لاہور: پنجاب؛ لاک ڈاؤن میں 30 جون تک پھر توسیع ،اب کی بارہوگا حقیقی لاک ڈاون،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر پنجاب میں جاری لاک ڈاؤن میں 30 جون تک کی توسیع کر دی گئی۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے لاک ڈاؤن میں 30 جون تک نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق مزید ترمیم تک لاک ڈاؤن کی صورت حال گزشتہ نوٹیفکیشن والی رہے گی۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن (ر) محمد عثمان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں یو ایچ ایس کو سپلیمنٹری امتحانات لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ بی ڈی ایس، بی ایس سی نرسنگ، ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی اور بی ایس سی الائیڈ ہیلتھ سائنسز آخری سال کے ضمنی امتحانات لیے جا سکیں گے۔
نوٹیفکیش میں کہا گیا ہے کہ یو ایچ ایس امتحان کے علاوہ کسی بھی انڈسٹری کو چھوٹ نہیں دی گئی جب کہ نوٹیفکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا اور تاحکم ثانی لاگو رہے گا۔
کورونا وبا کے باعث پنجاب حکومت نےگزشتہ ہفتے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر انتظام ہونے والے ایم بی بی ایس کے ضمنی امتحانات کو منسوخ کر دیا تھا تاہم ضمنی امتحانات نہ ہونے کی صورت میں ایم بی بی ایس فائنل ایئر کے سینکڑوں طلبا کا ایک سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اب حکومت نے ضمنی امتحانات کی اجازت دے دی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین نے بھارت کو دھمکی دی ہے کہ چین کی تقسیم کا خواب دیکھنے والوں کو سبق سکھانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
چین اور بھارت کے مابین لداخ پر سرحدی کشیدگی جاری ہے،آج چین نے بھارتی فوج کے کرنل سمیت 3 فوجیوں کو ہلاک کیا ہے اور 1975 کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جب چین کے ہاتھوں بھارتی فوج کی ہلاکتیں ہوئی ہیں،بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے لیکن چین ڈٹا ہوا ہے اور بھارت کی کوئی بات نہین مان رہا
ایسے میں چین نے بھارت کو دھمکی دی ہے کہ کچھ مبینہ ہبھارتی ماہرین چین کی تقسیم کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہم انہیں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ چین ایسے لوگوں کو سبق سکھانے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، بھارت میں کچھ لوگوں نے چین کے خلاف ایک سیمینار کا انعقادکیا تھا جس کی وجہ سے چینی حکومت غصے میں ہے۔ اس سیمینار میں بھارت کو چین کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے اور چین کی ‘ون چائنا’ پالیسی کو نشانہ بنانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
گلوبل ٹائمز نے کہا کہ کہ بھارت کے سابق قومی سلامتی کے مشیر اروند گپتا اور کچھ مبینہ ماہرین چین میں تقسیم کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں شکست دیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر بھارت ایسا سوچتا ہے تو وہ اس کی بڑی قیمت ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم جو 5 مئی کو لداخ میں وادی گلوان اور اس کے بعد شمال مشرقی سکم کے علاقے نکولہ میں شروع ہوا تھا اس کے تین دن بعد بھارت اور چین میں شدید تلخی آئی تھی چین نے لداخ میں بھارتی علاقے میں گھس کر بھارتی فوج کر گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کی فوج کے مابین کشیدگی جاری ہے،دونوں ممالک نے سرحد کے قریب بھاری تعداد میں اسلحہ،جنگی گاڑیاں پہنچا دی ہیں ، فوجی اڈوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کے مابین لداخ سرحدی تنازعے پر کشیدگی میں اضافہ ہو اہے،لداخ وادی گولان میں چینی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوج کے افسر سمیت دو سپاہی ہلاک ہو گئے ہیں
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی فوج کی جانب سے لداخ وادی گولان میں فائرنگ سے ایک افسرسمیت دو بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں
اپریل کے بعد سے چین اور بھارت کی فوجوں کے مابین ایک شدید جھڑپ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور افسر ، دو فوجی ہلاک ہوئے،بھارتی فوج نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی،اور کہا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے اعلیٰ حکام کا اجلاس جاری ہے
چین اور بھارت کی فوجوں کے مابین مذاکرات ہوئے ہیں تا ہم کوئی فیصلہ نہیں ہوا، چین علاقہ چھوڑنے کو تیار نہیں اور بھارت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اب 3 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کا کیا ردعمل آتا ہے؟ اس پر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت جانتا ہے کہ چین اسکے علاقے میں گھس گیا ہے، چین نے فضائی حدود کی بھی خلاف ورزی کی اور اب بھی اگر بھارت خاموش رہتا ہے تو چین مزید آگے بڑھے گا
واضح رہے کہ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم جو 5 مئی کو لداخ میں وادی گلوان اور اس کے بعد شمال مشرقی سکم کے علاقے نکولہ میں شروع ہوا تھا اس کے تین دن بعد بھارت اور چین میں شدید تلخی آئی تھی چین نے لداخ میں بھارتی علاقے میں گھس کر بھارتی فوج کر گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کی فوج کے مابین 28 روز سے کشیدگی جاری ہے،دونوں ممالک نے سرحد کے قریب بھاری تعداد میں اسلحہ،جنگی گاڑیاں پہنچا دی ہیں ، فوجی اڈوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ جاری، اموات اور مریضوں مین اضافہ ہو رہا ہے
پاکستان میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے 111 افراد انتقال کرگئے،یہ ایک روز کے دوران ملک میں جان گنوانے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے
پاکستان میں 24گھنٹے میں4ہزار 443کوروناکےنئے کیس سامنے آ گئے،ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 1 لاکھ 48 ہزار921 ہوگئی،ملک میں کورونا کے 56 ہزار 390 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں،گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران 25 ہزار 15 ٹیسٹ کئے گئے
پنجاب میں کورونا کےسب سے زیادہ 55878 کیسز ہیں،سندھ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 55581 ہو گئی،کے پی میں کورونا سے متاثر ہ مریضوں کی تعداد 18472 ہوگئی،آزاد جموں و کشمیر663 اورگلگت میں کورونا مریضوں کی تعداد1143 ہو گئی
کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے حکومت نے ہاٹ سپاٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،کورونا وائرس ہاٹ سپاٹس سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور کورنٹائن حکمت عملی کے تحت ملک کے 20 شہروں کی نشاندہی کر لی ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کورونا کیسز بڑھنے کے لحاظ سے ملک کے 20 شہروں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے،کورونا سے متاثرہ شہروں میں لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، ڈی جی خان، گھوٹکی، سوات، مالاکنڈ، مردان اور دیگر شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کےعلاقے جی نائن ٹو اور جی نائن 3 میں 300 سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ آئی 8، آئی 10، غوری ٹاؤن، بارہ کہو، جی 6 اور جی 7 کے علاقے نیو ہاٹ سپاٹ ہیں۔ جن شہروں میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں حفاظتی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چڑیل مخبری لے کر آئی ہے ن لیگ کےذرائع سے اور ماڈل ٹاؤن سے خبر لائی ہے کہ وہاں سر پکڑ کر بیٹھے ہیں، شہباز شریف کسی وقت ملک سے نکل جائیں گے یہ خبر تھی اور اسکے لئے خصوصی طیارے کا انتظام ہو گیا تھا، علا ج کا بہانہ تھا، 30 سال حکومت کر لی لیکن ایک ایسا ہسپتال نہیں جہاں انکا علاج ہو سکے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کو دیکھ لیں انکی تصویریں آ رہیں، کبھی وہ کافی پی رہے ہیں،پھر رہے ہیں، لوگوں نے