیلنگ کر رہی ہے، اگر آپ اتنا مسلم لیگ ن سے ڈرتے ہیں ،نواز شریف سے تو پھر مریم نواز کو بلاتے کیوں ہو، جب اتنا خوف ہے تو بلاتے کیوں ہو، بلاتے ہو تو حوصلہ رکھو
مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر ن لیگ کے کارکنوں کا نیب آفس کے باہر سیکورٹی اہلکاروں سے جھگڑا ہوا ہے،نیب لاہور کے باہرمسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراوَ کیا گیا،پولیس نے ن لیگی کارکنان کو نیب آفس جانے سے روکا تو ن لیگی کارکنان بپھر گئے اور پولیس پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا جس پر پولیس کی جانب سے لیگی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کا استعمال کیا گیا
Police attacking my car. Imagine if it were not a bullet proof vehicle. Shame. pic.twitter.com/VtQLJlXFhr
مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق نیب آفس کے باہر ن لیگی کارکنان کی بڑی تعداد جمع تھی ، نیب آفس کے باہر ن لیگی کارکنان کی پولیس کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی،نیب آفس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی،ن لیگی کارکنوں کو پولیس اہلکاروں کو نیب آفس آنے سے روک دیا
نیب نے مریم نواز کو مختلف موضع جات کی چودہ سو چالیس کنال اراضی کے متعلق تفتیش کیلئے طلب کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنے کارکنان کو رائیونڈ اور نیب لاہور آفس پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ جس کے بعد نیب آفس لاہور کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے اور خاردار تاریں لگا کر راستوں کو بند کر دیا گیا ہے.پولیس کی بھاری نفری نیب آفس کے باہر تعینات ہے اور غیر متعلقہ افراد کو نیب آفس میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.
نیب لاہور نے مریم نواز سے 1440 کنال اراضی کی رسیدیں مانگ لیں،مریم نواز کو تمام دستاویزات 11 اگست کو ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے،مریم نواز کو اراضی سے متعلق تفصیلات جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے
نیب کی جانب سے سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ اراضی کی خریداری پر کتنا ٹیکس اور کتنی ڈیوٹی دی مکمل تفصیلات فراہم کریں،حاصل کی گئی زمین کس مقصدکیلئےاستعمال کی جارہی ہے،
مریم نواز نیب آفس پہنچ گئیں،مریم کے قافلے میں بڑا "خطرہ” کھلبلی مچ گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نیب آفس پہنچ گئی ہیں تا ہم کرونا ایس او پیز کی دھجیاں بکھیرنے کی وجہ سے کرونا کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے
مریم نواز ن لیگی کارکنان کے ہمراہ قافلے کی صورت میں نیب آفس پہنچی ہیں، مریم نواز نے نیب آفس میں پیشی پر روانگی سے قبل والدہ کی قبر پر حاضری دی، بعد ازاں ن لیگی کارکنان کے ہمراہ نکلیں اور نیب آفس پہنچیں
مریم نواز کی پیشی کے موقع پر کرونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دی گئیں، مریم نواز نے خو دبھی کرونا سے بچاؤ کے لئے ماسک نہیں پہن رکھا تھا،مریم نواز کے قافلے کے شرکاء نے بھی ماسک نہیں پہن رکھے تھے جبکہ سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھا گیا،ن لیگی کارکنان نے مریم نواز کی گاڑی پر پھول برسائے وہیں نعرے بازی بھی کی
پاکستان میں کرونا اگرچہ کم ہو رہا ہے لیکن این سی او سی کی جانب سے مسلسل احتیاط اور ایس او پیز پر عمل کرنے کا کہا جا رہا ہے، عوامی مقامات پر ماسک پہننا ضروری قرار دیا گیا ہے، سماجی فاصلہ رکھنا بھی ضروری ہے لیکن ن لیگ کی رہنما مریم نواز کے قافلے میں کرونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں، اب اگر اس قافلے سے کسی کو کرونا ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا، اگر قافلے میں ایک بھی کرونا مریض ہوا تو اس سے کرونا پھیلنے کا خطرہ ہے
ن لیگ کے کئی رہنما شہباز شریف سمیت کرونا کا شکار ہو چکے ہیں اسکے باوجود مریم نواز کے قافلے میں کرونا ایس او پیز کا خیال رکھا نہیں گیا،
مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق نیب آفس کے باہر ن لیگی کارکنان کی بڑی تعداد جمع تھی ، نیب آفس کے باہر ن لیگی کارکنان کی پولیس کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی،نیب آفس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی،ن لیگی کارکنوں کو پولیس اہلکاروں کو نیب آفس آنے سے روک دیا
نیب آفس میں روانگی سے قبل رائیونڈ میں بکروں کا صدقہ دیا گیا، مریم نواز نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو بھی کی، مریم نواز گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی رہیں اور انہوں نے ماسک نہیں پہنا،
نیب نے مریم نواز کو مختلف موضع جات کی چودہ سو چالیس کنال اراضی کے متعلق تفتیش کیلئے طلب کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنے کارکنان کو رائیونڈ اور نیب لاہور آفس پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ جس کے بعد نیب آفس لاہور کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے اور خاردار تاریں لگا کر راستوں کو بند کر دیا گیا ہے.پولیس کی بھاری نفری نیب آفس کے باہر تعینات ہے اور غیر متعلقہ افراد کو نیب آفس میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.
