Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم سے ترک وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کی ملاقات

    وزیراعظم سے ترک وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیر خارجہ عزت مآب ہاکان فیدان اور قومی دفاع کے وزیر عزت مآب یاسر گلر نے ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف, قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    ترک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اس سال کے دوران ترکیہ کے صدر عزت مآب رجب طیب ایردوان کے ساتھ ہوئی اپنی مختلف ملاقاتوں بشمول 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے دوران حالیہ ملاقات،کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے پاک -ترکیہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

    نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی مشترکہ صدارت میں مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے جس سے کثیر جہتی شعبوں میں تعاون کو تقویت ملے گی۔

    اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے لیے اپنی مضبوط اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے، وزیر اعظم نے تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی ماحول بالخصوص غزہ اور ایران کے تناظر میں دونوں فریقوں کے درمیان قریبی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعہ کے دوران پاکستان کی مستقل حمایت پر ترک قوم اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے 5 بلین امریکی ڈالرز کے باہمی متفقہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کی دونوں ممالک کی جانب سے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ بڑھانے کی دعوت دی اور ترکیہ کو پاکستان کی ساختی اصلاحات اور اقتصادی ترقی میں اشتراک کی دعوت دی۔

  • بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت، مالی معاونت کررہا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت، مالی معاونت کررہا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہےکہ بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت اور مالی معاونت کررہا ہے جب کہ ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کوبھارت نے بطورپالیسی پاکستان کے خلاف اپنایا ہوا ہے۔

    غیر ملکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے مذموم عزائم پاکستان کی سلامتی بالخصوص بلوچستان کو غیرمستحکم کرنے کی منظم سازش ہے، بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت اور مالی معاونت کررہا ہے اور ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کوبھارت نے بطورپالیسی پاکستان کے خلاف اپنایا ہوا ہے، بھارتی سیاسی قیادت متعدد مواقع پر پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کا اعتراف کرچکی ہے، امریکا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک بھارتی ریاستی دہشتگردی کا اعتراف کر چکے ہیں، بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ اجیت دوول ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ڈکلئیرڈ ایٹمی طاقت ہے جس کی جوہری صلاحیت ناقابل تسخیر ہے، پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر محفوظ ہے اور کوئی بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی جرات نہیں کر سکتا، یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور موجودہ علاقائی توازن پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے،پاکستان نے اسلامی ریاست کے خلاف کسی بھی جارحیت کوعلاقائی استحکام کےلیے خطرہ قراردیا ہے، اسلام میں جہاد یا قتال کا اختیار صر ف ریاست کے پاس ہے، جہاد یا قتال کا کسی فرد ، تنظیم یا گروہ کو اختیار نہیں، فتنہ الخوارج کا اسلام، انسانیت ، پاکستان یا پاکستانی روایات سے کوئی تعلق نہیں، خارجیوں کی اصطلاح پاکستانی فوج اور میڈیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہورہی ہے جب کہ فتنہ الہندوستان کی اصطلاح ان دہشتگردوں کے لیے ہے جو بھارتی حمایت یافتہ ہیں، فتنہ الہندوستان خصوصاً بلوچستان میں ملک کو غیرمستحکم کرنےمیں سرگرم ہیں۔

  • پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی فضائیہ کے 4 رافیل طیارے تباہ ہونے کی تصدیق

    پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی فضائیہ کے 4 رافیل طیارے تباہ ہونے کی تصدیق

    پاکستانی فضائیہ نے 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی رات ایک بڑے فضائی معرکے میں بھارتی فضائیہ کے چار جدید ترین رافیل جنگی طیارے مار گرائے۔ یہ معلومات اب انسانی انٹیلیجنس اور اوپن سورس انٹیلیجنس کے ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق شدہ ہیں۔ گرائے جانے والے رافیل طیاروں کے سیریل نمبرز اور متعلقہ اسکواڈرنز کی تفصیلات بھی سامنے آ چکی ہیں

    گرائےگئے رافیل طیاروں کی تفصیلات:
    BS 001 – رافیل EH، نمبر 17 اسکواڈرن، ویسٹرن ایئر کمانڈ (Western Air Command)، "گولڈن ایروز” (Golden Arrows)۔

    BS 022 – رافیل EH، نمبر 101 اسکواڈرن، ایسٹرن ایئر کمانڈ (Eastern Air Command)، "فیلکنز” (Falcons)۔

