Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،اہم فیصلے ہو گئے، اعلامیہ جاری

    وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،اہم فیصلے ہو گئے، اعلامیہ جاری

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اہم اجلاس وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوا

    اجلاس میں غیر قانونی طور پر بھارت کی زیر تسلط جموں و کشمیر میں حالیہ صورتحال اور اسکے نتیجے میں بھارتی یکطرفہ و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے تناظر میں اہم فیصلے متوقع ہیں،اجلاس میں اعلی سول و عسکری قیادت شریک ہے.

    وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس اعلامیہ جاری کر دیا گیا،پہلگام حملے پر بھارتی الزامات مسترد،بھارت کی آبی جارحیت پر سخت ردعمل، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش ناقابل قبول قرار دی گئی، پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ ملتوی کرنے کے بھارتی اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔شرکاء نے قومی سلامتی کے منظر نامے، علاقائی صورتحال بالخصوص غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں منگل کو ہونے والے پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیٹی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی اور اس میں یکطرفہ طور پر معطلی کی کوئی شق نہیں ہے۔ پانی پاکستان کا ایک اہم قومی مفاد ہے، جس پر اس کے 24 کروڑ عوم کی زندگی منحصر ہے اور اس کی دستیابی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش اور زیریں دریا کے حقوق غصب کرنے کو ایک جنگی قدم تصور کیا جائے گا اور قومی طاقت کے مکمل دائرہ کار میں پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

    بین الاقوامی کنونشنز، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو اپنی مرضی سے نظر انداز کرنے والے بھارت کے لاپرواہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کو دیکھتے ہوئے، پاکستان اس وقت بھارت کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل کرنے کا حق استعمال کرے گا، جو صرف شملہ معاہدے تک ہی محدود نہیں رہے گا، جب تک بھارت سرحد پار قتل و غارت، بین الاقوامی قوانین اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی عدم پاسداری سے باز نہیں آتا۔فورم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کر دے گا۔ اس راستے سے ہندوستان سے تمام سرحد پار آمدورفت بغیر کسی استثنا کے معطل رہے گی۔ جو لوگ درست قانونی طریقے سے پاک بھارت سرحد عبور کر چکے ہیں وہ اس راستے سے فوری طور پر واپس جا سکتے ہیں لیکن 30 اپریل 2025 کے بعد یہ سہولت بند کردی جائے گی۔پاکستان نے ہندوستانی شہریوں کو جاری کردہ سارک ویزہ استثنی اسکیم (SVES) کے تحت تمام ویزوں کو بھی معطل کر دیا ہے، سکھ مذہبی یاتریوں کے علاوہ اورانہیں فوری طور پر منسوخ تصور کیا ہے۔ سارک ویزہ اسیکم کے تحت فی الحال پاکستان میں موجود ہندوستانی شہریوں، سکھ یاتریوں کے علاوہ، کو 48 گھنٹوں کے اندر پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا۔ انہیں 30 اپریل تک پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان مشیروں کے معاون عملے کو بھی ہندوستان واپس جانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔30 اپریل 2025 سے اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کی تعداد 30 سفارت کاروں اور عملے کے ارکان تک محدود کر دی جائے گی۔پاکستان کی فضائی حدود میں ہندوستان کی ملکیت اور ہندوستان سے چلنے والی تمام ایئرلائنز کو فوری طور پر بند کیا جارہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تمام تجارت، بشمول کسی تیسرے ملک سے پاکستان کے راستے تجارت، فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔قومی سلامتی کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کی حامل اور مکمل طور پر تیار ہیں، جیسا کہ فروری 2019 میں بھارت کی دراندازی پر پاکستان کے بھارت کے خلاف بھرپور ردعمل سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔فورم نے اس امر کو اُجاگر کیا کہ بھارت کے جارحانہ اقدامات نے دو قومی نظریہ کے ساتھ ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح کے خدشات کی بھی توثیق کی ہے ۔ 1940 کی قرارداد جو کہ پوری پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمان ہے، کی بنیاد بھی دو قومی نظریہ ہی تھا۔پاکستانی قوم امن کے لیے پرعزم ہے لیکن کسی کو بھی اپنی خودمختاری، سلامتی، وقار اور ناقابل تنسیخ حقوق سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

  • فالس فلیگ آپریشن،بھارتی مکاریوں  کی طویل فہرست

    فالس فلیگ آپریشن،بھارتی مکاریوں کی طویل فہرست

    بھارت کی جانب سے عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے اور اپنے اندرونی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لینے کی ایک طویل اور منظم تاریخ سامنے آ چکی ہے۔ ان جھوٹے اور منصوبہ بند واقعات کا مقصد نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر دہشتگرد کے طور پر پیش کرنا تھا بلکہ سفارتی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچانا تھا۔

    1971 کا طیارہ اغواء : جنوری 1971 میں انڈین ایئرلائنز کے ایک طیارے کو اغواء کر کے لاہور لے جایا گیا، جس کا الزام فوری طور پر پاکستان پر لگا کر مشرقی پاکستان کے لیے فضائی رابطہ معطل کر دیا گیا۔ بعد میں یہ سازش خود بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی ثابت ہوئی۔

    کلنٹن کے دورے کے دوران سکھوں کا قتل عام : 20 مارچ 2000 کو امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 36 بے گناہ سکھوں کو قتل کیا گیا۔ ابتدا میں پاکستان پر الزام لگا، مگر شواہد سے ثابت ہوا کہ یہ واقعہ بھارتی فورسز کا منصوبہ بند حملہ تھا تاکہ کلنٹن کے دورے کے دوران پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔

    بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ – 2001 : 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا الزام بغیر کسی واضح شواہد کے پاکستان پر لگا دیا گیا۔ اس واقعے کو بھارت نے جنگی ماحول پیدا کرنے اور سرحد پر فوجی نقل و حرکت کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا۔

    سمجھوتہ ایکسپریس حملہ – 2007 : فروری 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں سے 68 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔ حملے کا الزام پاکستان پر لگا، لیکن بعد میں بھارتی ہندو شدت پسند تنظیموں کی شمولیت کے ثبوت سامنے آئے۔

    ممبئی حملہ – 2008 : ممبئی حملے کا الزام بھی فوری طور پر پاکستان پر لگا دیا گیا، تاہم تحقیقات میں تضادات، اور انسداد دہشتگردی کے سربراہ ہیمنت کرکرے کی مشکوک ہلاکت نے معاملے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

    پٹھان کوٹ حملہ – 2016 : نریندر مودی کے اچانک دورہ پاکستان کے چند دن بعد جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ ہوا، جسے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن شواہد نے اسے سفارتی سازش قرار دیا۔

    پلوامہ حملہ – 2019 : فروری 2019 میں پلوامہ میں حملہ ایسے وقت پر ہوا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کرنے والے تھے۔ بھارت نے فوری طور پر پاکستان کو ملوث قرار دیا، مگر تحقیقاتی تضادات اور وقت کا تعین اس حملے کو مشکوک بناتا ہے۔

    جعلی کارروائی کا انکشاف – 2023 : جنوری 2023 میں پاکستانی انٹیلیجنس نے پونچھ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فالس فلیگ آپریشن کا منصوبہ بے نقاب کیا، جسے بھارت یومِ جمہوریہ کے موقع پر انجام دے کر پاکستان کو دہشتگرد ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا۔

    یہ تمام واقعات بھارت کے اُس منظم طرزعمل کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے تحت وہ اہم سفارتی مواقع اور بین الاقوامی دوروں کے دوران فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لے کر پاکستان کے خلاف جھوٹی مہم چلاتا رہا ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن، بھارت کی پاکستان کیخلاف سازش کھل کر سامنے آ گئی

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن، بھارت کی پاکستان کیخلاف سازش کھل کر سامنے آ گئی

    ہندوستان کی پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سازش کھل کر سامنے آ گئی

    پہلگام فالس فلیگ حملے کے پیچھے چھپے بھارتی محرکات کھل کر سامنے آگئے،بھارت کی آبی جارحیت کھل کر سامنے آگئی،ہندوستان کسی بھی طرح قانونی طور پر اس معاہدے کو یک طرفہ ختم نہیں کر سکتا، ہندوستان نے اپنا غیر ذمہ دارانہ اور مذموم چہرہ دنیا کو دکھا دیا ،ہندوستان نے پہلگام فالس فلیگ کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر یک طرفہ معطل کر دیا، یہ مذموم حرکت 1960 کے سندھ طاس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،سندھ طاس معاہدے کے شق نمبر12۔ (4) کے تحت یہ معاہدہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جبکہ دونوں ملک تحریری طور پر متفق نہ ہوں، بھارت نے بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے یہ انتہائی اقدام اٹھایا

    سندھ طاس معاہدے کے علاوہ بھی انٹرنیشنل قانون کے مطابق Upper riparian , lower riparian کے پانی کو نہیں روک سکتا ،پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کیلئے سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا،اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے، معاہدےکی روح سے بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل نہیں کر سکتا,انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت شدہ معاہدہ ہے، انٹرنیشنل معاہدے کو معطل کر کے بھارت دیگر معاہدوں کی ضمانت کو مشکوک کر رہا ہے، ہندوستان اس طرح کے نا قابل عمل اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کر کے اپنے اندرونی بے قابو حالات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے،

  • بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ،منہ توڑ جواب دیں گے، وزیر خارجہ

    بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ،منہ توڑ جواب دیں گے، وزیر خارجہ

    وزیرخارجہ و نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ،منہ توڑ جواب دیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی اعلانات پر ردعمل دیتے وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو کل بھرپور ردعمل دے گا۔ پاکستان نے پہلگام واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا،جب بھارت میں یہ واقعہ رونما ہوا تو ہم ترکیہ میں تھے۔بھارت کے پاس ( اپنے الزامات کے ) اگر کوئی شواہد ہیں تو پیش کرے۔

    وزیرخارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ کی آج میٹنگ ہوگی، اورکل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں نہایت اہم فیصلے ہوں گے۔ بھارت نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، ترکی بہ ترکی جواب دیں گے۔واضح رہے کہ پہلگام حملے کو جواز بناتے ہوئے بھارت نے سندھ طاس معطل اور واہگہ بارڈر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ وہاں موجود پاکستانی باشندوں کو بھی 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے۔

    دہشتگردی کا منصوبہ ، اردن نے الاخوان المسلمین پر پابندی لگا دی

    بھارت کا پاکستان پر الزام جھوٹا اور فریبی پراپیگنڈا ہے، فیصل واوڈا

    پہلگام "ڈرامہ”،بھارتی بدمعاشی، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ،سیف اللہ قصوری

    ٌکراچی،ٹینکر کی وین کو ٹکر ، شیر خوار بچہ جاں بحق، خواتین سمیت 7 زخمی

    ٌکراچی،ٹینکر کی وین کو ٹکر ، شیر خوار بچہ جاں بحق، خواتین سمیت 7 زخمی

    سندھ طاس معاہدہ معطلی، عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی

  • پہلگام "ڈرامہ”،بھارتی بدمعاشی، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ،سیف اللہ قصوری

    پہلگام "ڈرامہ”،بھارتی بدمعاشی، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ،سیف اللہ قصوری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ پہلگام خودساختہ واقعہ کے بعد بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ ہے، بھارت پاکستان کی زراعت ،صنعت کو تباہ کرنے کے درپے ہے، مرکزی مسلم لیگ آج جمعرات کو بھارتی ہٹ دھرمی،پروپیگنڈے اور پاکستان کیخلاف اقدامات پر ملک گیر احتجاج کرے گی، لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کئے جائیں گے، بھارتی اقدامات کے خلاف قوم کو متحد و بیدار کریں گے.

    سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ گزشتہ دن پہلگام میں جو حملہ ہوا،اس میں 27 جانوں‌کے ضیاع کی پرزور مذمت کرتے ہیں، اس حملے کی آڑ میں بھارتی میڈیا نے میرے خلاف الزام تراشی اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا ہے جو قابل مذمت ہے ،اس واقعہ کے بعد بھارت نے اب سندھ طاس معاہدہ کو معطل کر دیا ہے،بھارت پاکستان کے پانیوں کو روکنا چاہتا ہے،پاکستان کی زراعت ،صنعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے، وہ ایک جنگی دشمن ہے اور پاکستان کے امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے،مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ فوج بھیج کر مودی سرکار نے جنگ کی کیفیت پیدا کی ہے،ہم بھارت کے عزائم سمجھتے ہوئے عالمی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کی حمایت کی بجائے حق و سچ کے ساتھ کھڑے ہوں، بھارتی جارحیت کی مذمت کی جائے، پہلگام میں رچائے گئے بھارتی خود ساختہ ڈرامے کو مسترد کرتے ہیں،یہ اسکی سوچی سمجھی سازش ہے، اس کا پاکستان یا کسی پاکستانی شہری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں

    سیف اللہ قصوری کا مزید کہنا تھا کہ پہلگام خود ساختہ ڈرامے کا مودی سرکار کا اصل مقصدسندھ طاس معاہدہ ختم کرنا تھا ،بھارت نے ماضی میں پاکستانی دریاؤں پر ڈیمز بنائےاور پاکستان کا پانی روکا، اب بھی مودی سرکار اسی روش پر چل رہی ہے، بھارت پاکستان کی زراعت کو تباہ ،بنجر کرنے کی سازش کر رہا ہے اور یہ بھارتی اقدامات پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہیں،ہم بھارتی اقدامات کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے اور پاکستانی قوم کو متحد و بیدار کریں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکومت بھی بھارت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے اور قومی مفاد ،عوامی جذبات کومدںظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے.

    پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا نامناسب ہے، وزیر دفاع

    پہلگام واقعہ،قابل مذمت،سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ کا افسوس،تشویش کا اظہار

    پہلگام حملہ، سری نگر کے رہائشی نےبھارتی پروپیگنڈے کا دیا منہ توڑ جواب

    بھارت کا پاکستان مخالف پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بیانیہ بے نقاب

  • پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا نامناسب ہے، وزیر دفاع

    پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا نامناسب ہے، وزیر دفاع

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑاشکار ہے اور کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے، پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا نامناسب ہے، دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی ہو اس کی مذمت کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ہرجگہ دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہیں، ہوسکتا ہے بھارت فالس فلیگ آپریشن کرکے ملبہ پاکستان پر ڈال دے۔پاکستان جیساملک کیسے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرسکتا ہے جہاں بے گناہ لوگ شہید ہورہے ہیں، پاکستان میں شہدا کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واضح تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں اور بھارتی سرپرستی کے بغیر پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہوسکتی ، پاکستان میں دہشت گردی کرنیوالوں کو سرحدپار سے سپورٹ مل رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک شخص چند دن پہلے پاکستانی سرحد پرپکڑا گیا ہے، سب کو پتا ہے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو بھارت نے پناہ دی ہوئی ہے، بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارت میں علاج کراتے ہیں جو ریکارڈ پر ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئےسرپرستی اور مالی معاونت بھی ہوتی رہی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کی مذمت کرنے کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے، 7لاکھ بھارتی فوج کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں ہے، اگر بےگناہ لوگ مارے جارہے ہیں تو بھارتی فوج وہاں کیاکررہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت پہلگام واقعے کی تحقیقات کرے اور سہولت کاروں کو تلاش کرے، اگر کوئی صورتحال بنتی ہے تو پاکستان بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں ہے، جب فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تھی تو سب کو پتا ہے کہ ابھینندن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

    افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ابھی نائب وزیراعظم افغانستان سے ہوکر آئے ہیں، دعا ہے نائب وزیراعظم کے دورے کے نتائج اچھے نکلیں اور پاکستان اور افغانستان کے تعلقات امن کی سمت میں چلیں۔ دو سال پہلے بھی کابل گیا تھا مگر اس کے نتائج اتنے خوشگوار نہیں نکلے تھے، دو سال پہلے بھی جاکر بتایا تھا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں آپ کی سرزمین پر ہیں، اس کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی بلکہ دہشت گردی میں اضافہ ہوا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ نوازشریف سے پونے 2 گھنٹے ملاقات ہوئی تھی، راناثنااللہ کے پیپلزپارٹی سے رابطے ہوئے ہیں، اور اس سے پہلے ڈاکٹر مالک کی نوازشریف سے ملاقات ہوئی تھی جس میں تفصیلی گفتگو ہوئی تھی اور اس گفتگو پر پیشرفت بھی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں ناراض لوگوں کو قریب لانے میں نوازشریف کردار ادا کرسکتے ہیں، نوازشریف سیاسی عناصر کو بھی قریب لانے میں کردار اداکرسکتے ہیں، وہ ایک دو روز میں واپس آرہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جوبھی صورتحال ہوگی ہم پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھ کر بہترین حل نکالیں گے، یہ ایسامسئلہ ہے جسے سیاستدان گفتگو سے حل کرسکتے ہیں، مسائل گفتگوسے حل ہوجائیں تو بہتر ہوتا ہے۔

    پی ایس ایل 10: ملتان کا اسلام آباد کو 169رنز کا ہدف

    سعودی اتھارٹی کی مکہ میں پرمٹ کے بغیر داخلے پر پابندی

    ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ آئندہ سال کے آخر تک ائیربس 320 کیلئے اپ گریڈ ہوگا

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب ، اہم فیصلے متوقع

  • قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب ، اہم فیصلے متوقع

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب ، اہم فیصلے متوقع

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کے مطابق کل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوگا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خاطر خواہ جواب کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس سے قبل بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو فوری معطل اور اٹاری واہگہ بارڈر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔بھارت نے پاکستانیوں کو سارک کے تحت ویزے بند کردیے ہیں اور تمام پاکستانیوں کے ویزے کینسل کر دیے گئے ہیں۔ 48 گھنٹوں میں بھارت میں موجود تمام پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ اور اس کی اہمیت
    سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کو دریاؤں کے پانی کے استعمال میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کی اجازت دی گئی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے زیرِ استعمال دریاؤں کے پانی کے معاملات کا فیصلہ ایک نیوٹرل ماہر کے ذریعے کیا جاتا ہے، اور حالیہ برسوں میں بھارت نے پاکستان سے اس معاہدے پر نظرثانی کی درخواست بھی کی تھی۔

    بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کی شام کابینہ کمیٹی برائے سیکیورٹی کے اجلاس سے پہلے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا: "جو لوگ ان درندہ صفت اقدامات کے ذمہ دار ہیں، انہیں جلد ہی سخت جواب دیا جائے گا۔ ہم نہ صرف ان درندوں کو سزا دیں گے جنہوں نے اس بربریت کو انجام دیا، بلکہ ان کے پیچھے چھپے ہوئے ماسٹر مائنڈز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔”

  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل،اٹاری چیک پوسٹ بند،سفارتی عملہ کم کرنے کا اعلان

    بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل،اٹاری چیک پوسٹ بند،سفارتی عملہ کم کرنے کا اعلان

    بھارت نے پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور اٹاری چیک پوسٹ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت نے پاکستانی شہریوں کے لئے سارک کے تحت ویزے بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، تمام پاکستانیوں کے بھارتی ویزے فوری طور پر کینسل کر دیے جائیں گے۔ مزید برآں، بھارت میں موجود پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں کے اندر بھارت چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں موجود بھارتی شہریوں کو یکم مئی تک اٹاری چیک پوسٹ کے ذریعے واپس آنے کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ، بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات تمام دفاعی، فوجی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے انہیں واپس بلا لیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، بھارتی دفاعی اتاشی کو پاکستان سے واپس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ بھی محدود کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد یکم مئی تک 55 سے کم کر کے 30 کر دی جائے گی۔

    جموں و کشمیر کے پہلگام میں حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد، بھارت کے سابق خارجہ سیکریٹری کنول سبھال نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "خون اور پانی ساتھ نہیں چل سکتے”۔یہ حملہ جس کی ذمہ داری تحریکِ مزاحمت فرنٹ نے قبول کی ہے، منگل کو کیا گیا۔ اس حملے میں 26 افراد، جن میں ایک نیوی آفیسر اور انٹیلی جنس بیورو کے افسر بھی شامل تھے، ہلاک ہو گئے۔

