باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا نے سپیڈ پکڑ لی،پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 24 ہزار 73 ہو گئی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں38 اموات ہونے کے بعد مجموعی تعداد 564 ہو گئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1523 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں سب سے زیادہ 9077، سندھ میں 8640، خیبر پختونخوا میں 3712، بلوچستان میں 1495، گلگت بلتستان میں 388، اسلام آباد میں 521 جبکہ آزاد کشمیر میں 76 مریض ہیں
پاکستان میں کرونا کے اب تک 2 لاکھ 44 ہزار 778 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 ہزار 196 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 6 ہزار 464 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 38 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد کرونا سے جان کی بازی ہارنے والوں کی مجموعی تعداد 564 ہوگئی۔ سندھ میں 157، پنجاب میں 175، خیبر پختونخوا میں 203، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 22 اور اسلام آباد میں 4 مریض جان جان کی بازی ہا رگئے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل بڑی بحث چل رہی میچ فکسنگ کی، ورلڈ کپ فکس ہو گیا پورا یہ نہیں سوچا تھا، بڑے بڑے الزام لگ گئے، الزام لگانے والوں پر الزام لگائے اور ہر آدمی کہتا ہے کہ ثابت ہو جائے تو پھانسی دے دو ،اس کی سزا پھانسی نہیں کچھ اور ہے لیکن ہوا کیا، کیوں کسی ایک خاص یا دو لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے،میچ ایک آدمی تو فکس نہیں کر سکتا، پانچ، چھ سات لوگ ملکر کرتے ہیں، آج میرے ساتھ پاکستان کے سٹار موجود ہیں، سلیم ملک اور عامر سہیل، ان سے بات کریں گے
مبشر لقمان کے سوال پر ایک آدمی تو میچ فکس نہیں کرتا اس پر جواب دیتے ہوئے عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ہو ہی نہیں سکتا،پاکستان میں جو مسئلہ ہے یہ جوئے والا بار بار آپ کے سامنے اسلئے سامنے آتا ہے کہ آپ یہ نہیں کر سکتے ،ایک بندہ یہ نہیں کر سکتا، صاف جج کہہ رہا ہے کہ میں کچھ لوگوں کوبین نہیں کر سکتا جو میرے فیورٹ پلیر ہیں،اگر آپ سلیم ملک کا کیس لے لیں کہ انہوں نے ان پر میچ فکسنگ پر بین کیا اس میں ایک بندہ تو نہیں کر سکتا تو انہوں نے ساتھ دوسروں کو بھی فائل کیا، پاکستان نے گریٹ پلیئر ہیں سلیم ملک ان کے لیول کا پلیئر دنیا میں نہیں ہے، چلیں مان لیا کہ انہوں نے غلطی کی باقی سب کو چھوڑ دیں اور ان پر پابندی لگائیں یہ انصاف نہیں ہو سکتا،اور اسی وجہ سے یہ بار بار ہو رہا ہے،
عامر سہیل کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی جو آج کرنے جا رہا ہوں،عطاء الرحمان مجھے انگلینڈ میں ملا اور رو پڑا کہ میری زندگی برباد ہو گئی میں ٹیکسی چلا رہا ہوں میں بچوں کو کیا بتاؤں میں نے کچھ کیا ہی نہیں. ملک صاحب کی بیٹی کی شادی تھی،وسیم اکرم کو میں نے کہا کہ اب جو ہے آپ سارا کچھ ہپ ہپ نہیں کر سکتے اگر آپ نے اس چیز کو کلوز کرنا ہے تو جو لوگ باہر ہیں جنکو سزا ہوئی وہ کرکٹ بورڈ میں آئے ہوئے ہیں یہ معاملہ برابر ہو گا بصورت دیگر آپ کو خول کرے گا، میں نے اس سے درخواست کی کہ جس کو استعمال کیا اسکو ایڈجسٹ کرواؤ، زندگی میں چیزیں اگنور کرنی پڑیں گی اور اگر آپ انا میں رہے ایسا نہیں کیا تو ذلیل ہوں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا واقعی یہ میچ سلیم ملک سے وسیم اکرم نے فکس کروایا جس پر عامر سہیل نے کہا کہ نہیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جو ماحول سلیم ملک کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم کا بنا ہوا تھا وہ ایک فیملی کی طرح تھے،کسی کو کوئی پریشر نہیں تھا، بڑا اچھا ماحول تھا ہر بندہ اپنا ٹیسٹ دے رہا تھا، پتہ نہیں کیا ہوا
عامر سہیل کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ انصاف کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کو سنبھالنے میں ناکام رہا ہے۔ بدانتظامی کی وجہ سے پریشانیاں ہوتی ہیں، کرکٹ بورڈ دوہرے معیارات رکھتا ہے یہ سلیم ملک یا سلمان بٹ اور آصف کا معاملہ ہوسکتا ہے یا حال ہی میں عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد ہوسکتی ہے۔
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ جب ہم گراؤنڈ میں گئے تھے تو اسوقت کہا گیا کہ وسیم فٹ نہیں ہے ہماری گراؤنڈ میں میٹنگ ہوئی تھی اور بات کی تھی کہ کیا کرنا چاہیے، اس میں ٹیم میں سینئر تھا میں نے گراؤنڈ میں کہا تھا کہ اگر وسیم فٹ نہیں ہیں تو بتا دیں ہم لڑکے تیار کر لیں اگر کل کہا تو پھر ٹیم گر جائے گا، تو وسیم نے کہا کہ میں فٹ ہوں اور انجکشن لگا کر کھیلوں گا، اسکے بعد پتہ چلا کہ عامر ٹاس کرنے جا رہے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے اچھا نہیں تھا اسوقت جو بھی ہوا، کس نے اس کو کہا اس کا نہیں پتہ.
سلیم ملک کا کہنا تھاکہ میرے اوپر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے یہ کیا، کیا کوئی ایک میچ اکیلا بندہ فکس کر سکتا ہے،میرا موقف رہا ہے کہ جسٹس قیوم کی اور اس بات پر لوگ لڑتے ہیں، میرا مشن یہ تھا کہ جسٹس قیوم کی رپورٹ لوگ پڑھیں کیوں نہیں پڑھتے اس کو ، اب لوگوں نے پڑھنا شروع کی تو نام لینا شروع ہوئے، آج تک کسی بندے نے اس رپورٹ کو نہیں پڑھا،سپورٹس جرنلسٹ کے بڑے نام ہیں انہوں نے بھی اس رپورٹ کو نہیں پڑھا، اب ان کو پتہ چل رہا ہے کہ اس میں تو مشتاق، وقار،وسیم کا نام بھی آ رہا ہے، بات یہ ہے کہ کوئی رپورٹ پڑھے تو پتہ چلے، اگر ان سب پر الزامات لگے ہیں میں تو عدالت سے کلیئر ہوا ہوں، آٹھ سال عدالت میں لڑا ہوں،
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ ساؤتھ افریقہ میں اتنی لڑائیاں تھیں آپس میں کہ بتا نہیں سکتے، لوگ کہتے ہین کہ میں شاید بات بنا رہا ہوں، ماسٹر مائینڈ کوئی اور تھا اور ایک گروپ تھا،وہ ٹیم کا حصہ ہیں اور ابھی بھی چوھدری بنتے ہیں میں بتا چکا تھا کہ میں کیا کروں، انکی روز لڑائیاں ہوتی تھی،ہر ایک کی کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی تھی، مجھے کپتان بنا دیا گیا اسکے باوجود میں نے پاکستان کو جتوایا،یہ جو بھی کرتے ہیں میری ٹیم جیت رہی ہے، میں ان سے کام لے رہا ہوں، میں کیا کروں، ایک کو ڈانتتا ہوں تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے.
عامر سہیل کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اپنی پراپرٹیز کو بچانے کے لیے وہ آپ کے پاکستان کے بڑے بڑے آفسز جاتے تھے اور وہ یہ نہیں ہونے دے رہے تھے کہ اگر ان کو سزا ہو گئی تو آئی سی سی پاکستان کرکٹ کو بین کر دے گی، جسٹس قیوم کا فیصلہ سب نے سنا،اگر آپ پھر بھی نہ سمجھیں تو یہی ہو گا، مجھے غصہ چڑھتا ہے ہم بڑھاپے میں آ گئے ایک دوسرے کی عزت کروانی ہے لیکن ایک دوسرے کے خلاف آ گئے ہیں
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ فکسنگ میں 9 لوگ شامل تھے رپورٹ کو پڑھنا چاہئے، لوگوں کے نام آئے ہیں، ہر ایک کا نام آ رہا ہے،اسی طرح آپ کو بہت سے لوگ جانیں بچانے کے لئے اپنے نام لیں گے، عامر یہ ضرور سوال کرتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے، جنہوں نے داڑھیاں رکھی ہین انکے نام بھی ہیں ، مشتاق کا نام ہے اسکا نام کوئی نہین لیتا ، وسیم کا نام ہے، ہر بندے کی ہر زبان پر نام ہے جن جن کا رپورٹ میں نام ہے.
