Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقات کی ، ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جب کہ ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کے روز ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راو لپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دو طرفہ سیکیورٹی اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور امن کے لیے بامقصد کوششوں پر پاکستان کی مؤثر سفارتی کردار کو سراہا،ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطہ کاری اور تعاون پر مبنی میکانزم کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا، ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔

  • مودی کی جابر پالیسیوں کیخلاف بھارتی نوجوان یک زبان،مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    مودی کی جابر پالیسیوں کیخلاف بھارتی نوجوان یک زبان،مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    مودی کی جابر پالیسیوں کیخلاف بھارتی نوجوان یک زبان ، کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا گیا، بھارتی نوجوان تحریک کاکروچ جنتا پارٹی ( سی جے پی) کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

    بھارتی پولیس کی طلباء کے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کو آنسو گیس شیلنگ اور بدترین لاٹھی چارج سے روکنے کی کوشش ناکام ہو گئی،برطانوی نشریاتی ادارہ کے مطابق نوجوان تحریک سی جے پی کی قیادت میں طلباء، والدین سیاسی و سماجی کارکنان نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کیلئے بھارتی پارلیمنٹ کا رخ کر لیا ،سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد بھارتی طلبہ نے احتجاج اعلان کیا،

    پرامن احتجاج کے باوجود بھارتی پولیس کی غنڈہ گردی کے بعد سی جے پی نے نااہل وزیر اعظم مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا ،کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے کا کہنا تھا کہ پولیس کی وردی میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے سونم وانگچک کو جبری گرفتار کر کے انتہائی بزدل حرکت کی ہے ،حکومت کی قابلِ مذمت کارروائی کے بعد ہم اب وزیر تعلیم کیساتھ مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ، میڈیا کے مطابق میڈیکل داخلہ امتحان کے پیپر لیک کے باعث تقریباً 22 لاکھ 80 ہزار متاثرین اور 20 سے زائد طلباء کی خودکشی نے نوجوان نسل کو احتجاج پر مجبور کیا،

    بھارت میں تعلیمی نظام کی نااہلی، پیپر لیک اسکینڈل اور طلبہ کی خودکشیوں نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا.

  • الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک پاکستان کا انتخابی نشان واپس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک پاکستان کا انتخابی نشان واپس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک پاکستان کا انتخابی نشان واپس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن کیس کا محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان الیکشن کے سیکشن 209 کے تحت انٹرا پارٹی الیکشن کروانے میں ناکام رہی،الیکشن کمیشن نے پارٹی کے حالیہ انٹرا پارٹی انتخابات کو مسترد کر دیا، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 ذیلی شق پانچ کے تحت پارٹی سے کرین کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پارٹی سے اس کا انتخابی نشان کرین واپس لے لیا اور قرار دیا کہ ٹی ایل پی آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی، اس لیے وہ انتخابی نشان برقرار رکھنے کی اہل نہیں رہی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں جاری فیصلے میں متعلقہ دفتر کو فوری فالو اپ کارروائی کی بھی ہدایت دی گئی۔

    فیصلے کے مطابق ٹی ایل پی کے آخری انٹرا پارٹی انتخابات 28 دسمبر 2021 کو ہوئے تھے جن کی مدت 28 دسمبر 2025 کو ختم ہوگئی، تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود پارٹی نے نئے انتخابات منعقد نہیں کیے۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی چھ ماہ تک پارٹی کی جانب سے کوئی اطلاع یا کارروائی سامنے نہیں آئی، جبکہ وقت میں توسیع کی درخواست بھی پانچ ماہ کی تاخیر سے بغیر کسی معقول وجہ کے جمع کرائی گئی۔ کمیشن نے یہ درخواست 19 مئی 2026 کو مسترد کر دی تھی اور اس فیصلے کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ راجہ امیر شہزاد نامی شخص کو پارٹی کی جانب سے توسیع مانگنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ دورانِ سماعت ٹی ایل پی کے نمائندوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنے مرکزی امیر کے مقام یا رابطے کے بارے میں علم نہیں، تاہم اس کے باوجود دعویٰ کیا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات انہی کی نگرانی میں کرائے گئے، جسے کمیشن نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔

    الیکشن کمیشن نے 6 جولائی 2026 کو کرائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات کے دستاویزات بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ الیکشن رولز 2017 کے رول 158(1) کے مطابق نہیں تھے۔ فیصلے کے مطابق انتخابات کا شیڈول 15 روز قبل جاری کرنے کے بجائے صرف 11 روز پہلے دیا گیا، نامزدگی فارم، امیدواروں اور شرکاء کی حاضری کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، جبکہ نئے منتخب عہدیداروں کے شناختی کارڈز کی تصدیق شدہ نقول بھی جمع نہیں کرائی گئیں۔ کمیشن نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں یہ کارروائی فرضی اور جعلی دکھائی دیتی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹی ایل پی کے آئین میں مستقل الیکشن بورڈ کی شق موجود ہے، تاہم پارٹی نے تین مختلف مواقع پر الیکشن اتھارٹی تبدیل کی، جو اس کے اپنے آئین سے انحراف ہے۔ الیکشن کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ ٹی ایل پی نہ صرف اپنے آئین کے مطابق بروقت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی بلکہ الیکشن قوانین کی متعدد لازمی شرائط بھی پوری نہیں کر سکی، جس کے باعث پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق دعوے مسترد کر دیے گئے۔

  • پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں پیش رفت، وزرائے خارجہ کی وفود کی سطح پر ملاقات

    پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں پیش رفت، وزرائے خارجہ کی وفود کی سطح پر ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے درمیان وفود کی سطح پر اہم ملاقات ہوئی، جس میں باہمی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے آغاز میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کا اسلام آباد آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان مسلسل رابطے برقرار رہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں بھی ان کی کینیڈین وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی تھی، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فعال سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور عالمی سطح پر تعمیری شراکت داری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ تجارت، معیشت، تعلیم، زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری دونوں ممالک کے تعلقات کا قیمتی اثاثہ ہے اور یہ کمیونٹی باہمی روابط کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ کینیڈین وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت اور رفتار دے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان اعلیٰ سطح پر زیادہ تواتر سے ملاقاتیں ہونی چاہئیں تاکہ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔

    اس موقع پر کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے پرتپاک استقبال اور پاکستانی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کو مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو باہمی تعاون کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔انیتا آنند نے بتایا کہ کینیڈا میں تقریباً تین لاکھ پاکستانی نژاد شہری آباد ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سماجی اور ثقافتی روابط کی علامت ہیں۔کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا عالمی معیشت میں مثبت کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ زراعت، صنعت، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ آج ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعاون میں پیش رفت، اقتصادی روابط اور مستقبل کی شراکت داری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کی منتظر ہیں۔

  • ایران، امریکہ کشیدگی، پاکستان کی جنگ بندی کیلیے سفارتی کوششیں پھر تیز

    ایران، امریکہ کشیدگی، پاکستان کی جنگ بندی کیلیے سفارتی کوششیں پھر تیز

    اسلام آباد: خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستان نے ایک بار پھر جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے اعلیٰ حکام سے مسلسل مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ذرائع کے مطابق ان سفارتی رابطوں کا بنیادی مقصد اسلام آباد کی مفاہمتی کوششوں کے تحت طے پانے والے معاہدے کو برقرار رکھنا اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کا حالیہ دورۂ پاکستان بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر ثالث کے طور پر عرب اور خلیجی ممالک کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کاوشوں کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار روزانہ کی بنیاد پر دوست ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے رابطے میں ہیں اور انہیں خطے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔سفارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام کے امریکی محکمہ خارجہ، وائٹ ہاؤس اور امریکی سینیٹ کے متعلقہ حکام سے بھی رابطے جاری ہیں۔ ان روابط کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا، دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ رکوانا اور بعد ازاں مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
    زرائع کے مطابق پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسی لیے اسلام آباد تمام متعلقہ فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کا پرامن حل تلاش کرنے پر زور دے رہا ہے۔

  • مون سون کے نئے اسپیل کا آغاز، مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشیں،سیلاب

    مون سون کے نئے اسپیل کا آغاز، مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشیں،سیلاب

    اسلام آباد: ملک بھر میں آج سے مون سون بارشوں کے نئے اور طاقتور سلسلے کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی اداروں نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مختلف شہروں میں بارش کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں صبح سے بارش ہوئی۔ بری امام، بارہ کہو، بلیو ایریا، ایف-6 اور دیگر علاقوں میں ہونے والی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم بعض نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہری پور اور گردونواح میں موسلا دھار بارش کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی، جبکہ متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے نواحی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ شدید ریلے کی زد میں آکر کئی مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں لینڈ سلائیڈنگ کے افسوسناک واقعے میں دو مزدور جان کی بازی ہار گئے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں مکمل کرلی ہیں جبکہ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے۔

    دریائے چناب میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے الرٹ کے بعد دریا سے ملحقہ آبادیوں سے شہریوں کا انخلاء شروع کردیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ادھر ضلع لیہ میں دریائے سندھ میں آنے والے شدید سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ دو سرکاری اسکول دریا برد ہوگئے جبکہ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں،خیبر ضلع میں بھی تیز بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلے بہہ نکلے۔ سلطان خیل کے مقام پر ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، تاہم گاڑی میں سوار خواتین اور بچوں کو بروقت بچالیا گیا جبکہ تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اسی طرح خوگہ خیل کے علاقے میں زکریا مسجد کے قریب بھی ایک گاڑی سیلابی ریلے کی نذر ہوگئی، جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 19 سے 23 جولائی کے دوران ملک کے مشرقی اور مغربی دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق شدید مون سون ہواؤں اور مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ 20 سے 23 جولائی کے دوران گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب میں کہیں کہیں انتہائی شدید بارشوں کا سبب بن سکتا ہے۔ادارے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی بالائی پنجاب میں فلیش فلڈ، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ دریائے چناب کے مقام مارالہ اور دریائے جہلم کے منگلا کے بالائی علاقوں میں بھی سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے اور متعلقہ صوبائی اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • قومی اہمیت کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندرمکمل کیا جائے،وزیراعظم

    قومی اہمیت کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندرمکمل کیا جائے،وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی ہے.

