Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پی ٹی آئی اوراتحادی جماعتوں کا مشترکہ ایجنڈا کرپشن کا خاتمہ اور عوامی خدمت ہے، وزیراعظم

    پی ٹی آئی اوراتحادی جماعتوں کا مشترکہ ایجنڈا کرپشن کا خاتمہ اور عوامی خدمت ہے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے کراچی میں اتحادی جماعتوں کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، وزیر بحری امور علی زیدی بھی شریک ہیں،وفد میں وسیم اختر، کنور نویدجمیل، کشور زہرہ ،ایاز لطیف، حسنین مرزااورفردوس شمیم نقوی،حلیم عادل شیخ، سید آفریدی، اشرف قریشی، ارباب رحیم، عرفان مروت، سردار عبدالرحیم بھی شامل ہیں

    وزیراعظم کو سندھ میں ترقیاتی کاموں اور انتظامی اصلاحات سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اقتدار میں رہنے والی سیاسی قیادت نے عوامی خدمت نہیں کی،ماضی کی حکومتوں نے صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اقتدار کا استعمال کیا،پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کا مشترکہ ایجنڈا کرپشن کا خاتمہ، غربت میں کمی اور عوامی خدمت ہے،وفاقی حکومت تمام صوبوں بشمول سندھ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کررہی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامی اصلاحات اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے حقیقی ترقی ممکن ہو سکے گی

    وزیراعظم عمران خان آج ایک لاڑکانہ بھی جائینگے وزیراعظم لاڑکانہ میں احساس سنٹر لاڑکانہ کا دورہ کریں گے،وزیراعظم عمران خان سے لاڑکانہ میں پارٹی ارکان ملاقات کریں گے.وزیر بحری امور سید علی زیدی، وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ وزیراعظم کے استقبال کے لئے نہیں آئے، وزیراعظم کے دو روزہ دورہ کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے

  • حکومت کو بڑا جھٹکا،اتحادی جماعت نے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    حکومت کو بڑا جھٹکا،اتحادی جماعت نے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے، بی این پی مینگل نے حکمران اتحادسے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی قومی اسمبلی میں 4نشستیں ہیں،قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کے3منتخب اورایک مخصوص رکن ہے

    اختر مینگل کا کہنا تھا میں آج ایوان میں پی ٹی آئی حکومت سے علیحدگی کااعلان کرتاہوں،ہم ایوان میں موجود رہیں گے اور اپنی بات کرتے رہیں گے،تحریک انصاف سے اتحاد ختم کرتے ہوئے دکھ ہورہا ہے،بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں، حساب کرلیں تو آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار ہوگا،سوئی گیس کی رائلٹی توچھوڑیں،ہمیں سونگنےکوبھی نہیں ملتی،

    اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، کشمیر ملے گا تو ملے گا،جو آپ کے پاس ہے اس کیلئےتو کچھ کرو،میرے بلوچ کا خون کیوں زیر بحث نہیں آتا،کیا بلوچ کارنگ ٹماٹر کے رنگ سے زیادہ خراب ہے؟بلوچستان کو برابر کا حصہ دینا ہوگا،آج نہیں توکل دینا ہوگا،ہمیں کوئی لائن میں نہیں لگنے دیتا، آپ آن لائن کی بات کررہے ہیں،بلوچستان میں آج آن لائن کلاسز نہیں ہورہیں، وہاں تھری جی فور جی نہیں ہے،

    اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ہم نےاسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیراعظم اور صدر کے انتخاب پر حکومت کا ساتھ دیا،اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود گزشتہ بجٹ میں ساتھ دیا، وفاقی حکومت نے ہمیں کیا دیا؟

    واضح رہے کہ بی این پی کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی یہ پہلی بار سامنے نہیں آئی ماضی میں بھی کئی ایسے مواقع آئے لیکن حکومت نے بی این پی کو راضی کر لیا ،گزشتہ برس بھی بجٹ کے موقع پر بی این پی نے علیحدگی کی دھمکی دی تھی لیکن حکومت نے مذاکرات کئے تھے اور بجٹ کی منظوری کے لئے بی این پی نے حکومت کی حمایت کر دی تھی

    حکومت نے بی این پی مینگل کی ایسی کونسی شرائط تسلیم کر لیں‌ کہ اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا؟ بڑی خبر آ گئی

    بلوچوں کو لاٹھی یا بندوق سے ہانکنے کی کوشش کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے، اختر مینگل

    بلوچوں کو لاٹھی یا بندوق سے ہانکنے کی کوشش کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے، اختر مینگل

    مولانا فضل الرحمان جب حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے اسوقت بھی بی این پی کی جانب سے حکومت سے عیلحدگی کی ایک بار پھر دھمکی دی گئی تھی اور اختر مینگل سے مولانا فضل الرحمان کا رابطہ بھی ہوا تھا، اختر مینگل اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں بھی تھے ،بلاول زرداری سے بھی اختر مینگل کی ملاقات ہوئی تھی،لیکن حکومت نے انہیں منا لیا تھا

    حکومتی اتحادی جماعت کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچوں کوان کاحق ملنا چاہیے،کابینہ کے ارکان حکومت سے ناراض ہیں،ہم نے کچھ نکات پرحکومت کا ساتھ دیا،بلوچستان کی محرومیاں دورہونے پرحکومت کا ساتھ دیتے رہیں گے

    اختر مینگل نے مزید کہا کہ سی پیک اتھارٹی کی تشکیل میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا،وزیراعظم عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کرچکے ہیں ،وفاقی حکومت اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لے رہی، بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے شفاف انتخابات ضروری ہیں،

    اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو بلوچستان کے 5 ہزار لاپتہ افراد کی فہرست دی تھی،لاپتہ افراد کی دی گئی فہرست کے مطابق ان میں سے 400 کے قریب افراد کو بازیاب کروا لیا گیا ہے، میرے سمیت بلوچستان کا کوئی بھی باسی وفاقی حکومت سے مطمئن نہیں

  • صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی رکوانے کیلئے درخواستوں کی سماعت ہوئی حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہا عدالت کے ایک سوال پر صدر اور وزیراعظم سے مشاورت کی، وزیراعظم کہتے ہیں انہیں عدلیہ کا بڑا احترام ہے، معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

    فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا لندن میں ایک پراپرٹی بھی نکلے تو ضبط کر لیں، پراپرٹی ضبط کر کے پیسہ قومی خزانے میں ڈال دیں۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا عدالت نے اس جواب کا جائزہ نہیں لیا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا جج نے نہیں کہا یہ جائیدادیں وزیراعظم کی ہیں۔

    دوران سماعت قاضی فائز عیسیٰ خود سپریم کورٹ پہنچ گئے اور کہا بحیثیت درخواست گزار ذاتی حیثیت میں پیش ہو رہا ہوں، اگر کچھ غلط کہا تو میرےخلاف ہتک عزت کا دعویٰ کریں، مئی کے آخر میں یہ ساری باتیں شروع ہوئیں، مجھے ریفرنس کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ میری بیوی ویڈیو لنک پر جائیدادوں کی وضاحت دینا چاہتی ہے، میں آج اپنی اہلیہ کا اہم پیغام لایا ہوں،وہ جائیدادوں کے ذرائع بتانا چاہتی ہیں،اہلیہ کے والد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے،‏اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے،‏عدالت اہلیہ کو وڈیو لنک پر موقف دینےکا موقع دے،

