Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف کا احسن اقدام،بھارت سے واپس بھیجے گئے دو بچوں کے علاج کا لیا ذمہ

    آرمی چیف کا احسن اقدام،بھارت سے واپس بھیجے گئے دو بچوں کے علاج کا لیا ذمہ

    پہلگام فالس فلیگ ، آرمی چیف کا احسن اقدام سامنے آیا ہے،بھارت سے واپس بھیجے گئے دو بچوں کے علاج کا ذمہ لے لیا

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی سرکار نے غیر انسانی اقدام اٹھاتے ہوئے زیر علاج مریضو ں کو بھی پاکستان واپس بھیج دیا ،دل کے عارضے میں مبتلا دو بچوں کے والد شاہد احمد نے مودی کے غیر انسانی اقدام کی سخت مذمت کی ،حیدر آباد ، سند ھ کے رہائشی شاہد احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میرے دو بچے پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور میں ان کا علاج کروانے بھارت گیا "21 اپریل 2025 کو ہم اپنے بچوں کے علاج کی غرض سے بھارتی شہر فرید آباد پہنچے ، 22اپریل کو دونوں بچوں کے میڈیکل ٹیسٹ کئے، 23 اپریل کو ڈاکٹر ز نے سرجری پلان کر لی ، 24 اپریل کو بھارتی "فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس” سے کال آئی کہ اگلے 48گھنٹوں میں ہم نے بھارت چھوڑنا ہے،مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں،میں آر ایس ایس اور مودی کے اس پاکستان دشمن اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں، ہندو مذہب بھی انسانیت کا درس دیتا ہے،میں نے اپنے بچوں کے علاج کے لئے 7 سال کی تگ و دو کے بعد بھارت کا ویزہ حاصل کیا ،دوران علاج بی جے پی کی حکومت نے ہمیں پاکستان واپس بھیج کر غیر اخلاقی اور غیر انسانی سلوک کیا ، میں آرمی چیف کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بچوں کو فوری علاج کی سہولیات فراہم کی، میں کہنا چاہوں گا AFICراولپنڈی میں میرے بچوں کا علاج میری اُمیدوں سے زیادہ بڑھ کر کیا جا رہا ، مجھے بچوں کے علاج معالجے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہے، شاہد احمد

    ڈاکٹر محبوب سلطان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس دو بچے عبداللہ (9سال) اور منسا (7سال ) زیر علاج ہیں دونوں بچے پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، دونوں بچوں کے دل میں سوراخ ہیں اور پھیپھڑوں کی نالیاں بھی کمزور ہیں، دونوں بچوں کی مرحلہ وار سرجری ہو گی ، اگلے چند دنوں میں پہلے مرحلے کی سرجری کو مکمل کیا جایا گیا ،ہمارے ہاں بچوں کی پیدائشی دل کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے، میرےخیال میں اس بیماری کے علاج کے لئے ان بچوں کو باہر جانے کی ضرورت نہیں ،ہم اس سے پہلے بھی کافی بچوں کی سرجریز کر چکے ہیں ،

    بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر ، اے ایف آئی سی کا کہنا ہے کہ اے ایف آئی سی پاکستان آرمی کا "اسٹیٹ آف دی آرٹ” ہسپتال ہے، اے ایف آئی سی میں دل کے پیچیدہ امراض کا علاج کیا جاتا ہے، جو بچے ہمارے پاس علاج کے لئے آتے ہیں ، اُن کے علاج کے لئے ہمارے پاس ساری سہولیات موجود ہیں ہم بین الاقوامی معیار کے مطابق سرجریز بھی مہیا کرتے ہیں ، جو دو بچےہمارے پاس علاج کے لئے آئے ہیں ، یہ Tetralogy of Fallot کی بیماری میں مبتلا ہیں، اس بیماری میں تھوڑی پیچیدگیاں ہیں کیونکہ پھیپھڑوں کی نالیاں چھوٹی ہیں ،ہم ان بچوں کی مرحلہ وار سرجریز کریں گے، یہ علاج بین الاقوامی اصولوں اور معیار کے بالکل عین مطابق ہے

