باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے، کرونا وائس سے پاک فوج کے افسر کی شہادت ہوئی ہے
بلوچستان میں آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر حسن افضال کی کرونا کی وجہ سے موت ہوئی ہے ، ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد وہ سی ایم ایچ کوئٹہ میں زیر علاج تھے، آج صبح وہ جان کی بازی ہار گئے
بریگیڈیئر حسن افضال کا تعلق لاہور سے تھا، انکی میت آج خصوصی طبیارے کے ذریعے لاہور پہنچے گی،انکی اہلیہ، بھائی اور 4 بچے بھی طیارے میں میت کے ہمراہ لاہور پہنچیں گے
بریگیڈیئر حسن افضال کی نماز جنازہ کیولری گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی، انکی نماز جنازہ آج شام ساڑھے چھ سے شام 7 بجے تک متوقع ہے
نماز جنازہ و آخری رسومات میں کور کمانڈر لاہور سمیت پاک فوج کے اعلیٰ افسران و اہلکار شریک ہوں گے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چینی انکوائری کمیشن کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،
اسلام آبادہائیکورٹ نےشوگرملز کی درخواست پرجاری اسٹےآرڈرختم کردیا، عدالت نے مختصر فیصلہ سنایا، تفصیلی فیصلہ بعد مین جاری کیا جائے گا،
حکومت کو شوگر انکوائری کمیشن کی روشنی میں کارروائی جاری رکھنے کی اجازت مل گئی،اسلام آبادہائیکورٹ نےشوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست نمٹا دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن میں حکم امتناع خارج کر دی،عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو چینی انکوائری رپورٹ پر کارروائی کی اجازت دے دی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر فیصلہ سنایا،عدالت نے کہا کہ ایسی بیان بازی نہ کی جائے جس سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہو،
قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی،شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے بھی عدالت مین دلائل دییے ،
دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے کمیشن رپورٹ نہیں پڑھی تھی رات کو پڑھی ہے ،وفاقی وزیر اوروزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں کمیشن نے لکھا ہے کیا وہ بھی متعصب ہے؟ جنہوں نے اس کی اجازت دی ان کے بارے میں بھی کمیشن نے لکھا ہے ، کمیشن رپورٹ میں ان لوگوں کے بارے میں سیریس لکھا گیا جو ابھی وفاقی کابینہ میں ہیں ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ فکر تو اس پبلک آفس ہولڈر کو ہونی چاہئے تھی جو آج حکومت میں ہے ،نیب کے پاس کیس تو ان کے خلاف بھی جائے گا،اس سب کے ہوتے ہوئے ہم کیسے کہہ دیں رپورٹ تعصب کی بنا پر تیار کی گئی ؟،پبلک آفس ہولڈرز کیخلاف رپورٹ میں سیریس قسم کے الزامات لگا ئے گئے ہیں ۔
عدالت نے شوگر ملز وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے نیب اورحکومت کاامتحان ہے،ابھی تک پتہ نہیں نیب اس پر کارروائی کرتا بھی ہے یا نہیں ،نیب توایسی رپورٹس یاشکایت کا پہلے جائزہ لیتا ہے،وفاقی وزیر کے حوالے سے رپورٹ میں لکھاجانا حکومت کابھی امتحان ہے،رپورٹ اصل میں حکومت اورنیب کاامتحان ہے۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ شہزاداکبر کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرائیں گے ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کابینہ اپنے اختیارات کسی او کو دے سکتی ہے؟،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں حکومت کو ایڈوائس دیتا ہوں کہ وہ اس پر نظرثانی کرے ،عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ کورونا وبا آنے پرپیپلزپارٹی نے سیاسی سرگرمی معطل کردیں،
بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اگرلوگ این ایف سی ایوارڈ،اٹھارویں ترمیم پرباہرنکلےتوحکومت انکوسنبھال نہیں پائے گی،میں نے پارٹی سرگرمیاں ختم کیں، شہید بھٹو کی برسی کی تقریب منسوخ کی، این ایف سی ایوارڈ کا نوٹی فکیشن غیرقانونی ہے،وزیراعظم نے کورونا کے معاملے پرسیاست کی،اگرلوگ لاپتا افراد،ٹارگٹ کلنگ،معاشی صورتحال پرگھروں سےباہرنکلے توحکومت ان کوسنبھال نہیں پائے گی
بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ فائزعیسیٰ کیس،جج کی جاسوسی کا معاملہ سامنے آیا ہے،یہ سنجیدہ معاملہ ہے،ججز کی جاسوسی کے معاملے پرجے آئی ٹی بنانی چاہیے،سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ بدنیتی سے بنائے گئے کیسز کا مسئلہ اٹھائیں، ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی اپنی روایت تبدیل کرے،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ کورونا کے معاملے پروزیراعظم اوروفاقی وزرا وزیراعلیٰ سندھ اورڈاکٹرزپرتنقید کرتے رہے،کورونا کے بعد وزیر اعظم نےسندھ کاجوپہلادورہ کیاوہ سیاسی تھا وزیر اعظم عمران خان نےلاڑکانہ میں سیاسی ملاقاتیں کیں،ہم اپنے حقوق کے لیے نکلے تو کوئی سنبھال نہیں سکے گا، اگراین آئی سی وی ڈی طرزکا ایک بھی اسپتال دکھادیا توتینو ں اسپتال آپکے حوالے کیے جائیں گے ،وفاق حکومت کراچی کے ہسپتالوں کی خود مختاری ہاتھ میں لینے سے گریز کرے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کے مابین لداخ پر کشیدگی جاری ہے، بھارتی فوج نے سرحدی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تو چین نے جوابی کاروائی میں کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک کر دیئے
بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھا ہے، اپوزیشن جماعتیں مودی سے سچ بولنے کا کہہ رہی ہے، مودی ماضی کی طرح جھوٹ بولے جا رہے ہیں کہ چین نے ہماری زمین پر قبضہ نہیں کیا، حملے کے چار دن بعد مودی نے کل جماعتی کانفرنس بلائی جس میں چین کے حوالہ سے جھوٹ بولتے ہوئے بیان دیا
مودی کی طرح بھارتی میڈیا بھی مسلسل جھوٹ بولتا رہا، حملے کی خبر آئی تو بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ چینی فوجی بھی مارے گئے لیکن کہیں سے اسکی تصدیق نہیں ہوئی ،انٹرنیشنل میڈیا نے بھی بھارتی میڈیا کو جھوٹا قرار دے دیا،مودی کی طرح بھارتی میڈیا بھی اپنے شہریوں کو سچ نہیں بتا رہا، ایسے میں باغی ٹی وی بھارتی شہریوں کو لداخ پر چینی حملے کے حوالہ سے بہترین آگاہی دے گا اور ہر وہ خبر دے گا جو بھارتی میڈیا چھپائے گا
بھارتی میڈیا حقائق کو مسخ کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا، بھارتی شہری سوال کر رہے ہیں کہ میڈیا حقائق کیوں چھپا رہاہے بلکہ ایک ہندو خاتون نے یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان سے ٹڈی اور کبوتر کی خبریں دینے والے بھارتی میڈیا کو لداخ مدعے پر کیوں سانپ سونگھ گیا ہے، بھارتی میڈیا کو تو سانپ سونگھ ہی گیا ہے کیونکہ جنگ کی دھمکیاں پاکستان کو دینے والے مودی کی اب خود بولتی بند پڑی ہوئی ہے
باغی ٹی وی کو لداخ میں ہونے والی کشیدگی کے حوالہ سے بھارتی فوجیوں کو پڑنے والے مار کی تصاویر موصول ہوئی ہیں،بھارتی میڈیا اپنے شہریوں کویہ تصاویر نہیں دکھا رہا تا ہم باغی ٹی وی بھارتی شہریوں کو وہ تصاویر دکھائے گا اور ہر روز یہ بتائے گا کہ لداخ میں بھارتی فوج کو کتنی مار پڑ رہی ہے اور کتنے فوجی ہلاک ہو رہے ہیں.
مقبوضہ کشمیر میں بھی مجاہدین کے ہاتھوں بھارتی فوج کی ہلاکتوں بارے بھارتی میڈیا سچ نہیں بولتا، حقائق کو چھپایا جاتا ہے، باغی ٹی وی کشمیر کے اندر بھی بھارتی فوج کو پڑنے والی مار کی تصویریں بھی سامنے لاتا رہے گا، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے مظالم کا کشمیری بھارت کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں، بھارتی فوج لداخ کی شکست کا غصہ کشمیریوں پر اتار رہی ہے ایسے مین کشمیری بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں اور بھارتی فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں
بھارت آئے روز پاکستان کی طرف سے جانے والے کبوتروں کو پکڑ لیتا ہے اور انہیں جاسوس کبوتر کہتا ہے،یہاں تک کہ بھارت نے ٹڈی کو بھی پاکستانی جاسوس قرار دے دیا تھا، باغی ٹی وی اعلان کرتا ہے کہ ہمارے پاس سرحد سے اطلاع دینے والے بہت سارے کبوتر ہیں جو ہمیں بھارت سے اطلاعات مہیا کرتے ہیں اور وہ ہم قارئین خصوصا بھارتی شہریوں تک پہنچاتے رہیں گے تا کہ وہ سچ کو جان لیں اور بھارتی میڈیا اور مودی سرکار کے جھوٹ کو نہ مانیں
لداخ و مقبوضہ کشمیر سے مزید خبروں کی اپ ڈیٹ کے لئے باغی ٹی وی کے ساتھ جڑے رہئے، باغی ٹی وی قارئین کو حقائق سے آگاہ کرتا رہے گا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے
باخبر ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے، اس ضمن میں باخبر ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے وکلاء سے رجوع کر لیا ہے
ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں اسلئے انہوں نے دوبارہ نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھی گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوٹیوب پر تجزیہ پیش کیا تھا جس مین انکا کہنا تھا کہ یہ تودرست ہے کہ آج کے فیصلے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حامی اس بات سے خوش ہوں گے کہ یہ فیصلہ ان کے حق میںآیا ہے، مبشرلقمان کہتے ہیں ایسا سوچنے والوں کوندامت کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے
سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا کہ ویسے تو اس اہم کیس کے فیصلے میں بہت سی چیزیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جارہی ہیں مگراگرایک بڑے نقطے کوہی لے لیںتو مجھے یہ کیس بہت دلچسپ بھی دکھائی دیتا ہے اورایک جامع فیصلہ بھی ، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جس کے مطابق یہ معاملہ اب ایف بی آر کے پاس چلا گیا ہے
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ایک ذمہ داراورحکومتی ادارہ ہے جوسپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ اوربچوں سے جومعلومات مانگے گا تو وہ ان جائیدادوں کی قانونی حیثیٹ کا بھی تعین کرتے گا
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ایف بی آرتوپھرساری حقیقتیں کھول کررکھ دے گا ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایف بی آر کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ تمام تراختیارات بھی دے رکھے ہیں اورویسے بھی وہ ایک آزاد ادارہ ہے ، پھرحکومت کے پاس بھی یقنینا اس کیس کے حوالے سے اہم معلومات ہوں گی پھرجب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اوربچے یہ ثابت نہ کرپائے کہ یہ جائیدادیں قانونی ہیں تو پھرایک ہی راستہ ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے کہ ان کو مستعفیٰہونا پڑے
مبشرلقمان نے بہت خوب صورت تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آگے چل کرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی اوروہ بھی ان کی ہی وجہ سے ، ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے پاس اس کیس کے حوالے سے تمام شوہد پہلے ہی موجود ہیں
مبشرلقمان نے کہا کہ مجھے بہت زیادہ یقین ہے کہ اس کیس کی پیروی کرنے والے اوروہ حکومتی افراد جو اس کیس کو ڈیل کررہے ہیں وہ جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے اس کے متعلق پہلے ہی علم رکھتے ہوں ، یہی وجہ ہے کہ حکومتی ذمہ داران اس فیصلے سے خوش ہوئے ہیں ، جس کامطلب یہ ہے کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جانا ٹھہر گیا ہے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بھی یہی دیکھ رہے ہیں
مبشرلقمان نے مزید کہا کہ جہاں تک آج کے فیصلے کے اثرات کا تعلق ہے تواگرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جگہ کوئی اورجج ہوتا تو وہ کب کو مستعفیٰ ہوجاتا ، ان کا کہنا تھا اب بھی یہی ہے اورسپریم کورٹ نے جوسوالات اورجوقانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کیس ایف بی آر کے پس بھیجا ہے اس کے بعد سوائے استعفیے کے کوئی اورپہلونظرنہیں آرہا
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست منظور کرلی،سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ایف بی آر جسٹس قاضی عیسیٰ کی اہلیہ کو پراپرٹی سے متعلق 7 روز میں نوٹسز جاری کرے،ایف بی آر کے نوٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سرکاری رہائشگاہ بھجوائے جائیں،ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس کیا جائے،ایف بی آر کے نوٹس میں جج کی اہلیہ اور بچے فریق ہوں گے،ایف بی آر حکام معاملے پر التوا بھی نہ دیں،انکم ٹیکس 7 روز میں اس کا فیصلہ کرے.
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ان لینڈ ریونیو کا کمشنر تمام فریقین کو سنے گا،انکم ٹیکس کمشنر قانون کے مطابق فیصلہ کرے،ایف بی آر 7 دن میں سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ جمع کرائے،چیئرمین ایف بی آر تمام تر معلومات سپریم جوڈیشل کونسل کو فراہم کرے گا،فیصلہ فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے سنایا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فضائی حدود عالمی پروازوں کے لیے جزوی طور پر کھول رہے ہیں،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فضائی حدود کھولنے کا مقصد بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانا ہے،کورونا وائرس کے باعث سمندر پار پاکستانیوں نے مشکلات برداشت کیں،بیرون ملک پاکستانیوں کی ہمت اور حوصلوں پر ہمیں فخر ہے،
I appreciate the philanthropic role played by the Overseas Pakistani community in helping their brothers & sisters abroad during Covid19. There are many examples where the Pakistani community has been a source of inspiration, helping those around in need.
