مسلمانوں کو اپنے سیاسی اور معاشی حالات دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے،خطبہ حج
باغی ٹی وی : خطبہ حج میں کہنا تھا اسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق ہے، اللہ غرور اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، آج مسلمانوں کو اپنے سیاسی اور معاشی حالات دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
میدان عرفات سے خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے انسانوں کو نعمتیں بخشیں، نبی کریمؐ نے اپنی زندگی خیر کیلئے وقف کی، جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے سب اللہ کا ہے، تم لوگوں کو تقویٰ کی نصحیت کی جاتی ہے، اللہ کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم جیسے لوگوں کو پیدا کیا، آج بہت بڑی تعداد میں انسان اللہ کی بندگی سے غافل نظر آتے ہیں۔
خطبہ حج میں مزید کہا گیا کہ تقویٰ اختیار کرنیوالے کی ہر تنگ دستی دور کر دی جاتی ہے، جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ کی ملکیت ہے، جو آدمی خلوت اور جلوت کو ایک جیسا بنا دیتا ہے وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے، اللہ کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم جیسے لوگوں کو پیدا کیا، آج بہت بڑی تعداد میں انسان اللہ کی بندگی سے غافل نظر آتے ہیں، آپؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپؐ کے بعد تا قیامت کوئی رسول نہیں آسکتا، اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل اور مکمل کر دیا
عازمین حج آج جمعرات کو حج کا رکنِ اعظم وقوف عرفہ ادا کر رہے ہیں۔ عازمین نے منیٰ سے میدان عرفات پہنچ کر وقوف کا آغاز کردیا۔ حج کا خطبہ سنیں گے۔مسجد نمرہ میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
میدان عرفات میں وزارت صحت نے حجاج کی صحت اور سلامتی کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ کی تیاریاں مکمل کی ہیں۔
طبی عملہ حجاج کی صحت کےحوالے سے تمام سہولتوں کے ساتھ موجود ہے ۔ عرفات میں ایک موبائل ہسپتال اور مزدلفہ میں موبائل کلینک بھی موجود ہے۔
وزارت صحت نے مشتبہ کورونا کیسز کا پتہ لگنے کی صورت میں علیحدہ کیمپ بھی قائم کیا ہے تاہم وزارت نے کہا ہے کہ فی الوقت کوئی بھی حاجی نئے کورونا وائرس کا مریض نہیں ہے۔
قبل ازیں عازمین حج کے قافلے طواف قدوم اورسعی ادا کرنے کے بعد منی پہنچے۔ انہوں نے بدھ کو منیٰ میں یوم الترویہ عبادات اور دعاوں میں گزارا۔ عازمین سماجی فاصلے کی پابندی کرتے ہوئے مناسک حج ادا کر رہے ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق جمعرات کو ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ میدان عرفات میں ادا کی جائیں گی۔ شیخ عبداللہ المنیع خطبہ حج دیں گے۔ دس زبانوں میں اس کا ترجمہ پیش کیا جائے گا- اردو میں بھی حج کے خطبے کا ترجمہ براہ راست نشر کیے جانے کا انتظام کیا گیا ہے۔
مسجد الحرام جنرل پریذیڈنسی نے اعلان کیا ہے کہ القرآن اور السنۃ چینلز سے میدان عرفات سے حج خطبہ اور دس زبانوں میں اس کا ترجمہ پیش کریں گے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت جاری ہے
انسداد دہشت گردی ترمیمی بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی ، بعد ازاں سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظورکر لیا گیا،اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل ترمیمی بل کثرت رائے سے منظورکر لیا گیا
گزشتہ روز دونوں بل قومی اسمبلی سے منظور کر لئے گئے تھے،
دہشتگردوں کی مدد و مالی معاونت کرنے والوں کیخلاف سخت قوانین متعارف،اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کی مدد و مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین متعارف کروادیے گئے، جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات کی روشنی میں بنائے گئے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم متعارف کروائی گئی ہیں۔ ترامیم کے مطابق مشتبہ افراد کی فہرست شیڈول 4 میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے۔
شیڈول 4 میں شامل افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا، مشتبہ دہشت گرد کو قرض دینے والے شخص پر ڈھائی کروڑ جرمانہ ہوگا۔