سلیم ملک نے کہا کہ بیس سال پرانی بات کر رہے ہیں میں یہ کہہ رہاتھا کہ نہیں ہو سکتا، عامر کو بھی کہتا تھا آپ کو بھی کہتا تھا، بحث اسی بات پر ہوئی تھی کہ میں نے کہا تھا کہ مجھے ایسا نہیں لگتا،جب سے دنیا بنی ہے تب سے الزام لگ رہے ہیں، شارجہ میں جب سے الزامات لگ رہے ہیں وہان پاکستان کبھی ہارا نہین، میری کپتانی میں بھی سب سے زیادہ جیتا ہوں اور سب سے زیادہ سکور کیا،
عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ہم اس عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں عزت دی جاتی ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی مس ہینڈلنگ ہے، آپ عامر کو کھلا رہے اور سلمان بٹ کو واپس لے لیتے ہیں ،آصف کو نہیں کھیلنے دیا، ایک پر تین سال کی اور ایک پر ڈیڑھ سال کی پابندی لگاتے ہیں، سب نے غلطی کی ہیں کرکٹ بورڈ سب کو بٹھاتا اور کہتا کہ ہم آپ سے کام لینا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہین کیا گیا،مجھے تو شرم آتی ہے اس بات پر کرتے ہوئے،
سلیم ملک نے کہا کہ سب لوگوں کے نام رپورٹس میں آئے ہیں کہنے کی ضرورت نہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا صرف ملک کا نام لیتی ہے اگر دنیا کو سب کا پتہ ہوتا تو اس طرح نہ کرتی، ہم ایک دوسرے کو اسوقت سے جانتے ہیں جب ڈالر 25 روپے کا ملتا تھا،لیکن اسوقت وہ ختم نہیں ہوتے تھے، گولڈ لیف کا سگریٹ پچاس پیسے کا تھا، ہم اسوقت سے جانتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 20 سال آپ سلیم ملک اپنے اوپر بوجھ لیتے رہے ہین اور دوسروں کا نام نہین لیا
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ جب سے کیس چلا میں اسوقت سے شور کرتا آیا ہوں کسی نے آواز نہیں سنی، اسوقت سوشل میڈیا اتنا ایکٹونہیں تھا، میں پریس کانفرنس کرتا تھا تو چھوٹی سی خبر دی جاتی تھی کوئی یہ چاہتا ہی نہین تھا کہ میری خبر باہر آئے، اسوقت میں نے بہت چیخیں ماری تھیں، اب سوشل میڈیا پر کوئی میرا انٹرویو نہ کرے میں اپنی ویڈیو دوں گا ،ساری دنیا میں ویڈیو سنی جائے گی ، اب سوشل میڈیا ایکٹو ہے ، چھابڑی والا بھی سنتا ہے کہ ہم نے کیا کیا، اسوقت ہم روتے تھے لیکن پھر بھی ہماری کوئی نہیں سنتا تھا
سلیم ملک نے اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کی کوشش میں لمبا سفر طے کیا ہے۔ جب اصل مجرموں کو نہ بولنے پر انکوائری کی گئی تو اس نے طاقتور مافیا کے سامنے اپنی بے بسی کا مظاہرہ کیا۔ کامیاب کپتان اور 103 ٹیسٹ میچوں کے تجربہ کار کو انصاف کے برابر مواقع نہیں دئے گئے جو ملک کے کسی بھی آزاد شہری کا حق ہے
دونوں سینئر کھلاڑیوں کا کہنا تھا پاکستانی ٹیم میں اختلافات ہوتے ہیں ، اور گروپ بندی ہمیشہ موجود ہے اور بدعنوانی بھی ہے، پاکستان کے 1994 کے دورہ جنوبی افریقہ ، 1996 ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل اور فائنل کے سلسلے میں بہت سارے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
مبشر لقمان نے کہا کہ میں بھی کرکٹ کا فین ہوں ،ایک کو سزا ملی تو باقیوں کو بھی سزا ملنی چاہئے،اب زندگی کے بیس سال کون دے گا، تمام متعلقہ افراد کو مل بیٹھ کر اس طرح کے تمام مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے سنجیدہ بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس برائی کو ختم کرنا ہے۔
