Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اگر شرارت کی تو بھارت میں ہو گی ہر طرف تباہی ،پاکستان نے ٹارگٹ سیٹ کر لئے

    اگر شرارت کی تو بھارت میں ہو گی ہر طرف تباہی ،پاکستان نے ٹارگٹ سیٹ کر لئے

    پاکستان نے انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد بھارت کے خلاف اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق، بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر کی تیاری کی جا رہی ہے، جس میں بھارت کے مختلف ایجنسیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے سیکورٹی ذرائع کے مطابق، ہندوستانی ایجنسیاں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور سندھودیش آرمی (ایس آر اے) جیسے علیحدگی پسند گروپوں کے دہشت گردوں کو راجستھان اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں قائم کیمپوں میں تربیت دے رہی ہیں۔پاکستان کے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، بھارت کا مقصد سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور وہاں کی علیحدگی پسند تحریکوں کو مزید ہوا دینا ہے۔ ان علاقوں میں دہشت گردوں کو تربیت دینے کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

    پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں اور اپنے جوابی حملوں کے لیے جامع آپریشنل پلانز تیار کیے ہیں۔ پاکستان کے سیکورٹی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کی یا سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی، تو پاکستان فوراً جوابی کارروائی کرے گا۔ اس جوابی حکمت عملی میں مختلف جدید ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے، جیسے:

    کروز میزائل: پاکستان اپنے کروز میزائلوں کو استعمال کرکے دشمن کے اہداف کو درستگی سے نشانہ بنائے گا۔

    ایم ایل آر ایس (MLRS): ایک سے زیادہ لانچ راکٹ سسٹم (MLRS) کا استعمال کیا جائے گا تاکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی جا سکے اور دشمن کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

    مخصوص زمینی کارروائیاں: ان کارروائیوں میں زمینی فوج کو دشمن کے کیمپوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    دقیق ہتھیار: پاکستان کی فوج کی جدید ہتھیاروں کی مدد سے دشمن کے خلاف موثر اور درست کارروائیاں کی جائیں گی۔

    پاکستان نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا انتظار نہیں کرے گا اور اس کی خودمختاری پر حملہ کرنے کی صورت میں پاکستان کی طرف سے سخت اور فوری جوابی ردعمل ہوگا۔ بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا جارحیت کی صورت میں پاکستان کا جواب اتنا شدید ہوگا کہ وہ اگلی صبح تک دنیا بھر میں گونج جائے گا۔پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ ایسی مہم جوئی کی قیمت انتہائی مہنگی پڑے گی اور پاکستان کا ردعمل نہ صرف فوجی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی گونجے گا۔ پاکستان کی فوج اور فضائیہ دونوں اس وقت مکمل جنگی تیاری کے ساتھ ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

    پاکستان کی اس تیاری کے بعد عالمی برادری کی توجہ ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا کی جانب مرکوز ہو گئی ہے، جہاں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے، پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک سنگین مسئلہ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔

    پاکستان کا یہ موقف ہے کہ اس کا ردعمل دفاعی نوعیت کا ہوگا اور یہ کسی بھی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر اپنا حق دفاع استعمال کرے گا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کے لئے بھارت کو نہیں چھوڑے گا

    پاکستان کی یہ تیاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں اور خودمختاری کا بھرپور دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ بھارت کی جانب سے اگر کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی یا سرحدی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی تو پاکستان فوراً اپنے جوابی حملوں کا آغاز کرے گا، جو نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو ایک سخت پیغام دے گا۔

  • پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کرنے کی اصل حقیقیت  سامنے آ گئی

    پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کرنے کی اصل حقیقیت سامنے آ گئی