لبیک اللھم لبیک، مکہ مکرمہ میں مناسک حج کی ادائیگی جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں عازمین وادی منی پہنچ گئے، حج کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ آج ادا ہوگا۔
عازمین فریضہ حج کے پہلے روز مکہ مکرمہ سے 7 کلومیٹر دور وادی منی پہنچ گئے، کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں ہیں۔
عازمین حج منیٰ میں خصوصی کمپلیکس میں قیام کر رہے ہیں جبکہ حج کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ آج ادا ہوگا۔ کورونا کی وجہ سے اس بار صرف سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں اور سعودی شہریوں کو ہی حج کی اجازت دی گئی تھی۔ 70 فیصد عازمین حج غیر ملکی ہیں جو سعودی عرب میں ہی مقیم تھے جن میں مملکت میں مقیم پاکستانیوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔
دوسری جانب مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کو غسل دينے اور تبدیلی غلافِ کعبہ کی پروقار تقریب ہوئی۔ خانہ کعبہ کو غسل دينے کے بعد خالص سونے، چاندی کی تاروں اور خالص ریشم سے تیار کردہ غلاف کعبہ تبدیل کیا گیا۔ غلاف کی تیاری میں 100 کلو گرام سے زائد خالص سونا، چاندی اور 675 کلو گرام خالص ریشم استعمال کی گئی ہے۔
غلاف کعبہ کی لمبائی 50 فٹ اور چوڑائی 35 سے 40 فٹ ہے۔ اس کی تیاری پر 24 ملین سعودی رالچ لاگت آئی۔ غلاف کعبہ کے 4 کونوں پر سورہ اخلاص منقش ہے۔ اس کے علاوہ غلاف پر مختلف آیات قرآنی پر مشتمل 16 پٹیاں الگ سے جوڑی گئی ہیں جن پر آیات ربانی کو سونے، چاندی اور خالص ریشم سے تحریر کیا گیا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر ریفرنڈم ہو تو پنجاب کے 12 کروڑ عوام کا بزدار کو بددعاؤں کا ووٹ پڑے گا
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ پنجاب میں حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، مارکیٹ بھی کھلی ہیں اسکا کیا فائدہ ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کے ساتھ ریفرنڈم کریں تو پنجاب کے 12 کروڑ عوام کی جانب سے عثمان بزدار کو بد دعاؤں کا ووٹ پڑے گا،اگر کسی ایک شخص کو بد دعا مل رہی تو شاید بزدار ہیں یا محمود خان، عدنان عادل ایک سینئر صحافی اور ہمارے دوست ہیں، انہوں نے آئی بی کے اوپر ایک پوسٹ کی کہ آئی بی کس طرح ملوث ہے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں، پلاٹوں کی بندر بانٹ کرنے میں اور پیسے کھانے میں،دو گھنٹے میں انکا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہو گیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے جو رپورٹ کی تھی انکے بارے میں کی تھی ،پولیس کے بارے میں بھی دی 18 قتل تو حال ہی میں لاہور میں ہوئے، بہت سے جرائم کی ایف آئی آر ہی درج نہیں ہو رہی، پولیس کی کارکردگی اسوقت سوالیہ نشان ہے،میں جانتا ہوں بہت سارے پولیس والوں کو ذاتی طور پر بہت اچھے لوگ ہیں اور اچھا کام کر رہے ہیں لیکن جب ہر دو ہفتے بعد تبادلے ہوں گے تو پھر کون کام کرے گا، ابھی وہ دعوتیں کھا رہا ہوتا ہے آرپی او بننے کی تو پتہ چلتا ہے کہ وہ دوسری جگہ چلا گیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ حال بزدار نے کر دیا تو کرائم تو بڑے گا، تو پھر پولیس والے تو کہتے ہیں کہ آج میری مویشی منڈی میں ڈیوٹی لگی ہے تو ادھر سے دیہاڑی بنا لوں کل پتہ نہیں کتنے دن او ایس ڈی رہوں،تو پھر کیا بلیم کروں انکو
ایک دوسرے کو غدار کہنے والے ایک ہو گئے، مولانا سب سے اہم،اپوزیشن کی تحریک کب چلے گی؟ مبشر لقمان کے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک دوسرے کو غدار کہنے والی جماعتیں آج ایک ہو چکی ہیں،ن لیگ اور پی پی سے مولانا فضل الرحمان زیادہ اہم ہیں اسکے باوجود کہ انکے پاس کوئی سیٹ نہیں، اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک چلانی ہے تو محرم کے بعد چلائے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن مریم خان نے سوال کیا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے قانون سازی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، انکی کوشش ہے کہ حکومت کو بلیک میل کر سکیں اور نیب کے حوالہ سے شرائط منوا سکیں ،کیا اپوزیشن ملک کی سالمیت پر سیاست نہیں کر رہی، جس پرمبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بات یہ ہے کہ اپوزیشن اپنے بچاؤ کے لئے کر رہی ہے، انکو نیب سے بچنا ہے،نیب کو ختم کروانا ہے اور اگر یہ نہیں ہوتا تو انکی سیاست کو چھوڑیں انکی زندگیاں ختم ہیں ،اسوقت حکومت کے پاس نمبرز کم ہیں اسلئے وہ پریشرائز کر رہے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل تک پی پی اور ن لیگ والے ایک دوسرے کو غدار کہتے تھے ، ن لیگ والے بے نظیر کو انڈیا کا ایجنٹ کہتے تھے وہ نواز شریف کو سیکورٹی رسک کہتے تھے،اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نوجوان قیادت کو آگے کروں گا، نوجوان قیادت کہہ رہی ہے کہ شہباز شریف لیڈ کریں گے، لوگوں کو نہیں نظر آ رہا یہ،وہ جو 12 سیکنڈ کا کلپ ہے، بلاول کا اور شہباز کا، وہ اپوزیشن کی مجبوریوں کو کھلم کھلا بولتا ہوا ایک نمونہ ہے
مریم خان نے سوال کیا کہ اسی حوالہ سے مولانا اور شہباز اور بلاول کی ملاقات ہوئی ہے، کہنا ہے کہ عید کے بعد اے پی سی ہو گی،جس پر مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان میں سے مولانا فضل الرحمان سب سے زیادہ اہم آدمی ہیں میری نظر میں،حالانکہ ان کے پاس سیٹ نہیں نہ سینیٹ میں نہ اسمبلی میں، وہ دیوبندی طبقے میں مقبول رہنما ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں، اب عید کے فوری بعد محرم آ رہا ہے اور محرم میں اللہ کرے میں غلط ہوں اور امن و امان میں گزرے، مجھے یہ محرم بڑا ٹف لگ رہا ہے،اسکی وجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں مولانا سے دوبارہ حکومت اور ادارے بھی رابطے کر رہے ہوں گے کہ لوگوں کو ٹھنڈا رکھا جائے، عید سے فوری بعد کا مطلب ہے محرم میں شروع ہونا اور وہ پھر کسی مذہبی چیز سے شروع ہو گا، اسکو انڈر مائنڈ کرنا کم ظرفی ہو گی، دعا کرنی چاہئے کہ محرم کے بعد ہی اپوزیشن کرے جو کرنا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے سابق معاونین خصوصی تانیہ ایدروس اور ظفر مرزا کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہئے،ان کے اور انکے خاندانوں کے اثاثوں کی تحقیقات ہونی چاہئے، عید کے بعد بھی کم از کم سات آٹھ استعفے متوقع ہیں اور پنجاب سے بھی آنے ہیں
مبشر لقمان آفییشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن مریم خان نے سوال کیا کہ پچھلے دنوں دوہری شہریت کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے جس پر آج تانیہ نے استعفیٰ دے دیا ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تانیہ جھوٹ بول رہی ہیں، میرے جو ذرائع ہیں اسلام آباد سے وہ یہ بتا رہے ہیں کہ ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے،اور اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انکو چار بار وارننگ ملی تھی، آفیشیل سے، کبھی وہ کرونا آپریشن میں جا کر، کبھی ویب سائٹ ڈیولپمنٹ والوں کو دیکھ رہی ہوتی تھیں سوائے اپنا کام کرنے کے، انہوں نے ایک کمپنی بنائی ہوئی تھی،اس پر سوالات اٹھے ہیں، تانیہ کے ساتھ ظفر مرزا بھی مستعفی ہو گئے،میں نے پرسوں کہا تھا کہ بڑے پیمانے پر استعفے آئیں گے ، اب عید کے بعد یا ہو سکتا ہے عید سے پہلے بھی دو استعفے آ جائیں،لیکن عید کے فورا بعد کم از کم سات سے آٹھ استعفے آئیں گے، جو پنجاب میں بھی آنے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اکاؤنٹبلیٹی یہی ہے کہ جو وزیر نہیں ڈلیور کر رہا اسے فارغ کر دیا جائے لیکن ظفر مرزا کو استعفیٰ دے کر یہاں سے بھاگنے نہین دینا چاہئے، اس پر الزامات ہیں کہ انہوں نے کرپشن کی ہے ، انکا نام، تانیہ کا نام فوری ای سی ایل پر آنا چاہئے،اور پھر ان ساروں ، انکے گھر والوں کے اثاثوں کی چھان بین ہونی چاہئے کہ تعیناتی سے قبل اور اب انکے کیا اثاثے ہیں اور جو ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، انجکیشن لائف سیونگ تھے انکی کمی ہوئی، اس ساری چیزوں کی فرانزک تحقیقات ہوں گی تو پتہ چلے گا، اس پر انکوائری نہیں بلکہ جے آئی ٹی ہونی چاہئے اور انکے نام ای سی ایل میں ڈالنے چاہئے تا کہ یہ نکل نہ سکیں،انکوائری دو ماہ تک ہوتی رہے گی یہ نکل جائیں گے، فیس ماسک ظفر مرزا نے چائنہ کو بھیجے اور اس ٔپر کتنا نوٹ کمایا، یہ بڑا کچھ ہے،ان سب چیزوں پر تحقیقات ہونی چاہئے،