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مزید کہا کہ ‏اہلیہ وڈیو لنک پرجائیداد سے متعلق بتانا چاہتی ہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ‏آپ کی اہلیہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، یہ ایک بڑی پیش رفت ہے، وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ‏جج صاحب سے میری کوئی دشمنی نہیں،‏اگر مناسب جواب دیتے ہیں تو معاملہ ختم ہوجائے گا، ‏میں جج صاحب اور ان کی اہلیہ کا بڑ احترام کرتا ہوں، ‏میں نے کبھی معزز جج کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھی،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ‏اگر اہلیہ جواب دیتی ہیں تو سارا عمل شفاف ہوجائے گا،‏جج صاحب کے بیان پر غور کیا ہے،‏جج صاحب نے اہلیہ کی جانب سے بیان دیا،‏اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا،‏ہماری ان سےدرخواست ہےکہ وہ تحریری جواب داخل کرکےموقف دیں‏تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ‏میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، ‏اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں،‏اہلیہ کہتی ہیں اکاؤنٹ بتانےپرحکومت اس میں پیسا ڈال کرنیاریفرنس نہ بنادے،‏اہلیہ کا موقف سن کر جتنے مرضی سوال کریں،‏انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے ،‏میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، ‏میری اہلیہ کو عدالت کے سامنے موقف دینے کی اجازت ہونی چاہیے، ‏میں اپنی اہلیہ کا وکیل نہیں ان کا پیغام لےکر آیا ہوں، ‏میں یہاں جج نہیں درخواست گزار ہوں،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ‏اہلیہ کا پیغام ہم نے سن لیا ہے،‏ہم آپ کی پیشکش پر مناسب حکم جاری کریں گے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ‏میری اہلیہ کی استدعا کو تبدیل نہ کریں،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دلائل کے بعد ججز مشاورت کےلیے اٹھ کر اندر چلے گئے،فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائے گا.

  • پاکستان میں‌ کرونا سے ریکارڈ 136 مزید اموات،58 ہزار سے زائد مریض صحتیاب

    پاکستان میں‌ کرونا سے ریکارڈ 136 مزید اموات،58 ہزار سے زائد مریض صحتیاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 136 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5839 نئے مریض سامنے آئے ہیں،

    پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار 760 ہو گئی ہے جبکہ کی مجموعی تعداد 2 ہزار 975 ہوگئی ہے

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 839 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 58 ہزار 239، سندھ میں 57 ہزار 868، خیبر پختونخوا میں 19 ہزار 107، بلوچستان میں 8 ہزار 437، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 164، اسلام آباد میں 9 ہزار 242 جبکہ آزاد کشمیر میں 703 مریض ہیں،

    پاکستان میں اب تک 9 لاکھ 50 ہزار 782 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 28 ہزار 117 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 58 ہزار 437 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے.

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 136 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 975 ہوگئی ہے، سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں، پنجاب میں ایک ہزار 149، سندھ میں 886، خیبر پختونخوا میں 731، اسلام آباد میں 90، گلگت بلتستان میں 17، بلوچستان میں 89 اور آزاد کشمیر میں 13 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں

    دوسری جانب حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے،لاہور سمیت پنجاب کے 7 اور ملک بھر کے 20 شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے لاہور کے 21 علاقوں کی 61 گلیاں، محلے اور بلاکس بند کر دئیے گئے ہیں.

  • چین نے بھارتی فوجی پھڑکا دیئے،مودی بے بس، تاریخی رسوائی، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    چین نے بھارتی فوجی پھڑکا دیئے،مودی بے بس، تاریخی رسوائی، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چائنہ نے بھارت کو ایسی پھینٹی لگائی ہے کہ مودی کے چاروں طبق روشن ہو گئے ہیں،لداخ میں چینی فوج نے بھارتی فوج کے ایک افسر سمیت تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا، چین نے کہا کہ بھارتی فوج نے غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کیا اسلئے مارے گئے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ چینی فوج نے مودی کے اس بیان کہ گھس کر ماریں گے کو زیادہ ہی سیریس لے لیا ہے،حالت یہ ہے کہ بھارتی فوج اپنے فوجی مروا رہی ہے،لداخ میں 45 سال بعد ہونیوالے تصادم میں بھارتی کرنل سمیت 2 نہیں 13 فوجی ہلاک ہو گئے، اب مودی اور بھارتی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا، کسی کی جانب سے سرجیکل سٹرائک ،رافیل کا کوئی شور نہیں ہے،ابھی تک بھارتی میڈیا اور مودی اصل حقائق سامنے لانے کی ہمت نہیں کر رہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ ہلاکتین دونوں جانب ہوئی لیکن چین نے کلیر کر دیا کہ انکی جانب ایک کو خراش بھی نہیں آئی، محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہ لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ہے،قوم یہ جاننے کی مستحق ہے کہ انتقامی کارروائی کی بات کیوں نہیں کی جارہی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اپریل سے جاری کشیدگی میں چائنہ اور بھارتی فوج کے مابین میں اضافہ ہوا ہے جس میں بھارتی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اس سے پہلے دونوں فوجوں میں ناکام مذاکرات ہوئے کیونکہ چین یہ علاقہ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا،اور بھارت نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی،لیکن بھارتی میڈیا ڈھول بجا رہا تھا کہ چین پیچھے ہٹ گیا، چین ڈر گیا، چین نے بھارت کا وہ حال کرنا ہے جو امیر غریب سے کرتا ہے