  • بھارتی فوج میں بغاوت،سکھ فوجیوں کا لڑنے سے انکار،آڈیو جاری

    بھارتی فوج میں بغاوت،سکھ فوجیوں کا لڑنے سے انکار،آڈیو جاری

    خالصتان کی حامی تنظیم سکھس فار جسٹس نے ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں ایک حاضر سروس بھارتی فوجی نے بھارتی فوج کے اندر شدید بے چینی اور بغاوت کے آثار ظاہر کیے ہیں۔ اس پیغام کے ذریعے کئی اہم انکشافات کیے گئے ہیں جن سے بھارتی فوجی نظام کی اندرونی حالت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    آڈیو پیغام میں مذکورہ بھارتی فوجی نے دعویٰ کیا ہے "بھارتی فوج میں بغاوت کی فضا بن رہی ہے، اور بغاوت کو روکنے کے لیے بھارتی کمانڈروں نے سپاہیوں اور افسروں کے موبائل فون ضبط کر لیے ہیں اور سپاہیوں کو کسی بھی قسم کے رابطے سے روک دیا گیا ہے۔”

    سکھس فار جسٹس نے واضح طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ سکھ فوجی پاکستان کے خلاف کسی بھی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ "یہ مودی حکومت کی سیاسی جنگ ہے، جس کا خالصتانی سکھوں سے کوئی تعلق نہیں۔”تنظیم کے مطابق، انہیں بھارتی فوجیوں کی جانب سے براہ راست پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سکھ فوجی پاکستان کے خلاف جنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اور بنگال سے تعلق رکھنے والے سپاہی بغاوت کریں گے اور اپنی پوسٹیں چھوڑ دیں گے۔ان علاقوں کے فوجی پاکستان آرمی کے پنجاب و کشمیر میں داخلے پر ان کا ساتھ دیں گے۔

    سکھس فار جسٹس نے حکومت پاکستان اور پاک افواج سے اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان آرمی پنجاب اور کشمیر میں داخل ہو۔پاکستانی فوج کا داخلہ شری گرو گرنتھ صاحب کی قیادت میں ہونا چاہیے۔ خالصتان اور پاکستان کے پرچم ایک ساتھ ٹینکوں اور توپوں پر لہرائیں۔پنجاب کے سکھ پاکستانی افواج کا خیرمقدم کریں گے۔پاکستان آرمی اور سکھ افواج مشترکہ طور پر دہلی کے لال قلعے پر خالصتان کا پرچم لہرائیں گی۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام جارحیت نہیں بلکہ ایک دفاعی قدم ہوگا، کیونکہ بھارتی حکومت پہلے ہی پاکستان کے خلاف آبی دہشتگردی کے ذریعے جنگ کا آغاز کر چکی ہے۔

    "نہ ہندی، نہ ہندوستان — دہلی بنے گا خالصتان”پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو فوری فیصلہ کن فوجی قدم اٹھانا ہوگا تاکہ 220 ملین پاکستانی مسلمانوں کا دفاع ممکن ہو۔بھارت ایک نہیں، نو حصوں میں تقسیم ہو جائے۔

  • پہلگام ڈرامہ،بھارت ایک اور الزام جھوٹا ثابت ہو گیا

    پہلگام ڈرامہ،بھارت ایک اور الزام جھوٹا ثابت ہو گیا

    پاکستان پر بھارتی الزام جھوٹ ثابت: آزاد کشمیر میں دہشت گرد ٹریننگ کیمپ کا کوئی شواہد نہیں

    بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے بیلانور شاہ میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت نے اس الزام کو جواز بنا کر پہلگام واقعے کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن جب ان الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے پاکستانی اور عالمی میڈیا نے بیلانور شاہ کا دورہ کیا، تو ان کی ساری باتیں بے بنیاد ثابت ہوئیں۔