    پہلگام ڈرامہ،مودی سرکار کاپہلگام میں مسلمانوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ
    پہلگام میں منظم انداز میں سرکاری انتظامیہ کی سرپرستی میں مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے،انسداد تجاوزات مہم” کے نام پر مسلمانوں کی دکانوں اور مکانات کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے، مسلمان مالکان کی زمینوں پر ناجائز قبضوں نے پہلگام کے مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے ،پہلگام کی یہ زمینیں صدیوں مسلمانوں کے زیر استعمال ہیں، 2 فروری 2023 کو، حکومتی اہلکاروں نے کشمیری رہنما اور سابق میرواعظ قاضی یاسر کے شاپنگ کمپلیکس کو مسمار کر دیا،سابق مونسپل کونسلر بشیر احمد ڈار اور منظور احمد کا لارہ پورہ میں تعمیر کردہ ’’گرین ایکر گیسٹ ہاؤس‘‘ کو غیر قانونی تحویل میں لے لیا،مودی سرکار کے ظالمانہ قوانین کے مطابق اب زمین کو ریاستی مفاد کے نام پر کسی بھی مقصد کے لیے لیز پر دیا جا سکتا ہے،مودی سرکار نے پہلگام میں لیز کی مدت کو 99 سال سے گھٹا کر صرف 40 سال کر دیا ہے،پہلگام کے دیہی علاقوں میں اس انہدامی مہم کا سب زیادہ نقصان گوجر اور بکروال جیسی خانہ بدوش اقلیتوں کو پہنچا،ان خانہ بدوش اقلیتوں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنا کر 110کنال سے زائد جنگلاتی اراضی ضبط کر لی گئی،

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ مودی سرکار کے یہ تمام اقدامات انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہیں، پہلگام کے مسلمانوں کیخلاف ناجائز قبضے کی یہ مہم مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کی منظم سازش ہے،مودی سرکار کے یہ اقدامات مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے،پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کرنے کا مقصد مسلمانوں کی جائدادوں پر ناجائز قبضہ کرنا ہے۔ علاقے میں ایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے ، تاکہ مسلمانوں کے ملکیت پر بھارتی حکومت قبضہ کر سکے۔

  • دو قومی نظریہ،  بھارتی گودی میڈیا کا پراپیگنڈا مسترد

    دو قومی نظریہ، بھارتی گودی میڈیا کا پراپیگنڈا مسترد

    پاکستان کی بنیاد بننے والے دو قومی نظریے کے خلاف بھارتی گودی میڈیا کی جانب سے جھوٹے پراپیگنڈے اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی رپورٹس کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے حالیہ بیان پر بھارتی میڈیا نے جان بوجھ کر غلط بیانی اور گمراہ کن تشریحات سے کام لیا۔

    دو قومی نظریہ ہمیشہ سے پاکستان کے وجود کی بنیاد رہا ہے،مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہب، تہذیب، زبان، ثقافت اور تاریخ یکسر مختلف ہے،دو قومی نظریہ میں کسی بھی پاکستانی کو رتی بھر بھی شک نہیں۔حقائق کو اپنے جھوٹ اور پروپیگنڈا سے چھپاتے ہوئے بھارتی گودی میڈیا نے دو قومی نظریے کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش کی۔بانی پاکستان قائد اعظم نے واضح الفاظ میں دو قومی نظریے کو بیان کیا تھا،آرمی چیف نے جب دو قومی نظریہ کی بات کی اور قائد کے الفاظ کو دہرایا تو گودی میڈیا کو آگ لگ گئی۔بھارتی میڈیا نے دو قومی نظریہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ہندو کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کی ناکام کوشش کی ۔

    قائد اعظم نے اپنے خطاب میں فرمایا تھاکہ نہیں! مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان خلیج اتنی بڑی ہے کہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی،مسلمان، ہندوؤں کے ساتھ کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں،ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں، معاشرتی روایات اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ہماری تاریخ ، ثقافت، فن تعمیر ، موسیقی، قوانین ، فقہ اور سماجی تانے بانے زندگی کے ضابطوں میں مختلف ہیں۔

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے خطاب کے دوران کہا کہ ہم مسلمان زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہندوؤں سے مختلف ہیں،ہمارا مذہب ، رسم و رواج ، روایات، سوچ اور عزائم ہندوؤں سے یکسر مختلف ہیں،دو قومی نظریے کی بنیاد یہ تھی کہ مسلمان اور ہندو دو قومیں ہیں، ایک قوم نہیں،ہمارے آباؤاجداد نے پاکستان کی تخلیق کی خاطر انگنت قربانیاں دیں اور بے مثال جدوجہد کی،چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کیلئے بہت سی قربانیاں دیں، ہم اس کا دفاع کرنا جانتے ہیں،بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اپنے روایتی جھوٹے پروپیگنڈے سے تاریخ کو مسخ نہیں کر سکتا۔

  • ہم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں،آرمی چیف

    ہم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں،آرمی چیف

    پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ تقریب میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، غیر ملکی سفارت کاروں، اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو تقریب میں آمد پر سلامی پیش کی گئی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کیلئے بہت سی قربانیاں دیں، ہم اِس کا دفاع کرنا جانتے ہیں، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اپنے روایتی جھوٹے پروپیگنڈے سے تاریخ کو مسخ نہیں کر سکتا،دو قومی نظریہ ہمیشہ سے پاکستان کے وجود کی بنیاد رہا ہے،دو قومی نظریہ میں کسی بھی پاکستانی کو رتی برابر بھی شک نہیں،مسلمان زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہندوؤں سے مختلف ہیں،قائداعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں،ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان کی تخلیق کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں، ہم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں

  • پانی روکنے کی کوشش ہوئی تو بھرپور طاقت سے جواب ملے گا،وزیراعظم

    پانی روکنے کی کوشش ہوئی تو بھرپور طاقت سے جواب ملے گا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کو روکنے’ کم کرنے یا بہاؤ تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا

    پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ تقریب میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، غیر ملکی سفارت کاروں، اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو تقریب میں آمد پر سلامی پیش کی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پریڈ کا معائنہ کیا اور کیڈٹس کے حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا،اس موقع پر پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس نے ملک سے وفاداری اور آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا۔ 13 غیر ملکی کیڈٹس جن کا تعلق بنگلہ دیش، عراق، نیپال اور قطر سے تھا، بھی پاس آؤٹ ہونے والوں میں شامل تھے،تقریب کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ انڈر آفیسر زین العابدین کو صدارتی طلائی تمغے سے نوازا گیا، جبکہ انڈر آفیسر محمد حنان ملک نے اعزازی شمشیر حاصل کی،لیڈی کیڈٹ لائبہ رحمان کو بھی ان کی شاندار کارکردگی پر اعزاز سے نوازا گیا۔ انڈر آفیسر محمد طلحہ ایاز نے کمانڈنٹ کی اعزازی چھڑی اپنے نام کی.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے پہلگام واقعہ کی ’’کسی بھی غیر جانبدارانہ، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات‘‘ میں شرکت کے لیے تیار ہے، پانی ہمارے عوام کے لیے لائف لائن ہے، پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے ملک کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقی سرحد پر ہمارے پڑوسی نے پہلگام کے حالیہ سانحہ میں قابل بھروسہ تحقیقات یا قابل تصدیق شواہد کے بغیر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگانے کا اپنا رویہ جاری رکھا ہے جو اس کی دائمی الزام تراشی کی ایک اور مثال ہے، جس کو روکنا ضروری ہے۔سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے بھارت کے اعلان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پانی پاکستان کا ایک اہم قومی مفاد ہے اور ہمارے 240 ملین عوام کے لیے لائف لائن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی کی دستیابی کو ہر قیمت اور حالات پر محفوظ رکھا جائے گا، سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، کم کرنے اور اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا اور اس حوالہ سے کسی کو بھی کسی قسم کے غلط تاثر اور الجھن میں نہیں رہنا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح سے اہل اور تیار ہیں جس کا واضح ثبوت فروری 2019 میں بھارتی دراندازی پر اس کے پرعزم ردعمل سے ہوتا ہے، اس لیے کسی کو بھی اس حوالہ سے کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 240 ملین عوام کی پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ اور متحد ہے اور اپنی مادر وطن کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ یہ پیغام سب کے لیے واضح ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے پیارے پاکستان کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے اپنا غیر متزلزل عزم جاری رکھے گا کیونکہ ہم نسل انسانی کے اتحاد پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بجا طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود حل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیری اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے اس وقت تک پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے جاری جدوجہد اور عظیم قربانیوں کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہماری دلی خواہش ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ پرامن رہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری مخلصانہ کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیراعظم نے حال ہی میں کابل کا دورہ کیا ہے اور برادر اور ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور افہام و تفہیم کے لیے اپنی کوششوں کا اشتراک کیا ہے تاہم انہوں نے عبوری افغان حکومت کو ایک واضح پیغام بھی دیا کہ ہم کابل کے ساتھ پرامن ہمسایہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس وقت تک ایسا ممکن نہیں ہو سکتا جب تک کہ فتنہ الخوارج پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہو۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں اپنی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف منظم طریقے سے باقاعدہ مہم چلانے کا سلسلہ گزشتہ برسوں میں زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اپنی مظلوم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف دنیا کی فرنٹ لائن ریاست کے طور پر پاکستان نے 90 ہزار انسانی جانی نقصان اور 600 بلین ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس درد کو ہم پاکستانیوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان سے زیادہ کس ملک کو دہشت گردی سے اتنا بھاری نقصان ہوا ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا عزم مستحکم ہے اور ہم کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو کسی بھی رنگ میں برداشت نہیں کریں گے اور ہم نے ہمیشہ اس کا ثبوت بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی جمود کے دور کے بعد پاکستان معاشی بحالی کی جانب جرات مندانہ پیش قدمی کر رہا ہے اگرچہ یہ چیلنجز سے بھرا ایک طویل سفر ہے لیکن آپ کی دعاؤں اور اللہ تعالی کی مدد سے ہم پرعزم جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اقدامات اہم سنگ میل عبور کر رہے ہیں اور کان کنی، زراعت، لائیو سٹاک، آئی ٹی اور دفاعی پیداوار جیسے اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سفارتی محاذ پر بھی ہم نے عالمی سطح پر رسائی کے فروغ کے لیے نئے تعلقات استوار کرتے ہوئے پرانی اور آزمودہ دوستی کو پھر سے تقویت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26-2025 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مختلف مواقع اور پلیٹ فارمز پر فلسطین کے معصوم لوگوں کے لیے آواز بلند کی اور فلسطین کے آزاد اور خود مختار ریاست کے مطالبے کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بہادری، نظم و ضبط اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے مشہور دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے برادر ممالک کے کیڈٹس کو کورسز کی تکمیل پر مبارکباد بھی پیش کی اور کہا کہ یہ ہماری صدیوں پرانی روایت ہے کہ ہم مہمانوں کا اپنے خاندان کے ایک حصہ کے طور پر ہمیشہ کھلے بازوؤں سے استقبال کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ہم خود کو عظیم قائد کے وژن اور ان کے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں کے محافظوں میں تبدیل کریں گے۔

    قبل ازیں وزیراعظم نے پریڈ کا معائنہ کیا اور بہترین کیڈٹس میں انعامات بھی تقسیم کئے۔ تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر، عسکری قیادت، سفارتی کور کے ارکان اور کیڈٹس کے والدین نے بھی شرکت کی۔

  • سکھوں کاقتل عام ،حقائق 25 سال بعد منظرعام پر آگئے

    سکھوں کاقتل عام ،حقائق 25 سال بعد منظرعام پر آگئے

    خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے انکشاف کیا ہے کہ 25سال قبل چھتیس سنگھ پورہ میں سکھوں کا قتل عام کیاگیا،سانحہ وزیراعظم واجپائی کے دورمیں یہ سانحہ ہوا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک انٹرویو میں گرپتونت سنگھ پنوں نےکہا کہ 2006میں سی بی آئی نے تسلیم کیا کہ مارے گئے پانچوں مقامی افراد بے گناہ تھے،چھتیس سنگھ پورہ آپریشن کو لیڈ کرنیوالے بھارتی فوج کےکیپٹن نے سانحہ کے حقائق بتائے،بھارتی فوج کاکپتان راٹھور کئی سال تک مفرور رہنے کے بعد مجھے امریکہ میں ملا۔چھتیس سنگھ پورہ کے سانحہ کے وقت امریکی صدربل کلنٹن بھارت کے دورے پر آ رہے تھے،بل کلنٹن کی بھارت میں موجودگی کے وقت 5 مقامی افراد کو پاکستانی دہشتگرد قرار دیکر قتل کیا گیا تھا۔کیپٹن راٹھور نے میرے دفتر میں آ کر سانحہ چھتیس سنگھ پورہ کے ہوشربا انکشافات کئے،کیپٹن راٹھور نے بہت بار نیویارک میں میرے آفس میں ملاقات کی،بھارتی فوج کیپٹن راٹھور کو عرصہ دراز سے تلاش کررہی تھی۔

    کیپٹن راٹھور نے اعتراف کیا کہ چھتیس سنگھ پورہ میں سکھوں کو بیدردی سے قتل کیاگیا، 20مارچ 2000 کو ہمیں چھتیس سنگھ پورہ میں سکھوں کو مارنے کے احکامات ملے ،میں بھارتی فوج کے فائرنگ سکواڈ کو لیڈ کر رہا تھا۔بل کلنٹن کی آمد پر چھتیس سنگھ پورا کا فالس فلیگ آپریشن کیاگیا ،میں مظفرآباد، آزاد کشمیر میں بھیس بدل کرخفیہ مشن پر تھا،چھتیس سنگھ پورہ میں ہم مجاہدین کے روپ میں پہنچے۔چھتیس سنگھ پورہ کے لوگوں نے ہم پر اعتبار کیا،بی جے پی حکومت بل کلنٹن کو یہ باور کرانا چاہتی تھی کہ پاکستان دہشتگردوں کی پشت پناہی کرتاہے،ہمیں حکم دیا گیا کہ چھتیس سنگھ پورہ کے تمام سکھوں کو قتل کرناہے۔

    راشٹریہ رائفل کے بریگیڈیئر جے ایس نے آپریشن کو لیڈ کیا،20 مارچ کی شام کو ہم نے گاؤں کے 35 سکھوں کو ایک دیوارکے ساتھ کھڑا کر دیا، ہمیں یہ بولا گیا کہ کوئی بھی سکھ زندہ نہیں بچنا چاہئے۔احکامات ملنے کے بعد ہم نے چھتیس سنگھ پورہ کے سکھوں پر گولیاں برسانا شروع کردیں،گولیاں برسانے کے بعد ہم نے یقین دہانی کیلئے مرے ہوئے سکھوں پر دوبارہ فائرنگ کی۔سکھوں کو قتل کرنے کے بعد ہم نے جے ہند کے نعرے لگائے،بھارتی فوج نے فائرنگ سکواڈ کے تمام اہلکاروں کو باری باری قتل کردیا،بھارتی حکومت نے چھتیس سنگھ پورہ کے سارے ثبوت مٹانے کیلئے فائرنگ سکواڈ کو ٹھکانے لگادیا۔

    کیپٹن راٹھور نے مزید بتایا کہ امریکہ آنے سے پہلے یورپ گیا، پھر وہاں سے جان بچا کر نکلا،رہنماخالصتان تحریک گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ چھتیس سنگھ پورہ بی جے پی حکومت کا بربریت سے بھرپور سانحہ تھا۔سوال اب بھی وہیں پر موجود ہے کہ سانحہ چھتیس سنگھ پورہ کا ذمہ دارکون ہے؟ہرکوئی جانتا ہے کہ انصاف کی کوئی مقررہ میعاد نہیں ہوتی۔

    کراچی،ملازمت سے نکالنے پر 4بچوں کے باپ کی خودکشی

    سعودی عرب اور ایران کی پاک بھارت ثالثی کیلئے کوششیں

    لندن ،پاکستان کے خلاف مظاہرہ کرنا مہنگا ،بھارتیوں کا اپنا ہی تماشا بن گیا

    مودی سرکار کو دھچکا، سکھ فوجیوں کا پاکستان کے خلاف لڑنے سے انکار

    پاکستان نے بھارت کو ایٹم بم کی دھمکی لگا دی

    کراچی میں ہیٹ ویو کا خطرہ، الرٹ جاری

  • سندھو دریا ہمارا ہے یا اس دریا میں ہمارا پانی بہے گا یا تمہارا خون ,بلاول بھٹو زرداری

    سندھو دریا ہمارا ہے یا اس دریا میں ہمارا پانی بہے گا یا تمہارا خون ,بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی جارحیت پر سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھو دریا ہمارا ہے یا اس دریا میں ہمارا پانی بہے گا یا تمہارا خون ،چاروں صوبے مل کر مودی کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سکھر میں پی پی پی کے جلسے خطاب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا ہے جس کے تحت بھارت تسلیم کرچکا کہ سندھو پاکستان کا ہے۔ میں یہاں سکھر میں سندھو کے پاس کھڑے ہوکر بھارت کو یہ کہنا چاہوں گا کہ سندھو ہمارا ہے اور سندھو ہمارا رہے گا یا تو اس سندھو میں پانی بہہ گا یا پھر ان کا خون۔بھارت سن لے، سندھو ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا، سندھو پر ڈاکا نا منظور، نامنظور، ہم سندھو کے وارث اور محافظ ہیں، ہرپاکستانی سندھو کا سفیر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے، پاک فوج بھارت کو منہ توڑ جواب دے گی، ہم بہادر لوگ ہیں اور بھارت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ چاروں صوبے مل کر مودی کو منہ توڑ جواب دیں گے، پورے پاکستان کو ایک ہو کر بھارت کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یکم مئی کو میرپورخاص میں پیپلزپارٹی کا جلسہ ہوگا۔

    بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی قید 3 پاکستانی جیل سے غائب، فیک انکاونٹر کا خدشہ

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج چلانے والا ملزم گرفتار، 14ہزار امریکی ڈالر برآمد

    بھارتی فضائیہ بوکھلاہٹ کا شکار، اپنی ہی آبادی پر بم گرا دیا

  • بھارتی فضائیہ بوکھلاہٹ کا شکار، اپنی ہی آبادی پر بم گرا دیا

    بھارتی فضائیہ بوکھلاہٹ کا شکار، اپنی ہی آبادی پر بم گرا دیا

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی ناکامی سے بھارتی فضائیہ اپنے ہی عوام کی دشمن بن گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی فضائیہ بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔ لڑاکا طیارے نے اپنی ہی آبادی پر بم گرا دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے شیوپوری میں پیش آیا، بم گرنے سے آبادی اور املاک کو شدید نقصان پہنچا، بم گرنے سے متعدد مکانات تباہ جبکہ ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ واقعہ بھارتی فضائیہ کی غیر ذمہ داری اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے، اس سے قبل بھی بھارتی فضائیہ لڑاکا طیاروں کے حادثے معمول کا حصہ ہیں، اکثر حادثات میں بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے آبادی پر گرچکے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پے در پے جدید طیاروں، پے لوڈ اور بموں کا گرنا بھارتی فضائیہ کی دفاعی صلاحیت پر گہرا سوالیہ نشان ہے، بھارتی فضائیہ جدید ٹیکنالوجی میں ناکامی کے ساتھ ساتھ پائلٹوں کی تربیت میں بھی ناکام ہے۔

    پی ایس ایل،کراچی کنگز کے خلاف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی بیٹنگ جاری

    بہاولپور: سابق شوہر کی سفاکیت، فائرنگ کر کے خاتون کو شدید زخمی کر دیا گیا

  • پہلگام”ڈرامہ”ڈیجیٹل محاذ پر بھی پاکستانی قوم  متحرک،مودی کی رسوائی

    پہلگام”ڈرامہ”ڈیجیٹل محاذ پر بھی پاکستانی قوم متحرک،مودی کی رسوائی

    پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا کی اشتعال انگیز رپورٹنگ اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر مؤثر طریقے سے بے نقاب کر دیا۔ ڈیجیٹل محاذ پر پاکستانی صارفین کی جوابی کارروائی نے دشمن کی چالوں کو ناکام بنا دیا۔

    ذرائع کے مطابق، بھارتی میڈیا نے پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی، مگر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے متحد ہو کر اس مہم کا بھرپور جواب دیا، جسے بھارتی میڈیا نے خود "ڈیجیٹل وار فیئر” قرار دیا۔معروف بھارتی چینل انڈیا ٹو ڈے نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین نے پہلگام واقعے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دے کر عالمی سطح پر بھارت کے بیانیے کو چیلنج کیا۔ چینل کے مطابق، پاکستانی صارفین نے ہزاروں پوسٹس اور ویڈیوز کے ذریعے بھارتی میڈیا، حکومت اور فوج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔پاکستانی ٹرینڈز جیسے #IndianFalseFlag, #ModiExposed, #PahalgamDramaExposed, #IndiaEmptyThreats اور #PakistanStrikesBack نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی اور بھارتی پروپیگنڈے کا پول کھول کر رکھ دیا۔

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق اس ڈیجیٹل مہم میں 45,000 سے زائد پوسٹس صرف نریندر مودی کو نشانہ بناتی رہیں، جبکہ بھارتی فوج اور میڈیا بھی تنقید کی زد میں رہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر بھارتی پروپیگنڈے کیخلاف پاکستانی عوام نے متحد ہو کر جھوٹ کا مقابلہ کیا،پاکستانی عوام نے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو شکست دیدی،انڈیا ٹو ڈے کا اعتراف پاکستانی عوام کا پاکستان کی سالمیت پر متحد ہونے پر مہر ثبت کرتا ہے.دفاعی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ دفتر خارجہ کی پہلگام واقعہ پر واضح مذمت پر بھی بھارت نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا،پاکستانی عوام نے اس منفی پروپیگنڈے مہم کا موثر اور منہ توڑ جواب دیکر بھارتی میڈیا کوبے اثر کردیا۔

  • سینیٹ اجلاس، پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کے خلاف متفقہ قرار داد منظور

    سینیٹ اجلاس، پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کے خلاف متفقہ قرار داد منظور

    سینیٹ اجلاس، پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کر لی گئی
    سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، سینیٹ اجلاس میں معمول کی کاروائی معطل کر دی گئی،حالیہ پاک بھارت تنازع پر سینیٹ میں متفقہ طور پر قرارداد پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی ،متفقہ قرارداد اسحاق ڈار نے پیش کی، سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی،قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑجواب دیا جائے گا، بھارت کے تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔

    نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں، دیکھیں، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو میزائلی قوت بنایا ہے، کسی نے ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اُسے جواب ویسا ہی ملے گا جیسا ماضی میں دیا گیا، 22 اپریل کو پہلگام کا واقعہ ہوتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے دورے پر تھے، قوم نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، پہلگام واقعے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا افسوسناک ہے، پہلگام میں سیاحوں کی ہلاک پر ہمیں تشویش ہے،بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو یکسرمسترد کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑعوام کی لائف لائن ہے، واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، سارک اسکیم کے تحت پاکستان میں موجود بھارتیوں کے ویزے منسوخ کردیے ہیں، ویزہ معطلی کے فیصلے کا اطلاق سکھ یاتریوں پر نہیں ہوگا، اٹاری بارڈر بند کرنے پر پاکستان نےجوابی طور پر واہگہ بارڈر کو بند کیا، بھارتی ہائی کمیشن میں موجود دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے، بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد کم کر کے 30 کرنے کا فیصلہ ہوا، پاکستان کی فضائی حدود بھارتی پروازوں کیلئے بند کر دی گئی ہے، قومی سلامتی نے کہا پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہوگا۔ پیش گوئیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گی۔ ہم نے بھارت سے تمام تجارت معطل کر دی ہیں، گزشتہ روز 26 ممالک کے سفیروں کو دفترخارجہ میں بریفنگ دی گئی، کسی نے بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ جان لے کہ ہم پوری طرح تیار ہیں،بہتر ہوگا کہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی غلطی نہ دہرائی جائے، اگر بھارت پیچھےنہ ہٹا تو ہم دوسرے طرفہ معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے پرغور کریں گے، بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث سارک تنظیم غیر فعال ہے، افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا، وہاں کی قیادت سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