Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کابل جا کر چائے پینے اور دہشتگردوں کے لیےسرحد کھولنے سے نقصان ہوا،اسحاق ڈار

    کابل جا کر چائے پینے اور دہشتگردوں کے لیےسرحد کھولنے سے نقصان ہوا،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاک بھارت ملٹری ٹو ملٹری سیز فائر ٹھیک چل رہا ہے مگر بھارت کی سیاسی قیادت سے ہضم نہیں ہورہا۔

    ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشکل معاشی حالات میں ٹیک آف کیا اور اب پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہمارا ہدف ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے عجیب حرکت کی، بھارت نہ پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ رخ موڑسکتا ہے، بھارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر ہم نے بھرپورجواب دیا اور سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر ہم نے جواباً بھارتی ائیرلائنزکے لیے حدود بندکی، بھارت اب دنیا میں تنہائی کا شکار ہے ،قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں بھارت کو بھرپورجواب دینے کا فیصلہ ہوا، فضائیہ کے بہادرپائلٹس نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے جن میں سے 4 رافیل طیارے تھے، بھارت نے جان بوجھ کر اپنے 2 میزائل سکھ آبادی میں گرائے تاہم بھارتی بیانیے کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ملی،صبح سوا 8 بجے امریکی وزیرخارجہ نے فون پرکہا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے، جنگ شروع بھی بھارت نے کی تھی اور ختم بھی ان ہی کی درخواست پرہوئی، پاک بھارت ملٹری ٹو ملٹری سیز فائر ٹھیک چل رہا ہے مگر بھارت کی سیاسی قیادت سے ہضم نہیں ہورہا، دونوں ملکوں کی فوجیں بھی پوزیشن بدل چکی ہیں، ہمارا میزائل پروگرام پاکستان کی ڈھال ہے،کابل جا کر چائے پینے اور دہشتگردوں کے لیےسرحد کھولنے سے نقصان ہوا

  • باصلاحیت پاکستانی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں،وزیراعظم

    باصلاحیت پاکستانی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے وزارتوں کی کارکردگی بڑھانے اور ہر شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کیلئے اصلاحاتی عمل کی ہدایت کی ہے

    وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت بجلی کی جانب سے گورننس کی بہتری اور اصلاحات کیلئے ماہرین پر مشتمل نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سات دہائیوں سے اس ملک کو جس نظام سے چلانے کی کوشش کی گئی، اس سے پاکستان کی ترقی ممکن نہیں.فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں. پاکستان وسائل سے مالامال ہے، پاکستان کی نوجوان افرادی قوت پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہےباصلاحیت پاکستانی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں. حکومت کی اولین ترجیحات میں فرسودہ نظام کو جدید، ڈیجیٹل اور مؤثر گورننس کے نظام میں تبدیل کرنا ہے.وزیر بجلی سردار اویس خان لغاری اور انکی ٹیم کی انتھک محنت تعریف کے قابل ہے. نظام کی تبدیلی کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی معاونت انتہائی ضروری ہے. وزارت بجلی کی اصلاحات، نقصانات میں کمی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت باقی وزارتوں کیلئے قابل تقلید مثال ہے. شعبے کے ماہرین اور کنسلٹنٹس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات سے نئی سوچ اور گورننس کے طریقہ کار کو رائج کرنے میں معاون ہونگے.

    وزیرِ اعظم نے بہترین افرادی قوت کی بھرتیوں، وزارتوں کو جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے اور اصلاحات سے گورننس کی بہتری کی تجاویز کے حوالے سے کمیٹی کے قیام کی ہدایت کی،کمیٹی وزارت بجلی کی اصلاحات کو مد نظر رکھتے ہوئے باقی وزارتوں و اداروں کی تنظیمِ نو کے حوالے سے قابل عمل تجاویز کو حتمی شکل دیگی. اجلاس کو وزارت بجلی کی اصلاحات پر جامع بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل الیکٹرسٹی پلان کے تحت وزارت میں 134 تزویراتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا جس میں وزارت پالیسی، نگرانی اور مستقبل کی منصوبہ سازی جبکہ شعبے کے ماہرین پر مشتمل ٹیکنکل-آرم عملدرآمد، جدت اور منصوبہ بندی کررہا ہے. اجلاس کو شعبے کے ماہرین کی پروفائلز اور رائج کردہ نظام کے تحت وزارت کی موجودہ ورکنگ کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • بلوچستان میں 9 مسافروں کا بس سے اتار کر قتل،وزیراعظم سمیت دیگر کی  مذمت

