Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • رینٹل پاورکرپشن کیس، احتساب عدالت نے دیا راجہ پرویز اشرف کو بڑا جھٹکا

    رینٹل پاورکرپشن کیس، احتساب عدالت نے دیا راجہ پرویز اشرف کو بڑا جھٹکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں رینٹل پاورکرپشن کیس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی بریت کی درخواست مسترد کر دی گئی

    احتساب عدالت نےنوڈیرورینٹل پاورکیس میں تمام ملزمان کی درخواستیں مسترد کردیں،سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف سمیت10ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں،

    احتساب عدالت کے جج محمدبشیرنے کیس کا فیصلہ سنایا ،ملزمان نے نیب ترمیمی آرڈیننس کےتحت بریت کی درخواستیں دائرکی تھیں ،عدالت نے راجہ پرویزاشرف ودیگرملزمان کاٹرائل جاری رکھنے کافیصلہ کیا ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پرویزاشرف کورینٹل پاورکرپشن کیس سےبری نہیں کیاجاسکتا،

    رتوڈیروریفرنس میں8ملزمان نےبریت کی درخواست دائر کر رکھی ہے،ریفرنس میں سیکریٹری پانی وبجلی شاہدرفیع،سابق ایم ڈی پیپک وطاہربشارت چیمہ اوردیگرملزمان شامل ہیں

    واضح رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف ایک اور ریفرنس میں بری کر دیئے گئے تھے،

    عدالت نے راجہ پرویز اشرف کوپیراں غائب رینٹل پاور کیس میں بھی بری کردیا،پیراں غائب ریفرنس میں راجہ پرویزاشرف سمیت 8 ملزمان نامزد ہیں،احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا

    میرا پیچھا چھوڑ دیں، حریم شاہ کس کی منتیں کرنے لگ گئی؟ سب حیران رہ گئے

    ن لیگ، پیپلز پارٹی کے بعد ایک اور اپوزیشن جماعت نے نیب آرڈیننس کی مخالفت کر دی

    نیب ترمیمی آرڈیننس منظوری کے اگلے روز سپریم کورٹ میں چیلنج

    نیب ترمیمی آرڈیننس، وزیراعظم کس کو این آر او دینا چاہتے ہیں؟ مریم اورنگزیب کا انکشاف

    نیب ترمیمی آرڈیننس کیوں لایا گیا؟ سعید غنی نے لگایا وزیراعظم پر سنگین الزام

    راجہ پرویز اشرف کو ساہُوال ریفرنس میں گزشتہ ہفتے بری کیا گیا تھا،پیراں غائب ریفرنس نیب راولپنڈی کی جانب سے 2014  میں دائر کیا گیا تھا،192میگا واٹ کا رینٹل پاور پلانٹ ملتان کے علاقے پیراں غائب میں لگایا گیا تھا،پرویز اشرف پر بطور وزیر پانی و بجلی کرپشن اور اختیارات کےغیر قانونی استعمال کا الزام تھا

    دوسری جانب نیب نے رینٹل پاور کرپشن کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم،پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف سمیت تمام ملزمان کی بریت کو چیلنج کریں گے، راجہ پرویز اشرف سمیت تمام ملزمان کے خلاف شواہد موجود ہیں، ملزمان کی بریت کا حکم کالعدم قرار دیا جائے، پیراں غائب ریفرنس میں عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

  • پاکستان میں ‌کرونا سے مزید 83 اموات،سندھ میں مریض 97 ہزار سے زائد

    پاکستان میں ‌کرونا سے مزید 83 اموات،سندھ میں مریض 97 ہزار سے زائد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 83 مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں

    پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک اموات 4ہزار 922 ہو چکی ہیں جبکہ ملک بھر میں مجموعی 2 لاکھ 37 ہزار 489 مریض سامنے آ چکے ہیں، کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں کورونا کے 2ہزار980 نئے مریض سامنے آئے اور 83افرادجاں کی بازی ہار گئے۔

    پنجاب میں کرونا سے ایک ہزار929افراد کورنا وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں ، سندھ میں ایک ہزار614، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار45، بلوچستان میں 124، اسلام آباد میں 140، آزادکشمیر میں 40 اور گلگت بلتستان میں 30 کورونا مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں.

    سندھ میں کورونا متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ 97ہزار626 ہوگئی ہے جب کہ پنجاب میں 83ہزار599، خیبرپختونخوا میں 28ہزار681، بلوچستان میں 10ہزار919، اسلام آباد میں 13ہزار650،گلگت میں ایک ہزار595 اور آزاد کشمیر میں ایک ہزار 490 مریض ہیں.

    پاکستان میں ایک لاکھ 40 ہزار 965 کورونامتاثرین صحت یاب ہوئے۔ پاکستان میں اس وقت کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 91 ہزار 602 ہے۔

    پاکستان میں کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت یومیہ 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اور 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ کورونا کے مریضوں کیلئے ایک ہزار525وینٹی لیٹرز مختص ہیں۔

  • عمران خان کی جگہ کن ناموں پر غور ہو رہا ہے؟ ہارون الرشید کے اہم انکشافات ،مبشر لقمان کے ہمراہ

    عمران خان کی جگہ کن ناموں پر غور ہو رہا ہے؟ ہارون الرشید کے اہم انکشافات ،مبشر لقمان کے ہمراہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا نام آج میرے ساتھ ہے، صحافی برادری میں بڑی قدر سے انکو دیکھا جاتا ہے، سینئر تجزیہ کار اور قلم کار ہیں، انکے پاس اندر کی خبریں ہوتی ہیں، آج ہمارے ساتھ ہارون الرشید موجود ہیں

    مبشر لقمان نے سینئر صحافی ہارون الرشید سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جگہ وزیراعظم کے ناموں پر غور ہو رہا ہے، کون کون نام ہیں شاہ محمود کے علاوہ، سوال کے جواب میں ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ شاہ محمود کے علاوہ میاں محمد سومرو اور اسد عمر ،مگر غور ہو رہا ہے فیصلہ نہیں ہو رہا،مبشر لقمان نے سوال کیا کہ فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا اگر غور کی نوبت آ گئی ہے

    جس کے جواب میں ہارون الرشید نے کہا کہ عوامل ہیں ، ایک کرونا ہے، دریا میں گھوڑے نہیں بدلے جا سکتے، دوسرا یہ کہ اس کی جگہ لائیں کس کو ،تحریک انصاف کا کارکن تو نہیں مانے گا،پیپلز پارٹی کے لوگ بھی ناراض ہوں گے، کہتے ہیں فوج ہماری حفاظت کرتی ہے اور وہ جو بھی کرے، ناگوار بھی ہو تو بعض اوقات برداشت کر لیتی ہے،دہشت گردی سے ہمارا ملک فوج نے بچایا، فلسطین،لیبیا، شام نہیں بنا تو گوارہ تو کر لیتی ہے، لیکن ناخوش تو لوگ ہوں گے، پہلے بھی کئی لوگ ناخوش ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بزدار جیل جائے گا کہیں اور نہیں جائے گا؟ اسکا کیا مطلب ہے؟ جس کے جواب میں ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ مشہور آدمی ہے،اس طرح تو مشہور نہیں کہ وہ کوئی جرنلسٹ، یا سیاسی ورکر کے طور پر ہو، لیکن لاہور کے سب صحافی اسے جانتے ہیں، زمین پر قبضہ کروانے کی کوشش کرتے ہیں، ایک بیرسٹر کی زمین پر قبضے کی کوشش کی گئی، وہاں کا جو ڈی پی او ہے وہ ذمہ دار ہے اوربزدار صاحب کا بھائی اسکی سپورٹ ہے شبی ٹھیکیدار ہے، وہ بھی اپنی من مانی کر رہا ہے، ایسی صورتحال ہے جس میں پولیس افسر ملوث ہو اور اسکو سپورٹ وزیراعلیٰ کی ہو تو ظاہر ہو کہ آئی بی والے نہ اندھے ہیں ہماری اور آپکی دو دو آنکھیں ہیں انکی دو سے زیادہ ہوتی ہین، اور بھی ایجنسیاں ہیں، تونسہ کے اخبار نویسوں کو تو یہ دھمکا سکتے ہیں لیکن یہاں تو ایس انہیں کر سکتے.

    مبشر لقمان نے ہارون الرشید سے مزید سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف چینج کی بات ہو رہی ہے دوسری طرف آصف زرداری کے وارنٹ،نواز شریف کا انٹرپول میں نام جا رہا ہے تو چینج میں ساتھ کون دے گا، جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ چینج میں ساتھ دینا بہت ہی بڑا سوالیہ نشان ہے، آپ نے بڑا زبردست سوال کیا، دوسرے عوامل بھی حق میں نہیں، اسکی قبولیت بھی مشکل ہے، مارشل لا کا بھی کوئی خطرہ نہیں، آدمی کا تجزیہ ہوتا ہے، ہم اندازے لگاتے ہیں، غیب کا علم تو صرف دو تین صحافیوں کو ہوتا ہے ہم اس میں شامل نہیں، حالات چینج کے لئے سازگار نہیں ہیں، ہم نے نکال لیا، حکمرانوں کو برطرف کیا تو کیا ملا؟ بے نظیر، نواز شریف ، پھر بے نظیر پھر نواز شریف کو نکالا، کیا ملا، جو چیز حالات میں خرابی پیدا کرتی ہے وہ اور عوامل ہیں، ایک ملک میں پولیس، عدالت ٹھیک نہیں، ایف بی آر لٹیروں کا گروہ ہے تو جتنے مرضی آپ بدل لیں حالات ٹھیک نہیں ہوں گے جب تک سول ادارے ٹھیک نہیں ہوتے

    مبشر لقمان نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ابھی پتہ چل رہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں سندھ حکومت نے شاید 6 صفحات غائب کر دیئے ہیں ان میں کیا تھا ، جس کے جواب میں ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ ستر ہزار بوریاں گندم کی غایب کر سکتے ہیں، 6 صفحات انکے لئے کیا معنی رکھتے ہیں، دنیا جانتی ہے کہ پی پی کے لوگوں کا وہ آدمی تھا اسنے زرداری کے لئے کام کیا، شرمیلا فاروقی کی بھی ملاقات ہوئی اور بہت سی لوگوں کی ملاقات کی تصویریں، ویڈیو موجود ہیں، اس میں کیا تھا مجھے نہیں معلوم،اسکے بیانات موجود ہیں، اسکو رکھا اسلئے ہوا ہے کہ اسکی ضرورت ہے، کیا ضرورت ہے،یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے ، وہ ایران آتا جاتا رہا ہے،اور اس نے اور بہت ساری چیزیں ہیں کس وقت اس کو سر عام لانا چاہتے ہیں یہ اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے ہم نہیں جانتے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگ بہت دکھی ہیں گورننس سے بھی اور اکانومی سے بھی، جب اکانومی اور گورننس بہتر نہ ہوتو تبدیلی تو عنقریب آتی ہی ہے کہ چھ مہینے لے یا سال لے،آپ اس سے متفق ہیں کہ اس حکومت نے ڈس اپوائنٹ بہت کیا سپورٹر کو جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے سپورٹر کو ڈس اپاؤنٹ کیا اور تبدیلی بھی آ سکتی ہے، چھ مہینے، سال بعد کیا ہو گا یہ غیب کا علم ہے، اللہ کے پاس غیب کا علم ہے، اہل اخبار میں اہل کشف دو تین ہی ہیں، پریشانی ہے جو لوگ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے میں جاتا رہتا ہوں لوگوں کے پاس جن پر غیر معمولی بھروسہ کیا جا سکتا ہے جن کی سوجھ بوجھ ، دیانت، حب وطن پر بات نہیں کی جاسکتی، پاکستان ہمارا ملک نہیں ،اللہ ااور اسکے رسول کا ملک ہے، اسکا بگڑنے والا کچھ نہیں،یہ طوفانوں میں گھرا رہے گا کیونکہ ہم سول ادارے نہیں بنا رہے، نظام عدل نہیں قائم کر رہے، نظام عدل کے بغیر نظام مستحکم نہیں ہو سکتا، تھانے میں، کچہری میں ظلم ہے، ہر کہیں ظلم ہے،یہ نہیں ہے کہ عمران خان اسکا خاتمہ کرین گے،عمران خان نے خیبر پی کے میں پٹواری کا مسئلہ حل کیا تھا ، بلدیاتی نظام بہتر کیا تھا تبھی تو سیٹیں 33 سے 65 ہو گئی تھیں

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی

    بڑے گھر سے خبر آ گئی، کوئی مائنس ون نہیں ہونے والا، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان اور کاشف عباسی کی زبانی

    ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    قاتل گاڑیاں سڑکوں پر، مبشر لقمان نے‌ آواز اٹھائی تو شہریوں نے دعائیں دیں

    مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا

    مبشر لقمان کے ناکارہ گاڑیوں کے خلاف کئے گئے پروگرامز نتیجہ خیز ثابت ہوئے، گاڑیوں کا معیار کچھ بہتر ہوا ہے، قمر الزماں کائرہ

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑی اچھی بات ہے لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ بی آر ٹی ابھی تک بن رہی ہے پشاور میں، جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ وہ نااہلی کی وجہ سے، نیت ٹھیک تھی،وہاں نیت ٹھیک راستہ ٹھیک تھا، آدمی بھٹک جاتا ہے آندھی بارش میں، لیکن بحرحال وزیراعلی ایک ایسا شخص تھا جو خامیوں کے باوجود کام میں لگا رہتا تھا، اگر کوئی اچھے کام کرتے ہیں تو اسکا نتیجہ تو نکلے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے کہا کہ اہل علم، اہل دانش کے پاس آتے جاتے رہتے ہین تو ہندوستان کے بارے میں کیا خبریں ہیں کہ چین کے ساتھ کشیدگی بڑھے گی یا ختم ہو جائے گی ، جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ وہ تو اس موضوع پر ایک صاحب سے بات ہوئی جو پاک آرمی سے ریٹائرڈ ہیں اور انکو پاک آرمی کا برین کہا جاتا ہے،اوروہ نہیں چاہتے کہ انکا نام لیا جائے،اور بھی کچھ لوگ ہیں جو غور خوض سے انٹرنیشنل میڈیا دیکھتے ہیں، کشیدگی تو ختم ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ چین نے ایک جگہ پر موو نہین کیا، چین نے نیپال،ہانگ کانگ اور یہاں بھی موو کیا،جب انہوں نے یہ کہا کہ اکسائے چین بھی ہم لے لیں گے جو 65 میں چین نے لے لیا تھا اور گلگت پر بھی بات کی تو اسکا یہ مطلب ہے کہ سی پیک نہیں چلنے دیں گے، یہ بڑی بات ہے، جتنی بساط آدمی کی نہ ہوتو بات نہیں کرنی چاہئے، ایکآدمی چھ فٹ اور ایک بارہ فٹ سے چھلانگ لگا سکتا ہے،

    بھارت پاکستان پر کب حملہ کر یگا؟ مودی جلد چین کے پیر پکڑ لے گا،جنرل ر نعیم خالد لودھی کے مبشر لقمان کے ہمراہ اہم انکشافات

  • پاکستانیوں ! وزیراعظم عمران خان جوکہتے ہیں سچ کہتے ہیں ،سی پیک تیزی سے کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے : چین

    پاکستانیوں ! وزیراعظم عمران خان جوکہتے ہیں سچ کہتے ہیں ،سی پیک تیزی سے کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے : چین

    بیجنگ:پاکستانیوں ! وزیراعظم عمران خان جوکہتے ہیں سچ کہتے ہیں ، چین کا اہل پاکستان کے نام بہت بڑا پیغام،اطلاعات کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لی جیان زاؤ نے سی پیک منصوبے پر وزیراعظم عمران خان کے بیان سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پراجیکٹ پاکستان کی ترقی میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

    بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے لی جیان زاؤ نے کہا کہ چین کی حکومت اورچینی عوام عمران خان کی ملک وقوم کی ترقی کے لیے تمام کوششوں کی حمایت بھی کرتے ہیں اورپسند بھی کرتے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کو زبردست طریقے سے آگے بڑھانے کا باعث بنے گا۔ سی پیک پراجیکٹ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا آغاز ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ عمران خان کی پالیسیوں پربہت مطمئن ہیں،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان درست سمت بڑھ رہا ہے ،ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے

     

    گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سی پیک پاکستان کے روشن مستقل کی ضمانت ہے۔ پاک چین دوستی کے مظہر اس منصوبے کو ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

    تفصیل کے مطابق رواں ماہ 3 جولائی کو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر کامرس عبدالرزاق داؤد، وفاقی وزرا عمر ایوب اور خسرو بختیار بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس میں سی پیک منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انھیں جاری منصوبوں کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہماری سماجی اور معاشی ترقی کے حوالے سے ایک بہترین منصوبہ ہے۔

