Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ناروے میں قرآن کو جلانے کے واقعہ پرغیرت کا ثبوت دینے والے کوسلام پیش کرتے ہیں‌،آصف غفور

    راولپنڈی :قرآن کے محافظ کو سلام ،ڈی جی آئی ایس پی آر کاناروے میں قرآن کو جلانے کے واقعہ پرغیرت کا ثبوت دینے والے کوخراج عقیدت، اطلاعات کے مطابق قرآن کے محافظ کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں بہادر الیاس کو سلئوٹ پیش کرتا ہوں جس نے بہادری کا کام کرتے ہوئے ایک ملعون کو قرآن پاک کو جلانے سے روکا۔

    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اسلامو فوبیا عالمی امن اور ہم آہنگی کے لئے خطرہ ہے اور ایسی اسلامو فوبیا پر مبنی اشتعال انگیزی صرف نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں۔واضح رہے کہ ناروے میں اسلام مخالف مظاہرے کے دوران ایک مسلمان شخص کی بہادری سوشل میڈیا پر خبروں کی زینت بن گئی تھی۔

    https://twitter.com/peaceforchange/status/1197922904094248960?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1197922904094248960&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2F%3Fp%3D33416

    ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں کہ اسلام کے دشمنوں کو یہ پتا ہونا چاہتے کہ دین پرمرمٹنےکاجذبہ،کل بھی تھا اورآج بھی ہے

    ناروے میں اسلام مخالف مظاہرے کے دوران غیر مسلموں کی جانب سےقرآن مجیدکی بے حرمتی کی گئی جس کے خلاف مرد مجاہد میدان میں آیا اوربے حرمتی کرنے والوں کو شیر کی دھاڑ کی طرح للکار دیا تھا۔

    مسلمان نوجوان جس کا نام الیاس بتایا جارہا ہے اس وقت سوشل میڈیا صارفین کی آنکھوں کا تارا بن گیا جب وہ قرآن مجید کی بے حرمتی دیکھتے ہوئے خود پر قابو نہ رکھ پایا اور بھرپور انداز میں اسلام کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کےحوصلے پست کردیئے۔

     

     

  • لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز نے کور آف انجنیئرز کی کمان سنبھالی،آرمی چیف نے بیج لگا کراعزاز بخشا

    بہاولپور:لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز نے کور آف انجنیئرز کی کمان سنبھالی،آرمی چیف تقریب کے مہمان خصوصی تھی ، آئی ایس پی آر کی طرف جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہےکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے رسالپور انجینئرز سینٹر کا دورہ کیا جس کے دوران لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز نے کور آف انجنیئرز کی کمان سنبھالی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بہاولپور میں ہونے والی اس تقریب میں سبکدوش ہونے والے کرنل کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل (ر)جاوید بخاری اور شہداء کے خاندانوں، پاک فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران نے بھی شرکت کی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آپریشنز میں کور آف انجنیئرز کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ قدرتی آفات اور قومی تعمیر نو میں کور آف انجینئرز کا کردار قابل تحسین ہے۔

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، نواز شریف کے واپس نہ آنے کے لیے بہانے تراشنے شروع کردیئے…

    یاد رہے کہ چند دن قبل پاک فوج میں بڑے پیمانے پرتعیناتیاں بھی کی گئی ہیں‌، جنرل ندیم رضا کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا ہے، دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پاک فوج کے شعبہ آئی ایس پی آر کے سابق ڈی جی لیفٹیٹنٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو پاک چین راہداری کے حوالے سے اہم ذمہ داری دی جارہی ہے

    زیراعظم نے سیرسپٹوں پرتین سالوں میں 255 کروڑ اڑا دیئے

  • سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کو ایک بار پھر بڑا عہدہ ملنے کا امکان

    سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کو ایک بار پھر بڑا عہدہ ملنے کا امکان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سدرن کور کی کمانڈ سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ ان کو سی پیک اتھارٹی کا سربراہ بنانے کی سمری منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوا دی گئی ہے جسے آئندہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظور کر لیا جائے گا۔

    ان کی تعیناتی چار سال کے لیے ہوگی، عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی رہ چکے ہیں، وہ بلوچستان میں تعینات رہے ہیں،

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار نے کہا تھا کہ سی پیک اتھارٹی اور پاک چائنہ بزنس کونسل بنانے کا فیصلہ کیا ہے، سی پیک اہداف کے حصول کے لئے نجی شراکت ناگزیر ہے.

    چین کی 70 ویں سالگرہ، وزیراعظم عمران خان نے دیا چین کو اہم پیغام

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    سی پیک اتھارٹی کا اطلاق پورے پاکستان میں ہوگا ،وزیراعظم 4 سال کےلیے اتھارٹی کے چیئرپرسن ہوں گے ،سی پیک اتھارٹی 10ارکان پرمشتمل ہوگی

    سی پیک میں ایران بھی اہم کردار ادا کرنے کو تیار

    قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس نہ ہونےپر سی پیک اتھارٹی آرڈیننس لایا گیا ،وزیراعظم ہی اتھارٹی کےایگزیکٹو ڈائریکٹرز اورارکان کی تعیناتی کریں گےاتھارٹی کاچیف ایگزیکٹو20 گریڈ کا سرکاری افسر ہوگا ،سی پیک سے متعلق کوئی بھی فیصلہ اتھارٹی کے اکثریتی ارکان کی منظوری سے ہوگا

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کی کمیٹی تجویز میں بنیادی نقائص تھے ،کمیٹی نے مسترد کر کے اتھارٹی آرڈننس میں اصلاحات کا کہا تھا،سینیٹ میں سی پیک اتھارٹی آرڈیننس مسترد کرنا پڑے گا،

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ سی پیک کو اتھارٹی کی نہیں بجٹ کی ضررت ہے کمیٹی نے مسترد کرکےاتھارٹی آرڈیننس میں اصلاحات کاکہا تھا،

  • جسٹس گلزار احمد اگلے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیراعظم کوسمری ارسال

    اسلام آباد:اگلے چیف جسٹس آف پاکستان کون ہوں گے ، خبرآگئی ،پاکستان کی سب سے بڑی عدالت جسے عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ کہا جاتا ہے، اس کے سربراہ کی تعیناتی ایک بہت بڑا اوراہم ترین پہلو ہوتا ہے، پاکستان کی سیاست میں عدالت کے کردار کو بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اطلاعات کے مطابق وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جسٹس گلزار احمد کو چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کرنے کی سمری وزیراعظم ہاؤس بھیج دی گئی ہے۔

    آسٹریلیا میں حاملہ مسلمان خاتون پرعیسائی دہشت گردکاحملہ،مسلمانوں پرخوف کے سائے…

    تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس گلزار احمد چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالیں گے۔اس ضمن میں سمری وزیر اعظم ہاؤس ارسال کردی گئی ہے،وزیراعظم منظوری کے لئے سمری صدر مملکت عارف علوی کو بھیجیں گے۔صدر مملکت کی منظوری کے بعد جسٹس گلزار کی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

    اُشنا شاہ ،احسن خان کے ساتھ”بندھے ایک ڈورسے“اہم خبر نے ہلچل مچادی

    جسٹس گلزار احمد 2 فروری 1957 کو کراچی کے ایک ممتاز وکیل نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی کے گلستان اسکول ،بی اے کی ڈگری گورنمنٹ نیشنل کالج جبکہ ایل ایل بی کی ڈگری ایس ایم لاء کالج کراچی سے حاصل کی۔