ماسک پہنے ہیں لیکن میاں صاحب آرام سے پھر رہے ہیں انہوں نے کوئی ماسک نہٰیں پہنا اور انکے پلیٹ لٹس کی بھی کوئی فکر نہیں، لیکن جو خبر ہے وہ اہم ہے، شاید ابھی تک کسی کے پاس نہیں، آج صبح اتوار کے دن شہباز شریف کا پاسپورٹ بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے، مطلب جب وہ باہر جانے کی کوشش کرین گے تو امیگریشن کاؤنٹر پر پاسپورٹ نمبر انٹر کریں گے تو اس پر نشان آئے گا اور لکھا آئے گا کہ پہلے پاسپورٹ کو کلیئر کروائین اور پھر سفر کریں، یہ ن لیگ کو پتہ چل گیا ہے اور اب سارے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اب کیا کریں، کرونا کا بہانہ بھی اب کر لیا، جب نیب ٹیسٹ کروائے گی ، کرونا منفی آئے گا تو کوئی بہانہ نہیں ملے گا، بس ایک فائدہ ہو گا کہ ٹیسٹ کے پیسے نہین دینے پڑیں گے وہ فری ہو جائیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف کا پاسپورٹ بلیک لسٹ ہو چکا ہے، نیب بھی اڑ گئی ہے، اتوار کو پاسپورٹ بلیک لسٹ کر رہے ہیں تو سوچ لیں کہ لوگ کتنے کمٹڈ ہو گئے ہیں، کہ شہباز شریف کو جیل بھجوانا ہے لیکن نیب کے اپنے لوگ جواب نہیں دے پا رہے ،میں نے نیب کے کچھ لوگوں کو اسلام آباد فون کیا تو وہ آئیں بائیں بہانے کرتے رہے، دو مہینے ہو گئے، میر شکیل الرحمان صاحب جو جنگ گروپ کے روح رواں ہیں انکا کیس فائل تیار ہو کے چیئرمین نیب کے پاس اسلام آباد گئی ہے، چیئرمین نیب اس پر سائن نہین کر رہے، اگر وہ سائن کر دیتے ہیں تو نیب لاہور اگلی صبح چارج شیٹ کر دے گی،انکو عدالت میں پیش کیا جائے گا کہ وہ جیل میں جائیں اور ان سے مزید تفتیش ہو یہاں سے ان پر چارج شیٹ لاگو ہو جائے گی اور کیس کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس بات پر نہین ہوں کہ کیس صحیح ہے یا غلط، میں یہ بات کر رہا ہوں کہ نیب چیئرمین جو ہیں وہ کس وجہ سے اس فائل پر دستخط نہیں کر رہے، اسکا جواب وہ خود دے سکتے ہیں،کیا وہ بابا جی سے ساز باز کر رہے ہیں، یا انکا اتنا اثر ہے کہ چیئرمین نیب سائن کرتے ہوئے بہانے کر رہے ہین کہ ابھی یہ نہیں کرنا، وہ کونسی ایسی بات ہے کہ میر صاحب کا معاملہ لاہور نیب نے چیئرمین نیب کو بھیجا اور وہ لیت و لعل کر رہے ہیں، چیئرمین نیب کو پتہ ہونا چاہئے کہ اگر کوئی ڈیل یا ساز باز ہوتی ہے تو وہ دنیا کو پتہ چل جائے گی، چھپے گی نہیں، اب یہ بات ہے کہ وہ بتائیں کہ ایسی کونسی بات ہے؟ یا تو وہ یہ کہہ دیں کہ یہ غلط ہے ، یا نئے سرے سے کاروائی کریں ، یا جس کو پکڑا ہوا ہے اسکو باعزت چھوڑ دیں اور اگر ایسا نہین کرنا تو فائل پر سائن کیوں نہیں کرنا، کیا کسی اشارے کا انتظار کر رہے ہیں ،اسکا جواب چیئرمین نیب ہی دیں گے، مجھے امید ہے کہ تین دن میں کچھ نہ کچھ جواب آ ہی جائے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نیب ایکٹو ہو گئی ہے اور آپا جی کے وارنٹ آنے والے ہیں، آپا جی عرف مریم نواز شریف، ہماری تو بہن ہیں، مریم نواز وہ معصوم بہن ہیں جن کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہین تھی، اب نیا کٹا کھلا ہے، کئی ہزار کنال جائیداد مریم نواز نے اپنے نام پر خریدی ہوئی ہے،نہ صرف انکے نام پر بلکہ انکے والد کے سسر کے نام، انکے چاچے کے نام پر بلکہ کچھ اور لوگوں کے نام بھی ہوئی ہے، ہزاروں کنال، سینکڑوں ایکڑ زمین زرعی کہلا کر اسکو نارمل ،یعنی کمرشل کو زرعی کہلا کر نام کروائی گئی ،اسکے کاغذات نیب کو مل گئے ہیں، اگلے ایک، ڈیڑھ ہفتے میں بہن جی کو تیار رہنا پڑے گا، رجسٹرڈ پوسٹ سے خط آنے والا ہے کہ آئیں اور نیب کے مہمان بنیں، اور جواب دیں، اب یہ جواب نہیں چلے گا کہ مجھے نہیں پتہ،کیونکہ زمین آپ کے نام پر ہے اور اب جواب دینا ہوں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ساری تفصیلات احد چیمہ نے بتائی ہیں اور احد چیمہ بول چکے ہیں، کہ کیسے کیسے زمین نام کروائی گئی، یہ نیا کیس کھلنے لگا ہے، شہباز شریف اس وقت کچھ اور چیز مانگ لیتے یا پہلے باہر چلے جاتے، جہانگیر ترین باہر نکل گئے کسی کو پتہ ہی نہین چلا، پرائیویٹ جہاز میں گئے، آپ نے ضرور کھپ ڈالنی