آگے بڑھنے کا راستہ کھلاڑیوں کے ساتھ منصفانہ اور بلا تعصب سلوک کے لئے حکمت عملی وضع کرنے میں کرکٹ بورڈ کا ایماندار اور واضح موقف ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ذاتی ایجنڈے کو پس پشت ڈالیں ، پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو صحیح سمت میں گامزن کریں۔ اگر صحیح طریقے سے سنبھالا نہیں گیا تو یہ پاکستان کرکٹ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے سوشل میڈیا طاقتور ہوتا جارہا ہے اور اب کسی خاص فرد کو الگ تھلگ رکھنا یا کونے میں رکھنا ممکن نہیں ہے۔جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ان کو موقع ہے کہ وہ عوام میں اپنا نقطہ نظر لائیں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔اب پننڈورا باکس کھلا ہوا ہے ، عوام سوالات پوچھیں گے کہ اگر جسٹس قیوم کی رپورٹ اتنی مکمل ہے تو پھر کچھ کھلاڑیوں کو کیوں نرمی دی گئی جبکہ کچھ کی سرزنش ہوئی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں دنیا کو بھارت کے فالس فلیگ آپریشن سے متعلق دنیا کو خبردارکررہاتھا،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دراندازی کے حالیہ الزامات بھارت کے خطرناک ایجنڈے کا حصہ ہیں،لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں،کشمیریوں کی تحریک بھارت کے ظالمانہ اقدامات کےخلاف ہے
I have been warning the world about India's continuing efforts to find a pretext for a false flag operation targeting Pakistan. Latest baseless allegations by India of "infiltration" across LoC are a continuation of this dangerous agenda.The Indigenous Kashmiri resistance against
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آرایس ایس اوربی جے پی کی مشترکہ پالیسیاں سنگین خطرات پرمبنی ہیں،عالمی برادری کو بھارتی جارحیت سے پہلے نوٹس لینا ہوگا،بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہیں،
کرونا کو سندھ سے ہوا پیار، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی بنے کرونا کا شکار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی راشد ربانی کا کورنا وائرس ٹیسٹ مثبت آگیا
وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی نے تصدیق کردی، راشد ربانی میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے
واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ صحتیاب ہو چکے ہیں، گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی کرونا کا شکار ہوئے وہ بھی قرنطینہ میں ہیں، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید بھی خاندان کے 9 افراد کے ہمراہ کرونا کا شکار بنے
وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی کی کرونا سے موت ہو چکی ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی کرونا کا شکار بن چکے ہیں،
پیپلز پارٹی کے سندھ سے اقلیتی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے
اس حوالہ سے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھہیم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرپارکر سے سندھ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی رانا ہمیر سنگھ کی کرونا کی رپورٹ مثبت آئی ہے، انہوں نے کرونا کا ٹیسٹ کروایا تھا جس کی رپورٹ میں ان میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے
خیبر پختونخواہ سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ صحتیاب ہو چکے ہیں، جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے
برہان وانی کے بعد حزب کا کمانڈر بننے والا ریاض نائیکو بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم جاری ہیں، حالیہ جھڑپ میں بھارتی فوج نے حزب المجاہدین کے ٹاپ کمانڈر ریاض نائیکو کو شہید کر دیا
حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائکو کے ضلع پلوامہ کے بیگ پورہ گاوں میں آنے کی اطلاع ملنے کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز بشمول راشٹریہ رائفلز، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے مشترکہ طور پر گاوں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا تھا، ریاض نائکو کے آبائی گاوں میں بھارتی فوج نے منگل کی شام ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا تھا،