    مودی جانتا ہے کہ چائنہ اسکے علاقے میں گھس گیا ہے، چاینہ نے متعدد بار بھارتی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور اب بھی چین رکے گا نہیں مزید آگے بڑھے گا کیونکہ چین کو پتہ ہے کہ اسوقت بھارت اکیلا ہے اسکے تمام پڑوسی ممالک سے تعلقات خراب ہیں، بھارت کی اکانومی تباہ ہو چکی ہے اور مذہبی فسادات کی وجہ سے بھارت اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 1975 کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے کہ جب چین کے ہاتھوں بھارتی فوج کی ہلاکت ہوئی ہے ،بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے لیکن بھارت ڈٹا ہوا ہے، ایسے میں چین نے بھارت کو دھمکی دے دی کہ کچھ مبینہ بھارتی ماہرین چین کی تقسیم کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہم انہیں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ چین ایسے لوگوں کو سبق سکھانے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، بھارت میں کچھ لوگوں نے چین کے خلاف ایک سیمینار کا انعقادکیا تھا جس کی وجہ سے چینی حکومت غصے میں ہے۔ اس سیمینار میں بھارت کو چین کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے اور چین کی ‘ون چائنا’ پالیسی کو نشانہ بنانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اس پر چائنہ نے رد عمل دیا اور کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں شکست دیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر بھارت ایسا سوچتا ہے تو وہ اس کی بڑی قیمت ادا کرے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی چین نے بھارت میں گھس کر بھارتی فوجیوں کو گرفتار کر لیا تھا اور منت سماجت کے بعد انہیں چھوڑا گیا تھا لیکن بھارت نے ہٹ دھرمی نہیں چھوڑی،اس لئے وہ اپنے ہی فوجی مروا رہا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق چین نے بھاری جنگی ہتھیار لداخ پہنچا دیئے ہیں ، آج کے حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی زیر صدارت بھارتی افواج کے سربراہان کا اجلاس ہو اجس میں یہ نہیں سوچا گیا کہ چائنہ کو جواب کیسے دینا ہے بلکہ یہ سوچا گیا کہ چائنہ کو ٹھنڈا کیسے کرنا ہے،کیونکہ سب کو معلوم ہے اس بات بھارت کو بہت مار پڑنی ہے نہ صرف چائنہ سے بلکہ دیگر ممالک سے بھی، انڈین میڈیا کے مطابق وادی گلوان میں چینی اور بھارتی فوج کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لئے مذاکرات بھی کئے گئے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا،پہلے کہا کہ بھارتی فوجی مرے، پھر کہا نہیں ، پھر کہا بھارتی نہین چینی بھی مرے ہیں، پھر کہا کہ بھارتی فوجی حادثے کا شکار ہوئے ہیں، بھارتی میڈیا اپنی عوام کو گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے، میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ چین لداخ مین پیچھے نہیں ہٹے گا،اور نہ ہی ہٹنے والا ہے، آگر پیچھے جانا ہوتا تو آگے ہی نہ آتا، گزشتہ شام کی جھڑپ سے ظاہر ہو گیا کہ حالات کشیدہ ہین اور مزید خراب ہو سکتے ہین، بھارتی میڈیا کی خبروں پر نہ رہیں ، جس طرح مودی جھوٹا ہے اسی طرح بھارت کا میڈیا بھی جھوٹا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چائنہ سرحدی کشیدگی ختم کرنے کے لئے بھارت کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تا ہم اس دوران بھارت نے حملہ کر کے جارحیت کا مطاہرہ کیا جو قابل مذمت ہے، چین نے بھارتی فوج کو مضبوط جواب دیا، دونوں ممالک میں کشیدگی جاری ہے، مودی کا کریڈٹ ہے کہ اس نے اتنے سالوں بعد لداخ مین بھارتی فوجی مروائے اور بھارت کو دنیا بھر میں ذلیل و رسوا کروا دیا،میں آپ کو یاد کروا دوں کہ جنرل حمید گل مرحوم نے کہا تھا کہ مودی انڈیا کو تباہ کر کے جائے گا ،وہ پاکستان کے لئے بڑا تحفہ ہے،اللہ جنرل حمید گل کے درجات کو بلند کرے اور انکی کہی گئی باتوں کو پورا کرے، آمین