    سابق بھارتی سفیر کنول سبھال نے بدھ کے روز ایک پوسٹ میں کہا کہ اس حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنا ایک مستند اور مؤثر ردعمل ہوگا۔ انہوں نے کہا: "ہم نے پہلے ہی کہا ہے کہ خون اور پانی ساتھ نہیں چل سکتے، اب ہمیں اپنے موقف پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ ایک اسٹریٹجک جواب ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھارت امریکہ کے ساتھ ایک طاقتور پوزیشن میں ہے، کیونکہ یہ حملہ امریکی نائب صدر کے بھارت کے دورے کے دوران ہوا۔

    سندھ طاس معاہدہ اور اس کی اہمیت
    سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کو دریاؤں کے پانی کے استعمال میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کی اجازت دی گئی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے زیرِ استعمال دریاؤں کے پانی کے معاملات کا فیصلہ ایک نیوٹرل ماہر کے ذریعے کیا جاتا ہے، اور حالیہ برسوں میں بھارت نے پاکستان سے اس معاہدے پر نظرثانی کی درخواست بھی کی تھی۔

    بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کی شام کابینہ کمیٹی برائے سیکیورٹی کے اجلاس سے پہلے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا: "جو لوگ ان درندہ صفت اقدامات کے ذمہ دار ہیں، انہیں جلد ہی سخت جواب دیا جائے گا۔ ہم نہ صرف ان درندوں کو سزا دیں گے جنہوں نے اس بربریت کو انجام دیا، بلکہ ان کے پیچھے چھپے ہوئے ماسٹر مائنڈز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔”

  • ایل او سی پر دراندازی، بھارت کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا

    ایل او سی پر دراندازی، بھارت کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا

    23اپریل 2025 کو لائن آف کنٹرول کے علاقے سرجیور میں 2مبینہ دراندازوں کو ہلاک کرنے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جھوٹا بھارتی دعویٰ بظاہر ایک من گھڑت بیانیے کو پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے،وقت کے تسلسل، زمینی حقائق ، اور جاری کی گئی تصویری شہادتوں میں سنگین تضادات پائے جاتے ہیں، ذرائع کے مطابق جس واقعے میں 2 افراد کو درانداز قرار دیا جا رہا ہے، ان کی شناخت مقامی افراد کے طور پر ہوئی ہے، ملک فاروق ولد صدیق اور محمد دین ولد جمال الدین گاؤں سجیور کے پرامن شہری تھے،ذرائع نے بتایا ہے کہ مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے 22 اپریل کی صبح ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی، ان افراد کی گمشدگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وہ کسی ممکنہ دراندازی سے پہلے ہی غائب ہو چکے تھے،۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی ذرائع کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر واضح طور پر بھارت کے مؤقف کو جھٹلا رہی ہیں، تصویر میں ایک متوفی کی لاش صاف ستھری، چمکتی ہوئی کالی جوتیوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے،یہ لاش دشوار گزار پہاڑی راستے سے دراندازی کرنے والے کی ہرگز نہیں ہو سکتی،مارے جانے والے شخص کے کپڑے بھی حیران کن حد تک صاف ہیں، اس کے ہتھیار پر مٹی یا خون کے نشانات تک نہیں،اس کے ساتھ ساتھ جائے وقوعہ پر کسی لڑائی کے آثار بھی دکھائی نہیں دیتے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی طرح، دوسری لاش کے پاس کسی قسم کا لوڈ بیئرر، اضافی گولہ بارود، پانی کی بوتل، یا کوئی بھی جنگی ساز و سامان موجود نہیں، اگر یہ واقعی ایک درانداز ہوتا تو وہ اس طرح ناپختہ اور غیر محفوظ حالت میں کبھی بھی حرکت نہ کرتا،ایک شخص کے پاس تو صرف پستول ہے جو کہ دراندازی کی کسی بھی فوجی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا،ذرائع کے مطابق مقامی افراد اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات اس حقیقت کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ یہ دونوں افراد پرامن شہری تھے، ہلاک ہونے والے افراد کا کسی بھی عسکری یا غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا، بھارتی افواج نے انہیں بے دردی سے قتل کر کے اسے ایک فالس فلیگ آپریشن کا رنگ دے د یا۔بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا سختی سے نوٹس لے۔

  • بھارت کا پاکستان مخالف پہلگام  فالس فلیگ آپریشن  کا بیانیہ بے نقاب

    بھارت کا پاکستان مخالف پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بیانیہ بے نقاب

    مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والا حملہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کا تسلسل ہےجس کے شواہد سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر موجود ہیں ۔2007ء کا سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ ، 2008 ءکے ممبئی حملے ، 2018 ءمیں انتخابات سے پہلے سیاحوں پر حملے، پلوامہ 2019 ء ہو یا 2023 میں راجوڑی ۔ ان تمام واقعات میں بھارت کی ریاستی مشینری فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جاری حق خود ارادیت کی تحریک اور پاکستان کیخلاف ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتی آرہی ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی جانب سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد خطے کے امن کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر پاکستان کے عوام اور مسلح افواج دندان شکن جواب دینے کیلئے تیار ہیں، بھارت نے ایسی ہی ایک حرکت فروری 2019ء میں کی تھی جس کا جواب آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی صورت میں پاکستان کی جانب سے واضح طور پر دیا گیا تھا اب بھی بھارت کی جانب سے کوئی ایسی مہم جوئی کی گئی تو مسلح افواج اور عوام متحد ہو کر ازلی دشمن بھارت کو منہ توڑ جواب دینگے۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق حملے کی ذمہ داری کشمیری مزاحمتی گروپ ٹی آر ایف نے قبول کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ مقامی سطح پر پیش آیا۔ ٹی آر ایف آرٹیکل 370 کے اطلاق کے بعد مزاحمت کے طور پر سامنے آئی۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کشمیریوں پر مظالم اور سخت قوانین کے اطلاق کیلئے جواز پیدا کرنے کی مذموم سازش ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی وقف املاک پر قبضہ کرنے کیلئے مودی سرکار نے ناجائز قوانین سے توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا ہے۔

    بھارت جانتا ہے کہ پاکستان نے فتنہ الخوراج اور بی ایل اے جیسے دہشتگرد گروہوں کو منظم اور عسکری حکمت عملی سے زیر کرلیا ہے اور ملک میں بھی سیاسی استحکام آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے ناکام مگر طے شدہ عسکری آپشن آزمانے کی کوشش کررہا ہے ۔پہلگام حملے پر واویلا مچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم سازش کی جا رہی ہے مگر کچھ سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب بھارت کو بہرحال دینا ہوگا، ۔

    پہلگام حملہ اگر واقعی دہشت گرد حملہ تھا تو ان نام نہاد دہشت گردوں کی لاشیں کہاں ہیں۔۔۔؟
    میڈیا پر ایک مشکوک تصویر سامنے آئی ہے جس میں زمین پر لیٹے مرد کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے، مگر تصویر میں نہ خون نظر آتا ہے، نہ زخم، اور نہ ہی کوئی فوری تباہی کا ثبوت۔۔۔۔۔؟
    بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے عین اس وقت پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرنا شروع کی جب بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ ہو رہا تھا، کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا۔۔۔۔؟
    جہاں یہ واقعہ پیش آیا، لائن آف کنٹرول سے تقریباً 400 کلومیٹر دور واقع ہے، مقبوضہ کشمیر میں اس وقت آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں یعنی ہر سات کشمیریوں پر ایک فوجی اور ہر سو میٹر پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے تو ایسے میں پہلگام تک حملہ آور کیسے پہنچ گئے۔۔؟
    کیا کوئی ہتھیار، مواصلاتی ریکارڈ، ویڈیو فوٹیج یا کوئی بھی مادی شواہد موجود ہیں۔۔۔؟
    سوال یہ ہے کہ یہ منظم حملے اکثر تب ہی کیوں پیش آتے ہیں جب کوئی مغربی یا امریکی سیاسی شخصیت بھارت کا دورہ کر رہی ہو۔۔۔۔؟
    بھارت کے جھوٹ اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ جو ملک دنیا بھر میں سکھوں کو ٹارگٹ کر کے بین الاقوامی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، وہ کس منہ سے پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے۔۔۔؟