Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اجیت دوول کے جھوٹے دعوے،بھارت پھر پکڑاگیا،بھگوت مان نے آئینہ دکھا دیا

    اجیت دوول کے جھوٹے دعوے،بھارت پھر پکڑاگیا،بھگوت مان نے آئینہ دکھا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشرلقمان نے کہا ہےکہ بھارت میں‌اگر کوئی وی لاگ سن رہا ہے اور اجیت دوول کی سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھ کر بھی بھارت کی تباہی کا یقین نہیں آ رہا اگر انکی سینا کی زبان پر اعتبار کرنے کو بھی تیار نہیں تو کرنل صوفیہ کی ویڈیو پریس کانفرنس والی دوبارہ دکھائی جانی چاہئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرنل صوفیہ قریشی نے پریس کانفرنس میں نہ صرف فضائی اڈوں ،ایئر ڈیفنس سسٹم کی تباہی کا اعتراف کیا تھا بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ بھارت مزید جنگ نہیں چاہتا،یہ بھارت کا اعتراف شکست تھا،اجیت میں تھوڑی سی بھی غیرت باقی ہے تو اس پریس کانفرنس کی وضاحت کرنی چاہئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 بار یہ بات دوہرا چکے کہ پاکستان بھارت کے دوران سیز فائر انہوں نے کروایا اور اسکی درخواست انڈیا نے کی، اجیت میں تھوڑی سی شرم ہے تو اس کی تردید دکھا دیں،یہ بتائیں شیوانگی سمیت سات پائلٹ کہاں ہیں، اجیت دوول کے دل میں ملک اور سینا کا ذرا سا بھی احترام ہے تو ایک سوال کا جواب دے دیں،پاکستان کے جوابی حملے میں واقعی کوئی نقصان نہیں ہوا تو سو جوان بھارتی کیسے مر گئے ،پوری دنیا مانتی ہے پاکستان نے بھارت کو جنگ میں صرف زخمی نہیں کیا بلکہ زہریلے دانت کو بھی توڑ دیا، بھارتی تجزیہ کار مسلسل بھارت کو مسلسل ذلیل کر رہے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کے فریب کو بھارتی سمجھ چکے ہیں، میڈیا پر بھارت سرکار کا مذاق اڑا رہے ہیں،بھگونت مان بالکل ٹھیک کہہ رہا مودی کو اڈانی اور امبانی کے علاوہ کسی کی فکر نہیں.

  • ایف سی کو ملک بھر میں کام کرنے کا اختیار مل گیا

    ایف سی کو ملک بھر میں کام کرنے کا اختیار مل گیا

    وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو ملک بھر میں کام کرنے کا بااختیار بنا دیا ہے۔ لا اینڈ جسٹس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری ری آرگنائزیشن آرڈیننس 2025 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت فرنٹیئر کانسٹیبلری کا نام بدل کر فیڈرل کانسٹیبلری رکھا جائے گا۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ آرڈیننس کے مطابق فیڈرل کانسٹیبلری کی ساخت اور قوانین وضع کیے جائیں گے، جس میں ہر ڈویژن میں ایک ونگ کمانڈر تعینات کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایف سی کو چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی کام کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔آرڈیننس کے تحت، فیڈرل کانسٹیبلری کا دائرہ اختیار اب صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ یہ فیصلہ ایف سی ایکٹ 1915 میں ترامیم کے بعد لیا گیا ہے تاکہ ادارے کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جا سکے۔ اب ایف سی ملک کے تمام صوبوں اور وفاقی علاقوں میں داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے اور امن و امان کے قیام کے لیے کام کرے گی۔

    آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایف سی کے سربراہ یعنی انسپکٹر جنرل (آئی جی) کی تقرری وفاقی حکومت کرے گی۔ ہر ڈویژن میں تعینات ونگ کمانڈر کا رینک ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے برابر ہوگا۔ وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ وفاقی ریزرو فورس کے تحت اضافی اہلکار بھی بھرتی کر سکے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر مدد فراہم کی جا سکے۔فیڈرل کانسٹیبلری کی بنیادی ذمہ داریوں میں ملک بھر میں فسادات اور ہنگامی صورتحال کا کنٹرول، داخلی سکیورٹی کو یقینی بنانا، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کا تحفظ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی کی دو بڑی ڈویژنز قائم کی جائیں گی: ایک سکیورٹی ڈویژن اور دوسری فیڈرل ریزرو ڈویژن۔

    فیڈرل کانسٹیبلری کی تنظیم نو کے تحت، بھرتی کے لیے ملک بھر میں دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ نئی کمانڈ اور آپریشنل ذمہ داریاں پولیس سروس آف پاکستان کے تجربہ کار افسران سنبھالیں گے تاکہ ادارے کی کارکردگی میں بہتری اور شفافیت لائی جا سکے۔

  • بھارت کا یاترا کی آڑ میں فوجی تسلط اور پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب

    بھارت کا یاترا کی آڑ میں فوجی تسلط اور پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب

    انسداد دہشتگردی اور احتیاطی سیکیورٹی کے نام پر مودی کی پاکستان کے خلاف ایک اور سازش سامنے آئی ہے

    مودی سرکار نےپہلگام فالس فلیگ کی ہزیمت مٹانے کے لیے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں آپریشن شیوہ کا آغازکر دیا،مودی کی جانب سے فوجی اقدامات انسداد دہشتگردی کے لیے نہیں بلکہ سیاسی جنگ کے ہتھیار ہیں،مودی سرکار مذہبی رسومات اور حفاظتی انتظامات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں فوجی موجودگی کو جواز فراہم کر رہی ہے ،امرناتھ یاترا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آپریشن شیوہ 2025 شروع کیا گیا ہے،پاکستان سے کشمیر میں دراندازی روکنے کے لیے 8,500 سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں،اودھم پور اور کشتواڑ میں حالیہ جھڑپیں عسکری شدت پسندی کی علامت ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق راجوری، پونچھ، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں 40 سے 50 پاکستانی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، آپریشن سندور کے بعد پاکستان نے لائن آف کنٹرول کے ساتھ دہشتگردوں کو دوبارہ تعینات کر دیا ہے،

    بھارت فرضی خطرات گھڑ کر پاکستان کو بدنام اور کشمیری مزاحمت کو دہشتگردی ثابت کرنا چاہتا ہے،بھارتی فوج کے مستقل آپریشنز مقبوضہ کشمیر پر زبردستی مسلط ہونے کی علامت ہیں ،یاترا کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو مکمل فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے،اگر آپریشن سندور کامیاب تھا تو اب دوبارہ ہزاروں فوجی مقبوضہ کشمیر میں کیوں تعینات کیے جا رہے ہیں؟ مودی سرکار امرناتھ یاترا کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کر کے کشمیری شناخت مٹا رہی ہے

  • کیسےمودی نے بھارت میں فاشزم کو پروان چڑھایا؟

    کیسےمودی نے بھارت میں فاشزم کو پروان چڑھایا؟

    مودی کا اقتدار بھارت کے لیے جمہوریت نہیں بلکہ فاشزم اور آمریت کی راہ ثابت ہو رہا ہے

    مودی سرکار نے جمہوریت کے نام پر ایسا نظام قائم کیا جہاں صرف حکمراں کی زبان بولی جاتی ہے،عدلیہ، میڈیا اور ریاستی اداروں پر مودی سرکار کا شکنجہ بھارت کو ایک خالص آمرانہ ریاست میں تبدیل کر رہا ہے،مودی سرکار کی پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر سب سے بڑی جمہوریت کے بجائے فسطائیت کی علامت بنا دیا ،حال ہی میں سینئر صحافی پریم شنکر جھا نے مودی سرکار پر مفصل کتاب لکھی ،جس میں بھارت کی جمہوریت کے زوال کو بیان کیا گیا،کتاب میں بتایا گیا کہ مودی نے بطور وزیر اعظم بھارت کو تدریجی طور پر فاشسٹ ریاست میں تبدیل کیا

    بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق؛”پریم شنکر جھا نے عدلیہ، میڈیا اور وفاقی ڈھانچے پر مودی کے منظم حملوں کو بے نقاب کیا”مودی نے حکومت سنبھالتے ہی وزارتوں میں کیمرے لگوا کر صحافیوں کے پریس انفارمیشن بیورو کارڈز منسوخ کردیے، صحافیوں اور بیوروکریسی کے درمیان آزادانہ رابطہ ختم کرکے صرف سرکاری بیانیہ نافذ کیا گیا، وزارتوں کے فیصلے سرکاری وزراء کی جگہ بی جے پی کے نامزد افراد کے مشورے سے ہونے لگے، آزادی صحافت پر حملے کے تحت مودی نے میڈیا کو اشتہارات کی بندش اور جھوٹے مالی مقدمات میں جکڑ لیا، این ڈی ٹی وی کے بانیوں پر ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگا کر چینل کو مفلوج کیا گیا،بالآخر این ڈی ٹی وی کو اڈانی گروپ کے ہاتھ فروخت کروا کر سرکاری ترجمان بنادیا گیا، عدلیہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد پرکشش عہدے دیکر مشروط وفاداری خریدی گئی، سابق چیف جسٹس پی ستیہ شیوم کو گورنر اور اے ایم کھانولکر کو لوک پال بنایا گیا، مودی نے اپنی حکومت کے دوران نہ کبھی پریس کانفرنس کی نہ قومی ترقیاتی کونسل کی میٹنگ بلائی،منصوبہ بندی کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ قائم کیا اور ترقیاتی فنڈز کو ذاتی و جماعتی مفاد کے مطابق بانٹا گیا، نیتی آیوگ مودی سرکار کی پالیسی ساز تنظیم جو منصوبہ بندی کمیشن کی جگہ لاکر فنڈز پر سیاسی کنٹرول کا ذریعہ بنی،

    مودی سرکار نے اختلاف رائے کو جرم اور صحافت کو غلامی میں بدل دیا ،بھارت میں آئین قانون اور شفافیت سب کچھ مودی سرکار کی مرضی کے تابع کر دیا گیا ،مودی نے اداروں کو نوکرشاہی میں بدل کر بھارت کو شخصی حکمرانی کی تجربہ گاہ بنادیا ،مودی کے بھارت میں انصاف، آزادی اور سچ کا قتل جبکہ اختلاف رائے غداری اور سچ بولنا جرم ہے

  • الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے،وکیل پی ٹی آئی پی نے کہا کہ جنرل نشستوں کے بعد ہی مخصوص نشستیں ملنی ہیں،جتنی جنرل نشستیں ہونگی اتنی ہی مخصوص نشستیں ملنی چاہیے، سب سے اہم مسئلہ کٹ آف تاریخ کا ہے.قانون میں ایسی کوئی تاریخ نہیں کہ اس تاریخ تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ کرنا لازم ہے،اگر ضمنی انتخابات کو بھی دیکھنے کا کہا جائے تو مخصوص نشستوں والا معاملہ مزید گھمبیر ہوجائے گا،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ اگر ضمنی انتخابات میں کسی جماعت کی سیٹیں کم ہوجائیں تو کیا مخصوص نشستیں کم ہوسکتیں ہیں،وکیل پی ٹی آئی پی نے کہا کہ نہیں،مخصوص نشستیں واپس نہیں لی جاسکتیں،
    ہمارے تحفظات ہیں کہ ہمارے دو نمائندوں کو ایک شمار کیا گیا ہےنوٹیفکیشنز کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو ہماری دو مخصوص نشستیں بنتی ہیں،

    الیکشن کمیشن میں خیبرپختونخواہ اسیمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران بجلی چلی گئی ،الیکشن کمیشن نےکمرے کے دروازے اور کھڑکیاں کھول کرروشنی کا استعمال کیا لیکن سماعت ملتوی نہ کی،

  • خیبرپختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بازگشت،اہم مشاورت حتمی مرحلے میں

    خیبرپختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بازگشت،اہم مشاورت حتمی مرحلے میں

    پشاور: خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے، جہاں صوبے کی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اہم مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر امیر مقام، وزیراعظم کے مشیر پرویز خٹک اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی، جس میں صوبائی سیاسی صورتحال، ضم شدہ اضلاع کے مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق یہ غیر رسمی ملاقات پرویز خٹک کی رہائش گاہ پر ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ہوئی، مگر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی قیادت نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور ایک متحدہ لائحہ عمل کے تحت انتخابات لڑنے پر اصولی اتفاق رائے قائم کیا ہے۔اسی دوران ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جاری بدامنی اور عوامی تشویش پر بھی غور کیا گیا اور وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کے کردار اور کارکردگی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اپوزیشن ان اضلاع کے مسائل کو سیاسی ایجنڈے میں اہم مقام دے رہی ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔

    دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام کے درمیان بھی گورنر ہاؤس پشاور میں ایک علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں صوبے کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر غور و خوض کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ گورنر ہاؤس میں اپوزیشن اراکین اسمبلی کی ایک بڑی بیٹھک جلد بلائی جائے گی، جس میں صوبے کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی اور مشترکہ حکمت عملی کی طرف پیش رفت، صوبے کی سیاسی صورتحال میں ممکنہ بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ خاص طور پر سینیٹ انتخابات اس نئی سیاسی صف بندی کا پہلا بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں، جس کا اثر نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی سیاسی سیاست پر بھی پڑے گا۔

  • ترجمان پاک فوج کا مظفرآباد دورہ،سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست

    ترجمان پاک فوج کا مظفرآباد دورہ،سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے مظفر آباد کا دورہ کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی آزاد جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے،شرکا ء اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے درمیان سوال و جواب کی جامع نشست کا بھی اہتمام کیا گیا،حاضرین کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی، شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی،

    کشمیری عوام نےپاک آرمی سے محبت کا انوکھا اظہار کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کو کشمیری ثقافتی لباس پیش کیا،
    آزاد جموں و کشمیر کی عوام نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا،شرکاء نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے لہرا کر پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گے،کشمیر بنےگا پاکستان کے نعروں کی گونج بھی نظر آئی.

  • بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی  منصوبہ بندی جاری

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری ہے

    بھارت اسرائیل عسکری اتحاد کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں مبھارت دنیا کا ایک بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہونے کے باوجودآپریشن سندور میں ناکامی سے دوچار ہوا،جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار نے اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے،یہود ہنود گٹھ جوڑ کے بعد اسلحے کی خریدو فروخت پاکستان سمیت مسلم ممالک کے خلاف گھناؤنی سازش ہے ،روس، فرانس ،امریکہ اوراسرائیل سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خرید کر مودی سرکار نے خطے کو اسلحے کا مرکز بنا دیا،مختلف بھارتی اخبارات اور مودی سرکار کے بیانیے نے بھارت اور اسرائیل کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دے دیا

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق اسرائیل اور بھارت کو مسلم ممالک سے مشترکہ خطرہ ہے، اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2012 سے 2022 کے دوران 37 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدا،بھارت، اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، گزشتہ دہائی میں اسرائیلی فوجی سازوسامان اور دفاعی ٹیکنالوجی پر تقریباً 2.9 بلین ڈالر خرچ کیا،”میک ان انڈیا” منصوبے کے تحت بھارتی اوراسرائیلی کمپنیاں مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کی ٹیکنالوجی بھی تیار کر رہی ہیں،بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق؛”یہ ہتھیار نہ صرف غزہ میں اسرائیلی فوج استعمال کر رہی ہے بلکہ بھارتی فوج بھی ان کا استعمال مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے”

