Baaghi TV

دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی، فتنہ الخوار ج کا نشانہ مساجد اور معصوم عوام

گزشتہ 2 دہائیوں میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے متعدد بار مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا

فتنہ الخوارج مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے گمراہ کن عزائم حاصل کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں،فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ہاتھوں خیبر پختونخوا کی مساجد سب سے زیادہ متاثر ہوئیں، ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں مساجد اور معصوم نمازی فتنہ الخوارج کی بربریت کا شکار ہوئے،فروری 2026 اسلام آباد مسجد میں خودکش حملہ کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے ، 2023 میں دو مساجد پولیس لائنز پشاور اور ہنگو خیبر پختونخواہ میں دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ،مارچ 2022 میں پشاور، کوچہ رسالدار مسجد بم دھماکا میں متعدد بے گناہ افراد شہید ہوئے ،مارچ 2017 پاراچنار، کرم ایجنسی میں مسجد کے قریب کار بم دھماکا میں لاتعداد شہری شہید اور زخمی ہوئے ،ستمبر 2016، مہمند ایجنسی میں خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے ،جنوری 2015، شکارپور، سندھ مسجد میں دھماکہ سے متعدد نمازی شہید ہوئے ،فروری 2012 پاراچنار، کرم ایجنسی بازار کی مسجد کے قریب خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید ہوئے ، 2010 دَرہ آدم خیل، قومی مسجد اور کرم ایجنسی، سپین تال مسجد میں خود کش حملوں کے دوران متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے،فروری 2010 کوہاٹ، خیبر پختونخوا میں مسجد پر خودکش حملہ کے دوران بے گناہ نمازی شہید ہوئے

فتنہ الخوارج کی جانب سے مساجد میں رقص کرنے سمیت بے حرمتی کے کئی دلخراش واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں،علماء اکرام کی رائے کے مطابق احادیث میں خوارج کی نشانیاں واضح بتائی گئی ہیں کہ یہ لوگ کم عقل ہو نگے ،خوراج کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے،مساجد اور عبادت گاہوں میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والا کبھی بھی دین اسلام کاداعی نہیں ہو سکتے،

ماہرین کے مطابق اسلام امن کا درس دیتا اور تلقین کرتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے،افغان طالبان رجیم کی جانب سے کبھی پاکستان میں مساجد کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت نہیں کی گئی ،

More posts