    BS 027 – رافیل EH، نمبر 101 اسکواڈرن، ایسٹرن ایئر کمانڈ، "فیلکنز”۔

    BS 021 – رافیل EH، نمبر 101 اسکواڈرن، ایسٹرن ایئر کمانڈ، "فیلکنز”۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی پائلٹس نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے جدید طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ دفاعی تجزیہ کار اور ایوی ایشن ایکسپرٹ ایلن وارنز (Alan Warnes) نے بھی ان اطلاعات کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی فضائیہ نے اس واقعے میں واقعی چار رافیل طیارے کھوئے، جو کہ اس کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ وارنز کا کہنا ہے کہ یہ نقصان نہ صرف آپریشنل اعتبار سے اہم ہے بلکہ رافیل جیسے قیمتی اور جدید ترین طیاروں کا اس طرح نقصان بھارتی فضائی حکمتِ عملی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔

    ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ جھڑپیں اسی طرح جاری رہیں تو خطے میں کسی بڑی جنگ کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی فضائیہ کی یہ کامیابی اس کی تربیت، صلاحیت اور ٹیکنیکل برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  • راجھستان میں بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ

    راجھستان میں بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ

    بدھ کو راجستھان کے چورو ضلع میں فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کے گرنے سے دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق حادثہ اچانک پیش آیا اور جائے وقوع پر فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ فضائیہ کی جانب سے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات موصول ہوتے ہی خبر کو اپڈیٹ کر دیا جائے گا.

  • پاک فضائیہ کی بھارت سے جھڑپ میں کارکردگی قابل ستائش، چینی ایئر چیف کا اظہارِ تحسین

    پاک فضائیہ کی بھارت سے جھڑپ میں کارکردگی قابل ستائش، چینی ایئر چیف کا اظہارِ تحسین

    چینی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل وانگ گانگ نے پاک فضائیہ کی حالیہ بھارت سے جھڑپ میں شاندار کارکردگی کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل وانگ گانگ نے ایئر ہیڈکوارٹرز میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی، جس میں فضائی قوت، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایئر چیف نے چینی وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان و چین کے تاریخی و اسٹریٹجک تعلقات کو اجاگر کیا۔ چینی وفد کو پاک فضائیہ کی جدید صلاحیتوں اور آپریشنل حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    ایئر چیف نے تربیت، ٹیکنالوجی اور آپریشنل شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ چینی جنرل نے پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاریوں اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی تعریف کی۔جنرل وانگ گانگ نے بھارت سے حالیہ جھڑپ کے دوران پاک فضائیہ کی کارکردگی کو "بہادری، نظم و ضبط اور درستگی” کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک اشتراک میں مزید مضبوطی کا مظہر ہے۔

    اٹلی:ایک شخص سیکیورٹی توڑ کر جہاز کے انجن میں جا گھسا، ہلاک

    10 جولائی تک شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ملک گیر الرٹ جاری

  • حافظ سعید و مسعود اظہر کی حوالگی حکومت کی پالیسی نہیں: خرم دستگیر

    حافظ سعید و مسعود اظہر کی حوالگی حکومت کی پالیسی نہیں: خرم دستگیر

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کا حافظ سعید اور مسعود اظہر کی بھارت حوالگی سے متعلق بیان پیپلز پارٹی کی پالیسی ہو سکتی ہے، لیکن اس کا حکومت پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔

    ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ ایسے حساس قومی معاملے پر بیان دینے سے قبل ریاست سے مشاورت ضروری ہے، اور بلاول بھٹو کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور FATF جیسے بین الاقوامی فورمز پر مؤثر مؤقف اپنا کر دنیا کو قائل کیا۔ پاکستان اب ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرا ہے، جبکہ بھارت کا دہشت گردی سے متعلق بیانیہ عالمی سطح پر ناکام ہو چکا ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت نے خود پاکستان میں دہشت گردی کروانے کا اعتراف کیا ہے، اور جنگی رویہ اپنایا، لیکن پاکستان نے ہمیشہ امن اور استحکام کا راستہ اختیار کیا۔سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ماضی میں عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ بڑی قابلیت سے پیش کیا، لیکن موجودہ بیان ان کی جماعت کی پالیسی ہو سکتا ہے، حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اب ہر معاملے پر صفائی دینے کی پالیسی ترک کرنی چاہیے، کیونکہ دنیا کے سامنے ہمارا مؤقف واضح ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

    خرم دستگیر نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی سے معذرت کرنی چاہیے تھی، جبکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات مکمل

    ملک میں شدید بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی، دو منزلہ پولیس چوکی دریا برد

    ملک میں شدید بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی، دو منزلہ پولیس چوکی دریا برد

    غزہ: اسرائیلی حملوں میں مزید 105 فلسطینی شہید

    محسن نقوی کی شرجیل میمن سے ملاقات،سیکیورٹی انتظامات کی تعریف، سیاسی امور پر گفتگو

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات مکمل

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات مکمل

    اسلام آباد میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکریٹری سطح کے پہلے باضابطہ مذاکرات منعقد ہوئے، جن میں دو طرفہ تعلقات، سیکیورٹی، تجارت اور علاقائی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق یہ مذاکرات پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے اپریل میں دورہ کابل کے دوران ہونے والے فیصلوں کے نتیجے میں ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے افغانستان و مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے فرسٹ پولیٹیکل ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔

    مذاکرات میں باہمی دلچسپی کے اہم موضوعات جیسے کہ سیکیورٹی، ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ تعاون، اور علاقائی روابط زیر غور آئے۔ دونوں فریقین نے دہشت گردی کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جبکہ پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

    تجارتی تعاون کے ضمن میں نائب وزیراعظم کے دورہ کابل میں اعلان کردہ سہولیات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں 10 فیصد پراسیسنگ فیس کا خاتمہ، انشورنس گارنٹی کی فراہمی، اسکیننگ و معائنہ میں کمی اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی فعالی شامل ہیں۔دونوں ممالک نے علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے کو تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیا اور فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

    مذاکرات میں افغان شہریوں کی واپسی اور قانونی آمدورفت کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاکستان نے بتایا کہ جنوری 2024 سے مختلف کیٹیگریز (طبی، سیاحت، تعلیم، کاروبار) میں 5 لاکھ سے زائد ویزے جاری کیے گئے ہیں۔فریقین نے مسلسل رابطے، تعاون اور دیرپا سلامتی کو دوطرفہ تعلقات اور علاقائی ترقی کی بنیاد قرار دیا اور ایڈیشنل سیکریٹری سطح کے مذاکرات کا اگلا دور باہمی مشاورت سے طے کرنے پر اتفاق کیا۔

    امریکا نے حیات تحریر الشام کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

    ملک میں شدید بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی، دو منزلہ پولیس چوکی دریا برد

    مریم نواز کی شیر کے حملے میں زخمی بچوں و خاتون کیلئے 5،5 لاکھ امداد

    غزہ: اسرائیلی حملوں میں مزید 105 فلسطینی شہید

    قطری شہزادی نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون بن گئیں

  • جنگیں میڈیا کی بیان بازی،  درآمد شدہ  فینسی جنگی ساز و سامان  یا سیاسی نعرے بازی سے نہیں جیتی جاتیں،آرمی چیف

    جنگیں میڈیا کی بیان بازی، درآمد شدہ فینسی جنگی ساز و سامان یا سیاسی نعرے بازی سے نہیں جیتی جاتیں،آرمی چیف

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،نشان امتیاز(ملٹری) نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا-

    فیلڈ مارشل نے ” نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس” کرنے والےمسلح افواج کے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کیا ،شرکاء سے خطاب کے دوران فیلڈ مارشل نے جنگ کے بدلتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی ،فیلڈ مارشل نے مشکل حالات میں پیچیدہ چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ذہنی تیاری، عملی فہم، اور ادارہ جاتی پیشہ ورانہ مہارت کی اہمیت پر زور دیا-

    آرمی چیف نے ہائبرڈ، روایتی اور غیر روایتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والی مستقبل کی قیادت کی تیاری میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جیسے اہم اداروں کے کردار کو سراہا،آرمی چیف نے سول اور ملٹری اداروں کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا-

    فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا،بھارت کی جانب سے آپریشن سندور میں ناکامی کی غیر منطقی توجیہات پیش کرنا ،دراصل بھارت کی آپریشنل تیاری اور اسٹریٹجک دور اندیشی کی کمی کو ثابت کرتا ہے، آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی میں بھارت کی جانب سے بیرونی حمایت جیسے الزامات غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی ہیں-

    فیلڈ مارشل نے کہا کہ اس قسم کے بیانات بھارت کی آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کرنے میں روایتی ہچکچا ہٹ کی عکاسی کرتے ہیں اور پاکستان کی دہائیوں پر مبنی حکمتِ عملی، مقامی صلاحیت اور مضبوط اداروں کی بنیاد پر کامیابی کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، خالصتاً دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ملکوں کو شامل کرنا، بھارت کی ناقص سیاسی کوشش ہے-

    انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے اس طرح کے بے بنیاد بیانات کا مقصد خطے میں فرضی” نیٹ سیکیورٹی پر وائڈر”کے خود ساختہ رول کی ناکام کوشش ہے ، وہ بھی ایسے وقت میں جب خطے کے ممالک بھارت کی جارحانہ اور ہندوتوا نظریے سے تنگ ہیں، بھارت کے خودغرضانہ اور تنگ نظر برتاؤ کے برعکس پاکستان نے اقوام عالم میں اصولی سفارتکاری پر مبنی دیرپا شراکت داری، باہمی احترام اور امن کی بنیاد پر تعلقات قائم کیے ہیں اور خود کو خطے میں نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر ثابت کیا ہے ، فیلڈ مارشل

    آرمی چیف نے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ” کسی بھی مہم جوئی، پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش یا اس کی خلاف ورزی کا بغیر کسی ہچکچکاہٹ کے فوری اور منہ توڑجواب دیا جائے گا ، ہماری آبادی کے مراکز، فوجی اڈوں، اقتصادی مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا شدید، گہرا، تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر زیادہ سخت جواب دیا جائے گا –

    آرمی چیف نے کہا کہ اس پیدا ہونے والی کشیدگی کی اصل ذمہ داری اس (بھارت) بصیرت سے محروم مغرور جارح پر عائد ہوگی، جو ایک خودمختار ایٹمی ریاست کے خلاف اشتعال انگیزی سے پیدا ہونے والے ممکنہ تباہ کن نتائج کا ادراک کرنے میں ناکام رہا ، جنگیں میڈیا کی بیان بازی، درآمد شدہ فینسی جنگی ساز و سامان یا سیاسی نعرے بازی سے نہیں جیتی جاتیں، جنگیں یقین ِ محکم ،پیشہ ورانہ قابلیت ، آپریشنل شفافیت، اداروں کی مضبوطی اور قومی عزم وحوصلےکے ذریعے جیتی جاتی ہیں-

    فیلڈ مارشل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جذبے اورجنگی تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا،فیلڈ مارشل نے فارغ التحصیل افسران پر زور دیا کہ؛
    ” وہ دیانتداری، بے لوث خدمت اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم پر ثابت قدم رہیں”-

  • مودی سرکار کی اگنی ویر اسکیم نے  بھارتی نوجوانوں کو  4 سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیا

    مودی سرکار کی اگنی ویر اسکیم نے بھارتی نوجوانوں کو 4 سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیا

    مودی سرکار نے اگنی ویر اسکیم کے نام پر بھارتی نوجوانوں کا مستقبل تباہ کردیا، اڈانی ڈیفنس غیر ملکی ہتھیاروں پر اپنا لیبل لگا کر قوم کو ’’میڈ اِن انڈیا‘‘کا فریب دے رہا ہے، اگنی ویر کوبھارتی عوام پر حب الوطنی کے نام پر مسلط کر کے منافع کمایا جا رہا ہے-

    مودی کی اگنی ویر سازش نے کروڑوں بھارتی نوجوانوں کو مستقل روزگار سے محروم کر کے 4 سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیا، اگنی ویر سازش کے تحت سپاہیوں سے پنشن، تحفظ اورمستقل نوکری کا حق چھین کر اڈانی کو اربوں کے دفاعی ٹھیکے دیئے،اگنی ویر سازش کے تحت مودی راج نے قومی سلامتی کے اداروں کو ذاتی مفادات اور سرمایہ داروں کے تجارتی عزائم کے تابع کر دیا۔

    کانگریس رہنما راہول گاندھی نے انکشاف کیا ہے کہ اگنی ویر اسکیم کا اصل مقصد فوجیوں کی پنشن، تنخواہوں اور اہل خانہ کی فلاح کے فنڈز کو کارپوریٹ دفاعی سودوں کی طرف منتقل کرنا تھا سپاہیوں کی پنشن کا پیسہ نکال کر اڈانی ڈیفنس کے اسلحہ کے کنٹریکٹس پر لگایا گیا، جو صرف لیبلنگ فیکٹری ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ ، انڈیکس نے دو حدیں عبور کر لیں

    انہوں نے کہا کہ اڈانی ڈیفنس نہ ہتھیار بناتا ہے نہ ڈرون، صرف بیرونِ ملک سے منگوایا گیا اسلحہ اپنے لیبل سے فروخت کرتا ہے۔ یہ اسکیم سپاہیوں کی قربانی کو اڈانی کے منافع میں بدلنے کی سازش ہے اگنی ویر اسکیم میں قومی دفاع کو کاروباری ماڈل میں جھونک دیا گیا ہے مودی سرکار نے وردی کا خواب بیچ کر اڈانی کو اربوں کےکنٹریکٹس تھما دیے، نوجوانوں کے جذبے کو کاروبار میں بدل دیا بی جے پی جنگی فضا بنا کر اسلحہ کے نام پر اپنے قریبی سرمایہ دار وں کو نواز رہی ہے جب کہ اگنی ویر کے جھانسے میں آکر غریب نوجوان قربانی دے رہے ہیں ۔

    برکس ممالک کی ایران پر حملوں کی مذمت، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    کانگریس رہنما نے کہا کہ مودی نےملک کی فوج کو قومی دفاع کے بجائے اڈانی جیسے دوستوں کے بزنس ماڈل کا حصہ بنا دیا ہے اگنی ویر اسکیم صرف کارپوریٹ منافع کا ایک خاموش ہتھیار بن چکی ہے، جو سکیورٹی کے نام پر سرمایہ داروں کی جیبیں بھرتی ہے اڈانی ڈیفنس غیر ملکی ہتھیاروں پر اپنا لیبل لگا کر قوم کو ’’میڈ اِن انڈیا‘‘کا فریب دے رہا ہے، اگنی ویر کوبھارتی عوام پر حب الوطنی کے نام پر مسلط کر کے منافع کمایا جا رہا ہے اگنی ویر اسکیم مودی راج کی بھارتی نوجوانوں کے مستقبل پر مسلط جنگ ہےبی جے پی کی جنگی سیاست کا سارا فائدہ اڈانی کو جاتا ہے اگنی ویر اسکیم نوجوانوں کے خوابوں کا سودا اور اڈانی کی تجوریاں بھرنے کا منصوبہ ثابت ہوئی ہے۔

    چین نے پاک بھارت جھڑپ کے بعد فرانس کے جنگی طیاروں پر سوالات اٹھا دیے

  • سکھوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر  بھارتی دہشتگردی کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھربے نقاب

    سکھوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھارتی دہشتگردی کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھربے نقاب

    بھارتی حکومت کی جانب سے سکھوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ریاستی دہشتگردی کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گیا ہے، بین الاقوامی جریدے دی گارڈین نے مودی سرکار کی ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کر دیا۔

    35 سالہ سکھ کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی برمنگھم میں مشکوک موت نے بھارتی سرکار پر سوال اٹھا دیئے دی گارڈین کے مطابق مقتول اوتار سنگھ پر بھارتی میڈیا نے مارچ 2023 کے احتجاج کے دوران لندن میں بھارتی پرچم اتارنے کا الزام لگایا تھا، 2016 میں اوتار سنگھ کو بھارتی ایجنسیوں سے زندگی کو خطرہ ہونے کی بنا پر برطا نیہ میں سیاسی پناہ ملی تھی۔

    دی گارڈین کے مطابق مقتول کے والد اور چچا 90 کی دہائی میں خالصتان کی حمایت کرنے پر ماورائے عدالت قتل کر دیئے گئے تھے اوتار سنگھ کے دوست جسوِندر سنگھ کے مطابق اوتار اپنی موت سے کچھ دن پہلے خوفزدہ تھے کہ انہیں ٹریس یا فالو کیا جا رہا ہے، اوتار سنگھ کی والدہ اور بہن کو حکام نے علیحدگی پسند رہنما امرت پال سنگھ کی تلاش کے سلسلے میں حراست میں لے رکھا تھا وکیل پولاک کے مطابق اوتار سنگھ کو زندگی کے خطرے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

    برطانوی فرانزک ماہر ڈاکٹر ایشلے فیگن ایرل کے مطابق سکھ کارکن کو زہر دیے جانے کا شبہ مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا،اوتار سنگھ کے اہل خانہ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے اوتار سنگھ کے قریبی عزیز جگجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں جواب چاہیے کہ اتنی دھمکیوں کے باوجود اوتار کی موت کیسے ہوئی؟‘‘

    بھارت اختلافی آوازوں کو خاموش کر کے بین الاقوامی سطح پر اقلیتوں کا قتل عام کر رہا ہے بی جے پی کیمیکل ہتھیار، اعصابی زہر اور ماورائے عدالت قتل سے سکھ تحریک کو کچل رہی ہے اوتار سنگھ کی موت کے بعد چند ہی ہفتوں میں خالصتانی کارکنان کا کینیڈا میں قتل سکھ تحریک کو کچلنے کی مذموم بھارتی سازش ہے، مودی سرکار نے ٹارگٹ کلنگ اور قتل کو اختلاف رائے کے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے، مودی کا بھارت اب ریاستی قتل و غارت گری کا عالمی چیمپیئن بن چکا ہے-