    بلوچستان میں 9 مسافروں کا بس سے اتار کر قتل،وزیراعظم سمیت دیگر کی مذمت

    کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس سے اغوا کیے گئے 9 بے گناہ مسافروں کی شہادت پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردوں نے بزدلی اور درندگی کی ایسی مثال قائم کی ہے جو ناقابل معافی ہے اور ریاست اس کا بھرپور جواب دے گی۔

    میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابل معافی جرم ہے اور بے گناہوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریاستی جنگ ہے جس میں کوئی دوٹوک فیصلہ ہوگا اور حکومت فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورک کو تباہ کرے گی۔

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس کو نشانہ بنایا اور بس کے 9 مسافروں کو اغوا کرکے شہید کر دیا۔ حملہ مخصوص طور پر بلوچستان کے علاقوں قلات، مستونگ اور لورالائی میں کیا گیا جہاں دہشتگردوں نے متعدد حملے بھی کیے۔لورالائی کے قریب بس سے مسافروں کو اتار کر اغوا کیا گیا، جس کے بعد ان پر فائرنگ کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے تصدیق کی کہ اغوا کیے گئے 9 مسافروں کو شہید کیا گیا ،بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان نے آج تین دہشتگرد حملے کیے جنہیں فوراً پسپا کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے پنجاب جانے والے مسافروں کو بس سے اتار کر قتل کیا گیا، جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔شاہد رند نے کہا کہ یہ واقعہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی ماضی کی وارداتوں کا تسلسل ہے۔ بے گناہ شہریوں کا بیہمانہ قتل دہشتگردوں کی کھلی درندگی کا ثبوت ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے سر ڈھاکہ میں بس سے مسافروں کے اغوا اور ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردوں سے پوری قوت سے نمٹیں گے.بے گناہ افراد کے خون کا بدلہ لیا جائے گا. نہتے شہریوں کا قتل فتنتہ الہندوستان کی کھلی دہشتگردی ہے.عزم، اتحاد اور طاقت سے دھشت گردی کے ناسور سے نمٹیں اور اس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے.

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کروا کر اپنی رسوائی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الہندوستان کے آلہ کار پاکستان میں خون بہا رہے ہیں، مگر پاکستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔خالد مسعود سندھو نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کو جائز حقوق ملنے چاہئیں لیکن اس آڑ میں قتل و غارت اور دہشتگردی کی گنجائش ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

    بلوچستان حکومت اور پاکستانی عوام نے دہشتگردوں کی اس بزدلانہ کارروائی کو یکسر مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشنز جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

