Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں.سردار مسعود خان

    برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں.سردار مسعود خان

    آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی لیکن اُن کی آواز اب مدھم پڑھ چکی ہے۔ لگتا ہے کہ ہندوستانی لابی نے انہیں اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے آئندہ متوقع صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کھل کر موجودہ ہندوستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرے اور کشمیریوں کوبنیادی انسانی حقوق دینے کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کونسلرز کنونشن برطانیہ کے شرکاء سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کا انعقاد تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کیا۔ اس کنونشن میں برطانیہ بھر سے چالیس سے زائد کونسلرز نے شرکت کی۔ نیشنل کونسلرز کنونشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست، اکتیس اکتوبر اور یکم نومبر 2019اور اپریل 2020کے اقدامات کے ذریعے اور آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ اور نئے ڈومیسائل قانون نافذ کرکے مودی حکومت نے جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں منقسم کیا اور انہیں ہندوستان کے اندر ضم کر دیا۔ یہ ہندوستانی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فورتھ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ صدر نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ پانچ اگست2019 سے پورے کشمیر میں دوہرا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور نو لاکھ ہندوستانی قابض افواج نے پورے کشمیر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ عملاً پورا کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ چودہ ہزار کے قریب نوجوانوں کو جن کی عمریں دس، بارہ اور چودہ سال ہیں انہیں گرفتار کر کے کشمیراورہندوستان کی جیلوں میں مقید کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری کشمیری حریت قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ آسیہ اندرابی اُن کے خاوند، شبیر شاہ اور یاسین ملک کو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اسی طرح سید علی گیلانی،مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر درجنوں کشمیری رہنماؤں کو پابند سلاسل اور نظر بند کررکھا ہے۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ ہے، خواتین کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور یہ اقدامات ہٹلر کے نازی ازم،1990کی دہائی میں بلقان ریاستوں میں میلازوچ کے ظلم وستم سے متشابہ ہیں اور فلسطین کے اندر اسرائیلی ریاست اور حکومت کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ملتے جلتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اپریل2020میں ہندوستانی حکومت نے جس نئے کالے ڈومیسائل قانون کا نفاذ کیا ہے اس کے تحت وہ کشمیریوں سے اُن کا روزگار، جائیدادیں اور شناخت چھین رہا ہے اور کشمیر کو ایک ہندو راشٹریا میں تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کو آباد کرنے میں بھی وقت لگا تھا اور اُسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مودی سرکار کشمیر میں اسی طرز پر اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیر یوں کی زبان بندی کر رکھی ہے، اُن کے پرامن احتجاج کے حق کو غداری کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آرایس ایس اور مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسی کی بدولت نہ صرف ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ اُن کے شر سے ہندوستان کے پڑوسی ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں۔ حالیہ چین بھارت کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان کی جارحیت کا چین نے منہ توڑ جواب دیا ہے اور ہندوستان کی خوب پٹائی ہوئی ہے، اس پر امریکہ نے سرسری حمایت کی ہے۔ صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو چین کی مدد سے سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانا چاہیے اور ہندوستان کا ہندوتوا کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہیے۔سردار مسعود خان نے برطانوی کونسلرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے خلاف BDSمہم کا آغاز کرنا چاہیے، اس سلسلے میں خلیجی ممالک میں کویت کی کابینہ نے ہندوستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کا استحصال کرنا بند کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپ ہندوستان کا حلیف ہے اور اس کی حکومتیں خاموش ہیں لیکن ہمیں یورپ سمیت تمام طاقتور اقوام سے رابطہ رکھنا چاہیے، ان ممالک کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لوگ ہندوستان اور کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ اور ہم سب کے لئے یہ چیلنج ہے کہ ہم ان ملکوں کے حکمرانوں کی زبانوں پر لگے تالوں کو کھولیں۔
    قبل ازیں پاکستان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے پوچھے گے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے قائدین کھل کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ ہندوتوا فلاسفی کوآگے بڑھاتے ہوئے ہندوستان اور کشمیر سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کریں گے اور اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی جنونی قیادت ہندوستان کو ”پویتر“کرنا چاہتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس نظریے کی اگرچہ ہندوستان کی کچھ سیاسی جماعتیں، اُن کی سول سوسائٹی مخالف ہے اور وہ مودی سرکار کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں کو نہ صرف حرف تنقید بنا رہے ہیں بلکہ اسے خود بھارت کے وجود کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس سول سوسائٹی سے ضرور اپنا رابطہ استوار رکھنا چاہیے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کے تحت اب تک پچیس ہزار سے زائد غیر کشمیریوں کو ریاست کا ڈومیسائل جاری کر دیا ہے۔ہندوستان ان آبادکاریوں سے ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جموں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن اُس وقت تقریباً اڑھائی لاکھ کے قریب مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور نصف ملین کے قریب مسلمانوں کونقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا، جس سے جموں میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب اسی طرح وہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے در پے ہیں اورمقبوضہ وادی کو ہندو راشٹریا میں بدلنا چاہتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جس طرح ہٹلر کے دور میں جرمنی میں یہودی ہونا ایک جرم تھا اسی طرح آج ہندوستان اور کشمیر میں مسلمان ہونا بھی کسی جرم سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے جس کی تباہ کاریاں خوفناک ہوں گی۔ لہذا دنیا کو آگے بڑھ کر اس ممکنہ تباہی کو روکنا ہو گا۔ صدر سردار مسعود خان نے کامیاب نیشنل کونسلر ز کنونشن منعقد کروانے پر راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ کا شکریہ ادا کیااور اُن کی کشمیر کاز کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عظمیٰ رسول، کونسلر حنیف راجہ، کونسلر لیاقت اور دیگر چالیس کے قریب کونسلرز جنہوں میں اس کنونشن میں شرکت کی اُن سب کا شکریہ ادا کیا۔صدر نے الطاف احمد بٹ سینئر کشمیر حریت رہنما کی کشمیر کاز کے لئے کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں موجود پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن نے کشمیر کاز کودنیا میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے مختلف کونسلرز کی طرف سے اٹھائے کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ کونسلرز کی اکثریت نے اپنے خطابات میں صدر ریاست کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں اُن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ کشمیریوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر رہے ہیں۔

  • کرونا کے حوالے سے چار ملکی ورچول کانفرنس کیلئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ویڈیو پیغام

    کرونا کے حوالے سے چار ملکی ورچول کانفرنس کیلئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ویڈیو پیغام

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا کے حوالے سے منعقدہ چار ملکی (چین، افغانستان، پاکستان، نیپال) ورچول کانفرنس کیلئے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اپنی مصروفیات کے سبب اس اہم چار ملکی کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا میں نے اس لیے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار کو اس کانفرنس میں شرکت کی درخواست کی تاہم میں اس اہم کانفرنس میں ویڈیو پیغام کے ذریعے شریک ہوں تاکہ اپنا نکتہ ء نظر آپ احباب کے سامنے پیش کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ میں چینی قیادت کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کووڈ 19 جیسے اہم موضوع پر چار ملکی کانفرنس کا انعقاد کیاچین افغانستان نیپال اور پاکستان اس خطے کے اہم ممالک ہیں ہمیں اپنے لوگوں کو اس عالمی وبا کے مضمرات سے بچانے اور کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس انتہائی اہم اور غیر معمولی نوعیت کی کانفرنس کی قیادت پر میں اپنے عزیز دوست، چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہمیں اس وائرس سے نمٹنے کیلئے اتحاد باہمی، یگانگت و کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت ہے جو کسی مذہب، قومیت اور علاقائی حدود سے مبرا ہے۔ انہوں نے کہا کہمیں آپ سب احباب کی توجہ کیلئے انتہائی شکرگزار ہوں اور اس فورم کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں

  • آرمی چیف سے پاک فضائیہ کے سربراہ کی ملاقات،اہم امور پر گفتگو

    آرمی چیف سے پاک فضائیہ کے سربراہ کی ملاقات،اہم امور پر گفتگو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایئر چیف مارشل مجاہد خان کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بری اور فضائی فوج کے سربراہان کی ملاقات جی ایچ کیو میں ہوئی، دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات میں پیشہ ورانہ ذمہ داروں پر بات چیت کی گئی