نیب لاہور نے مریم نواز سے 1440 کنال اراضی کی رسیدیں مانگ لیں،مریم نواز کو تمام دستاویزات 11 اگست کو ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے،مریم نواز کو اراضی سے متعلق تفصیلات جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے
نیب کی جانب سے سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ اراضی کی خریداری پر کتنا ٹیکس اور کتنی ڈیوٹی دی مکمل تفصیلات فراہم کریں،حاصل کی گئی زمین کس مقصدکیلئےاستعمال کی جارہی ہے،
کیا آپ سب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کو نوٹس جاری کر کے طلب کریں؟ عدالت کے ریمارکس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آبا دہائیکورٹ میں جانوروں کی ہلاکت سے متعلق کیس کی سماعت 27اگست تک ملتوی کر دی گئی.
وزیراعظم کے ایڈوائزر ملک امین اسلم کو بھی توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا،عدالت نے کہا کہ کیا آپ سب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کو نوٹس جاری کر کے طلب کرے؟ وزیراعظم کو تو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ نیچے ہو کیا رہا ہے، لوگوں نے گھروں میں شیر پال رکھے ہیں جو غیر قانونی ہے،حکومت کو مکمل پابندی لگانی چائیے کہ کوئی بھی جانور درآمد نہیں کیا جا سکتا ،
سیکرٹری نے عدالت مین کہا کہ وزارت قانون نے کہا ہے کہ کابینہ کا کوئی رکن وائلد لائف بورڈ کا ممبر نہیں ہو سکتا، جس پر عدالت نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے خود وزیر کی بورڈ میں شمولیت کی منظوری دی تھی، وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں اس عدالت نے اپنا حکم جاری کیا تھا
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت قانون عدالتی فیصلے کو خود کیسے تبدیل کر سکتی ہے؟ شیروں کی موت پر رپورٹ کدھر ہے اور ایف آئی آر کا کیا بنا؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت میں کہا کہ سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی معاملے کی انکوائری کر رہی ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری صاحبہ اپنے خلاف انکوائری کیسے کریں گی؟ یہ کیس ایک مثال ہوگا، جانوروں پر انسانوں کے ظلم کی داستان ہے ،جانوروں سے متعلق اچھی بات کی دنیا تعریف کر رہی ہو تو کریڈٹ لینے سب چڑیا گھر پہنچ جاتے ہیں، اب شیروں کے معاملے پر کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں،
قبل ازیں اسلام آباد میں چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کا معاملہ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کو توہین عدالت نوٹس جاری کردیا
اسلام آباد وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کے ممبران کو بھی توہین عدالت کے شوکاز نوٹسزجاری کر دیئے گئے،سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے عدالت میں کہا کہ واقعے کی ذمہ داری قبول کرتی ہوں، کابینہ ارکان کا کوئی تعلق نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے وائلڈ لائف بورڈ کی منظوری دی تھی ذمہ دار بھی وہ ہیں،
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی شوکاز نوٹس جاری نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی،سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی کو بھی توہین عدالت شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا
آپ کو معلوم ہے جب رات میں بجلی نہیں ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ چیف جسٹس کا کراچی میں لوڈ شیڈنگ بارے بڑا حکم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لوڈ شیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
کراچی میں لوڈ شیڈنگ پر چیف جسٹس گلزار احمد برہم ہو گئے،چیف جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین نیپرا سے استفسار کیا کہ کیا یہ بتانے آئے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ چوری کی وجہ سے ہو رہی ہے؟اب تک بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟کیا یہ بتانے آئے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ چوری کی وجہ سے ہو رہی ہے؟
کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ لوڈ شیڈنگ کی سب سے بڑی وجہ بجلی چوری ہے،جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آئندہ یہ بات نہ سنوں، شہر میں ایک منٹ کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیے،ابھی کے الیکٹرک کا لائسنس معطل کرتا ہوں، چیئرمین نیپرابتائے متبادل کیا ہے؟ جس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ میں صورت حال دیکھ کر عدالت کو آگاہ کر سکتا ہوں،