تھی، شہباز شریف کا پاسپورٹ بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور نیب اسوقت حرکت میں ہے، نیب میں لوگ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ چیئرمین نیب کیسز کے اوپر کچھ کہہ تو دیں پھر دیکھیں آگے کیا کیا ہوتا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھارت کی حکومت اپنی حکمت عملی کے حوالہ سے غیر فریب، دھوکہ دہی اور مغالطے کا شکار ہو گئی، ان کا وہم،کچھ ہندوستان کے بارے میں خیالات انکے بارے میں وابستہ ہیں،بھارت دن میںخواب دیکھتا ہے کہ سپر پاور کی بے پناہ سٹریٹجک مدد حاصل ہے لیکن چائنہ کی طرف دیکھتا ہے تو دھوکے کا شکار ہو جاتا ہے
لداخ میں پچھلے چار ہفتوں سے بھارتی اور چینی فوج کے مابین ایسا اسٹریجٹک المیہ ہے جومستقبل میں بھارت کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے، ہمالیہ کے اونچے پہاڑ اور بنجر زمین پر چین اور بھارت کا تنازعہ کوئی عام سی بات نہیں ،یہ جیو اسٹریٹجک طاقتوں کے مستقبل کی حکمت عملی کا مظہر ہے،چائنہ نے ایسے ہی بھارت پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع نہیں کیا،یہ بھارت کے مسلسل ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے چین کو مجبور کیا کہ وہ صلح پسندی کو چھوڑ کر بھارت میں گھس جائیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی نے 2019 میں دوبارہ اقتداد میں آتے ہی بھارت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی، بھارتی آئیں کے آرٹیکل 370 کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا،تاہم بھارت نے ردعمل کو محتاط میں نہیں سمجھا اور خاص کر چائنہ کو خاطر میں نہیں لیا، لیکن اب چائنہ کی حکومت کے انتہائی قریب ایک پالیسی ساز نے لکھا کہ چائنہ کا بھارت میں الجھانے کا مقصد سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ چین چاہتا ہے کہ جموں کشمیر کی حیثت جو تھی وہ بحال کرے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی حکومت نے اگست میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا تھا جس نے کشمیر کو ایک خاص حیثیت دی ہوئی تھی، چین نے اسوقت اپنے رد عمل کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس تبدیلی میں لداخ کی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے،اور چین اس کو سلامتی کونسل میں بھی لے گیا تھا ، یہ پہلی بار سامنے آیا تھا کہ لداخ کے معاملے میں کشمیر کو آرٹیکل 370 سے جوڑا گیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا ایک چینی سکالر جو ایک بااثر ہیں انہوں نے لکھا کہ بھارت نے گزشتہ اگست سے کشمیر کی خصوصی تبدیلی کے لئے مستقل اقدامات کئے اور علاقائی تناؤ کو مزید بڑھایا،چین کی طرف سے بھارت نے اپنے نقشے میں اضافہ کیا اور ایسے علاقوں کو شامل کیا جو سنکیانگ اور تبت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں لیکن بھارت نے انہیں جموں کشمیر میں شامل کیا جس کے بعد پاک اور چین مجبور ہوئے کہ کاؤنٹر ایکشن لیں اور سرحدی معاملات میں بھارت کے لئے مشکل پیدا کریں، اب سرحدی کشیدگی کی وجہ سے بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مسئلے کو حل کرے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب اسلام آباد سے چینی سفیر کی ٹویٹ نے بھارت میں طوفان برپا کر دیا،بھارت میں بھی کچھ لوگوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ چین کشمیر کے حوالہ سے مودی کے غلط فیصلے کو الٹنا چاہتا ہے ،چائنہ صرف اس پر اکتفا نہیں کر رہا، چائنئز نے ایک طرف ایل اے سی پر سخت صف بندی کی ہے تو دوسری طرف سیا چین کو ملانے والی سڑک کو فوج کی کمک کے لئے ناکارہ بنا دیا، چین یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ جموں کشمیر کی حیثیت بحال کی جائے، بھارت اس معاملہ میں بے بس اور امریکہ صرف مذمت اور بیان کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسکے علاوہ بھی بہت سے اقدامات ہیں ،سب سے پہلے بھارت ،آسٹریلیا، یورپی یونین نے چائنہ کے خلاف عالمی ادارہ صحت