    مقبوضہ کشمیر میں لگی آگ بھارت میں پھیل چکی،کرونا کے حوالہ سے دو ہفتے اہم، عوام احتیاط کریں، ترجمان پاک فوج

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے چیف ایئر مارشل مجاہد انور خان نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا تھا جس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے انکی ملاقات ہوئی، ملاقات میں پیشہ وارانہ امور و ذمہ داریوں پر گفتگو ہوئی،

  • وبا پر قابو پا لیا، پھر بھی عید اور محرم میں احتیاط کریں، وزیراعظم

    وبا پر قابو پا لیا، پھر بھی عید اور محرم میں احتیاط کریں، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کو ابھی تک پوری دنیا نہیں سمجھ سکی، لاک ڈاوَن کا زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑا، دنیا یہ بھی نہیں سمجھ سکی کہ پاکستان میں کیسز کیسے کم ہوئے،

    وزیراعظم عمران خان نے کرونا کے حوالہ سے قوم سے خطاب میں کہا کہ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ اگر کورونا کیسز میں کمی آئے اور احتیاط نہ کی جائے تو دوبارہ کیسز بڑھ سکتےہیں، ایران میں روزانہ 200سے زائد لوگ کورونا سے مررہے ہیں،محرم اور عید پر اگراحتیاط نہ کی تو کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے،کورونا کے باعث پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے، پہلی عید پر احتیاط نہ کرنے کے باعث کورونا کیسز میں اضافہ ہوا،ہم نہیں چاہتے کہ عید کے بعد کورونا کیسز میں اضافہ ہو،اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو بزرگوں اور بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں گے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سب کو سمجھنا چاہیے کہ کورونا وائرس سے دنیا ابھی سیکھ رہی ہے۔ ابھی تک وبا کے علاج کے لیے ویکسین نہیں آئی۔ آگے بھی چیلنجز ہیں، ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد کم ہوئی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں وبا پر قابو پا لیا گیا ہے۔ گزشتہ تین دن کے دوران پاکستان میں کورونا سے انتہائی کم ہلاکتیں ہوئیں، ہسپتالوں میں بوجھ کافی حدتک کم ہو چکا ہے۔ تاہم ہمیں آئندہ بھی سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور یورپ کے حالات مختلف ہیں لیکن اس کے باجود ہمارے اوپر دباؤ تھا کہ سخت لاک ڈاؤن لگایا جائے۔ جن کے پاس وسائل تھے انہوں نے ہم پر بڑی تنقید کی لیکن یہ بات جاننا ضروری ہے کہ غربت کے شکار ملکوں میں کرفیو نہیں لگایا جا سکتا۔ آج دنیا بھی مان رہی ہے کہ فوری لاک ڈاؤن ناممکن ہے۔ لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑا۔ بھارت نے سخت لاک ڈاؤن کیا لیکن وہاں پر کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ وہاں کا نچلا طبقہ بالکل پس گیا۔ اس کے مقابلے میں ہم نے اپنی غریب عوام کیلئے احساس کیش پروگرام شروع کیا۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا تو ہم پر سخت تنقید کی گئی لیکن پالیسی انتہائی کامیاب رہی، اللہ کا شکر ہے ہمارا فیصلہ درست تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ لوگوں کو کورونا اور بھوک سے بھی بچانا ہے۔ آج پاکستان ان چند ملکوں میں سے ہے جہاں وبا پر قابو پا لیا گیا ہے۔ مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے اپیل کرتے ہیں کہ ماسک لگانا بہت ضروری ہے، کوشش کریں کہ اس دفعہ آن لائن قربانیاں کرائیں، مویشی منڈیوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل کریں،عید اور محرم پر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے بعد سب سیکٹرز کو کھولنے کا موقع ملے گا، امید ہے عوام عید اور محرم پر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کریں گے،

  • حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ قانون سازی ایک مسلمہ عمل ہے۔ شاہ محمود قریشی

    حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ قانون سازی ایک مسلمہ عمل ہے۔ شاہ محمود قریشی

    حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ قانون سازی ایک مسلمہ عمل ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ
    بعض قوانین کے حوالے سے ہمارا ایک موقف ہے جبکہ اپوزیشن کا ایک دوسرا موقف ہے۔ہمارے اور اپوزیشن کے درمیان نکتہء نظر کے درمیان فرق کو مل بیٹھ کر طے کرنے اور بہتر قانون سازی کیلئے 24 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل پا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پارلیمانی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے جبکہ دوسرا بھی عنقریب ہو گا ہم نے ایف اے ٹی ایف، نیشنل سیکورٹی اور نیب سے متعلقہ مسودے اپنے اپوزیشن کے دوستوں کو بھجوا دیے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ اپوزیشن کے احباب فراخ دلی کے ساتھ ان مسودوں کو دیکھیں گے اور پھر ہم مل بیٹھ کر اس پر گفت و شنید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں بہتر قانون سازی کے ذریعے کرپشن کی بیخ کنی چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ کرپشن کے نام پر کسی کی عزت نہ اچھالی جائے۔ کرپشن قوانین کا مقصد کسی کو ناجائز تنگ کرنا نہیں ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس ملک کو بےدردی سے لوٹا ہے انہیں کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ لہذا ہماری کوشش یہی ہے کہ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جو ان دونوں پیمانوں پر پورا اترتا ہو

  • کورونا کی صورت حال پر وزیراعظم کا قوم کو اعتماد میں‌ لینے کا فیصلہ

    کورونا کی صورت حال پر وزیراعظم کا قوم کو اعتماد میں‌ لینے کا فیصلہ

    کورونا کی صورت حال پر وزیراعظم کا قوم کو اعتماد میں‌ لینے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی :وزیراعظم نے کورونا صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرلیا، عمران خان کورونا سے متعلق اجلاس کے بعد قوم سے مخاطب ہوں گے۔ وزیراعظم سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کی عالمی دنیا میں پذیرائی پر بات کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کورونا صورتحال پر اہم اجلاس آج طلب کر لیا، صوبوں میں کورونا صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں عید الاضحی کیلیے ایس او پیز پرعمل درآمد کی حکمت عملی طے کی جائے گی، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد اور سہولیات سے آگاہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں این سی او سی کے اعدادو شمار اور تجاویز پر بریفنگ ہوگی، تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق این سی او سی کی تجاویز پر غور ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزرا، معاونین، سول اور عسکری اداروں کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، صوبائی وزرائے اعلیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کریں گے،
    واضح‌ رہے کہ پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 5 ہزار 842 ہو گئی ہے اور 2 لاکھ 73 ہزار 113 افراد متاثر ہیں جبکہ ملک بھر میں کورونا کے دو لاکھ 37 ہزار 434 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 27 ہزار421 ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 23 ہزار 254 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 18 لاکھ 68 ہزار 180 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  • کورونا وائرس سے مزید 20 افراد جاں بحق ہو گئے ، ایک ہزار 176 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا وائرس سے مزید 20 افراد جاں بحق ہو گئے ، ایک ہزار 176 نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 20 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک ہزار 176 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 5 ہزار 842 ہو گئی ہے اور 2 لاکھ 73 ہزار 113 افراد متاثر ہیں جبکہ ملک بھر میں کورونا کے دو لاکھ 37 ہزار 434 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 27 ہزار421 ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 23 ہزار 254 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 18 لاکھ 68 ہزار 180 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 17 ہزار 598 اور خیبر پختونخوا میں کورونا مریضوں کی تعداد 33 ہزار 220 ہو گئی ہے۔ بلوچستان 11 ہزار 578، اسلام آباد 14 ہزار 841، آزاد جموں و کشمیر 2 ہزار 23، گلگت بلتستان ایک ہزار 952 اور پنجاب میں 91 ہزار 901 کورونا مریض ہیں.
    پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 116، سندھ میں 2 ہزار 135، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 176، اسلام آباد میں 163، بلوچستان میں 136، آزاد کشمیر میں 49 اور گلگت بلتستان میں 47 ہو چکی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق ‏ملک بھر کےاسپتالوں میں 238 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں جبکہ اسپتالوں میں کورونا وینٹی لیٹرز کی تعداد ایک ہزار859 ہے۔

    ملک میں کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت یومیہ 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اور 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ 30 شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔

  • وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم

    اسلام آباد:وزیر خارجہ کا سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم‌ ‌،اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کورونا کی وبائی صورتحال سمیت دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے اپنی اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے خیریت دریافت کی۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان کی سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے سبب کورونا پھیلاؤ اور شرح اموات میں کمی ہوئی ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں یقین دیالا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے مابین رواں سال حج کی محدود ادائیگی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی کا فیصلہ عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    دوران گفتگو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ کورونا وبائی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور دو طرفہ امور پر باہمی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

  • پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا،اطلاعات کےمطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاک فوج نے پانڈو سیکٹر میں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا ہے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے لکھا کہ بھار کا جاسوس کواڈ کاپٹر پاکستانی حدود میں 200 میٹر تک گھس آیا تھا۔ رواں سال گرایا جانے والا یہ 10واں بھارتی جاسوس ڈرون ہے۔

     

    خیال رہے کہ اس سے قبل 28 جون کو پاک فوج نے بھارت کا نواں بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔ کواڈ کاپٹر ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر میں آٹھ سو پچاس میٹر پاکستانی حدود میں آ گیا تھا۔

    پانچ جون کو بھی پاک فوج نے ایل او سی کے خنجر سیکٹر میں بھارتی کواڈ کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ یہ جاسوس کواڈ کاپٹر 500 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے رکھ چکری سیکٹر میں انڈین ڈرون کو تباہ کیا تھا۔ یہ بھارتی کواڈ کاپٹر جاسوسی کے لیے پاکستانی حدود میں 650 میٹر تک گھس آیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال پاک فوج نے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے، اس میں پہلا کواڈ کاپٹر سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو باغ سیکٹر میں گرایا گیا تھا۔

    بعد ازاں ایک روز بعد ہی بھارت نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے ستوال سیکٹر میں جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔

    علاوہ ازیں فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ اور فضائی جھڑپ بھی ہوئی تھی جس کے کچھ روز بعد بھارت کا ایک جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں 150 میٹر گھس آیا تھا جسے ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں گرادیا گیا تھا۔

    چھ مارچ 2018ء کو ایل او سی کے مقام چری کوٹ سیکٹر میں پاک فوج نے بھارت کا جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا تھا۔

    اکتوبر 2017ء میں بھی پاک فوج نے ایل او سی کے قریب رکھ چکری سیکٹر میں جاسوسی کرنے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔

    نومبر 2016ء میں بھارتی ڈرون کنٹرول لائن پر پاکستانی حدود میں 60 میٹر اندر آگیا تھا، جسے پاک فوج کی آگاہی پوسٹ نے نشانہ بنا کر گرادیا تھا۔

    اسی طرح 15 جولائی 2015ء کو پاک فوج نے بھارت کے جاسوس ڈرون طیارے کو لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر کے علاقے میں گرایا تھا، طیارہ فضا سے پاکستانی علاقوں کی فوٹو گرافی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

  • سعودی عرب: حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا :ہرقدم پر ایس اوپیزکا اہتمام کرنا ضروری قرار

    سعودی عرب: حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا :ہرقدم پر ایس اوپیزکا اہتمام کرنا ضروری قرار

    مکہ المکرمہ :سعودی عرب: حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا :ہرقدم پر ایس اوپیزکا اہتمام کرنا ضروری قرار،اطلاعات کےمطابق سعودی عرب میں رواں برس 29 جولائی سے شرو ع ہونے والے حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

     

     

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے حج کو ایک ہزار افراد تک محدود کردیا گیا تھا جبکہ ہر سال دنیا بھر سے تقریباً 25 لاکھ افراد حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق تمام ایک ہزارعازمین سعودی عرب کے رہائشی ہوں گے جس میں 700 غیرملکی ہیں۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=-rXVX-RZbmE

    خیال رہے کہ حج حکام نے کہا تھا کہ حج کو صرف ایک ہزار افراد تک محدود رکھا جائے گا جو کہ سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں اور ان میں 70 فیصد غیر ملکی جبکہ بقیہ سعودی شہری ہوں گے۔

     

     

