راولپنڈی:چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ریاستی اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے،اطلاعات کے مطابقپاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے دورے کے موقع پر کیا۔ یونیورسٹی آمد پر لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔
#COAS visited National Defence University (NDU) Islamabad today & addressed participants of the National Security & War Course. COAS shared his thoughts on security environment of the region and his vision of enduring peace in Pakistan. Highlighting internal and external… (1/3) pic.twitter.com/IkO0axiTMN
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر اظہار خیال کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے شرکاء سے پاکستان میں مستقل امن پر اپنا ویژن دیا، ملک میں دیر پا امن سے متعلق بات چیت کی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجزپرتبادلہ خیال کیا گیا۔
#COAS visited National Defence University (NDU) Islamabad today & addressed participants of the National Security & War Course. COAS shared his thoughts on security environment of the region and his vision of enduring peace in Pakistan. Highlighting internal and external… (1/3) pic.twitter.com/IkO0axiTMN
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار نے نیشنل سکیورٹی اور وار کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ تمام درپیش چیلنجز جامع قومی حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔
#COAS visited National Defence University (NDU) Islamabad today & addressed participants of the National Security & War Course. COAS shared his thoughts on security environment of the region and his vision of enduring peace in Pakistan. Highlighting internal and external… (1/3) pic.twitter.com/IkO0axiTMN
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملک میں امن کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی، ملکی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے پاک فوج مسلسل کوشاں رہے گی، عوام کی حمایت کیساتھ ملکی دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دفاع اور سکیورٹی کے لیے قومی حمایت کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے۔ ملک میں دیرپا محفوظ ماحول دینے کے لیے پاک فوج ہر ممکن کوشش کرتی رہے گی۔
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پھرسفارتکاری شروع کردی، سری لنکن صدر سے ٹیلی فونک رابطہ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ وترقی پذیر ممالک کا ساتھ ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور سری لنکن صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات اورخطےکی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماؤں نے لوگوں کی زندگیاں بچانے سمیت معیشت کی بحالی پر بھی گفتگو کی۔
وزیراعظم نے سری لنکن صدر کو کرونا پر حکومتی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے قرضوں میں ریلیف کے لیے عالمی سطح پر اقدامات پر بھی بات چیت کی۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال پر بھی سری لنکن صدر کو آگاہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ وترقی پذیر ممالک کا ساتھ ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔اس سے قبل یکم جون کو وزیراعظم عمران خان نے اٹلی کے وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے اٹلی میں کرونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
وزیراعظم نے اطالوی ہم منصب کو پاکستان میں حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے تدارک کے لیے گئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا تھا
اسلام آباد:امریکہ نے اسامہ بن لادن کوشہید کیا ،عمران خان نے آج قوم اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے امریکہ پرسخت وار کئیے ، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکہ نے غلطی کی اورآج پاکستان سے کہتا ہے کہ ہماری مدد کریں
باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آج خارجہ پالیسی بہتر ہے تو دنیا پاکستان سے کردار اداکرنے کی درخواست کرتی ہے
وزیراعظم نے اس موقع پرمزید کہا کہ میں اپنے ملک وقوم کے مفاد کے لیے آخری حد تک جاوں گا، وزیراعظم نے مزید کہا کہ دنیا پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اورپاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا
اسلام آباد :حکومت میں کوئی کنفیوژن نہیں، نہ ہی کرونا کے حوالے سے میرے کسی بیان میں تضاد نہیں ہے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے 26 کیسز سامنے آنے پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اس وقت اس سے کوئی اموات نہیں ہوئی تھیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 31 جنوری سے ٹڈی دل کے حملوں کو ایمرجنسی ڈیکلیئر کیا تھا اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کو ٹڈی دل پر قابو پانے سے متعلق اخراجات کے لیے مکمل اختیارات دیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ سے آنے والی سپلائیز رک گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کئی چیزیں ہماری ہاتھ میں نہیں افریقہ سے غیر معمولی جھنڈ آرہے ہیں جبکہ ایران اور بھارت سے بھی ٹڈی دل کا خطرہ ہے، ہم اس پر قابو پانے کی کوششیں کررہے ہیں۔
کورونا وائرس سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے 26 کیسز سامنے آنے پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اس وقت اس سے کوئی اموات نہیں ہوئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کے شہر ووہان اور یورپ کے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے صوبوں نے لاک ڈاؤن شروع کیا اور اپنے اقدامات اٹھائے اس وقت کوئی مرکزی منصوبہ بندی نہیں تھی۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اور میری ٹیم کو پہلے روز سے خدشہ تھا کہ اگر ہم ووہان اور مغربی ممالک کے نقش قدم پر چلے تو مشکل ہوجائے گی، پاکستان اور بھارت کی صورتحال ان سے بہت مختلف تھی۔
انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں سماجی فاصلے کی مثال دی جاتی ہے وہاں تو ویسے ہی سماجی فاصلہ ہے، ان کی آبادی پھیلی ہوئی ہے جبکہ پاکستان میں گنجان آبادی، کچی بستیاں، غریب افراد ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلے روز ہی اس پر بات کی تھی کہ ہمیں دہرے مسائل درپیش ہیں ایک طرف ہمیں لوگوں کو کورونا سے جبکہ دوسری طرف انہیں بھوک سے بچانا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ لوگوں نے کہا کہ مزید سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہیے تھا جس پر شروع میں ہم نے بہت تنقید بھی برداشت کی، مجھ پر بہت دباؤ تھا اور کابینہ میں موجود افراد سمجھتے تھے کہ ہم نے ویسا لاک ڈاؤن نہیں کیا جیسا ہونا چاہیے تھا، ویسا لاک ڈاؤن بھارت نے کیا۔ اب ہمارے پاس اپنا ڈیٹا آچکا ہے پہلے ہر ملک اپنے طریقے سے اس وبا کو دیکھ رہا تھا، کسی کو اندازہ نہیں تھا، برطانیہ نے پہلے لاک ڈاؤن نہیں کیا جب کیسز بڑھے تو کیا، برازیل نے لاک ڈاؤن نہیں کیا اور آج وہاں 50 ہزار لوگ مرچکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ بار بار کہا جارہا ہے کہ کنفیوژن تھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے دن اگر کسی ملک کی حکومت میں کنفیوژن نہیں تھی تو وہ ہماری حکومت تھی۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن کیا تھا، 13 مارچ سے لے کر آج تک میرا کوئی بیان بتادیں جس میں تضاد ہو، میں چیلنج کرتا ہوں، جو میں 13مارچ سے کہہ رہا تھا وہی کہہ رہا ہوں۔
عمران خان نے کہا کہ اگر ملک میں سنگاپور جتنی آبادی ہے، 50 ہزار پر کیپٹا انکم ہے، قدرتی سماجی فاصلہ موجود ہے تو وائرس کو روکنے کے لیے سب سے بہترین چیز یہ ہے کرفیو لگادیا جائے۔
عوام نے احیتیاط سے کام نہ لیا تو ہسپتالوں پر پریشر بڑھ جائے گا، وزیر اعظم
باغی ٹی وی :وزیراعظم نے کہا ہے کہ کورونا کی پیک سے نکل جائیں گے، اگر عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو ہسپتالوں پر بوجھ پڑے گا، ملک میں ایس او پیز پر عملدرآمد ٹائیگر فورس نے کرایا۔
وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کے رضا کاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا برسات میں مثالی شجرکاری کرنی ہے، لوگوں کو احتیاط کرائیں تو وبا سے بچا جاسکتا ہے، ہمارے پاس پڑھے لکھے لوگ ہیں، رضا کارانہ کام کرنے پر ٹائیگر فورس کے جوانوں کا مشکور ہوں
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے، ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 92 ہزار 970 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں 148 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد 3 ہزار 903 ہوگئی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 44 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 71 ہزار 191، سندھ میں 74 ہزار 70، خیبر پختونخوا میں 23 ہزار 887، بلوچستان میں 9 ہزار 817، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 365، اسلام آباد میں 11 ہزار 710 جبکہ آزاد کشمیر میں 930 کیسز رپورٹ ہوئے.
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا کے اب تک 71 ہزار 191 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سندھ میں 74 ہزار70 ، خیبرپختونخوا میں 23 ہزار 887، بلوچستان میں 9 ہزار 817، اسلام آباد میں 11 ہزار 710، آزادکشمیر میں 930 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 365 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ملک میںکرونا کی سپیڈ جاری ، مریض ایک لاکھ 92 ہزار 970 تک پہنچ گئے
باغی ٹی وی :پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے، ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 92 ہزار 970 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں 148 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد 3 ہزار 903 ہوگئی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 44 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 71 ہزار 191، سندھ میں 74 ہزار 70، خیبر پختونخوا میں 23 ہزار 887، بلوچستان میں 9 ہزار 817، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 365، اسلام آباد میں 11 ہزار 710 جبکہ آزاد کشمیر میں 930 کیسز رپورٹ ہوئے.
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا کے اب تک 71 ہزار 191 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سندھ میں 74 ہزار70 ، خیبرپختونخوا میں 23 ہزار 887، بلوچستان میں 9 ہزار 817، اسلام آباد میں 11 ہزار 710، آزادکشمیر میں 930 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 365 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں ایک ہزار 602 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں ایک ہزار 161، خیبر پختونخوا میں 869، اسلام آباد میں 115، گلگت بلتستان میں 23، بلوچستان میں 108 اور آزاد کشمیر میں 25 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 21 ہزار 835 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 11 لاکھ 71 ہزار 976 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید اضافہ ہوگا اور اموات بھی بڑھیں گیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے قیمتی جواہر کے شعبے میں درپیش مسائل کے حل اور اس کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرت نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، جواہر کے شعبے کے فروغ سے نہ صرف نوجوانوں کے لئے بے شمار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے ملکی برآمدات میں اضافہ کرنے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔
وہ ملک میں موجود مختلف جواہر کے قدرتی ذخائر کو بروئے کار لانے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈاپور، معاون خصوصی برائے معدنیاتی وسائل شہزاد سید قاسم، فرانسیسی ماہر برنابے پلو رائٹ، سی ای او روپانی فاونڈیشن وسیم صمد اور معدنیات و جواہر کے شعبے سے وابستہ دیگر ماہرین شریک ہوئے۔
اجلاس میں ملک میں موجود قیمتی جواہر (زمرد، لعل، یاقوت، نیلم) کے مصدقہ ذخائر، شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، جواہر کے حوالے سے غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات اور اس ضمن میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین کوارڈینیشن و دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جواہر کے شعبے میں ملکی استعداد سے مکمل طور پر مستفید ہونے اور اس حوالے سے ملکی برآمدات میں اضافے کے ضمن میں حائل رکاوٹوں اور متعلقہ ایشوز پر بھی تفصیلی طور پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ان وسائل کو بروئے کار لانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ جواہر کے شعبے کے فروغ سے نہ صرف اس سیکٹر میں نوجوانوں کے لئے بے شمار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے ملک کی برآمدات میں اضافے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ جواہر کے شعبے میں درپیش مسائل اور اس سیکٹر کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ اس حوالے سے جامع اور مفصل روڈ میپ تشکیل دیا جا سکے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے جواہر کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات میں فروغ کے سلسلے میں ون ونڈو سہولت کی فراہمی کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت کی حدود میں جیم سٹون سٹی کے قیام کی تجویز کو بھی سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس تجویز پر مزید غور کرکے لائحہ عمل و طریقہ کار پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایمریٹس ایئر لائن نے پاکستان کے لئے آج سے پروازیں معطل کر دی ہیں ، ایمریٹس نے پروازیں معطل کیوں کیں؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سچ سامنے لے آئے
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایمریٹس ایئر لائن نے انکار کیا کہ وہ اب پاکستان کے لئے فلائٹ نہیں چلائیں گے،کچھ عرصہ اور میڈیا میں سوشل میڈیا میں بتایا گیا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ایسا ہوا، 26 مریض کسی فلائٹ میں نکلے اس وجہ سے ایسا ہوا، حالانکہ یہ سچ نہیں ہے، کہانی یہ نہیں ہے، سچ کیا ہے؟ میں بتاؤں گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایمریٹس نے کیوں ناں کی، انہوں نے خبریں دے دیں کہ 16 یا 26 پاکستانی کرونا کے مریض نکل آئے، یہ جھوٹ ہے،یہ ایمریٹس کی ایک فلائٹ پاکستان آنا شروع ہوئی، کرونا پاکستان میں اکیلا نہیں، کرونا پوری دنیا میں ہے اور پاکستان کا تناسب ابھی بھی کئی ممالک سے بند ہے، وہ پاکستان کی کیوں بند کریں گے اگر وہ امریکہ، اٹلی، انڈیا، فرانس، انڈیا،بنگلہ دیش، جرمنی کے لئے فلائٹس کر رہے ہیں تو پاکستان کے لئے بند کیوں ؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سول ایوی ایشن والے جو ہیں،انکے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں انکی حوس پوری نہین ہوتی، پیسے کی، انہوں نے ایمرٹس کو پیغام بھجوانا شروع کر دیئے کہ پہلے والا ٹائم نہیں دیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایمریٹس ایئر لائن 30 سال سے پاکستان آ رہی ہے اور اسکے فکس ٹائمنگ ہیں، رات کے ڈھائی بجے، تین بجے یہ کہتے ہیں کہ فری نہیں ہیں، کونسی فلائٹ آ رہی ہے کہ ایمریتس کا ڈیپارچر نہیں کر سکتے، لاہور، کراچی کونسی فلائٹ آ رہی ہے، جس پر سول ایوی ایشن نے کہا کہ نہ پرانے ٹائم مل سکتے ہیں اور نہ پرانے ڈاکس مل سکتے ہیں،اسکی وجہ کیا ہے ،انکا کیا پرابلم ہے، انہوں نے دبئی کو بیس بنایا ہے وہ دنیا سے ہر جگہ فلائٹیں کو آرڈینیٹ کرتے ہیں،اور ساڑھے تین بجے جو فلائٹ جاتی ہے وہ چھ بجے پہنچتی ہے تو نو بجے فرانس، انگلینڈ یا کہیں اور کی فلائٹ رکھی ہوئی ہے، پانچ ،چھ مختلف سٹیشن کے جہاز رات دو تین بجے اڑا رہے ہیں، ایک ٹایم پر مسافر پہنچتے ہیں اور جنہوں نے لندن جانا ہوتا ہے انکو پہنچا دیتے ہیں، اب آپ کہیں کہ ہم یہ ٹایم نہیں کر سکتے ، انکی مرضی کا نہیں دے سکتے کوئی اور ٹائم دیں گے،تو انکا جہاز آگے سے خالی ہو جائے گا، ایک جہاز خالی ہو گا، دوسرا مسافر کو ہوٹل دینا پڑے گا،یہ ایئر لائن کی مت مار رہے ہیں، 30 سال سے یہ کر رہے ہیں سول ایوی ایشن والے لیکن آج کہا کہ نہیں،انہوں نے مان جانا تھا ،انکے ٹاؤٹوں کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ آو ہم سے ڈیل کر ڈیل کیا ہونی ہے کہ آپ کو یا مجھے کوئی پیسے لگائے گا تو ٹائم مل جائے گا لیکن ایمریٹس نے کہا کہ جاؤ ، ہم فلائٹ ہی کیسنل کر رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آپ اپنا ایک فلائٹ جو شروع ہوئی اس کو بھی بند کروایا دیا، کیونکہ پیسے نہیں مل رہے یہ حال ہے سول ایوی ایشن کے اندر لوگوں کا، عمران خان نے اب بھی سول ایوی ایشن میں اکھاڑ بچھاڑ نہ کہ تو لوگ عمران خان کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیں گے کہ صرف آپکی ایمانداری کافی نہیں ہے،کام بھی کریں، اگر لوگ بات نہیں سنتے تو حکومت چھوڑ دیں، اگر ویژن پورا نہیں ہوتا تو اسلئے تو آپ کو نہیں لایا گیا تھا کہ مجبوریوں کی کہانی سناتے رہیں کہ لوگ کام نہیں کرنے دیتے، سوری،لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ وزیراعظم کو جانتے ہیں وزیراعظم کے قریب ہیں، آپ کی وہ بات سنتے ہیں تو وہ کیا کہتے ہیں، کتنی دیر ہم جواب دیں گے، ہم ان عہدوں پر نہیں کہ جواب دینا شروع ہو جائیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک ابھی خبر آئی ہے جس سے مجھے اتنا دکھ ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ سول ایوی ایشن سے بات نکل گئی ہے اور بات عمران خان پر آ رہی ہے، حکومت پر آ رہی ہے کہ کتنی نااہلی ہو سکتی ہے حکومت کی اس چیز پر
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایمریٹس ایئر لائن نے انکار کیا کہ وہ اب پاکستان کے لئے فلائٹ نہیں چلائیں گے،کچھ عرصہ اور میڈیا میں سوشل میڈیا میں بتایا گیا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ایسا ہوا، 26 مریض کسی فلائٹ میں نکلے اس وجہ سے ایسا ہوا، حالانکہ یہ سچ نہیں ہے، کہانی یہ نہیں ہے، سچ کیا ہے؟ میں بتاؤں گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج آپ نے دیکھ لیا کہ نیشنل اسمبلی میں ہوا بازی کے جو وزیر ہیں انہوں نے کہہ دیا کہ 30 فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، اسکا مطلب ہے کہ 120 کے لائسنس جعلی ہیں، یہ صرف پی آئی اے میں نہیں بلکہ شاہین، ایئر بلیو، سرین، انڈص تمام ایئر لائنز میں ہیں، انکی مادر آف آل ہے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور میں سول ایوی ایشن اتھارتی پر ابھی تک بات نہیں کر رہا ،میں یہ کہہ رہا ہوں کہ حکومت کے اوپر یہ بات براہ راست آ رہی ہے، کتنے عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ یہ غلط ہے اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، 11 سو کے قریب لوگ قتل ہو چکے ہیں، میں قتل کہوں گا، جان بوجھ کر کمپرومائیز کرتے ہین لائسنس جعلی، ڈگری فیک ہو تو اسکا مطلب ہے کہ اس قتل میں حصہ ڈال دیا جو جہازوں میں قتل ہو رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم لوگ بہت حادثے کر چکے ہیں، ایئر ٹریفک کنٹرول بالکل ناکارہ ہیں، انکی ٹریننگ نہین ہے،سول ایوی ایشن والوں کی ٹریننگ نہیں ہے، اگر لائسنس کو لے لیں کہ 120 لائسنس جعلی ہیں ،اس میں کوئی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے، سول ایوی ایشن کے دو ڈیپارٹمنٹ ہیں انکو پکڑ لیں باقی اور بھی آتے جائیں گے، ایک لائسنسنگ کا ڈیپارٹمنٹ انکو گرفتار کریں انکے اوپر قتل کے مقدمے ہونے چاہیں، دوسرا آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ، یہ کاغذات میں خرد بورد کرتا ہے، ڈی جی سول ایوی ایشن ، ایوی ایشن کے سارے ڈائریکٹرز کو اندر ہونا چاہئے ان پر 302 کی ایف آئی آر کٹنی چاہئے،اقدام قتل کی ایف آئی آر کٹنی چاہئے کیونکہ لوگ فضائی حادثوں میں ناحق مر رہے ہیں، ہماری سول ایوی ایشن ٹوٹل ناکارہ ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایمریٹس نے کیوں ناں کی، انہوں نے خبریں دے دیں کہ 16 یا 26 پاکستانی کرونا کے مریض نکل آئے، یہ جھوٹ ہے،یہ ایمریٹس کی ایک فلائٹ پاکستان آنا شروع ہوئی، کرونا پاکستان میں اکیلا نہیں، کرونا پوری دنیا میں ہے اور پاکستان کا تناسب ابھی بھی کئی ممالک سے بند ہے، وہ پاکستان کی کیوں بند کریں گے اگر وہ امریکہ، اٹلی، انڈیا، فرانس، انڈیا،بنگلہ دیش، جرمنی کے لئے فلائٹس کر رہے ہیں تو پاکستان کے لئے بند کیوں ؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سول ایوی ایشن والے جو ہیں،انکے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں انکی حوس پوری نہین ہوتی، پیسے کی، انہوں نے ایمرٹس کو پیغام بھجوانا شروع کر دیئے کہ پہلے والا ٹائم نہیں دیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایمریٹس ایئر لائن 30 سال سے پاکستان آ رہی ہے اور اسکے فکس ٹائمنگ ہیں، رات کے ڈھائی بجے، تین بجے یہ کہتے ہیں کہ فری نہیں ہیں، کونسی فلائٹ آ رہی ہے کہ ایمریتس کا ڈیپارچر نہیں کر سکتے، لاہور، کراچی کونسی فلائٹ آ رہی ہے، جس پر سول ایوی ایشن نے کہا کہ نہ پرانے ٹائم مل سکتے ہیں اور نہ پرانے ڈاکس مل سکتے ہیں،اسکی وجہ کیا ہے ،انکا کیا پرابلم ہے، انہوں نے دبئی کو بیس بنایا ہے وہ دنیا سے ہر جگہ فلائٹیں کو آرڈینیٹ کرتے ہیں،اور ساڑھے تین بجے جو فلائٹ جاتی ہے وہ چھ بجے پہنچتی ہے تو نو بجے فرانس، انگلینڈ یا کہیں اور کی فلائٹ رکھی ہوئی ہے، پانچ ،چھ مختلف سٹیشن کے جہاز رات دو تین بجے اڑا رہے ہیں، ایک ٹایم پر مسافر پہنچتے ہیں اور جنہوں نے لندن جانا ہوتا ہے انکو پہنچا دیتے ہیں، اب آپ کہیں کہ ہم یہ ٹایم نہیں کر سکتے ، انکی مرضی کا نہیں دے سکتے کوئی اور ٹائم دیں گے،تو انکا جہاز آگے سے خالی ہو جائے گا، ایک جہاز خالی ہو گا، دوسرا مسافر کو ہوٹل دینا پڑے گا،یہ ایئر لائن کی مت مار رہے ہیں، 30 سال سے یہ کر رہے ہیں سول ایوی ایشن والے لیکن آج کہا کہ نہیں،انہوں نے مان جانا تھا ،انکے ٹاؤٹوں کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ آو ہم سے ڈیل کر ڈیل کیا ہونی ہے کہ آپ کو یا مجھے کوئی پیسے لگائے گا تو ٹائم مل جائے گا لیکن ایمریٹس نے کہا کہ جاؤ ، ہم فلائٹ ہی کیسنل کر رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آپ اپنا ایک فلائٹ جو شروع ہوئی اس کو بھی بند کروایا دیا، کیونکہ پیسے نہیں مل رہے یہ حال ہے سول ایوی ایشن کے اندر لوگوں کا، عمران خان نے اب بھی سول ایوی ایشن میں اکھاڑ بچھاڑ نہ کہ تو لوگ عمران خان کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیں گے کہ صرف آپکی ایمانداری کافی نہیں ہے،کام بھی کریں، اگر لوگ بات نہیں سنتے تو حکومت چھوڑ دیں، اگر ویژن پورا نہیں ہوتا تو اسلئے تو آپ کو نہیں لایا گیا تھا کہ مجبوریوں کی کہانی سناتے رہیں کہ لوگ کام نہیں کرنے دیتے، سوری،لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ وزیراعظم کو جانتے ہیں وزیراعظم کے قریب ہیں، آپ کی وہ بات سنتے ہیں تو وہ کیا کہتے ہیں، کتنی دیر ہم جواب دیں گے، ہم ان عہدوں پر نہیں کہ جواب دینا شروع ہو جائیں، اگر پوری کی پوری سول ایوی ایشن کو اکھاڑا گیا، پالپا والوں کو آڑے ہاتھوں نہ لیا گیا، جن میں جعلی پائلٹس ہیں، لائسنس جعلی ہونے کے نام آ گئے ہیں،میں خود سے نہیں کہہ رہا، اگر انکو پالپا ڈیفنڈ کرے تو پالپا کو ختم کر دینا چاہئے، انکو خود کالی بھیڑوں کا احساس ہونا چاہئے کہ مسافر، جہاز سیف ہیں اگر سیف نہیں ہیں اور جن کا کریکٹر کمزور ہے انکو ڈیفنڈ کرنا ہے تو اس یونین کی کوئی ضرورت نہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج ثابت ہو گیا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی پچھلے تیس برسوں میں اقربا پروری کے طورپر انہوں نے پیسے بنائے، لوٹ کھسوٹ کی، یہ 11 سو قتل کے ذمہ دار ہیں، انکے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے، جو ریٹائرڈ ہوگئے ہین ان کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئے،
بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے ، ترجمان دفتر خارجہ
باغی تی دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ بھارت نے بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لئے دہشت گروپوں کو تربیت، مالی اور مادی امداد کی فراہمی کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دی ہے۔
آج اسلام آباد میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارے ہمسایہ ملک میں طویل تنازع کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست کے تحت گزشتہ برس چار بھارتی شہریوں کو نامزد کیا تھا کیونکہ وہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار سمیت دہشتگرد گروپوں کی مالی، تکنیکی اور مادی امداد کی فراہمی کے ذریعے دہشت گردوں کو منظم کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مایوسی ہوئی کہ Venumadhav Dongara کو دہشتگرد کے طور پر نامزد کرنے کی پاکستان کی تجویز پر اعتراض کیا گیا۔ ونو مادہو ڈونگرا کو دہشتگرد قرار دینے کی پاکستانی درخواست پر اعتراض سے مایوسی ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی دہشتگردوں میں ونو مادہو ڈونگرا، اجے مستری، گوبیندا پٹ نائیک اور آنگرا آپاجی ہیں۔ بھارتی دہشتگرد پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کی مالی اعانت، انتظام اور کفالت میں ملوث ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے خلاف ایک بارپھرامریکہ ،بھارت اوردیگراتحادیوں نے اپنا بغض کھول کررکھ دیا ہے، اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے گروپ کی 1267 کمیٹی کی جانب سے افغانستان میں کام کرنے والے ایک ہندوستانی شہری کو بطور ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دینے کی کوششوں پر پابندی عائد ہونے کے بعد پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔
بھارتی میڈیا اس بات کا دعویٰ کررہا ہےکہ اس فورم پرپاکستان بھارتی شہری کے دہشت گرد ہونے سے متعلق ثبوت فراہم نہ کرسکا ، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ساری کوششوں پرپانی پھیرنے میں امریکہ نے بھارت کی بھرپورمدد کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے پاکستانی قرارداد کورکوانے اورباقی ممالک کو اس قرارداد کے خلاف ووٹ دینےکے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے