باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 61 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ 3359 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث4ہزار983 اموات ہو چکی ہیں جبکہ مجموعی طور پر2 لاکھ 40 ہزار848 مریض سامنے آ چکے ہیں.
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں کورونا متاثرین کی تعداد97ہزار626 ہوگئی ہے جب کہ پنجاب میں 83ہزار599، خیبرپختونخوا میں 28ہزار681، بلوچستان میں 10ہزار919، اسلام آباد میں 13ہزار650،گلگت میں ایک ہزار595 اور آزاد کشمیر میں ایک ہزار490 مریض ہیں۔
پاکستان میں کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد ایکٹو کیسز سے زیادہ ہے اور تا حال ایک لاکھ 40 ہزار 965 کورونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 91 ہزار 602 ہے۔
پاکستان میں کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت یومیہ 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اور 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ کورونا کے مریضوں کیلئے ملک بھر میں ایک ہزار525وینٹی لیٹرز مختص ہیں۔
کرونا سے پنجاب میں ایک ہزار929افراد کورنا وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ سندھ میں ایک ہزار614، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار45، بلوچستان میں 124، اسلام آباد میں 140، آزادکشمیر میں 40 اور گلگت بلتستان میں 30 کورونا مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کےخلاف بھارتی لابی کی سازش.
ویکی پیڈیا اور سوشل میڈیا پر وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی سے متعلق غلط خبریں پھیلا دی گئیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ویکی پیڈیا پر ان کے پیچ کی پروفائل کو تبدیل کیا گیاجس سے ان کےاحباب اور فیملی کو پریشان کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ ان خبروں کے پھیلانے کامرکز بھارت میں ہے جس کا مکمل ثبوت بھی سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا بہت شکر ہے وہ بالکل خیریت سے ہیں اور صحت یابی کی طرف گامزن ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میرے ساتھ موجود ہیں مدرسہ محمودیہ کے متولی خواجہ محمد نصر المحمود جو خواجہ نظام کے بڑے بھائی ہیں جنہوں نے عثمان بزدار کو 2013 میں شکست دی تھی،انکا کہنا ہے کہ عثمان بزدار انہین انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں،میں اس کیس کی تھوڑی سی تفصیل بتا دوں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 2014 میں ناظم اعلیٰ اوقاف سے ایک لیٹر جاری کیا گیا جس کے مطابق اس مدرسے سے آمدن ایک کروڑ 6 لاکھ 21 ہزار جبکہ خرچہ ایک کروڑ 5 لاکھ 75 ہزار تھا،اس کے سجادہ نشین دربار خواجہ محمو دکو سماعت کے لئے بلایا گیا، درخواست گزار نے اس بات سے انکار کر دیا کہ اس نے مدرسے کے خلاف کوئی درخواست نہیں دی،لیگل ایڈوزئزر نے تحریری ریکارڈ کے جائزہ کے بعد لکھا کہ یہ زمین میاں محمود نے زبانی طور پر مدرسہ کے نام کی ہے یہ وقف لینڈ یا سرکاری زمین نہیں ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وصیت کے مطابق زمین وقف کرنے والے نے اپنے جانشین کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کا نظام سنبھالے،اس میں یہ مناسب نہیں ہو گا کہ سیکشن 7 کے تحت مدرسے کے اثاثوں کو کنٹرول میں لیا جائے ،لیکن 6 جولائی 2020 کو چیف ایڈ منسٹریٹر ارشاد احمد کی جانب سے ایک نوٹفکیشن جاری کیا گیا کہ وفاقی مدرسہ محمودیہ تونسہ شریف ڈیرہ غازی خان کا کنٹرول اپنے قبضے میں لیتی ہے جو 93 سال سے خواجہ محمود کے جانشین ہی چلا رہے ہیں،آخر ایسا کیا ہوا کہ پنجاب حکومت اسی مدرسے کے پیچھے بڑی ہوئی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج میرے ساتھ خواجہ محمد نصر المحمود موجود ہیں ان سے ہی پوچھتے ہیں جس پر خواجہ محمد نصر المحمود کا کہنا تھا کہ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہو کیا رہا ہے وزیراعلیٰ پنجاب کا نام کیسے آ گیا،جس پر خواجہ محمد نصر المحمود کا کہنا تھا کہ جب ہم نے عثمان بزدار سے الیکشن جیتا تھا اسوقت بھی انہوں نے سیکرٹری کے ذریعے کاروائی کی تھی،لیٹر لکھوا کر اسوقت چیف منسٹر شہباز شریف کی وجہ سے کیونکہ وہ انکے ٹکٹ ہولڈر تھے، میاں صاحب کو سپورٹ کرتے تھے اور میرے خلاف کاروائی شروع کر دی
