علی زیدی عدالت پہنچ گئے ، ایسا مطالبہ کر دیا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور عدالت پہنچ گئے،لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ اور نثارمورائی کی جے آئی ٹی پبلک نہ کرنے کے معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔
وفاقی وزیر علی زیدی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے جنوری میں تینوں اہم جے آئی ٹیز پبلک کرنے کا حکم دیا تھا، عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،
درخؤاست میں مزید کہا گیا کہ سانحہ بلدیہ میں گرفتار ملزمان نے اہم ترین انکشافات کیے تھے، عزیر بلوچ نے دہشتگردی اور دیگروارداتوں میں اہم شخصیات کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔
بعد ازاں وفاقی وزیر علی زیدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ کیا ہے
وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں شامل لوگ ایوان میں بیٹھے ہیں، سب کہہ رہے ہیں طیارہ حادثے کی رپورٹ پبلک کریں، عزیر بلوچ، نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کی جائے، سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ بھی پبلک ہونی چاہیئے۔
وفاقی وزیر علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کیساتھ گزشتہ 2 دہائیوں سے زیادتیاں ہو رہی ہیں، طیارہ حادثہ کے متاثرین جائز مطالبات کر رہے ہیں، چاہتا ہوں تحقیقات 100 فیصد پبلک ہونی چاہئیے،عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں جن کا نام ہے وہ آج بھی ایک پارٹی کے سربراہ ہیں،جے آئی ٹی کے مطابق بلدیہ فیکٹری میں آگ حادثہ نہیں دہشت گردی تھی،بلدیہ فیکٹری آگ کی جے آئی ٹی میں ایسے لوگ ملوث ہیں جو آج بھی سیاست کررہے ہیں،چیف سیکریٹری کو جے آئی ٹی فراہم کرنے کے لیے خط لکھا،آج تک جواب نہیں ملا
واضح رہے کہ رواں برس 28 جنوری کو سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر علی زیدی کی لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، فشریز کے سابق چیئرمین نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ ٹاون کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کی درخواست منظور کرلی تھی.
علی زیدی نے 2 سال قبل رپورٹس منظرعام پر لانے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا تو صوبائی حکومت کے وکلا مسلسل کوشاں رہے کہ درخواست کی سماعت نہ ہو، علی زیدی وزیر بن گئے مگر درخواست کی پیروی کرتے رہے۔ وفاقی وزیرعلی زیدی نے اپنے وکیل بیرسٹر عمر سومرو کے توسط سے موقف اپنایا کہ حقائق جاننا عوام کا حق ہے، ان کا موقف تھا کہ بلدیہ فیکٹری میں 200 سے زائد بے گناہ لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا، جے آئی ٹی نے حقائق اکٹھے کرلئے۔
عمر سومرو ایڈوکیٹ نے کہا کہ سندھ حکومت نے سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کے جرائم اور وجوہات جاننے کے لیے وفاقی حکومت سے مدد مانگی، ملزمان کی جے آئی ٹیز میں آئی ایس آئی، ایم آئی، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے نمائندے شامل تھے، جے آئی ٹی قتل وغارت گری کی وجوہات پتا لگا لیا تو حکومت چھپا رہی ہے،بلدیہ فیکٹری میں 2 سو سے زائد افراد زندہ جلا کرراکھ کردیا گیا،
دنیا بھر کے میڈیا سے واقعہ کو رپورٹ کیا، لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ نے لیاری کو وار زون بنایا ہواتھا،
وکیل علی زیدی نے عدالت میں کہا کہ کراچی میں ہونے والی قتل غارت گری میں پولیس اور سرکاری افسران بھی ملوث رہے، اب وہ پولیس اہلکار اور افسران ترقی کرچکے ہیں اور اہم عہدوں پر تعینات ہیں ،چیف سیکریٹری سندھ ان افسران کو بچانا چاہتے ہین، علی زیدی نے عوام میں سے ہیں، جب درخواست دائر کی اس وقت تو انتخابات میں امیدوار بھی نہیں تھے،علی زیدی آجکل وفاقی وزیر اور معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، عمر سومرو ایڈووکیٹ
وکیل بیرسٹر عمر سومرو نے کہا عزیر بلوچ نے لیاری کو وار زون میں تبدیل کئے رکھا، ذمہ داروں کے نام بھی اگلے ہیں جبکہ نثار مورائی جے آئی ٹی کے سامنے بھتہ خوری، لیاری گینگ وار کے کارندوں کو نوکریاں دینے اسلحہ فراہم کرنے کا اعتراف کرچکا ہے، لہذا ان تمام حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ عدالت نے 2 سال بعد درخواست منظور کر لی تھی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 57 اموات ہوئی ہیں جبکہ 2636 نئے مریض سامنے آئے ہیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2636 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 22 ہزار 964، سندھ میں 25 ہزار 309، خیبر پختونخوا میں 8 ہزار 842، بلوچستان میں 3 ہزار 928، گلگت بلتستان میں 658، اسلام آباد میں 2 ہزار 100 جبکہ آزاد کشمیر میں 227 مریض ہیں
پاکستان میں اب تک 5 لاکھ 20 ہزار 17 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 ہزار 931 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 22 ہزار 305 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں . اب تک 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے، ان ہسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے
پاکستان میں کرونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 57 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد پاکستان میں اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار 317 ہوگئی ہے،
نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری، آصف زرداری کو ملی خوشخبری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت ہوئی
نیب نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرنے کی استدعا کی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو سمن رہائش گاہوں پر وصول کروائے،نواز شریف، آصف زرداری کے وارنٹ جاری کیے جائیں،
عدالت میں آصف زرداری کی جانب سے حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی،وکیل کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری علیل ہیں ،حاضری سےاستثنیٰ دیا جائے،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کی گئی
سردار مظفر کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کو عدالتی سمن کی تعمیل کروا چکے ہیں،سمن کی تعمیل کے باوجود ملزم عدالت سے غیر حاضر ہے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیےجائیں
عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے،آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکر لی گئی
احتساب عدالت نے کیس کی سماعت11جون تک ملتوی کردی
عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پرآصف علی زرداری حاضری یقینی بنائیں،نوٹس وصول ہونےکےباوجودنوازشریف پیش نہیں ہوئے،
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں،بطور اسپیکر اور وزیراعظم ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا،
عدالت نے یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرنے کی استدعا مسترد کر دی.
توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کے دوران نیب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں، آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد ادائیگی کی، اور اس کی رقم جعلی اکاونٹس کے ذریعے ادا کی گئی۔
نیب کے مطابق آصف زرداری کو بطور صدر، لیبیا اور یو اے ای سے بھی گاڑیاں تحفے میں ملیں، آصف زرداری نے گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔
نیب کی جانب سے نواز شریف کے حوالہ سے عدالت کو بتایا گیا کہ سال 2008 میں وہ کسی بھی سرکاری عہدے پر نہیں تھے، اس کے باوجود نوازشریف کو بغیر کوئی درخواست دیئے توشہ خانے سے سرکاری گاڑی مہیا کی گئی۔
واضح رہے کہ رواں برس ماہ جنوی میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں سابق صدرآصف زرداری،نوازشریف،یوسف رضا گیلانی کےخلاف بدعنوانی ریفرنس کی منظوری دی گئی تھی
ملزمان پرتوشہ خانہ سےتحائف کی گاڑیاں اونےپونےداموں تقسیم کرنےکاالزام ہے،توشہ خانہ کی گاڑیوں سے متعلق نواز شریف اوریوسف رضا گیلانی سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے،
واضح رہے کہ نیب توشہ خانہ کیس میں تحفوں کے ذاتی استعمال سے متعلق تحقیقات کررہا ہے ،اس حوالہ سے نیب نے نواز شریف سے جیل میں بھی تحقیقات کی تھییں اور اس کے لئے عدالت سے اجازت لی تھی،.
تفتیشی افسر راحیل اعظم ڈپٹی ڈائریکٹرنیب نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ نوازشریف سے بطورملزم تفتیش کی اجازت دی جائے،گاڑی 1997 میں سعودی عرب نے وزیراعظم پاکستان کو تحفے میں دی تھی ، مرسڈیزبینز یوسف رضاگیلانی نے غیر قانونی طورپر2008میں نوازشریف کو دی جیل میں نوازشریف سےتفتیش کی اجازت دی جائے .نیب نے جیل میں نواز شریف سے تحقیقات کی تھی.
پی آئی اے میں کتنے نااہل کپتان ہیں؟ مبشر لقمان اہم دستاویزات سامنے لے آئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے انکشاف کیا ہے کہ پی آئی اے میں تقریبا 17 پائلٹ ایسے ہیں جن کے لائسنس پر سوالیہ نشان ہے، ڈیڑھ سال ہو گیا، سول ایوی ایشن نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا، لگتا ہے سول ایوی ایشن نے اس انڈسٹری کو تباہ کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں تقریبا 17 پائلٹ ،جن کے لائسنس پر سوالیہ نشان ہے کہ انکا لائسنس غلط ہے، یہ کینسل ہونا چاہئے ،ڈیڑھ سال ہو گیا سول ایوی ایشن نے ان لوگوں پر ایکشن نہیں لیا،اور خاموشی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کون کون ہیں شیر، شیر بہادر،پالپا میں جو میرے دوست ہیں وہ میری بات سے ناراض ہوں گے،پالپا والے بھی جاتے ہیں اور بچا کر لے آتے ہیں کیونکہ پیٹی بھائی ہیں، ہمارے ہاں برادری میں رشتہ ہوتا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیٹی بھائی ایسوسی ایشن مجھے نہ ریسکیو کرے جب میں نے انہیں ووٹ دیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیپٹن باسط ،بلال چغتائی،عابد حمزہ،وسیم اختر،عامر ملک،عاطف منیر، یحییٰ سندیلا، محسن علی، عمر اسلام، اکبر آفریدی، سیف برکی، طلحہ خان، حسین جاوید، سلیم علی، فیصل مرزا، ثقلین اختر انکے لائسنسن پر سوالیہ نشان ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں چار کون ہیں، طلحہ خان ،777 کے فرسٹ آفیسر ہیں، حسین جاوید، 777، سلیم علی بوئبنگ 777، فیصل مرزا، 777 کے ہیں، کئی حادثے ہم کر چکے ہیں ہمیں ٹھنڈ نہیں پڑی، اسی طرح لوگ جاتے رہے اور سول ایوی ایشن ایکشن نہیں لے گی تو خدانخواستیہ 777 کا حادثہ ہو گا، اللہ مجھے غلط ثابت کرے اور کوئی حادثہ نہ ہو لیکن جب ڈیڑھ ڈیڑھ سال ایکشن نہیں لیتے تو سول ایوی ایشن کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے نہ وہ انجیئنر کو دیکھتی ہے، کس طرح کے انکے