پاکستان سیکیورٹی فورسز کا افغان طالبان رجیم کی اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے
افغان طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی ہے،پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کاڈ کاپٹرز گرا دیے گئے، پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے،ہوائی ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان ریجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ،افغان طالبان کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار جاری ہے
افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، بھرپور اور مؤثر جواب دیتے ہوئے دشمن کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے سرحدی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دیا اور مختلف سیکٹرز میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک۔افغان سرحد کے مختلف مقامات پر اچانک فائرنگ کا آغاز کیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ پاکستانی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت اور درستگی کے ساتھ جوابی کارروائی کرتے ہوئے چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی ایک چیک پوسٹ کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
پاک۔افغان سرحد کے باجوڑ سیکٹر میں آرٹلری کے پے در پے فائر سے دشمن کی دفاعی لائنیں لرز اٹھیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی اے (تحریک طالبان افغانستان) کی کم از کم تین پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں جبکہ آٹھ ہلاکتوں اور پانچ شدید زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔باجوڑ میں مزید کارروائی کے دوران افغان فورسز کی دو چوکیاں تباہ کر دی گئیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے دشمن کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے ٹینکوں کا بھی استعمال کیا، جس کے نتیجے میں طالبان کی متعدد پوسٹیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور بھاری جانی نقصان ہوا۔مہمند سیکٹر میں ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی پر پاک فوج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آرٹلری فائر کے ذریعے ٹی ٹی اے کے سیکٹر ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دشمن کے کئی ٹھکانے مکمل طور پر خاموش کرا دیے گئے۔
ضلع خیبر کے علاقے بازار ذخہ خیل کے مقامات مارو سر اور شاہ کوٹ سر پر بھی پاک فوج اور افغان فورسز کے درمیان دوطرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق فائرنگ کا آغاز شام 5 بج کر 15 منٹ پر ہوا اور دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشین ناو میں تین، گوشتہ کے علاقے انارگی میں دو جبکہ ضلع کنڑ کی تحصیل انارگی کے علاقے دوکلام میں چار چوکیوں پر پاکستانی فورسز نے کنٹرول حاصل کر لیا۔ کارروائی کے دوران افغان طالبان اسلحہ اور لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔باجوڑ، کرم اور مہمند کے مختلف مقامات پر ہونے والی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کے متعدد ٹھکانے نیست و نابود کر دیے گئے۔ توپوں کی گھن گرج سے سرحد پار موجود ٹھکانوں پر لرزہ طاری ہو گیا اور دہشتگرد پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا سخت اور فوری جواب دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق جاری آپریشن میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ پاکستانی فورسز اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط رکھتے ہوئے سرحدی علاقوں میں مکمل نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستانی افواج نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملکی خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جاتا رہے گا۔