وزیراعظم عمران خان نے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں کو واپسی پر ہر قسم کی سہولت فراہم کریں گے، اوورسیز پاکستانیوں کی ہم وطنوں کے لیےمدد کاجذبہ قابل ستائش ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی نے فلاحی خدمات سرانجام دے کر عظیم مثالیں قائم کی ہیں،
واضح رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پروازوں کی بحالی کا نوٹم جاری کردیا، نوٹم میں کہا گیا ہے کہ تمام چارٹر پروازوں کو پاکستانی بین الاقوامی ایئر پورٹس پر آمدورفت کی اجازت ہو گی،سی اے اے پروازوں کو پاکستان میں آپریٹ کرنے کیلئے اوقات کار جاری کرے گا،گوادر اور تربت کے لیے پروازوں پر پابندی بدستور برقرار رہے گی
پروازوں کے اوقات کار آمدورفت اتھارٹی کے ایس او پیز کے تحت ہو ں گے،خصوصی پروازوں کی آمدورفت کا سلسلہ خصوصی اجازت کے تحت جاری رہے گا، ماسوائے تربت اور گوادرتمام ائر پورٹس پر دو طرفہ پروازوں کی اجازت ہو گی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، مریضوں اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے
گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھرمیں کوروناکے مزید 6 ہزار604کیسزرپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 24گھنٹوں کےدوران ریکارڈ 153 ا فراد کورونا سے جاں بحق ہوئے ہیں
ملک بھرمیں کورونا سے مجموعی اموات کی تعداد3 ہزار382 ہوگئی،ملک بھرمیں کورونا کیسزکی تعداد ایک لاکھ 71ہزار666 ہو گئی ہے، گزشتہ 24گھنٹوں میں سب سےزیادہ31ہزار681 ٹیسٹ کیےگئے،مجموعی طور پر10لاکھ 42 ہزار787 ٹیسٹ کیےجاچکےہیں،
جون کے 19 دن میں ملک بھر ایک لاکھ سے زائد کوروناکیسزسامنے آئے ہیں جبکہ 1800سے زائد اموات ہوئی ہیں
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 ہزار 604 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 64 ہزار 216، سندھ میں 65 ہزار 163، خیبر پختونخوا میں 20 ہزار 790، بلوچستان میں 9 ہزار 162، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 253، اسلام آباد میں 10 ہزار 279 جبکہ آزاد کشمیر میں 803 مریض ہیں.
ملک بھر میں63ہزار504کورونا سے متاثرہ افراد صحتیاب ہوگئے،پنجاب میں کورونا سے ایک ہزار347اموات ہوئیں سندھ میں ایک ہزار 13کورونا وائرس سے اموات رپورٹ ہوئیں،خیبرپختونخوامیں کورونا وائرس سے 789اموات ہوئیں،بلوچستان 100 ،اسلام آباد 95 اورگلگت بلتستان میں 21اموات ہوچکی ہیں،
لاہور:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس ، بچ گئے یا صورتحال مزید پچیدہ ، مبشرلقمان نے اہم کیس کے اہم پہلووں پرپردہ اٹھادیا ،اطلاعات کے مطابق معروف صحافی سنیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے کیس کے اہم پہلووں پرجس طرح روشنی ڈالی ہے اب اس کے بعد واقعی اس کیس کا اختتام جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے استعفیٰ سے ممکن ہوسکتا ہے
باغی ٹی وی کے مطابق معروف صحافی نے مبشرلقمان یوٹیوب چینل پراس اہم کیس کے اہم پہلووں میں سے سب سے بڑے مسئلہ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تودرست ہے کہ آج کے فیصلے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حامی اس بات سے خوش ہوں گے کہ یہ فیصلہ ان کے حق میںآیا ہے، مبشرلقمان کہتے ہیں ایسا سوچنے والوں کوندامت کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے
سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا کہ ویسے تو اس اہم کیس کے فیصلے میں بہت سی چیزیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جارہی ہیں مگراگرایک بڑے نقطے کوہی لے لیںتو مجھے یہ کیس بہت دلچسپ بھی دکھائی دیتا ہے اورایک جامع فیصلہ بھی ، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جس کے مطابق یہ معاملہ اب ایف بی آر کے پاس چلا گیا ہے
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ایک ذمہ داراورحکومتی ادارہ ہے جوسپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ اوربچوں سے جومعلومات مانگے گا تو وہ ان جائیدادوں کی قانونی حیثیٹ کا بھی تعین کرتے گا
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ایف بی آرتوپھرساری حقیقتیں کھول کررکھ دے گا ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایف بی آر کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ تمام تراختیارات بھی دے رکھے ہیں اورویسے بھی وہ ایک آزاد ادارہ ہے ، پھرحکومت کے پاس بھی یقنینا اس کیس کے حوالے سے اہم معلومات ہوں گی پھرجب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اوربچے یہ ثابت نہ کرپائے کہ یہ جائیدادیں قانونی ہیں تو پھرایک ہی راستہ ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے کہ ان کو مستعفیٰہونا پڑے
مبشرلقمان نے بہت خوب صورت تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آگے چل کرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی اوروہ بھی ان کی ہی وجہ سے ، ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے پاس اس کیس کے حوالے سے تمام شوہد پہلے ہی موجود ہیں
