Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے ، اسحاق ڈار

    پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے ، اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ وزارت خارجہ میں اہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔

    پریس کانفرنس کے آغاز پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد سب کو آگاہ کرنا ہے، واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا اسلام میں واضح احکامات ہیں کہ ایک انسان کا قتل سارے عالم کا قتل ہے، پہلگام میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کے عمل کی پہلے بھی مذمت کی اور اب بھی کررہے ہیں پاکستان بھارت کی اسپانسرڈ دہشت گردی کا شکار ہے، ہم نے بھارتی اقدامات کے بعد مختلف ممالک سے رابطے کر کے دنیا کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت پاکستان اور دیگر ممالک میں دہشتگردی اور خونریزی پر خوشیاں مناتا ہے، دہشتگردی کی جنگ میں 150 ارب ڈالرز اور ہزاروں جانوں کا نقصان کرچکے ہیں ہماری بہادر ایجنسیز اور شہریوں نے امن کیلئے قربانیاں دیں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت مسلسل الزام تراشی کر رہا ہے، پہلی بار نہیں ہوا کہ بھارت نے یہ ہرزہ سرائی کی ہو، بھارت کشمیریوں کے حقوق، سیکیورٹی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے، بھارت دہائیوں سے ریاست دہشتگردی کر رہا ہے، اندرونی مسائل حل کرنے کے بجائے دوسرے ممالک پر انگلیاں اٹھاتا ہے، کشمیریوں پر مظالم کیلئے ڈریکولین قوانین لاگو کیے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کا اقدام یو این سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں، بھارت بتائے کہ یہ واقعات ہمیشہ اعلی سطح کےدوروں پر ہی کیوں ہوتے ہیں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بین الاقوامی برادری کیلئےباعث تشویش ہونا چاہئے، کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف اسلام و فوبیا کا استعمال ہو رہا ہے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ تہلگام حملے کے بعد بغیر ثبوت کو الزام دھر دیا گیا، تہلگام واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ہم ٹی او آرز میں ہر ممکن تعاون کریں گے، بھارت اچانک یہ صورتحال کیوں پیدا کررہا ہے، مقصد کیا ہے، سندھ طاس معاہدہ کی منسوخی غیر قانونی ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ مشاورت کے بغیر منسوخ نہیں ہوسکتا، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کو بین الاقوامی برادری کی کوئی پرواہ نہیں، قومی سلامتی کی کمیٹی نے واضح کیا کہ پانی روکنا جنگ سمجھا جائے گا، پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے کوئی حرکت ہوئی تو اپنے ملک کی سالمیت کا دفاع کریں گے، ہمیں اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے جن ممالک سے بات کی انہوں نے تحمل کی تلقین کی، پاکستان کبھی پہل نہیں کرے گا، لیکن بھارت نے کوئی حرکت کی تو سخت جواب دیں گے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ سوالوں کے جواب ضروری ہیں، کیا یہ ایسے وقت نہیں ہو رہا جب بھارت پر مختلف ممالک میں قتل کے الزامات ہیں، ہماری مسلح افواج چوکنا ہیں، ہم اپنے وقت اور مرضی کی جگہ پر وار کریں گے، کیا یہ وقت نہیں کہ پاکستان سمیت دنیا میں بھارت کی جانب سے شہریوں کے قتل کا احتساب کیا جائے؟ کیا یہ اہم نہیں کہ پہلگام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور بھارت کی جارحیت میں تفریق کی جائے؟ کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی حملےکے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟ کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے سےخطےکی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟ کیا یہ وقت نہیں کہ عالمی برادری مذہبی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا پربھارت کی مذمت کرے؟ کیا ہم آگاہ ہیں کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ خطرناک ہوسکتا ہے؟

    بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی ایجنسیز کنڑول کر رہی ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پہلگام ایل او سی سے 230 کلو میٹردور ہے، یہ علاقہ پہاڑی ہے، ایف آئی آر 10 منٹ کے اندر درج کرائی گئی، 8 دن ہوگئے، نہ حملہ آوروں کا کچھ بتایا، نہ ثبوت دیئے، بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی ایجنسیز کنڑول کر رہی ہیں، واقعہ کے فوری بعد پاکستان پر الزام لگا دیا گیاجائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن جانے میں کم از کم 30 منٹ لگتے ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی جلدی ایف آئی آر کیسے درج ہو گئی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ بیانیہ بنایا گیا کہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حقیقت پر بات کریں، الزام ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والوں نے حملہ کیا، یہ ناہموار اور پہاڑی علاقہ ہے، جائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن جانے میں 30 منٹ لگتے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ پولیس جائے وقوعہ پہنچی اور پھر پولیس اسٹیشن واپس آکر ایف آئی آر درج کر لی، ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ ہینڈلرز سرحد پار سے آئے، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ بیانیہ بنایا گیا کہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہےکہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے،کہا جا رہا ہےکہ مسلمانوں نے فائرنگ کی،کہا جارہا ہےکہ ہندوؤں پر فائرنگ کی گئی، بھارت کی جانب سے یہ بیانیہ کیوں چلایا جا رہا ہے؟ وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیے پر سوال اٹھایا ہے، ہمارا مؤقف واضح ہےکہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے کہا جارہا ہےکہ پاکستانی ایجنسیوں نے یہ واقعہ کرایا، بھارتی الزامات واقعےکے چند منٹ بعد ہی سامنے آنا شروع ہوگئے، زپ لائن آپریٹر کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ، بھارتی میڈیا نے واقعےکے فوری بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کی-

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جن بھارتی اکاؤنٹس سے پہلگام حملے کو رپورٹ ہوئیں، ان میں سے ایک اکاؤنٹ میں لکھا گیا کہ کل ایک بڑا دن ہے اس لیے جلدی سو رہا ہوں، فتنہ الخواج کے حملے سے پہلے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، لکھا گیا گڈ مارننگ میانوالی، جعفرایکسپریس حملے سے پہلے بھی اسی اکاؤنٹ سے پوسٹ ہوئی، لکھا گیا پاکستان میں آج اور کل نظریں رکھو۔

    پریس کانفرنس کے دوران بھارتی میڈیا کے وہ کلپس دکھائے گئے جن میں خود بھارتی شہریوں نے پہلگام حملے پر حکومت، فوج اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے۔

    ویڈیو کلپ میں ایک شہری کہتا دکھائی دیا کہ یہاں دس لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج قابض ہے، اگر ہم کوئی پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کریں تو ہمیں راتوں رات اٹھا لیا جاتا ہے، شہری نے سوال کیا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں فوج موجود ہے تو وہ کیا کر رہی ہے، کیا وہ جھک مار رہی ہے؟ جہاں حملہ ہوا وہاں فوج کیوں نہیں تھی، اور وہاں موجود افراد کو بچانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟

    ایک اور شہری نے براہِ راست سوال کیا کہ ”پہلگام کی ذمے داری کس کی ہے؟ کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں؟“ اس نے کہا کہ ”27 لوگوں کی جان گئی، وہاں سیکیورٹی کیوں نہیں تھی؟“

    کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”پہلگام پر اتنا بڑا حملہ ہوا اور کسی کو کچھ پتا ہی نہیں چلا“ اسی دوران ایک اور فرد نے نشاندہی کی کہ پورے علاقے میں قدم قدم پر فوج تعینات ہے، اگر یہ واقعی بارڈر کے قریب تھا تو حملہ آور کہاں سے آئے؟ اور واپس کیسے گئے؟“ یہ چھوٹا سا علاقہ ہے، جہاں گاڑی بھی نہیں جا سکتی، اور سیکیورٹی اتنی سخت ہے کہ پیدل چلنا بھی مشکل ہوتا ہے، پھر حملہ آور وہاں کیسے پہنچے؟“