    بھارتی ادارے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کی تحقیقات کے مطابق؛ "اسرائیل نے 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران بھارت کو اسلحہ فراہم کیا”دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تجارتی معاہدہ بھی زیر غور ہے، ریاستی دہشتگردی کے لیے اسرائیل بھارت کو جدید میزائل، انٹیلیجنس اور نگرانی کے نظام فراہم کر رہا ہے،کشمیر سے غزہ تک، بھارتی و اسرائیلی افواج ایک جیسے ہتھیار اور جابرانہ حربے استعمال کر رہی ہیں،صہیونیت و ہندوتوا کا اسلاموفوبیا پر مبنی نظریہ مسلم دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ بن چکا ہے ،اسرائیل و بھارت کی مسلم ممالک کے خلاف دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی خطے کو جنگ میں دھکیل رہی ہے

  • آپریشن سندور،مودی سرکار نے "جھوٹ” پر مبنی کتاب شائع کر دی

    آپریشن سندور،مودی سرکار نے "جھوٹ” پر مبنی کتاب شائع کر دی

    پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب،مودی سرکار نے جھوٹ پر مبنی کتاب شائع کر دی

    مودی سرکار کا آپریشن سندور میں ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے جھوٹا پروپیگنڈا جاری ہے،بھارت نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے "آپریشن سندور” کے عنوان سے کتاب شائع کر دی،کتاب کو بیس بھارتی تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں سے منسوب کیا گیا ہے جن کو ’’را‘‘ سے منسلک کیا گیا ،یہ کتاب117 صفحات پر مشتمل ہے جس کی ترتیب تک درست نہیں ،اس مضحکہ خیز کتاب کا مقصد بھارتی عوام اور عالمی برادری کو گمراہ کرکے جھوٹ کو پروان چڑھانا ہے،یہ کتاب بھارتی اسٹریٹجک سوچ کی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے

    کتاب میں کسی تحقیق یا حوالہ کا ذکر بھی موجود نہیں، جو کسی سنجیدہ کتاب کی بنیادی شرط ہے،یہ کتاب محض فرضی الفاظ کو اکٹھا کر کے جھوٹ پر مبنی داستان پیش کرتی ہے،کتاب میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی تضاد ہے،کتاب میں آپریشن سندور کے دورانیے کے حوالے سے بھی تضاد ہے، بھارت کی سیاسی، عسکری اور سفارتی غلطیوں کا کتاب میں سرسری ذکر کیا گیا،کتاب میں آپریشن سندور کے دوران ہونے والے نقصانات پر کوئی سچا یا تفصیلی تجزیہ موجود نہیں،کتاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی انتہائی نامناسب زبان استعمال کی گئی ،کتاب میں اسرائیل کی کھل کر حمایت نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا گیا ہے،یہ تصنیف بھارتی فوج، حکومت اور انٹیلیجنس اداروں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے،یہ کتاب تلخ حقیقت ، بھارت میں آزادی اظہار اب محض ایک خواب بن چکا ہے

  • بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا؛  امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا

    بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا؛ امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا

    بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا؛ امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا

    امریکی صدر نے برکس ممالک(برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے بارےمیں سخت موقف اختیار کیا ہے، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے حوالے سے بھارت کو کوئی استثنیٰ نہیں دیا جائے گا،بھارت بھی برکس کا رکن ہے وہ بھی 10 فیصد ٹیرف کے دائرے میں آئے گا، برکس کاقیام ہمیں نقصان پہنچانے اور ڈالر کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا ہے،اگر کوئی ڈالر کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو ہم اسکی اجازت نہیں دیں گے،

    ناکام پالیسیوں کی بدولت بھارت کو سفارتی اور معاشی میدان میں ہزیمت کا سامناہے