چیکس ہوتے ہیں میرا منہ نہ کھلوائیں، آپ لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جائیں گے کسی جہاز میں نہیں بیٹھیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایئر لائن کی بات نہیں کر رہا، سب کی بات کر رہا ہوں، ایئر بلیو نے کتنے ایزی چیکس کئے ہوئے ہیں،کیوں یہ پیٹی بھائی ہیں وہ پہلے میرے ساتھ تھے اب وہاں ہیں، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے اور یہ لسٹ سامنے آ گئی ہے، آپ کے اوپر لازم ہے کہ ان کے نام سنیں تو سوال ضرور کریں کہ کیا لائسنس کلیئر ہو گیا ،کیا ان کا لائسنس اصلی ہے، ایسے بھی لوگ ہیں جو سائیکاٹرک کے ٹیسٹ میں فیل ہوئے اور پھر کہیں اور سے جا کر لائسنس لے آئے، کتنی بے حسی کی بات ہے
پاکستان میں سول ایوی ایشن پچھلے 25 سال سے متواتر ایوی ایشن انڈسٹری کو خراب کر رہا ہے اور لگتا ہے انہوں نےا سکا ذمہ اٹھایا ہوا ہے، میرے پاس الفاظ کا چناؤ نہیں میں معذرت خواہ ہوں لیکن مجھے کوئی اور بات سمجھ نہیں آتی، آپ کو آتی ہے تو کمنٹس میں رائے ضرور دیجیے گا.
طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیپٹن سجاد گل کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے،لیکن پی آئی اے کی ایک سائیکا ٹرس تھیں عنیزہ،عنیزہ بی بی نے ریجیکٹ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ڈیوٹی کے لئے فٹ نہیں ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہر قسم کے ٹیسٹ ہوتے تھے، سٹوڈنٹ پائلٹ کے لائسنس کے لئے اپلائی کرتے ہیں اس سے پہلے ٹیسٹ ہوتے ہیں، ہاتھ،آنکھ کا ٹیسٹ ہوتا ہے اور سب سے اہم آپ کا سائیکاٹرک ٹیسٹ ہوتا ہے اس میں دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے کول رہتے ہیں، سائیکاٹرک میں بہت ریسرچ ہو چکی ہے اور اس کی ویلوایشن کو نظر انداز نہیں کر سکتے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اور اہم بات بتاؤں پی آئی اے میں بہت سے پائلٹس ہیں جن کو عنیزہ نے ریجیکٹ کیا تھا، اب جس طرح کیپٹن گل کے بارے میں آیا کہ وہ باہر چلے گئے تھے انگلینڈ میں اور کسی کو کہہ کرا کر ٹیسٹ کروا لیا اور یہاں پر آ کر فلائنگ شروع کر دی، لوگ کہیں سے جاتے ہیں اور لائسنس لے آتے ہیں جب واپس آتے ہیں تو آپ کو لوکل لا جو سول ایوی ایشن کے ہیں صرف وہ پرچہ دینا پڑتا ہے، ورنہ آٹھ پرچے ہیں اور مشکل ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے کئی شاید ناجائز طور پر ہیں ،بحرحال سخت ہیں،جب لوکل ایوی ایشن کا لا کر لیتے ہیں تو پھر اس علاقے میں فلائنگ کرنے کے مجاز ہوتے ہیں. لائسنس بے شک کہیں اور کا ہو، جب پائلٹ آتے ہیں تو لوکل فلائنگ کر لیتے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ڈاکٹر باہر سے آتے ہیں تو انہیں پی ایم ڈی سی میں رجسٹر ہونا پڑتا ہے، اسکا ایک طریقہ ہے اسکے بعد وہ پریکٹس کر سکتے ہیں، اب کیا ہوتا ہے کہ ڈیڑھ سال ہو گیا ہے سول ایوی ایشن کے بارے میں بتا رہا ہوں،پی آئی اے میں تقریبا 17 پائلٹ ،جن کے لائسنس پر سوالیہ نشان ہے کہ انکا لائسنس غلط ہے، یہ کینسل ہونا چاہئے،ڈیڑھ سال ہو گیا سول ایوی ایشن نے ان لوگوں پر ایکشن نہیں لیا،اور خاموشی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کون کون ہیں شیر، شیر بہادر،پالپا میں جو میرے دوست ہیں وہ میری بات سے ناراض ہوں گے،پالپا والے بھی جاتے ہیں اور بچا کر لے آتے ہیں کیونکہ پیٹی بھائی ہیں، ہمارے ہاں برادری میں رشتہ ہوتا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیٹی بھائی ایسوسی ایشن مجھے نہ ریسکیو کرے جب میں نے انہیں ووٹ دیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیپٹن باسط ،بلال چغتائی،عابد حمزہ،وسیم اختر،عامر ملک،عاطف منیر، یحییٰ سندیلا، محسن علی، عمر اسلام، اکبر آفریدی، سیف برکی، طلحہ خان، حسین جاوید، سلیم علی، فیصل مرزا، ثقلین اختر انکے لائسنسن پر سوالیہ نشان ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں چار کون ہیں، طلحہ خان ،777 کے فرسٹ آفیسر ہیں، حسین جاوید، 777، سلیم علی بوئبنگ 777، فیصل مرزا، 777 کے ہیں، کئی حادثے ہم کر چکے ہیں ہمیں ٹھنڈ نہیں پڑی، اسی طرح لوگ جاتے رہے اور سول ایوی ایشن ایکشن نہیں لے گی تو خدانخواستیہ 777 کا حادثہ ہو گا، اللہ مجھے غلط ثابت کرے اور کوئی حادثہ نہ ہو لیکن جب ڈیڑھ ڈیڑھ سال ایکشن نہیں لیتے تو سول ایوی ایشن کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے نہ وہ انجیئنر کو دیکھتی ہے، کس طرح کے انکے چیکس ہوتے ہیں میرا منہ نہ کھلوائیں، آپ لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جائیں گے کسی جہاز میں نہیں بیٹھیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایئر لائن کی بات نہیں کر رہا، سب کی بات کر رہا ہوں، ایئر بلیو نے کتنے ایزی چیکس کئے ہوئے ہیں،کیوں یہ پیٹی بھائی ہیں وہ پہلے میرے ساتھ تھے اب وہاں ہیں، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے اور یہ لسٹ سامنے آ گئی ہے، آپ کے اوپر لازم ہے کہ ان کے نام سنیں تو سوال ضرور کریں کہ کیا لائسنس کلیئر ہو گیا ،کیا ان کا لائسنس اصلی ہے، ایسے بھی لوگ ہیں جو سائیکاٹرک کے ٹیسٹ میں فیل ہوئے اور پھر کہیں اور سے جا کر لائسنس لے آئے، کتنی بے حسی کی بات ہے،
پاکستان میں سول ایوی ایشن پچھلے 25 سال سے متواتر ایوی ایشن انڈسٹری کو خراب کر رہا ہے اور لگتا ہے انہوں نےا سکا ذمہ اٹھایا ہوا ہے، میرے پاس الفاظ کا چناؤ نہیں میں معذرت خواہ ہوں لیکن مجھے کوئی اور بات سمجھ نہیں آتی، آپ کو آتی ہے تو کمنٹس میں رائے ضرور دیجیے گا.
بھارت میں مسلسل لاک ڈاون اور پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث پاکستان میں پھنسے ہوئے 300 کے قریب بھارتی شہریوں کی بھارت واپسی کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئیں۔ بھارتی ہائی کمیشن کی ایک سینئر افسر نے بھارتی شہریوں کی اسی ہفتے واپسی کی نوید سنادی تھی تاہم اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جب کہ ابھی ان شہریوں کی واپسی کی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ترجمان نے جنگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت واپس جانے والے شہری بھارت کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ابھی مختلف شہروں میں لاک ڈاون ختم نہیں کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ جب تیاریاں مکمل ہو جائیں گی تو اس کے بعد پاکستانی دفتر خاجہ کو بھی مطلع کردیا جائے گا جو اپنا پروسیجر 5 ورکنگ دنوں میں مکمل کرنے کے بعد ہائی کمیشن کے حکام کو مطلع کریں گے جس کے بعد بھارتی شہری اپنے وطن روانہ ہو سکیں گے۔
کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی طیارہ حادثہ، دہشت گردی کا واقعہ تو نہیں اس پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر جہاں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کوتاہیوں کو سامنے لایا ہے وہیں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں ایک آزادنہ ایجنسی نے تحقیق شروع کر دی ہے کہ کیا یہ دہشت گردی کا واقعہ تو نہیں تھا. ٹی وی پر جو انٹرویوز آ رہے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں، فرسٹ افسر کا بھائی انٹرویو دے دیتا ہے کہ میرے بھائی کو تو شہادت کا شوق تھا اور وہ شہید ہونا چاہتا تھا اور وہ روزے کی حالت میں تھے، ذمہ داری اپنی پوری کردی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پائلٹ کے والد عجیب سی باتیں بتا رہے ہیں کہ پائلٹ فلائٹ سے قبل آئے اور بیوی کو اور سب کو 5 ، 5 ہزار عیدی دی ، پھر وہ واپس آئے اور اپنی بیوی کو زیادہ عیدی دی،اور وہ نماز ،روزے کے پابند تھے، وہ آدمی عیدیاں دے رہا ہے حالانکہ اس نے عید تک لاہور واپس آ جانا تھا،،یہ جمعہ کا واقعہ ہے اور عید اتوار کو متوقع تھی، ان بھائی صاحب نے اسی فلائٹ کو کراچی سے لاہور روزے سے پہلے واپس لے کر آنا تھا،افطاری سے پہلے اس نے لینڈ کرنا تھا ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کیا ایک اس تحقیق کو کیا جا سکتا ہے کہ پائلٹ کے جو ملنے والے ہیں انکے فون ریکارڈ اور انکے گھر میں لیپ ٹاپ کمپیوٹر کو تحویل میں لیا جاتا اور اس پر تحقیق ہوتی، کیونکہ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے اور سو افراد کی موت ہوتی ہے، آپ زیرو انٹیلی جنس پر چلتے ہیں، تحقیق کرنے لگیں تو کچھ نہیں پتہ، ہر ایک سائیڈ سے اور جو شواہد مل رہے ہوتے ہیں اس کو شامل کر لیتے ہیں، جہاز فضا میں پھٹ گیا، اس میں ایئر ٹریفک و دیگر کیا کہتے ہین، کیا جہاز کا انجن گر گیا؟ ساری بات کو دیکھتے ہیں کہ کیا کیا ہو سکتا ہے لیکن یہاں پر ایک واٹس ایپ گروپس میں اے ٹی سی کی بات چیت پائلٹ کے ساتھ شیئر ہوتی ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن کس قسم کی ایکٹوٹیز میں ملوث ہیں؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے کئی ڈائریکٹر کے کردار پر یا انکے ایس او پیز توڑنے پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوالیہ نشان یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے اسے کیوں نہیں کہا کہ تم کلیئر نہیں ہو، اور پھر اس کو ٹاور کے حوالے کیوں نہیں کیا،جب وہ نیچے آ گیا تھا، کیا اسکو اپنا کام نہیں آتا تھا، کیا وہ اسوقت کچھ اور کر رہا تھا ، کیا اس کو بھی روزہ لگ رہا تھا،تحقیقات جب ہوتی ہیں تو یہ بڑی دردناک بات ہے کہ کسی کو بھی نہیں چھوڑنا چاہئے، کسی کا بھی نام آ رہا ہے، جس کا بھی لنک بنتا ہو اس سے تحقیق ہونی چاہئے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعہ سے جس کا بھی لنک بنتا ہے اس حوالہ سے ہرچیز ڈاکیومنٹ ہوتی ہے اور چارج شیٹ بننا شروع ہو جاتی ہے، کیا پائلٹ پر چارج شیٹ کی گئی،اس نے اے ٹی سی کے احکامات کو نظر انداز کی، کیا اے ٹی سی پر چارج شیٹ بن گی اس نے وائس ریکارڈنگ کو لیک کیا، کیا سول ایوی ایشن کے تمام ڈائریکٹرز اور ڈی جی پر کرمنل چارج ہو گئے کہ انہوں نے اس چیز کا نوٹس نہیں لیا کہ یہ چیز کیسے باہر گئی، یہ کسی اور کے اختیار میں نہیں تھا
واضح رہے کہ 22 مئی کو قومی ائیر لائن کی لاہور سے کراچی جانے والی پرواز ائیرپورٹ سے ملحقہ آبادی پر گر کر تباہی کا شکار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں عملے کے 8 ارکان سمیت 97 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ 2 مسافر زندہ بچ گئے تھے
واضح رہے کہ لاہور سے کراچی جانیوالی خصوصی پرواز پی کے 8303 منزل پر پہنچنے سے ایک منٹ قبل حادثے کا شکار ہو گئی،، پی آئی اے کا طیارہ ائیر بس اے 320 کراچی ائیر پورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا۔
طیارے میں عملے سمیت 99 افراد سوار تھے جاں بحق ہونے والے 97 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے ہیں، پی آئی اے کے طیارے ائیر بس اے 320 نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ائیر پورٹ سے اڑان بھری، اس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے، 2 بج کر 37 منٹ پر کراچی ائیر پورٹ کے رن وے سے متصل آبادی ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں طیارہ گر کر تباہ ہوگیا،
طیارہ گرنے کے واقعہ پر تحقیقات جاری ہیں، وزیراعظم عمران خان نے شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے، فرانس کی 11 رکنی ٹیم بھی پاکستان میں ہے، جو تحقیقات کر رہی ہے.
اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہماری سیریز پی آئی اے کریش پر چل رہی ہے، آج جمعرات ہے اور 28 مئی ہے، کچھ اہم باتیں بتانی ہیں، پی آئی اے کی ایئر بس کے بارے میں جو جو ہوا،اور سب سے بڑھ کر اس میں مزید انکوائری کو فرج کرنے کی کوشش کی جائے.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے پائلٹ کی گفتگو سن لی، اس کی کچھ باتیں سمجھ نہیں نہیں آ رہی، پائلٹ کو آئیڈنٹی فائی کر دیا اے ٹی سی نے کہ یو آر ہاٹ اینڈ ہائی،تو اسکے باوجود پائلٹ کہہ رہا ہے کہ میں نے آنا ہے،اب دنیا کے جتنے اچھے ایئر پورٹس ہیں وہاں پر اگر کوئی پائلٹ اس طرح کی حرکت کرے تو وہ ہائی جیکنگ کے مترادف ہو گا اور اس پائلٹ پر فوری طور پر جو کاروائی شروع ہو گی وہ ہائی جیکنگ کی ہو گی کیونکہ اس نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑی درد والی بات ہے، ایوی ایشن میں قانون ہیں، اور وہ ریلیکس نہیں ہیں، اگر وہ کسی ایک کے لئے ریلیکس ہو جائیں تو بہت زیادہ لوگوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اب ہو کیا رہا ہے، مجھے ایک بار بڑی عجیب لگ رہی ہے، پائلٹ کی وائس ریکارڈنگ کو میں نے بار بار سنا تو اس میں ایک جگہ ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی جب وہ پائلٹ کو کہتا ہے کہ ٹرن لیفٹ زیرو ون اینڈ زیرو اور اسکے بعد کہتا ہے کہ کنفرم اف یو گو ٹو پیلی لائنز، اس وقت ایسی کونسی بات ہوئی تھی کہ اے ٹی سی پائلٹ کو یہ کہہ رہا ہے؟ یا پائلٹ نے اس کو بتایا کہ لینڈنگ گیئر یا سسٹم میں کوئی پرابلم ہو رہی ہے یا کوئی مسئلہ ہے میں نے تو یہ بات ریکارڈنگ میں نہیں سنی، اگر کسی نے سنی ہے تو مجھے بتا دیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ وائس ریکارڈنگ جو نکلی ہے یہ یقین سے تو نہیں سکتا لیکن اس میں مجھے مسنگ لگ رہی ہے، یہ وائس ریکارڈنگ ایڈٹ ہو کر مخصوص مقصد کے لئے نہیں نکلی، تا کہ میں ، آپ اور باقی سب پائلٹ کے اوپر ہی سو فیصد بلیم کریں، بلیم تو بنتا ہے ہائلٹ پر، جب اے ٹی سی کی پہلی وارننگ کو نہیں مانا تو وہ عام الفاظ میں ہائی جیکنگ کا مترادف ہو گیا، کرائم، ریچ آف ایس او پی الفاظ کا چناؤ بہت مشکل ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے ہم سب یہ بات کر رہے تھے کہ شاید طیارے ٹکرائے، انجن فیل ہوئے، یہ متوقع لگ رہی تھیں، لینڈنگ گیئر نہیں کھلا، اس میں کوئی مسئلہ ہوا، اب اے ٹی سی کی ریکارڈنگ ہر گروپ میں آئی، اے ٹی سی کی کی بات چیت کس کے درمیان ہے ایئر ٹریفک کنٹرولر اور پائلٹ کے درمیان ہے، پائلٹ تو آگے چلا گیا، اللہ تعالیٰ اسکے لئے آسانیاں کرے ، دیگر افراد کے لئے بھی لیکن یہاں پر فوری ریکارڈنگ باہر آئی، ایئر ٹریفک کنٹرول سے وائرس ریکارڈنگ نکالی کس نے، کیا وہ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے نکالی، اس کے سپروائیزر نے نکالی، کسی غیر متعلقہ فرد نے نکالی ،کسی نے فون پر ریکارڈ کی، سول ایوی ایشن نے آج تک اس کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا، اور اگر دیا ہے تو اس کا مجھے نہیں پتہ، ہو سکتا ہے کہ اس ویڈیو کے بعد کوئی تحقیق کرنا شروع کر دیں، سول ایوی ایشن نے اس پر کسی کو سسپینڈ نہیں کیا، کسی کو شوکاز نوٹس نہیں کیا، اسکا مطلب ہے کہ سول ایوی ایشن نے قبول کیا کہ نارمل سی بات ہے، ٹاپ سیکرٹ چیز ہے، ان کی تحویل میں ہے وہ نکلتی ہے، موبائل فون پر ایئر ٹریفک اور پائلٹ کی گفتگو سنی جا سکتی ہے، ایسا ہوتا ہے، سائنس ترقی کر گئی ہے لیکن آپ کر تو رہے ہیں اس کو ریکارڈ کرنا اور پھر مطلب کی چیزیں لینا ،سول ایوی ایشن نے تو یہ بھی نہیں کہا کہ ہم نے نہیں لی یا ہم نے ریلیز نہیں کی، سول ایوی ایشن نے اسکی تردید بھی نہیں کی اور مانا بھی نہیں، بس چپ کر کے بیٹھ گئے،سول ایوی ایشن کے ایئر پورٹ کے پاس کریش ہو رہا ہے،انکی ذمہ داری ہے لیکن وہ مسافروں کو نکالنے کے لئے بھی نہیں گئے، ریسکیو کے لئے بھی نہیں گئے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آفرین ہے علاقے کے ان لوگوں پرجو وہاں جمع ہوئے اور کرونا کی پرواہ نہیں کی، انہوں نے لوگوں کو نکالا،اور ریسکیو کا کام کیا، پانی لانا شروع کر دیا، سب کچھ اپنے آپ شروع کیا، پی آئی اے وہاں کب پہنچا،پی آئی اے نے ریسکیو مین ضرور حصہ لیا لیکن کیا ڈی جی سول ایوی ایشن پر یہ ذمہ داری ہے یا کسی اور کے اوپر ہے، کیا ایئر ٹریفک کنٹرولر کی وائس جو تحقیقات کے لئے مین سٹینڈ پوائنٹ بنے گی اسکو لیک کرنے کے لئے اجازت لی گئی، اگر اس پر کوئی شوکاز نہیں ہوا، کوئی ایف آئی آر نہیں کٹی، گرفتار نہیں ہوا تو میں سمجھتا کہ سپیریئر نے اسے اجازت دی ہے اور سپیئریئر کا مطلب یعنی بات جاتی ہے ڈی جی سول ایویشن تک،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عید کی چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں،اور میں تو کورٹ میں جاؤں گا ایک شہری کی حیثیت سے اور ڈی جی سول ایوی ایشن پر کرمنل چارج کروں گا کہ اس نے ایئر کرافٹ کریش کی تحقیقات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور انہوں نے یہ چیز لیک آؤٹ کی، مجھے وائس ایڈٹ لگ رہی ہے،ایک دم سے اسےکنٹرولر کہتا ہے کہ تم نے لینڈنگ نہیں کرنی، اور پائلٹ کہہ رہا ہے کہ نہیں ہم مینج کر لیں گے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری چیز جو خوفناک ہے کہ امریکہ میں ایک آزادنہ ایجنسی نے تحقیق شروع کر دی ہے کہ کیا یہ دہشت گردی کا واقعہ تو نہیں تھا. ٹی وی پر جو انٹرویوز آ رہے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں، فرسٹ افسر کا بھائی انٹرویو دے دیتا ہے کہ میرے بھائی کو تو شہادت کا شوق تھا اور وہ شہید ہونا چاہتا تھا اور وہ روزے کی حالت میں تھے، ذمہ داری اپنی پوری کردی، پائلٹ کے والد عجیب سی باتیں بتا رہے ہیں کہ وہ آئے اور بیوی کو اور سب کو 5 ، 5 ہزار عیدی دی ، پھر وہ واپس آئے اور اپنی بیوی کو زیادہ عیدی دی،اور وہ نماز ،روزے کے پابند تھے، وہ آدمی عیدیاں دے رہا ہے،یہ جمعہ کا واقعہ ہے اور عید اتوار کو متوقع ہے، ان بھائی صاحب نے اسی فلائٹ کو کراچی سے لاہور روزے سے پہلے واپس لے کر آنا تھا،افطاری سے پہلے اس نے لینڈ کرنا تھا ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کیا ایک اس تحقیق کو کیا جا سکتا ہے کہ پائلٹ کے جو ملنے والے ہیں انکے فون ریکارڈ اور انکے گھر میں لیپ ٹاپ کمپیوٹر کو تحویل میں لیا جاتا اور اس پر تحقیق ہوتی، کیونکہ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے اور سو افراد کی موت ہوتی ہے، آپ زیرو انٹیلی جنس پر چلتے ہیں، تحقیق کرنے لگیں تو کچھ نہیں پتہ، ہر ایک سائیڈ سے اور جو شواہد مل رہے ہوتے ہیں اس کو شامل کر لیتے ہیں، جہاز فضا میں پھٹ گیا، اس میں ایئر ٹریفک و دیگر کیا کہتے ہین، کیا جہاز کا انجن گر گیا؟ ساری بات کو دیکھتے ہیں کہ کیا کیا ہو سکتا ہے لیکن یہاں پر ایک واٹس ایپ گروپس میں اے ٹی سی کی بات چیت پائلٹ کے ساتھ شیئر ہوتی ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن کس قسم کی ایکٹوٹیز میں ملوث ہیں؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے کئی ڈائریکٹر کے کردار پر یا انکے ایس او پیز توڑنے پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوالیہ نشان یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے اسے کیوں نہیں کہا کہ تم کلیئر نہیں ہو، اور پھر اس کو ٹاور کے حوالے کیوں نہیں کیا،جب وہ نیچے آ گیا تھا، کیا اسکو اپنا کام نہیں آتا تھا، کیا وہ اسوقت کچھ اور کر رہا تھا ، کیا اس کو بھی روزہ لگ رہا تھا،تحقیقات جب ہوتی ہیں تو یہ بڑی دردناک بات ہے کہ کسی کو بھی نہیں چھوڑنا چاہئے، کسی کا بھی نام آ رہا ہے، جس کا بھی لنک بنتا ہو اس سے تحقیق ہونی چاہئے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعہ سے جس کا بھی لنک بنتا ہے اس حوالہ سے ہرچیز ڈاکیومنٹ ہوتی ہے اور چارج شیٹ بننا شروع ہو جاتی ہے، کیا پائلٹ پر چارج شیٹ کی گئی،اس نے اے ٹی سی کے احکامات کو نظر انداز کی، کیا اے ٹی سی پر چارج شیٹ بن گی اس نے وائس ریکارڈنگ کو لیک کیا، کیا سول ایوی ایشن کے تمام ڈائریکٹرز اور ڈی جی پر کرمنل چارج ہو گئے کہ انہوں نے اس چیز کا نوٹس نہیں لیا کہ یہ چیز کیسے باہر گئی، یہ کسی اور کے اختیار میں نہیں تھا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کاک پٹ کا وائس ریکارڈر آج مل گیا ہے،اسکے بعد اب پتہ چلے گا کہ کیا بات ہوئی تھی، اب میرے پاس ایک اور لسٹ ہے وہ بڑی خوفناک ہے ، کس کس پائلٹ کے نام پتہ ہیں کہ یہ پائلٹ فلائٹ کر رہا ہے تو آپ نے اس کے جہاز میں نہیں جانا کیونکہ انکے لائسنس سوالیہ نشان ہیں کہ انہوں نے جائز طریقے سے لئے یا 15 ،15 لاکھ روپے دیئے.
لاہور : پنجاب حکومت میں وزارتوں اور بیوروکریسی میں بڑی تبدیلیوں کا امکان،4 وزرا کی چھٹی ہوسکتی ہے ،اطلاعات کے مطابق بزدار حکومت نے صوبے میں بہتر کارکردگی نہ رکھنے والے وزراء اور کلیدی عہدوں پر تعینات بیوروکریٹس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، چار کو فارغ اور چھ کے قلمدان تبدیل کر دئیے جانے کا امکان ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی وزراء کی بیس ماہ کی کارکردگی پر مبنی رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کی گئی، زرائع کا کہنا ہے وزراء کی تین مرحلوں میں تقسیم شدہ کارکردگی رپورٹ میں دس صوبائی وزراء کو سی کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔رپورٹ میں سی کیٹگری میں آنے والے ان وزراء میں سے ایک خاتون سمیت چار کو ناقص کارکردگی پر وزارت سے الگ جبکہ چھ کے محکمے تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بار تبدیلی کی اس لہر میں وزراء کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹس بھی آئیں گے، پنجاب میں 7 سیکرٹریز، 3 کمشنرز، 11 ڈپٹی کمشنرز، 7 ڈی پی اوز، 2 آر پی اوز کی تبدیلی کا بھی امکان ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی وزیر اعلیٰ کو وزارتوں اور بیوروکریسی میں تبدیلیوں کی مکمل اجازت دے دی ہے، ممکنہ طور پر تبدیل ہونے والے ڈپٹی کمشنرز میں شیخوپورہ، اوکاڑہ ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، اور حافظ آباد، جہلم ، اٹک ، خوشاب، ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کمشنرز میں گوجرانوالہ ڈویژن سمیت تین کمشنرز کو بھی تبدیل کیا جائے گا جبکہ پولیس افسران میں ڈی پی او ساہیوال، ڈی پی او پاکپتن، ڈی پی او سیالکوٹ، ڈی پی او سرگودھا، ڈی پی او خانیوال کو ممکنہ طور پر تبدیل کیا جاسکتا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے طیارہ حادثہ کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں پی آئی اے مسافر طیارہ حادثے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان، وزیرِ اطلاعات سینٹر شبلی فراز، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹینٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، سیکرٹری ہوابازی ڈویژن حسن ناصر جامی، چیف ایگزیکیٹو پی آئی اے ائیر مارشل ارشد محمود ملک و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے
اجلاس میں وزیرِ اعظم عمران خان کوطیارہ حادثے کی تحقیقات، حادثے کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کو یقینی بنانے کے لئے ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کیے جانے اور اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی
وزیرِ اعظم عمران خان نے طیارہ حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر یہ حادثہ قوم کے لئے ایک بڑا سانحہ ہے۔انہوں نے غم زدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ غم زدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں تاہم حکومت متاثرین کو یقین دلاتی ہے کہ اس افسوس ناک واقعے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ حادثے کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری اور واقعے سے جڑے حقائق کو منظر عام کر لانے کے لئے کوئی کسر روا نہ رکھی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ انکوائری رپورٹ میں سامنے آنے والے تمام حقائق اور تفصیلات سے عوام کو مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
ماضی میں ملک میں ہونے والے ہوائی حادثوں پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ ماضی میں ہونے والے تمام حادثوں کی رپورٹ بھی منظر عام پر لائی جائیں تاکہ عوام کو اس حوالے سے حقائق سے آگاہی میسر آ سکے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ شہید ہونے والے مسافروں کے خاندانوں کو ہر ممکنہ سہولت اور معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان متاثرین کو بھی معاوضہ ادا کرنے کے لئے پیکیج تیار کیا جائے جن کے گھر یا املاک اس حادثے سے متاثر ہوئی ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ہوائی سفر کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سول ایوی ایشن، پی آئی اے، متعلقہ اداروں اور ہوائی سفر سے منسلک عوامل میں اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے۔