    پریس کانفرنس کے دوران ایک شہری کا بیان بھی سنایا گیا کہ ”کہیں نہ کہیں ہماری اپنی ایجنسی ہی یہ حملے کرواتی ہے“ دوسرے شہری نے کہا کہ کافی لوگوں کو نہیں معلوم کہ پہلگام کہاں ہے، امرناتھ کہاں ہے، چندن واڑی کہاں ہے خاتون نے کہا کہ آج اتنے دن ہو گئے ملک کے رہنما کہاں ہیں؟ وہ یہاں کیوں نہیں آئے یہ لوگ کیا سرکار اور کیا ڈیفینس منسٹری چلائے رہے ہیں ان سے اب تک حملہ آر پکڑے نہیں گئے ہیں۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعےکو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے دہشت گردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کا وتیرہ ہے، بھارت پچاس سال سے اسی ڈگر پر چل رہا ہے، پاکستان پر الزام لگاؤ، کریڈٹ لو اور الیکشن جیتو، یہ ہے ان کا مقصد۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں سیکڑوں پاکستانی غیرقانونی قید ہیں، بھارت ان قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کر رہا ہے، اوڑی میں محمد فاروق کو جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا، بھارتی فوج نے اس کو درانداز کہا، درحقیقت وہ معصوم شہری تھا، بھارت بے گناہ لوگوں کو درانداز کا الزام لگا کر مار رہا ہے، بھارت خود ایک دہشت گرد ریاست ہے، پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو بھارت کی جیلوں میں رکھا ہوا ہے، بھارت ان قیدیوں پر تشدد کرتا ہے اور ان کے بیان دلواتا ہے۔

    گزشتہ روز بھی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اہم پریس بریفنگ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرنے اور ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہے –

    واضح رہے کہ بھارت نے 22 اپریل مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے اور اس حملے کا واضح اور بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے علاوہ پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔

    بھارتی اشتعال انگیزی کے خلاف منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان نے شملہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کی معطلی کا عندیہ دیتے ہوئے بھارت کے لیے فضائی حدود، سرحدی آمد و رفت اور ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    سلامتی کمیٹی نے جوابی اقدام کے طور پر بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتی عملے کو 30 ارکان تک محدود کرنے کے علاوہ بھارتی دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ سکھ یاتریوں کے علاوہ تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کرکے انہیں 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

  • ایل او سی،تکبیر…پاکستان نے بھارت کی متعدد چوکیاں تباہ کر دیں

    ایل او سی،تکبیر…پاکستان نے بھارت کی متعدد چوکیاں تباہ کر دیں

    29 اور 30 اپریل کی درمیانی شب بھارتی فوج نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ کا ارتکاب کیا۔ یہ حملہ کیانی اور منڈل سیکٹرز پر کیا گیا، جہاں بھارتی فورسز نے چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے سویلین علاقوں اور پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

    پاک فوج نے دشمن کی اشتعال انگیزی کا بروقت اور بھرپور جواب دیا۔ جوابی کارروائی میں چکپترا پوسٹ سمیت بھارتی افواج کی متعدد چوکیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جس سے دشمن کے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔بھارت کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں کسی پاکستانی فوجی یا شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، جبکہ جوابی کارروائی کے بعد دشمن کی جانب سے خاموشی چھا گئی ہے۔

    پاک فوج ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ لائن آف کنٹرول پر امن قائم رکھنے کی ذمہ داری بھارت پر ہے، اور اگر اُس نے دوبارہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کی تو اُسے پہلے سے زیادہ سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت ایک مرتبہ پھر خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان کی مسلح افواج ملکی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح مستعد اور چاق و چوبند ہیں۔

  • بھارتی جنگی جنون،افواج پاکستان،عوام پاکستان،متحد،بیدار و تیار

    بھارتی جنگی جنون،افواج پاکستان،عوام پاکستان،متحد،بیدار و تیار

    پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد بھارت کا جنگی جنون خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس کے باعث مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے اطراف شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

    مستند ذرائع کے مطابق بھارت نے ایل او سی کے ساتھ غیر معمولی فوجی نقل و حرکت شروع کر دی ہے، اور سرحدی دیہات کو خالی کروایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق مودی حکومت پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر نہ صرف کشمیری مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کر رہی ہے بلکہ خطے کا امن بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے اور مودی سرکار کا رویہ مکمل طور پر جارحانہ ہو چکا ہے۔
    انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور اور دندان شکن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔پاکستانی عوام بھی اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور مادر وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں۔

  • بھارتی رافیل کی مقبوضہ کشمیر میں پٹرولنگ،پاکستانی طیارے فضا میں‌آئے تو "بھاگ "گئے

    بھارتی رافیل کی مقبوضہ کشمیر میں پٹرولنگ،پاکستانی طیارے فضا میں‌آئے تو "بھاگ "گئے

    29 اور 30 اپریل کی رات بھارتی ائیر فورس کے چار رافیل جنگی طیارے بھارتی جغرافیائی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر میں پٹرولنگ کرنے کے لیے پرواز بھرتے رہے۔ ان طیاروں کی موجودگی نے علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ تاہم، پاکستان ائیر فورس کے طیاروں نے بھارتی جنگی طیاروں کی فوراً نشان دہی کر لی اور اپنی فضائی حدود کا بھرپور دفاع کیا۔

    پاکستانی ائیر فورس کی بروقت اور مستعد کارروائی کے نتیجے میں بھارتی رافیل طیارے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے اور فوراً اپنی سمت تبدیل کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کر لی۔ پاکستانی ائیر فورس کی اس کارروائی نے بھارتی فضائیہ کو سخت مایوس کیا اور پاکستان کی فضائی حدود کے تحفظ کی صلاحیت کو واضح طور پر ظاہر کیا۔پاکستانی افواج نے اس موقع پر یہ پیغام دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار اور مستعد ہیں۔ پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور چوکسی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ملک کی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے پاکستان کی افواج کسی بھی لمحے تیار ہیں۔

    اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں، اور پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے مضبوط اور فیصلہ کن اقدامات کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  • ترکی کے اعلیٰ سطحی وفد کا پاک فضائیہ ہیڈ کوارٹر کا دورہ

    ترکی کے اعلیٰ سطحی وفد کا پاک فضائیہ ہیڈ کوارٹر کا دورہ

    چیف آف انٹیلی جنس، ترک جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل یاسر قادی اوغلوکی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ترک وفد نے پاک فضائیہ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور ائیر چیف مارشل ضیہر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں جغرافیائی حکمت عملی کی صورتحال، موجودہ مشترکہ منصوبوں کی پیشرفت اور جدید جنگی ٹیکنالوجیز اور تربیت کے شعبے میں پیشہ ورانہ تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے فوجی تعاون پر تفصیل سے بات چیت کی گئی،ملاقات کے دوران پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ضیہر احمد بابر سدھو نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے تعلقات کی بنیاد بننے والے مشترکہ اقدار اور امنگوں پر زور دیا،انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، سیٹلائٹ پروگرامز اور امیجری انٹیلی جنس کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا،دونوں کمانڈروں نے ترک کیڈٹس کے لیے پی اے ایف میں تربیتی پروگرامز کو بڑھانے اور ان میں جدید ٹیکنالوجیز، اے آئی پر مبنی لرننگ ماڈیولز اور مشترکہ مشقوں کو شامل کر کے تربیتی طریقہ کار کو جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل یاسر قادی اوغلو نے پاکستان کی طرف سے انہیں دیے جانے والے استقبال پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طویل عرصے سے قائم برادرانہ تعلقات کو سراہا۔،ترکیے کے اعلیٰ سطحی وفد کا ائیر ہیڈکوارٹرز کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مستحکم کرنے کے عزم کا مظہر ہے اور یہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک سنگ میل ہے۔

  • آدھا گھنٹہ ہے،بھاگ جاؤ …ورنہ…سکھ انڈین آرمی کے سامنے ڈٹ گئے

    آدھا گھنٹہ ہے،بھاگ جاؤ …ورنہ…سکھ انڈین آرمی کے سامنے ڈٹ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کرنے کیا جا رہا ہے، کیا پاکستان کی جنگی تیاریاں ہیں یہ جذباتی باتیں نہیں ٹھوس تجزیہ ہے، ابھی تک جو پچھلے پانچ دن میں دیکھا آئی ایس پی آر کی نگرانی میں مستعدی سے کام پاکستان میں جاری ہے، 24 گھنٹے پاکستانی میڈیا پر فیک نیوز نہیں ملے گی، کوئی گالم گلوچ نظر نہیں آئے گا، بے تکا تجزیہ نظر نہیں آئے گا اسکے برعکس بھارتی میڈیا اٹھا کر دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں، وہاں رافیل،یہ اڑائیں گے،یہ کریں گے،کی باتیں ہو رہی ہیں، پاکستان میں کوئی اس طرح کی بات نہیں کر رہا، آئی ایس پی آر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں عسکری چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا وہ ہمیں انفارم کرتے ہیں،تصاویر،ثبوت،مکمل معلومات دیتے ہیں، اب پوری دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ بھارت کا گودی میڈیا پاگل ہو چکا ہے، نیوز روم میں ایسے لگتا ہے بہت سے سور لڑ رہے ہیں ،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ بھارت کے لئے آسان ہدف نہیں،ہمارے پاس پہاڑی علاقے، دریا،بڑے شہروں کے گرد حفاظتی انتظامات، بھارت کا حملہ اک خواب ہی رہے گا، پاکستان آرمی، فضائیہ اور بحریہ یہ کسی بھی صورتحال کے لئے ہر وقت الرٹ ہیں، سول ڈیفنس، ایف سی، رینجرز ،پیرا ملٹری ،میڈیکل کور،فیلڈ ایمبولیسنز تمام ادارے فعال ہیں اور تیار ہیں،پاکستان آرمی بہترین تربیت یافتہ ہے،چھوٹے سے چھوٹے دستے کو بھی بہترین آپریشن کا تجربہ حاصل ہے،پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا اس دشمن سے جس کے کوئی اصول،ضوابط نہیں،پاکستان آرمی آپریشن کر چکی ہے، جبکہ بھارتی فوج نے چالیس برسوں سے کوئی ایکشن نہیں دیکھا سوائے ان کے جو فلموں میں ہوتے ہیں، بھارتی فوج کو میس میں رہنے کی اور پینے کی عادت ہو چکی ہے، پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے کئی بار گرائے ہیں، ابھینندن والا واقعہ ،ایک جہاز گرانے کا واقعہ نہیں تھا ،کس طرح ان کو آنے دیا گیا وہ جو کر سکتے تھے کرنےدیا،جب ٹاک سنی تو پتہ چلا کہ وہ خود گھبرائے ہوئے ،ان کو ٹرئپ کیا اور پھر پھڑکایا،ایک نہیں تین طیارے ان کے گرائے،ایک ہیلی تو کشمیر میں بھی گر گیا،یہ پورا آپریشن اب اکیڈمیز میں پڑھایا جا رہا ہے، کیسے دشمن کو زچ کر کے تباہ کرنا ہے،

  • بھارت میں مبشر لقمان یوٹیوب بند،ایکس بھی بند ہو سکتا، مبشر لقمان کا بھارتیوں کو مشورہ