خواجہ محمد نصرالمحمود کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی جانب سے میرے خلاف کاروائی کے دوران جب محکمے نے مدرسے کو دیکھا اور تحقیقات کیں ،اخراجات دیکھے، تو محکمے نے ہمیں کلین چٹ دے دی لیکن لیگل اوپینین کے نام سے، کہ کسی بھی شکل میں جائیداد حکومت نہیں لے سکتی، میاں صاحب کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے تھے اسوقت بھی کاروائی کی جب دوبارہ اقتدار میں آیا الیکشن جیتا تو ہمارے اوپر ایک گمنام درخواست پر کاروائی شروع کی، اور سروے رپورٹس کروائیں اس میں بھی ہمیں کلین چٹ ملی، دوسری رپورٹ بھی ہمارے حق میں، تیسرے رپورٹ خود بیٹھ کر وہاں تیار کی گئی جس میں مدرسہ محمودیہ اور سلیمانیہ کے بارے میں لکھا گیا کہ انکا سسٹم صحیح نہیں ہے، اس رپورٹ میں بددیانتی کی گئی
خواجہ محمد نصر المحمود کا کہنا تھا محکمے کا عملہ آیا وہ بھی آن ریکارڈ ہے، درباروں کو چھوڑ دیا، مدرسے کے پیچھے پڑ گئے،کیونکہ میں انکے لئے مسئلہ کرتا ہوں، خواجہ عطاء اللہ خان صاحب مکمل خاموش ہیں ابھی تک ،مدرسہ پر انہوں نے ٹیک اپ کیا، ہمیں نوٹس دے دیا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اوقات کا ڈیپارٹمنٹ مرکز کے اندر ہے یا صوبے کے اندر ، جس پر خواجہ محمد نصر المحمود کا کہنا تھا کہ ایک مرکزی وزیر ہیں نور الحق قادری کے پاس، درباروں کا کنٹرول صوبوں کے پاس ہے،پاکستان کا پہلا مدرسہ ہے جس پر ٹیک اوور کیا گیا، مدارس پر ٹیک اوور نہین کیا جاتا، وصیت موجود ہے کہ جس میں لکھا گیا میرے پاس اولاد دیکھے گی، پھر بھی مدرسہ پر ٹیک اوور کیا گیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نیب کو آپ نے درخواست نہیں دی جس پر خواجہ کا کہنا تھا کہ نیب کو نہیں دی، وہ بار بار ہمیں نوٹس کر رہے تھے ، سیکشن 7 کے تحت نوٹس ہوا، بار بار یہی کہا جاتا تھا کہ اوقاف کے پاس جائیں، اوقاف ہمارے مخالف ہے، عدالت نے بھی ہماری نہیں سنی، ایک دن کے اندر ایک ہی نوٹفکیشن ہوا جس میں انتقالوں میں میرا نام نکال کر ایڈمنسٹریٹر اوقات کا نام لکھ دیا گیا،اس سے بڑی نا انصافی کیا ہو گی، پاکستان میں اتنا تیز سسٹم ہے جتنا انہوں نے میرے خلاف کیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کے علاقے کے لوگ کیا کہتے ہیں جس پر خواجہ نصر المحمود کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں کا رجحان آپ چیک کریں، سوشل میڈیا پر لوگ بات کر رہے ہیں ٹی وی پر بھی خبر چل چکی ہے.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امید ہے آپ کا مسئلہ ارباب اختیار سنیں گے، اور حل ہو گا، الزام ہین اور کئی دنوں سے آ رہے ہیں اب عثمان بزدار کے اوپر محترم ہارون الرشید صاحب نے مجھے کہا تھا کہ وہ زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں،انکے فرنٹ مین قبضہ کر رہے ہیں، دوسری سائیڈ بھی میں چاہوں گا موقف دے، اگر عثمان بزدار موقف دینا چاہیں تو ہم لیں گے اور اگر وہ موقف نہ دیں تو اسکا مطلب ہے کہ ظاہر ہے کہ سائل جائز ہے،اور زیادتی ہو رہی ہے،لیکن جب موقف آئے گا تو حتمی رائے دی سکتی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بزدار صاحب میرے ساتھ وہ نہ کیجئے گا جو آپ نے کامران خان کے ساتھ کیا جو دنیا ٹی وی کے روح رواں ہیں ،آپ نے انکو وقت بھی دے دیا، سوال بھی پوچھ لئے اور ریکارڈنگ کے وقت ملنے سے انکاری ہو گئے، سوال ایک ہے اور بڑا سادہ ہے،اور سوال کا جواب موبائل پر خود ریکارڈ کر کے بھیج دیں اگر آپ سکائپ پر یا پروگرام میں نہیں آنا چاہتے تو ویڈیو ریکارڈ کر کے بھیج دیں،سوال یہ ہے کہ آپ زمین پر کیوں قبضہ کر رہے ہیں جس کا الزام لگایا جا رہا ہے، اگر آپ نہیں ہیں تو جو محکمے نے کہا کہ زمین وقف کی نہیں ذاتی ملکیت ہے تو پھر کیسے اسکو حکومتی تحویل میں لے سکتے ہیں ،کیسے ہے کہ پہلی باری ایک صوبہ ایک مدرسے کو ٹیک اوور کر رہا ہے،بزدار صاحب
راولپنڈی: آرمی چیف کا کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ کیا جہاں انھیں سیکیورٹی صورتحال اور قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
کور ہیڈ کوارٹرز پشاور پہنچنے پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پرتپاک استقبال کیا۔
ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری ٹویٹ کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف کو سیکیورٹی کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔
پاک فوج کے سپہ سالار نے کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سول انتظامیہ کی مدد، بہتر سرحدی انتظام اور سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کو بھی سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے جاری عمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔
بھارتی پنجاب کے شہرامرتسر کی جیل میں قید ایک پاکستانی قیدی انتقال کر گیاہے۔ بھارتی پنجاب کے حکام کے مطابق پاکستانی قیدی خادم ولد عبدالکریم کاگزشتہ ماہ 29 جون کو انتقال ہوا تھا۔ تاہم خادم کی موت کی وجوہات کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ خادم کی میت کل ڈھائی بجے بعد دوپہر واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان بھیجی جائے گی۔
بیجنگ : دنیا کی زندگی خطرے میں :کرونا کے بعد طاعون نے سراٹھالیا، الرٹ جاری کردیا،اطلاعات کےمطابق چین کے خود مختار علاقے منگولیا میں طاعون کے کیس کی تصدیق ہونے کے بعد ہر طرف تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، حکام نے اس حوالے سے الرٹ جاری کردیا ہے۔
سنہ 1346 سے 1353 تک یورپ کی ایک تہائی (5 کروڑ سے زائد افراد) آبادی کا صفایا کردینے والا گلٹی دار طاعون جسے سیاہ موت کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک بار پھر ظاہر ہوگیا ہے۔
منگولیا میں اس کے ایک کیس کی تصدیق ہوگئی، بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بیانور شہر میں طاعون کی زد میں آنے والا مریض ایک چرواہا ہے جسے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاہم مریض کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
مذکورہ کیس سامنے آنے کے بعد حکام نے لیول 3 کا الرٹ جاری کردیا ہے، اس الرٹ کے تحت ان جانوروں کے شکار اور کھانے پر پابندی ہے جن سے طاعون پھیلنے کا خطرہ ہو۔
یہ خطرناک مرض بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کا علاج اینٹی بائیوٹک دواؤں سے کیا جاتا ہے۔
ببونک طاعون میں مریض کے جسم پر گلٹی ہوتی ہے اور لمف نوڈز میں سوزش ہوتی ہے۔ ابتدائی طور پر بیماری کا پتہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اس کی علامات 3 سے 7 دنوں کے بعد ظاہر ہوتی ہیں اور کسی بھی دوسرے فلو کی طرح ہوتی ہیں۔چوہے اور مارموٹ اس بیکٹیریا کی منتقلی کا آسان ترین ذریعہ ہوتے ہیں۔
ببونک طاعون کے کیسز اس سے قبل بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ سنہ 2017 میں مڈغاسکر میں طاعون کے 300 کیس سامنے آئے تھے۔
گزشتہ سال مئی میں منگولیا میں ہی مارموٹ نامی جانور کھانے کے بعد 2 افراد اس مرض کا شکار ہو کر ہلاک ہوگئے۔
اس سے قبل سنہ 1665 میں طاعون نے لندن کو اپنا نشانہ بنایا جس میں شہر کا ہر 5 میں سے ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ سنہ 1900 سے 1904 کے دوران چین اور ہندوستان میں طاعون کی وبا سے 1 کروڑ 20 لاکھ افراد ہلاک ہوگئے۔
ادھر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ادارہ اس کیس کو مانیٹر کر رہا ہے تاہم اس کے وبائی صورت اختیار کرنے کا امکان نہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کے مطابق چودہویں صدی کی صورتحال کے برعکس اب ہم جانتے ہیں کہ یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے۔ ہم اسے روکنا اور اس سے متاثر لوگوں کا علاج کرنا جانتے ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات وزیراعظم عمران خان کے دفتر میں ہوئی، مولانا طارق جمیل وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لئے پہنچے تو وزیراعظم نے انکا استقبال کیا، دونوں رہنماؤن نے کرونا سے بچاؤ کے لئے ماسک پہن رکھے تھے، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو ہاتھ سے سلام کیا، مصافحہ نہیں کیا,کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے تحت وزیراعظم عمران خان اور مولانا نے مصافحہ کی بجائے سینے پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا
وزیراعظم عمران خان اورمولانا طارق جمیل کی ملاقات کے دوران دیگر افراد بھی موجود تھے، وزیراعظم عمران خان نے مولانا طارق جمیل کی خیریت دریافت کی ،وزیراعظم عمران خان نے ملاقات میں مولانا طارق جمیل سے دعاؤں کی بھی درخواست کی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وبا کے دوران لاک ڈاون سے مزدور طبقات زیادہ متاثر ہو ئے ،
وزیراعظم عمران خان نے آج آئی ایل او کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کورونا کے زیادہ پھیلاو کو روکا،پوری دنیا میں مزدوروں کےلیے مشکل وقت ہے ،لاک ڈاون ہوتے ہی متوسط طبقہ بے روزگارہوا،معیشت کو نقصان سے بچانے کےلیے اسمارٹ لاک ڈاون کا فیصلہ کیا،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں سخت لاک ڈاون سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا، بھارت نے کورونا کے بعد ملک بھر میں کرفیو لگایا،مزدورطبقے کےتحفظ کےلیے ہمیں مل کر اقدامات کرناہوں گے،ہم نےعوامی اجتماعات، اسکولز اور کالجوں پر پابندی لگائی،ہم نےچھوٹے طبقات کے مدد کےلیے کیش پروگرام شروع کیا،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا سے پہلے ہی سڑکوں پر سونے والوں کیلیے پناہ گاہ اور لنگر کا اہتمام کیا ،اسلام آباد میں ٹھنڈ میں لوگ سڑک پر سو رہے ہوتے تھے،پارلیمنٹرینز سے کہتا ہوں پناہ گاہوں میں جائیں اورلوگوں کیساتھ کھانا کھائیں اورحال پوچھیں،آج ہمارے حالات بھارت جیسے برے نہیں ہیں تو اس کی ایک وجہ احساس پروگرام بھی ہے، لوگوں کو یہ اعتماد دلائیں گے کہ ان کا دیا ہوا پیسا ٹھیک جگہ لگ رہاہے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ احساس پروگرام میں کوئی سیاست نہیں ہے، پروگرام شفافیت سےجاری ہے، احساس پروگرام کے تحت شفافیت سےمستحقین کو پیسا فراہم کیا جارہاہے،وزیراعظم ریلیف فنڈزکا مقصد بےروزگارافراد کی مدد کرنا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تعلیمی ادارے کب کھلیں گے؟ فیصلہ ہو گیا
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں چاروں صوبوں، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرائے تعلیم شریک ہوئے، اس دوران ملک میں سکول ایجوکیشن سمیت تعلیم سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔
کانفرنس میں وزرائے تعلیم نے اتفاق کیا کہ تعلیمی ادارے کھولنے سے قبل کوویڈ 19 کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، حتمی منظوری کل این سی او سی سے لی جائے گی۔ تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے ساتھ امتحانات لینے کی بھی اجازت ہو گی۔ تعلیمی کانفرنس میں ستمبر سے قبل دو مزید اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
قبل ازیں وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے تعلیمی ادارے اگست میں کھولنے سے متعلق بیان دیا تھا تاہم بین الصوبائی تعلیمی کانفرنس میں مزید ایک ماہ آگے بڑھاتے ہوئے تعلیمی ادارے ستمبر میں کھولنے کا موقف سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ کرونا کی وجہ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند ہیں، تعلیمی اداروں میں 15 جولائی تک چھٹیوں کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک کرونا کے کیسز میں مزید اضافہ ہو رہا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث رہا،
اسلام آباد میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان اور ڈی جی جنوبی ایشیا نے نیوز کانفرنس کی ہے،احمد عرفان کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنٹ نے تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا،عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق پاکستان نے اقدامات کیے، کلبھوشن یادیو نے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار کیا،پاکستان کا قانون فیصلے کااز سرنو جائزہ لینے کی اجازت دیتا ہے،
احمد عرفان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کی بنیادپر پاکستان نے کلبھوشن کی اہلخانہ سے ملاقات کروائی،پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے,بھارت کودوسری قونصلررسائی کی پیشکش کی،پاکستان میں قانون کے مطابق بھارتی وکیل کلبھوشن کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا،پاکستان بھارتی قونصلیٹ کوکئی بار کلبھوشن کی اپیل کے لیے خط لکھ چکاہے،
ڈی جی جنوبی ایشیا زاہد حفیظ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی عالمی ذمہ داریوں سےبخوبی آگاہ ہے،پاکستان کا قانون فیصلے کاازسرنوجائزہ لینے کی اجازت دیتاہے،
واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔
کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018ء میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔
گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی