Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کے کئی شہروں میں کے ایف سی پر حملے

    پاکستان کے کئی شہروں میں کے ایف سی پر حملے

    پاکستان کے مختلف شہروں میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں غیر ملکی فوڈ چینز، خاص طور پر کے ایف سی، پر مشتعل افراد نے حملے کیے ہیں۔ کراچی، لاہور اور لاڑکانہ میں ہونے والے ان حملوں میں پتھروں اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ ریسٹورنٹس کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ ان واقعات میں جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن حملہ آور فرار ہو گئے۔

    کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان اتحاد میں 9 اپریل کو واقع ایک نجی ریسٹورنٹ (کے ایف سی) پر مشتعل افراد نے حملہ کر کے شدید توڑ پھوڑ کی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو گرفتار کیا۔ ایس ایس پی ساؤتھ، مہظور علی کے مطابق، پولیس نے دس افراد کو حراست میں لے لیا، جن میں سے ایک شخص کے قبضے سے ہتھوڑا بھی برآمد کیا گیا۔ پولیس نے اضافی نفری تعینات کرکے علاقے میں امن و امان بحال کر لیا۔ ایس ایس پی نے مزید کہا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    لاڑکانہ میں بھی کے ایف سی پر حملہ کیا گیا، جہاں مشتعل افراد نے ریسٹورنٹ کو جلانے کی کوشش کی۔ پولیس نے حملہ آوروں کو روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور صورتحال پر قابو پا لیا۔ اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    لاہور کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں بھی غیر ملکی فوڈ چینز، خاص طور پر کے ایف سی، پر حملہ کیا گیا۔ موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے ریسٹورنٹ پر پتھروں سے حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریسٹورنٹ کے عملے اور گاہکوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ایس پی کینٹ کیپٹن ریٹائرڈ قاضی علی رضا نے کہا کہ ملزمان کو سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر ذرائع کی مدد سے تلاش کیا جا رہا ہے۔

    مذہبی رہنما حافظ ہشام الہیٰ ظہیر نے ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ "کے ایف سی یا کسی بھی غیر ملکی فرنچائز پر حملہ کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے۔ یہ لوکل پاکستانی لوگوں کا کاروبار ہے اور اس پر حملہ کرنا قابل قبول نہیں۔ اس عمل کو ہوا دینے والے افراد کے خلاف بھی ایک دن کارروائی کی جائے گی۔

    پاکستان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ہونے والے یہ حملے غیر ملکی ریسٹورنٹس پر شدید نوعیت کے ہیں، اور مختلف شہروں میں پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکومت اور پولیس نے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • کاروباری تنظیموں سے مشاورت ، تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا جائے،وزیراعظم

    کاروباری تنظیموں سے مشاورت ، تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت برآمدات سہولت اسکیم کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں برآمدات سہولت اسکیم (EFS) کو مؤثر بنانے اور برآمدی شعبے کا اس سے استفادہ یقینی بنانے کیلئے قائم کمیٹی کی عبوری سفارشات پیش کی گئیں. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی آمدن میں برآمدات سے اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. برآمدی صنعتوں کے خام مال اور مشینری کی درآمد پر سہولت کیلئے اس اسکیم کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات پر شعبے کے ماہرین سے مزید مشاورت یقینی بنائی جائے. کمیٹی مزید مشاورت سے عبوری سفارشات کو حتمی شکل دے کر رپورٹ جلد پیش کرے. آئندہ بجٹ کی تیاری میں صنعتوں اور کاروباری تنظیموں سے مشاورت اور ان کی تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا جائے.مقامی صنعت کو لیول پلئینگ فیلڈ کی فراہمی یقینی بنائی جائے.

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ پیداواری لاگت کو کم کرنے اور ملکی برآمدات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت کیلئے اس اسکیم کا اجراء کیا گیا تھا. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم سید توقیر شاہ، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور برآمدی صنعت سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی.

  • پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم، عالمی سرمایہ کاری کی جانب اہم پیشرفت

    پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم، عالمی سرمایہ کاری کی جانب اہم پیشرفت

    پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کا کامیاب انعقاد ایس آئی ایف سی (پاکستان سٹریٹجک انویسٹمنٹ فاؤنڈیشن) کے تعاون اور حکومتی کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا۔ اس فورم میں عالمی اور مقامی سرمایہ کاروں نے بھرپور شرکت کی اور معدنی شعبے کی ترقی کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 میں سعودی عرب کے جیولوجیکل سروے کے سی ای او عبداللہ الشرمانی نے شرکت کی اور اس ایونٹ کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا۔ عبداللہ الشرمانی نے فورم میں کہا، "پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم نہ صرف پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔” ان کے مطابق، اس فورم کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کے معدنی وسائل کی اہمیت اجاگر ہوئی ہے اور اس سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔

    کامران راجہ، جو اس ایونٹ میں شریک ہوئے، نے کہا، "منرلز انویسٹمنٹ فورم سے پاکستان کو خاطرخواہ فائدہ ہو گا، کیونکہ اس طرح کے ایونٹس سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھاتے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی سے پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔”

    چئیرمین مائنز اینڈ منرلز کمیٹی راجہ نوید اختر نے اس فورم کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا، "حکومت کا معدنی شعبے کی ترقی کے لیے منرلز انویسٹمنٹ فورم کی صورت میں کیا جانے والا یہ عملی اقدام قابل تحسین ہے۔” ان کے مطابق، اس طرح کے اقدامات سے پاکستان کی معیشت کو نیا اُفق ملے گا اور عالمی سطح پر اس کی معدنی صنعت کا تشخص مضبوط ہوگا۔

    اس فورم میں حکومت کے معدنی شعبے کی خوشحالی و ترقی کے لیے ایس آئی ایف سی کی معاونت کو سراہا گیا۔ فورم کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے ایونٹس نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے معدنی وسائل کی ساکھ کو بھی مزید مستحکم کرتے ہیں۔پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کے انعقاد سے عالمی سرمایہ کاری کی جانب اہم پیشرفت ہوئی ہے، جو پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی کی راہ ہموار کرے گی اور عالمی سطح پر پاکستان کو ایک اہم اقتصادی قوت کے طور پر اُبھرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

  • ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جاتی امرا میں نواز شریف سے ملاقات

    ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جاتی امرا میں نواز شریف سے ملاقات

    سربراہ نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سربراہی میں نیشنل پارٹی کا وفد جاتی امرا پہنچ گیا
    وفد میں سینیٹر جان محمد بلیدی،چیئرمین اسلم بلوچ و دیگر رہنما شامل ہیں،ڈاکٹر مالک بلوچ کی صدر مسلم لیگ ن و سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر ن لیگی رہنما بھی موجود تھے، صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواز شریف کی ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال اور بلوچستان کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ڈاکٹر عبدالمالک کی جانب سے مہنگائی اور بجلی قیمتوں میں کمی پر مبارکباد دی گئی،

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور بلوچستان کے عوام کی نواز شریف سے اُمیدیں جُڑیں ہیں، چاہیں وہ بلوچستان کے سیاسی مسئلے ہوں یا معاشی، نواز شریف نے بلوچستان میں اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے،نواز شریف نے بلوچستان کا دورہ کرنے کی درخواست قبول کر لی، بلوچستان میں بے گناہوں کا قتل قابل مذمت ہے،

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے نواز شریف سے ملاقات میں بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال اور وہاں کے سلگتے ہوئے مسائل کو اجاگر کیا ہے، لااینڈ آرڈر اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات ہوئی، صوبے کی پسماندگی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے میاں نواز شریف سے بطور سینیئر سیاسی رہنما اور سابق وزیراعظم کے طور پر صوبے کی بحراتی کیفیت سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے، نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بات غور سے سنی اور اس پر مشاورت بھی کی ہے، نواز شریف نے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اور ان کی پارٹی قیادت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ بلوچستان کے امن و استحکام، جمہوری رویوں کے فروغ اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی طور پر حل نکالا جائے گا، نواز شریف نے ملاقات میں اختر مینگل اور بلوچستان کے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنے کا کہا ہے جبکہ ماہرنگ بلوچ کے حوالے سے نواز شریف نے کوئی ذکر نہیں کیا،

  • پاکستان کا ٹیرف کے حوالہ سے مذاکرات کیلئے وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان کا ٹیرف کے حوالہ سے مذاکرات کیلئے وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان نےامریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور نئے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کیلئے اعلی سطحی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے

    وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وفد میں معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کندگان کی بھی شمولیت ہو گی،وفد کو وزیرِ اعظم کی جانب سے امریکہ کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف پر مذاکرات کے بعد مستقبل کیلئے باہمی طور پر مفید لائحہ عمل طے کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا،وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی برآمدات میں اضافے اور امریکہ کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم سید توقیر شاہ، معاونین خصوصی طارق فاطمی، ہارون اختر، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے تجارتی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں.حکومت، امریکہ کے ساتھ تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے.

    وزیرِ اعظم کو اجلاس میں امریکہ کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیرف پر، اسٹئیرنگ کمیٹی اور ورکنگ گروپ کی رپورٹ اور مستقبل کا مجوزہ لائحہ عمل پیش کیا گیا. اجلاس کو مختلف متبادل لائحہ عمل پیش کئے گئے. اجلاس کو بتایا گیا کہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانہ مسلسل امریکی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے. وزیرِ اعظم نے امریکہ کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات کیلئے وفد کی تشکیل کے دوران معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کندگان کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت کی.

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سمیت 119 ملزمان کو پیش کرنے کا حکم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سمیت 119 ملزمان کو پیش کرنے کا حکم

    : جی ایچ کیو حملہ کیس کی آئندہ سماعت پر سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر 119 ملزمان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیا۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی، جس میں سابق صوبائی وزیر پنجاب راجہ بشارت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔ اس دوران، وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی بھی حاضری لگائی گئی۔ عدالت نے اس کیس کے تمام 119 ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔عدالت نے 2 گواہان کے طلبی کے نوٹس بھی جاری کیے ہیں، اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ شاہ محمود قریشی کو لاہور جیل سے 12 اپریل کو پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔

    سماعت کے دوران، عدالت نے وکلائے صفائی کو گواہان پر جرح کرنے کا حکم دیا۔ مزید برآں، عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی تفتیشی ٹیم کو مکمل ریکارڈ سمیت اڈیالہ جیل پیش ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ آئندہ سماعت پر مجسٹریٹ مجتبی اور گواہ سب انسپکٹر ریاض کی طلبی کا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کیس کا فیصلہ کیا جائے گا اور آئندہ کسی بھی فریق کو بلاجواز التوا نہیں ملے گا۔ عدالت نے یہ بھی اعلان کیا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہفتے میں دو بار ہوگی۔ اب تک اس کیس میں 25 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 12 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرک میئر کی قیادت میں امریکی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرک میئر کی قیادت میں امریکی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان، شہباز شریف سے امریکی وفد نے ملاقات کی، جس کی قیادت ایرک میئر کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    امریکی وفد پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کے لیے پاکستان آیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں بے شمار مواقع اور وسیع استعداد موجود ہے اور وہ امریکی کمپنیوں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں۔وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانا چاہیے۔شہباز شریف نے اس موقع پر مزید کہا، "یہ ایک خوشخبری ہے کہ ہماری قومی ایئر لائن نے 20 سال کے بعد پہلی بار منافع کمایا ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری خسارے کے بعد ایک بڑی تبدیلی ہے۔ وزیرِ ہوا بازی کی قیادت میں ٹیم کی محنت قابل تعریف ہے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے۔

    امریکی وفد نے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مبارکباد دی اور پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں موجود وسیع امکانات کا اعتراف کیا۔ ایرک میئر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے امور پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مزید قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

    یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے افق کو کھولنے کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات کے حوالے سے۔

  • کراچی سے گرفتار  دہشت گردوں نے سنسنی خیز انکشافات کر دیے

    کراچی سے گرفتار دہشت گردوں نے سنسنی خیز انکشافات کر دیے

    کراچی کے علاقے کورنگی سے گرفتار 3 خطرناک دہشت گردوں نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کر دیے.

    تفشیشی رپورٹ کے مطابق گرفتار دہشت گرد انعام اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا والد ایف سی بلوچستان کا اہلکار تھا، سال 2010ء میں والد ریٹائرڈ ہوئے جس کے بعد ملزم حب اور کراچی کے مختلف علاقوں میں ملازمت کرتا رہا، 2013ء میں دوست محمد نامی دہشت گرد کے کہنے پر فتنہ الخوارج (تحریک طالبان پاکستان) میں شامل ہوا اور 2013ء میں ہی کالعدم تنظیم کے کمانڈر نیاز محمد سے ملاقات کی جس کے بعد دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل ہونے کی ہامی بھری اور اس کے بعد اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی۔