    بھارت میں مبشر لقمان یوٹیوب بند،ایکس بھی بند ہو سکتا، مبشر لقمان کا بھارتیوں کو مشورہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مودی سرکار مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کرنے کے بعد میرا ایکس اکاؤنٹ بھی بند کر سکتی ہے، بھارتی شہری وی پی این کا استعمال کریں اور حقائق جانیں

    مبشر لقمان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بھارتی حکومت نے ان کا یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشل” بھارت میں بلاک کر دیا ہے۔ اس کے بعد اب بھارتی حکومت ان کے "ایکس” (پہلے ٹوئٹر) اکاؤنٹ کو بھی بلاک کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھارتی شہری جو اپنے وزیرِاعظم کے غلط فیصلوں اور جھوٹے بیانیوں سے تنگ ہیں، وہ وی پی این استعمال کرکے میرے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں تاکہ وہ حقائق اور سچی خبریں حاصل کر سکیں۔بھارتی میڈیا پر جو جھوٹا اور گمراہ کن مواد دکھایا جاتا ہے، وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے سچ کو عوام تک پہنچاتے رہیں گے۔

    مبشر لقمان نے اپنے پیغام میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا "ذہنی طور پر پسماندہ” رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ بھارت میں میڈیا کی آزادی پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔

    مبشر لقمان کی یہ باتیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پہلگام ڈرامے کو پاکستانی میڈیا نے بے نقاب کیا، مبشر لقمان نے بھی نہ صرف بھارتی قوم بلکہ عالمی دنیا کو اپنے وی لاگزمیں حقائق سے آگاہ کیا تو مودی سرکار تلملا اٹھی اور بھارت میں مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل بند کر دیا جس پر مبشر لقمان نے بھارتی قوم کو وی پی این استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے

    مبشر لقمان نے ایک اور ایکس پوسٹ میں کہا کہ کل کئی گھنٹے میں نے موٹر وے پر سفر کیا۔ مجھے موٹروے پر فوج کی ایک بھی گاڑی نظر نہیں آئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری افواج تعینات ہیں اور ہمارے ملک کی حفاظت کر رہی ہیں تاکہ ہم ایک آزاد ملک میں سکون سے رہ سکیں اور سکون سے سو سکیں۔ الحمدللہ

  • بھارت اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کر سکتا ہے، وزیر اطلاعات

    بھارت اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کر سکتا ہے، وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مستند انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ بھارت اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق رات گئے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ بھارت کی طرف سے ایسی کسی بھی فوجی مہم جوئی کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ بین الاقوامی برادری کو اس حقیقت پر زندہ رہنا چاہیے کہ بڑھتے ہوئے سرپل اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے بھارت پر عائد ہوگی۔ قوم پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ دنیا میں کہیں بھی اس کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے، پاکستان نے کھلے دل سے ماہرین کے ایک غیر جانبدار کمیشن کے ذریعے سچائی کا پتہ لگانے کے لیے ایک قابل اعتماد، شفاف اور آزاد تحقیقات کی پیشکش کی۔خطے میں جج، جیوری اور جلاد کا بھارتی خود ساختہ کردار لاپرواہی اور سختی سے مسترد ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس لعنت کے درد کو صحیح معنوں میں سمجھتا ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بھارت نے عقل کے راستے پر چلنے کے بجائے بظاہر غیر معقولیت اور تصادم کے خطرناک راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے پورے خطے اور اس سے آگے کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔قابل اعتماد تحقیقات سے چوری اپنے آپ میں ہندوستان کے اصل مقاصد کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ثبوت ہے۔ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جان بوجھ کر عوامی جذبات کو یرغمال بنا کر حکمت عملی کے فیصلے کرنا بدقسمتی اور افسوسناک ہے۔

    ترجمان پاک فوج کے بیانیے کو بھارتی بھی سپورٹ کرنے لگے

    کراچی ،پانی کی مین لائن پھٹ گئی، علاقہ زیرآب، درجنوں گھروں کو نقصان

    بھارتی وزیراعظم مودی کی فوج کو پہلگام واقعے پر ردعمل کی اجازت

    سندھ تو دور ، عمر ایوب عمران خان سے ہی سچے نہیں، شرجیل میمن

    احتساب عدالت سے سابق وزیر اعظم کو بڑا ریلیف، نیب کے مقدمات ختم

  • وزیراعظم  کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے  بھارتی اشتعال انگیزی پر رابطہ

    وزیراعظم کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے بھارتی اشتعال انگیزی پر رابطہ

    وزیراعظم شہبازشریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے درمیان آج ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ٹیلی فون کال کے دوران وزیراعظم نے بات پر زور دیا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا پوری طاقت سے دفاع کرے گا۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہا کہ وہ بھارت کو ذمہ داری سے کام لینے اور تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں اور وہ دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتا ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے پاکستان کو پہلگام واقعہ سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا اور واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔

    وزیر اعظم نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو غیر قانونی قرار دینے کی ہندوستان کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں اس کی وسیع پیمانے پر دستاویزی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس کا پانی 240 ملین لوگوں کی لائف لائن ہے۔

    وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کا حل طلب مسئلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے ؛ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار رکن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

    سابق بھارتی بیوروکریٹ نے پہلگام حملے کا پروپیگنڈا بے نقاب کر دیا

    پہلگام فالس فلیگ،مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو ہتھیار بانٹ دیے

  • پہلگام فالس فلیگ،مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو ہتھیار بانٹ دیے

    پہلگام فالس فلیگ،مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو ہتھیار بانٹ دیے

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت نے آگ مزید بھڑکانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں اپنے انتہا پسند حامیوں مین ہتھیار بانٹ دیئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 40 ہزار سے زائد انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیئے ہیں۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی پر قابض نریندر مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے پیروکار انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دئیے ہیں۔انتہا پسند ہندوؤں پر مشتمل یہ جتھے ویلیج ڈیفنس گارڈز کی آڑ میں پہلگام حملے کا بدلہ لینے کا نعرہ لگا کر مقبوضہ ریاست میں عام کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ہندو انتہا پسندوں کو دیئے گئے ہتھیاروں میں کلاشنکوف، بھارتی فوج میں استعمال ہونے والی INSAS رائفلیں شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرستی میں مقبوضہ وادی میں نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کے 4 ہزار سے زائد گروپ کھڑے کئے ہیں۔ہر "ویلیج ڈیفنس گارڈ” گروپ 15 سے 20 انتہاء پسند ہندوؤں پر مشتمل ہے، ان میں ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کی اکثریت ہے۔ یہ انتہا پسند ہندو جتھے پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ہندو انتہا پسندوں کے ان جتھوں کو بھارتی حکومت کی جانب سے تربیت اور تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔بھارتی فوج ان گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ فوج کا مقصد فیک انکاؤنٹرز کے ساتھ ساتھ ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کی آڑ میں زیادہ سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ انتہا پسند ہندو جتھے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں آپریشنل بیس منتخب کرچکے ہیں۔ ان انتہا پسند ہندو جتھوں کا ہدف مقبوضہ کشمیر کے نوگام، اوڑی، پونچھ، راجوڑی اور نوشہرہ کے علاقے ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنااور لوٹ مار کرنا ہ اور خوف و ہراس پھیلا کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو بھی متاثر کرنا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انتہا پسند مرکزی حکومت پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان کے اندر اپنی سپانسرڈ دہشتگردی سے دنیا کی توجہ ہٹا کر الٹا پاکستان پر الزام دھرنے کی بچگانہ کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف نریندر مودی مقبوضہ ریاست میں اپنی بری طرح ہاری ہوئی بازی کو پلٹنے کا بچگانہ خواب دیکھ رہا ہے۔

    ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    گلوکار سلمان احمد نے ایکس پر شیئر کیا جعلی خط،بھارتی اکاؤنٹس پر بھی پروپیگنڈہ