مریم خان نے سوال کیا کہ آپ استعفوں کو اچھا سمجھتے ہیں کہ یہ آئے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ استعفوں کا مطلب ہے کہ دوڑنے کی تیاری ہو رہی ہے، تانیہ کی کیا کوالی فکیشن ہے، وہ تو سیاسی ورکر بھی نہیں ہے اگر منڈی بہاؤالدین سے عمران خان اگر کسی سیاسی ورکر کو لگا دیں گے کہیں تو ہم اس کا ساتھ دیں گے کہ وہ سیاسی ورکر ہے اسنے پارٹی کو سپورٹ کیا،لیکن امپورٹ ہو کر جعلی سی ویز بنا کر ، دوہری،تہری نیشنلٹی رکھ کر کہیں کہ پاکستان کے ڈیجیٹل کو ہیڈ کروں گا اور ہماری جتنی آفیشیل سیکریٹ ہیں وہ گوگل کے پاس ہوں یہ مجھے نہیں قبول.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نواز شریف صرف حاملہ نہیں ہو سکتے ورنہ انکو باقی سب بیماریاں ہو گئی ہیں،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن مریم خان نے سوال کیا کہ نواز شریف کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو مختلف بیماریاں ہیں، وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف حاملہ نہیں ہو سکتے ورنہ انکو ساری بیماریاں ہو گئی ہیں،کرونا وائرس کی وجہ سے وہ گھر سے نہیں نکل سکتے،لیکن وہ نکلتے ہیں کبھی کسی کافی شاپ میں بیٹھے انکی تصویریں آتی ہیں اورکبھی کسی کافی شاپ میں،اور وہاں پرانکے ارد گرد جو لوگ ہیں، سب نے ماسک پہنا ہوا ہے سوائے نواز شریف کے، انکو کوئی خطرہ اور ڈر نہیں ہے، یہ بات سمجھ آ جانی چاہئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کتنا گھناؤنا مذاق ہو رہا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں بڑے عرصے سے یہ بات کر رہا ہوں کہ اگر پاکستان کا مستقبل اچھا کرنا ہے تو ہمیں پاکستان کی بھاگ دوڑ یوتھ کے ہاتھ میں دینا پڑے گی، غلطیاں کرین گے لیکن کریں، ہمارے کئی حکمران ہیں جو غلطیاں کر رہے ہیں،کوئی بات نہین سیکھ لیں گے تو پھر ان غلطیوں سے فائدہ اٹھا لیں گے،نواز شریف ہوں، اسفند یار ولی ہوں یا اچکزئی ہوں یا الطاف حسین ہوں یا فاروق ستار ہوں،میری کتاب میں اب ان لوگوں کی اتنی اہمیت نہیں ہے،جوہسپتالوں کی اتنی رپورٹیں دے رہا ہے وہ یہ تو بتا دے کہ اہل کیسے ہے حکومت چلانے کا ،جب بیمار ہے اتنا شدید تو وہ حکومت تو نہیں چلا سکتا ، گھر میں ہی رہے گا کرونا کی وجہ سے، کرونا تو اب ختم نہیں ہونا،عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ یہ ختم نہیں ہونا، اسکا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے اس رپورٹ کے ساتھ جو عدالت میں جمع کروائی گئی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ رافیل آ گیا کوئی بات نہیں، اب پائلٹ بھی فرانس سے لانے پڑیں گے، پائلٹ تو وہی ہیں جنہوں نے ساری عمر رافیل اڑایا ہی نہیں،رافیل وہ کیسے اڑا لیں گے اس مہارت سے جو چاہئے ، اگر کل تنازعہ شروع ہو جائے تو ؛پہلی شہادت رافیل کو ہی ملنی ہے آہ دیکھ لیجیے گا،
اینکر مریم خان نے مبشر لقمان سے سوال کیا کہ بھارت نے پاکستانی ملٹری ڈاکٹرائن پر عمل شروع کر دیا ہے اور چین کو دھمکی دی ہے کہ بیجنگ کا نیو کلیئر انکے نشانے پر ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ریئلی،یعنی آپ نے بات مان لی انہوںنے جو کی، ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور، پہلی بات نیوکلیئر ہونا اور بات ہے نیوکلیئر استعمال کرنا اوربات ہے،نیو کلیئر کو اٹیک کے طور پر نہیں لے سکتے، بھارت کی طرف سے دو ماہ میں بیانات ملے ہیں ، انکو منہ کی کھانا پڑی ہے،کبھی کہتے ہیں کہ چائنہ آیا نہیں، پھر کہتے ہیں کہ چائنہ گھس کے آ گیا، پھر کہتے ہیں کہ ہم نے چائنہ کو نکال دیا،پھر کہتے ہیں کہ چین ابھی تک ہمارے علاقے پر قبضہ کرکے بیٹھا ہے،
مریم خان نے سوال کیا کہ بھارت میں رافیل کے پہنچنے پر ایئر بیس کے قریب سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور دفعہ 144 لگا دی گئی ہے،اور یہ بھارت اپنے چھچھورے کام کیوں کر رہا ہے؟ جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انکو اپنے پائلٹ سے خطرہ ہے، ابھینندن جب پکڑا گیا تھا طیارہ جب تباہ ہوا تھا تو انہوں نے ایک اور پلین کو ہٹ کر دیا تھا جو انڈیا میں جا کر گرا تھا،انکے پائلٹ کی تربیت نہیں ہے، ایئر پورٹ پر سیکورٹی سخت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فلائٹس بند کر دیں،کہ یہ کسی اور کو ٹکر ہی نہ مار دے، یا کسی کو برڈ ہٹ نہ ہو جائے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رافیل آ گیا کوئی بات نہیں، اب پائلٹ بھی فرانس سے لانے پڑیں گے، پائلٹ تو وہی ہیں جنہوں نے ساری عمر رافیل اڑایا ہی نہیں،رافیل وہ کیسے اڑا لیں گے اس مہارت سے جو چاہئے ، اگر کل تنازعہ شروع ہو جائے تو ؛پہلی شہادت رافیل کو ہی ملنی ہے آہ دیکھ لیجیے گا،
مریم خان نے سوال کیا کہ آپ رافیل کو بہتر سمجھتے ہیں یا نہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک الگ بحث ہے، میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ رافیل اچھا جہازنہیں ہے،لیکن جے ایف 17 تھنڈر میں ابیلٹی بہت زیادہ ہے خصوصا جو تھرڈ جنریشن ہے،دوسری بات اگر ڈاک فائٹ ہو رہی ہے تو ہائی سپیڈ کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ آپس میں الجھے ہوئے ہیں،اب بات ہے میزائل کی، پاکستان کے پاس جو شارٹ رینج کے میزائل ہیں 60 سے 70 کلو میٹر کے ، وہ ایئر ٹو ایئر ہیں،جے ایف 17 میں جو تبدیلی کی وہ لیٹیسٹ ہے، رافیل ابھی اپنا کورس سیٹ کر رہا ہو گا تو ستر کلومیٹر دور سے ہی ڈھز ہو جائے گی، آپ فکر نہ کریں
مریم خان نے سوال کیا کہ چین ،روس اور امریکہ نے بڑی تیزی سے ممالک کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات بنانا شروع کر دیئے ہیں اب اگر چین کے ساتھ معاملہ ٹھنڈا بھی ہو جاتا ہے تو کیا مستقبل میں کوئی بڑی جنگ دیکھ رہے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دیکھیں جنگ میں ہمیشہ سے کہہ رہا ہوں کہ معیشت کے اوپر ہوتی ہے،اور معاشی بنیادوں پر ہوتی ہے وہ یہاں سے شروع نہیں ہو گی،مڈل ایسٹ سے شروع ہو جائے گی، ساؤتھ سیز چائنہ سے شروع ہو جائے گی، جنگ تو ایک ہونی ہے اور کتنی بڑی ہونی ہے ، کب ہونی ہے یہ وقت بتائے گا لیکن چائنہ اپنے آپ کو جتنا مرضی ڈس انگیج کر لے مودی صبر کرنے والا نہیں، مودی نے جو گیم کھیلنے کے لئے شروعات کی ہیں اس کا خواب جب تک پایہ تکمیل نہیں نہیں پہنچتا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آنے کا تب تک وہ ادھر کرے گا یا پاکستان سے شروع کرے گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسوقت پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال بھوٹان ان چاروں کو خطرہ ہے بھارت کی جارحیت کا ،میں سمجھتا ہوں ان چاروں ملکوں کو ملکر ایک جوائنٹ آرمی بنانی چاہئے جو تحفظ اور دفاع کے لئے سٹینڈ بائی ہو، چاروں چھوٹے ممالک ہیں، بھارت پاگل ہو چکا ہے ہنوتوا کی سوچ سے، لیکن انڈیا، روس، چائنہ اور امریکہ ایک دوسرے سے پیس تو کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنی معاشی جنگ تو نہیں چھوڑ سکتے، چائنہ جب ڈس انگیج کرے گا تو کہے گا کہ ہواوے کو آنے دو اور اگر امریکہ آنے دیتا ہے تو پھر ٹرمپ الیکشن کیسے لڑے گا اتنی دیر سے وہ بات کر رہا ہے، روس امریکہ سے ہاتھ ملاقات ہے پھر وہ چائنہ کو کیا جواب دے گا جس نے اسکو معاشی ایڈ دی، میں اور آپ اس پر تجزیہ نہیں کر سکتے، ایک تجزیہ دے سکتا ہون کہ تینوں کا معاشی ،اکنامک ابجیکٹو پورا ہو رہا ہو پھر تو صلح ہو جائے گی،اور اگر وہ نہ ہوا تو پھر یہ صلح ممکن نہیں .
مریم خان نے سوال کیا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے قانون سازی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، انکی کوشش ہے کہ حکومت کو بلیک میل کر سکیں اور نیب کے حوالہ سے شرائط منوا سکیں ،کیا اپوزیشن ملک کی سالمیت پر سیاست نہیں کر رہی، جس پرمبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بات یہ ہے کہ اپوزیشن اپنے بچاؤ کے لئے کر رہی ہے، انکو نیب سے بچنا ہے،نیب کو ختم کروانا ہے اور اگر یہ نہیں ہوتا تو انکی سیاست کو چھوڑیں انکی زندگیاں ختم ہیں ،اسوقت حکومت کے پاس نمبرز کم ہیں اسلئے وہ پریشرائز کر رہے ہیں، کل تک پی پی اور ن لیگ والے ایک دوسرے کو غدار کہتے تھے ، ن لیگ والے بے نظیر کو انڈیا کا ایجنٹ کہتے تھے وہ نواز شریف کو سیکورٹی رسک کہتے تھے،اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نوجوان قیادت کو آگے کروں گا، نوجوان قیادت کہہ رہی ہے کہ شہباز شریف لیڈ کریں گے، لوگوں کو نہیں نظر آ رہا یہ،وہ جو 12 سیکنڈ کا کلپ ہے، بلاول کا اور شہباز کا، وہ اپوزیشن کی مجبوریوں کو کھلم کھلا بولتا ہوا ایک نمونہ ہے
مریم خان نے سوال کیا کہ اسی حوالہ سے مولانا اور شہباز اور بلاول کی ملاقات ہوئی ہے، کہنا ہے کہ عید کے بعد اے پی سی ہو گی،جس پر مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان میں سے مولانا فضل الرحمان سب سے زیادہ اہم آدمی ہیں میری نظر میں،حالانکہ ان کے پاس سیٹ نہیں نہ سینیٹ میں نہ اسمبلی میں، وہ دیوبندی طبقے میں مقبول رہنما ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں، اب عید کے فوری بعد محرم آ رہا ہے اور محرم میں اللہ کرے میں غلط ہوں اور امن و امان میں گزرے، مجھے یہ محرم بڑا ٹف لگ رہا ہے،اسکی وجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں مولانا سے دوبارہ حکومت اور ادارے بھی رابطے کر رہے ہوں گے کہ لوگوں کو ٹھنڈا رکھا جائے، عید سے فوری بعد کا مطلب ہے محرم میں شروع ہونا اور وہ پھر کسی مذہبی چیز سے شروع ہو گا، اسکو انڈر مائنڈ کرنا کم ظرفی ہو گی، دعا کرنی چاہئے کہ محرم کے بعد ہی اپوزیشن کرے جو کرنا ہے
مریم خان نے سوال کیا کہ نواز شریف کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو مختلف بیماریاں ہیں، وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف حاملہ نہیں ہو سکتے ورنہ انکو ساری بیماریاں ہو گئی ہیں،کرونا وائرس کی وجہ سے وہ گھر سے نہیں نکل سکتے،لیکن وہ نکلتے ہیں کبھی کسی کافی شاپ میں بیٹھے انکی تصویریں آتی ہیں اورکبھی کسی کافی شاپ میں،اور وہاں پرانکے ارد گرد جو لوگ ہیں، سب نے ماسک پہنا ہوا ہے سوائے نواز شریف کے، انکو کوئی خطرہ اور ڈر نہیں ہے، یہ بات سمجھ آ جانی چاہئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کتنا گھناؤنا مذاق ہو رہا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں بڑے عرصے سے یہ بات کر رہا ہوں کہ اگر پاکستان کا مستقبل اچھا کرنا ہے تو ہمیں پاکستان کی بھاگ دوڑ یوتھ کے ہاتھ میں دینا پڑے گی، غلطیاں کرین گے لیکن کریں، ہمارے کئی حکمران ہیں جو غلطیاں کر رہے ہیں،کوئی بات نہین سیکھ لیں گے تو پھر ان غلطیوں سے فائدہ اٹھا لیں گے،نواز شریف ہوں، اسفند یار ولی ہوں یا اچکزئی ہوں یا الطاف حسین ہوں یا فاروق ستار ہوں،میری کتاب میں اب ان لوگوں کی اتنی اہمیت نہیں ہے،جوہسپتالوں کی اتنی رپورٹیں دے رہا ہے وہ یہ تو بتا دے کہ اہل کیسے ہے حکومت چلانے کا ،جب بیمار ہے اتنا شدید تو وہ حکومت تو نہیں چلا سکتا ، گھر میں ہی رہے گا کرونا کی وجہ سے، کرونا تو اب ختم نہیں ہونا،عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ یہ ختم نہیں ہونا، اسکا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے اس رپورٹ کے ساتھ جو عدالت میں جمع کروائی گئی،
مریم خان نے سوال کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا طاقت سے جواب دیا جائے گا تو خیال یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کوئی شرارت کر سکتا ہے،جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ میں تومہینے سے یہ بات کر رہا ہون، وزیراعظم سے جب میری بات ہوئی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ ڈیڑھ دو مہینے بہت خطرناک ہیں،اور وزیراعظم نے کہا کہ یہ فالس فلیگ آپریشن کرنا چاہتے ہیں، لداخ میں جو کچھ ہو رہا ہے، رافیل آنے کے بعد ،کیا وہ چائنہ پر کریں گے بلکہ وہ پاکستان کے اوپر کر کے چین سے شکست کی ہزیمت مٹانا چاہ رہے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ لوگ مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کی فورسز میں فرق کیا ہے، پاکستان نے کبھی ایگریسو پوزیشن پر آرمی کو نہ بنایا نہ ٹرینڈ کیا ، پاکستان دفاع کرنا چاہتا ہے،اللہ کا کرم ہے کہ ہم دفاع اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں، ہمارے وہ عزائم ہی نہیں کہ کسی اور ملک پر جا کر قبضے کریں اور کہیں جا کر جھنڈے لگائیں لیکن یہ میں بتاؤں کہ ہمارا جو ڈیٹرنس ہے وہ اتنا خوفناک ہے کہ کسی ایگریسو کو سوچنا پڑے گا اگر وہ 621 کی ریشو پر بھی آ رہا ہے تو تب بھی اسکو بہت بڑی قربانی دینی پڑے گی اور کیا انڈیا اسکے لئے تیا رہے،میرا نہیں خیال ، ابھینندن کے بعد دیکھ لیا کہ کتنی اور اسکو بچانے کے لئے ایرفورس کو اوپر اٹھ گئے، باتیں کرنا اور حقیقت کچھ اور ہے
مریم خان نے سوال کیا کہ پچھلے دنوں دوہری شہریت کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے جس پر آج تانیہ نے استعفیٰ دے دیا ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تانیہ جھوٹ بول رہی ہیں، میرے جو ذرائع ہیں اسلام آباد سے وہ یہ بتا رہے ہیں کہ ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے،اور اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انکو چار بار وارننگ ملی تھی، آفیشیل سے، کبھی وہ کرونا آپریشن میں جا کر، کبھی ویب سائٹ ڈیولپمنٹ والوں کو دیکھ رہی ہوتی تھیں سوائے اپنا کام کرنے کے، انہوں نے ایک کمپنی بنائی ہوئی تھی،اس پر سوالات اٹھے