آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی پیپلز لبریشن آرمی کے وفد کی ملاقات، اہم معاملات پرگفتگو
باغی ٹی وی :آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی پیپلز لبریشن آرمی کے وفد نے ملاقات کی جس میں کورونا کی صورتحال اور پاکستان کی موثر حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرنے والوں میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کی 10 رکنی میڈیکل ٹیم شامل تھی جس کی قیادت میجر جنرل ڈاکٹر ژو کر رہے تھے۔
A ten member People’s Liberation Army (PLA) Medical Team led by Major General Doctor Zhou Feihu, Chief of ICU Department, PLA General Hospital, called on General Qamar Javed Bajwa, COAS, today. During the interaction, matters related to COVID containment and Pakistan's… (1/3) pic.twitter.com/1wB1jNsjkL
آرمی چیف نے ملاقات کے دوران طبی سامان اور چینی ماہرین کی مدد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا ابھی تک کورونا کا علاج ڈھونڈ رہی ہے۔ کورونا کی وبا پر قابو پانے کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدرآصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی پنجاب کےصدر قمر زمان کائرہ اورجنرل سیکرٹری چوہدری منظوراحمد کو ٹیلی فون کیا ہے
آصف علی زرداری نے پنجاب کی قیادت سے تازہ ترین صورتحال اورپارٹی امورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ پنجاب میں جیالے متحدرہیں جلداچھاوقت آنے والا ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مقدمات کا کوئی خوف نہیں، پہلے بھی عدالتوں میں مقابلہ کیا اب بھی کریں گے
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت نے لوگوں کیلئےکچھ نہیں کیا تو خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے،پیپلز پارٹی نے 2008 کے عالمی بحران میں کسانوں اور مزدوروں کو سپورٹ کیا،کسانوں اور محنت کشوں کیلئے سپورٹ پروگرامز سے ملکی معیشت واپس آئی،وفاقی حکومت صوبوں کو مضبوط بنانے کی بجائے انہیں مزید کمزور کررہی ہے،
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وفاق میں بیٹھے لوگ سیاسی ادراک نہیں رکھتے، ہر بحران کو مزید گہرا کر دیتے ہیں،میں نے ٹڈی دل کی ایک سال پہلے وارننگ دی تھی لیکن ان کو سمجھ ہی نہیں آئی,ہم گندم،چینی اور کپاس کو برآمد کر رہے تھے یہ درآمد کر رہے ہیں،
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ میں سمجھتا تھا ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لانا میری ذمہ داری ہے۔2008 کے الیکشن میں بلوچستان کی تمام قوم پرست جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ہماری کوششوں سے 2013 کے الیکشن میں بلوچستان کی تمام جماعتیں قومی دھارے میں واپس آئیں۔حکمران نہ آئین ،نہ کسی اصول اور نہ ہی کسی تہذیب کو مانتے ہیں۔بلکہ ہر چیز توڑ پھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ کوئی ذاتی جرم نہیں کیا تھا کہ میں نے بلوچستان سے معافی مانگی تھی
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر اختر مینگل سے بات کر رہے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی آج بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے شرط یہ ہے کہ بلوچ نوجوان مسلح جدوجہد کو ترک کر کے سیاسی جدوجہد میں واپس آئیں۔ ریاست کو بھی بلوچستان میں اب زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔اگر اکبربگٹی جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہوگیا تو حالات کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہی رہے گا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 3 ہزار 946 کیس سامنے آ گئے
پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار 34 ہو گئی،پاکستان میں 73 ہزار 471 افراد کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں ،پاکستان میں کورونا کے 3 ہزار 236 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے.
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں کورونا سےمزید 105 مریض انتقال کر گئے،جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 3 ہزار 695 ہو گئی ہے،
گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا ٹیسٹوں کی تعداد کم ہو کر 24 ہزار 599 ہو گئی،پاکستان میں اب تک 11 لاکھ 26 ہزار 761 کورونا ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں
سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد 71 ہزار 92 ہوگئی،پنجاب میں کورونا مریضوں کی تعداد68 ہزار 308 ہو گئی،بلوچستان میں کورونا مریضوں کی تعداد 9ہزار 587 ہوگئی،خیبر پختونخوا میں کورونا مریضوں کی تعداد 22 ہزار 633 ہوگئی،اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد 11 ہزار 219ہوگئی ہے،آزاد کشمیر میں کورونا مریضوں کی تعداد 869 ہوگئی ہے،گللگت بلتستان میں کورونا مریضوں کی تعداد1326 ہوگئی ہے.
رواں سال کون حج کرسکے گا، سعودی حکومت نے اعلان کردیا
باغی ٹی وی کے مطابق سعودی خبر رساں ادارے اور الجزیرۃ نے خبردی ہے کہ سعودی حکومت نے مقامی طور پر رہنے والے مختلف ممالک و اقوام کے محدود تعداد میں عازمین کو حج کیلیے شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ھے۔۔۔
یہ فیصلہ کرونا کے باعث سوشل فاصلہ قائم رکھنے کیلیے کیا گیا ھے۔۔۔
سرکاری میڈیا نے رپوٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے اس سال حج کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس میں ریاست کے اندر رہنے والی تمام قومیتوں سے محدود تعداد میں افراد شریک ہوں گے۔۔۔
مملکت نے کہا کہ یہ فیصلہ کورونا وائرس کے مسلسل خطرے اور عازمین حج کی ایک بڑی تعداد میں معاشرتی فاصلے کے حصول میں دشواری کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں 5 لاکھ کے قریب وائرس سے اموات ہوچکی ہیں اور 70 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر ہیں-
ایس پی اے کے مطابق وزارت حج نے بیان میں ہے کہ کورونا کی وبا کے ماحول، دنیا بھر میں وائرس کے پھیلنے کے خطرات اور روز بروز دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر طے کیا گیا ہے کہ اس سال حج میں اندرون ملک سے مختلف ممالک کے عازمین کو محدود تعداد میں شریک کیا جائے گا-
بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ حج محفوط صحت ماحول میں ہو۔ کورونا سے بچاؤ کے تقاضے پورے کیے جائیں- عازمین حج کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھا جاسکے اور انسانی جان کے تحفظ سے متعلق اسلامی شریعت کے مقاصد پورے کیے جاسکیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کا جو جہاز لاہور سے کراچی جاتے ہوئے کریش ہو گیا تھا اسکی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے اس جہاز پر میں نے جتنے بھی وی لاگز کئے پہلے دن سے گزشتہ دو ہفتے تک، ان سب کو دیکھیں ، جو جو رپورٹ میں لکھا وہ وی لاگ میں سب پہلے بتا چکا ہوں،اور پہلے دن سے کچھ باتیں کر رہا ہوں وہ سب صحیح ثابت ہوئی ہیں ، پائلٹ کا تو قصور ہے ہی ہے، اس نے بھنڈ کیا، تیز سپیڈ میں تھا، کنٹرول نہیں کیا، جہاز رن وے کو ٹچ ہو گیا بغیر لینڈنگ کے، وہ اب نہیں ہے دنیا میں،اللہ ان کے لئے آسانیاں کرے اور سب کے لئے جو جہاز میں تھے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جاتی ہے سول ایوی ایشن کے اوپر ساری بات، ابھی اس رپورٹ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، پی آئی اے میں پائلٹ اور کو پائلٹ اور سول ایوی ایشن میں ایئر ٹریفک کنٹرول اور ایوی ایشن کے انتظامات کو براہ راست بلیم کر دیا کہ وہ ناکافی اور انٹرنیشنل ایس او پیز کے مطابق نہیں ہیں،میں کتنے عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ جب تک سول ایوی ایشن کو نہیں ادھیڑا جائے گا یہ ہوتا رہے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیپٹن سجاد گل کو پی آئی اے کی سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر عنیزہ نے ریجکٹ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ فلائٹ کے لئے صحیح نہیں ہیں اسکے بعد وہ باہر گئے اور سرٹفکیٹ لے آئے اس کی بنا پر پائلٹ بھرتی ہو گئے، پی آئی اے کی ڈاکٹر نے انہیں ریجیکٹ کر دیا تھا ، اب تو لگتا ہے کہ پی آئی اے کے جو سائیکاٹرسٹ ہیں وہ چائلڈ سائیکاٹرس ہیں ،انکو ایوی ایشن کا تجربہ ہی نہیں ہے،اس کی بھی تھقیقات ہونی چاہئے کہ کون لوگ ہیں وہ
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول کو اپنے اتھارٹیز کا پتہ نہیں تھا کہ روکنا ہے اوپر سے گو راؤنڈ کرنا ہے، ٹاور کے ہینڈ اوور کرنا تھا وہ نہیں کیا، بہت انکے بھنڈز تھے، اسکے بعد کیا ہوا جہاز ٹچ ہوا، جس کے بعد سیمی کریش لینڈنگ ہوئی اسکی ، اسکے پرزے ٹوٹ کر رن وے پر آگئے، جو انٹرنیشنل ایس او پیز ہیں اسکے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اسی وقت الگ کر دیا جاتا ہے،اسکے ٹیسٹ ہوتے ہیں کہ اسکے برین مین کیا ہے کیونکہ اس کی شفٹ میں حادثہ ہو گیا ہے لیکن انہوں نے اس سے پوری شفٹیں کروائیں،اور اس نے مزید اسی رن وے کو کلیئر نہین کیا، ٹوٹے ہوئے پرزے پڑے رہے اور اسی رن وے پر دو لینڈنگ کروا دیں، اگر جہاز میں اللہ نے کرے کہ رن وے پر جو پرزے پڑے تھے کچھ انجن میں چلا جاتا تو وہ بھی گیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب مجھے تو نہیں پتہ کہ کونسا پرزہ تھا وہاں، ایک جو پروٹوکول ہے اسکی بات کر رہا ہون، کہ رن وے کو سیل کیا جاتا ہے اور دوسرے رن وے کو استعمال کیا جاتا ہے، ریسکیو آپریشن میں سول ایوی ایشن اتھارٹی ٹوٹل مسنگ رہا،اب رپورٹ کہتی ہے کہ قومی ایئر لائن اور سول ایوی ایشن دونوں کو ذمہ دار قرار دیا، رپورٹ وزیراعظم کو پیش کروا دی گئی ہے، رپورٹ میں قومی ائیر لائن اور سی اے سے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا،اور حادثے کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کا طریقہ بھی ناکام ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل صحیح ہے،ٹریننگ اور آؤت گوئنگ ٹریننگ اتنی کمزور ہے سول ایوی ایشن کی طرف سے ،کہ اب پی آئی اے کو چھوڑ دیں ، ایئر بلیو میں بھی ہو چکا ہے،بھوجا میں بھی ہو چکا ہے تو ساری ہی ایئر لائنز غلط ہیں اسکا مطلب ہے مادر شپ میں اصل گڑبڑ ہے جب تک اسکو ٹھیک نہیں کریں گے مسئلہ حل نہیں ہو گا، یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ٹیکنیکل ایشو ہو اس پر بھی مزید جانچ پڑتا ل ہو رہی ہے،ہو سکتا ہے لینڈنگ گیئر میں کوئی ایشو ہو،کسی اور چیز میں پرابلم ہو، ہونے کو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے تفصیل آ رہی ہے، ابتدائی رپورٹ مین پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرول دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوبارہ ٹیک آف کے دوران انجن فیل ہوئے دوبارہ ٹیک آف نہیں کرنا چاہئے تھا، پہلی بار ہی لینڈنگ کرنی تھی، 9 ہزار میٹر کا رن وے ہے، چار ہزار پر لینڈ کر رہا ہے تو اسے وہیں لینڈ کرنا چاہئے تھا کنٹرولر نے اسے پورا لیفٹ پر گھما دیا حالانکہ بالکل سامنے فیصل بیس تھی وہاں رن وے تھی، سترہ منٹ جو وہ فلائی کر رہا تھا وہ کرنے کی ضرورت نہین تھی ،سامنے ہی اتر جاتا فیصل بیس پر،وہ کہتے ہین کہ پائلٹ کو دوبارہ جہاز نہین اڑانا چاہئے تھا بالکل صحیح تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں انہوں نے کہا کہ جہاز شروع سے ہی تیز رفتار اور اونچائی سے آ رہا تھا، لینڈنگ کے لئے بھی جہاز کی اونچائی زیادہ تھی، جہاز کے پرزے رن وے پر پڑے رہے، ایوی ایشن میں اتنے نالائق لوگ ہیں کہ ان پر جتنا بھی ماتم کر لیں کم ہے، ویسے بات کر لیں تو انگریزی بول بول کر دماغ خراب کر دیں گے،کراچی ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کی خصوصی جانچ پڑتال کی گئی پرزوں کی مزید ایگزامینشن بھی ہو رہی ہے، ایوی ایشن نے رپورٹ آنے سے پہلے رپورٹ دی اور کہا کہ پائلٹ ذمہ دار ہے ،گونگلوؤں سے انہوں نے مٹی جھاڑ دی، ریسکیو آپریشن میں ایوی ایشن کو دیکھیں ان پر کرمنل چارجز ہونے چاہئے، انہوں نے کسی زخمی کو ریسکیو نہیں کیا جو ان کی پرائمری جاب ہے، انہوں نے مے ڈے کی کال پر رن وے پر کوئی اور تیاری نہین کی جس پر وہ رن وے پر آ جاتا تو کیسے اتارنا تھا، آگر وہ آ بھی جاتا تو انکی تیاری بھی نہیں تھی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ سول ایوی ایشن نے ایئر پورٹس کی جو زمین تھی اس کو بیچ بیچ کر گھر بنوا دیئے ہیں،ہزاروں کی تعداد میں لاہور،کراچی، اسلام آباد میں ایسا ہے، اگر رات میں کوئی جہاز آتا ہے تو برڈ ہٹ ہو جاتا ہے، انکے پروٹوکول، انکی ٹریننگ، انکی ای ویلیو ایشن سب میں فقدان ہے، ایوی ایشن میں جو اوپر سے لوگ آئے ہوئے ہیں وہ اس قابل نہین کہ ساری چیزوں کو دیکھیں ،وہ صرف نعرے مارتے رہتے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو آدمی جانتا ہے ایوی ایشن کو ، جب تک وہ ٹریننگ نہین لیتا، نئے سرے سے سٹڈی نہیں کرتا، پروسیجرز سے نہیں گزرتا تو وہ قابل ہی نہیں، جس کو ایڈمنسٹریشن کا پتہ نہین انکو لگایا ہے، کمرشل ایوی ایشن کے پروسیجرز وہ کیسے کرے گا، اوپر کے لوگوں کو ایوی ایشن سے نکالنا پڑے گا، ایوی ایشن پر چیکز ہونے چاہئے، ایئر لائن کا قصور سیکنڈری ہے، اس پر میری مزید تحقیق جاری ہے،اور میں اس پر بہت کچھ لانے والا ہوں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پالپا والو، اتنا مجھے طعنے دیتے ہیں کہ مین کیا نام لوں، اسکا ویٹ کرو، اسکا ویٹ کرو، اب آ گئی رپورٹ، ٹھنڈ پڑ گئی، میں نے صحیح کہا تھا،وہ سچ نکل آیا، وہ کپتان جس سے وی لاگ کروا رہے تھے وہ اپنا کروبار کر رہے تھے، پی آئی اے میں سفارشوں، سیاسی بنیادوں پر لوگ آئے ہوئے ہیں، نان کوالیفائیڈ لوگ آئے ہین اور چور لوگ آئے ہوئے ہیں جنکی ڈگریاں جعلی ہیں، پی آئی اے میں بھی اب بڑے لیول پر چھانٹی کرنا پڑے گی،
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت کوروناکی صورت حال بارے اہم اجلاس
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں کورونا کی صورتحال اور وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا ، اجلاس میں وزیرِ اطلاعات سینٹر شبلی فراز، وزیرِ داخلہ اعجاز احمد شاہ، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیر، برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، فوکل پرسن برائے کوویڈ ڈاکٹر فیصل سلطان، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹنٹ جنرل محمد افضل و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے
٭ اجلاس میں کورونا کی صورتحال، ملک بھر کے ہسپتالوں میں آکسیجن بیڈ ز کی تعداد میں اضافے کی صورتحال، آکسیجن کی طلب اورسپلائی، ملک کے بڑے شہروں کے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ اور عید الضحیٰ کے حوالے سے تیار کیے جانے والے ایس او پیز کے حوالے سے معاملات پر تفصیلی غور آئے.
٭ وزیرِ اعظم کو چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں کوویڈ کے لئے مخصوص بیڈز کی تعداد میں اضافے کے لئے کی جانے والی کوششوں اور اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ۔ چئیرمین این ڈی ایم نے بتایا کہ آئندہ ماہ کے وسط تک ملک بھر میں 2150بیڈز کا اضافہ کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے صوبہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف ہسپتالوں کی جانب سے پیش کی گئی ڈیمانڈ اور اب تک بیڈز کی فراہمی کی صورتحال پر اجلاس کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
٭ وزیر برائے صنعت و پیداوار نے آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
٭ ملک کے بڑے شہروں میں شناخت کیے جانے والے ہاٹ سپاٹس میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
٭ وزیرِ اعظم نے بیڈز اور آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی اوربین الاقوامی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کورونا کی روک تھام کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے بہتر نتائج موصول ہوئے ہیں۔
٭ سمارٹ لاک ڈاؤن پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے زور دیا کہ اس حکمت عملی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے جہاں ایک طرف مقامی رہنماؤں اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے وہاں اس حوالے سے ٹائیگر فورس کی خدمات بھی حاصل کی جائیں تاکہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر نہ صرف عوام کو سمارٹ لاک ڈاؤن کے بارے میں آگاہی فراہم کریں بلکہ اس کے نفاذ اور اسکے مقاصد کے حصول میں انتظامیہ کی معاونت کر سکیں۔
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ عیدالضحیٰ کے پیش نظر ایس او پیز کو صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے جلد از جلد حتمی شکل دے کر ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ عید الضحیٰ غیر معمولی حالات میں منائی جا رہی ہے۔موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ عوام کی حفاظت کے لئے واضح ایس او پیز جلد از جلد مرتب کرکے ان کا سختی سے نفاذ یقینی بنایا جائے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سماجی تحفظ کے تین بڑے اقدامات کا آغاز کیا،ملک کے لوگوں میں خیرات دینے کا بہت جذبہ ہے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگوں کوجب اعتماد ہوجائے کہ انکا دیا ہوا پیسا ٹھیک جگہ جارہا ہے تووہ دل کھول کرعطیات دیتے ہیں ،کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کیا گیا ،ہم نے لاک ڈاؤن کیا، جس کی وجہ سے سروس سیکٹر تباہ ہوگیا، یورپ اور ووہان کےحالات اور ہیں اورہمارے حالات مختلف ہیں،صوبے مجھ سے پوچھتے تو کبھی ایسا لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتا،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا جیسے ملک میں لوگ خیرات لینے کیلیے لمبی قطار میں کھڑے ہیں،بڑی تنقید ہوئی لیکن شکر ہے میری بات سن لی،کورونا ریلیف فنڈز سے مستحقین کو رقم دی جارہی ہے،مختصر وقت میں اتنی بڑی رقم شفاف طریقے سے لوگوں میں بانٹی گئی لاک ڈاؤن کے دوران بھوکے لوگ علاقے میں جانے والوں پر ٹوٹ پڑے ،اب تک سمجھ نہیں آئی کہ سندھ میں چھابڑی والوں کو کیوں بند کردیا،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا سے پہلے ہی سڑکوں پر سونے والوں کیلیے پناہ گاہ اور لنگر کا اہتمام کیا ،اسلام آباد میں ٹھنڈ میں لوگ سڑک پر سو رہے ہوتے تھے،پارلیمنٹرینز سے کہتا ہوں پناہ گاہوں میں جائیں اورلوگوں کیساتھ کھانا کھائیں اورحال پوچھیں،آج ہمارے حالات بھارت جیسے برے نہیں ہیں تو اس کی ایک وجہ احساس پروگرام بھی ہے، لوگوں کو یہ اعتماد دلائیں گے کہ ان کا دیا ہوا پیسا ٹھیک جگہ لگ رہاہے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ احساس پروگرام میں کوئی سیاست نہیں ہے، پروگرام شفافیت سےجاری ہے، احساس پروگرام کے تحت شفافیت سےمستحقین کو پیسا فراہم کیا جارہاہے،وزیراعظم ریلیف فنڈزکا مقصد بےروزگارافراد کی مدد کرنا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت نے آصف زرداری پرمنی لانڈرنگ کیس میں بھی فردجرم کی تاریخ مقررکردی
کورونا کے باعث جیل میں موجود ملزمان پر وڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،احتساب عدالت کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری،حسین لوائی،انورمجید و دیگر پر7 جولائی کو فردجرم عائد کی جائیگی،نیب کراچی انورمجید کیلئےاسپتال میں وڈیو لنک کا انتظام مکمل کرے،
احتساب عدالت کے حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ رجسٹراراحتساب عدالت کراچی انورمجید کی وڈیولنک پرشناخت کی تصدیق کریں گے،حسین لوائی،طحہٰ رضا،محمدعمیرپراڈیالہ جیل میں وڈیو لنک پر فرد جرم عائد کی جائے گی،جوملزمان جیل میں نہیں ہیں وہ 7جولائی کو ذاتی حیثیت میں فردجرم کیلئے پیش ہوں،
پارک لین ریفرنس میں عدالت نے پہلے ہی فردجرم کیلئے26 جون کی تاریخ مقرر کررکھی ہے
پارک لین کیس میں آصف زرداری اور دیگر پر فرد جرم کے لئے 26 جون کی تاریخ مقررکر دی گئی،نیب نے کہا کہ پارک لین کیس میں تمام تقاضے پورے ہوچکے ہیں،فرد جرم کی تاریخ جلد مقرر کی جائے تاکہ ٹرائل آگے بڑھ سکے،احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 7 جولائی کو ہوگی
واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے نیب کو پارک لین کے حوالہ سے جواب میں کہا تھا کہ پارک لین کمپنی 1989 میں صدرالدین ہاشوانی سے خریدی، اقبال میمن، کم عمر بلاول، رحمت اللہ، محمد یونس، الطاف حسین میرے شراکت دار تھے۔پارک لین کمپنی میں صرف 25 فیصد حصص کا مالک تھا، صدر بننے سے پہلے یکم ستمبر 2008 کو کمپنی ڈائریکٹرشپ سے مستفیٰ ہوا تھا
نیب کے مطابق آصف زرداری پارک لین کمپنی کے 25 فیصد شیئرہولڈررہے،آصف زرداری نے جعلی کمپنی پارتھینون بناکرڈیڑھ ارب قرض لیا، آصف زرداری اورساتھیوں کی کرپشن،منی لانڈرنگ ثابت ہوگئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی بات سچ ثابت ہوئی
طیارہ حادثے کے بعد مبشر لقمان نے یوٹیوب پر مختلف ویڈیوز پروگرام کئے تھے جس میں انہوں نے قوم کو حقائق سے آگاہ کر دیا تھا، مبشر لقمان نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولر کو بھی حادثے کا ذمہ دار قرار دیا تھا، مبشر لقمان نے یوٹیوب پر سول ایوی ایشن کی جانب سے پائلٹ کو ذمہ دار قرار دیئے جانے پر بھی سی اے اے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا
مبشر لقمان کی طیارہ حادثے پر تحقیقاتی رپورٹ جو وہ ویڈیو میں بیان کر چکے ہیں، آج سچ ثابت ہوئی اورآج آنیوالی تحقیقاتی رپورٹ میں کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولرکو نہ صرف حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا بلکہ طیارہ حادثے میں پی آئی اے اور سی اے اے کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا، حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا طریقہ کار بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے طیارہ حادثے کے بعد ایک دو نہیں بلکہ درجنوں پروگرام کئے اور انہوں نے پالپا سے بھی سوالات کئے، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا،مبشر لقمان کا ایک ویڈیو میں کہنا تھا کہ عید کی چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں،اور میں تو کورٹ میں جاؤں گا ایک شہری کی حیثیت سے اور ڈی جی سول ایوی ایشن پر کرمنل چارج کروں گا کہ اس نے ایئر کرافٹ کریش کی تحقیقات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور انہوں نے یہ چیز لیک آؤٹ کی، مجھے وائس ایڈٹ لگ رہی ہے،ایک دم سے اسےکنٹرولر کہتا ہے کہ تم نے لینڈنگ نہیں کرنی، اور پائلٹ کہہ رہا ہے کہ نہیں ہم مینج کر لیں گے
طیارہ حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ایوی ایشن ڈویژن میں اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری ایوی ایشن، ڈی جی سول ایوی ایشن سمیت دیگر حکام موجود تھے۔ اجلاس میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراء بھی موجود تھے جب کہ تحقیاتی ٹیم کے سربراء ایئر کموڈور عثمان غنی کی طیارہ حادثے کی رپورٹ اجلاس میں پیش کی اور عثمان غنی کی جانب سے طیارے حادثے کی ابتدائی تحقیقات پر بریفنگ دی گئی۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر عثمان غنی نے وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے حوالے کردی۔خبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ عبوری رپورٹ میں طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جب کہ طیارہ حادثے میں پی آئی اے اور سی اے اے کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا، حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا طریقہ کار بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔
بلیک باکس ڈیٹا سے طیارہ میں کسی تکینیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے البتہ حادثے کی وجوہات میں طیارے میں کسی فنی خرابی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا، ابتدائی رپورٹ میں حادثہ انسانی غلطی سے پیش آنے کا شبہ ظاہر کیا گیا، حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں پائلٹس اور اے ٹی سی عملہ کی تواتر سے غلطیوں کی نشاندہی کی گئی، پہلی لینڈنگ پر جہاز 9 ہزار میٹر کے رن وے کے درمیان میں آکر ٹکرایا، پائلٹ دوبارہ اڑا کر لے گیا، پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا، دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا، اس دوران انجن فیل ہوگئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جہاز شروع سے ہی زائد رفتار اور اونچائی پر آرہا تھا، لینڈنگ پوزیشن میں آنے پر بھی جہاز کی اونچائی مقررہ ہائیٹ سے زیادہ تھی، پہلی ناکام لینڈنگ کے 12 گھنٹے بعد تک جہاز کے پرزے رن وے پر موجود رہے،ایئر سائٹ یونٹ نے اکھٹے نہیں کئے، قانون کے مطابق حادثہ کے بعد اے ٹی سی عملہ کو ریلیوو کر دینا چاہئے تھے لیکن شام سات بجے تک مکمل ڈیوٹی کروائی گئی۔
عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں افغان طالبان کے پوسٹر لگنے کے بعد بھارتی فوج شدید خوفزدہ ہو چکی ہے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے،
مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ روز سرینگر میں ہونے والے سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے 3 کشمیریوں کو شہید کیا تو اس دوران کشمیری گھروں سے باہر نکلے اور افغان طالبان کے پوسٹر لہرائے، یہ کشمیر کی جاری تحریک میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کشمیریوں نے افغان طالبان کے پوسٹر لہرائے
رمضان میں یہ خبر آئی تھی کہ افغان طالبان عید کے بعد مقبوضہ کشمیر کا رخ کریں گے، اگرچہ بعد میں طالبان کی جانب سے اس کی تردید آ گئی تھی تا ہم اب رمضان اور عید گزر چکی ، عید کے بعد کشمیر مین طالبان کے پوسٹر اسی سلسلے کی کڑی تو نہیں ہے ،کیا کشمیری اب طالبان کو مقبوضہ کشمیر آنے کی دعوت تو نہیں دے رہے، اب طالبان کی جانب سے کشمیر جانے کے وعدے کی تکمیل کا وقت تو نہیں آ گیا
مقبوضہ کشمیر کی تحریک سات دہائیوں سے جاری ہے اور کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دیں، جان ،مال ،عزتیں لٹوانے کے باوجود کشمیری حق خود ارادیت کے لئے آج بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں، بھارت کی کوئی سازش، حربہ، لالچ کشمیریوں کو حق خودارادیت کے جذبے کو کم نہیں کر سکی، بھارتی فوج جب بھی کشمیریوں پر مظالم کرتی ہے تو کشمیری گھروں سے باہر نکل کر بھارت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہیں ، اس دوران پاکستان کے حق میں بھی نعرے لگائے جاتے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد نو لاکھ فوج کی مدد سے کشمیر پر دوبارہ قبضہ کیا،کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا، یہ سب کچھ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف اور ان سے پوچھے بغیر کیا گیا جو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ تمام بین الاقوامی معاہدوں اور ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہے جسے کشمیریوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو گرفتا ر کر کے نظر بندی کیمپوں میں بند کیا جا رہا ہے جبکہ خواتین کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اور ان کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے
اس دوران بھی کشمیری خاموش نہیں بیٹھے، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تاکہ کشمیری اپنی آواز بلند نہ کر سکیں لیکن کشمیری ڈٹے ہوئے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جاری حالیہ تحریک میں وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ اٹھایا تھا توکشمیریوں نے وزیراعظم عمران خان کے حق میں نعرے لگائےتھے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل کشمیری بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کے دوران جماعۃ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید کے نعرے بھی لگا چکے ہیں اور انہیں کشمیریوں کا حقیقی وکیل قرار دیا تھا. کشمیریوں نے لشکر طیبہ، حافظ محمد سعید کے پوسٹر کئی مقامات پر لہرائے،کشمیری حافظ محمد سعید کو اپنا ہیرو مانتے ہیں، گزشتہ برس شہید ہونے والے برہان مظفر وانی نے بھی حافظ محمد سعید کو اپنا ہیرو قرار دیا تھا،کشمیریوں نے بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کے دوران ایک دو بار نہیں بلکہ ہزاروں بار پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور پاکستان کے جھنڈے بھی لہرائے
باغی ٹی وی کے مطابق بھارت سرکار پاکستان زندہ باد کا نعرے لگانے والے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ تیز کر دیتی ہے، دختران ملت کی چیئر پرسن سیدہ آسیہ اندرابی پاکستان کے یوم آزادی پر ہر برس 14 اگست کو پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں، ان پر بھارت نے پاکستان کا پرچم لہرانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج کر رکھا ہے اور وہ جیل میں ہیں، نہ صرف آسیہ اندرابی بلکہ بھارت سرکار نے تمام حریت قائدن کو جیلوں مین ڈال رکھا ہے.