Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

    بھارت کے متنازع اور بے نقاب پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جارحانہ اور دوٹوک پریس کانفرنس نے بھارتی بیانیے کو بھرپور انداز میں چیلنج کر دیا اور اُن کے ایک جملے نے گویا پوری قوم کی ترجمانی کی: ’’ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں… 2019ء میں ہم نے یہی بتایا تھا‘‘۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی زوردار پریس کانفرنس نے بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیدیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’ہم تیار ہیں ، آزمانا نہیں، 2019ء میں ہم نے یہی بتایا تھا‘‘ ہم وہ نہیں جو محاذ آرائی شروع کریں، ہم ذمہ دار ملک ہیں۔

    بھارتی گیدڑبھپکیوں پر خاموشی،مشی خان پاکستانی اداکاروں پر پھٹ پڑیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر وہ(دشمن) یہ سمجھتا ہے کہ جارحیت ہی راستہ ہے تو ہم تیار ہیں ، اس کی آزمائش نہ کریں، ہم نے ہر ڈومین میں جوابی کارروائی کے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، ہم ہر وقت اور ہر جگہ تیار ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی خودمختاری اور سالمیت کا ہرقیمت پر دفاع کرے گی، فوجی تصادم کا راستہ بھارت نے چنا تو یہ اس کی چوائس ہے، آگے یہ معاملہ کدھر جاتا ہے تو یہ پھر ہماری چوائس ہے، ہم بار بار بتا رہے ہیں ہم تیار ہیں ہمیں آزمانا نہیں۔

    پاکستانی سرحد پار کرنا بھارت کی تاریخی بھول ثابت ہوگی،مریم اورنگزیب

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا پیغام’’ہم تیار ہیں، ہمیں آزمانا نہیں‘‘ عوام کی آواز بن گیا، تمام سوشل میڈیا صارفین نے اس بیان کو راتوں رات پاپولر ہیش ٹیگ بنا دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر راتوں رات #ہم_تیار_ہیں_آزمانا_نہیں کا ہیش ٹیگ وائرل ہو گیا، جس میں عوام، صحافی، دفاعی تجزیہ کار اور سیاسی شخصیات سب نے حصہ لیا سوشل میڈیا پر یہ تاثر نمایاں رہا کہ پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکنا اور تیار ہیں، اور کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    پاکستانی سرحد پار کرنا بھارت کی تاریخی بھول ثابت ہوگی،مریم اورنگزیب

    ماہرین کے مطابق یہ پریس کانفرنس صرف عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی اور سفارتی پیغام بھی تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا بھارتی فالس فلیگ آپریشن کے بعد اب پاکستان نے عالمی سطح پر بھی اپنے مؤقف کو جارحانہ انداز میں پیش کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

    پہلگام فالس فلیگ کے خلاف سچائی، اتحاد اور تیاری کا پیغام اب محض اداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی زبان پر ہے ’’ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں!‘

    پہلگام ڈرامہ،سیکورٹی کی ناکامی،بھارت میں بھی سوال اٹھنے لگے

  • پہلگام،بھارت ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کردہ حقائق کو جھٹلا نے میں بری طرح ناکام

    پہلگام،بھارت ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کردہ حقائق کو جھٹلا نے میں بری طرح ناکام

    پہلگام فالس فلیگ ، حقائق منظر عام پر آنے اور گمراہ کن پروپیگنڈہ بےنقاب ہونےپربھارت حواس باختہ ہو گیا

    پاکستان کی جانب سےالزامات کی بجائےحقائق بیان کرنےپربھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے،پاکستان نے ریاستی سرپرستی میں بھارتی دہشتگردی کے شواہد پوری دُنیا کے سامنے آشکار کیے، جنگی جنون مین مبتلا بھارت حقائق کی بجائےالزامات درالزامات کی سیاست کر رہا ہے،بھارت ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کردہ حقائق کو جھٹلا نے میں بری طرح ناکام ہوگیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے حقائق بیان کئے، حقائق بیان کرنے پر بی جے پی کے انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے کانگریس لیڈران کو شدید تنقید اور دھمکیوں کاسامنا کرناپڑا،

    کانگریس لیڈر وجے ودیتیوار نے پہلگام حملے کے بعد بی جے حکومت اور بھارتی فوج کی ناکامی پرشدید تنقید کی تھی، بھارتی سول سوسائٹی اور کئی اپوزیشن رہنماؤں نے بھارتی فوج کی ناکامی پر سوالات اٹھائے،بھارتی میڈیاپہلےبھی حقائق چھپانے کےلیے سچ بولنے والی آوازوں پر پابندیاں لگا چکا ہے، پہلگام حملے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار بھارت نے پاکستان کے کئی چینلز اور سوشل میڈیااکاؤنٹس پر پابندی لگائی،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حقائق کا سامنا کرنے کی بجائے بھارت اختلافی آوازوں پر ظلم و ستم میں مصروف ہے، بھارت کی بوکھلاہٹ سے واضح ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقائق بیان کئے، مودی سرکار کوحقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرکے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہئے،

  • افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار

    افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار

    پاکستان کی مسلح افواج نے ایک مرتبہ پھر اپنی جنگی تیاریوں کا عزم ظاہر کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور دندان شکن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فوج کی جنگی مشقیں اس وقت پورے ملک میں جاری ہیں، جن میں جدید ہتھیاروں اور فوجی حکمت عملی کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔یہ مشقیں افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنے اور جنگی تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد دشمن کے کسی بھی ممکنہ حملے کا مؤثر اور فوری جواب دینا ہے۔ یہ مشقیں اس بات کا بھی پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نہ صرف اپنی دفاعی حکمت عملی میں ماہر ہے بلکہ جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال میں بھی مکمل طور پر تربیت یافتہ ہے۔

    اس سے قبل، 29 اپریل کو پاکستان نے بھارت کو عملی طور پر منہ توڑ جواب دیا تھا جب پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کے دو کواڈکواپٹر مار گرائے تھے۔ یہ واقعہ بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزام تراشی اور جارحانہ رویے کے بعد پیش آیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے دفاعی حکمت عملی کے تحت کی گئی تھی، تاکہ بھارت کو اس کی اشتعال انگیزیوں کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔

    پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان پر مختلف الزامات لگانے کے باوجود، پاکستان کی مسلح افواج نے ہر موقع پر اپنے دفاعی عزم اور جنگی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے وہ ہر دم تیار ہیں۔

  • کوئی مزدور کسی کا غلام نہیں ہوتا، ہم فیصلہ کرتے،انصاف اللہ کا کام،جسٹس جمال مندوخٰل

    کوئی مزدور کسی کا غلام نہیں ہوتا، ہم فیصلہ کرتے،انصاف اللہ کا کام،جسٹس جمال مندوخٰل

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم ججز انصاف نہیں کرتے، آپ حیران ہوں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں،انصاف تو اللّٰہ کا کام ہے ہم تو بس فیصلہ کرتے ہیں، ہم اپنے سامنے موجود دستاویز کو دیکھ کر فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں۔

    اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ آپ نے سنا ہو گا کہ ججز بولتے نہیں لکھتے ہیں، سوچا تھا لکھی ہوئی تقریر پڑھ لوں گا مگر اب دل کی اور آئین کی بات کروں گا،صدیقی صاحب نے مشکل میں ڈال دیا کہ میں بالکل اچھا مقرر نہیں مگر بات کرنا ہو گی، آئین کے مطابق تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں، آئین کے مطابق کسی سے آپ زبردستی کام نہیں لے سکتے، ہم نے قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے حلف لیا ہے،پالیسی فیصلوں پر میں بات نہیں کر سکتا، ہمارا کلچر ہے کہ مل بیٹھ کر جرگے کی صورت میں بات کریں، میرا کوئی کمال نہیں کہ میں جج ہوں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کام کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں،سوال ہے کہ کیا میں بحیثیت جج اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہوں؟ صرف آپ کو مزدور اور مجھے جج کا نام دیا گیا ہے، میرا کوئی کمال نہیں کہ میں اس عہدے پر بیٹھا ہوں،مجھے خوف ہے کہ جو میرا حلف ہے کہیں میں اس کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا؟ کوئی فریق کہے گا کہ میرا حق ہے مگر میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو میرے سامنے دستاویز ہے، اللّٰہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو حلف کی پابندی کرنے کی توفیق دے، مجھےجو اتنے پرتعیش دفاتر اور وسائل ملے ہیں وہ مزدور اور آپ کے توسط سے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا مزید کہنا ہے کہ جب ہم آپس میں بیٹھیں گے تو یقین ہے کہ مسائل حل ہوں گے، کسی بھی ادارے کے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ یونین بنائے، یہی بہتر طریقہ ہے کہ مسائل بات چیت سے حل کیے جائیں، بہت سارے چھوٹے چھوٹے مسائل مل بیٹھ کر حل ہو سکتے ہیں، جس صوبے سے میرا تعلق ہے وہاں کان کنی کا کام ہے جو مزدور کرتے ہیں، جو کان کے اندر جاتے ہیں ان مزدوروں کے حوالے سے قوانین حکومت کو بنانے چاہئیں،آئین میں درج حقوق سب کو ملنا چاہئیں، کوئی مزدور کسی کا غلام نہیں ہوتا، آئین کے مطابق ہم فیصلہ کرتے اور اس کا تحفظ کرتے ہیں، آئین میں درج پوری قوم کے حقوق کے تحفظ کا ہم نے حلف لیا ہے، ہم نے جو بھی فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہ کسی کے دباؤ، خوف اور لالچ میں آئے بغیر کرنا ہے، اپنے اور ساتھی ججز کی جانب سے یقین دلاتا ہوں ہم انصاف اور حقوق کا تحفظ کریں گے، آئیں جو بھی مسئلہ ہے اس پر مل بیٹھیں، ججز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ میل جول نہ رکھیں، ہم جب کسی کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے، معلوم نہیں صدیقی صاحب نے تعریف کی یا غیبت کہ میں صبح سویرے نہیں اٹھتا۔

    چیئرمین این آئی آر سی شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں،مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی کانفرنس کا اسلام آباد میں آغاز ہوا، جس میں جج صاحبان، ماہرینِ قانون اور آئی ایل او کے نمائندے شریک ہیں،
    اسلام آباد میں کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر شوکت عزیز صدیقی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقے کا قومی ترقی میں اہم کردار ہے، این آئی آر سی کا بنیادی مقصد ملک میں صنعت کا پہیہ رواں رکھنا ہے، صنعت چلتی رہے گی تو مزدور کا چولہا جلتا رہے گا، 4 دسمبر 2024ء کو مجھے چیئرمین این آئی آر سی کی ذمے داری سونپی گئی، جب اس ذمے داری کے تحت قانون پڑھا پتہ چلا ہمارا کام مزدور اور مالک کو اکٹھا کرنا ہے، ہم نے کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا جہاں ورکرز اور مالکان ایک ساتھ بیٹھ کر بات کریں، ہم کامیاب ہوئے کہ آج ورکرز اور مالکان ایک میز پر ہوں گے، کانفرنس کا عنوان ’WE‘ ان 2025ء ہے، اس WE میں ڈبلیو سے مراد ورکر اور ای سے مراد امپلائر ہے، ہم نے کوشش کی ہے کہ ورکر اور امپلائر کے درمیان صلح رحمی اور یکجانیت لائیں۔

  • پہلگام ڈرامہ،بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی خفیہ دستاویزات لیک،مقصدپاکستان کو بدنام کرنا

    پہلگام ڈرامہ،بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی خفیہ دستاویزات لیک،مقصدپاکستان کو بدنام کرنا

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی 9 خفیہ کلاسیفائڈدستاویزات مبینہ طور پر عسکریت پسند گروہ ٹی آر ایف نے لیک کر دی ہیں۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے دستاویزی ثبوت لیک ہوگئے،پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کیلئے راء نے دہشت گرد حملہ پلانٹ کیا

    انکشافات کے مطابق، پہلگام حملہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا اور بھارت پاکستان کے خلاف بڑے فوجی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے، جس میں بلوچ شدت پسند گروہوں کو استعمال کر کے اندرونی تخریب کاری شامل ہے۔منظر عام پر آنے والے دستاویزات کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں‌کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنی تھی، اس کا مقصد عالمی طاقتوں کو پاکستان کے خلاف متنفر کرنا تھا، فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی فوج کو ایک اعشاریہ دو کلومیٹر پاکستان کے اندر کاروائیوں کا ہدف دیا گیا تھا

    پہلگام حملہ ایک عسکریت پسندانہ کارروائی نہیں تھی۔ یہ ایک بہت ہی منصوبہ بندی شدہ جعلی کارروائی تھی جسے بھارت کی خفیہ ایجنسی،را نے تیار اور عملی طور پر انجام دیا۔لیک ہونے والی دستاویزات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ حملہ ایک اعلیٰ تعداد میں جانی نقصان اور بڑا پروفائل حملہ دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جو ایک کشمیری عسکریت پسند گروہ کے حملے کے طور پر پیش کیا جائے۔ لیکن اس حملے کے ہر پہلو کو چالاکی سے بدلا گیا تھا کال لاگ، اسلحہ کے نشانات، زبانیں ،

    آپریشن کا اصلی مقصد کیا تھا؟
    بین الاقوامی رائے کو متاثر کرنا، خاص طور پر امریکی محکمہ خارجہ، ایف وی وائی ہائبرڈ وارفیئر یونٹس، اور یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکشن سروس کو یہ یقین دلانا کہ پاکستان پھر سے دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔اس آپریشن کا دوہرا مقصد تھا،پاکستان کے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بیانیہ کو بدنام کرنا۔بھارت کی داخلی کریک ڈاؤن اور فوجی اقدامات کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے گلوبل کاؤنٹر ٹیررزم کمپیکٹ کے تحت جواز فراہم کرنا۔

    راکا منصوبہ یہ تھا کہ پاکستان کی فوجی ردعمل کی پیش گوئی کی جائے۔ بارہویں کور کو مشرقی محاذ کی طرف حرکت کرنے پر مجبور کیا جائے گا، جس سے بلوچستان غیر محفوظ ہو جائے گا اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں جیسے بی ایل اے اور بی این اے کو ایک شاندار موقع مل جائے گا۔حتیٰ کہ سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی اس سلسلے میں شامل تھا۔ایک اور مقصد یہ تھا کہ ایک محدود بھارتی دراندازی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کی جائے، جس میں ایک بفر زون کو حملے کی صورت میں قبضہ کیا جائے، تاکہ پاکستان کے ردعمل کو اشتعال دلایا جا سکے۔ اس حملے کو "عارضی” اور "دفاعی” کے طور پر پیش کیا جانا تھا۔

    اس منصوبے کا اہم پہلو وقت تھا۔ مثالی وقت کا انتخاب امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کی بھارت کے دورے کے دوران کیا گیا تھا، تاکہ مغربی دنیا سے زیادہ سے زیادہ ہمدردی اور سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

    پہلگام کیوں؟
    پہلگام کو ایک آسان ہدف کے طور پر منتخب کیا گیا کیونکہ وہاں ہندو سیاحوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور یہ ایک اہم فوجی رسد کا مقام بھی ہے۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نظر آنا اور زیادہ سے زیادہ غصہ پیدا کرنا تھا۔دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بھارتی میڈیا اور حکومتی اہلکاروں کو اس حملے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام لگانے کی تیاری کرائی گئی تھی تاکہ ملکی اور عالمی سطح پر رائے کو اس کے حق میں موڑا جا سکے۔

    جو کچھ اس لیک سے سامنے آیا ہے وہ نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو خونریزی کو منصوبہ بندی کرے، بیانیہ کو بدلنے کی کوشش کرے، اور محض اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ کو خطرے میں ڈالے۔بھارتی حکومت اور”را”نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اور اب، دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی لیک دستاویز کے مطابق، رانے مقبوضہ کشمیر میں ایک خطرناک حملے کی منصوبہ بندی کی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محدود مداخلت اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ اس آپریشن کو ایک "ڈوئل ایکسس اسٹریٹیجک ماڈل” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں مقبوضہ کشمیر کے اندر عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی سلامتی کی تشہیر کو بھی مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق اس آپریشن کا مقصد کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ذریعے ایک ایسا حملہ کرانا ہے جو بڑی تعداد میں جانی نقصان اور عالمی سطح پر توجہ کا باعث بنے۔ اس حملے کو کشمیر کے مقامی گروپوں، جیسے "دی ریزسٹنس فرنٹ” اور "پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ” کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جو آپریشن کی سرپرستی کریں گے۔آپریشن کا عمومی مقصد پاکستان کے خلاف ایک بیرونی جنگی فریم ورک تیار کرنا ہے جس سے بھارت کی داخلی سلامتی کو بھی مضبوطی ملے گی اور عالمی سطح پر پاکستان کے روایتی بیانیہ کو خراب کیا جائے گا۔