ہیں، تانیہ کے ساتھ ظفر مرزا بھی مستعفی ہو گئے،میں نے پرسوں کہا تھا کہ بڑے پیمانے پر استعفے آئیں گے ، اب عید کے بعد یا ہو سکتا ہے عید سے پہلے بھی دو استعفے آ جائیں،لیکن عید کے فورا بعد کم از کم سات سے آٹھ استعفے آئیں گے، جو پنجاب میں بھی آنے ہیں،اکاؤنٹبلیٹی یہی ہے کہ جو وزیر نہیں ڈلیور کر رہا اسے فارغ کر دیا جائے لیکن ظفر مرزا کو استعفیٰ دے کر یہاں سے بھاگنے نہین دینا چاہئے، اس پر الزامات ہیں کہ انہوں نے کرپشن کی ہے ، انکا نام، تانیہ کا نام فوری ای سی ایل پر آنا چاہئے،اور پھر ان ساروں ، انکے گھر والوں کے اثاثوں کی چھان بین ہونی چاہئے کہ تعیناتی سے قبل اور اب انکے کیا اثاثے ہیں اور جو ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، انجکیشن لائف سیونگ تھے انکی کمی ہوئی، اس ساری چیزوں کی فرانزک تحقیقات ہوں گی تو پتہ چلے گا، اس پر انکوائری نہیں بلکہ جے آئی ٹی ہونی چاہئے اور انکے نام ای سی ایل میں ڈالنے چاہئے تا کہ یہ نکل نہ سکیں،انکوائری دو ماہ تک ہوتی رہے گی یہ نکل جائیں گے، فیس ماسک ظفر مرزا نے چائنہ کو بھیجے اور اس ٔپر کتنا نوٹ کمایا، یہ بڑا کچھ ہے،ان سب چیزوں پر تحقیقات ہونی چاہئے،
مریم خان نے سوال کیا کہ آپ استعفوں کو اچھا سمجھتے ہیں کہ یہ آئے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ استعفوں کا مطلب ہے کہ دوڑنے کی تیاری ہو رہی ہے، تانیہ کی کیا کوالی فکیشن ہے، وہ تو سیاسی ورکر بھی نہیں ہے اگر منڈی بہاؤالدین سے عمران خان اگر کسی سیاسی ورکر کو لگا دیں گے کہیں تو ہم اس کا ساتھ دیں گے کہ وہ سیاسی ورکر ہے اسنے پارٹی کو سپورٹ کیا،لیکن امپورٹ ہو کر جعلی سی ویز بنا کر ، دوہری،تہری نیشنلٹی رکھ کر کہیں کہ پاکستان کے ڈیجیٹل کو ہیڈ کروں گا اور ہماری جتنی آفیشیل سیکریٹ ہیں وہ گوگل کے پاس ہوں یہ مجھے نہیں قبول.
مریم خان نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ پنجاب میں حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، مارکیٹ بھی کھلی ہیں اسکا کیا فائدہ ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کے ساتھ ریفرنڈم کریں تو پنجاب کے 12 کروڑ عوام کی جانب سے عثمان بزدار کو بد دعاؤں کا ووٹ پڑے گا،اگر کسی ایک شخص کو بد دعا مل رہی تو شاید بزدار ہیں یا محمود خان، عدنان عادل ایک سینئر صحافی اور ہمارے دوست ہیں، انہوں نے آئی بی کے اوپر ایک پوسٹ کی کہ آئی بی کس طرح ملوث ہے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں، پلاٹوں کی بندر بانٹ کرنے میں اور پیسے کھانے میں،دو گھنٹے میں انکا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہو گیا انہوں نے جو رپورٹ کی تھی انکے بارے میں کی تھی ،پولیس کے بارے میں بھی دی 18 قتل تو حال ہی میں لاہور میں ہوئے، بہت سے جرائم کی ایف آئی آر ہی درج نہیں ہو رہی، پولیس کی کارکردگی اسوقت سوالیہ نشان ہے،میں جانتا ہوں بہت سارے پولیس والوں کو ذاتی طور پر بہت اچھے لوگ ہیں اور اچھا کام کر رہے ہیں لیکن جب ہر دو ہفتے بعد تبادلے ہوں گے تو پھر کون کام کرے گا، ابھی وہ دعوتیں کھا رہا ہوتا ہے آرپی او بننے کی تو پتہ چلتا ہے کہ وہ دوسری جگہ چلا گیا، جب یہ حال بزدار نے کر دیا تو کرائم تو بڑے گا، تو پھر پولیس والے تو کہتے ہیں کہ آج میری مویشی منڈی میں ڈیوٹی لگی ہے تو ادھر سے دیہاڑی بنا لوں کل پتہ نہیں کتنے دن او ایس ڈی رہوں،تو پھر کیا بلیم کروں انکو
مریم خان نے سوال کیا احسن اقبال نے کہا ہےکہ اگر کرونا نہ ہوتا تو حکومت اب تک چلی جاتی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ احسن اقبال سے ہم اعتراض تو کر سکتے ہیں ، سیاسی رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن انکی تعلیم اور سمجھ بوجھ پر ہی نہیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا آنے سے پہلے حکومت بری طرح ہل گئی تھی، لوگ یہ ڈسکشن کر رہے تھے کہ وفاقی حکومت کی باتیں ہو رہی تھیں، شہباز شریف کو جو واپس بلایا گیا یا واپس آئے اس پر کئی صحافیوں نے باتیں کیں اور کہا کہ شہباز شریف کو جنہوں نے بلایا تھا وہ اب فون ہی نہیں سن رہے لیکن فیکٹ ہے کہ ہلجل ہو رہی تھی،مجھے لگتا ہے کہ عید کے بعد اگلا ایک مہینہ مشکل ہے، اس میں ہلچل ہو گی، حکومت پر منحصر ہے سیاسی انگیج کرے ، مذاکرات کرے،نیب کو ایکٹو کرنا ، اینٹی کرپشن کو ایکٹو کرنا یہ حل نہیں ہے، دبانا نہیں چاہئے کم از کم اپوزیشن کو .