بیگ پورہ کے علاوہ گلزار پورہ گاوں کو بھی محاصرہ میں لیا گیا تھا اور ریاض نائیکو کی تلاشی کے لئے گھر گھر چھاپے مارے گئے ،بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران ریاض نائیکو کو شہید کر دیا
8 جولائی 2016 کو اننت ناگ کے ضلع کوکرناگ علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں حزب المجاہدین تنظیم کے پوسٹر بوائے اور کمانڈر برہان وانی کے شہید ہونے کے بعد ریاض نائیکو نے حزب المجاہدین کے کمانڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نائکو کے سر پر 12 لاکھ روپے کا انعام ہے۔ عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے نائکو مقامی اسکول میں استاد تھے۔ وہ 33 سال کی عمر میں بندوق اٹھانے سے پہلے پینٹنگ کے شوقین تھے۔
بھارتی سکیورٹی فورسز نے نائکو کو حزب المجاہدین کے گروپ بندی ہونے کے بعد حزب کو متحد رکھنے کا ذمہ دار قرار دیا۔
قبل ازیں جموں کشمیر پولیس نے منگل کے روز ضلع ڈوڈہ میں حزب المجاہدین کے ایک رکن تنویر احمد ملک ولد مرحوم جمال الدین ملک ساکن تن تانہ ڈوڈہ اور پلوامہ میں جیش محمد کے ایک رکن کو گرفتار کرنے کا دعوی کیاہے۔
انسانیت کی خدمت کا جذبہ معاشرے کی اصل طاقت ہے، وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے سینیٹر فیصل جاوید کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں مسلم ممالک کے مابین تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے سے متعلق گفتگو کی گئی،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات اورمعاشروں کے خصائل کو اجاگر کرنے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار ہے،موجودہ دورمیں انسانیت کے احترام اور احساس پر مبنی اقدار کو اجاگر کیا جائے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مذہب ہمیں دکھی اور مشکل میں گھری ہوئی انسانیت کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے ،دنیا کے کسی بھی کونے میں مقیم پاکستانی مشکل کی ہر گھڑی میں ساتھ ہوتے ہیں،انسانیت کی خدمت کا یہی جذبہ معاشرے کی اصل طاقت اور خوبی ہے،کورونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے پاکستانیوں کا جذبہ قابل تحسین ہے،
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کرونا ریلیف فنڈ کا اعلان کیا تھا، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وباء کیخلاف قومی مدافعت میں معاونت کیلئے "وزیراعظم کا کرونا ریلیف فنڈ-2020” قائم کردیا گیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ سب اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ان لوگوں کی دیکھ بھال ممکن ہوسکے جنہیں بندشوں (لاک ڈاؤن) نے افلاس کے کنارے لاکھڑا کیا ہے
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے قابل ٹیکس عطیات نیشنل بنک آف پاکستان کی کراچی میں قائم مرکزی شاخ میں موجود اکاؤنٹ نمبر: "786 786 4162” پر بھجوائیں
کرونا وائرس، پاکستان میں ایک روز میں 40 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مریضوںکی تعداد 22 ہزار 504 ہو گئی ہے جبکہ اموات 526 ہو گئی ہیں
گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں کرونا سے 40 اموات ہوئیں، جبکہ 1049 نئے مریض سامنے آئے، کرونا کے پنجاب میں 8420، سندھ میں 8189، خیبر پختونخوا میں 3499، بلوچستان میں 1495، گلگت بلتستان میں 386، اسلام آباد میں 485 جبکہ آزاد کشمیر میں 76 مریض ہیں