    را کی لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق یہ آپریشن نہ صرف بھارت کی داخلی سلامتی کو تقویت دینے کے لیے ہے، بلکہ اس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ قائم کرنا بھی ہے، جس سے بھارت کے لیے عالمی دہشت گردی کی روک تھام کے اقدامات میں حمایت حاصل ہو سکے۔ بین الاقوامی سطح پر اس آپریشن کے ذریعے بھارت کو اپنے قومی مفادات کے دفاع میں مزید کامیاب بنانے کی کوشش کی جائے گی، خصوصاً امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور کینیڈا جیسے ممالک کے ساتھ مل کر۔اس منصوبے کی تشہیر کے لیے ایک مربوط میڈیا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اس کی کامیاب تشہیر کو نیشنل اور بین الاقوامی میڈیا میں فروغ دیا جائے گا۔ اس میں بھارت کے اہم میڈیا ادارے جیسے این ڈی ٹی وی گروپ، انڈین ایکسپریس، اور غیر متنازعہ میڈیا چینلز جیسے ڈوئچے ویلے جنوبی ایشیا کو شامل کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر اس کی جھلک دکھائی جا سکے۔

  • بھارتی خفیہ ایجنسی  ’’را‘‘ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو خود قتل کیا،مبشر لقمان

    بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو خود قتل کیا،مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کےسینئر، معروف صحافی اور تجزیہ نگار،اینکر مبشر لقمان نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوؤں کو خود قتل کیا تاکہ اس کا الزام پاکستان اور کشمیری مزاحمتی تنظیموں پر ڈالا جا سکے۔

    مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرپوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی انتہائی خفیہ دستاویزات موجود ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ بھارت نے خود اپنے لوگوں کو بے رحمی اور سفاکی سے قتل کیا، اور اب ان ثبوتوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے گا تاکہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کا چہرہ بے نقاب ہو۔ پلوامہ حملہ دراصل ایک مکمل طور پر ’’را‘‘ کی منصوبہ بندی تھی، جسے بھارت نے اپنی عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا ، اس حملے میں بھارتی ایجنسی کے اہلکاروں نے خود اپنے شہریوں کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد ایک جعلی بیانیہ دنیا بھر میں پھیلایا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ’’پلوامہ حملہ ایک خود ساختہ ڈرامہ تھا، جس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی نے اپنے ہی سپاہیوں کو مار کر اس کا الزام پاکستان پر دھر دیا۔ میرے پاس اندرونی خطوط اور کلاسیفائیڈ معلومات موجود ہیں جو اس سازش کی مکمل تصدیق کرتی ہیں،‘‘ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ان دستاویزات اور دیگر شواہد کو عوام کے سامنے پیش کریں گے، تاکہ عالمی برادری کو یہ اندازہ ہو سکے کہ بھارت خود اپنے شہریوں کو قتل کر کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتا رہا ہے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1917671088558944397

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ "را” نے کچھ مخصوص تنظیموں کو فنڈنگ اور سہولت فراہم کی تاکہ ان کے ذریعے ایسے حملے کرائے جا سکیں جو بھارت اپنے بیانیے کے لیے استعمال کر سکے۔ اب شواہد موجود ہیں جو ’’را‘‘ اور ان تنظیموں کے درمیان رابطوں کو ثابت کرتے ہیں۔پاکستان عشروں سے بھارتی جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ رہا ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ان جھوٹوں کو بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان شواہد کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی را ہی تھی جس نے مقوضہ کشمیر میں قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

    پہلگام ڈرامہ، ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    بھارت میں مبشر لقمان یوٹیوب بند،ایکس بھی بند ہو سکتا، مبشر لقمان کا بھارتیوں کو مشورہ

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    بھارت کو "کھرا سچ”ہضم نہ ہوا، مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کر دیا

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

  • لڑنےسے انکار، بھارتی نائب ائیر چیف  عہدے  سے فارغ

    لڑنےسے انکار، بھارتی نائب ائیر چیف عہدے سے فارغ

    مودی سرکار کو اعلیٰ فوجی قیادت سے واضح انکار ملنے کا سلسہ جاری ہے، اس بار نائب ائیر چیف ایئر مارشل ایس پی دھارکر نے انکار کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایئر مارشل ایس پی دھارکر کو سات ماہ بعد ہی عہدے سے ہٹادیا گیا ۔ایئر مارشل ایس پی دھارکر، جو گزشتہ رات رافیل طیاروں کی جارحانہ پروازوں کے نگران تھے، اُن کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ پاک فضائیہ نے رافیل طیاروں کو فوری اور مؤثر طور پر روکا۔نائب فضائی سربراہ نے اپنے پائلٹس کی رافیل ہینڈلنگ پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ بھارتی رافیل طیارے پاکستانی جدید ریڈارز کے سامنے بے بس ہوکر راستہ بھول گئے ۔

    واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول کو جارحانہ طور پر کھوجنے کا ٹاسک لئے رافیل کو پاکستانی ریڈارز نے جام کر دیا۔طیارے ایک اور آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا شکار ہو گئے ۔اس حوالے سے مودی سرکار نے ایئر مارشل نرمدیشور تیواری کو نیا نائب فضائی سربراہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ بھارتی فضائیہ میں ہم آہنگی قائم رکھی جا سکے۔نائب فضائی سربراہ کی برطرفی نے بھارتی فضائیہ میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

    پہلگام فالس فلیگ کے بعد یہ دوسرا بڑا عسکری تبدیلی ہے۔خیال رہے کہ شمالی کمان کے آرمی کمانڈر کو پہلے ہی تبدیل کیا جا چکا ہے۔اعلیٰ فوجی قیادت میں تیز رفتار تبدیلیاں بی جے پی کے فاشسٹ ایجنڈے اور افواج کی پیشہ ورانہ خودمختاری کے درمیان بداعتمادی کا ثبوت ہیں۔دفاعی ماہرین نے آئندہ دنوں میں مزید عسکری استعفوں اور تبدیلیوں کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    ملک میں بجلی کی خرید وفروخت کیلئے نیا نظام لاگو ہو گیا

    حکومت نےلیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کر دیا

    پاک بھارت کشیدگی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر واہگہ اٹاری بارڈر بند

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    وزیراعظم کا امریکا سے بھارت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

  • حکومت نےلیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو قومی سلامتی کا مشیر  مقرر کر دیا

    حکومت نےلیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کر دیا

    وفاقی حکومت نےلیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کر دیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت وہ آئی ایس آئی کے چیف ہیں.لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بلوچستان میں انفنٹری ڈویژن اور وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کمانڈ کرچکے ہیں، اس کے علاوہ وہ چیف انسٹرکٹر نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی (این ڈی یو) اور انسٹرکٹر کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ بھی تعینات رہ چکے ہیں،اس اہم تقرر کا اعلان آج بدھ کی شب کیا گیا ہے۔

    باتیا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اس سے پہلے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں بھی فرائض سرانجام دےچکےہیں۔ وہ فورٹ لیون ورتھ اور رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز کے گریجویٹ بھی ہیں، وہ اپنے کورس میں اعزازی شمشیر بھی حاصل کرچکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک 30 ستمبر 2024 کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے۔یفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کے والد غلام محمد بھی لیفٹیننٹ جنرل تھے رہے۔ انہیں جنرل جی ایم کہا جاتا تھا۔ وہ کور کمانڈر راولپنڈی رہے ہیں۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    وزیراعظم کا امریکا سے بھارت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

    پہلگام واقعہ، بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کے واقعات میں اضافہ

  • وزیراعظم کا امریکا  سے بھارت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

    وزیراعظم کا امریکا سے بھارت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکا بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز ی سے گریز کرے اور ذمہ داری سے کام لے ۔