تانیہ ایدروس اورظفرمرزا کے استعفوں کی وجوہات سامنے آگئیں
باغی ٹی وی رپورٹ :ذرائع کے مطابق تانیہ ایدروس اورظفرمرزا کے استعفوں کی وجوہات سامنے آگئیں.تانیہ ایدروس نے ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن کے نام سے کمپنی بنارکھی تھی. تانیہ ایدروس کی کمپنی ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ تھی. کمپنی کےڈائریکٹرزمیں جہانگیرترین بھی شامل تھے. کمپنی 27فروری 2020 کو رجسٹرڈ کرائی گئی.تانیہ ایدروس کے استعفے کی اصل وجہ مفادات کا ٹکراؤ تھا۔
تانیہ ایدروس کی کمپنی سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نے وضاحت مانگی تھی.تانیہ ایدروس وزیراعظم کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہیں،جہانگیرترین کےوکیل بھی کمپنی کے ڈائریکٹرزمیں شامل ہیں،وزیراعظم آفس کی جانب سے تانیہ ایدروس کو مستعفی ہونے کا کہا گیا،
ڈاکٹرظفرمرزا ادویات کی قیمتیں کم کرانے میں ناکام رہے،ظفرمرزا نے بھارت سے ادویات کا خام مال درآمد کرنے کا معاملہ مس ہینڈل کیا.سپریم کورٹ کی آبزرویشن ظفرمرزا کے استعفے کی وجوہات میں شامل
انسداد کورونا سے متعلق ذمہ داریاں ڈاکٹرفیصل سلطان نبھاتے رہے،وزیراعظم کی زیرصدارت کورونا اجلاسوں میں فیصل سلطان شریک ہوتےرہے،ڈاکٹرظفرمرزا سے تسلی بخش کارکردگی نہ دکھانے پراستعفیٰ لیا گیا،
ڈاکٹرفیصل سلطان کو معاون خصوصی صحت کا چارج دیئے جانے کا امکان ہے
آزا د جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی قابض فوج کی طرف سے وادی نیلم میں شہری آبادی اور شاردہ کی آثار قدیمہ سائٹ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا کہ اُس کی بزدلانہ اقدامات اور جنگ بندی معائدے کی مسلسل خلاف ورزی سے خطہ میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو گا جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔ بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی فوج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو وادی نیلم میں ایک گرلز سکول پر مارٹر گولے داغے جس سے سکول کی عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ ایل او سی کے پار سے بھارتی قابض فوج کی گولہ باری سے ایک رہائش گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ سترہ رہائشی مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی قابض نے شاردہ پٹھ میں ہندو مذہب کی قدیم یونیورسٹی کی سائٹ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جو نہایت قابل مذمت عمل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس قبل پیر کے روز سماہنی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج کی طرف سے بچھائی گئی ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک نوجوان شہید ہوا تھا۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی قابض کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کو بھارت کی ایک سوچھی سمجھی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ان اشتعال انگیز کاررائیوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کے غیر قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آزادی اور حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں جو حق و انصاف پر مبنی ہے اور بھارت کا جبر استبداد اور ظلم اُنہیں اس عظیم جدوجہد سے کبھی نہیں روک سکتا ہے۔ اُنہوں نے بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت کی طرف سے بھارتی فوج کو ریاستی حکومت کے این او سی کے بغیر چھاونیاں اور فوجی مراکز تعمیر کرنے کے قانون میں تبدیلی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیلی طرز کی مسلم کش پالیسی قرار دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی اس چال کے خلاف بھرپور احتجاج کریں اور بھارتی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں تین کشمیریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ قبل ازیں اقبال انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہارون اسلم کو ایک آن لائن انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کے بعد شملہ معائدہ ایک خالی خول بن کر رہ گیا ہے کیونکہ بھارت یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اُس نے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے میں جو اقدامات اُٹھائے وہ اُس کا اندرونی معاملہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر اسرائیلی اور گزشتہ صدی کے نازی جرمنی کے ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ علاقے میں آباد کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے اور اب مودی حکومت نے جموں و کشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ حق دیدیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جس علاقے کو چا ہے اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کر سکتی ہے۔