  • جہانگیر ترین کی نواز شریف سے ملاقات متوقع، کس شرط پر؟ سنیں مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    جہانگیر ترین کی نواز شریف سے ملاقات متوقع، کس شرط پر؟ سنیں مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لندن سے چڑیل دو خبرین لے کر آئی ہیں ایک چڑیل اور دوسرا سی این این اور بی بی سی دے ہی ہیں

    ایک جہانگیر ترین اور نواز شریف کی ملاقات بارے ہے، جہانگیر ترین یہاں سے گئے کیسے؟ سول ایوی ایشن میں بھی میری چڑیل ہے اس نے خبر دی کہ جب ترین نے جانا تھا تو سپیشل جیٹ روس سے پاکستان آیا،ترین صاحب اس میں بیٹھے اور سیدھا انگلینڈ پہنچ گئے، انگلینڈ پہنچے تو انکی ویڈیو گھر کے باہر کی آ رہی تھیں ،لوگ بنا رہے تھے لیکن انکو یہ نہیں پتہ تھا کہ ترین‌صاحب تو گھر میں تھے ہی نہیں وہ تو سوئٹزر لینڈ چلے گئے تھے اور اب لندن پھر پہنچے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب جتنی دیر سے وہ گئے ہیں کچھ لوگ ہیں جو رابطے کرانا چاہ رہے تھے، چڑیل کا کہنا تھا کہ ترین‌صاحب خود میاں صاحب سے ملنا چاہ رہے تھے، میاں صاحب پرانے سیاستدان ہیں، زیرک سیاستدان ہیں وہ آرام سے تو نہیں ملتے انہوں نے کچھ شرائط رکھیں اور میسجز ہوئے، اب تیسری شرط آئی ہے، لندن کے کچھ صحافیوں اور چڑیل کا کہنا ہے کہ ترین صاحب شرط کے بارے میں غؤر کر رہے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے ترین صاحب کو ملنے سے پہلے کی ایک شرط لگائی ہے کہ ملاقات ہے لیکن ایک صورت میں، ترین‌ صاحب لندن میں ایک پریس کانفرنس کریں گے اور وہ اس بات کا اعتراف کریں گے کہ 2018 کے الیکشن میں کیا کیا غلط ہوا،وہ سب سامنے لائیں گے،اور یہ بھی بتائیں گے کہ انکے جہاز میں کتنے پیسے گئے اور کس ایم این اے کو پیسے ملے،یہ نواز شریف نے کہا اگر جہانگیر ترین یہ کریں گے تو نواز شریف سے ملاقات ہو سکتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اس پر غور کر رہے ہیں اور وہ کشتیاں جلا کر گئے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کو تحریک انصاف کی حکومت گرفتار کرنے والی تھی وہ پراسرار طریقے سے نکل گئے،جب فلائٹس بند تھیں تو اسوقت جہاز آیا اور وہ نکل گئے، اگر ترین صاحب اعتراف کر لیتے ہیں کہ 2018 کے الیکشن صحیح نہیں. ہوئے اور ترین صاحب ان لوگوں کے نام لے لیتے ہیں جنہوں نے براہ راست ان سے ڈیل کی ہے تو بہت سے سیاسی کیریر اسکا مطلب ہے کہ وہ ختم ہو جائیں گے اور پاکستان کی سیاست میں بہت بڑا بھونچال اسی مہینے آ سکتا ہے، اگر پریس کانفرنس ہو جاتی ہے تو