    عمران خان نے سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا اور کہا اس ادارے کی کارکردگی اور استطاعت کو مزید موثر بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں۔

    ادھر سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایم ایٹ پر کام کا آغاز حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 146 کلومیٹر طویل ہوشاب تا آواران روڈ کے لئے26 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کیچ اور آوران کے دور دراز اضلاع میں یہ شاہراہ پسماندہ جنوبی بلوچستان کے لئے امید کی ایک کرن ہے اور ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئے گی۔

    عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ 230 ملین ڈالر کی لاگت سے گوادر میں بین الاقوامی طرز کے ائیرپورٹ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ گوادر ائیرپورٹ کی تعمیر سے شہر ترقی کے کے نئے دور میں شامل ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت گوادر شہر کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گوادر میں بین الاقوامی طرز کا ائیرپورٹ ہونا بھی انتہائی ضروری امر تھا۔ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا اور منصوبے پر کام زور و شور سے جاری ہے۔

    عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ گوادر کے جدید ترین ائیرپورٹ کے رن وے پر دنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار طیارے A380 کو بھی لینڈنگ اور اڑان بھرنے کی سہولت موجود ہوگی۔

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت کے مطابق گوادر میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ گوادر میں دو سو تیس ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والا ائیرپورٹ گوادر شہر اور پورٹ کے لیے پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ائیرپورٹ کی تعمیر سے جہاں گوادر بین الاقوامی شہر کا درجہ حاصل کرلے گا وہیں اس منصوبے سے روزگار کے مواقع اور شہر کی ترقی میں انتہائی معاون بھی ثابت ہوگا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معاہدے پر دستخط کر دئیے گئے ہیں۔ اس منصوبے سے 700 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گئی جبکہ ملازمتوں کے 3 ہزار مواقع پیدا ہونگے۔

    منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین کی ترقی سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ سی پیک منصوبہ پاکستان کو بہت اوپر تک لے کر جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ بدقسمتی سے ماضی میں سستی بجلی پر توجہ نہیں دی گئی۔ قرضوں کی ملکوں کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہم قرضہ لے کر پاور پراجیکٹ نہیں بنا رہے ہیں، یہ انویسٹمنٹ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری مختلف مراحل میں آگے بڑھ رہا ہے۔ آزاد پتن ہائیڈرو پاور منصوبہ سی پیک کا پراجیکٹ ہے۔ ہماری ترجیحات کلین انرجی ہے۔ اس سے ماحولیات پر بھی اثر نہیں پڑے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 90ء کی دہائی کے بعد مہنگی بجلی کا اکانومی پر بہت اثر پڑا۔ ہائیڈرو پاور منصوبے کی بجلی سے بہت فائدہ ہوگا۔ مہنگی بجلی سے انڈسٹری کو نقصان ہوا۔ مہنگی بجلی سے ہر شعبے پر فرق پڑا۔

    تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ درآمدی تیل سے عوام کو بجلی کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ مجھے خوشی ہے کہ اب بجلی پاکستان میں موجود پانی سے بنے گی۔ ان منصوبوں سے ہمارے کلین اور گرین پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم عوام کوسستی اورماحول دوست بجلی کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔ چین منصوبے پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس روز میں ہم نے چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اٹھارہ سو میگاواٹ سستی بجلی حاصل کرنے معاہدے کیے گئے۔ ان منصوبوں سے 8 ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا۔

  • ارشد ملک  پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو تعینات،وفاقی کابینہ نے منظوری دی

    ارشد ملک پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو تعینات،وفاقی کابینہ نے منظوری دی

    اسلام آباد : ارشد ملک پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو تعینات،وفاقی کابینہ کا انوکھا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ارشدملک کو پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹو تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا، جس میں 16 نکاتی ایجنڈے سمیت ملکی سیاسی، معاشی اورکورونا وباء کے باعث پیدا صورتحال پر غور کیا گیا۔

    وفاقی کابینہ نے ارشد ملک کو پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹوتعینات کرنےکی منظوری دے دی اور فیصلہ کیا کہ ارشدملک ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو رہیں گے، ایئرمارشل ارشد ملک 12 جولائی کو پاکستان ایئر فورس سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد ملک ریٹائرمنٹ کے بعد بقیہ مدت کنٹریکٹ پر چیف ایگزیکٹو ہوں گے، ان کو 3سال کے لیے پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹومقرر کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں وفاقی کابینہ کو مشکوک ڈگریوں والے پائلٹس کے معاملےپر تفصیلی بریفنگ دی گئی ، بریفنگ میں بتایا گیا جعلی اور مشکوک ڈگریوں والے پائلٹس کوگراؤنڈ کردیا گیا ہے ، جس پر کابینہ نے پائلٹس کی مشکوک ڈگریوں کی جانچ پڑتال جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترمیم کا معاملہ اور پاکستانی قیدی سید شارق رضاکی برطانیہ حوالگی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا۔

    یاد رہے گذشتہ اجلاس میں پوفاقی کابینہ نے جعلی لائسنس و ڈگری کے حامل پائلٹس کے خلاف کارروائی کے لیے تفصیلی سمری دوبارہ طلب کر لی تھی، ارکان نے رائے دی تھی کہ پائلٹس کےلائسنس منسوخی سےمتعلق معاملہ پیچیدہ ہے، پائلٹس کی ڈگری کامعاملہ مس ہینڈل کیاگیا۔ لائسنس منسوخی کامعاملہ پراسس میں ڈال دیا گیا لیکن مزید حقائق دیکھناہوں گے۔

  • جے آئی ٹی رپورٹ، چیف جسٹس سے از خود نوٹس کا مطالبہ،علی زیدی جاری رپورٹ سے مختلف رپورٹ سامنے لے آئے

    جے آئی ٹی رپورٹ، چیف جسٹس سے از خود نوٹس کا مطالبہ،علی زیدی جاری رپورٹ سے مختلف رپورٹ سامنے لے آئے

    عزیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ، چیف جسٹس سے از خود نوٹس کا مطالبہ،علی زیدی جاری رپورٹ سے مختلف رپورٹ سامنے لے آئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی اور وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس کی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ‏ملک کوآگے لے جانے کے لیےحکومت میں آئےہیں،‏ہمارا عزم ملک کی بہتری اور حقائق سے روشناس کرانا ہے ‏پاکستان کوان لوگوں سے نجات دلائیں گےجوسیاست مفادات کے لیے کرتےہیں،

    وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ ‏ دنیا میں رائٹ اور لیفٹ کی سیاست ہوتی ہے جبکہ یہاں رائٹ اور رانگ کی سیاست ہو رہی ہے۔ میں نے جے آئی ٹی رپورٹس منظر عام پر لانے کےلئے طویل جدوجہد کی ہے، اب سندھ حکومت نے اﷲ اﷲ کرکے یہ رپورٹس پبلک کی ہیں۔ ملزم جے آئی ٹی رپورٹ میں 158 قتل کا خود اعتراف کر چکا ہے۔

    علی زیدی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے جو جے آئی ٹی رپورٹ ریلیز کی ہے وہ نامکمل ہے، جے آئی ٹی میں جو انکشاف کئے گئے تھے اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملزم نے کس کے کہنے پر یہ سب کیا اور اس کا کسے فائدہ ہوا۔ ہم بڑی لمبی جدو جہد کے بعد اقتدار میں آئے، عمران خان کی مہربانی سے وزیر بھی بن گئے ،ہم ملک بدلنے آئے ہیں،ملک کو صحیح راہ پر لگانے کےلئے ضروری ہے کہ اﷲ کا نظام جو سزا و جزا پر مشتمل ہے اس پر عمل کیا جائے۔

    علی زیدی نے کہا کہ عزیر جان بلوچ نے اپنے بیان حلفی میں یہ اقرار کیا کہ وہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملا اور اپنے خلاف ہیڈ منی ختم کرانے کا کہا جو فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر ختم کر دی گئی۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے آخری صفحہ پر بیان حلفی میں عزیر بلوچ نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے ان انکشافات کے بعد مجھے اور میرے گھر والوں کو جان سے مار دیا جائے گا جس کےلئے میں درخواست کرتا ہوں کہ مکمل حفاظت کی جائے کیونکہ مجھے آصف زرداری و دیگر سیاسی لوگ بشمول جن کا ذکر بیان میں ہے ان سے انتقامی کارروائی کا خطر ہ ہے۔