کی طرف سے کورونا کی وبا کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، دوسرا بھارت کے وزیر خارجہ نے حال ہی امریکہ کی طرف سے بلائے گئے 7 ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں حصہ لیا ،ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ،تائیوان کی مکمل رکنیت کی راہ ہموار کرنے کی امریکی کوشش کا حصہ بنا، چائنہ اس کو اپنا سمجھتا ہے، اس اجلاس میں امریکہ، آسٹریلیا، اسرائیل ،برازیل جنوبی کوریا، جاپان کے وزراء خارجہ نے شرکت کی اور یہ امریکہ کے غیر نیٹو اتحادی ہین انہوں نے ہمیشہ واشنگٹن کے ہر مطالبے کی حمایت کی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت ثقافتی اور تجارتی تعاون کے لئے سرکاری وزرا کا وفد تائیوان بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے ،بھارت تائیوان سے الیکٹرانک ،فائیو جی اور صحت کے حوالہ سے تعاون کا خواہشمند ہے اور بیجنگ کے نقطہ نظر سے انڈیا جو ون چائنہ کی پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے وہ چین کو کسی صورت منظور نہیں، تیسرا انڈو پسیفک میں امریکہ کی زیر قیادت چار ملکی اتحاد میں بھارت کی بڑھتی ہوئی شرکت ہے،جو امریکہ کی حکمت عملی پر مبنی ہے، امریکہ جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ بھارت کے دفاع اور سلامتی کے تعلقات کی سہولت فراہم کرتا ہے جو خطے میں ممالک کی آپس میں بین الاقوامی تعاون اور شفافیت پر زور دیتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے ماہ مودی کی حکومت نے بھارت میں چینی سرمایہ کاری کی ممانعت کا اعلان کیا، یہ ایسا قدم ہے جسے چائنہ عالمی تجارتی تنظیموں کے قوانین کی خلاف ورزی سمجھتا ہے، چین نے ڈبلیو ٹی او کے ساتھ بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے امریکہ ، جاپان ، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ ہند بحر الکاہل کے تعاون میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین کے شکوک و شبہات کی ایک اور وجہ جنوبی ایشیا بحر الکاہل کے سمندر میں ہندوستان کی امریکی بالادستی کے لئے حمایت ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے ایشیاء پیسیفک کامپری ہینسی ڈویلپمنٹ پروگرام (آر ای سی پی) میں بھی حصہ لینے سے انکار کردیا جس کی شروعات چین نے کی ہے اور اس میں ہندوستان ، شمالی کوریا ، جاپان ، نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا شامل ہیں۔ بھارتی تھنک ٹینک نے ایک غلط تجزیہ کیا کہ وبائی بیماری کے بعد بین الاقوامی کمپنیاں اپنی پیداوار چین سے منتقل کردیں گی اور ان کے لئے ہندوستان سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چین نے بیجنگ میں اپنی غیر سرکاری میٹنگ کے دوران کیے گئے تمام وعدوں سے وزیر اعظم مودی کے ساتھ دھوکہ دہی پر بھی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ مودی کو بار بار چینی عہدیداروں کی طرف سے یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ چین اور ان کی حکومت کے چین کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر قائم رہیں۔ اس وقت چین ہندوستان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 1962 میں جب چین اور ہندوستان کا موازنہ تھا تب بھی چین نے ہندوستان کو ایک مناسب سبق سکھایاتھا۔چین بھارت سے جموں و کشمیر کی تاریخی حیثیت کی بحالی اور پاکستان اور چین کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل پیرا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے
بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی گرفتاری ، نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کا محاصرہ کر لیا گیا ،