    امیرکوعدالت،غریب کوعمران خان ریلیف دے گا

    جسٹس گلزار احمد 18 جنوری 1986 کو بطور وکیل رجسٹرد ہوئے۔اس کے بعد 4 اپریل 1988 کو ہائیکورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرد ہوئے جبکہ 15 ستمبر 2001 کو وہ بطور وکیل سپریم کورٹ رجسٹرد ہوئے۔وہ 1999 سے 2000 کے تک سندھ ہائیکورٹ کے بار کے اعزازی سیکرٹری بھی رہے۔جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002 کو سندھ ہائیکورٹ میں بطور جج نامزد ہوئے۔

    جرمنی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے مبینہ ایجنٹ میاں بیوی کا ٹرائل شروع

    وہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ ٹیکنالوجی، این ای ڈی یونیورسٹی آف اینجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، سر سید یونیورسٹی آف اینجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،اقرا یونیورسٹی، احمد ای ایچ جعفر فاؤنڈیشن اور آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ 20 دسمبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

  • فارن فنڈنگ کیس، سماعت سے قبل عمران خان نے بڑا اقدام اٹھا لیا

    فارن فنڈنگ کیس، سماعت سے قبل عمران خان نے بڑا اقدام اٹھا لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس 24نومبر کو بنی گالہ میں طلب کیا گیا،اجلاس میں نوازشریف کی بیرون ملک روانگی، گورننس سمیت قومی نوعیت کے معاملات پر بات ہوگی

    جہاز کو دیکھ کر نواز ٹھیک ہو گیا،ڈاکوؤں کا مقابلہ کروں گا، خان کرسی کیلئے نہیں تبدیلی کیلئے آیا ہے، وزیراعظم

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    لندن میں ایسا استقبال ہوا کہ نواز شریف نے پاکستان واپس جانے کی خواہش کر دی

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت کی رپورٹس پر بھی بات ہوگی ،اجلاس میں پولیس ریفارمز، گورننس ریفارمز ،پارلیمانی سیاست پر بات ہوگی ،اجلاس میں چیرمین پی اے سی، الیکشن کمیشن کےممبران کی تقرری پرمشاورت ہوگی.

    باغی سیپشل،پاکستانی سیاست میں دسمبر کا مہینہ انتہائی اہم، کیا ہونے جا رہا ہے؟چہ میگوئیاں‌ جاری

    اجلاس میں فارن فنڈنگ کیس کے حوالہ سے بھی بات چیت ہو گی،26 نومبر سے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر سماعت شروع ہونی ہے، فارن فنڈنگ کیس کی درخواست پی ٹی آئی کے سابق رہنما نے الیکشن کمیشن میں دی تھی، روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی درخواست اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے گزشتہ روز دی تھی جس کو الیکشن کمیشن نے قبول کر لیا,

    5 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے، اپوزیشن جماعتوں کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ انہی کے دور ملازمت میں ہو، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج مطالبہ کیا ہے کہ اگر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے.

  • جہاز کو دیکھ کر نواز ٹھیک ہو گیا،ڈاکوؤں کا مقابلہ کروں گا، خان کرسی کیلئے نہیں تبدیلی کیلئے آیا ہے، وزیراعظم

    جہاز کو دیکھ کر نواز ٹھیک ہو گیا،ڈاکوؤں کا مقابلہ کروں گا، خان کرسی کیلئے نہیں تبدیلی کیلئے آیا ہے، وزیراعظم

    جہاز کو دیکھ کر نواز ٹھیک ہو گیا،ڈاکوؤں کا مقابلہ کروں گا، خان کرسی کیلئے نہیں تبدیلی کیلئے آیا ہے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ مافیا رہ گیاتو اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں، عمران خان کرسی بچانے نہیں،تبدیلی کیلئے آیا ہے، حسن نواز 8ارب روپے کے گھر میں رہتاہے، عدالت میں دستاویزات دے کرلندن فلیٹ کا بتایا،ان کی ہر دستاویز جعلی نکلتی ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ مدرسوں کا تعلیمی نظام بہترکریں گے، جھوٹ بول کربچوں کو اسلام آباد بلایاگیا، فضل الرحمان کےہوتے ہوئے یہودیوں کوسازش کی کیا ضرورت ہے، جھوٹا منڈیلا شہبازشریف بھی کنٹینر پرپہنچ گیا، ان سے ڈیل اس ملک سےغداری ہوگی، ان ڈاکوؤں کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا،

    کینٹنر پر بے روزگار سیاستدان آئے تھے وہ اس لئے نہیں آئے تھے کہ پاکستان کی معیشت کی حال بری ہے ان کو فکر یہ تھی کہ پاکستان کی معیشت ٹھیک ہونے جا رہی ہے، ان کی سیاسی دکانیں بند ہونے لگی ہیں ، ان کو خطرہ یہ ہے کہ مجھے ایف آئی اے سے ساری انفارمیشن آ جاتی ہے ،مجھے سب پتہ ہے انہوں نے آگے جا کر کہیں نہ کہیں پھنس جانا ہے ،ہم نے ان کا پیسہ نکالنا ہے، تبدیلی کیوں نہیں آتی، جب ایک سسٹم کرپٹ ہو جاتا ہے تو اداروں میں مافیا بیٹھ جاتا ہے جو پیسے بنانا شروع ہو جاتا ہے، جب تبدیلی لے کر آتے ہیں تو وہ مافیا سامنے کھڑا ہو جاتا ہے پھر مک مکا ہوتا ہے، جب مشرف نے احتساب شروع کیا تو ہم سب اسکے ساتھ تھے پھر ہم نے بتایا کہ کرسی خطرے میں ہو گی ،مشرف نے پھر احتساب ختم کیا اور شریفوں‌کو باہر بھجوا دیا، عمران خان اپنی کرسی بچانے کے لئے نہیں بلکہ تبدیلی لانے کے لئے آیا ہے، تبدیلی تب آئے گی جب مافیا کو شکست دیں گے.

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ نوازشریف کوجہاز پرچڑھتا دیکھا تو ڈاکٹر کی رپورٹ دیکھی، نوازشریف کی رپورٹ میں 15 بیماریاں بتائی گئی تھیں، شایدنوازشریف کولندن کی ہوالگی توٹھیک ہوگئے، ایسا زبردست جہازتھا نوازشریف دیکھ کرٹھیک ہو گئے، جس جہازمیں نوازشریف گیاعام آدمی نہیں جاسکتا

  • تبدیلی کیوں نہیں آ رہی، وزیراعظم خود بول پڑے، کیا وجہ بتائی، اہم خبر

    تبدیلی کیوں نہیں آ رہی، وزیراعظم خود بول پڑے، کیا وجہ بتائی، اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ خوشی زچہ وبچہ اسپتال کےسنگ بنیاد کی ہے، میانوالی کے لوگو یاد رکھو قومیں تعلیم سے ترقی کرتی ہیں جتنے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے سنٹر ہوں گے ملک اتنا اوپر آئے گا، نمل یونیورسٹی دن بدن بہتر ہو رہی ہے، بیرون ملک سے اساتذہ کام کرنے کے لئے یہاں آئے ہیں، میانوالی کے ویرانے میں لوگ آئے ہیں،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میانوالی یونیورسٹی یہاں بنے گی، سکول بھی بنائیں گے، اس ہسپتال کے علاوہ ایک عمدہ ہسپتال شروع کرنے والے ہیں، زمین بھی لے لی ہیں، انیل مسرت خاص طور پر یہ ہسپتال بنا رہے ہیں یہ سرکاری نہیں ہو گا، پھر یہاں سے اسلام آباد یا لاہور نہیں جانا پڑے گا آپ کا علاج میانوالی میں ہو گا، اس موقع پر شرکاء نے عمران خان زند ہ باد کے نعرے لگائے

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ میانوالی میں مجھے تب ووٹ ملے تھے جب کسی نے نہیں دیے تھے، میں میانوالی سے ایم این اے بنا تو لوگ مجھے درخواستیں دیتے تھے سکول نہیں ہیں سکول ہیں تو ٹیچر نہیں، پانی، روزگار، تھانوں کے مسئلے، جھوٹے کیس، طاقتور کمزور پر ظلم کرتے تھے ،کمزور کو انصاف نہیں ملتا تھا میں نے تھانہ کچہری، پٹواری، سکول ،ہسپتال کے مسئلے سنے، دیکھیں آج میں عمران خان وزیراعظم ہوں ،کل نہیں ہوں گا کیا کل میانوالی کی سکیمیں ،فنڈ ختم ہو جائیں گے ہم نے نظام بدلنا ہے ایک ایسا نظام ہو جو خود بخود چلتا رہے،ہم بلدیاتی نظام لے کر آ رہے ہیں، ہم آپ کی تعلیم میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، جو ملک ہم سے آگے چلے گئے ہیں ان کی ایک بڑی وجہ زبردست بلدیاتی نظام ہے، بلدیاتی نظام کبھی بھی پاکستان میں اچھا نہیں آیا، اب ہم جو نظام خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں لا رہے ہیں وہ بہت اچھا ہے ،ایک صوبے میں فنانس کمیشن بنے گا جو پیسہ صوبے میں آئے گا وہ ڈسٹرکٹ میں جائے گا اور پھر گاؤں میں جائیگا، یہ نہیں ہو گا کہ ڈسٹرکٹ ناظم فیصلہ کرے کہ پیسہ کس یونین میں خرچ کرنا ہے، گاؤں کے لوگ خود مشورہ کریں گے کہ پیسہ کہان خرچ کرنا ہے، گاؤں کے لوگ سکول کی نگرانی کریں گے، اپنے بی ایچ یو کا دھیان رکھیں گے کہ وہاں ڈاکٹر ہیں یا نہیں، تھانوں کے حوالہ سے بھی دیکھیں گے

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہم جو بلدیاتی نظام لا رہے ہیں پیسہ اوپر سے نیچے تک پہنچے گا، چند ماہ میں بلدیاتی الیکشن ہونے والے ہیں، قانون بن چکا ہے، شہروں کے الگ الیکشن ہوں گے، ناظم اپنی ٹیم بنائے گا، سیوریج سسٹم و دیگر نظام انکے پاس چلے جائیں گے،جب تک ہم ایسا نظام نہیں لائیں گے ملک ترقی نہیں کرے گا، وزیراعلیٰ لاہور سے آیا تو سارا پنجاب کا فنڈ لاہور میں چلا گیا.شہر کے اپنے الیکشن ہوں گے جس کا کام مسئلے حل کرنا ہوں‌گے، ساری دنیا میں ایسا ہی ہے، جو کامیاب سسٹم باہر ہیں اسکو پاکستان میں لا رہے ہیں

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ میانوالی میں باشعور نوجوان ہیں، آپ نے مجھے پہلی بار منتخب کیا تھا ، میرا کام آپ کو سمجھانا ہے کہ اب پاکستان کہاں کھڑا ہے، سارے کینٹینر پر چڑھ گئے کہ ملک تباہ ہو گیا، میں بتاتا ہوں کہ ملک کدھر تھا اب کہاں کھڑے ہیں، ہمیں جب الیکشن کے بعد پاکستان مین ملا تو اس میں دو مسئلے تھے، جتنا ہم پیسہ اکٹھا کرتے ہیں ملکی آمدنی اور خرچ میں تاریخی خسارہ ہماری حکومت کو ملا ، کسی حکومت کو اتنا خسارہ نہیں ملا،بجلی میں بہت خسارہ ملا،گردشی قرضہ زیادہ تھا، گیس کا کبھی خسارہ نہیں تھا لیکن ن لیگ 154 ارب کا خسارہ چھوڑ کر گئی، اس ملک کے ساتھ کیا ہوا سمجھنا ہو گا، جتنے ڈالر ملک میں آ رہے ہیں اور کتنے جا رہے ہیں اس میں تاریخی خسارہ تھا، زیادہ ڈالر باہر جا رہے تھے، ایکسپورٹ کم تھی اور امپورٹ تین گنا زیادہ تھی، جب ڈالروں میں خسارہ بڑھ جاتا ہے تو روپیہ گرنا شروع ہو جاتا ہے، روپئے کو اوپر رکھنے کے لئے ڈالر مارکیٹ میں پھینک کر قیمتیں اوپر پچھلی حکومت رکھ رہی تھیں، آج اللہ کا بڑا کر م ہے کہ روپیہ 35 فیصد گرا، ڈالر تین سو تک بھی جا سکتا تھا، جو ہم تیل باہر سے امپورٹ کرتے تھے، گھی ملائشیا سے امپورٹ کرتے تھے وہ چیزیں مہنگی ہو گئیں، تیل مہنگا ہونے سے بجلی مہنگی ہو گئی، اسکی وجہ سے ٹرانسپورٹ مہنگی ہو گئی اور مہنگائی ہو گئی، مہنگائی اس لئے آئی کہ یہ خسارہ چھوڑ کر گئے تھے،یہ ہے مہنگائی کی داستان،

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پچھلے چار ماہ میں خسارہ تھا چار سال میں پہلی بار ڈالر اب ملک میں زیادہ آ رہے ہیں اورباہر کم جا رہے ہیں یعنی ملک خسارہ کم ہو گیا ہے، روپیہ اوپر چلا گیا ہے، ہم کوئی ڈالر نہیں خرچ کر رہے، جو ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں یہ بھی پہلی بار ہوا کہ ہم نے وہ خسارہ بھی کر دیا، اگر ہمیں سود نہ دینا پڑے جو انہوں نے قرضے لئے تو ہم سرپلس پر چلے جائیں،اسکی وجہ سے سٹاک مارکیٹ اوپر چلی گئی، پاکستان صحیح راستے پر چلا گیا،کینٹنر پر بے روزگار سیاستدان آئے تھے وہ اس لئے نہیں آئے تھے کہ پاکستان کی معیشت کی حال بری ہے ان کو فکر یہ تھی کہ پاکستان کی معیشت ٹھیک ہونے جا رہی ہے، ان کی سیاسی دکانیں بند ہونے لگی ہیں ، ان کو خطرہ یہ ہے کہ مجھے ایف آئی اے سے ساری انفارمیشن آ جاتی ہے ،مجھے سب پتہ ہے انہوں نے آگے جا کر کہیں نہ کہیں پھنس جانا ہے ،ہم نے ان کا پیسہ نکالنا ہے، تبدیلی کیوں نہیں آتی، جب ایک سسٹم کرپٹ ہو جاتا ہے تو اداروں میں مافیا بیٹھ جاتا ہے جو پیسے بنانا شروع ہو جاتا ہے، جب تبدیلی لے کر آتے ہیں تو وہ مافیا سامنے کھڑا ہو جاتا ہے پھر مک مکا ہوتا ہے، جب مشرف نے احتساب شروع کیا تو ہم سب اسکے ساتھ تھے پھر ہم نے بتایا کہ کرسی خطرے میں ہو گی ،مشرف نے پھر احتساب ختم کیا اور شریفوں‌کو باہر بھجوا دیا، عمران خان اپنی کرسی بچانے کے لئے نہیں بلکہ تبدیلی لانے کے لئے آیا ہے، تبدیلی تب آئے گی جب مافیا کو شکست دیں گے.

  • سزائے موت کے قیدی کی طبی سہولیات کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    سزائے موت کے قیدی کی طبی سہولیات کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق اڈیالہ جیل میں سزائے موت کے قیدی نے طبی سہولتوں کیلئے درخواست دے دی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی ،عدالت نے حکم دیا کہ وزارت انسانی حقوق چاروں صوبوں سے تفصیلات اکٹھی کرے، ایسے جتنے بھی قیدی ہیں ان کاڈیٹا اکٹھا کریں، انسانی حقوق کے اہم معاملے پرتفصیلی فیصلہ جاری کروں گا،

    نوازشریف 2 دن میں چلے گئے،ایک قیدی 6 سال سے واپس نہیں لا سکے، سیکرٹری داخلہ،خارجہ کو جیل بھیجوں گا، عدالت

    اڈیالہ جیل کے قیدی خادم حسین نےچیف جسٹس ہائیکورٹ کوخط لکھا تھا .چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھے گئے خط میں قیدی نے کہا کہ بینائی کا مسئلہ ہے،آنکھوں کےعلاج کی سہولت دی جائے،- عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے جواب طلب کررکھا ہے ،عدالت نے پورے ملک سے بیمار قیدیوں کاریکارڈ طلب کرلیا

    نواز کے لندن جانے کے بعد دیگرقیدیوں کی بھی سن لی گئی، وزیراعظم کا بڑا حکم،

    یاد رہے لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی ، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو علاج کےغرض سے 4 ہفتوں کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

    اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں جیلوں میں 10 ہزار بیمار قیدیوں نے طبی بنیاد پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نوازشریف کی طرح بیمار قیدیوں کو طبی بنیاد پر ضمانت دی جائے۔بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے درخواست چیف سیکریٹری پنجاب کو بھجوا دی تھی اورچیف سیکریٹری پنجاب کو درخواست پر فیصلے کی ہدایت کی تھی، عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں 10 ہزارسے زائد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جیلوں میں قیدیوں کو علاج کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

     

  • باغی سیپشل،پاکستانی سیاست میں دسمبر کا مہینہ انتہائی اہم، کیا ہونے جا رہا ہے؟چہ میگوئیاں‌ جاری

    باغی سیپشل،پاکستانی سیاست میں دسمبر کا مہینہ انتہائی اہم، کیا ہونے جا رہا ہے؟چہ میگوئیاں‌ جاری

    باغی سیپشل،پاکستانی سیاست میں دسمبر کا مہینہ انتہائی اہم، کیا ہونے جا رہا ہے؟چہ میگوئیاں‌ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لئے ماہ نومبر اور دسمبر انتہائی اہم ہیں، نومبر اور دسمبر میں ایک طرف عدالتوں سے اہم فیصلے آنے ہیں تو دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے،وزیراعظم عمران خان پر دہشت گردی کیس کا فیصلہ آنا ہے، پرویز مشرف پر سنگین غداری کیس کا فیصلہ بھی دسمبر میں آنا ہے، چیف الیکشن کمشنر بھی دسمبر میں ریٹائرڈ ہو رہے ہیں.

    26 نومبر سے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر سماعت شروع ہونی ہے، فارن فنڈنگ کیس کی درخواست پی ٹی آئی کے سابق رہنما نے الیکشن کمیشن میں دی تھی، روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی درخواست اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے گزشتہ روز دی تھی جس کو الیکشن کمیشن نے قبول کر لیا

    28 نومبر کو سابق صدر پرویز مشرف کے غداری کیس کا فیصلہ بھی آنا ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا ہے اور کہا ہے کہ پرویز مشرف کے وکیل کو تین بار مہلت دی اب 28 نومبر کو فیصلہ سنایا جائے گا،

    5 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے، اپوزیشن جماعتوں کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ انہی کے دور ملازمت میں ہو، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج مطالبہ کیا ہے کہ اگر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے.

    الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری، خورشید شاہ کا قانونی کاروائی کا اعلان

    الیکشن کمیشن کی اراکین کی تقرری، مسلم لیگ ن بھی میدان میں آگئی، مریم اورنگزیب کا بڑا اعلان

    افسوس، پارلیمنٹ پر حملہ کر دیا گیا، رضا ربانی نے ایسا کیوں کہا؟

    5 دسمبر کو وزیراعظم عمران خان پر پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیس کا فیصلہ آنا ہے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے، سرکاری وکیل نے آخری سماعت پر کہا تھا کہ ہمیں وزیراعظم عمران خان کی بریت پر کوئی اعتراض نہیں.

    15 دسمبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک کی اجازت ختم ہو رہی ہے، نواز شریف بیماری کے باعث لندن روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ گھر میں مقیم ہیں، انہوں نے ایک بار ہسپتال کا دورہ کیا، نواز شریف کی لندن گھر میں فزیو تھراپی جاری ہے، نواز شریف کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8 ہفتوں کے لئے معطل کی تھی، نواز شریف کی سزا معطلی 25 دسمبر کو ختم ہونی ہے تا ہم علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت انہیں 4 ہفتوں کے لئے ملی ہے نواز شریف 4 ہفتوں بعد واپس آئیں گے یا نہیں 15 دسمبر تک معلوم ہو گا.

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت کیا کرنے جا رہی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتا دیا

    شہباز اگر مگر کے بغیر واضح طور پہ بتائیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے؟ عدالت

    لندن میں ایسا استقبال ہوا کہ نواز شریف نے پاکستان واپس جانے کی خواہش کر دی

    21 دسمبر کو چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے,چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار شمیم31 دسمبر کو ریٹائر ہوں گے اور یکم جنوری 2020 کو سینئر ترین جج جسٹس مامون الرشید شیخ گورنر ہاﺅس لاہور میں حلف اٹھائیں گے، ان کے ساتھ دوسرے جج جسٹس شاہد مبین بھی31 دسمبر کو ہی ریٹائر ہوںگے،

  • امیرکوعدالت،غریب کوعمران خان ریلیف دے گا،65 سال سے زائد عمربیمارقیدیوں کورہا کرنےفیصلہ

    اسلام آباد:امیرکوعدالت،غریب کوعمران خان ریلیف دے گا،65 سال سے زائد عمربیمارقیدیوں کورہا کرنےفیصلہ، اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دست راست اسد عمر نے کہا ہےک ایسے بیمار قیدی جو کسی گھناؤنے جرم کے مرتکب نہ ہوں اور ان کی عمر 65 سال سے زیادہ ہو انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے 65 سال سے زائد عمر کے بیمار قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم نے حکم دیا ہےکہ جلد از جلد ایسے بیمار قیدیوں کی فہرست تیار کرکے پیش کی جائے

    سعودی عرب میں پاکستانی لڑکیاں کیوں گرفتارکرلی گئیں‌،اہم وجہ سے سرشرم سے جھک گئے

    اپنے بیان میں اسد عمر نے کہا کہ ایسے بیمار قیدی جو کسی گھناؤنے جرم کے مرتکب نہ ہوں اور ان کی عمر 65 سال سے زیادہ ہو انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسد عمر کے مطابق وزیراعظم نے ایسے قیدیوں کو رہا کرنے کی پالیسی بنانے کا کہا ہے، یہ ایسے پاکستان کی طرف ایک اور قدم جہاں اولین ترجیح کمزور طبقہ ہے نہ کہ طاقتور اور دولتمند افراد۔

    کامیاب سفارتکاری جاری !پاکستان یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج نے بھی صدر مملکت سے ملک بھر کی جیلوں میں قید بیمار قیدیوں کی سزا معاف کرنے کی درخواست کی ہے۔ارسلان تاج نے اپنے خط میں صدر مملکت سے درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مجرم ملک سے باہر جاسکتا ہے تو باقی غریبوں کو بھی معاف کیا جائے اور پاکستانی جیلوں میں قید بیمار مریضوں کی سزا معاف کی جائے۔

    x