    علی زیدی کا کہنا تھا کہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی بھی بہت مشکل سے ریلیز کی گئی، جے آئی ٹی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اداروں کو تباہ کیا گیا۔ سندھ پولیس کے ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد نے رپورٹ نکالی تو ان کا ٹرانسفر شکار پور کر دیا گیا۔ انہوں نے وہاں دوسری رپورٹ نکال دی ، ڈاکٹر رضوان احمد نے چنیسر گوٹھ محمود آباد جو کہ میرا حلقہ انتخاب ہے، کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہاں فرحان غنی نام کا شخص منشیاب فروشوں کی مدد کرتا ہے اور وہ سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد ڈاکٹر رضوان احمد کو فارغ کر دیا گیا، ٹرانسفر کر دیا گیا۔

    علی زیدی نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹس کےلئے میں نے 2017ءمیں چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھا لیکن جواب ہی نہیں دیا گیا، اس کے بعد دوبارہ خط لکھا لیکن جواب نہیں ملا ، اس کے بعد میں نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کر دی،اکتوبر 2017ءسے یہ کیس چلتا رہا، آخرکار 28 جنوری 2020ءمیں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے میرے حق میں فیصلہ آ گیا تاہم سندھ حکومت نے میرے بارے میں اعتراض کیا کہ اس معاملے میں میرا تو کوئی بند ہ نہیں مرا تو میں یہ رپورٹ کیوں مانگ رہا ہوں۔ میرے شہر کی عوام نے عمران خان کے نام پر مجھے ووٹ دیا تو میں نے سوچا کہ بات اب ایسے ختم نہیں ہوگی میں نے اسمبلی میں اس پر بات کی ، جو لوگ دوسری طرف بیٹھ کر بجٹ پر تقریریں کررہے ہیں ان کے بارے میں تو جے آئی ٹی میں لکھا ہے وہ لوگوں کو قتل کرارہے تھے ،

    علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں چھ لوگ تھے جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ میں چار کے دستخط ہے سندھ حکومت کے ماتحت جو لوگ اس ٹیم کا حصہ تھے ان لوگوں نے دستخط نہیں کئے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں بڑے انکشافات تھے، وفاقی اداروں اور سندھ کی صوبائی حکومت کے جو آفیسران تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے ان کے درمیان ڈیڈ لاک ہوگیا تھا۔ جے آئی ٹی جس پر چار لوگوں کے دستخط ہیں اس میں دوستوں کے نام لکھے ہیں جبکہ دوسری رپورٹ میں دوستوں کے نام نہیں ہیں۔

    علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ میرے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ تحریک استحقاق لائی جائے گی اور 62،63کے حوالے سے کورٹ میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو مرضی کریں ، مجھے کسی بات کی فکر نہیں۔ آج کابینہ اجلاس سے قبل میں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور انہوں نے مجھے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے ، میں بطور وفاقی وزیر چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ 184.3کے تحت وہ اس معاملے کا سوموٹو نوٹس لیں، سپریم کورٹ مجھ سے بھی جے آئی ٹی رپورٹ مانگے اور جے آئی ٹی کو بھی بلائے، میں اپنے طور پر سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کرادوں گا۔جے آئی ٹی میں جن لوگوں کا نام ہے وہ قتل کراتے ہیں، قبضوں، بھتہ خوری، جواءکے اڈوں، اغواءبرائے تاوان میں ملوث ہیں وہ عوامی ٹیکس کے پیسوں پر پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں، میری چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ وہ نوٹس لیں۔

    علی زیدی نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ کراچی میں جوقتل و غارت ہوئی اس پر نوٹس لیں،سب لوگوں کو بلائیں، جے آئی ٹی منگوائیں کہ جے آئی ٹی سے نام کیسے غائب ہوئے۔ اس معاملہ کے جو بھی نتائج ہوں گے وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  • گورنر پنجاب سے سکھ برادری کے وفد کی ملاقات۔ چوہدری محمد سرور کا فاروق آباد ٹرین حادثہ پر اظہار تعزیت

    گورنر پنجاب سے سکھ برادری کے وفد کی ملاقات۔ چوہدری محمد سرور کا فاروق آباد ٹرین حادثہ پر اظہار تعزیت

    گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے سکھ برادری کے وفد کی ملاقات میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا فاروق آباد ٹرین حادثہ پر سکھ کمیونٹی سے اظہار تعزیت۔ ملاقات میں پی ٹی آئی رہنما مون خان بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پر گورنر نے کہا کہ فاروق آباد ٹرین حادثہ درد ناک واقعہ ہےجس میں قیمتی جانوں کے ناقابل تلافی نقصان پر بے حد دکھ اور افسوس ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ ننکانہ صاحب اور پشاور میں لواحقین اور سکھ برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ تمام تر دلی ہمدردی سوگواران کے ساتھ ہیں۔ گورنر پنجاب نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی

  • وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع،اہم فیصلے ہوں گے

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع،اہم فیصلے ہوں گے

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع،اہم فیصلے ہوں گے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہوگیا۔اس اہم اجلاس میں ملک میں کرونا اورسیکورٹی سمیت اہم ایشوز زیربحث آئیں گے

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سےیہ بات منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان میں بتائی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق تمام وفاقی وزرا وزیراعظم ہاوس پہنچ چکے ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم اپوزیشن کی سازشوں اورشرارتوں کے حوالے سے بھی اہم پہلووں پرتجاویز لے گے

  • کارگل جنگ میں نشان حیدر پانے والے دوعظیم سپوتوں کیپٹن کرنل شیرخان شہید اورحوالدارلالک جان کو خراج عقیدت پیش

    کارگل جنگ میں نشان حیدر پانے والے دوعظیم سپوتوں کیپٹن کرنل شیرخان شہید اورحوالدارلالک جان کو خراج عقیدت پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کیپٹن کرنل شیرخان شہید نشان حیدر کی اکیسویں برسی ان کے گاؤں صوابی میں منائی گئی،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کی اکیسویں برسی ان کے آبائی گاوں غذر میں منائی گئی،شہدا کی قبروں پر پھول چڑھائے اور زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ‏شہدا کی قبروں پر پھول چڑھائے گئے اور زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا،‏کمانڈنٹ پنجاب رجمنٹل سینٹر نے کیپٹن کرنل شیرکی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی، ‏تقریبات میں مختلف شعبہ ہائےزندگی سےتعلق رکھنےوالےافرادنےشرکت کی،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ‏آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیطرف سےمیجر جنرل احسان محمودنے لالک جان شہیدکی قبر پرپھولوں کی چادر چڑھائی.

    واضح رہے کہ کارگل کی جنگ کے ہیرواورنشان حیدرکا اعزازحاصل کرنے والے حوالدارلا لک جان شہید کا اکیسواں یوم شہادت آج اُن کے آبائی گائوں غذر گلگت بلتستان میں منایاجارہا ہے۔

    کیپٹن کرنل شیرخان اورحوالدارلالک جان نے 1999 میں کارگل کی جنگ کے دوران کنٹرول لائن کے گلتری سیکٹرمیں جام شہادت نوش کیاتھا۔

    آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کارگل کی جنگ کے ہیروزکیپٹن کرنل شیرخان اور حوالدارلالک جان کوشاندارخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ان شہدا ء نے تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے خون سے تاریخ رقم کی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ کہ مادروطن کے دفاع کے لئے جان کی قربانی سے بڑاکوئی فخرنہیں ہوسکتا۔قوم کوملکی دفاع کے لئے اپنے دلیربیٹوں کی بہادری اورغیرمتزلزل وفاداری پرفخرہے جنہوں نے وطن عزیز کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا۔

  • وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کی ملاقات

    وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کی ملاقات

    اسلام آباد میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کی ملاقات۔ دونوں رہنماوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نےکورونا کی وبا کے باوجود ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے معصوم لوگوں کے قتل عام اور لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہندوستان تمام تر قوت استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کے عزم سے شکست کھا چکا ہے۔ وزہراعظم نے کہا کہ سو پورمیں بشیر احمد کے قتل کے بعد اس کے نواسے کی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کے مہینے میں کشمیریوں نے قربانیوں کی بے مثال داستانیں رقم کیں یہ جدوجہد کا مہینہ ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اور عوام مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ظلم بربریت پر حکومت پاکستان نے دنیا بھر میں آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مقدمہ ہر فورم پر پوری قوت سے لڑتے رہیں گے۔