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کو ایک بات سمجھ آ گئی ہے کہ انکی پارٹی تقسیم ہو چکی ہے وہ باہر ہیں، بیٹی کافی لوگوں کو قبول نہیں کرتی، بیٹے سیاست میں آنے میں دلچسپی نہیں لیتے، بھتیجا اندر ہے، ایک پاکستان سے باہر ہے اور نیب کی گرفت میں ہےان لوگوں کا سیاسی فیچرنہیں ہے، ایسے میں یہ کھیلیں گے، انکے پاس ٹائم ہے اور پیسہ بھی، اور ویٹ کرنے کا انکا تک سمجھ میں آتا ہے،کہ جلد بازی نہیں کرنی، کہتے ہیں گرم کھیر کھائیں تو منہ جلتا ہے،میاں صاحب منہ نہیں جلانا چاہ رہے، انکو کھانے پینے کا بہت زیادہ پتہ ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین کیا کرتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ میسج انکو گیا ہے اگر وہ سوچ رہے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ترین صاحب سیریس ہیں، انکا سارا بزنس انٹرسٹ یہاں پر ہے، شوگر ملز، زمیںین یا جو بھی کام ہے پاکستان میں ہے، اگر وہ آمادہ ہوتے ہین تو انکو پتہ ہے کہ کس طرح کی کاروائی ہونی ہے،یا اسکے کیا نتائج ہو سکتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر جہانگیر ترین اس بات کو کنسیڈر کر رہے ہیں ، اگر خبریں صحیح ہیں کہ جہانگیر ترین اور نواز شریف میں پیغام رسانی ہو رہی ہے تو مطلب ہے کہ ملاقات ہونی ہے وہ اس شرط پر ہو یا کسی اور پر، اور جسدن جہانگیر ترین ، نواز شریف ملیں گے اسدن بہت سے سیاستدانوں کے لئے، خاص کر حکمران جماعت کے سیاستدانوں کے لئے بہت بڑی خبریں ہوںگی یہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں،

  • پشاور ہائیکورٹ کا فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 196 کے قریب خطرناک مجرمان کو رہا کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 196 کے قریب خطرناک مجرمان کو رہا کرنے کا حکم

    پشاور:پشاور ہائیکورٹ کا فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 196 کے قریب خطرناک مجرمان کو رہا کرنے کا حکم،اطلاعات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 196 کے قریب خطرناک مجرمان کی سزائے معطل کردیں اور انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس نعیم انور کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف 300 سے زائد درخواستوں پر سماعت کی۔جس کے بعد عدالت نے ان سزاؤں کو معطل کردیا جن سے متعلق ریکارڈز عدالت میں پیش کیے گئے تھے۔بعدازاں مختصر فیصلے میں عدالتی بینچ نے 196 مجرمان کی رہائی کا حکم دے دیا اور وفاقی حکومت کو جواب جمع کرانے اور دیگر 104 مجرمان کے ریکارڈز پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

