باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی
سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی جانب سے اس کیس میں پیش ہو رہا ہوں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ
کیس شروع کرنے سے قبل کہونگا کہ سماجی فاصلے کو قائم رکھے۔ جو لوگ جڑ کر بیٹھے ہیں ان سے کہونگا کہ فاصلہ قائم رکھیں۔
فروغ نسیم نے کہا کہ میں وفاق اورشھزاد اکبر کی عدالت میں نمائندگی کروں گا۔ میرے حوالے سے عرفان قادر میرا وکیل اس کیس میں ھوگا۔
درخواست گزارکے وکیل منیر ملک نےفروغ نسیم کی پیش ہونے پر اعتراض کردیا۔ منیر اے ملک نے کہا ہے کہ فروغ نسیم کا پیش ہونا قوائد و ضوابط کے خلاف ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ سے کہوں گا اعتراض نہ اٹھائیں اور کیس کو آگے بڑھنے دیں, موسم گرما کی تعطیلات بھی شروع ہونیوالی ہیں, ہم کیس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں, منیر اے ملک نے کہا کہ میں نے تحریری طور پر عدالت کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا ہے,
تمام اعتراضات آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے قوائد کے مطابق ہیں,عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا عدالت خود اعتراضات دیکھ لے,
فروغ نسیم نے کہا کہ میرے اوپر جو اعتراضات اٹھائے گئے انکی کوئی خاص اہمیت نہیں ،رشید احمد کیس میں اس سے متعلق وضاحت ہوچکی ہے
فروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نےابھی تک لندن میں جائیدادوں کی منی ٹریل نہیں دی،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اب تک لندن جائیدادوں کے ذرائع آمدن بتانے سے قاصر ہیں،جج ایک بہت معزز شخصیت ہوتی ہے جسے شکوک وشبہات سے بالا ہونا چاہیے ،ججز کوڈ آف کنڈکٹ شفافیت کا متقاضی ہے،
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ کیسے علم ہوا کہ لندن میں جائیدادیں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ہیں؟ فروغ نسیم نے کہا کہ جائیدادیں فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کی ہیں، اس کیس میں بار ثبوت حکومت پر نہیں معزز جج پر ہے،
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر جائیدادیں اہلیہ اور بچوں کی ہیں، جو ٹیکس بھی دیتے ہیں تو جج سے سوال کیسا؟ کیا بطور جج مجھے ہر بار بچوں کے اثاثوں کا بھی بتانا ہوگا؟
جسٹس فائز عیسیٰ پر صدارتی ریفرنس اور اسکےخلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی
انا للہ و انا الیہ راجعون، کرونا کو شکست دینے کے بعد رکن قومی اسمبلی چل بسے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، اراکین اسمبلی بھی کرونا کا شکار ہو رہے ہیں تا ہم اب خبر آئی ہے کہ رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے
منیر اورکزئی کی نماز جنازہ اور تدفین مندوری لوئر کرم میں کی جائے گی،منیر اورکزئی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے تھے
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے منیر اوکرزئی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے،بھتیجے عرفان اللہ نے منیر اورکزئی کے انتقال کی تصدیق کردی
منیر اورکزئی جمعیت علماء اسلام ف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے اور این اے 45 سے رکن اسمبلی تھے، انہیں کرونا ہوا تھا تا ہم انہوں نے کرونا کو شکست دے دی تھی اور وہ صحتیاب ہو گئے تھے
منیر اورکزئی کی نماز جنازہ آج سہہ پہر 3 بجے آبائی گاؤں مندوری ضلع کرم میں ادا کی جائے گی
گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی رکن اسمبلی منیراورکزئی کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ نشست پر گرگئے، جس کے بعد منیر اورکزئی کوابتدائی چیک اپ کے بعد ایمبولینس کے ذریعے پولی کلینک ہسپتال منتقل کردیاگیا تھا ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں78 اموات ہوئی ہیں جبکہ 3938 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں اموات کی مجموعی تعداد 1621 ہو گئی ہے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد 76 ہزار 398 ہو گئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 938 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 27 ہزار 850، سندھ میں 29 ہزار 647، خیبر پختونخوا میں 10 ہزار 485، بلوچستان میں 4 ہزار 514، گلگت بلتستان میں 738، اسلام آباد میں 2 ہزار 893 جبکہ آزاد کشمیر میں 271 مریض ہیں
پاکستان میں اب تک 5 لاکھ 77 ہزار 974 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 16 ہزار 548 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 27 ہزار 110 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 78 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار 621 ہوگئی۔ سندھ میں 503، پنجاب میں 540، خیبر پختونخوا میں 482، گلگت بلتستان میں 11، بلوچستان میں 49 اور اسلام آباد میں 30 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کل رات سے مجھے میسج آ رہے ہیں اور یوٹیوب کے لنک بھیجے جا رہے ہیں کہ پالپا مبشر لقمان کو جواب دے رہی ہے ، ایک ریٹائرڈ صاحب تھے انہوں نے دعوے کئے اور کہا کہ مبشر لقمان نے یہ غلط غلط کیا، میں تو انکو جانتا ہی نہیں، کل سے چار پانچ پائلٹ نے بھیجا اور 18 گھنٹے میں صرف 52 ویوز تھے، افسوس کی بات ہے کہ کوئی آپ کو سننا نہیں چاہتا اور اگر آپ نے سنوانا ہے تو اس پلیٹ فارم پر آئیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں جو باتیں کر رہا ہوں وہ پوری ایوی ایشن کی بہتری کے لئے کر رہا ہوں،کسی فرد واحد کے نقصان کے لئے نہیں ہیں، میرے سوالوں کے جواب اس میں نہیں دیئے میں ابھی بھی ثابت کر سکتا ہوں کراچی میں طیارہ جو گرا کرمنل نیکلجنس کی وجہ سے گرا،اسکی جب ایئر بس کی رپورٹ آئے گی تو ایئر بس والے بتائیں گے اور بعد میں ویسے ہی پتہ چل جائے گا کہ کیا ہوا تھا،ہو سکتا ہے کوئی پرندہ ٹکرا گیا، مشین کا پرابلم ہو، جب تفصیلی رپورٹ آئے گی اس میں سب سامنے آئے گا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے کہا کہ پہلے آپ اے ٹی سی تھے پھر پی آئی اے میں آ گئے یہی تو میں رونا رو رہا ہوں، وٹے سٹے کی شادیاں ہو رہی ہیں ، سول ایوی ایشن والا پی آئی اے میں اور پی آئی اے والا سول ایوی ایشن میں، آپ ایک نقطے پر بیٹھے ہیں، پہلے یہ پتہ کر لو میں کس جہاز کی بات کر رہا ہوں، ہر جہاز کی الگ بات ہے، ان چکروں میں پڑنے کی بجائے جواب دیں کہ سول ایوی ایشن میں کونسا ڈی جی ہے جس نے دو سال پورے کئے، کون کون پالپا کی سیاست کا شکار نہیں ہوا؟ یونین بازی نے ہماری سول ایوی ایشن اور ایئر لائن کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک صاحب مجھے فون کر رہے ہیں کہ پائلٹ کے لئے ایم اے ہونا ضروری نہیں میں کب کہہ رہا ہوں کہ وہ ایم اے ہو،میری طرف سے وہ میٹرک ہو،اگر اسکی فلائنگ سکلز ، لائسنس اور چیکس صحیح ہوں تو چلے گا، لیجن جب ڈگریاں جعلی ہوں، لائسنس پر سوالیہ نشان ہو تو کریکٹر پر بات آتی ہے، ایسے لوگوں کو فلائنگ کرنی چاہئے، وہ ایمپلائیز جو 15 ہزار مہینہ لے رہے کیا وہ لینڈنگ گیر پر کام نہیں کر رہے، انکی ریٹنگز کیا ہیں، انہوں نے ریٹنگز کس سال لیں وہ جائز ہیں؟ ڈاکٹر عنیزہ نے جن پائلٹ کو ریفیوز کیا تھا جس میں سجاد گل بھی شامل تھا ان لوگوں کو دوبارہ کس نے کلیئرنس دی، آپ کے اپنے سائیکالوجسٹ نے یہ بات کی تھی، ان کی لسٹ بنائیں جو لوگ اب بھی فلائی کر رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ موجودہ جو پالپا کا صدر ہے اس کا اپنا لائسنس کلیئر ہے کیا اس کے لائسنس پر سوالیہ نشان نہیں ہے،سوال یہ ہے کہ ہر باری پائلٹ کو پالپا بچا لیتی ہے اور لوگوں سے زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کی، جس عورت نے گلگت میں لینڈنگ کی کیا وہ اب فلائی نہیں کر رہی، جن پائلت کی لسٹ دکھائی ہے اس میں ایک بنیادی سوال کا جواب دینا بھول گئے تھے، 15 مہینے پر سول ایوی ایشن نے ایکشن نہیں لیا، انکو پیسے دیئے جا رہے ہیں، وہ کس کھاتے میں ہیں، اگر غلط ہیں تو فارغ کریں اگر کوئی ڈاکو منٹ دے دیتا ہے تو اسکو کلیر کریں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ پالپا میں دیگر ایئر لائنز کے پائلٹ کیوں نہیں آتے، ایئر بلیو، شاہین ایئر لائن ، سرین کے کیوں نہیں آتے،کسی اور ایئر لائن کے کیوں نہیں آتے، کروڑوںروپے انسٹی ٹیوٹ کے لئے گرانٹ لی وہ کہاں کھڑا ہے، ایک دن بھی نہیں چل سکا وہ پیسہ کس کے جیبوں میں گیا،سوال یہ ہے کہ سول ایوی ایشن میں پیسے دے کر کام نہیں ہو رہے، پیسے دے کر 4 مہینے میں رن ویز ریپئر کر لئے جو خراب ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ کتنے پائلٹ ایسے ہیں جو سپیشلی پیپلز پارٹی کے دور میں جو 95 کا بیج ہے اس پر کتنے پائلٹ نے پیسے دے دے کر لائسنسن پر مہریں لگوائیں انکا جواب ہے، نہیں ،یہی میں کہہ رہا ہوں،آپ کا سارا سسٹم تتر بتر ہوا ہے، اکھاڑ بچھاڑ کرنی ہو گی، پی آئی اے میں اتنے گھپلے ہیں کہ شیڈولنگ والے پیسے نہین لیتے، ساری دنیا کو پتہ ہے،ہائلٹ سے پیسے لیتے ہین کہ کس کے ساتھ شیڈول کرنا ہے، کیا ٹریننگ میں پیسے نہیں بنائے جا رہے، کیا کیبن کرو والے پیسے نہیں دیتے باہر جانے کے لئے ، کونسا کیبن کرو ہے جو میرے سامنے بیٹھ کر بات کرے کہ میں باہر گیا ہوں اور میں نے پیسے نہیں دییے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب رشوت پر آ جائے تو میرٹ مر گیا، اگر جواب دینا ہے تو میرا یو ٹیوب چینل حاضر ہے، ہمت ہے پالپا والوں میں جو مجھے میسج کرتے ہیں ،کتنے سو لوگ مر گئے ہیں اس پر کوئی سائڈ لینی ہے تمہاری، پڑھے لکھے معاشرے میں کیا ہوتا ہے،سوال یہ ہے کہ 20 فیصد ایئر لائن دنیا کی ان کے پاس جتنے جہاز ہیں ، 80 فیصد کے پاس کتنے جہاز ہیں اور ان میں کتنے کریش ہیں اور اس میں موسم یا مشین کی خرابی کتنی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن کے لوگ دبے رہتے ہیں اور امپورٹ ہو کر لوگ آتے ہیں تو وہ کام نہیں کر سکتے،لاہور کے رن وے کو پچھلے 3 سال سے ری پیر ہی نہیں کیا گیا کتنے جہازوں کے ٹائر پھٹتے ہیں یہاں پر،کھڈے بنے ہوئے ہیں، پالپا والے لینڈ کر کے دیکھیں اور مجھے بتائیں، وہاں کتنے پرندے ہیں اور کتنی مشکل ہوتی ہے، مجھے بتائیں انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی اپروچز کتنی غلط ہیں اور کتنی خوفناک ہو گئی ہیں ہاؤسنگ سوسائٹیز کی وجہ سے، پرندوں کی وجہ سے ، کوڑے کی وجہ سے، مجھے بتائیں کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کا ڈیزائن صحیج ہے، اسکی کنسٹرکشن صحیح ہے پھر مجھے جواب دیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پائلٹ ٹریینگ کیسے کرواتے ہیں، شیڈولنگ کیسے کرواتے ہیں جس کو شک ہو میرے ساتھ بیٹھے، سوال یہ ہے پالپا کہ میں آپ سے سوال کر رہا ہوں کہ مجھے کل سے آفس وغیرہ سے میسج آ رہے ہیں کہ ہمیں بولنا نہیں چاہئے، نہیں بولتے ، تو پہلے د ن سے آپ کیوں بول رہے ہو، ہمیں کہتے ہو تحقیقات کا انتظار کرو اور خود بول رہے ہو کہ برڈ ایرر نہیں ہے جب خود بول رہے ہو تو مجھے کس طرح روک سکتے ہو، وہی فیلڈ ہو گی، یہاں میں حاضر ہوں اور میرے سوالوں کا جواب دیں، میں آپ کے سوالوں کا جواب دیتا ہوں یہ پاکستانیوں کی زندگیوں کا سوال ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پالپا سے زیادہ ضروری پاکستانی شہریوں کی زندگی ہے،مزید جانوں کو ضائع ہونے سے بچائیں، انٹرنیشنل سٹینڈرد کے مطابق کام کریں، سول ایوی ایشن اتھارٹی ،ایوی ایشن پالیسی کو ری وزٹ کرنا پڑے گا، بائیس یا پچیس ایئر لائنز ہیں جنہوں نے پاکستان آنا ہی بند کر دیا، اسکا کوئی جواب دہ ہے ؟ کس قسم کے جہاز ہم لیز پر لیتے ہین اسکا کوئی جواب دے گا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ بتائیں کہ پائلٹ جو کینیڈا گیا اسکی ریٹنگ تھی یا نہیں میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کہ نہیں تھی، اسکو گرفتار ہونا چاہئے، اسکی حرکت کی وجہ سے پوری ایئر لائن پر پابندی لگ سکتی ہے، کیا ایسا نہیں ہوا، پھر مجھے بتائیں اور اپنا وی لاگ بنائیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سال 200 ارب جلا کر دھواں کر دیتے ہیں، کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ یہ پاگل کون ہیں، یہ پاگل ہمارے ملک میں ہی ہیں، جو ہر سال خوشی خوشی میں کم از کم 200 ارب روپے جلا دیتے ہیں، حیرانی کی بات یہ کہ اس میں صرف امیر ہی نہیں بلکہ غریب سب سے آگے ہوتے ہیں،یہ بالکل ایسے ہے کہ اگرچہ امیر 200 جلاتا ہو گا، متوسط طقبہ 100 سے 150 اور غریب روزانہ چالیس سے پچاس روپے جلاتا ہو گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کئی لوگ تو دن میں تین تین چار چار باربھی رقم جلانے سے باز نہیں آتے، میں کن پیسوں کی بات کر رہا ہوں، امید ہے سمجھ گئے ہوں گے، میں سگریٹ کی بات کر رہا ہوں، سگریٹ کی وجہ سے پاکستان میں سالانہ کم از کم دو سو ارب روپیہ اڑایا جا رہا ہے،پاکستانی سالانہ 80 ارب روپے کے سگریٹ پی جاتے ہیں،اور عوام کو دھواں بیچ کر پاکستان میں سگریٹ کے دو بڑے کارخانے سالانہ کم از کم 17 ارب کا منافع کماتے ہیں، اس سے لوگ اربوں کا منافع کماتے ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے سالانہ 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور پاکستان میں یہ تعداد ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے ،عالمی ادارہ صحت میں 2020 میں تمباکو نوشی کو معذوری کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا،پاکستان میں تمباکو استعمال کرنے والوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تقریبا ہر دوسرا شخص تمباکو استعمال کرتا ہے،اور اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 21 کمپنیوں کے سگریٹ بنانے کے 38 کارخانے موجود ہیں،پاکستان میں تمباکو کا استعمال سگریٹ اور دیگر طریقوں سے بھی کیا جاتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں تمباکو اور سگریٹ بنانے والی کمپنیاں بڑی مافیاز کی شکل اختیار کر چکی ہیں، اور اپنے چھوٹے چھوٹے اقدامات سے حکومتوں کی پالیسیاں ناکام کرتی رہتی ہیں ، عالمی ادارہ صحت اور پاکستانی قوانین دونوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے لیکن سگریٹ پر پابندی صرف قانونی دستاویزات میں ہی کہیں چھپ جاتی ہے۔ سگریٹ کی سمگلنگ اربوںروپے کا دھندہ ہے،یعنی گندہ ہے پر دھندہ ہے،پاکستان کے ہر کونے میں دکانوں اور کھوکھوں میں مختلف برانڈز کے سگریٹ دستیاب ہیں جس میں غیرملکی برانڈ بھی شامل ہیں اور کچھ برانڈ تو مقامی برانڈ سے بھی سستے ہیں ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی طریقے سے بننے والے سگریٹ اور سمگلنگ کی وجہ سے حکومت کو سالانہ 44 ارب کا نقصان ٹیکس کی مد میں اٹھانا پڑتا ہے. حکومت کی طرف سے آئے روز اخبارات میں اشتہارات آئے ہوتے ہیں سگریٹ کی غیر قانونییت کی وجہ سے جو نقصان ہوتا ہے اس رقم سے 2.5 ملین طلبا کو تعلیم دی جا سکتی ہے ،2 لاکھ 50 ہزار گھروںکو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے لیکن سمگلنگ روکنے کے لئے پاکستان میں 13 ادارے کام کر رہے ہیں اور زیادہ تر بے بس ہیں، 25 سے زائد قوانین بھی غیر فعال ہو چکے ہیں، اربوں کا دھندہ کوئی اکیلا شخص نہیں کر سکتا، اگرچہ سگریٹ پینے والوں کی حوصلہ شکنی کے لئے سگریٹ کے پیکٹ پر تصویریں بھی چھاپ دی گئیں اس سے پینے والوں کو فرق نہیں پڑا .
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہر سال ورکشاپس، سیمینار سب ہو رہے ہیں،سگریٹ کی اشتہاری بازی بند کی گئی ، سگریٹ کے پیکٹ پر جبڑے کی تصویر چھاپی گئی اور وارننگ بھی لکھی کی گئی سگریٹ نوشی مضر صحت ہے ، عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کو قابل سزا قرار دیا گیا اور ہر سال اس پر ٹیکس ڈیوٹی بڑھا دی جاتی ہے لیکن تمباکو نوشی والے ٹس سے مس نہیں ہوتے،جانتے بوجھتے ہوئے ہر سال ستر لاکھ افراد دنیا میں سموگنگ کے ذریعے کینسر اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں،ان میں وہ 6 لاکھ بھی شامل ہیں جوا سموکرز نہیں لیکن ا سموکرز کے دھوئیں کے سبب بیماریاں گلے لگا کر بے موت مارے جاتے ہیں ان میں سگریٹ پینے والوںکے خاندان والے اور دوسرے آدمی بھی شامل ہو سکتے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ مہنگے سگریٹ پینے والے جب کنگال ہو جاتے ہیں تو وہ سستے سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں لیکن چھوڑتے نہیں ،انہیں اپنی اور گھر والوں کی صحت کا کوئی خیال نہیں ہوتا،اور جب انگریز برصغیر میں آئے تھے تو سگریٹ کا کاروبار چلا تھا، مختلف کمپنیوں نے مارکیٹ پر قبضہ کرنے کے لئے عوام کو مفت سگریٹ پیش کرنا شروع کی۔ اورجب عادی ہو گئے تو پیسے کمانے شروع کر دیئے یہی نہیں بلکہ سگریٹ کے فوائد بھی بتائے گئے کہ یہ پیٹ کی ہوا کو کم کرتی ہے، درد کو ٹھیک کرتی ہے،لیکن در حقیقت یہ انسان کی عمر کو کم کر دیتی ہے ، اب انسان اربوں روپے شوق شوق میں پھونک دیتے ہیں اور بدلے میں بیماریاں خرید لیتے ہیں،اور وقت سے پہلے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ لوگ جو تمباکو نوشی کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے پتہ ہونا چاہئے کہ سگریٹ نوشی سے داخل ہونے والے مہلک کیمیائی مادوں کی تعداد 7 ہزار ہے، ان میں سے ایک اتنا مضر صحت ہے کہ یہ خون کو جلا دیتا ہے، نیل پالش ریمور میں استعمال ہونے والا ایسیٹون ،صفائی کی مختلف محلول میں استعمال ہونے والا امونیا ،کیڑے مار ادویات میں استعمال ہونے والا کیمیکل آرسینیک ،مردہ اجسام کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والا فارمل ڈی ہائٹ ،بیٹریوں میں استعمال ہونے والی انتہائی خطرناک دھات، کیڈمیم ،سائنائیڈ، ایک زہریلا تار جو مختلف کیمیکلز سے بنا ہوتا ہے اور اس کا 70 فیصد حصہ سگریٹ پینے والے کے پھیپھڑوں میں رہ جاتا ہے اور پھیپھڑوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے،کاربن مونو آکسائیڈ سانس لینے کے عمل کو مشکل بناتی ہے۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سگریٹ نوش افراد کے خون کے نمونوں میں یہ مضر گیس وافر مقدار میں پائی گئی ہے۔ نکوٹین تمباکو کی تقریباً تمام اقسام مثلاً سگریٹ، پائپ اور سگار میں شامل ہوتی ہے جو براہِ راست دماغ کو متاثر کرتی ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں کے اندر اتنے مادے جاتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا،اب دنیا کو عالمی وبا کا سامنا ہے یہ وقت زیادہ سگریٹ پینے کا نہیں بلکہ کم اور ختم کرنے کا وقت ہے،کیونکہ تمباکو کرنے والے کو انفیکشن ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، انفلوئیزا کا انفیکشن عام بندے کی نسبت 36 فیصد زیادہ ہوتا ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ استعمال کرنے والے افراد میں مرض میں مبتلا ہونے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں، سگریٹ آسانی سے دستیاب ہے، سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی چیز ہے، اسلئے فیصلہ آپ نے کرنا ہے،اربوں روپیہ استعمال کر کے دھویں میں اڑا دینے اور قبل از وقت موت آجاتی ہے بیماریوں کی وجہ سے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں حکومت کی نالائقی اور ایک مافیا کی مضبوطی کے بارے میں بتاتا ہوں،حکومت کی نالائقی یہ ہے کہ بچوں کو فروخت نہیں روک سکتے اور اس پر کوئی واضح طور پر پالیسی نہیں بنا سکے، بچوں کو جو 18 سال سے کم عمر ہیں انکو جو تمباکو فروخت کرتے ہیں انکو کتنی سزا ہونی چاہئے ابھی تک واضح نہیں ہو سکا، 6 سال پہلے لندن میں تھا تو میں نے بیٹی کو کہا کہ دکان سے لیٹر آؤ، دکان والی باہر آئی اور اس نے کہا کہ ہم بچوں کو لیٹر یا سگریٹ نہیں بیچتے وہاں پر سخت ہیں، پاکستان میں شیشہ پینے کا رجحان بھی ہے، شیشہ پینے سے لوگ سگریٹ پینا کم ہو گئے تھے، مافیا نے شیشہ پر پابندی لگوا دی حالانکہ حقہ ہماری ٹریڈیشنل چیز ہے، مافیا کو دیکھیں اور حکومت کی نالائقی دیکھیں ، اب آپ کا فیصلہ کیا ہو گا
قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاؤن بارے اہم فیصلے
باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس میں ہفتے میں دو دن مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کورونا وائرس کے پیش نظر اہم فیصلوں پر غور کیا گیا اور صوبوں کی تجاویز کی روشنی میں اہم فیصلے کئے گئے۔
قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں ہفتے میں دو دن مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہفتہ اور اتوار مکمل لاک ڈاؤن رہے گا تاہم 5 دن کاروبار کی اجازت ہو گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کاروباری مراکز شام 7 بجے تک کھل سکیں گے جبکہ وزارت ریلوے 40 ٹرینیں چلا سکے گی۔ وزیراعظم نے قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں ہونے والے ان اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔
اس کے علاوہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کا عمل بھی تیز کرنے کا بھی فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلا تاخیر اوورسیز پاکستانیوں کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 72 ہزار 460 تک پہنچ گئی ہے اور 1543 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز ایک لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ اور جون میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آسکتے ہیں۔
معاون خصوصی برائے صحت ظفرمرزا نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید اضافہ ہوگا اور اموات بھی بڑھیں گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنا استعفی وزیر اعظم کو بھیج دیا۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم نے وزارت سے استعفی دے دیا ہے ۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنا استعفی وزیراعظم عمران خان کو بھجوا دیا ۔ فروغ نسیم جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس کیس میں وفاق کی نمائندگی کریں گے
فروغ نسیم کل سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں وفاق کی نمائندگی کریں گے
اس سے قبل فروغ نسیم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیس میں بھی استعفیٰ دے دیا تھا، بعد ازاں انہیں دوبادہ وزیر بنا دیا گیا تھا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا کے 60 مریض جان کی بازی ہار گئے جبکہ 2964 نئے مریض سامنے آئے
کرونا کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2964 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 26 ہزار 240، سندھ میں 28 ہزار 245، خیبر پختونخوا میں 10 ہزار 27، بلوچستان میں 4 ہزار 393، گلگت بلتستان میں 711، اسلام آباد میں 2 ہزار 589 جبکہ آزاد کشمیر میں 255 مریض ہیں
پاکستان میں اب تک 5 لاکھ 61 ہزار 136 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 14 ہزار 398 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 26 ہزار 83 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 60 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار 543 ہوگئی۔ سندھ میں 481، پنجاب میں 497، خیبر پختونخوا میں 473، گلگت بلتستان میں 11، بلوچستان میں 47 اور اسلام آباد میں 28 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں.
نئی دہلی: :بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کےدو اہلکاروں پرتشدد،24 گھنٹےمیں ملک چھوڑنےکا حکم،اطلاعات کے مطابق بھارت نے سفارتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دیں، نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم، دونوں پاکستانیوں کو 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی۔
دفتر خارجہ نے پاکستان کی سفارتی اہلکاروں کو ہندوستان سے نکالے جانے کے بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بھارتی اقدام میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کا حصہ ہے۔
عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں پاکستانی اہلکاروں کو جھوٹے الزامات پر اٹھایا گیا، الزامات قبول کرانے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔ بعد ازاں پاکستانی ہائی کمیشن کی مداخلت پر ان اہلکاروں کو چھوڑا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اقدام قابل مذمت، ویانا کنونشن اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے عالمی قوانین اور سفارتی آداب کے تحت ہر کام کی۔
عائشہ فاروقی نے کہا کہ بھارتی اقدام پاکستانی ہائی کمیشن کی سفارتی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ہے۔ بھارت ان اقدامات سے اندرونی اور بیرونی مسائل سے توجہ نہیں ہٹا سکتا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں خلاف ورزیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتا ہے۔
کوئٹہ:کوئٹہ شہر میں زوردار دھماکے کی اواز سنی گئی دھماکے کی آواز زرغون روڈ اور ڈبل روڈ کی طرف سے آئی ہے ۔ذرائع،باغی ٹی وی کے مطابق بلوچستان کے مرکزی شہرکوئٹہ سےپھرپریشان کردینے والی خبرآگئی ہے ، یہ خبرزورداردھماکے کی ہے ابھی تفصیلات کا انتظارکیا جارہا ہے
باغی ٹی وی کے مطابقکوئٹہ شہر میں زوردار دھماکے کی اواز سنی گئی دھماکے کی آواز زرغون روڈ اور ڈبل روڈ کی طرف سے آئی ہے ۔پولیس اورسیکورٹی حکام نے علاقے کو گھیرےمیں لے لیا ہے اورعلاقے کے تمام راستوں کو سیل کردیا ہے،اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ اس دھماکے کی آوازاتنی شدید تھی کہ مکانوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے
یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی کئی مربتہ اسی علاقے میں بم دھماکے ہوچکے ہیں ، پولیس اورسیکورٹی اداروں کی قابلیت پرسوال اٹھ رہا ہے کہ وہ اس علاقے کی سیکورٹی اورریکی کرنے میں اتنے فعال دکھائی نہیں دیتے جتنے ہونے چاہیں تھیں