مبشرلقمان نے کہا کہ مجھے بہت زیادہ یقین ہے کہ اس کیس کی پیروی کرنے والے اوروہ حکومتی افراد جو اس کیس کو ڈیل کررہے ہیں وہ جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے اس کے متعلق پہلے ہی علم رکھتے ہوں ، یہی وجہ ہے کہ حکومتی ذمہ داران اس فیصلے سے خوش ہوئے ہیں ، جس کامطلب یہ ہے کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جانا ٹھہر گیا ہے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بھی یہی دیکھ رہے ہیں
مبشرلقمان نے مزید کہا کہ جہاں تک آج کے فیصلے کے اثرات کا تعلق ہے تواگرجسٹس قاضی فائز عییسٰ کی جگہ کوئی اورجج ہوتا تو وہ کب کو مستعفیٰ ہوجاتا ، ان کا کہنا تھا اب بھی یہی ہے اورسپریم کورٹ نے جوسوالات اورجوقانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کیس ایف بی آر کے پس بھیجا ہے اس کے بعد سوائے استعفیے کے کوئی اورپہلونظرنہیں آرہا
مودی پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے، مبشر لقمان نے اصل حقائق بتا دیئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی سنجیدہ ڈیولپمنٹ ہو رہی ہیں ہمارے بارڈر کے اوپر، چین اور بھارت میں کشمکش جاری ہے اور بھارت کو کٹ بھی پڑ رہی ہے اور کل بھی کچھ فوجی چین نے بھارت کے رہا کئے ہیں، بھارت کہتا ہے کہ ہم نے چائنیز کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن وہاں ہلاکتیں بھارتی فوج کی ہوتی ہیں ، لاشوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں، رہائی بھارتی فوجیوں کی ہوتی ہے،جو کٹ پڑ رہی ہے وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسکی ایک بڑا وجہ سے دو روز کے درمیان چالیس کے قریب لوگ مرے جن میں سے 20 بھارتی میڈیا نے قبول کئے، اسکے ذمہ دار مودی ہیں، اپنے ہی فوجیوں کو انہوں نے مروایا، دکھ کی بات ہے، دشمن کے ہاتھوں تو مرتے ہیں مگر یہ بھارتی فوجی اپنوں کے ہاتھوں ہی مارے گئے، ذلت اور تکلیف کا باعث ہے، جب کوئی گڑھا کھودتے ہیں تو اس میں خود گرتے ہیں جیسا بوئیں گے ویسا کاٹیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جو ہندوتوا کی تحریک ہے یہ کتنا زیادہ زور پکڑ گئی ہے،پہلے صرف آر ایس ایس کے لئے مینو فیسٹو تھا پھر2012 میں بی جے پی کے لئے مینو فیسٹو تھا، جب دوسری باری حکومت میں آنا تھا تو ا س مینو فیسٹو کو اتنا زیادہ پروپیگیٹ کیا کہ یہ سوچ ایوانوں سے نکل کر عوام میں سرایت کر گئی،اب بھارت کی جو طاقت تھی ہمیشہ سے ہم لوگ مثالیں دیتے تھے کہ انڈیا میں ہر نسل،ذات، رنگ کا اکٹھا رہ رہا ہے اور اسے انصاف ملتا ہے، مودی کے جو ہندوتوا کو نعرہ تھا اس نے اسی سٹرینتھ کو ضائع کیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے اثرات بھارتی فوج کے اندر ملے ہیں، بھارتی فوج میں صرف ہندو نہیں، اس میں ہر نسل،مذہب، ہر طرح کے لوگ موجود ہیں سکھ، مسیحی، مسلمان بھی موجود ہیں، جب نفرتیں زیادہ پھیلتی ہیں تو وہ فوج کے اندر بہت زیادہ مشکلات ہو گئی ہیں، کہنے کو تو بہت بڑی فوج ہے، لیکن اس مین ایک لاکھ 76 ہزار ہندو ہیں اور باقی نان ہندو ہیں وہ انکے ساتھ کھانا نہیں کھاتے، ہاتھ نہیں ملاتے، وہ ہندو کی کمانڈنگ پوزیشن میں ہیں تو انکی رپورٹ غلط بنائی جاتی ہیں، آپس میں فوج ایک ادارے کے طور پر نہیں، مختلف مذاہب میں بٹ چکی ہے کیونکہ نفرت ہر جگہ آ چکی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر لاہور میں ہنگامے ہو رہے ہیں تو ہم اس سے مبرا نہیں رہ سکتے وہ ہمیں اثر انداز کرتا ہے کسی نہ کسی طریقے سے اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، بھارت میں اگر اس کو دیکھتے ہیں کہ دہلی،لکھنو، آگرہ میں کیا ہو رہا ہے؟ تو پھر سمجھ آتی ہے، بھارتی فوجی لڑتے ہوئے پہاڑی سے نیچے گرے، زخمی حالت میں تھے لیکن ہندو ڈاکٹرز نے جب انکو زخمی حالت میں لایا گیا تو انہوں نے علاج سے انکار کر دیا، کہ ہم ان کا علاج نہیں کرتے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چھ سے سات جگہیں انکا ایکٹو بارڈر بن چکا ہے، کشمیر میں دیکھ رہے ہیں کب سے ایمرجنسی ڈیوٹی دے رہے ہیں، مانی پور میں ہیں، ناگالینڈ میں ہیں، بہت سے جگہ پر فوج تعینات ہے، اگر ایک آدمی فوج میں جاتا ہے تو اس نے 20 برس بعد ریٹائرڈ ہونا ہوتا ہے تو اس میں سے 90 فیصد ہارڈ ایریا میں گزار چکا ہوتا ہے،تو باہر نکلتا ہے تو وہ بالکل سائیکو بنا ہوا ہے،ادھر سے نکلا تو ادھر پہنچ گیا، ادھر سے نکلا تو اس طرف پہنچ گیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہر وقت حالت جنگ میں جو ہوتا ہے اسکے ساتھ ایشوز شروع ہو جاتے ہیں، یا تو وہ وزیرستان ، وانا میں ہے تو اس کو امید ہے کہ کل میں اوکاڑہ،کراچی، لاہور امن کے علاقوں میں آجاؤں گا لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے، بھارتی فوج کو راشن بھی پورا نہیں دیا جا رہا ، کئی ہزار لوگوں کی آسامیان بھارتی فوج میں خالی ہیں،لوگ اپلائی نہیں کر رہے اور مڈ لیول پر لو مڈ لیول پر آرمی میں لوگ کم ہیں، آؤٹ سائیڈ فورس میں لوگ کام کرنے نہیں آتے، تندور والے، خانسامہ ، کچھ سویلین،کلرک بھی ہوتے ہیں، وہاں پر لوگ اپلائی نہیں کر رہے کہ شاید کشمیر، ناگا لینڈ نہ چلے جائیں ، انکو راشن پورے نہیں ملتے، انکو وہ عزت نہیں ملتی جو پاکستان میں فوج کو ملتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم پاک فوج کو سلیوٹ کرتی ہے اور یہاں ہمیں لوگ طعنے دینا شروع کر دیتے ہین کہ تمہیں مار پڑے گی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کا اب یہ فیصلہ ہے کہ کسی طرح انہوں نے پاکستان کے اوپر مسائل مسلط کرنے ہیں چاہئے وہ کارگل، سیاچین یا کشمیر کے حوالہ سے کریں،جب تک وہ چائنہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں،وہ کھل کر سامنے نہیں آئیں گے،اگر وہ پاکستان کو کسی طرح انوالو کرتے ہیں تو انکے لئے جواز بن جاتا ہے وہ اپنے الائنس کو کہیں گے کہ چائنہ پاکستان گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے پھر وہ ممالک کو مدد کے لئے بلائیں اور پھر وہ آئیں،تو اس کا سکیل اتنا بڑا کر دیا جائے کہ بھارتی فوج سے پریشر کم ہو جائے، شاید اسی لئے رافیل طیاروں، امریکن ایئر کرافٹ کی جلدی جلدی پرچیزنگ شروع ہو گئی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگلے تھوڑے دن بہت خطرناک ہین، بھارت نہ چاہتے ہوئے کچھ چیز ہمارے اوپر مسلط کر سکتا ہے، آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز میں سارے چیفس اکٹھے ہوتے ہیں ،آرمی چیف بھی جاتے ہیں، وزیراعظم بھی جاتے ہیں، یہ الیکشن کی تیاری تو نہیں ہو رہی،افواج پاکستان جائزہ لے رہی ہیں کیا ہو رہا ہے، رپورٹس آ رہی ہے، مجھے خود ذاتی طور پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسوقت ہمیں بہت خطرہ ہے اور مودی پاگل بن چکا ہے،اسکا فاسشزم اسکے ہاتھ سے بھی نکل رہا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب انڈیا میں بائیکاٹ چائنہ کی مہم چل رہی ہے، اب کہہ رہے ہیں کہ ہر قسم کی انڈسٹری کا بائیکاٹ کرتے ہیں، ریلوے کے معاہدوں کو ختم کرتے ہیں، وہ اپنی ایکسپورٹ نہیں روک رہے،بالی ووڈ میں کوئی شیر نہیں اٹھا جس نے کہا ہو کہ میں اپنی فلم چائنہ میں نہیں ریلیز کر رہا، یہ حرکت نہیں کر رہے، جب چائنیز سے نکلتے ہیں تو ناروے، ڈنمارک جائیں گے،تو یہ ٹیکنالوجیز انڈیا میں ری پلیس ہوں گی تو بہت زیادہ خرچہ ہو گا،ایک رات میں کام نہین ہو سکتا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے دن بڑے خطرناک ہیں، دعا کریں کہ اللہ پاکستان، پاکستانیوں اور کشمیریوں کو مودی کے شر سے محفوظ رکھے، لیکن مودی کو چائنہ سے مار پڑ رہی ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو کسی نہ کسی طرح اس میں انوالو کر لیں، بھارتی فوج میں شدید نفرتیں پھیل چکی ہیں ایک دوسرے سے ہاتھ سے ہاتھ نہیں ملانا چاہتے، ایک دوسرے کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے، ایسے مار نہیں پڑ رہی، بھارتی فوجی زیادہ تھے پھر بھی بھارتی فوجیوں نے مار کھائی کیو نکہ چینی فوج کی ٹیم تھی اور وہ ایک تھے،
لندن:غدار پاکستان الطاف حسین نے سندھو دیش کے قیام کا اعلان کر دیا ،اطلاعات کے مطابق لندن میں پناہ حاصل کرنے والے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ایک بارپھرسندھ کو پاکستان سے الگ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے ، الطاف حسین نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے بھی مدد مانگ لی ہے
باغی ٹی وی کے مطابق الطاف حسین جو کہ برطانیہ میں پناہ لیئے ہوئے ہیں اورمسلسل شروع دن سے ہی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ، تازہ ترین واقعہ میں لندن میں سے ایک ویڈیوپیغام میں الطاف حسین نے سندھ کو پاکستان سے الگ کرنے اورسندھودیش بنانے کا مطالبہ کرکے پاکستان مخالف قوتوں کوحوصلہ دینے کی کوشش بھی کی ہے
لندن سے اپنے وڈیوپیغام میں جو کہ گیارہ جون کو دیا گیا اوریہ وڈیوپیغام ایک گھنٹہ 27 منٹ مشتمل ہے ، اس پیغام میں الطاف حسین نے پاک فوج کے خلاف زہراگلنے کی بھرپورکوشش کی ہے، الطاف حسین نے کہا ہے کہ وہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سندھ کو سندھودیش کی حیثیت سے قائم کرنے میں ہماری مدد کریں
یاد رہےکہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین نے ایک تقریر میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی پناہ دی جائے۔ الطاف حسین کا موقف ہے کہ چونکہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھارت سے تھا لہذا انھیں بھارت میں رہائش کی اجازت دی جائے۔
ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین ماضی میں متعدد بار انڈیا سے مدد کی اپیلیں کر چکے ہیں۔
گزشتہ ماہ ان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ انڈیا کا قومی نغمہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ گا رہے تھے۔
2015 میں انھوں نے انڈیا کے ساتھ اقوام متحدہ اور نیٹو سے مدد اور مداخلت کی اپیل کی تھی، جس پر اس وقت کی حکومت نے شدید رد عمل کا اظہار کیا
یاد رہےکہ یہ بھی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ مورتیاں رکھوا لی ہیں اور پوجا کا اہتمام بھی کرلیا ہے
بانی متحدہ قومی موومنت (ایم کیوایم) الطاف حسین نے بھارت کی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنے مذہب کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس حوالے سے اینکر نادیہ مرزا کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ مورتیاں رکھوا لی ہیں اور پوجا کا اہتمام کر کے بھارت کو اپنے ہندو مذہب اختیار کرنے کا یقین دلایا۔ تفصیلات کے مطابق معروف خاتون اینکر نادیہ مرزا کی جانب سے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔
نادیہ مرزا نے انکشاف کیا ہے کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین اپنے ملک سے غداری کرنے اور بھارت کی شہریت و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر حد پار کر گئے ہیں۔ نادیہ مرزا کا کہنا ہے کہ ایک اخبار میں خبر چھپی ہے کہ الطاف حسین نے بھارت کی شہریت حاصل کرنے کیلئے ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اخبار کے ایڈیٹر سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مزید تہلکہ خیز تفصیلات بھی بتائی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین کے برطانیہ میں جیل جانے کے امکانات واضح ہیں۔ اس تمام صورتحال میں الطاف حسین بھارت کی شہریت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ الطاف حسین اس مقصد کیلئے بھارت کے حکام سے رابطے میں ہیں اور آئے روز پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں بیانات دیتے رہتے ہیں۔ تاہم اب جب بھارتی حکام نے انہیں یہ بتایا کہ بھارت میں اب کسی مسلمان کو شہریت نہیں دی جا سکے گی، تو پھر الطاف حسین نے ہندو مذہب اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں بھارت کی شہرت بھی حاصل ہو جائے۔ بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ مورتیاں رکھوا کر پوجا پاٹ بھی کروائی ہے اور باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا۔
الطاف حسین کی طرف سے ایک مرتبہ پھر سے ریاست پاکستان اور اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی گئی ہے۔
بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر پاکستان دشمنی میں ہر حد پار کرتے ہوئے پاکستان اورپاکستانی اداروں کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی اور عوام کو بھڑکانے کے ساتھ ساتھ ملک توڑنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔
اس کے ساتھ ساتھ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بارے میں کہا کہ وہ میرے نقش قدم پر ہیں۔ اس کے علاوہ کہا کہ مریم نواز میری بہن ہیں۔
الطاف حسن 1990ء کے اوائل سے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔اس دوران میں انھیں برطانیہ کی شہریت بھی حاصل ہوچکی ہے۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ایک شخص کو آج بروز منگل 11 جون کو متعدد تقاریر کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ اس شخص نے یہ تقریریں کی تھیں۔‘‘ لیکن لندن پولیس نے اپنے بیان میں الطاف حسین کا نام نہیں لیا ہے۔
اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ یہ شخص 60 کے پیٹے میں ہے۔اس کو لندن کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک پتے سے گرفتار کیا گیا ہے ۔اس پر سنگین جرائم کے ایکٹ مجریہ 2007ء کی دفعہ 44 کے منافی اور جان بوجھ کر جرائم کی حوصلہ افزائی یا ان کی معاونت کے شُبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘
بیان کے مطابق ’’اس شخص کو پیس ایکٹ ( پولیس اور کریمنل شہادت ایکٹ 1984) کے تحت پکڑا گیا ہے۔ اس کو جنوبی لندن میں واقع ایک پولیس تھانے میں منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ اس وقت پولیس کے زیرحراست ہے‘‘۔پولیس نے مزید کہا ہے کہ افسر اس شخص کے خلاف قابلِ اعتراض تقاریر کی تحقیقات کے دوران میں پاکستانی حکام سے بھی رابطے میں رہے ہیں۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے حکام نے الطاف حسین کی 2016ء کی ایک تقریر کی تحقیقات کے سلسلے میں اس سال اپریل میں اسلام آباد کا بھی دورہ کیا تھا اور بعض عینی شاہدین کے انٹرویو کیے تھے۔
الطاف حسین کے خلاف 22 اگست 2016ءکو ریاست مخالف تقریر کی بنیاد پر پاکستان کے مختلف شہروں میں غداری کے مقدمات درج کرائے گئے تھے ۔ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں ایک ہی جیسے تین مقدمات زیر سماعت ہیں۔اس عدالت نے حکومت کو ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے ان کے خلاف ریڈ وارنٹ بین الاقوامی فوجداری پولیس تنظیم (انٹرپول) کو بھیجا تھا ۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد پاکستان کو دہشت گردی ،لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور سنگین غداری سمیت مختلف جرائم میں مطلوب ہیں۔
مذکورہ تند وتیز اشتعال انگیز تقریر کے بعد کراچی ،کوئٹہ اور گلگت ،بلتستان کے علاقوں میں الطاف حسین کے خلاف متعدد ابتدائی اطلاعی رپورٹس ( ایف آئی آرز) کا اندراج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ان کی بنیاد پر مقدمات زیر سماعت ہیں۔یہ عدالتیں پہلے ہی الطاف حسین کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہیں۔
یادرہے کہ الطاف حسین 1992ء سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ تب کراچی میں لسانی بنیاد پر خونریزی کے خاتمے کے لیے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور انھوں نے 2002ء میں برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی۔ان کے خلاف لندن میں ایم کیو ایم کے بانی رکن ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرانے کے الزام میں بھی تحقیقات کی جاتی رہی ہیں اور ان کے منی لانڈرنگ کے الزام میں بھی تحقیقات کی گئی تھیں ۔
مگر برطانیہ کی تفتیشی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ نے 13 اکتوبر 2016ء کو الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے سینیر لیڈر محمد انور اور ایک کاروباری شخص سرفراز مرچنٹ کے خلاف بھی کئی ماہ کی تفتیش کے بعد منی لانڈرنگ کے کیس ختم کردیے تھے اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے تھے۔
لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کے خلاف جولائی 2013ء میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور انھیں پولیس نے اس مقدمے میں 3 جون 2014ء کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا تھا لیکن انھیں خرابیِ صحت کی بنا پر ولنگٹن اسپتال منتقل کردیا گیا تھا اور پھر تھانے میں نو گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔اس کے بعد پانچ مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ برطانوی پولیس نے 2012ء اور 2013ء میں لندن کے علاقے ایجویئر روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے پانچ لاکھ سے زیادہ پاؤنڈز کی نقد رقم اور بعض حساس دستاویزات برآمد کی تھیں۔سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بہ قول ان میں جدید اسلحے کی خریداری سے متعلق بھی دستاویزات شامل تھیں۔
یاد رہے کہ چند دن قبل اسلام آبادکی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار 3مجرموں معظم علی ،سیدمحسن علی اورخالدشمیم کو عمر قید کی سزااورمقتول کے ورثا کو 10، 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کاحکم سنا دیا،عدالت نے بانی متحدہ الطاف حسین شریک ملزمان افتخارحسین،محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔
دوران سماعت گرفتارتینوں ملزمان نے وڈیو لنک کے ذریعے اڈیالہ جیل سے مقدمے کا فیصلہ سنا،عدالت نے تینوں گرفتارمجرموں کو قتل کی سازش،معاونت اور سہولت کاری کیس پرعمرقید کی سزا سنائی ،جج شاہ رخ ارجمندنے 21مئی کامحفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قراردیاکہ مجرموں کیخلاف استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے ،39 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں عدالت کاکہناتھاکہ ثابت ہوا کہ عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم الطاف حسین نے دیا،ایم کیو ایم لندن کے دو سینئر رہنمائوں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا،ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے معظم علی نے عمران فاروق کے قتل کیلئے محسن علی اور کاشف کامران کا چنائو کیا،محسن اور کاشف کو برطانیہ لے جا کر قتل میں بھرپور مدد کی گئی،
عمران فاروق کو قتل کرنے کا مقصد تھا کہ کوئی الطاف حسین کیخلاف بات نہیں کر سکتا،عمران فاروق کو قتل کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانابھی تھا،عمران فاروق قتل کیس دہشتگردی کے مقدمے کی تعریف پر پورا اترتا ہے اورملزمان سزائے موت کے حقدارہیں لیکن برطانیہ سے شواہد ملنے کی وجہ سے سزائے موت نہیں دی جارہی،پاکستانی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو دوران ٹرائل جرم ثابت ہونے کے باوجود ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد کیس میں پیش رفت ہوئی اوربرطانیہ نے باہمی قانونی معاونت کے تحت شواہد فراہم کیے ،
ملزمان کی ٹریول ہسٹری، موبائل فون ڈیٹا، فنگر پرنٹس رپورٹ،مقتول کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بطور شواہد ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا،یادرہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو برطانیہ میں قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد ایف آئی اے نے 5دسمبر 2015 کو پاکستان میں اس قتل کا مقدمہ درج کیا جس میں تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اورمعظم علی کو گرفتار کیا گیا جن پرقتل سمیت قتل کی سازش تیار کرنے ، قتل میں معاونت اورسہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے ۔