    بیلانور شاہ، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے تقریباً 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، میں نہ تو دہشت گردوں کے کسی تربیتی کیمپ کا کوئی شواہد ملے اور نہ ہی کسی ایسی سرگرمی کا پتا چلا جس سے بھارت کے الزامات کی تصدیق ہو سکے۔ اس کے برعکس، علاقے میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور وہاں کا ماحول نہایت پرامن ہے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہم 37 سال سے یہاں رہ رہے ہیں اور ہم نے کبھی بھی اس علاقے میں کسی قسم کے دہشت گردانہ تربیتی کیمپ نہیں دیکھے۔ یہاں لوگ اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہیں اور امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔”ایک سیاح نے کہا کہ "ہم یہاں تفریح کے لیے آئے تھے، اور ہم نے دیکھا کہ بچے اسکولوں میں جا رہے ہیں، ایک کالج بھی یہاں موجود ہے اور یہاں کی تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔”

    علاقے میں موجود تعلیمی اداروں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ بیلانور شاہ کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں بچے خوشی خوشی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایک خاتون پرنسپل نے بتایا کہ "ہم اس ادارے کو پانچ سال سے چلا رہے ہیں، یہاں پر کسی بھی قسم کی غیر معمولی سرگرمی نہیں ہوئی، اور ہم نے ہمیشہ ایک پرامن ماحول میں تدریس کی ہے۔”

    اس کے علاوہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھارتی الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔ "بھارت کی ساری حکمت عملی بچگانہ اور تخیلاتی ہے۔ یہاں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے، اور دہشت گردوں کے کیمپوں کا وجود کسی صورت میں ثابت نہیں ہوتا۔”عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ "ہم یہاں آئے ہیں تاکہ ہم دنیا کو یہ بتا سکیں کہ بھارت کا یہ دعویٰ محض جھوٹ ہے۔ ہم نے ان کی تردید کی ہے اور یہاں آ کر خود اس کا مشاہدہ کیا ہے۔”

    بیلانور شاہ کے علاقے میں، جہاں بھارت نے دہشت گردی کی تربیت کے کیمپوں کا دعویٰ کیا تھا، وہاں کچھ بھی غیر معمولی نہیں پایا گیا۔ اس کے برعکس، علاقے کا قدرتی حسن اور یہاں کی معمولات زندگی یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی الزامات سراسر من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔یہ تمام حقائق اس بات کا غماز ہیں کہ بھارت کا یہ پراپیگنڈہ دراصل اس کے جنگی جنون کا حصہ ہے، اور اس کا مقصد پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر نفرت پھیلانا ہے۔

  • سائبر جنگ بھی پاکستان جیت گیا،پاکستانی ہیکرز کے بھارتی دفاعی اداروں پر سائبر حملے

    سائبر جنگ بھی پاکستان جیت گیا،پاکستانی ہیکرز کے بھارتی دفاعی اداروں پر سائبر حملے

    پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، اور اب ایک نیا خطرہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے ، سائبر جنگ۔ بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق، پاکستانی ہیکرز نے متعدد بھارتی دفاعی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں حساس معلومات، بشمول دفاعی اہلکاروں کے لاگ اِن ڈیٹا اور پاس ورڈز، افشاء ہو چکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ہیکنگ گروپ "پاکستان سائبر فورس” نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "ملٹری انجینئر سروسز ” اور "منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انیلیسز” کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اس گروپ نے "آرمورڈ وہیکل نگم لمیٹڈ” (AVNL) کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کی بھی کوشش کی، جو کہ وزارت دفاع کے تحت ایک پبلک سیکٹر ادارہ ہے۔ ان حملوں کے بعد AVNL کی ویب سائٹ کو آف لائن کر دیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی آڈٹ کے ذریعے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    پاکستان سائبر فورس کے X (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل، جسے اب بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے، نے ایک پوسٹ میں AVNL کی ویب سائٹ کا ہیک شدہ اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ تصویر میں بھارتی ٹینک کو پاکستانی ٹینک سے بدل دیا گیا تھا۔ ایک اور پوسٹ میں مبینہ طور پر 1,600 بھارتی دفاعی اہلکاروں کے ناموں کی فہرست شیئر کی گئی، جس کے ساتھ لکھا تھا:
    "Hacked. Your security is illusion. MES data owned.”
    گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 10 جی بی سے زائد حساس ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔

    دفاعی ماہرین اور سائبر سیکیورٹی ٹیمیں مسلسل سائبر اسپیس کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ پاکستان سے جڑے ممکنہ مزید حملوں کو روکا جا سکے۔ بھارتی حکومت نے دفاعی ویب سائٹس کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے اور حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی ہیکرز نے بھارتی دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ ماضی میں "آرمی پبلک اسکول” سری نگر اور رانی کھیت، "آرمی ویلفیئر ہاؤسنگ آرگنائزیشن” (AWHO) اور "انڈین ایئر فورس پلیسمنٹ آرگنائزیشن” کی ویب سائٹس بھی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سائبر حملے اب روایتی جنگوں کا حصہ بن چکے ہیں، اور پہلگام حملے کے بعد سائبر محاذ پر بھی بھارت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • وزیراعظم کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ٹیلیفونک رابطہ،سیکورٹی صورتحال پر بات چیت

    وزیراعظم کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ٹیلیفونک رابطہ،سیکورٹی صورتحال پر بات چیت

    وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیاء کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    اسلام آباد سے سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کی جنوبی ایشیاء کی حالیہ پیشرفت میں روابط کی کوششوں کو سراہا اور کشیدگی میں کمی اور تصادم سے بچنے کی ضرورت کا خیرمقدم کیا، وزیراعظم نے پہلگام واقعے پر غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کی پیشکش کا اعادہ کیا اور کہا بھارت اشتعال انگیز بیان بازی اور جنگ کو ہوا دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، وزیراعظم نے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا،وزیراعظم نے عالمی مالیاتی اداروں کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وزیر اعظم کو خطے میں امن کے لیے کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا، یو این سیکریٹری جنرل نے معاملے پر تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں رہنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی ، انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، پاکستان اور بھارت کے عوام کی امن مشنز میں کارکردگی پر شکرگزار ہوں،نیو یارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ دونوں ملکوں میں جنگ کی سی صورتِ حال میرے لیے باعثِ تکلیف ہے، پہلگام حملے کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتا ہوں،شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں، حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہیے، اِن حالات میں ایسی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے جس سے جنگ کا خطرہ بنے، ایسی فوجی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے جس کے قابو سے باہر ہو جانے کا خطرہ ہو، یہ اپنے آپ کو روکنے اور جنگ کے دہانے سے واپس لوٹنے کا وقت ہے، دونوں ملکوں کو پیغام دیا ہے کہ کسی بھی مسئلے کا فوجی حل کوئی حل نہیں ہوتا۔ دونوں ملکوں میں قیام امن کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا ہوں، اقوامِ متحدہ ایسی کاوش کی حمایت اور مدد کے لیے تیار ہے جس سے کشیدگی ختم ہو۔

  • ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات

    ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات

    اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی ہے

    اس ملاقات میں جغرافیائی،حکمت عملی کے ماحول پر تفصیلی اور تعمیری بات چیت ہوئی، جس میں دونوں ممالک کو درپیش سیکیورٹی کے چیلنجز پر خاص طور پر توجہ دی گئی۔ ملاقات کے دوران پاک-ایران سرحدی سیکیورٹی میکانزم کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ دو طرفہ ہم آہنگی کو مزید بڑھایا جا سکے۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران بھائی چارے کے رشتہ میں بندھے ہوئے ہمسایہ ممالک ہیں، جن کے درمیان تاریخ، ثقافت اور مذہب کے گہرے تعلقات ہیں۔

    دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ دو طرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مصروف رہیں گے اور مشترکہ طور پر خطے سے متعلق مسائل میں مثبت ترقی لانے میں مدد فراہم کریں گے۔ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے خطے میں امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور اس کی تعریف کی۔

  • پاک بحریہ نے بھارتی جاسوس طیارے کا سراغ لگاکر نگرانی میں رکھا

    پاک بحریہ نے بھارتی جاسوس طیارے کا سراغ لگاکر نگرانی میں رکھا

    پاک بحریہ نے گزشتہ شب بھارتی بحریہ کے ایک جاسوس طیارے P8I کا بروقت سراغ لگایا اور اسے مسلسل نگرانی میں رکھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتی طیارہ پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پرواز کر رہا تھا۔ پاک بحریہ کے ایئر ڈیفنس اور ریڈار سسٹمز نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے طیارے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی۔بھارتی بحریہ کے زیر استعمال امریکی ساختہ P8I میری ٹائم پیٹرول ائیرکرافٹ کو عام طور پر نگرانی، انٹیلیجنس اکٹھا کرنے اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کی سرگرمیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔

    اس پیش رفت کے پس منظر میں خطے میں حالیہ کشیدگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سیاسی قیادت کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان ہر سطح پر موثر اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے اس واقعے کا الزام بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر عائد کیا، اور ردعمل میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کروانے کی پیشکش کی، جس پر بھارت کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ چین کے بعد ترکیہ اور سوئٹزر لینڈ سمیت متعدد ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

    تجزیہ نگاروں کے مطابق، پاک بحریہ کی بروقت کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنی فضائی اور بحری حدود کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے بلکہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور جواب دے سکتا ہے۔

  • بھارت ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے بھی "ڈر” گیا،پانچ یوٹیوب چینل بند

    بھارت ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے بھی "ڈر” گیا،پانچ یوٹیوب چینل بند

    بھارت پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے یوٹیوب چینل سے بھی خطرہ محسوس کرنےلگا، ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل بھارت میں بند کر دیئے گئے

    مودی سرکار نے ڈاکٹر اسرار احمد کے نام سے بنائے گئے پانچ یوٹیوب چینل بند کر دیئے، ان چینل پر ڈاکٹر اسرار احمد کی مختلف تقاریر، خطبات نشر کئے جاتے تھے،ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم پاکستان کے ایک معروف مذہبی اسکالر تھے، جنہوں نے اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات اور سیاسی شعور کی ترویج کی۔ وہ نہ صرف ایک معزز مفکر تھے بلکہ اُن کے بیانات اور لیکچرز نے دنیا بھر میں ایک وسیع حلقے کو متاثر کیا۔ تاہم، بھارت میں اُن کے یوٹیوب چینل کا بند ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا ہے اور یہ مسئلہ بھارت کے اظہار رائے کی آزادی پر سوال اٹھاتا ہے۔بھارت نے پاکستانی میڈیا، اینکرز، سیاسی شخصیات کےیوٹیوب چینل، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں بند کئے تو اب ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل سے بھی بھارت کو تکلیف ہونے لگی،

    ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنے بیانات میں ہمیشہ اسلامی معاشرتی نظام اور اس کے عدلیہ، معیشت، اور سیاست میں کردار کی اہمیت پر بات کی، اُن کی شخصیت نے مختلف عالمی مسائل پر ایک گہری بصیرت فراہم کی، خصوصاً مسلمانوں کے حقوق اور عالمی سیاست میں اسلام کے کردار کو سامنے لانے کی کوشش کی۔بھارت میں اُن کے یوٹیوب چینل کو بند کر دینا اس بات کا غماز ہے کہ حکومتیں ایسے افراد سے خوفزدہ ہیں جو اپنے خیالات کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کرتے ہیں۔

    پاکستانی شخصیات نے بھارت کی جانب سے ڈاکٹر اسرار احمد سمیت دیگر یوٹیوب چینل کی بندش کی شدید مذمت کی ہے اور اس عمل کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی شخصیات نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارت چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالے یا اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں لگائے، حقیقت کبھی چھپ نہیں سکتی اور سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے۔سماجی کارکنوں نے بھی اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر بھارت کو سچ اور حقیقت سے اتنی تکلیف ہے تو وہ دنیا کے سامنے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اپنے خیالات اور رائے کا اظہار کرنے کا موقع ملتا ہے، اور اس پر پابندیاں لگا کر بھارت عالمی سطح پر اپنی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

  • پاکستانی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پوری طاقت سے جواب دیں گے، آرمی چیف

    پاکستانی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پوری طاقت سے جواب دیں گے، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات

    چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری) نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات کی۔ اس ورکشاپ کا مقصد بلوچستان کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو قومی اور صوبائی نوعیت کے اہم معاملات سے روشناس کرانا ہے۔

    نیشنل ورکشاپ بلوچستان کا آغاز 2016 میں ہوا تھا۔ یہ ورکشاپ بلوچستان کے پارلیمنٹرینز، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی کے ارکان، نوجوانوں، ماہرین تعلیم اور میڈیا کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہے۔ ورکشاپ میں مختلف سیمینارز، گروپ مباحثے، انٹریکشن سیشنز اور ملک کے مختلف حصوں کے دورے شامل ہوتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بلوچستان کی ابھرتی ہوئی قیادت کو قومی و صوبائی معاملات کی سمجھ بوجھ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ایک متحد اور مربوط نقطہ نظر اپنا سکیں۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں حکومت کی بلوچستان کی سماجی و اقتصادی بہتری کے لیے جاری کاوشوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "بلوچستان میں جاری اور منصوبہ بند ترقیاتی اقدامات کی وسعت اور اثرات جھوٹی پروپیگنڈہ مہم کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ کئی ترقیاتی منصوبے اب ثمر آور ہو چکے ہیں، جن کے ثمرات براہِ راست بلوچستان کے عوام کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے سول سوسائٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بلوچستان میں امن و امان کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر غیر ملکی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گردی کو قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن عناصر کے مذموم عزائم، جو خوف، انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو قومی اتحاد کے ساتھ جاری رکھے گا۔ "دہشت گردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہوتا،” آرمی چیف نے واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ "جو گروہ بلوچ شناخت کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں، وہ دراصل بلوچ قوم کی عزت اور حب الوطنی پر دھبہ ہیں۔”

    آرمی چیف نے پاکستان کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن کی خواہش کا اعادہ کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان اپنی قومی عزت و وقار اور عوام کی بھلائی کے تحفظ کے لیے پوری طاقت سے جواب دے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے، عوام کی مکمل حمایت سے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ورکشاپ کا اختتام ایک جاندار اور بے تکلف سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء کو آرمی چیف سے براہ راست سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔

  • پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان کا ایک اور میزائل ’’فتح‘‘ کا کامیاب تجربہ، میزائل زمین سے زمین پر 140 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

    پاکستان نے آج اپنے دفاعی نظام میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے "فتح سیریز” کے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ جاری جنگی مشق "ایکس انڈس” کا حصہ تھا، جس کا مقصد افواج کی آپریشنل تیاری کو یقینی بنانا اور میزائل کے کلیدی تکنیکی پہلوؤں کی جانچ کرنا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، "فتح” میزائل 120 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجربے کے دوران میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم اور بڑھتی ہوئی نشانے کی درستگی کو جانچا گیا، جس میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔

    تربیتی تجربے کو پاکستان آرمی کے سینیئر افسران، اسٹریٹیجک اداروں کے سائنسدانوں اور انجینئروں نے مشاہدہ کیا۔ ان سب نے میزائل کے تمام تکنیکی پہلوؤں کی کامیاب آزمائش پر اطمینان کا اظہار کیا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف نے تجربے میں شامل تمام افسران، جوانوں، سائنسدانوں اور انجینئروں کو کامیاب تجربے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ مہارت اور مکمل جنگی تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ہماری افواج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    یہ کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