Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان میں کرونا مریضوں میں اضافہ، صحتیاب افراد کی تعداد 71 ہزار سے زائد ہو گئی

    پاکستان میں کرونا مریضوں میں اضافہ، صحتیاب افراد کی تعداد 71 ہزار سے زائد ہو گئی

    پاکستان میں کرونا مریضوں میں اضافہ، صحتیاب افراد کی تعداد 71 ہزار سے زائد ہو گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا مریضوں کا پھیلاؤ‌ جاری ہے،چوبیس گھنٹوں میں کورونا مزید 89 زندگیاں نگل گیا،

    ملک میں کورونا سےاموات کی تعداد 3590 ہوگئی،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 30ہزار520 کورونا ٹیسٹ کیے گئے،ملک بھر میں تاحال11 لاکھ 2 ہزار 162 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں،ملک بھر میں 24گھنٹوں کے دوران کورونا کے4ہزار471کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،ملک میں بھر کورونا کے 71ہزار458مریض صحت یاب ہو چکے ہیں،

    سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 69ہزار628ہوگئی،پنجاب میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 66ہزار943ہوگئی،خیبرپختونخوا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 21ہزار997ہوگئی،گلگت بلتستان میں کورونا کیسز کی تعداد 1288ہوگئی،آزاد کشمیر میں کورونا کیسز کی تعداد 845ہوگئی،اسلام آباد میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 10ہزار912ہوگئی ،بلوچستان میں کورونا کیسز کی تعداد 9 ہزار 445 ہو گئی ہے

  • چاہ بہاربندرگاہ امریکہ اسے کیوں فعال دیکھنا چاہتا ہے اوراس بندرگاہ پرپابندیاں کیوں نہیں لگائیں ، اہم خبرآگئی

    چاہ بہاربندرگاہ امریکہ اسے کیوں فعال دیکھنا چاہتا ہے اوراس بندرگاہ پرپابندیاں کیوں نہیں لگائیں ، اہم خبرآگئی

    واشنگٹن :چاہ بہاربندرگاہ امریکہ اسے کیوں فعال دیکھنا چاہتا ہے اوراس بندرگاہ پرپابندیاں کیوں نہیں لگائیں ، اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق ،پاکستان کے خلاف پراکسی وار کو کامیاب کرنے کےلیے امریکہ ،ایران اوربھارت چاہ بہاربندرگاہ کوفعال دیکھنا چاہتے ہیں اوریہی وجہ ہےکہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کی چابہار بندر گاہ کو اقتصادی پابندیوں سے محدود استثنیٰ دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق انہوں نے بتایا کہ وسیع تر غور و فکر کے بعد نومبر 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے (ایران کی چابہاربندر گاہ) کو ایک محدود استثنیٰ دیا۔انہوں نے بتایا کہ ‘اس محدود اجازت کا مقصد افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی جاری رکھنا ہے جو ایک اہم امریکی اتحادی ہے’۔

    امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار نے بتایا کہ چابنہار بندرگاہ پر اس مقصد کے لیے محدود پیمانے پر فعال ہے جس کا واحد مقصد افغانستان کی تعمیر نو ہے۔

    واضح رہے کہ اس استثنیٰ کے نتیجے میں بظاہر افغانستان ایرانی ایندھن اور ایران سے تیار شدہ سامان درآمد کرنے کے قابل ہے جو انسانی امداد کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بندرگاہ خطے میں امریکی مفادات کے لیے بھی کام کرتی ہے۔

    امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کےترجمان نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی حکمت عملی میں ‘افغانستان کی معاشی نمو اور ترقی کے ساتھ بھارت سے قریبی شراکت داری بھی شامل ہے’۔انہوں نے بتایا کہ بھارت اور افغانستان دونوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    چاہ بہار کی تعمیر کا اصل مقصد پاکستان کی گوادر بندرگاہ کاتوڑ ہے ۔جس کے تعمیر ہونے پر خطے کی ساری سمندری تجارت چاہ بہار منتقل کی جائے گی وسط ایشیائی ریاستیں اس سے مستفید ہوگی ۔بھارت کو افغانستان تک تجارت کے لئے رسائی ممکن ہوگی ۔روس اس سے استفادہ کرے گا اور چین کے لئے ایک پرکشش متبادل روٹ موجود ہوگا۔

    یہ ساری بحث 24مئی 2016ءتہران میں معاہدے سے شروع ہوئی تھی۔افغانستان ،ایران ،اور ہندوستان کا اتحاد ان تینوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات ہوئی جس میں بارہ معاہدوں پر دستحط ہوئے ۔جس میں چاہ بہار پورٹ بھی جو گوادر پورٹ کے مقابلے کھڑی کی جارہی ہے اس کے بارے بھی بات کی گئی ۔پچاس کڑوڑ ڈالر انڈیا لگائے گا چاہ بہار کے لئے اور ایک ریلوئے لائن بھی شامل ہے یہ نیکسس(Nexus)بن رہا ہے اور ہندوستان کے مطابق پاکستان کو سنگل آﺅٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    چاہ بہار میں جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ۔ثقافتی امن کا معاہدہ ،سائنس کا معاہدہ ،ٹیکنالوجی کا معاہدہ ،چاہ بہار کی ترقی کا معاہدہ ، ریلوئے ٹریک بشانے کا معاہدہ،اور ریلوئے لائن زہدان تک ہوگی۔چاہ بہار پورٹ بنے گی، پچاس کڑوڑ کی سرمایہ کاری ،تیل،گیس کی صنعتیں اور اس سے بڑھ کر خطے میں دہشتگردی کی بنیاد پرستی ،منشیات کی لانت اور سائبر کرائم کے خلاف مل جل کر کام کریں گئے۔

    چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر کے لئے بھارت اور ایران کے درمیان معاہدے سے بھارت میں BJPاور RSSکے حلقوں میں زبردست جشن کا سماںہے ۔ اسے نریندر مودی کا عظیم کارنامہ قرارا دیا جارہا ہے ۔ بھارتی میڈیا جو ہمیشہ پاکستان مخالفت میں اپنی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ چلتا ہے۔ اس میں چاہ بہار بندر گا کے حوالے ایک نیا جوش اور ولولہ دکھائی دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی گوادر بندرگاہ منصوبے پر تنقید کے تیر چلا رہا ہے۔

    تینوں ممالک نے اپنی طرف سے مل کر 46بیلین ڈالر کی جو پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا جواب دیا ہے۔اور انڈین میڈیا اس معاملے پر کافی شورمچا رہا ہے انڈیا آجکل بہت بڑی آفردے رہا ہے اور اسے بہت پروموٹ کیا جارہا ہے سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر کہ انڈیا نے بندرگاہ بنائی ہے ۔ جو گوادر پورٹ سے 75کلو میٹر دوری پر چاہ بہار میں ہے اور انڈیا نے آفر کی ہے کہ آپ افغانستان اور پاکستان کو چھوڑیں بائی پاس کریں ۔اور آپ سنٹرل ایشیاءاور روس سے ڈئراکٹ آئیںایران میں اور ایران سے چاہ بہار کی بندرگاہ میں اور پھر یہاں سے آپ عربیہ ٹریڈ کریں ۔ایشیاء میں ٹریڈ کریں افریقہ میں ٹریڈ کریں اسکا مطلب ہندوستان نے 75فیصد لوگوں تک رسائی کا سادہ اور محفوظ راستہ دے دیا ۔

    لیکن یہ حقیقت ہے چاہ بہار کی بندر گاہ 11میٹر سے گہری نہیں ہے ۔اور 11میٹر گہری بندر گاہ کے اندر بڑے کنٹینر اور بحری جہاز آکر رک ہی نہیں سکتے لنگر انداز نہیں ہوسکتے ۔ یہاں دوہزار ٹن سے لیکر ڈھائی ہزار ٹن تک بحری جہاز لنگڑانداز ہوسکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ چاہ بہار کی بندرگاہ کی برتھوںپر ایک ٹائم میں منفرد قسم کے جہاز وں کے لنگڑ انداز ہونے کی گنجائش نہیں ہے جب وہ آہی نہیں سکتے تو ٹریڈ کا کیا سوال ہے ۔یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں ٹریڈ ہوسکے ۔ تو انڈیا جو ایران کو بندر گاہ بنا کردے رہا ہے ۔

    اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیںدنیا جانتی ہے کہ انڈیا کی فورس افغانستان میں ہے اور انڈیا اپنی فورس کا حجم( تعداد)کو بڑھانا چاہتا ہے ۔ اور امریکہ انڈیا کو افغانستان میں سیٹ کرنا چاہتا ہے ۔ اسکو وہاں پوزیشن دینا چاہتا ہے ۔اور وہاں فوج کے لئے انڈیا کوراستہ چاہیے ۔جو پاکستان دینے کو تیار نہیں پاکستان کبھی بھی انڈین آرمی کو افغانستان میں اپروچ نہیں دے گا اور نہ کوئی راستہ دے گا نا کوئی لین دے گا ۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا افغانستان میںاپنی سپلائی کو کس طرح برقرار رکھے گا ۔پاکستان راستہ دینے کوتیار نہیں ۔اور نہ ہی یہ کبھی ممکن ہوسکتا ہے ۔کہ پاکستان راستہ دے کیونکہ انڈیا ہمارا دشمن ہے اور وہ افغانستان میں جائے گا تو ہماری دشمنی کو ا¿گے بڑھائے گا ۔تو انڈیا کے پاس پھر ایک ہی راستہ بچا ہے ۔ کہ وہ اپنی فوج کو چھوٹے بحری جہازوں میں اتارے اور وہ بحری جہاز چاہ بہار کی بندر گاہ پر لے کرجائے اور وہاں سے جس پر ا نڈیا نے 100میلین ڈالر کی لاگت سے 220کلومیٹر کی ایک سڑک بنائی ہے جو افغانستان جاتی ہے یعنی اپنی سپلائی کو ملٹری پریزنٹ کو برقراراور لاجسٹک سپورٹ قائم رکھنے اپنی فوج کے لئے اسلحہ ایمونیشن کے لئے خوراک اپنے پرئیویٹ کی آمدورفت کے لئے وہ یہ راستہ بنایا ہے یہ چاہ بہار کی بندر گاہ کوئی تجارتی مقاصد کے لئے نہیں ہے کہ یہاں سے تجارت ہوسکے یہ ٹریڈ روٹ نہیں ہے یہاں سے ٹریڈ نہیں ہوسکتی ۔

    اب جو معاہدہ انڈیا، افغانستان ، اور ایران کے درمیان ہوا ہے اس میں دیکھا جائے تو ایران پہلے سمندر پر تھا۔ ابھی یہ منصوبہ شروع نہیں ہوا مگر افغانستان میں جس پر اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار ہے اسکی سخت مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ حزب اسلامی کے رہنماءگلبدین حکمت یار نے اسے افغانستان کے خلاف ایک بڑی سازش قرار دیا ہے انکا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان حکومت بھارت کی بجائے پاکستان کے ساتھ معاملات کرے۔ تو اس معاہدے میں یہ افغانستان کو اپروچ دئے رہے ہیں۔

    لیکن افغانستان کی کوئی بڑی پروڈکشن نہیں ہے افغانستان گندم بھی پاکستان سے منگواتا ہے تو وہ ملک جس کی کوئی اپنی پروڈکشن ہی نہیں ہے تو وہ کیا ٹریڈ کرکے گا بنیادی طور پر یہ معاہدہ فوجی مقاصد کے لئے ہے اس سے وہ اپنی فوجی پریزنٹ کو افغانستان میںمضبوط کرنا چاہتا ہے ۔

  • سارےہندوستان کابجٹ کھاکربھی چین کےہاتھوں رسوائی،  ناک کٹوادی ،فوجیوں کے خاندانوں کا بھارت جرنیلوں کے نام کھلا خط

    سارےہندوستان کابجٹ کھاکربھی چین کےہاتھوں رسوائی، ناک کٹوادی ،فوجیوں کے خاندانوں کا بھارت جرنیلوں کے نام کھلا خط

    نئی دہلی:سارے ہندوستان کابجٹ کھاکربھی چین کےہاتھوں ذلت آمیزرسوائی،ناک کٹوا دی،ہندوستانی آرمی چیف کےنام سابق اورحاضر سروس فوجیوں کے خاندانوں کا کھلا خط،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں اس وقت سخت مایوسی اوربددلی کا ماحول ہے اور اسی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے حاضراورریٹائرڈ فوجیوں کے خاندانوں کی طرف سے آرمی چیف کے نام ایک کھلا خط لکھا گیا ہے جس نے بھارتی فوج کی رہی سہی کسربھی نکال دی

    اس خط میں کہا گیا ہےکہ ہم مسلح افواج کےحاضرسروس اورریٹائرڈ اہلکاروں کے اہل خانہ اپنے فوجیوں ، اپنی فوج کے ساتھ ثابت قدم ہیں۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف صاحب یہ ٹھیک ہے کہ بھارت کو گلوان اورلداخ کے محاذ پرسخت ہزیمت اورشکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم اس کے باوجود بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔ ہاں ،

    ہم تو اس مشکل وقت میں اپنے پیارے فوجیوں کی سلامتی کے لئے دعاگو ہیں۔ لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وادی گلوان میں کیا ہوا ہے۔ ہم آپ کی اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ گلوان اورلداخ کے محاذ پرآپ نے کوئی حکمت عملی اپنائی ہوگی ۔ لیکن یہ تو بتایا جائے کہ پھرہمیں لداخ اورگلوان کے محاذ پراس قدربری شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا

    ہمارے چند سوالوں کے جوابات چائیں کہ
    اگر چین کی طرف سے مداخلت نہیں کی گئی تو پھر کمانڈنگ آفیسر سمیت بہت سے جانی نقصان کیسے ہوگیا ؟
    – نہ صرف ہمارے فوجیوں کو وحشیانہ طور پر ہلاک کیا گیا ، بلکہ ان کی لاشیں مسخ کردی گئیں۔ کیوں؟
    – کیا وہ اپنے طور پر دشمن کے علاقے میں داخل ہوئے (جیسا کہ چین نے دعوی کیا ہے) اور دفاع میں حملہ ہوا؟
    – ہم وہاں لداخ ڈیزاسٹر میں روزانہ ایک نیا ڈراما کیوں دیکھ رہے ہیں ؟
    – کیا ہمیں کبھی حقیقت معلوم ہوگی؟
    – کیا ہمارے فوجی اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں گر گئے؟

    جناب آرمی چیف صاحب جس طرح چینی فوجیوں نے ہمارے فوجیوں کی درگت بنائی اوروحشیانہ طریقے سے ان کا قتل کیا یہ آپ ہی ہیں جو ہم سے زیادہ سخت ہیں اوراتنا بڑا نقصان برداشت کرگئے ہیں ہم سے یہ برداشت نہیں ہورہا ۔ ہم پریشان تو اس لیے ہیں کہ کیا ہیں آپ کی پالیسیاں کہ دشمن نے ہمارے گھرمیں گھس کرہمیں مارا ہے اورہم الٹا صفائیاں پیش کررہے ہیں ۔

    جناب آرمی چیف صاحب بتائیں کہ ہماری نیوی ، ہماری فضائیہ اورہماری بری افواج کا رعب اوردبدبہ دکھلاوے کا ہے کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس دنیا کی بڑی فضائیہ ، بحریہ اوربری افواج ہیں لیکن وہ کدھرہیں ۔ ہمیں داخلی اور بیرونی طور پر ایک مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ ملک کا ہر شہری ہمارے فوجیوں کے ساتھ کھڑا ہے ،

    لداخ کی تباہی نے یہ واضح کر دیا کہ ہمارا کوئی میکنزم نہیں ، کوئی ہماری کمانڈ نہیں بس گزارا ہی اورہندوستانی قوم کا پیسہ کھانے کا ایک بہانہ بنا رکھا ہے ،

    بڑی عجیب بات ہے کہ ہندوستانی کی حفاظت کرنے والے چینی فوج سے بچتے ہوئے پناہ کی تلاش میں ہیں کیا یہی ہمارا دعوی ہے ذرا تصور کریں کہ تنظیم کو کتنی خوبصورتی سے فائدہ ہوتا ،

    جناب آرمی چیف صاحب بتایا جائے کہ ایک بار برائے مہربانی اپنے دل پر ہاتھ رکھیں اور غور کریں-
    – کیا آپ نے جو ذمہ داریوں اور مراعات آپ سے دی ہیں ان کے ساتھ انصاف کیا؟
    – کیا آپ اپنے فوجیوں کی مدد کے لیے پہنچے ؟
    – کیا آپ نے سیاست دانوں کو آپ کو قربانی کا بکرا بنانے نہیں دیا اور کچھ فیصلے کرنے نہیں دیئے جس سے تنظیم کو ہمیشہ نقصان پہنچا؟
    – کیا آپ نے لداخ میں ہمارے فوجیوں کو ہلاک نہیں کرویا ، کیاان کی لاشوں کے ساتھ بے حرمتی نہیں کی گئی ؟

    ہمیں یقین ہے کہ آپ کو یہ باتیں بہت دکھ دیتی ہوں اوریہ بھی یقین ہے کہ آپ ان سوالات کے جوابات بہتردے سکتے ہیں لیکن کیا حکومت میں‌بیٹھے ہوئے لوگوں کو اخلاقی طورپرمستعفی نہیں ہوجانا چاہیے تھا ،

    ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ چین کی طرف سے ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ جوسلوک کیا گیا آپ کویہ برداشت نہیں لیکن یہ کیا ہےکہ دشمن نے ہمیں ہمارے گھر میں آکرگھس کرمارا ہےاورہم پھربھی یہ ماننے کےلیے تیارنہیں ایسے ملک کی حفاظت نہیں کی جاسکے گی ،

    ہم نے اپنے پیارے اس ملک کی حفاظت کے لیے قربان کئے لیکن اگریہی حال رہا توپھرتوتمہیں اپنی جان کے خطرہ لاحق ہوجائے گا ،

    ہمیں یہ بتایا جائے کہ کیا ہمارے فوجیوں کو اسی طرح مرویا جائے گا یہ پھرہمت ہارتی فوج کو پھرسے حوصلہ دے کردشمن سے بدلہ لینے کے لیے تیارکیا جائے گا اب یہ آپ پرمنحصر ہے

    آخرمیں ہم آپ سے یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ پورے ہندوستان کا بجٹ کھا کراورمراعات لے کرپھربھی اگرہمارے فوجیوں کوبڑی بری طرح قتل کیا جانا ہی ہے تو پھراس سے بڑھ کراورذلت کیا ہوسکتی ہے آگے بڑھیئے ہم تمہارے ساتھ ہیں اورجئے ہند کو پھر ہی تحفظ مل سکتا ہے جب پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی امید ہے کہ اب ایسا نہیں ہوگا

  • شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ، کیپٹن سمیت 2 اہلکار شہید

    شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ، کیپٹن سمیت 2 اہلکار شہید

    شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ، کیپٹن سمیت 2 اہلکار شہید

    باغی ٹی وی :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ پارٹی پر حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں کیپٹن صبیح اور سپاہی نوید شہید ہو گئے۔

    دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 2 سپاہی بھی شدید زخمی ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی پناہ گاہ کا صفایا کر دیا گیا ہے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر دہشتگردوں نے پاک فوج کی گشت کرنے والی ٹیم پر حملہ کر دیا، فائرنگ کی زد میں آ کر کیپٹن صبیح اور نوید نامی جوان شہید ہو گئے جبکہ 2 سپاہی شدید زخمی ہوئے۔

    جوابی فائرنگ میں ایک حملہ آور دہشت گرد مارا گیا جبکہ فورسز نے دہشتگردوں کا ایک کمپاونڈ بھی تباہ کر دیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ زخمی سپاہیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • بھارت کا ظلم جاری ، مقبوضہ کشمیر میں‌ 3 نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

    بھارت کا ظلم جاری ، مقبوضہ کشمیر میں‌ 3 نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

    بھارت کا ظلم جاری ، مقبوضہ کشمیر میں‌ 3 نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

    باغی ٹی وی : سرینگر: بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھاتے ہوئے 3 نہتے نوجوانوں کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔سرینگر سوپور اور بڈگام سے ایک درجن سے زائد نوجوان گرفتار

    مقبوضہ وادی میں ظلم کی انتہا، سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے، سری نگر میں بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    غاصب فوج نے علاقے کو سیل کر کے گھر گھر تلاشی بھی لی، ادھر ضلع بڈگام اور سوپور میں بھی قابض فوج نے دہشت گردی کے الزام میں متعدد نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی، اس کے باوجود ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا، انہوں نے بھارتی فوج کی گاڑیوں پر شدید پتھراو بھی کیا۔

  • ملک میں کورونا سے مزید 119 افراد جاں بحق ہوگئے، اموات کی تعداد3501 ہو گئی

    ملک میں کورونا سے مزید 119 افراد جاں بحق ہوگئے، اموات کی تعداد3501 ہو گئی

    ملک میں کورونا سے مزید 119 افراد جاں بحق ہوگئے، اموات کی تعداد3501 ہو گئی

    باغی ٹی وی : ملک میں کورونا سے مزید 119 افراد جاں بحق ہوگئے، اموات کی تعداد3501 ہو گئی، چوبیس گھنٹوں میں کورونا کے مزید 4 ہزار 951 نئے کیسز سامنے آئے، مریض 1 لاکھ 76 ہزار 617 ہو گئے، اب تک کورونا سے متاثرہ 67 ہزار 892 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    کورونا کا پھیلاؤ نہ رک سکا، ملک بھر میں کیسز اور اموات کا سلسلہ جاری ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 119 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 3501 ہو گئی، کورونا کے مزید 4 ہزار 951 کیسز سامنے آئے جس سے مریض ایک لاکھ 76 ہزار 617 تک پہنچ گئے۔

    کورونا کے سب سے زیادہ کیسز سندھ میں67 ہزار353 ہیں، پنجاب میں 65 ہزار739، خیبرپختونخوا میں 21 ہزار 444 ، بلوچستان میں 9 ہزار328، اسلام آباد میں 10ہزار 662، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 278 اور آزاد کشمیرمیں 813 کیسز ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق اب تک کورونا سے متاثرہ 67 ہزار 892 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں، چوبیس گھنٹوں کے دوران 28 ہزار 855 ٹیسٹ ہوئے جس کے بعد ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 10لاکھ ،71ہزار 642 ہو گئی

  • پاکستان میں رواں سال کے پہلے سورج گرہن کا آغاز ہو گیا، براہ راست دیکھنے سے گریز کریں

    پاکستان میں رواں سال کے پہلے سورج گرہن کا آغاز ہو گیا، براہ راست دیکھنے سے گریز کریں

    پاکستان میں رواں سال کے پہلے سورج گرہن کا آغاز ہو گیا، براہ راست دیکھنے سے گریز کریں

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق مختلف شہروں میں سورج گرہن کے اوقات الگ الگ ہیں، سورج گرہن صبح کا آغاز گوادر سے صبح 9 بجکر 20 منٹ پر ہوا۔ جس کے بعد اب ملک بھر میں سورج گرہن شروع ہو چکا ہے۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 11 بج کر 40 منٹ پر مکمل سورج گرہن ہوگا اور دوپہر 2 بج کر34 منٹ پر یہ ختم ہوگا۔ مکمل سورج گرہن کا دورانیہ ایک گھنٹہ 50 منٹ کا ہو گا۔ ایک بجے سورج گرہن ختم ہونا شروع ہو گا۔

    بیشتر شہروں میں سورج گرہن سے دن کے وقت اندھیرا چھا جائے گا اور سورج کے گرد انگوٹھی کی شکل کا ہالہ بھی بنے گا۔

    پاکستان میں رواں برس کے دوران سورج گرہن دوسری مرتبہ 14 دسمبر کو ہوگا۔

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن لگ گیا، ماہرین کہتے ہیں سورج گرہن کو براہ راست دیکھنے سے آنکھیں متاثر ہو سکتی ہیں، سال کا طویل ترین دن 21 جون اور ساتھ ہی پہلا سورج گرہن بھی، دنیا بھر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سورج گرہن با آسانی دیکھا جا سکے گا۔ اسی لیے رنگ آف فاٗر دیکھنے کے لیے شہری بھی بے تاب دکھائی دیتے ہیں۔

    طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست یا ایکسرے فلم کے ذریعے دیکھنا آپ کی آنکھوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گھروں سے غیر ضروری باہر نہ نکلا جائے، گاڑیوں اور عمارتوں کے شیشوں کو دیکھنے سے بھی گریز کریں کیوں کہ سورج کی شعاعیں شیشوں سے منعکس ہوکر آپ کی آنکھ کو متاثر کرسکتی ہیں۔

    طبی ماہرین نے ہدایت دی ہےکہ سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے مخصوص حفاظتی چشمے کے ذریعے دیکھا جائے، کیمرے کےلیے بھی خصوصی طور پر تیارکردہ فلٹر کا استعمال کیا جائے۔

  • امریکہ کو چین کے ہاتھوں شکست، کیا نیو ورلڈ آرڈر تبدیل ہونے جا رہا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    امریکہ کو چین کے ہاتھوں شکست، کیا نیو ورلڈ آرڈر تبدیل ہونے جا رہا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چائنہ اور امریکہ کے مابین وبا کے دنوں میں سخت کشیدگی سامنے آئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کی کہانی چائنہ کی تقسیم کے بعد شروع ہوئی، دوسری جنگ عظیم کے بعد جب لیف آف نیشن ختم ہوئی اور اقوام متحدہ وجود میں آئی تو اسوقت تک چائنہ امریکہ کا اتحادی تھا، اسی وجہ سے اقوام متحدہ میں چائنہ کو ویٹو پاور ملی لیکن 1949 میں جب چائنہ میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چین کا ایک حصہ تقسیم ہو گیا اسکا نام تائیوان رکھا گیا،اس تقسینم کے ساتھ ہی تنازعہ شروع ہو گیا کہ اقوام متحدہ میں چائنہ کی نمائندگی کون کرے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تائیوان کے پاس چائنہ کا بہت کم حصہ تھا لیکن اسے امریکہ ومغربی کی حمایت حاصل تھی،اسلئے یہ سیٹ اسکے پاس چلی گئی لیکن چائنہ نے ہار نہیں مانی ،1971 میں پاکستان اور دوسرے ممالک کو ساتھ ملایا، اس میں ایک قرارداد سامنے آئی جس میں چائنہ کو دوتہائی اکثریت چاہئے تھی،امریکہ نے تب بھی تائیوان کی حمایت کی تھی ،لیکن چاینہ نے قرارداد جیت کو یو این میں نمائندگی حاصل کی، تائیوان اقوام متحدہ سے نکل گیا لیکن پھر اسے آج تک اسے نمائندگی نہیں مل سکی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ کو بھاری اکثریت ملنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کی کینیڈا، فرانس اور دیگر کئی امریکی اتحادی ممالک نے چائنہ کو ووٹ دیا تھا ،جن ممالک نے امریکہ کے کہنے پر ووٹ دیا اس میں سے اکثریت افریقی ممالک کی تھی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ امریکہ کا سب سے زیادہ اثر ورسوخ افریقہ ہے لیکن 2007 میں جب ایک اور قرار داد پیش کی گئی جو نارتھ کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تھی اسوقت بھی جیت چین کی ہوئی،اور بہت کم ممالک نے امریکہ کا ساتھ دیا، افریقہ کے 43 ممالک نے بھی چین کے ساتھ ووٹ ڈالا اور یہ ثابت کیا کہ افریقہ اب چین کے سامنے نہیں جھکے گا

    آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خبر آ گئی، آصف زرداری زندہ ہیں یا نہیں؟ سنئے حقیقت مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    لاہوری ..رنگ باز کیوں؟ سنئے اہم انکشاف مبشر لقمان کی زبانی

    نواز شریف اور زرداری بڑی مشکل میں پھنس گئے، اہم انکشافات سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    مبشر لقمان کا کرونا وائرس ٹیسٹ،کرونا پاکستان کے ساتھ کیا کرنیوالا ہے؟ ڈاکٹر سہیل چغتائی کی خصوصی گفتگو

    چینی اور آٹا مافیا نہیں بچ پائے گا، گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان کی مبشر لقمان کے ساتھ خصوصی بات چیت

    بس بہت ہو گیا،یہ نظام زیادہ دیر نہیں چلے گا، کیوں؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    ترقی کا نیا دور، وہ چیزیں جو ہماری زندگیاں بدل دیں گی،سنیں مبشر لقمان کی زبانی

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ افریقہ کو اس لیول پر آںے میں 36 سال لگے اور سب حیران تھے کہ چائنہ نے ایسا کیا کیا کہ امریکہ کے مضبوط اتحادی افریقی ممالک کو بغیر کسی جنگ کے اپنے ساتھ ملا لیا،چائنہ نے سب سے پہلے خود کو مضبوط کیا یہ مضبوطی صرف فوجی طاقت کی نہیں تھی بلکہ معیشت کی بھی تھی اور پھر چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھرا اور آج بھی ہم دیکھیں کہ چائنہ کسی بین الاقوامی تنازعے میں الجھتا نہیں ہے اور نہ ہی اپنے وسائل ضائع کرتا ہے ،ہمیشہ چپ چپیتے اپنا کام کرتا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج ہم دیکھیں تو اس حکمت عملی کو اپناتے ہوئے بغیر کوئی جنگ کئے امریکہ جیسی سپر پاور پر کافی حد تک سبقت حاصل کر لی، ایسا ہی چائنہ نے افریقہ کے ساتھ کیا،اور اس پر توجہ دینا شروع کی، دنیا کے بیشتر ممالک ترقی کر گئے، ایسے میں افریقہ کمزور تھا، چائنہ نے افریقہ کی مدد کرنا شروع کر دی جس سے افریقہ اور چائنہ قریب ہوتے چلے گئے، چائنہ نے فوجی بیس افریقہ میں قائم کئے، چائنہ کے پاس 350 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ آتا ہے،یہی وجہ ہے کہ چائنہ کے پاس دوسرے ممالک میں انویسمنٹ کرنے کے لئے ہمیشہ زرمبادلہ موجود ہوتا ہے جب کہ امریکہ کے پاس زرمبادلہ چائنہ سے بہت کم ہے وہ چائنہ کے مقابلے میں دوسرے ممالک میں انویسمنٹ نہیں کر سکتا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے دس سال میں چین نے تین سو ارب سے زائد افریقہ میں انویسمنٹ کی جو چائنہ کی پاکستان مین سی پیک کے لئے کی گئی انویسمنٹ سے بھی چھ گنا زیادہ ہے، چائنہ اگلے کچھ برسوں میں افریقہ میں مزید 60 ارب سرمایہ کاری کااردارہ رکھتا ہے ، چائنہ نے معدنی وسائل مین افریقہ میں زیادہ کام کیا اور صنعتی ترقی کو فروغ دیا، اپنی ضرورت کے لئے بھی استعمال کیا اورافریقہ کو بھی کثیر تعداد زرمبادلہ دے دیا اسے دو نوں کو فائدہ ہوا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 2019 تک 2008 ملین ڈالر تک تجارتی حجم پہنچ چکا تھا اور اسوقت بھی چائنہ افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے،جبکہ امریکہ نے افریقہ میں ایسا کچھ نہیں کیا، معدنیات کے علاوہ بھی چائنہ نے کام کیا جس سے افریقہ میں بے روزگاری ختم ہوئی اور چائنہ کو سستی لیبر مل گئی، امریکہ کے پاس لوئر لیول کی انڈسٹری نہیں اسلئے امریکہ یہ کام نہیں کر سکتا، چائنہ افریقہ کے قوانین میں اندرونی مداخلت نہیں کرتا، لیکن امریکہ جس ملک میں سرمایہ کاری کرتا ہے وہاں اسکے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار بھی اعتراض اٹھاتے ہیں

    وبا کی وجہ سے ہر ملک پریشان ہے، وبائی بحران میں بھی چین نے یہی حکمت عملی اپنائی، امریکہ وبا کے سامنے بے بس ہے کہ کیسے کنٹرول کیا جائے لوگوں کو بے روزگاری سے بچایا جائے، چین نے وبا پر قابو پایا اور دوسرے ممالک کی مدد کی، افریقہ کی مدد کے لئے چائنہ اور امریکہ کے درمیان زہریلی جنگ شروع ہو چکی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چائنہ موجود ہ دور میں طاقت بنتا جا رہا ہے، چائنہ کے پروجیکٹ اسلئے اہم ہیں کہ چائنہ آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک کی بجائے اپنے بینک سے قرضہ لیتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ دنیا اسوقت امریکہ کی زور زبردستی اور بارود کے کھیل سے تنگ آ چکی ہے اور اسکا فائدہ چائنہ نے اٹھایا ،دنیا کو معاشی طور پر فتح کرنا شروع کر دیا،اس میں چائنہ خود بھی فائدے اٹھا رہا ہے،اور دوسرے ممالک کو بھی کسی نہ کسی صورت فائدہ پہنچ رہا ہے یہ بات امریکہ کو ہضم نہیں، اسوقت چین اور امریکہ کے ہاتھوں افریقہ ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے جس میں امریکا کو چین کے مقابلے میں واضح شکست نظر آ رہی ہے،

  • جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مفتی نعیم وفات پاگئے

    جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مفتی نعیم وفات پاگئے

    کراچی: جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مفتی نعیم وفات پاگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ممتاز مذہبی شخصیت اورہردلعزیز مذہبی رہنما مفتی نعیم آج کراچی میں وفات پاگئے ہیں

    ذرائع کے مطابق جامعہ بنوریہ کراچی کے مفتی نعیم کراچی میں انتقال کرگئے، مفتی نعیم دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔مفتی نعمان نے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں طبیعت بگڑنے پر اسپتال لے جایا جارہا تھا والد کا انتقال راستے میں ہوا، و ہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔

    ذرائع کے مطابق ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ مفتی نعیم کی نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ کرونا کے پیش نظر مفتی نعیم نے بھی بیان دیا تھا اور عوام سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی تھی، انہوں نے پلازمہ کی خریدوفروخت کو بھی حرام قرار دیا تھا۔

    خیال رہے کہ رواں سال مئی میں سوشل میڈیا پر مفتی نعیم کے کرونا میں مبتلا ہونے کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں تاہم ان کے ترجمان نے تردید کردی تھی۔

    جامعہ بنوریہ میڈیا نے اپنے جاری بیان میں کہا تھا کہ مفتی نعیم دل کے عارضہ کے باعث اسپتال منتقل ہوئے تھے تاہم اب صحت یاب ہوکر گھر منتقل ہوگئے ہیں۔جامعہ بنوریہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر چلنے والی بے بنیاد خبروں خی تردید کی گئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ مفتی نعیم دل اور پھیھڑوں کے مرض میں مبتلا تھے اور آج ساڑھے 8 بجے کے قریب انہیں آغا خان ہسپتال لے جایا گیا۔

    ترجمان جامعہ بنوریہ ٹاؤن نے بتایا کہ مفتی نعیم آغاخان ہسپتال میں دوران علاج خالق حقیقی سے جاملے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ مفتی نعیم کی میت تاحال آغاخان ہسپتال میں موجودہے۔

    مفتی نعیم 1955 میں پیدا ہوئے اور 65 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔

    مفتی نعیم وفاق المدارس العربیہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر بھی تھے اور سائٹ ایریا میں واقع جامعہ بنوریہ کے مہتمم تھے۔

    گورنر سندھ عمران اسمعیل نے جامعہ بنوریہ کے سربراہ مفتی نعیم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ لواحقین سے اظہار تعزیت اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور کہا کہ مفتی نعیم کی پوری زندگی اسلام کی درس و تدریس میں گزری۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ جامعہ بنوریہ کو عالمی معیار کی درسگاہ بنایا اور ان کی کمی ایک طویل عرصے تک پوری نہیں کی جا سکتی۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مفتی نعیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

    اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ محروم باکمال شخصیت کے مالک تھے اور مشکل وقت میں ہمیشہ حکومت کی مدد کی۔

  • ’’مودی ہمیں مروائے گا  ‘‘ بھارتی جنرل اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف پھٹ پڑے،بھارتی فوج میں مایوسی پھیل گئی

    ’’مودی ہمیں مروائے گا ‘‘ بھارتی جنرل اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف پھٹ پڑے،بھارتی فوج میں مایوسی پھیل گئی

    نئی دہلی :’’مودی ہمیں مروائے گا ‘‘ بھارتی جنرل اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف پھٹ پڑے،بھارتی فوج میں مایوسی پھیل گئی ،اطلاعات کے مطابق لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ملک کے ریٹائرڈ فوجی افسران، سیاست دانوں اور عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

     

    جمعے کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق وضاحت کے لیے بیان جاری کیا تھا کہ چین گلوان وادی میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی بھارت کی کسی چوکی پر قبضہ ہوا۔

     

     

    تاہم اس کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر مودی کے اس بیان کو حزب اختلاف کے سیاست دانوں، بھارتی فوج کے سابق اعلیٰ افسران اور عام شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ModiSurrendersGalwanValley# (مودی نے گلوان وادی میں شکست تسلیم کرلی) کا ہیش ٹیگ سے ٹرینڈ چلایا گیا جو ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے بھی اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ وزیر اعظم چینی جارحیت کے خلاف اپنے علاقوں سے دست بردار ہوگئے۔ اگر زمین چینیوں تھی تو ہمارے فوجی کیوں مارے گئے؟ وہ کہاں مارے گئے۔

     

    واضح رہے کہ 2013 میں لداخ میں دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آنے کے بعد مودی نے اپنی انتخابی مہم میں اس وقت کی کانگریسی حکومت کو رگیدا تھا اور چین کو سبق سکھانے جیسے بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی فوج کے متعدد سابق اعلیٰ افسران نے بھی گلوان وادی میں بھارت کو ہونے والی ہزیمیت پر غصے اور مایوسی کا اظہار کیا۔

     

    مقبوضہ کشمیر میں کور کمانڈر اور بھارت کی جنوبی کمانڈ کے کمانڈر رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل رامیشور رائے نے نریندر مودی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’’آج انتہائی بدقسمت دن ہے۔ میں شکر ادا کرتا ہوں کے ریٹائرڈ ہوگیا اور میرا بیٹا فوج میں نہیں ہے۔‘‘

    رامیشور رائے کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی کی چار دہائیاں اس ملک سرحدوں کی حفاظت پر صرف کیں اور آج یہ دن دیکھنا پڑرپا ہے کہ بھارت نے چین کی جانب سے مشرقی لداخ ایل اے سی میں کی گئی تبدیلیاں تسلیم کرلی گئی ہیں۔

     

    آج کا دن ہر (بھارتی) فوجی کے لیے افسوس کا دن ہے۔ جنرل رامیشور کے اس بیان کو ٹوئٹر پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن متعدد سابق فوجی افسران نے ان کی حمایت کی۔

     

    بھارت کے ریٹائرڈ فوجی افسروں کی تنظیم کے چیئرمین میجر جنرل ستبیر سنگھ نے جنرل رامیشور کی ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل رائے نے پھر بھی نرم الفاظ استعمال کیے ہیں۔ وزیر اعظم کے بیان نے مجھے وحشت زدہ کردیا ہے کہ اس سرحد پر دفاع کے لیے ساز و سامان ہی دست یاب نہیں۔

    بھارتی فوج میں تذویراتی امور کے ماہر اور تربیتی اداروں سے وابستہ فوج کے سابق مشیر لیفٹننٹ جنرل پرکاش مینن نے مودی کے بیان سے متعلق سوال اٹھایا کہ کیا ہم نے گلوان وادی پر چینی مؤقف تسلیم کرلیا ہے؟ وزیر اعظم کے بیان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس وادی میں چین کا نیا دعویٰ تسلیم کرچکے ہیں۔ انہوں ںے بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور وزیر اعظم کے بیانات میں تضادات کی نشان دہی بھی کی۔

     

    لداخ میں چین اور بھارت کے مابین کشیدگی کے بارے میں سب سے پہلے خبریں اور تجزئیات دینے والے سابق فوجی اور موجودہ صحافی کرنل (ر) اجے شکلا نے کہا کہ کیا میں نےآج وزیر اعظم مودی کو دوبارہ چین بھارت سرحدیں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ہماری سرحدوں میں داخل ہی نہیں ہوا تو 20 فوجیوں کی جانیں کیوں گئیں۔ کیا حکومت سمجھتی ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ کر بچ نکلے گی۔

     

    https://twitter.com/ayazshail/status/1274035395643142144