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق پاکستان میں اب تک 2 لاکھ 32 ہزار 582 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار 178 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 6 ہزار 217 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 40 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 526 ہوگئی۔ سندھ میں 148، پنجاب میں 156، خیبر پختونخوا میں 194، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 21 اور اسلام آباد میں 4 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ کرونا کی وجہ سے پاکستان میں لاک ڈاؤن ہے، گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے لاک ڈاؤن میں نرمی پر اتفاق کیا ہے تا ہم حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کرے گی جس کا آج اجلاس متوقع ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں احساس پروگرام کی جانب سے 12 ہزار کی امداد وصول کرنے کا میسج ملا ہے
پنجاب کے ضلع نارووال سے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی، سابق وزیر داخلہ اور جنرل احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ احساس امداد کے نام پر فراڈ ہو رہے ہیں ۔ انداز کریں کیسے پیسے بانٹےجا رہے ہیں
احسن اقبال کو جس نمبر سے میسج موصول ہوا اس میں لکھا تھا کہ احساس امداد پروگرام کے تحت 12000 روپے وصول کریں، اگر انہوں نے پہلے وصول کر لئے ہیں تو یہ میسج ضائع کر دیں۔
اندازہ کریں کیسے پیسے بانٹے جارہے ہیں یا احساس امداد کے نام پر فراڈ ہو رہے ہیں- یہ میسج میرے فون پر آیا ہے- pic.twitter.com/AE7GzN5LGU
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں لاک ڈاؤن ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران غریب شہریوں کی امداد کے لئے حکومت نے احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار امداد دینے کا اعلان کیا اور ملک بھر میں سنٹر قائم کر کے امدادی رقوم کی تقسیم کی. احساس امداد پروگرام کے تحت جن افراد کو رقوم کی ادائیگی کرنا مقصود ہوتی ہے ان کو بذریعہ میسج آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے قریبی احساس امداد سینٹر سے رقم وصول کر لیں
لاک ڈاؤن کے دوران دیہاڑی دار طبقے کو حکومت کی جانب سے 12 ہزار فی کس امداد بھی دی جا رہی ہے جو حکومت کی جانب سے بہت بڑا امدادی منصوبہ ہے جو انتہائی شفافیت کا حامل ہے اور وزیراعظم عمران خان نے اسکا بھی آڈٹ کروانے کا اعلان کیا ہے. وفاقی حکومت نے احساس پروگرام کے تحت 3 ہفتےمیں 81 ارب روپے تقسیم کیے
احساس ایمرجنسی کیش کے Category-2 کے صارفین جو بذریعہ8171 ایس ایم ایس سروس رجسٹر ہوئے ہیں انکو امدادی رقوم کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی پیکج ہے،
احساس امداد پروگرام کی جانب سے 8171 پر شناختی کارڈ نمبر میسج کرنے پر جوابی میسج ملتا ہے کہ آپ کو امداد ملے گی یا نہیں،لیکن احسن اقبال کو جو امداد کے لئے میسج آیا وہ 8171 سے نہیں آیا اور نہ ہی احسن اقبال نے امداد کے لئے اپلائی کیا بلکہ احسن اقبال کو یہ میسج کسی نے واٹس ایپ پر بھیجا ہے، واٹس ایپ پربھیجا جانے والا میسج فراڈ ہے اور اس ضمن میں احساس پروگرام کی انچارج ثانیہ نشتر متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ امدادی رقوم کے لئے میسج صرف اور صرف 8171 سے آئے گا اسکے علاوہ جس بھی نمبر سے میسج آئے وہ فیک ہو گا
احسن اقبال مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل ہیں، سابق وزیرداخلہ بھی رہ چکے ہیں، وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں انکو جب کسی نے یہ میسج واٹس ایپ پر کیا تو انہوں نے احساس پروگرام کی شفافیت پر سوال اٹھا دیئے حالانکہ وہ یہ جانتے ہوں کہ یہ فراڈ میسج ہے،اسکے باوجود حکومت کے خلاف انہوں نے ٹویٹر پرمہم چلا دی.
احسن اقبال کو موصول ہونے والا میسج احساس کیش پروگرام کا میسج نہیں بلکہ انہیں کسی نے بے وقوف بنایا اور انہوں نے اسی میسج کو آگے شیئر کر دیا.بلکہ میڈیا نے بھی احسن اقبال کے ٹویٹ کو دیکھ کر خبریں چلا دیں اور احساس پروگرام کی شفافیت پر سوال اٹھا دیئے حالانکہ یہ سب فیک تھا اور احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین پروگرام ہے جس کے تحت صرف مستحقین کو امداد مل رہی ہے وزیراعظم عمران خان نے بھی احساس کیش پروگرام کا آڈٹ کروانے کا اعلان کیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جہاں اس وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا کے بہترین صحت کا نظام رکھنے والے بھی اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں وہاں چند طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس اپنا اثر ناکام ہو چکا ہے اسلئے پاکستان میں اموات کی شرح کم ہے،اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں موجودہ وبا شاید اس سے پہلے بھی آئی ہو،اور ہمیں دوسری بار اس کے حملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام کا کرونا وائرس کے خلاف دفاعی رد عمل اور مذاحمت کا مظاہرہ کرنا اتنی محدود اموات ایک متضاد ہے ، وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اب تک اس طرح کے امراض جتنے بھی جسم میں داخل ہوتے ہیں تو اسکے خلاف ہیممینو گلوبلائن تیار کیا جاتا تھا،ایک یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ایوب جدون جو پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں انہوں نے تازہ ترین ریسرچ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وبا کے دوسرے حملے کے دوران پہلے اینٹی باڈیز افراد کے اندر موجود تھے جو نئے وائرس سے جسم میں دفاع کرتے ہیں اور وائرس سے بچاتے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ایک تحقیق آ چکی ہے کہ دنیا اسوقت تین قسم کے کرونا وائرس سے نبردآزما ہے،یعنی جنہیں اے بی اور سی میں تقسیم کیا گیا ہے، جو وائرس ایشیا میں ہے وہ کم نقصان دہ ہے، دنیا کے ماہرین اس بات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ وائرس نے وہ تباہی ایشیا میں کیوں نہیں مچائی ساؤتھ ایشیا میں سوائے ایران کے جو یورپ اور امریکہ میں مچا رہا ہے، ترقی پذیر دنیا میں اس سے بچاؤ کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں تھا تشخیص کی کٹ یہاں نہیں تھیں کہ تشخیص کیسے ہوتی ہے،یعنی عام نزلہ کھانسی زکام کے وائرس میں تبدیلی ناممکن تھا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا سے پہلے ہی سینکڑوں لوگ نمونیہ اور دیگر بیماریوں سے مر رہے تھے ،اور اس کی وجہ آلودگی اور سگریٹ نوشی ہیں، نمونیہ جیسے مسئلے کی وجہ سے بھی اموات ہو رہی تھیں جس کو کرونا کا وائرس نہیں سمجھا جاتا تھا،یہ کرونا شاید نیا نہیں ہے عام طور پر جانوروں ،پرندوں میں موجود ہوتا ہے، بلیوں اور کتوں میں کرونا وائرس موجود ہے، جانوروں اور پرندوں میں موجود کرونا وائرس انسانوں کو متاثر نہیں کر رہا، وائرس کا بدلاؤ اس کا ہمیشہ سے امکان رہتا ہے بدلاؤ کے بعد نئی کشیدگی انسانوں میں بیماری پیدا کرتی ہے، جب انسان نئے تغیر سے پیدا ہونے والے وائرس کا شکار ہوتے ہیں تو مدافعتی نظام جسم میں وائرس کو ختم کرنے اور اسکو ہلاک کرنے کے لئے ایکٹو ہوجاتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اینٹی باڈیز کافی عرصے تک انسان کے خون میں موجود رہتی ہیں اور ویکسن کا کام کرتی ہیں جب بھی وائرس کا دوسرا حملہ ہو جائے تو یہ اینٹی باڈیز نمٹنے کے لئے موجود ہوتے ہیں، ویکسین کا بھی یہی کام ہوتا ہے جسم میں وائرس کے خلاف وہ مدافعت کرتی ہے،جب ایک شخص بیمار ہو کر صحتمند ہوتا ہے تو اسکا جسم اس بیماری کو شکست دینے کا طریقہ سیکھ لیتا ہے، یہ صرف وبا سے صحت یاب ہونے والے