    باغی ٹی وی کے مطاق وزیر اعظم شہباز شریف نے ے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فونک رابطے کے ووران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے 90,000 سے زائد جانوں کی قربانی دی۔ پاکستان کو 152 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ۔وزیراعظم نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار کا ذکر کیا۔وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سیکریٹری روبیو کو پہلگام واقعہ کے بعد جنوبی ایشیاء میں حالیہ پیش رفت پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے بھارت کے بڑھتے ہوئے اشتعال انگیز رویے کو انتہائی مایوس کن اور تشویشناک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی دہشت گردی بالخصوص افغان سرزمین سے سرگرم آئی ایس کے پی، ٹی ٹی پی، اور بی ایل اے سمیت عسکریت پسند گروپوں کو شکست دینے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں سے توجہ ہٹانے کا کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارتی کوششوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا۔ انہوں نے حقائق سامنے لانے کے لیے شفاف، قابل اعتماد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے اور ذمہ داری سے کام لے ۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا انتخاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پانی پاکستان کے 240 ملین لوگوں کے لیے لائف لائن ہے۔ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کی کوئی شق نہیں ہے۔ جموں و کشمیر تنازعہ کا پرامن حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔ وزیراعظم نے پاک – امریکہ دوطرفہ تعاون پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا نے گزشتہ 70 سالوں میں مل کر کام کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں فریق مزید کئی شعبوں بشمول انسداد دہشت گردی اور معاشی تعاون کو بڑھانے، معدنیات کا شعبہ میں بھی تعاون کر سکتے ہیں۔ہماری حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران بڑی اقتصادی اصلاحات کی ہیں اور اس کے نتیجے میں پاکستان اب اقتصادی بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ روبیو نے تفصیلی بات چیت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ۔مارکو روبیو نے جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لیے دونوں فریقوں کو مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    پہلگام واقعہ، بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کے واقعات میں اضافہ

  • اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں سے رابطے

    اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں سے رابطے

    دنیا کو بھارت کے مکروہ عزائم سے آگاہ کرنے کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں سے رابطے،کہا کہ پاکستان خطے کے امن اور اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

    بھارتی اشتعال انگیزی اور مسلسل غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر پاکستان نے عالمی برادری کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے اور اسی تناظر میں آج پاکستان نے امریکا پر واضح کر دیا کہ سالمیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

    اسحاق ڈار کا اسپین کے وزیر خارجہ سے رابطہ

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینویل البریز سے بھی رابطہ کیا اور حالیہ علاقائی پیش رفت سے آگاہ کیا اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کی خلاف کررہا ہے جبکہ انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور شفاف تحقیقات کے لیے پاکستان کی تیاری سے بھی آگاہ کیا۔

    اسپین کے وزیر خارجہ اور یورپی یونین و تعاون کے وزیر ہوزے مینویل البریز پہلگام حملے میں پاکستان کی جانب سے شفاف تحقیقات کی تجویز کا خیرمقدم کیا دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی دونوں فورمز پر تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    اسحاق ڈار کا قطر، کویت ،عمان اور بحرین کے وزرائے خارجہ سے رابطہ

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسیدی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں انہوں نے بھارتی پروپیگنڈے سے آگاہ کیا نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے عمان کے وزیرخارجہ سے خطے کی صورت حال پر بات چیت کی۔

    اسحاق ڈار نے انہیں موجودہ علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی جس میں بھارت کا اشتعال انگیز پروپیگنڈہ، غیر قانونی یکطرفہ اقدامات اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔

    عمان کے وزیر خارجہ نے مسائل کے حل کے لیے کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا،اسحاق ڈار نے نے ایران اور امریکا کے مذاکرات کے لیے عمان کی کوششوں کو سراہا اور ان کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم بن جبر الثانی نے کہا کہ علاقائی امن و استجکام برقرار رکھنا ضروری جبکہ ہانہوں نے تنازعات کے حل میں مذاکرات اور سفارت کاری پر زوردیا۔

    کویتی وزیرخارجہ عبداللہ علی ال یحییٰ نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کو کویت کی حمایت کا بھرپور یقین دلایا۔

    بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے ساتھ گفتگو میں اسحاق ڈار نے خطے طے اور اس سے باہر امن اور استحکام کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

    اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

    ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور نیٹالی بیکر نے دفتر خارجہ میں ملاقات کی جہاں حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر امریکی ناظم الامور نیٹالی بیکر نے اسحاق ڈار کو تناؤ میں کمی کی امریکی خواہش سے آگاہ کیا اور کہا کہ امریکا بدلتی ہوئی صورت حال پر دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