Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دو ایٹمی قوتوں میں کشیدگی بڑھنے لگی، خالصتان رہنما نے بھارت کے عزائم بے نقاب کر دیے”

    دو ایٹمی قوتوں میں کشیدگی بڑھنے لگی، خالصتان رہنما نے بھارت کے عزائم بے نقاب کر دیے”

    سینئر صحافی مبشر لقمان نے اپنے پروگرام "کھرا سچ” میں کہا ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں اس وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں، اور پوری دنیا تشویش میں مبتلا ہے۔ پہلگام میں معصوم شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جس کے بعد منظر عام پر آنے والے شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔

    انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا، بشمول بی بی سی اور آر ٹی، اب کھل کر بھارت کے بیانیے پر سوال اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی حکومت مسلسل پاکستان کو دھمکیاں دیتی رہی ہے، اور اب یہ سوچنا کہ وہ حملہ نہیں کرے گا، محض ایک خوش فہمی ہے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے اپنے عوام کو جنگ کے لیے اکسایا ہے، اور ملکی میڈیا چینلز اس وقت وار رومز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ برادری، جسے پاکستان اپنا بھائی تصور کرتا ہے، اس تمام صورتحال میں ایک نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

    پروگرام میں خالصتان تحریک کے اہم رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور مودی کو الگ نہیں سمجھنا چاہیے، دونوں پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حالیہ واقعات بھارتی ایجنسیوں اور پراکسیز کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں، اور اس کا مقصد دنیا کو پاکستان کے خلاف اکسانا ہے۔

    گرپتونت پنوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان حکومت اس واقعے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کروائے اور دنیا کے سامنے کھل کر بھارت کو چیلنج کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پہلے سے ایک مخصوص بیانیہ تیار کیا گیا تھا، جو واقعے کے فوری بعد پھیلایا گیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بھارت کے اندر سے انہیں مختلف ریاستوں کے سکھ اور غیر سکھ فوجیوں و افسران کی جانب سے اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں، اور یہ کہ بھارت کی فوج میں بھی کئی لوگ موجودہ حکومت کے اقدامات سے نالاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اب ایک فعال اور جارحانہ خارجہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی کیونکہ بھارت کی سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ "یونین آف انڈیا” خود پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔ گرپتونت پنوں نے زور دیا کہ جب تک بھارت بطور ریاست ٹکڑوں میں نہیں بٹتا، خطے میں امن ممکن نہیں۔

    گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ سانحے میں 26 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو یہ مودی کی سیاسی موت ثابت ہوگی۔بھارتی پنجاب پاکستان کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی بن کر کھڑا ہے، اور سکھ برادری بھارتی فوج کو پنجاب سے گزر کر پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دے گی.انہوں نے سکھ فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت پاکستان کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لیں۔ پنوں نے کہا کہ پاکستان سکھ برادری کے لیے دوستانہ ملک ہے اور ہمیشہ سکھوں کی حمایت کی ہےبھارت فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے سکھوں اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے پہلگام میں ہندو سیاحوں کے قتل کو بھارتی ایجنسی ‘را’ کا آپریشن قرار دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خالصتان ریفرنڈم کی حمایت کرے اور بھارتی پنجاب کو آزاد ملک تسلیم کرے۔ پنوں نے کہا کہ پنجاب بھارتی تسلط سے آزاد ہو گا اور نیا ملک بنے گا۔

    دو ایٹمی قوتوں میں کشیدگی بڑھنے لگی، خالصتان رہنما نے بھارت کے عزائم بے نقاب کر دیے”

    مزید 27 شہریوں کی بھارت سے پاکستان واپسی،بھارت کوئی نہ گیا

    دفتر خارجہ کی پاکستانی شہریوں کیلئے بارڈر بند کرنے کی تردید

  • مسلح افواج   دفاع وطن کیلئے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں،آرمی چیف

    مسلح افواج دفاع وطن کیلئے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا، بالخصوص پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا۔

    کانفرنس میں پاکستان کی مسلح افواج نے کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کے خلاف ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، ثابت قدم حوصلے اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا، اور واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے عوام کے ساتھ متحد ہو کر دفاع وطن کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں،کانفرنس کے دوران بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، خاص طور پر پہلگام کے واقعے کے بعد بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی گئی۔ فورم نے بھارت کی غیر انسانی اور بلا اشتعال کارروائیوں کو علاقائی کشیدگی میں اضافہ کرنے کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤثر اور مناسب جواب دیا جائے گا۔

    کانفرنس کے شرکاء نے بھارت کی جانب سے سیاسی اور فوجی مقاصد کے حصول کے لیے خود ساختہ بحرانوں کے گھڑنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ بھارت اندرونی مسائل کو چھپانے کے لیے بیرونی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ذریعے یکطرفہ طور پراسٹیس کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو بھی یاد کیا۔شرکاء نے کہا کہ پہلگام کے حالیہ واقعے کا مقصد پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں اور اقتصادی بحالی کی کوششوں سے ہٹانا ہے، کیونکہ پاکستان ان دونوں محاذوں پر فیصلہ کن اور پائیدار ترقی کی طرف گامزن ہے۔ بھارت کے مذموم ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے فورم نے کہا کہ بھارت کو ان کے ذریعے اپنی دہشت گرد پراکسیوں کو فعال کرنے میں ناکامی ہوگی۔پاکستان کے قانونی اور بنیادی آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کے بھارت کے عزائم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، خاص طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر۔ فورم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف پاکستان کی 24 کروڑ آبادی متاثر ہوگی بلکہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام بڑھے گا۔

    شرکاء نے بھارت کے براہ راست ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد کے حوالے سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھارتی فوج اور انٹیلی جنس کے کردار پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور ناقابلِ قبول ہیں۔کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ملک کے دفاع کے لیے کی جانے والی آپریشنل تیاریوں اور مورال پر تمام فارمیشنز اور سٹرٹیجک فورسز پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی امنگوں کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا اور کسی بھی بلاواسطہ یا پراکسیز کے ذریعے پھیلائی جانے والی دہشت گردی، جبر یا جارحیت سے پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔

  • 26 نومبراحتجاج،گنڈا پور،بشریٰ کا فرار،82 ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    26 نومبراحتجاج،گنڈا پور،بشریٰ کا فرار،82 ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر احتجاج کے کیس کے 82 ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا۔

    پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف 24 اور 26 نومبر 2024 کے احتجاج پر درج 24 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں ہوئی جس دوران متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران 1609 ملزمان میں سے عدالت پیش ہونے والے 560 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی،عدالت میں پیش کیے گئے 82 ملزمان نے جج کے سامنے اعتراف جرم کیا اور بیان حلفی جمع کرایا کہ پی ٹی آئی قیادت نے انہیں احتجاج کے لیے اکسایا،ملزمان نے عدالت میں بیان دیا کہ مقامی اور مرکزی قیادت نے پرتشدد احتجاج کی ترغیب دی تھی، ہم غریب مزدور ہیں، ہمارے ساتھ رعایت برتی جائے،ملزمان نے عدالت میں تحریری بیان بھی دیا کہ وہ آئندہ کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے،عدالت نے اعتراف جرم کرنے والے82 ملزمان کو 4،4 ماہ قید اور 15،15 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنا دی

    واضح رہے کہ 28 نومبر کو پی ٹی آئی کارکنان کو چھوڑ کر بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور فرار ہو گئے تھے ،بعد ازاں علی امین گنڈا پور نے خیبر پختونخوا پہنچ کر پریس کانفرنس کی تھی.

  • پہلگام ڈرامہ،مودی سرکار نے آئی ایس پی آر کا یوٹیوب چینل بھی بلاک کر دیا

    پہلگام ڈرامہ،مودی سرکار نے آئی ایس پی آر کا یوٹیوب چینل بھی بلاک کر دیا

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن/ حقائق سامنے لانے پر مودی سرکار نے گھبراہٹ میں آئی ایس پی آر کا یو ٹیوب چینل بھی بلاک کر دیا

    پاکستانی میڈیا بیانیے کی جنگ جیت گیا، بھارتی میڈیا کا بھی اعتراف،مودی سرکار نے ذرائع ابلاغ اور میڈیا چینلز پر پابندی کے بعد اب آئی ایس پی آر کا آفیشل یوٹیوب چینل اور ایکس اکائونٹ بھی معطل کر دیا،ڈی جی آئی آئی ایس پی آر 29 اور 30 اپریل کو پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور جھوٹ کو مفصل طریقے سے بے نقاب کیا ،1 مئی کو مودی سرکار نے آئی ایس پی آر کے آفیشل اکاؤنٹ کو بھی بلاک کردیا ،پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کا راز فاش کر کے مودی کا فالس فلیگ بے نقاب کر دیا، پہلگام حملے کے بعد مودی سرکار نے میڈیا پر قابض ہونے کی کوشش کی،مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کے اکثر ٹی وی چینلز پہلے ہی معطل کیے جا چکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مودی سرکار نے معروف پاکستانی شخصیات کے سوشل میڈیا اکائونٹس بھی بند کر دئیے،

    پاکستان کے تمام ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی بے جا پابندی کی زد میں ہیں، پہلگام کے حوالے سے پاکستانی میڈیا کی حقائق پر مبنی رپورٹنگ کا اقرار بھارتی میڈیا نے بھی کیا،

  • نومئی کے ملزمان کو سپریم کورٹ سے ضمانتیں ملنا شروع،اعجاز چوہدری کی ضمانت

    نومئی کے ملزمان کو سپریم کورٹ سے ضمانتیں ملنا شروع،اعجاز چوہدری کی ضمانت

    سپریم کورٹ، پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور کر لی گئی

    سپریم کورٹ نے اعجاز چوہدری کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا، پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعجاز چوہدری نے لوگوں کو اکسایا اور سازش کا بھی حصہ رہے، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ کیس اتنا ہی مضبوط تھا تو فوجی عدالت میں لے جاتے،

    اعجاز چوہدری کی درخواست ضمانت پر سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس نعیم اختر، جسٹس ہاشم کاکڑ،جسٹس اشتیاق ابراہیم بینچ میں شامل تھے،

    نو مئی مقدمہ میں پی ٹی آئی رہنما حافظ فرحت عباس کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی گئی،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ شریک ملزم امتیاز شیخ کی ضمانت قبل ازگرفتاری بھی سپریم کورٹ سے منظور ہوئی،سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ حافظ فرحت عباس پر نو مئی کی سازش کا بھی الزام ہے،

  • پاکستانی شاہینوں نے بھارتی رافیل کو 30 اپریل کی شب کیسے بھگایا؟

    پاکستانی شاہینوں نے بھارتی رافیل کو 30 اپریل کی شب کیسے بھگایا؟

    30 اپریل کی رات پاکستانی اور بھارتی لڑاکا طیارے رافیل آمنے سامنے آنے جب پاکستان فضائیہ کی ائیر پٹرولنگ نے بھارتی طیاروں کو جدید سسٹم سے ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔

    30 اپریل کی رات بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی لائین آف کنٹرول کے اس پار آزاد کشمیر کی جانب حرکت کے ساتھ ہی فوری طور پر پاک فضائیہ نے اپنے طیارے سکریمبل کیے، اور پاک فضائیہ کے طیاروں نے فوری ردِ عمل دیتے ہوئے بھارتی طیاروں کو جدید سیٹلائٹ اور کمانڈ سسٹم کے ذریعے صورتحال کو فوری مانیٹر کر کے بروقت ردعمل دیا۔ 30 اپریل کی رات بھارتی رافیل طیاروں کو پاکستان فضائیہ کے جانبازوں نے اپنے فوری ردِ عمل سے ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔

    یہی وہ وقت تھا جب 30 اپریل کی رات وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ پاکستان نے جدید سیٹلائٹ اور کمانڈ سسٹم کے ذریعے صورتحال کو فوری مانیٹر کر کے بروقت ردعمل دیا۔ پاک فضائیہ کے جدید ریڈار سسٹمز نے بھارتی رافیل طیاروں کو ٹریس کر کے پائلٹس کو اس قدر دباؤ میں لایا کہ وہ مشن اور واپسی کا راستہ بھول بیٹھے اور وہ اپنی حملے کی نیت کے باوجود پیچھے ہٹنے پر فوری مجبور ہو گئے جو پاک فضائیہ کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے۔

  • چاروں حملہ آور کہاں گئے؟کیا ابھی بھی پہلگام میں ہیں،بھارتی فوج میں خوف و ہراس

    چاروں حملہ آور کہاں گئے؟کیا ابھی بھی پہلگام میں ہیں،بھارتی فوج میں خوف و ہراس

    پہلگام، جنوبی کشمیر میں 22 اپریل کو حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد سے مفرور چارحملہ آوروں کے بارے میں تازہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ذرائع کے مطابق یہ چاروں افراد اب بھی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے فوج اور مقامی پولیس کی جانب سے چلائے گئے وسیع پیمانے پر آپریشنز سے بچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    این آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چاروں افراد "خود مختار” ہو سکتے ہیں، یعنی ان کے پاس خوراک اور دیگر ضروریات کی فراہمی کا سامان ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گھنے جنگلات میں چھپ کر رہنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ این آئی اے نے اس حملے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں، جو حالیہ برسوں میں بھارت میں ہونے والا سب سے بھیانک حملہ ہے، خصوصاً 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد، جس میں 40 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے پہلگام میں واقع بایسران ویلی میں حملے سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے موجودگی کا آغاز کر دیا تھا۔ این آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) یا حملہ آوروں کے ہمدردوں کو جو اس حملے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا، ان کے بیانات میں انکشاف ہوا کہ حملہ آوروں نے بایسران ویلی کے علاوہ دیگر چار مقامات کی بھی سروے کیا تھی، تاہم، ان تمام مقامات پر سیکیورٹی زیادہ تھی،

    پہلگام حملے کے بعد بھارتی اپوزیشن کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ آیا فوج کی موجودگی کی کمی نے حملہ آوروں کو حملہ کرنے کا موقع دیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ حملہ آوروں کے پاس جدید کمیونیکیشن سامان تھا، جو کسی بھی قسم کے انٹرسیپٹ سے بچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ایک دفاعی ماہر، میجر جنرل یش مور (ریٹائرڈ) نے بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے جو آلات استعمال کیے وہ سیٹلائٹ فونز تھے، جو سم کارڈز کے بغیر کام کرتے تھے اور ان کا مقصد اپنے مقام کو چھپانا تھا تاکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کو حملے کے آغاز تک بے خبر رکھا جا سکے۔

    حملے کی منصوبہ بندی سادہ تھی – تین حملہ آوروں نے بایسران کے ارد گرد چھپ کر سیاحوں پر فائرنگ کی، جب کہ چوتھا حملہ آور چھپ کر ان کی مدد کے لیے موجود تھا، حملہ 1:15 بجے دوپہر شروع ہوا، جس میں 26 افراد کی ہلاکت ہوئی۔اس کے بعد کی تحقیقات اور حملہ آوروں کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک بھارت کو ناکامی ہی ملی ہے

  • جنگ کا خطرہ باقی،پاکستان بھر پور جواب دینے کو تیار ہے، مبشر لقمان

    جنگ کا خطرہ باقی،پاکستان بھر پور جواب دینے کو تیار ہے، مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت کی فوج میں متعدد مسائل کے باوجود بھارت کی طرف سے جنگی خطرات ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بھارت کسی کارروائی کرنے اور ایسی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے مصر ہے جس سے مودی کی کمزور ہوتی ہوئی مقبولیت کو بچایا جا سکے۔ پاکستان اس صورتحال میں جواب دینے کے لئے تیار ہے اور بھارت کو ایک اور خونریز اور الجھی ہوئی ناکامی کا سامنا کرانے کے لیے تیار ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی فوج میں بغاوت، فوجیوں کے حوصلے پست، فوجیوں کا لڑنے سے انکار، چھٹیوں‌پر جانے، افسران کو ہٹائے جانے کے باوجود مودی سرکارجنونی ہو ئی پڑی ہے اور خطے میں جنگ کی صورت حال ابھی تک مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ بھارت کی حکومت اس بات کو تسلیم کرنے کی بجائے کہ اس کو اندرونی مسائل اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے، ایک جنگی منظر نامہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مودی کی مقبولیت کو بہتر بنایا جا سکے۔تاہم اگر بھارت کوئی کارروائی کرتا ہے تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا، جس میں بھارت کو ایک اور خونریز اور گندا ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے،صدر،وزیر اعظم کا اعلان

    خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے،صدر،وزیر اعظم کا اعلان

    صدراور وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، ملاقات میں پہلگام حملے کے بعد موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف زرداری سے صحت بارے بھی دریافت کیا۔رہنماؤں نے بھارت کے جارحانہ رویے اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا.

    جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے۔پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا،پاکستانی قوم متحد ہے ، اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ،پاک افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔

    جاری علامیے کے مطابق ملاقات میں کسی بھی ممکنہ جارحیت پر پاکستان کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا،بھارتی قیادت کے پہلگام حملے پربغیر کسی تحقیقات کے لگائے گئے الزامات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان2 دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ، انسانی اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، عالمی برادری پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھارتی فنڈنگ اور تربیت کا نوٹس لے۔

    صدر مملکت نے بھارتی الزامات پر حکومت کے ردعمل اور ذمہ دارانہ انداز میں صورتحال سے نمٹنے کو سراہا، صدر مملکت نے کہا پاکستان ہر قیمت پر خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کرے گا۔کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    ڈی جی خان: قومی یکجہتی کانفرنس، بھارت کو دوٹوک جواب، فلسطینیوں و کشمیریوں کی حمایت

  • قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہماری تیاری اور عزم غیر متزلزل ہے،آرمی  چیف

    قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہماری تیاری اور عزم غیر متزلزل ہے،آرمی چیف

    راولپنڈی :چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن کا خواہاں ہے مگر قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہماری تیاری اور عزم غیر متزلزل ہےبھارت کی کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کا فوری، دوٹوک اور بلند سطح کا جواب دیا جائے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینج کا دورہ کیا جہاں "ایکسسرسائز ہیمر اسٹرائیک”میں جنگی تیاریوں، جدید ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کیا گیا آرمی چیف آف جنرل عاصم منیر نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کا بھی دورہ کیا، پاک فوج کی منگلا اسٹرائیک کور کی جانب سے اعلیٰ درجے کی جنگی مشق "ایکسسرسائز ہیمر اسٹرائیک” کا انعقاد کیا گیا ایکسرسائز کے دوران آرمی چیف کی آمد پر کور کمانڈر نے ان کا استقبال کیا۔

    توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر نا قابل قبول ہے،وزیراعظم

    آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کا مقصد میدان جنگ کی حقیقی صورت حال میں پاک فوج کی حربی تیاری، مشترکہ عملی ہم آہنگی اور جدید اسلحہ جاتی نظام کے عملی انضمام کا مظاہرہ تھا مشق میں کثیرالجہتی فضائی طاقت، طویل فاصلے تک مار کرنے والی آرٹلری، جنگی ہیلی کاپٹرز اور جدید انجینئرنگ تکنیکوں کا کامیاب استعمال کیا گیا تمام ہتھیاروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے جوانوں نے زبردست ہم آہنگی، چابک دستی اور مہارت کے ساتھ مربوط مظاہرہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے افسروں اور جوانوں کے بلند مورال، پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی جذبے کو سراہا اور اس سے پاک فوج کی آپریشنل برتری کا عملی عکس قرار دیا –

    گھر میں چوری کر کے بھاگنے والی لڑکی آشنا سمیت گرفتار

    چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت کی کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کا فوری، دوٹوک اور بلند سطح کا جواب دیا جائے گا پاکستان علاقائی امن کا خواہاں ہے مگر قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہماری تیاری اور عزم غیر متزلزل ہے،ایکسسرسائز "ہیمر اسٹرائیک” پاک فوج کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، جنگی حکمت عملی میں جدت اور تکنیکی جدیدیت کے سفر کی ایک اہم مثال ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اعلیٰ عسکری قیادت، فارمیشن کمانڈرز اور مختلف سروسز سے تعلق رکھنے والے معززین نے مشق کا مشاہدہ کیا۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