چیف جسٹس نے چیئرمین نیپرا سے استفسار کیا کہ آپ لوگ کےالیکٹرک کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہم کارروائی کرتے ہیں لیکن کے الیکٹرک نے اسٹے حاصل کر رکھے ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ سارا ریکارڈ لیکر آئیں ہم اسٹے ختم کر دیتے ہیں، کرنٹ سے جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی مدد کیسے کرتے ہیں؟ ماسٹر جس طرح آپ لوگوں کو ڈیل کرتے ہیں ویسے ہی آپ شہریوں کو ڈیل کرتے ہیں،بجلی بند نہیں ہوگی اگر ہوگی تو آپ کے گھروں اور دفاتر کی ہوگی،
سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہوئے،چیف جسٹس گلزار احمد نے سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کی سرزنش کی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ لوگ صرف باتیں کرتے ہیں کام نہیں کرتے،تمام وصولیاں کراچی والوں سے کرلی گئی ہیں،کے الیکٹرک کا آڈٹ ہونا چاہیے،پتہ چلے کیا کمایا کیا حاصل کیا،سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، جہاں جہاں غفلت ہے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں
سی ای او کے الیکٹرک نے عدالت میں کہا کہ ہم نے 10سال میں ڈھائی ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہم نے ایک ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی کمپنی چلانی ہے ٹھیک سے چلائیں، بجلی بند نہیں ہوگی ،آپ سی ای او ہیں ،کے الیکٹرک نقصان میں جارہا ہے ،آپ کو معلوم ہے جب رات میں بجلی نہیں ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ چھوٹے چھوٹے گھروں میں بجلی نہ ہو تو کیا ہوتا ہے ؟خواتین آپ لوگوں کو دہائی دیتی ہیں
چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اپ پوری دنیا میں ڈیفالڈر ہیں، لندن میں آپ کے ساتھ کیا ہوا؟ لندن میں تو آپ لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور گردن دبوچ کر پیسے لیے گئے ،
کرونا سے پاکستان میں دوسرے روز بھی 15 افراد جاں بحق
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15 اموات ہوئی ہیں جبکہ 531 نئے مریض سامنے آئے ہیں.
پاکستان میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 112 ہوگئی ہے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 85 ہزار 191 ہو گئی ہے،
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 531 نئے کیسز اور15 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔ پاکستان میں 2 لاکھ 61 ہزار 246 مریضوں نے کورونا کو شکست دے دی ہے جبکہ پاکستان میں اس وقت کورونا کے 17 ہزار 833 ایکٹو کیسز ہیں.
صوبہ سندھ میں کورونا کے ایک لاکھ 24 ہزار 127 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 94 ہزار 586، خیبرپختونخوا میں 34 ہزار755 اور بلوچستان میں 11 ہزار 921 کیسز سامنے آئے ہیں، اسلام آباد میں 15 ہزار 281 اور آزاد کشمیرمیں 2ہزار150کورونا کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ،گلگت بلتستان میں کورونا مریضوں کی تعداد 2ہزار371 ہوگئی ہے.
پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 170، سندھ میں 2 ہزار 272، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 231، اسلام آباد میں 171، بلوچستان میں 138، آزاد کشمیر میں 58 اور گلگت بلتستان میں 57 ہو چکی ہے۔ ملک بھر میں اب تک 21 لاکھ 65 ہزار 811 ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور اسپتالوں میں اس وقت 146 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اس وقت ہر طرف سے پھنستا جا رہا ہے، محمد بن سلمان کی پالیسیز معاشی اور سفارتی دونوں لحاظ سے سعودی عرب کے لئے بڑا امتحان بن چکی ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے بظاہر روشن خیال سمجھنے والے محمد بن سلمان نے جب حکومتی معاملات سنبھالے تو سفارتی لحاظ سے کئی ممالک کے ساتھ سعودی عرب کے تنازعات شروع ہو گئے تھے اور وہ تنازعات تو ختم نہیں ہوئے کہ اب امریکہ کے ساتھ بھی سعودی تعلقات میں بھی تناؤ آ گیا ہے، دوسری طرف سعودی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والی اور سعودی عرب کی شان سمجھی جانے والی کمپنی آرامکو کے منافع میں دن بدن مندی ریکارڈ کی جا رہی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان جب 29 سال میں سعودی عرب کے وزیر دفاع بنے اور حکومتی معاملات کو دیکھنا شروع کیا اس کے بعد سے ہی کئی ممالک کے ساتھ تنازعات شروع ہو گئے تھے، وزیر دفاع بننے کے بعد ہی محمد بن سلمان نے یمن کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور اس جنگی مہم کے دوران ایک عسکری اتحاد بھی قائم کیا، اس جنگ میں یمن میں خواتین اور بچوں کی بھی ہلاکتیں بھی ہوئیں،جس میں سعودی کے مغربی اتحادیوں نے تشویش کا بھی اظہار کیا ، لیکن محمد بن سلمان نے ایک انٹرویو میں صرف اتنا کہہ کر کہ ہر جنگ میں غلطیاں ہو جاتی ہیں،یہ بھی ایسے ہی ہے اور بات ختم کر دی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سعودی عرب کا تازہ ترین تنازعہ کینیڈا کے ساتھ جاری ہے اور کینیڈا کی جانب سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کے لئے ایک ٹویٹ تنازعہ کی وجہ بنی، سعودی عرب نے اس ٹویٹ کو داخلی معاملات میں دخل اندازی کا کہ کر کینیڈا سے سفارتی تعلقات ختم کر دیئے،نومبر 2017 میں سعودی عرب نے اس وقت کے جرمن فارن منسٹر کی جانب سے یمن اور لبنان میں سعودی پالیسیز پر کی گئی تنقید کے جواب میں اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا، جرمن حکومت سعودی سفیر کی دوبارہ تعیناتی کی خواہش کا اظہار کر چکی لیکن محمد بن سلمان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور ابھی تک سفارتی تعلقات بحال نہیں کئے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ سال قطری تنازعے کا آغاز اسوقت ہوا جب سعودی اور اماراتی چینل نے قطر پر دہشت گردوں کی معاونت کے الزامات لگانا شروع کر دئے، ریاض کی حکومت اور عرب اتحاد نے دوحہ پر اخوان المسلمون کی حمایت کا الزام لگایا اور قطر کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے علاوہ اس کی ناکہ بندی بھی کر دی،تنازعہ ابھی تک جاری ہے، سعودی عرب اور لبنان کے مابین بھی تنازعہ بھی ابھی تک جاری ہے،یہ تنازعہ اسوقت شروع ہوا جب جب لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے دورہ ریاض کے اچانک استعفیٰ دے دیا، مبینہ طور پر سعودی عرب نے سعد الحریری کو حراست میں لے لیا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس اور عالمی برادری کی مداخلت کے بعد سعد واپس چلے گئے اور مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا،تہران اور ریاض میں اختلافات ہیں، سعودی شیعہ رہنما کو سزائے موت دینے کے بعد تہران میں مظاہرین نے سعودی سفارتخانے پرحملہ کر دیا جس کے بعد تہران حکومت نے سفارتخانے کو آگ لگانے والے 50 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا،اس میں سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیئے، اس کے بعد سے محمد بن سلمان ایران کے خلاف بہت ہی سخت الفاظ استعمال کرتے رہے،اس حد تک کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کو ہٹلر سے بھی تشبیہ دی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی کے ساتھ سعودی کا الگ تنازعہ ہے،ویسے تو ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط رہے اور عسکری اور معاشی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے،لیکن محمد بن سلمان کے ایک بیان کے بعد جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاض کا مقابلہ ایران، ترکی ااور دہشت گردوں سے ہے، اس بیان سے ترکی کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا تھا،اب محمد بن سلمان کے مطابق ایران اپنا انقلاب اور ترکی اپنا طرز زندگی خطے کے دوسرے ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا ولی عہد مقرر ہونے سے قبل اکتوبر 2016 میں سعودی عرب اور مصر کے تعلقات اقوام متحدہ میں قرارداد کی وجہ سے کشیدہ ہو گئے تھے،بعد میں مصر نے اپنے دو جزیرے بحیرہ احمر مٰن سعودی عرب کے حوالے کر دئے تھے جس سے مصر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور سعودی نے مظاہروں کے ردعمل میں مصر کو تیل کی فراہمی روک دی، سویڈن کے وزیر داخلہ نے سعودی عرب مین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے ریاض حکومت کی پالیسیز کو قرون وسطی دور کے ہتھکنڈے قرار دیا جس کے بعد سعودی عرب نےا پنا سفیر واپس بلا لیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی حکمران خاص کر محمد بن سلمان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے حوالہ سے تنقید بالکل ہی برداشت نہیں کرتے، اب سوشل میڈیا کا دورہے، عوام کھل کر حکمرانوں پر سوشل میڈیا پر تنقید کر سکتی ہے، اب اس تنقید کو کاؤنٹر کرنے کے لئے سعودی عرب میں عجیب کام کیا گیا،سعودی عرب میں اب ڈیجیٹل فلائیز ،حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوششوں میں مصروف رہتی ہے،مختلف لوگوں کو پوسٹ دی جاتی ہیں اور ان میں سعودی ایجنسیز کی بھی ٹیگ کیا جاتا ہے، سعودی عرب میں کئی اہم افراد نے ٹویٹر کا استعمال ہی بند کر دیا ہے،یہ وہ لوگ تھے جو محمد بن سلمان کی اصلاحات پر تعمیری تنقید کرتے تھے،ڈیجیٹل فلائز کے ذریعے نہ صرف ان لوگوں کو ٹرول کیا جاتا ہے بلکہ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاتی ہیں، اب رپورٹس ملی ہیں کہ یہ اکاؤنٹس حکومت سے منسلک ہیں، خفیہ پالیسی کے تحت کچھ اکاونٹ بنوائے تھے،جمال خشوگی کے قتل کے بعد القحطانی برطرف کر دیئے گئے تھے لیکن انہوں نے سعودی عرب کی پالیسیوں کے دفاع کے لیے جو الیکٹرانک آرمی بھرتی کی تھی وہ ابھی تک چل رہی ہے بلکہ اب محمد بن سلمان کی زیر نگرانی زیادہ ایکٹو ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ الیکٹرانک آرمی ریاست کے لئے بھی چیلنج ہے اور ہو سکتی ہے،اپنی اتھارٹی کا بے جا استعمال کے قابل بھی ہو سکتی ہے، گزشتہ برس ٹویٹر کے دو ملازمین پر فرد جرم عائد کی گئی تھی کہ وہ سعودی عرب میں جاسوسی کر رہے تھے، یہ کمپنی سعودی عرب میں کئی ٹویٹر اکاؤنٹ بلاک کر چکی ہے،جن مین متعدد اکاؤنٹ حکومتی میڈیا اداروں سے وابستہ تھے، جیسے جیسے محمد بن سلمان بادشاہ بننے کی جانب بڑھ رہے ہیں،تعلقات اور اندرونی معاملات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑتے جا رہے ہیں اور ایسا ہی حال معیشت کا بھی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی معیشت کی خوشحالی کا انحصار آرامکو کے منافع پر ہے لیکن اس کے منافع میں کمی رہی ہے،اب گزشتہ 3 ماہ میں آرامکو نے 6.6 ارب ڈالر کا منافع کمایا، 2019 میں ان مہینوں کے دوران 24.7 ارب ڈالر کا منافع ہوا تھا،اس منافع کی کمی کی وجہ کرونا وائرس ہے ،تیل تلاش کرنے کی جدید امریکن ٹیکنالوجی بھی ہے ، امریکہ جو تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا اب تیل کا سب سے بڑا ملک ہے،بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی، تیل کے معاملے پر امریکہ کا انحصار سعودی عرب پر کم ہو گیا،لیکن پھر بھی تیل کی پیداوار کم کرنے کی وجہ سے جو نقصان سعودی عرب کی وجہ سے امریکہ کو ہو رہا ہے وہ شاید ٹرمپ کو ہضم نہ ہو،اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے.
بیروت دھماکے پر مظاہرے ، لبنانی وزیر اعظم نے کابینہ سمیت استعفیٰ دے دیا
باغی ٹی وی : لبنان کے دارالحکومت بیروت میں گزشتہ ہفتے ہونے دھماکوں کے بعد لبنان کی پوری حکومت نے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق لبنان میں دھماکوں کے بعد حکومت مخالف پر تشدد مظاہروں اور ہلاکتوں کے بعد لبنانی وزیراعظم حسن دیاب جلد ہی اپنی حکومت کے استعفے کا اعلان کریں گے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق لبنانی وزیراعظم بہت جلد قوم سے خطاب کرکے اس سے متعلق آگاہ گے۔
خیال رہے کہ 4 اگست کی شام خطرناک دھماکے نے لبنان میں قیامت برپا کر دی تھی۔ چند لمحوں میں ہنستا بستا شہر قبرستان کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔ بیروت بندرگاہ میں دھماکہ ویئرہاؤس میں رکھے ہزاروں کلوگرام دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا تھا۔
ہر طرح کے خطرات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔آرمی چیف
پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملکی سالمیت کیلئے اپنے عزم کا دوبارہ اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر طرح کے خطرات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔
آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ بعد ازاں انھیں ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر طرح کے خطرات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی عرب کے سفیر نواف سعید ال مالکی کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی و علاقائی سلامتی کی صورتحال سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی ہے، مزید دونوں برادر ملکوں کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی۔