    ملاقات میں ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ قومی اہمیت کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے باہمی تعاون اور مؤثر رابطے کے ذریعے منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کریں تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات پہنچ سکیں۔ملاقات میں قومی ترقی کے مختلف پہلوؤں اور آئندہ کے ترقیاتی اہداف پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

  • امریکا کے نویں رات بھی ایران پر حملے،ایران کی جوابی کاروائی،عراقچی کا دوٹوک مؤقف

    امریکا کے نویں رات بھی ایران پر حملے،ایران کی جوابی کاروائی،عراقچی کا دوٹوک مؤقف

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران میدان جنگ میں واضح برتری حاصل کر لے گا، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی تنصیبات اور اہداف پر متعدد حملوں کے دعوے بھی کیے ہیں۔

    عباس عراقچی نے ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کا اختتام یا تو مکمل عسکری کامیابی کے ذریعے ممکن ہے یا پھر ایسے مذاکرات کے ذریعے جن سے پہلے فوجی محاذ پر ٹھوس اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سیاسی قیادت کو جنگ جاری رکھنے یا مذاکرات کا فیصلہ مکمل حساب کتاب اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کی جانوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں غیر ضروری خطرات مول نہیں لیے جا سکتے، اس لیے ہر مرحلے پر یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جنگ جاری رکھنے کا فائدہ زیادہ ہے یا اس کی قیمت۔ ان کے مطابق بعض نقصانات کے باوجود ایران اس تنازع کے دوران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر سامنے آیا اور اس نے اپنے نظام کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔

    اس سے قبل عباس عراقچی نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ 12 روزہ جنگ سے قبل ایران کو مذاکرات کے لیے دباؤ اور ترغیب دینے کی کوشش کی گئی، تاہم ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے اور نہ ہی لالچ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کسی صورت فروخت یا ترک نہیں کی جا سکتی اور جنگ کے باوجود ایران کی بنیادی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول دنیا کو اب احساس ہو چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی اہم اسٹریٹجک طاقت ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی کامیاب کارروائیاں کیں۔ سینٹکام کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فورسز مکمل طور پر مستعد ہیں اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے تیار رہیں گی۔

    ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے متعدد جوابی کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق کویت میں امریکی ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو ڈرون حملے میں تباہ کیا گیا جبکہ علی السالم ایئر بیس پر موجود ہینگر اور فوجی آلات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ MQ-9 ڈرون بیس پر حملے میں متعدد ڈرون تباہ کر دیے گئے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں سے تباہ ہو گئے اور جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز ایندھن کی ترسیل کے لیے محفوظ نہیں رہے گی۔

    علاوہ ازیں پاسداران انقلاب نے شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق صوبہ لرستان سے دشمن کے اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر بھی داغی گئی۔

    اسی دوران بحرین میں امریکی سفارتخانے نے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد ایران منامہ میں بعض مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ سفارتخانے نے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے عمان کے شمال مغرب میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع بھی دی ہے۔

  • کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کاروائی

    کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کاروائی

    پاک افغان سرحد، کرم،کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ، پاکستان سیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی، دشمن کی توپیں خاموش کروا دی گئیں

    افغان طالبان نے کرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں کو بھاری ہتھیاروں، مارٹرز اور دیگر اسلحے سے بلااشتعال نشانہ بنایا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سمیت توپ خانے سے نشانہ بنایا۔ پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ شدید جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان متعدد پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے

    سرحدی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے دشمن کی کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے فورسز مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہیں۔

  • ‎بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 32 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور ڈرون برآمد

    ‎بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 32 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور ڈرون برآمد

    ‎بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشن میں اب تک 32 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ علاقے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، ایک ڈرون اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مقامی طور پر تیار کیے گئے پانچ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز)بروقت تلاش کر کے ناکارہ بنا دیے، جس سے ممکنہ بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک کواڈ کاپٹر (ڈرون)، ایک اینٹی ڈرون گن، تین سب مشین گنز (ایس ایم جیز) اور ایک ایم فور رائفل بھی قبضے میں لی گئی۔ اس کے علاوہ متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ہے۔ فورسز مرحلہ وار مختلف مقامات کی تلاشی لے رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے اور دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
    ‎سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