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی گرفتاری ، نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کا محاصرہ کر لیا گیا ،تفصیلات کے مطابق جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے ایک بار پھر سفارتی آداب کی دھجیاں اڑا دیں، نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کا محاصرہ کر لیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن دہلی کے افسران کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیاگیا، بھارتی ایجنسیوں کی جانب سےافسران کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہائی کمشنر کی سرویلنس کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج صبح تیز رفتاری سے گاڑی چلانے والے بھارتی ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی گاڑی بی ایم ڈبلیو (QL-104) کی ٹکر سے ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا۔
بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں نے حادثے کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم موقع پرموجود شہریوں نے دونوں بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
پولیس حکام کی جانب سے بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ دونوں اہلکاروں کی شناخت سلوادیس پال اور دوامو براہمو کے نام سے ہوئی ہے۔
کرونا علاج کے لئے ادویات کی عدم دستیابی پر وزیراعظم کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا
اجلاس میں وزیرِ اطلاعات سینٹر شبلی فراز، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، فوکل پرسن برائے کوویڈ ڈاکٹر فیصل سلطان، چئیرمین این ڈی ایم اے اور سینئر افسران شریک ہوئے،
اجلاس میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال، آئندہ چند دنوں کے تخمینوں اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر غور کیا گیا۔ ملک کے مختلف صوبوں میں کورونا مریضوں کے لئے موجود بیڈز، آکسیجن، وینٹی لیٹرز اور سہولیات کی موجودہ صورتحال اور اس میں اضافے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی ایک سو سات لیبارٹریز کام کررہی ہیں اور روانہ کی بنیاد پر پچیس ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ شروع میں ان کی تعداد محض دو تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں چار ہزار آٹھ سو وینٹی لیٹرز موجود ہیں ۔ شروع میں ان کی کل تعداد سات سو تھی۔ موجود چار ہزار آٹھ سو وینٹی لیٹرز میں مزید سولہ سو کا اضافہ بہت جلد ہو جائے گا۔ملک میں این -95اور وینٹی لیٹرز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی تک تمام صوبوں کے مختلف ہسپتالوں میں دو ہزار کوویڈ بستروں کا مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔ کورونا سے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بیس بڑے شہروں میں ان مقامات کی نشاندہی کردی گئی ہے جہاں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتظامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں کورونا سے متعلق حفاظتی لباس اور پرسنل پروٹیکٹیو کٹس کی تمام ضروریات با احسن طریقے سے پوری کی جار ہی ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی اقدامات کی بدولت کرونا کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں عوام کا کلیدی کردار ہے۔ اب تک سامنے آنے والے تخمینوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہےہیں تاہم اس حوالے سے عوام کا تعاون حکومتی کوششوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار کا حامل ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام مقامی قیادت اور لیڈرشپ اپنے اپنے علاقوں میں انتظامیہ کی مدد سے نہ صرف ہسپتالوں میں کوویڈ سہولیات کا جائزہ لیں بلکہ اپنے اپنے حلقوں کی عوام کا حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تعاون یقینی بنانے میں بھی متحرک کردار ادا کریں۔