لوگوں کا پلازمہ لے کر انتہائی بزرگ لوگوں کو لگایا جاتا ہے،اور دنیا بھر میں انکی جان بچائی جا رہی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تغیر پذیر کو انگلش میں میوٹیشن کہتے ہیں کہ ایک وائرس جو پہلے کئی بار انسان پر حملہ کر چکا وہ تبدیلی کرتا ہے اور ہر بار اس کو ہرانے کے لئے جسم میں نئی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے اور جب یہ ہرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسکے لئے عام نزلہ کھانسی کچھ نہیں ہوتا، کرونا وائرس اس سے قبل شائد چھ سات دفعہ آ چکا ہے اور اب اسکی نئی شکل ہے،کرونا وائرس کا مقابلہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے دفاعی نطام کے ذریعے کیا گیا، کم ترقی یافتہ ممالک میں جن لوگوں میں وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود صحتیاب ہو گئے اس کے برعکس امریکہ، یورپ ،اسرائیل بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اس تبدیل شدہ وائرس کا پہلی بار وہ سامنا کر رہے ہیں، انکے جسم میں اینٹی باڈیز نہیں ہیں اسلئے انکا نقصان زیادہ ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسوقت دنیا میں لگ رہا ہے کہ معاشی فکر وبا کی فکر سے زیادہ ہو گئی ہے، ویکسین تیار ہو نہ ہو ، وبا ختم ہو نہ ہو ، معاشی نقصان ہونے کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن ختم کرنے جا رہے ہیں،اور اس سلسلے کی پہلی کڑی پاکستان میں 10 مئی سے ریل کے سفر کا آغاز ہے ہو سکتا ہے کہ پنجاب حکومت بھی 9 مئی کو کچھ آسانیاں پیدا کر دے، اللہ کرے اس وبا سے پوری دنیا بالخصوص پاکستان کی نجات ہو اور ہمارا کاروبار زندگی پہلے کی طرح رواں دواں ہو، آمین
اسلام آباد :پمز اسپتال میں کورونا وائرس کا پھیلاؤبڑھنے لگا ، ڈاکٹرثروت بھی کرونا کی شکار، انتظامیہ پرناراضگی کی بھرمار،اطلاعات کے مطابق پمز اسپتال کی کورونا کی شکار ڈاکٹر انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑی اور کہا کوروناعلامات کے باوجود انتظامیہ نے ہمیں ڈیوٹی پر مجبور کیا، افسوس ہے ہماری وجہ سے دیگر لوگ وائرس کا شکارہوئے۔
تفصیلات کے مطابق انتظامی نااہلی کےباعث پمز اسپتال میں کورونا وائرس پھیلنے لگا، پمز اسپتال کی کوروناپازیٹیو ڈاکٹر ثروت انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑی اور کہا میں بطور ٹرینی ڈاکٹر پمزشعبہ زچہ بچہ میں تعینات ہوں، تین روز قبل زچہ بچہ سینٹر کی ڈاکٹر میں کوروناکی تصدیق ہوئی ،متاثرہ ڈاکٹر ایم سی ایچ میں دیگر اسٹاف کےہمراہ کر رہی تھیں، ساتھی ڈاکٹر کےبعدمجھ میں کورونا کی علامات ظاہر ہوئیں۔
ڈاکٹر ثروت کا کہنا تھا کہ آج صبح میری کوروناٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی ہے، پمزاسپتال انتظامیہ کی نا اہلی سےکوروناوائرس پھیل رہاہے، کورونا کیس آنے پر انتظامیہ کو زچہ بچہ سنٹر بند کرنے کا کہاتھا۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی غفلت سے کورونادیگرلوگوں کومنتقل ہورہاہے، پمزانتظامیہ کوزچہ بچہ سینٹر بندکرکے عملے کی اسکریننگ کا کہا تھا لیکن کورونا علامات کے باوجود انتظامیہ نے ہمیں ڈیوٹی پرمجبور کیا، افسوس ہے ہماری وجہ سے دیگر لوگ وائرس کا شکار ہوئے۔
پمز اسپتال کی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کوروناٹیسٹ پازیٹیو ہونے پرچھوٹے کمرےمیں بند کر دیا گیا ، انتظامیہ نے جس کمرے میں بند کیا وہ چھوٹا اور گندگی سے اٹا ہوا ہے ، انتظامیہ نےآج دباؤ میں آکر ایم سی ایچ سینٹر کو سیل کیا ، واش روم سمیت کوئی سہولت دستیاب نہیں۔
ڈاکٹر ثروت نے بتایا کہ میں صبح سےمنت سماجت کررہی ہوں کہ خداراکمرہ دےدیں،کوئی نہیں سن رہا، سربراہ پمز اسپتال سے متعدد رابطوں کے باوجود کچھ نہ ہوا، افسوس ہے پمز کے ڈاکٹر کے لیے الگ کمرہ دستیاب نہیں، ڈاکٹر اپنی جان پرکھیل کر مریضوں کاعلاج کررہےہیں۔