    700 سے غیرملکی عازمین میں شامل بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی خدیجہ نے بتایا کہ ‘جب انہیں معلوم چلا کہ وہ رواں برس حج کے لیے نامزد ہوچکی ہیں تو خوشی کے مارے آنسو نہیں تھم رہے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے امید نہیں تھی کہ میری عرضی قبول ہوگی کیونکہ اس سال کا حج ہر لحاظ سے ایک غیر معمولی ہوگا’۔

    سعودی عرب میں رہائش پذیر تیونس کی ڈاکٹر حفا یوسف ہمڈون نے بھی محدود عازمین کی وجہ سے ناامید تھیں۔انہوں نے کہا کہ جب مجھے اپنی درخواست کی تصدیق ملی تو میں خوشی سے نہال ہوگئی، مجھے یقین نہیں آرہا تھا’۔

     

    سوڈان سے تعلق رکھنے والے موڈیز محمد نے ان کی اور دیگر حجاج کرام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عبادات کو بحفاظت طریقے سے ادا کرسکیں گے۔متعلقہ وزارت کے عہدیداروں تمام عازمین کی آمد کے بعد انہیں مکہ مکرمہ میں رہائش گاہ پر لے گئے۔

    خیال رہے کہ 29 جولائی کو شروع ہونے والے حج سے قبل تمام عازمین مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر رہیں گے۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی تعداد کے باعث سعودی عرب نے رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے اور اس حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں جن کے مطابق نماز اور طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

     

    اس اقدام کا مقصد حج کو محفوظ طریقے سے انجام دینے کے ساتھ ساتھ حجاج کرام کو بچانے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرتے ہوئے اور صحت اور حفاظت کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے۔

    حج کے حوالے سے نئی ہدایات رہائشی عمارات، کھانے، بسوں اور حجام کی دکانوں، عرفہ اور مزدلفہ، جمرات اور مسجد الحرام میں عبادات سے متعلق ہیں۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق حکام 19 جولائی 2020 یعنی 28 ذیقعد 1441 ہجری سے لے کر 2 اگست، 2020 یعنی 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت نامے کے بغیر داخلے کی ممانعت ہوگی۔

    حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

     

    مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں۔

    علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔رواں برس خانہ کعبہ اور حجر اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=QiyJa7kEZfM

    ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے جائیں گے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے جائیں گے۔

     

    ہر حاجی کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ
    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

    مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں۔

    علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=2DsqBnHj7eM

    رواں برس خانہ کعبہ اور حجر اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

    ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے جائیں گے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

    مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے جائیں گے۔

    بیگیج کلیم ایریا، ریسٹورنٹس اور بس اسٹاپس پر ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے سماجی فاصلے کے لیے نشانات لگائے جائیں گے۔

    مزدلفہ اور عرفات
    حج کے دوران تمام اہلکاروں، گائیڈز، حجاج کرام اور ورکرز کا درجہ حرارت لازمی جانچا جائے گا جبکہ ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

     

    مزدلفہ اور عرفات میں عازمین کو ہر وقت سماجی فاصلے پر لازمی عمل کرنا ہوگا، ماسکس پہننے ہوں گے اور منتظمین کے لیے 50 مربع گز کے خیمے میں 10 سے زائد عازمین حج موجود نہ ہوں اور ہر ایک کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ یقینی ہو۔

    عازمین کے لیے متعلقہ راستوں پر عمل لازمی ہوگا جبکہ منتظمین کو تمام عازمین کی جانب سے سماجی فاصلے کے قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

    مزدلفہ اور عرفات میں قیام کے دوران تیار شدہ کھانے کی فراہمی کو محدود کیا جائے گا اور عازمین کے درمیان سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

    رمی جمرات کیلئے سینیٹائزڈ کنکریاں
    خیال رہے کہ حجاج کرام 10، 11، 12 اور 13 ذی الحج کو منیٰ میں رمی جمرات کرتے ہیں اور اس مرتبہ عازمین کو سینیٹائزڈ کنکریاں فراہم کی جائیں گی جو تھیلیوں میں بند ہوں گی۔

    اس دوران 50 افراد پر مشتمل ایک گروہ کو رمی کی اجازت دی جائے گی اور عازمین کے درمیان ڈیڑھ سے دو میٹر تک کا فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی دیگر ہدایات میں رمی کے دوران تمام عازمین اور ورکرز کو فیس ماسک اور سینیٹائزر کی فراہمی شامل ہے۔

    رہائشی عمارات
    گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق رواں برس حج سیزن سے متعلق رہائشی عمارتوں کے حوالے سے بھی ہدایات شامل ہیں، خاص طور پر استقبالیے پر کام کرتے وقت اور مہمان خانے میں داخل ہونے سے پہلے عملے کا ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

    اس کے ساتھ ہی مہمانوں کو اپنے کمرے سے باہر رہنے کے اوقات کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

    دیگر ہدایات میں سطحوں کی باقاعدہ اور شیڈول کے مطابق صفائی، زیادہ رابطے کے مقامات پر توجہ خاص طور پر دن کے دوران، جیسا کہ استقبالیہ اور انتظار گاہوں، دروازوں کے ہینڈلر، کھانے کی میز، سیٹ ریسٹس اور لفٹس کی صفائی یقینی بنانا شامل ہیں۔

    کھانے سے متعلق ہدایات
    کھانے کی جگہوں سے متعلق جاری کردہ ہدایات اور قواعد و ضوابط میں پینے کا پانی اور آب زم زم کو انفرادی یا ایک مرتبہ استعمال ہونے والے برتنوں میں پینا شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات سے تمام فریج ہٹادیے یا بند کردیے جائیں گے اور کھانے کو عازمین کو انفرادی طور پر تیار شدہ اور پیک خوراک تک محدود کیا جائے گا۔

    ورکرز کے لیے باقاعدگی سے اور بار بار کم از کم 40 سیکنڈز تک ہاتھ دھونا اور صابن اور پانی نہ ہونے کی صورت میں 20 سیکنڈز تک سینیٹائزر استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ گروہوں کے درمیان براہ راست رابطے میں کمی کے لیے ورکنگ گروپس میں ملازمین شفٹس میں کام کریں گے۔

    ٹرانسپورٹ
    حج کے دوران ہر گروہ کے لیے بس مختص ہوگی اور ہر حاجی کے لیے ایک نشست نمبر مقرر کیا جائے، کسی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور خاندانوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

    دیگر قواعد و ضوابط میں بسوں میں سوار ہونے اور اترنے کے لیے مختلف دروازے مختص کرنا، ان لوگوں کے علاوہ جنہیں جسمانی مشکلات کے باعث مدد کی ضرورت ہوگا۔

    علاوہ ازیں اگر کسی مسافر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو تو مکمل ڈس انفیکشن سے قبل بس نہیں چلائی جائے گی۔

    ہر مسافر کیبن میں ہینڈ سینیٹائزر اور سینیٹری پیپرز فراہم کیے جائیں گے، ہر کمپارٹمنٹ میں کم از کم 3 ڈس انفیکٹنٹس تقسیم اور نصب کیے جائیں گے۔

    ہدایات کے مطابق بس میں مسافروں کی تعداد مجموعی صلاحیت کے 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، مجوزہ پالیسی کے ذریعے سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے اور ہر مسافر کے درمیان کم از کم ایک نشست خالی چھوڑی جائے گی۔

    جن عازمین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہونے پر انہیں مکمل طبی معائنے کے بعد حج کی اجازت دی جائے گی اور انہیں مشتبہ کیسز کے مخصوص گروہوں میں شامل کیا جائے گا، ان کی حالت کو دیکھ کر متعلقہ رہائش گاہ اور الگ ٹریکس کی بسیں مختص کی جائیں گی۔

    علاوہ ازیں وقایہ کے قواعد و ضوابط میں ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس کی علامات (بخار، کھانسی، زکام، گلے میں سوزش اور چکھنے اور سونگھنے کی حس اچانک ختم ہونے) کی صورت میں کسی اہلکار کو علامات ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے صحت مند قرار دینے تک کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ہدایات کے مطابق اے ٹی ایمز، ٹچ-اسکرین گائیڈز اور وینڈنگ مشینز کے برابر میں سینیٹائزرز لازمی رکھے جائیں گے جبکہ کورونا وائرس کی ممکنہ منتقلی میں کمی کے لیے تمام مطبوعہ میگزین اور اخبارات ہٹادیے جائیں گے۔