    سماعت کے دوران مجرمان کی جانب سے شبیر حسین گگیانی، عارف خان، ضیا الرحمٰن، باری عمران خان بطور وکیل پیش ہوئے۔وکلا نے ڈان نیوز کو بتایا کہ عدالت نے فوجی عدالتوں سے سزایافت قیدیوں کے 300 سے زائد کیسز کی سماعت کی جس میں سزائے موت، عمر قید اور 10 برس قید کی سزائیں شامل تھی۔انہوں نے بتایا ،کہ عدالت نے 200 کے قریب اپیلوں کو منظور کیا اور سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے قیدیوں کی غیرقانونی گرفتاری، 5 سے 10 سال کی طویل غیرقانونی گرفتاری کے بعد اعترافی بیانات کی ریکارڈنگ، اعتراف جرم کے بعد گرفتاری، فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار کی عدم موجودگی، غیرمنصفانہ ٹرائل، قانون کی بدنامی، شواہد کی عدم موجودگی، آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور آئین کے آرٹیکلز 4، 8، 10، 10 اے، 12، 13 اور 25کی خلاف ورزی کی بنیاد پر رہائی کا فیصلہ کیا۔

    عدالتی بینچ نے کہا کہ اس سے قبل فوجی عدالتوں کے مقدمات میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے تسلیم کیا گیا تھا جسے وہاں پیش کیا گیا تھا اور ریاست پاکستان نے اس فیصلے پر انحصار بھی کیا تھا۔تاہم ریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث 100 سے زائد دیگر اپیلوں پر سماعت ملتوی کردی گئی تھی۔

    اس سے قبل رواں برس فروری میں پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کے وکیل، وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کو سزاؤں کے خلاف 230 کے قریب درخواستوں پر 20 فروری تک تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

    خیال رہے کہ عدالت نے مجرموں کی پھانسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرکے انہیں عبوری ریلیف فراہم کر رکھا ہے۔گزشتہ برس نومبر میں عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی اپیل مسترد کردی تھی۔

    گزشتہ برس 18 اکتوبر کو چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں ہائی کورٹ بینچ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کی جانب سے دائر کی گئی دیگر 75 درخواستوں کو منظور کرلیا تھا اور ان کی سزاؤں سمیت اکثر سزائے موت کو روک دیا تھا۔

    تاہم سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں پر اس فیصلے کو معطل کردیا تھا جبکہ اس حوالے سے حکومت کی مرکزی اپیلیں تاحال عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ التوا ہیں۔ان مقدمات میں ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ سزائیں شواہد کے بجائے بدنیتی پر مبنی حقائق میں مشتمل تھیں۔تفصیلی فیصلے میں عدالت نے تمام مجرموں کے اعترافی بیانات پر موجود خامیوں پر بحث کے بعد انہیں مسترد کردیا تھا۔

    واضح رہے کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں سے اب تک دہشت گردی میں ملوث کئی مجرموں کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے، جن میں سے کئی افراد کو آرمی چیف کی جانب سے دی گئی توثیق کے بعد تختہ دار پر لٹکایا بھی جاچکا ہے۔

    جنوری 2015 میں پارلیمنٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم منظور کرکے فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں توسیع کرتے ہوئے دہشت گردوں کی فوجی عدالتوں میں سماعت کی منظوری دی تھی، جب کہ پہلے فوجی عدالتوں کو صرف فوجی اہلکاروں کے جرائم کی پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) 1952 کے تحت سماعت کا اختیار تھا۔

  • پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس بھیج دیا

    پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس بھیج دیا

    پشاور:پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس،اطلاعات کےمطابق پشاور ہائی کورٹ نے سابق فوجی حکمران جنرل(ر) پرویز مشرف کے کیس کا فیصلہ سنانے والے خصوصی عدالت کے جج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرقانون سمیت دیگر افراد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

    پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ عزیز الدین کاکاخیل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔دو رکنی بینچ نے وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر قانون فروغ نسیم، سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیر سائنس فواد چوہدری اور پیمرا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔عدالت عالیہ نے خصوصی عدالت کے جج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر 14 دن میں جواب طلب کرلیا۔

    سماعت کے بعد درخواست گزار ایڈووکیٹ عزیز الدین کاکاخیل کا کہنا تھا کہ جب جنرل مشرف کا فیصلہ آیا تو وزیراعظم عمران خان، فروغ نسیم، شہزاد اکبر، سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان، فردوس عاشق اعوان اور فواد چوہدری قصداً پریس کانفرنس کرکے عدالت کی توہین کے مرتکب ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ درخواست آج جسٹس لال جان اور جسٹس سجاد انور کے روبرو مقرر تھی۔ایڈووکیٹ عزیزالدین نے کہا کہ دو رکنی بینچ نے ان تمام افراد سے آئندہ سماعت میں جواب طلب کرلیا ہے۔

    یاد رہے کہ 19 دسمبر کو خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا، جس میں 2 ججوں نے سابق صدر کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت سنا دی تھی۔خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھابعدازاں 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا تھا جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔

    عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا تھا اورجسٹس شاہد کریم نے ان کی معاونت کی تھی۔

    تاہم جسٹس شاہد کریم نے سزا سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے فیصلے میں شامل پیراگراف 66 سے اختلاف کیا، جس میں مشرف کے سزا سے پہلے وفات پانے کی صورت میں ‘ڈی چوک پر گھسیٹ کر لانے اور 3 دن تک لٹکانے’ کا ذکر کیا گیا تھا۔

    وفاقی حکومت نے فیصلہ جاری کرنے والے خصوصی عدالت کے بینچ کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کو واپس لے لیا گیا۔

    سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور فردوش عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘خصوصی عدالت آرٹیکل 6 کا ٹرائل کر رہی تھی، پہلے مختصر فیصلہ دیا گیا، آج جو تفصیلی جاری کیا گیا اس میں پیراگراف 66 بہت اہم ہے، یہ پیراگراف بینچ کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت سے قبل اگر پرویز مشرف انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لایا جائے اور تین روز تک وہاں لٹکایا جائے۔’

    انہوں نے کہا کہ ‘میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی آبزرویشن دینے کی جج کو کیا اتھارٹی تھی، کہیں پر بھی ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے جس میں کسی جج کو ایسی آبزرویشن دینے کا اختیار ہو، ایسے فیصلے کی کوئی نظیر نہیں ملتی، یہ انتہائی غلط آبزرویشن ہے۔’

    ان کا کہنا تھا کہ 1994 میں سپریم کورٹ کا سنایا گیا ایک فیصلہ ہے جسے نسیم حسن شاہ نے تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مقامات پر پھانسی کی سزا آئینی اور اسلام کے خلاف ہے اور کسی بھی جج کو آئین کے تحت اس طرح کا فیصلہ دینے کا اختیار نہیں۔

  • بھارتی فوج کی کنٹرول لائن  پر ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ، شہری زخمی

    بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ، شہری زخمی

    بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ، شہری زخمی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ کی ہے جس میں ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    بھارتی فوج نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سویلین آبادی کو اپنی فائرنگ سے نشانہ بنایا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے باغسر میں شہری آبادی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے مہتیکا گاؤں کا رہائشی شہری بابر حسین زخمی ہو گیا۔

  • مسلح افوج کے سربراہان کا آئی ایس آئی کے ہیڈ‌کوارٹر کا دورہ، اہم امور پر بریفنگ دی گئی

    مسلح افوج کے سربراہان کا آئی ایس آئی کے ہیڈ‌کوارٹر کا دورہ، اہم امور پر بریفنگ دی گئی

    مسلح افوج کے سربراہان کا آئی ایس آئی کے ہیڈ‌کوارٹر کا دورہ، اہم امور پر بریفنگ دی گئی

    باغی ٹی و ی :وطن عزیز کی مسلح افواج کے سربراہان نے پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز اٹیلی جنس نے (آئی ایس آئی) ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انھیں اہم امور پر بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے ٹویٹر پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی اور ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔
    اس موقع پر آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے معزز مہمانوں، مسلح افواج کے سربراہان کا استقبال کیا۔ اعلیٰ عسکری قیادت کو کنٹرول لائن، مقبوضہ کشمیر اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