  • بدنصیب حمیرا،گتھی الجھ گئی،ملک ریاض کیلئے ڈیل نہ ڈھیل،نہ زرداری کا استعفیٰ

    بدنصیب حمیرا،گتھی الجھ گئی،ملک ریاض کیلئے ڈیل نہ ڈھیل،نہ زرداری کا استعفیٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آصف زرداری مستعفی نہیں ہو رہے، سب خبریں من گھڑت ہیں، ملک ریاض پاکستان نہیں آ رہے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ ایک ہفتے میں تین خبریں‌گرم رہی ہیں، ان پر کافی چہ میگوئیاں ،پروگرام ،تجزیئے بھی ہو گئے، میرے پاس ان میں سے دو خبروں کی مکمل تصدیق سے اصلیت بتا سکتا ہوں، تیسری خبر کی تفصیلات تو آ رہی ہیں لیکن مکمل نہیں، ایک حمیرا اصغر،کی موت کی تفصیلات،ایک آصف زرداری کے گھر جانے کی باتیں اور انکی جگہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے آنے کی باتیں،تیسری ملک ریاض کی ڈیل ہو گئی ہے اور وہ کراچی آ کر بلاول ہاؤس ٹھہریں گے،دو خط بھی لکھے آرمی چیف کو تعلقات بہتر کرنے کی…میں اس پر بڑا کلیئر بتا سکتا ہوں کہ اداروں کا واضح مؤقف ہے کہ شہدا ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے، کسی بھی فردواحد کو کہ وہ کہے کہ پیسوں سے مددکر رہا ہوں یہ اجازت نہیں، یہ ریاست کا کام ہے اور ریاست کر رہی ہے،پاکستان کی ریاست کا یہ کہنا ہے کہ ملک ریاض مطلوب ہیں ،وہ بار بار بلانے کے باوجود عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، بحیثیت مجرم انکے خلاف فیصلے آ چکے ہیں،ملک ریاض پاکستان کے شہیدوں کو اپنی ڈیل میں مت گھسیٹیں کیونکہ کبھی بھی ایسا نہیں ہو گا کہ شہدا کی عزت پر ادارے کمپرومائز کریں،نہ ڈیل ہونی ہے نہ 15 جولائی کو ملک ریاض نے لینڈ کرنا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری کے گھر جانےکی خبر میں بھی کوئی صداقت نہیں،ن لیگ کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے حکومت کے لئے کیونکہ اس وقت جو اپوزیشن میں آئے گا وہ ایک دم اوپر نکل جائے گا، ن لیگ ایسا کچھ نہیں‌کرے گی، آصف زرداری عمر کے جس حصے میں ہیں انکی طبیعت خراب،ٹھیک ہو گی لیکن انکے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دینا، جب وہ پہلے صدر تھے تو اس وقت بھی ایسی خبریں آئیں تھی تو انہوں نے پارلیمنٹ کو تمام اختیارات منتقل کر دیئے تھے، اس وقت میری آصف زرداری سے ذاتی طور پر بات ہوئی تھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حمیرا اصغر کے والد نے مان لیا ہے کہ لاش کو وصول کروں گا،لیکن اب سی سی پی او کراچی کا بھی بیان آ گیا ہے کل رات کو ،میں نے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ حمیرا کی موت ستمبر یا اکتوبر میں ہوئی،کل رات کراچی پولیس کا بھی یہ کہناتھا کہ چھ ماہ یا اس سے زیادہ ہو گئے ہیں ،لیکن اسکے اپارٹمنٹ میں جو کھانے پینے کے اشیا تھیں وہ ستمبر تک ایکسپائری تھیں، بجلی کٹی ہوئی تھی، ان کا کوئی بل ستمبر سے نہیں دیا گیا، اب ایک سوال بار بار آ رہا کہ عائشہ خان کی کچھ دن قبل موت ہوئی،ایک ہفتے کے بعد جو ہمسائے تھے اتنی زیادہ بو آئی کہ انہوں نے شکایت کی ،دروازہ توڑا گیا اور لاش ملی، اب یہاں لاش تھی، اسکے باوجود کوئی شکایت نہیں ہوئی، وہی فلیٹس ہیں چھوٹے چھوٹے، آج میری کسی سے بات ہوئی تو کسی نے کہا کہ وہاں کھڑکی کھلی ہوئی تھی،جالی والی،یہ ساری باتیں مجھے ہضم نہیں ہو رہی،ہمسائے ڈر کر بیٹھے ہوئے ہیں،کوئی اس میں نہیں پڑ رہا، حمیرا نے مرنے سے پہلے اپنے دوستوں کو میسج کئے تھے کہ وہ پریشان ہے اور دھمکیاں مل رہی ہیں، اب واقعی یہ طبعی موت ہے یا ….نوجوان لڑکی ہے اور صحتمند تھی، کوئی بیماری نہیں تھی،

  • بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے، کورکمانڈرز کانفرنس

    بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے، کورکمانڈرز کانفرنس

    کورکمانڈرز کانفرنس نے بھارتی حمایت یافتہ اور اسپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر قرار دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کورکمانڈرز کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمارے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائےگا، پاکستان کے عوام کا تحفظ اور سلامتی مسلح افواج کی اولین ترجیح ہے،کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ بھارتی حمایت یافتہ اور اسپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے، بھارت کی دوطرفہ فوجی کشیدگی میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنا بھارت کی بلاک پولیٹکس کو فروغ دینےکی بے بنیاد کوشش ہے۔

    اس موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا کہنا تھا کہ درحقیقت دنیا واضح طور پر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے بدظن ہوتی جارہی ہے، دنیا بھارت کے ہندوتوا انتہاپسندی کے خطرناک رجحانات سے بدظن ہوتی جا رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کو آرمی چیف کے تاریخی اور منفرد دورہ امریکا کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، دورہ امریکا کے دوران امریکی قیادت کو پاکستان کا دو طرفہ معاملات پر مؤقف پیش کیا گیا، اعلیٰ سطح امریکی قیادت کو علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا بامقصد مؤقف براہ راست پیش کیا گیا،فورم نے مشرق وسطیٰ اور ایران کی حالیہ پیش رفت کے تناظر میں داخلی و خارجی سلامتی اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ فورم نے طاقت کے استعمال کے بڑھتے عالمی رجحان کو بحیثیت ترجیحی پالیسی ٹول استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔

    فورم کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں واضح شکست کے بعد بھارت اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی پراکسیز سے مذموم ایجنڈا مزید آگے بڑھانےکی کوشش کر رہا ہے، اس بھونڈی کوشش کا مقصد بھارت کا خطے میں نیٹ سکیورٹی پرووائڈر کے خود ساختہ کردار کو گمراہ طور پر پیش کرنا ہے،فورم نےدہشت گرد پراکسیز کے خلاف فورسز کی حالیہ کامیابیوں کا جائزہ بھی لیا۔ آرمی چیف نے وزیر اعظم کے ہمراہ ایران، ترکیے، آذربائیجان، سعودی عرب اور یو اے ای کےدوروں پر فورم کو آگاہ کیا۔ آرمی چیف نے حالیہ کامیاب دوروں پر پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی تفصیلات سے فورم کو آگاہ کیا، فورم کو جنگ کی بدلتی نوعیت، ابھرتے خطرات کے پیش نظر پاک فوج کی حکمت عملی اور جدتوں پر بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف نے ٹرائی سروسز ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنےمیں پاک بحریہ اور فضائیہ کی قیادت کو بھی سراہا۔ آرمی چیف نے ملک کو درپیش تمام خطرات کے خلاف پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اعتمادکا اظہارکیا۔

  • بھارت نے آپریشن سندور میں شکست کے بعد دوبارہ پراکسی وار شروع کر دی

    بھارت نے آپریشن سندور میں شکست کے بعد دوبارہ پراکسی وار شروع کر دی

    پاکستان کے خلاف بھارت نے آپریشن سندور میں اپنی ذلت آمیز شکست کے بعد دوبارہ پراکسی وار کا پرانا ہتھکنڈا اپنانا شروع کر دیا ہے۔

    بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بلوچستان میں ایک بار پھر آپریشن بام کے نام سے حملے شروع کیے ہیں، جو "فتنہ الہندستان” کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد عام شہریوں کی بنیادی سہولیات کو نشانہ بنا کر خوف و دہشت پھیلانا اور ملک کے اندرونی حالات کو خراب کرنا ہے۔ہدف عام شہریوں کی گاڑیاں، موبائل ٹاورز اور دیگر غیر عسکری تنصیبات ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حملے مزاحمت نہیں بلکہ دہشت گردی کی شکل میں آزادی کی تحریک کا بھیانک نقاب ہیں۔ بھارتی ایجنڈا پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا اور عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔

    پاکستان کی سکیورٹی ادارے اس سازش سے اچھی طرح واقف ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارہا بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کی بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہونے کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی ہیں۔خصوصی طور پر بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کو اس سارے نیٹ ورک کا مرکزی معمار قرار دیا گیا ہے، جو نہ صرف عسکری حملوں بلکہ ڈیجیٹل و معلوماتی جنگ میں بھی سرگرم ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہر بار ان پراکسی حملوں کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا ہے۔ یہ نئی پراکسی وار بھی اسی طرح پاکستانی افواج کی جوابی کارروائیوں سے ناکام ہوگی۔دہشت گردوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنی دہشت گردی کو مزاحمت کا رنگ دے سکیں، لیکن پاکستان اپنی خودمختاری اور داخلی سلامتی کے دفاع میں ہر گز کسی قسم کی نرمی برتنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔پاکستانی قوم اور اس کے محافظ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار اور متحد ہیں۔

  • وزیراعظم سے نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون کوہ پیماء شیخہ اسماء الثانی کی ملاقات

    وزیراعظم سے نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون کوہ پیماء شیخہ اسماء الثانی کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں قطری کوہ پیما شیخہ اسماء الثانی سے ملاقات میں ان کا خیرمقدم کیا اور انہیں حال ہی میں نانگا پربت کو کامیابی سے سر کرنے والی خلیج اور قطر کی پہلی خاتون کا اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس اہم سنگ میل کو حاصل کرنے کیلئے شیخہ عاصمہ کی غیر معمولی ہمت اور عزم کو سراہا۔ وزیرِ اعظم نے ایڈونچر اور کوہ پیمائی کے ذریعے دنیا بھر کی خواتین بالخصوص نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی آگاہی کو فروغ دینے کے حوالے سے ان کی تعریف کی۔ پاکستان کے قدرتی حسن کی آگاہی کے لیے ان کی کامیابی اور عزم کے اعتراف میں، وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کو پاکستان کی ماؤنٹینز اینڈ ٹورازم کے لیے باقاعدہ طور پر برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ کا پاکستان میں ہونا، پاکستان کیلئے فخر کی بات ہے، جو اسے کوہ پیماؤں اور ایڈونچر کے متلاشیوں کے لیے ایک اہم مقام بناتا ہے۔ انہوں نے شیخہ عاصمہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کے شاندار پہاڑوں کا انتخاب کیا اور ان کے چیلنجز اور قدرتی خوبصورتی کی طرف بین الاقوامی توجہ دلانے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔

    انہوں نے پاکستانی کوہ پیماء پورٹرز اور گائیڈز کی اہم شراکت کا بھی ذکر کیا جو دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو ان کی مہمات میں مدد فراہم کرتے ہیں، اور کہا کہ ان کی مہارت اور لگن اس طرح کی غیر معمولی کامیابیوں کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شیخہ اسماء کی کامیابی دونوں ممالک کے درمیان جرات، مثبت عزائم اور استقامت کی مشترکہ اقدار کی عکاس ہے۔ انہوں نے ایڈونچر ٹورازم، کھیلوں اور نوجوانوں کی شمولیت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے شیخہ اسماء آلثانی کے مساوی مواقع کی تخلیق میں جینڈر مساوات کمیشن کی نائب صدر کے طور پر فعال کردار کی بھی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے جاری حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں تمام ضروری سہولیات، حفاظت اور مہمان نوازی کا یقین دلایا۔

    دنیا کی 8,000 میٹر کی چوٹیوں میں سے تمام چودہ چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے شیخہ اسماء کو مستقبل کی کوہ پیمائی کے لیے پاکستان واپس آنے اور پاکستان کے متنوع اور دلکش مناظر کو مزید دریافت کرنے کے لیے دعوت دی۔ شیخہ اسماء الثانی نے اپنے دوروں کے دوران ان کی پرتپاک مہمان نوازی پر وزیراعظم اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ نانگا پربت کی اپنی حالیہ کوہ پیمائی کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے مقامی پورٹرز اور گائیڈز کے تعاون کی تعریف کی اور اس شاندار پہاڑ کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے K2، جسے ماضی میں وہ سر کر چکی ہیں، اپنی سر کی گئیں تمام چوٹیوں میں بہترین پہاڑ قرار دیا اور کہا کہ اس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔

    وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کی مستقبل کی کوششوں اور عالمی سطح پر نوجوانوں بالخصوص خواتین کو عزم کے ساتھ اپنے اہداف کے حصول کی ترغیب دینے کے لیے ان کی جاری کوششوں کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • پٹودی لقمان کے رشتہ دار،سیف قطر بھاگنے کو تیار،ممبئی ایئر پورٹ مبشر لقمان کی زمین پر بنا

    پٹودی لقمان کے رشتہ دار،سیف قطر بھاگنے کو تیار،ممبئی ایئر پورٹ مبشر لقمان کی زمین پر بنا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ممبئی ایئر پورٹ کی زمین انکے خاندان کی تھی اور عدالت میں کیس کیا تھا جو ہماری فیملی جیتی تھی،

    مبشر لقمان کا ایک وی لاگ میں کہنا تھا کہ مجھےیہ لگ رہا ہے کہ سیف کرینہ کو طلاق دے رہے ہیں،کیونکہ سیف علی خان چھوٹی میڈ کے ساتھ پکڑے گئے تھے بقول میڈیا کے جو بھارت میں ہیں ،سیف علی خان رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا اور وہ حملہ کرینہ نے ہی کیا تھا، سیف علی خان نے قطر کی نیشنلٹی لے لی ہے لیکن کرینہ نہیں جا نا چاہ رہی، بھارت کی سیلبرٹیز نے یوکے ،کینیڈا اور دیگر ممالک کی نیشنلٹی لی ہوئی ہے،یہ انڈیا آتے کام کرتے ،پیسے کماتے اور نکل جاتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری ماں اورانکی بہنوں کی ممبئی میں زمینیں تھیں جہا‌ں ممبئی ایئر پورٹ بنا ہوا ہے، میری ماں اور خالاؤں نے کیس کیا تھا،دیوانی کیس جس طرح چلتے ہیں، پچیس تیس سال چلا، اور پھر سیٹلمنٹ یہ ہوئی تھی کہ ستر یا 72 ہزار ہم دے رہے ہیں لیکن وہ انڈیا سے باہر نہیں جائیں گے یہیں خرچ کرنے ہوں گے، ہماری فیملی یہ زمین جیتی ہے یہ زمین ہمارے بزرگوں کی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیف علی خان سے کوئی رشتہ نہیں ہے،میری نانی کو بھوپال سے تعلق تھا، تین پیڑیاں اگر اوپر کوئی رشتے داری ہے تو میں یہ کلیم نہیں کر سکتاکہ کوئی عزیز داری یا رشتے داری ہے،میں آج تک ملا نہیں نہ وہ ملے تو پھر کون سا تعلق،بھارت میں یہ قانون ہے کہ اینمی پراپرٹی حکومت ضبط کر لے گی، ہائیکورٹ نے سیف علی خان کے خلاف فیصلہ دیا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جوائنٹ پراپرٹی ہے، بہنیں بھی حصے دار اور وہ پاکستان میں ہیں، اسلئے یہ زمین انڈیا حکومت کی بن گئی، پٹوڈی پیلس بھی سیف علی خان سے چلا گیا، سپریم کورٹ میں بھی یہ کیس نہیں چلے گا کیونکہ قانون بنا ہوا ہے،عدالت قانون کے خلاف نہیں جا سکتی.

  • حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حمیرااصغر کی پراسرار طریقے سے لاش ملی ہے، پولیس نے کہہ دیا کہ ایک مہینہ پرانی لاش ہے، لواحقین سامنے نہیں آ رہے، میں نے کچھ لوگوں سے باتیں کیں، چند گھنٹے میں مجھے وہ پتہ چل گیا جو پولیس کو نہیں پتہ، اس کی موت پچھلے سال اکتوبر میں ہوئی ہے،میں یہ بڑا سوچ کر کہہ رہا ہوں، اکتوبر یا ستمبر کے آخر میں موت ہوئی ہے، اسکے بعد کا کسی کو پتہ نہیں تھا لواحقین نے لاش لینے سے انکار کر دیا، سامنے کوئی نہیں آ رہا تو پولیس نے کہا مٹی ڈالو کیس ختم کرو کیونکہ اس کیس میں انکم تو ہو نہیں رہی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نےکہا کہ ہم ویڈیو شیئر کرتے ہیں جس پر میں نے کہا کہ مجھے ویڈیو نہ شیئر کریں، کوئی بھی ماں باپ اس طرح کی خبر سن کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے،بجائے اس کے کہ ہم ویڈیو دیکھتے رہیں،حمیرا پچھلے دس سالوں سے کچھ سٹوڈیو میں آنا جانا تھا ایکٹنگ کر رہی تھی، لوگ کہتے تھے کہ اس کو شوق تھا لیکن بیچاری شاید لمیٹڈ تھی اپنی سکلز میں،اور اس کو بڑے موقع نہیں ملے، زندگی کا بڑا موقع تماشا میں ملا، پہلی باری فیم سامنے آیا اور لوگ اس کو جاننا شروع ہو گئے، ابھی بھی جب اس کی موت کی خبریں سامنے آئی ہیں تو تماشا میں لڑائی کی ویڈیو پھر وائرل ہو رہی ہے

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ حمیرا کے باپ نے کہہ دیا کہ میں نے قطع تعلق کر دیا تھا لاش بھی نہیں لینی، میں کیا کہوں اسکے لئے میرے پاس لفظ نہیں،پتھر صفت انسان ہو گا یہ، انسان کے گھرمیں‌ رہنے والے جانور کی موت ہو جائے تو بندہ ہل جاتا ہے بجائے اس کے کہ اپنا خون جدا ہو اور انسان ایسا کرے، قطع تعلقی کہ وجہ اداکار بننا ہی ہو سکتا ہے، اگر وہ چلی گئی تو اس نے کتنی مشکلیں جھیلیں ،اگر کسی سے تعلق ہوتا تو نوبت ہی نہ آتی،اسکو سر چھپانے کی اور جگہ ملتی، اس نے اپنے آخری رابطوں میں دوستوں سے کہا تھا کہ میں آج کل بہت پریشان ہوں، اسکو شاید کہیں سے دھمکیاں مل رہی تھیں.

  • منتظر ہوں  پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،بلاول

    منتظر ہوں پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کے جن گروپوں پر تحفظات ہیں، اس حوالےسے حال ہی میں ہم ایف اے ٹی ایف کے سخت عمل سے گزرے ہیں، ایف اے ٹی ایف میں عالمی برادری نے ان گروپوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی ہے۔

    بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ پاکستان کسی گروپ کو ملک کے اندر یا باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکارہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 92 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے 200 سے زیادہ واقعات پیش آئے، 1200 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، پاکستان میں دہشت گرد حملے رواں برس بھی جاری ہیں، دہشت گردی کے حوالے سے یہ سال پاکستان کی تاریخ میں بدترین سال ہے، میں خود دہشت گردی کا شکار رہا ہوں اور پہلگام دہشت گرد حملے کا درد محسوس کر سکتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہمارے خطے میں دہشت گردی کی ایک تاریخ ہے اس میں لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گرد گروپ ہیں، سرد جنگ کی وجہ سے پاکستان کی یہ پالیسی تھی کہ ان گروپس کو اس وقت نہ دہشت گرد سمجھا گیا نہ کہا گیا، دہشت گرد کا لفظ نائن الیون کے بعد آیا، اس سے پہلے ایسے گروپوں کو فریڈم فائٹرز کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور افغانستان اور سرد جنگ کے دوران لڑنے والوں کو اسی طرح دیکھا گیا، اُس وقت بھی میری والدہ اور میری جماعت اس بات کی ہم خیال نہیں تھی۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ ہم ماضی سے نہیں بھاگ رہے نہ ہی ماضی کی حقیقتوں کو نظرانداز کررہے ہیں، ماضی میں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری اور ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے اس کوجہاد کے طور پر معاشرے میں پیش کیا، یہ انہوں نے افغانستان میں اپنی جنگ لڑنے کے پیش نظر کیا، ہمیں اپنے ملک میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، بی ایل اے ان سب کی دہشت گردی کا سامنا ہے، جوکچھ افغانستان میں ہوا برصغیر میں ہونے والی دہشت گردی اس کا نتیجہ ہے، القاعدہ یا وہ تمام گروپ جن کا آپ نے ذکر کیا سب کی جڑیں ماضی میں افغان جہاد میں رہی ہیں، جب افغان جہاد ختم ہوا تو ان گروپوں نے القاعدہ میں جگہ بنائی اور نائن الیون والا حملہ کیا۔

    انہوں نے مزید کہاکہ کچھ گروپوں نے طے کیا کہ وہ افغان جہاد میں جائیں گے، ان گروپوں کا آغاز افغان جہاد سے ہوا اس کے بعد یہ گروپ القاعدہ اور دوسرے گروپوں میں تقسیم ہوئے، ان گروپوں میں وہ بھی شامل ہیں جو کشمیر جہاد میں گئے، جہاد کے نظریے کے تحت پاکستانی معاشرے اور پاکستانی سیاست میں ان گروپوں کی مخالفت نہیں کی گئی، پاکستانی گروپوں یا پاکستان سےتعلق رکھنے والےان افراد کی افغان جہاد کے لیے عالمی برادری کی طرف سے ٹریننگ کی گئی۔

    ان کا کہنا تھاکہ جیسا کہ میرے والد اور دوسرے کہتے رہے ہیں پاکستان ماضی میں ایک پروسیس سے گزرا ہے جسے بھارت نے نظرانداز کیا، دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کا ایف اے ٹی ایف نے بطور ادارہ تصدیق کر دی ہے، ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف 2 ہزار 645 کیسز درج کیے، دہشت گردی کی مالی معاونت کیسز میں پاکستان نے 2 ہزار 727 افراد کو گرفتار کیا، 549 افراد کو سزا دی، پاکستان میں حافظ سعید کو 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر 31 برس قید کی سزا دی گئی۔

    ممبئی حملوں کے حوالے سے پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ ممبئی حملوں سے متعلق کیس عدالت میں ہے جس میں بھارت نے معاونت سے انکار کیا،ضروری گواہان کو اب تک پیش نہیں کیا، ممبئی حملوں سے متعلق ہمارے پاس کیس چل رہا ہے بھارت آئے اور اس میں حصہ لے،گواہان پیش کرے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے متاثرین کو انصاف ملے لہٰذا ضرورت ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ ایسے تعلقات ہوں کہ باہمی تعاون سے ممبئی حملہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی ہوسکے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ممبئی حملے کے ساتھ میں آپ کو 2007 میں ہونے والا سمجھوتا ایکسپریس حملہ بھی یاد کرانا چاہتا ہوں، سمجھوتا ایکسپریس حملے میں بھارتی سرزمین پر 40 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، بھارت میں سمجھوتا ایکسپریس حملے پر نہ کوئی عدالتی کارروائی ہوئی بلکہ اعترافی بیان بھی واپس لے لیا گیا، پاکستان تو کیس بھی چلا رہا ہے حملوں میں ملوث افراد کی سزاؤں کے لیےبھی پُرعزم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے عوام سے جھوٹ بولا کہ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہے، آج تک بھارت پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ایک ثبوت سامنے نہیں لا سکا، جنگ کے دوران بھارتی حکومت اور بھارت میڈیا نے بھارتی عوام سے جھوٹ بولا، دھوکہ دیا۔

    بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ پاکستان میں بھارت کی حمایت سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے، بلوچستان میں پکڑے جانے والے بھارتی فوجی افسر کلبھوشن سے تو آپ بھی واقف ہوں گے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہا ہے اور حالیہ جعفرایکسپریس دہشت گرد حملے کا براہ راست تعلق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے۔

    انہوں نے کہاکہ بھارت کی حمایت سے پاکستان میں دہشت گرد حملے ہوئے، میں ثبوت پیش کر سکتا ہوں، بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا، جعفرایکسپریس حملے کا براہ راست بھارتی حساس ادارے کے سہولتکاروں سے تعلق ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ پاکستان اور بھارت نے 2012 میں دہشت گرد گروپوں کی اطلاعات کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا، پاکستان کی اطلاعات پر بھارت نے دہشت گردی کے کئی حملوں کو روکا، پاکستان کسی گروپ کو پاکستان کے اندر اور باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان کے ہاتھ صاف تھے اس لیے بھارت کو آزاد بین الاقوامی انکوائری کی پیش کش کی لیکن بھارتی حکومت نے پاکستان کی پہلگام تحقیقات کی پیش کش نہیں مانی۔

    بلاول نے مزید کہا کہ ممبئی حملہ کیس بھارت کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہا، بھارت اب تک ممبئی حملہ کیس کے گواہوں کو عدالت کے سامنے پیش کرنے سے انکاری ہے، بھارت چاہے توممبئی حملے کے گواہوں کو آن لائن عدالت میں پیش کر سکتا ہے، دنیا نے دیکھا ہے پاکستان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیے، ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کا معترف ہے، بھارت کی معتصبانہ سوچ کے بجائے عالمی سطح پر ریکارڈ زیادہ اہم ہے۔اب بھارت 25 کروڑ پاکستانیوں کا پانی بند کرنا چاہتا ہے، بھارتی حکومت گاندھی کےفلسفے کے خلاف چل رہی ہے، بھارتی عوام ڈس انفارمیشن سے بچے، اسکرین پر بیٹھے لوگ بھارتیوں کو نفرت کی طرف دھکیل رہے ہیں، میں نہیں چاہتا پاکستان اور بھارت کی جنریشنز کشمیر، دہشت گردی اور پانی پر لڑتی رہیں۔

    انٹرویو کے دوران بھارتی صحافی بار بار بلاول بھٹو کو جواب دینے سے روکتے رہے، اس پر بلاول نے کہا کہ اگر جواب نہیں سننا تو پروگرام چھوڑ کر چلاجاؤں گا۔

    پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ مسعود اظہر پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہے، اگر مسعود اظہر پاکستان میں ہو تو ہم فوری گرفتار کریں گے، بھارت کو پاکستان سے مزید اقدامات کی توقع ہے تو میڈیا پر پاکستان کے خلاف چیخنے کے بجائے جامع مذاکرات کا حصہ بنے، بھارت جامع مذاکرات کا حصہ بنے گا تو دیگر مسائل پر بھی بات ہوگی، منتظر ہوں کہ پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، دہشت گردی ایجنڈے میں شامل ہو، ایف اے ٹی ایف ریکارڈ کے مطابق پاکستان نےجیش محمد اور لشکرطیبہ کے خلاف کارروائی کی ہے، ایف اے ٹی ایف کے تحت لشکر طیبہ، جیش محمد اور ٹی ٹی پی کے ہتھیار ڈالنے والے ارکان بحالی پروگرام کا حصہ بنائے گئے، بطور ریاست پاکستان تبدیل ہوا ہے یہ ایک حقیقت ہےکہ پاکستان میں دہشت گردی کےخطرات اب بھی موجود ہیں، جیسے کہ عراق میں القاعدہ کو شکست دی گئی لیکن وہ داعش کی صورت میں دوبارہ اُبھرے، میں جنوبی ایشیا کو دہشت گردی سے پاک خطہ دیکھنا چاہتا ہوں۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ آپ تو ایف اے ٹی ایف پر بھی نہیں یقین کرتے لیکن ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی، بھارت کو تعصب کے بجائے بین الاقوامی برادری کے مؤقف کے ساتھ جانا چاہیے، ماضی کے گروپوں کا نئے گروپوں کی صورت میں سامنے آنا عالمی حقیقت اور خطرہ ہے جس کا ہمیں بھی سامنا ہے، ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر کے ہم نے عالمی برادری کو مطمئن کر دیا ہے، چاہے پاکستان میں ہو یا بھارت میں دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