صوبوں کو متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے لئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اس حوالے سے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ آنے والے چند مشکل ہفتوں کے دوران حفاظتی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں میں توازن رکھا جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے کوویڈ مریضوں کے استعمال میں آنے والی چند ادویات اور انجیکشنز کی دستیابی میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے چئیرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مطلوبہ ادویات اور انجیکشن باآسانی میسر ہوں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے کرونا کیسز میں اضافے کے بعد لاہور کے متعدد علاقے سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا
پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کل رات 12 بجے کے بعد لاہور کے کئی علاقے بند کر رہے ہیں، شاہدرہ، نشتر ٹاؤن، کینٹ، علامہ اقبال ٹاؤن، گلبرگ، مزنگ، والڈ سٹی شادباغ کو14 دن کے لئے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ماسک سے 50 فیصد پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے،لاہور میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے،عوام ایس او پیز کو سختی سے فالو کرتے رہیں، تاکہ کورونا کا پھیلاو روکا جاسکے،
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ لاہور بنا ہواہے، لاہور میں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا، دکانیں بھی سیل کیں، وزیراعظم نے کہا جن علاقوں میں پھیلاؤ ہے وہاں اقدام کریں ،متاثرہ علاقوں کو کل تک بند کردیاجائےگا، نشتر ٹاؤن ، علامہ اقبال ٹاؤن میں کچھ سوسائٹی کوبھی بند کردیاجائےگا،علامہ اقبال ٹاؤن کےمختلف علاقوں میں بھی کوروناکیسززیادہ ہیں،ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں اور فارمیسی کھلی رہیں گی،کم سے کم ان علاقوں کو دو ہفتے کیلیے بند کیا جائےگا،
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے علاقوں کو کھولنے کا فیصلہ کریں گے،افسوس ہوتاہے جب ہمارا موازنہ نیوزی لینڈ جیسے ملک سے کیا جاتاہے،مریض گھر سے فیصلہ کرتے ہیں کہ وینٹی لیٹر چاہیئے، ان علاقوں میں روزانہ ایک ہزار کیسز سامنے آرہے ہیں
لاہور میں کرونا کے تیزی سے پھیلاؤ کےسبب سرکاری ہسپتالوں کے ایچ ڈی یو اور آئی سی یو یونٹس میں گنجائش ختم ہو گئی، جناح ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں تشویشناک مریضوں کے خصوصی وارڈز کے تمام بیڈز بھر گئے، سروسز میں 93 فیصد اورمیو ہسپتال کے ایچ ڈی یو ، آئی سی یو میں 80فیصد بیڈز فل اور کوٹ خواجہ سعید، یکی گیٹ ہسپتال میں تشویشناک مریضوں کیلئے جگہ ختم ہو گئی ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی رہنما عظمیٰ کاردار کی ایک آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے اہم انکشاف کئے ہیں
آڈیو ریکارڈنگ میں ایک خاتون کہتی ہیں کہ میری وجہ سے خان صاحب نے چار پانچ لوگوں کو چیئر پرسن سٹینڈنگ کمیٹی بنایا ہے،مجھے خان صاحب نے کہا تھا کہ میرے پاس ٹیکسٹ ہیں خان صاحب کے، الیکشن سے ہفتہ پہلے کہ اسلئے پنجاب اسمبلی میں بھیجا کہ جا کر کام کرو، پھر یوں ہوا کہ 23، 24 آزاد امیدواروں کو منسٹری دینی پڑی،
تین بار ہمارے نام آئے ،پھر خان صاحب کو میں نے خط لکھا مجھے سٹیڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا، سرکاری گاڑی مجھے ملی،میں ساروں کے ساتھ کام کر رہی ہوں، آپ کو پتہ ہی کچھ نہیں ہے، میں آفیشیلی تمام نوٹفکیشن میں میرا نام ہے،یہ تو بعد میں منتیں کر کر کے آ گئے ، ہم لوگ تو آفیشیل ہیں، سی ایم کو کچھ نہیں پتہ،سارا کام راجہ جہانگیر کرتا ہے،ڈی جی پی آر سارا اسکا میڈیا سنبھالتا ہے، یہ سارا پتہ ہے. آج کے وقت نوٹفکیشن کی کیا ویلیو ہے، کوئی ویلیو نہیں ہے،کیا ہو گیا ہے تم لوگوں کو
واحد خاتون جو پی ڈی ایم اے کے ساتھ کام کر رہی ہے،ایک کمشنر کو سی ایم آفس سے ڈائریکٹو گیا ہے،وہاں سے ڈائریکشن گئی اور پی ڈی ایم اے نے لیٹر نکالے،میں نیشنل لیول پر کام کر رہی ہون،جب نوٹفکیشن ہوا تو راجہ بشارت نے کہا کہ یہ غیر قانونی ہے یہ کورٹ میں چینلج ہو سکتا ہے،اس نے لوگوں کو یہ نہیں بتانا کہ میں اپنی منسٹری کیسے چلا رہا ہون، میں کشمیر کمیٹی کی ممبر ہوں، بورڈ آف ریونیو کی ممبر ہوں، میں اسوقت جو کام کر رہی ہوں کوئی ایم پی اسوقت کام نہیں کر رہا .
خود ہی پہنچ گئی ہو گی سیالکوٹ کی ہے ناں،یہ سارہ احمد ہے ناں چائلڈ پروٹیکشن والی تمہاری فیورٹ ہے ،سی ایم کا وزٹ تھا چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں،تو اسلئے ساتھ چلی گئی ہو گی ویسے کرنا نہیں چاہئے،جتنے منہ اتنی باتیں ہوتی ہیں پھر آپ کو پتہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تو جو کچھ ہوتا ہے،اس پر پھر کوئی چیز رکتی تھوڑی ہی ہے، تھوڑی احتیاط کرنی چاہئے،ہم لوگوں کو بھی بڑا کیئر فل ہونا پڑتا ہے اگر خان صاحب کے ساتھ جاتے ہیں کہیں
میں نے دیکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو بچا کے رکھو بس ، یہی تو مسئلہ ہے کہ سارا ،کوئی چیز چھپتی ہی نہیں،اگر ایک کو کچھ دے رہے ہیں تو باقی سوال کریں گے ،اگر جانا تھا سی ایم نے وزٹ کرنی تھی تو اپنی گاڑی پر جاتی اور سی ایم کو ریسیو کر لیتی لیکن پیلی کاپٹر پر ساتھ بٹھا کر لے کر جانا اس پر بڑے غلط میسج ہو رہے ہیں، اور ہیلی کاپٹر تو ایسی چیز ہے کہ آپ خود تو اس میں چھلانگ لگا کر نہیں بیٹھ سکتے،
جو اس نے کرنا ہے کرنے دو، ظاہر ہے میڈیا میں بات نکلتی ہے تو پھر خود ہی ڈیل کریں اسے، ہم کیا کریں، بشریٰ بیگم کا کہنا تھا کہ خان کو میں نے کہا کہ پبلکلی نہیں آؤں گی ،لیکن پیچھے سے سب کروں گی،میں نے پوچھا خان سے کیسی جا رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ تو شکل دیکھ کر اندازہ لگا لیا کرو کہ میں سارا دن کن پرابلم سے گزرا ہوں، وہ مؤکل ہے اسکو پتہ تو لگ جاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے،موکل میں جن ہوتا ہے، سب نے زرداری، نواز شریف نے رکھے ہوئے تھے اور انہیں جان کا خطرہ تھا، ان ساروں کو پتہ ہوتا ہے کہ انکے اردگرد کتنی منافقت چل رہی ہے ،دشمن ہیں ان کے اسلئے یہ سارے ایسا کرتے تھے
بشریٰ بی بی پرانے جاننے والوں کو نواز دیتی ہیں جبکہ نئے آنے والوں کو داخلہ بند ہے، خان صاحب جب گھر پہنچ جاتے ہیں تو ایک وقت کے بعد ان سے کوئی نہیں مل پاتا، پابندی لگا دی جاتی ہے
قبل ازیں پاکستان کے ایک معروف اینکر منصور علی خان نے دعویٰ کیا تھا کہ بہت جلد ایک آڈیو کال لیک ہونے والی ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے منصور علی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی آڈیو کال ریکارڈنگ بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے، یہ آڈیو کال پی ٹی آئی حکومت کیلئے بہت ہی شرمندگی کا باعث ہوگی۔ اس حوالے سے تفصیلات بہت جلد سامنے آجائیں گی.