    ملزم نے انکشاف کیا کہ 2013ء میں پاکستان سے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بذریعہ شوال بارڈر افغانستان کے علاقے سٹہ کنڈو گیا جہاں اسلحہ اور ایمونیشن کمانڈر نیاز نے فراہم کیا، افغانستان میں موجود کیمپ میں 30 سے 32 دیگر ساتھی (طالبان) موجود تھے جبکہ ان کا امیر ملا منصور افغانی نامی شخص تھا جو کہ افغانستان میں رہائش کے دوران ایک ماہ تک نیٹو افواج کے خلاف لڑتا رہا اور پھر واپس پاکستان آگیا۔واپس آنے کے بعد (فتنہ الخوارج) کے کمانڈر عبدالحمید کے گارڈ کے طور پر ڈیوٹی کرتا رہا، ملزم نے سال 2016ء میں وزیرستان کے علاقے میں ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے دوران 3 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سال 2016ء میں آرمی چیک پوسٹ پر بھی حملے کا انکشاف کیا جس میں دو فوجی جوان زخمی جبکہ ایک جوان شہید ہوا تھا۔

    دوسرے دہشت گرد طائب نے اگست 2023ء میں کالعدم تنظیم کے کارندے گل نور کے کہنے پر فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی، 29 اگست 2023ء کو ملزم کا بھائی عبدالرزاق اپنے گاؤں ماموخیل میں موجود تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مارا گیا جس کے بعد 2023ء میں فتنہ الخوارج کے کمانڈر عبدالحمید عرف فکرمند نے پیغام دیا کہ بھائی کی موت کا بدلہ لینے کیلئے ہم ساتھ ہیں۔ملزم نے 2023ء میں ہی مالاگان کے علاقے میں مختلف ہتھیاروں کی تربیت حاصل کی، ملزم نے پہلی کارروائی 2023ء میں کمانڈر عبدالحمید عرف حمیدو کے کہنے پر کی جس کے دوران جانی خیل قلعہ میں واقع آرمی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا اس حملے کے دوران ایک فوجی جوان شہید جبکہ 6 اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ 2024ء میں سینا تنگ کے پہاڑوں میں آرمی کانوائے کو نشانہ بنایا گیا اس حملے کے دوران 4 فوجی جوان زخمی ہوئے تھے۔ دوران تفتیش دہشت گرد نے کالعدم تنظیم کے کارندوں کو کراچی میں سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روپوشی اختیار کرنے میں بھی مدد فراہم کرنے کا انکشاف کیا۔

    تیسرے دہشت گرد نعیم اللہ نے انکشافات کیے کہ وہ 2017ء میں کورنگی مہران ٹاؤن میں قائم گارمنٹس فیکٹری میں ہیلپر کے طور پر کام کرتا رہا اسی دوران ملزم نے اپنے والد اور تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے کمانڈر مومن خان سے متاثر ہو کر تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) میں شمولیت اختیار کی۔گرفتار ملزم کا والد 2007ء سے 2018ء تک فتنہ الخوارج کا کمانڈر رہا اس دوران متعدد شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا۔

    دہشت گرد نے عسکری ٹریننگ وزیرستان سے حاصل کی جبکہ 2019ء میں کمانڈر نور زیب کے کہنے پر جانی خیل کے علاقے میں آرمی کیمپ پر حملہ کیا اور اس حملے کے دوران ایک فوجی جوان شہید جبکہ 3 زخمی ہوئے جس کے بعد 2020ء میں پاکستان آرمی کی تیچی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔اس حملے میں چار فوجی جوان زخمی ہوئے جبکہ جوابی فائرنگ سے دہشت گرد نعیم اللہ کے 2 ساتھی کاروان افغانی اور منصور افغانی بھی زخمی ہوئے تھے۔

    تفتیشی رپورٹ کے مطابق جون 2024 میں جانی خیل ضلع بنوں میں ملزم نے اپنے پڑوسی گل مینہ اور سلام نامی شخص کو قتل کیا تھا، ملزم نے بتایا 2009ء میں ملزم کے گھر پر سیکیورٹی فورسز کے چھاپے کے دوران سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں گاؤں ناکوڑی ضلع بنوں میں ملزم کے گھر کے اوپر بنکر کو سیکیورٹی فورسز نے گولے کا فائر کر کے تباہ کر دیا گیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ والد کا فتنہ الخوارج کا کمانڈر ہونے کے باعث شناختی کارڈ بلاک ہوا جس کے بعد ملزم نے اپنے دادا نظیر خان کی ولدیت پر اپنا شناختی کارڈ بنوایا، گرفتار دہشت گرد کے مطابق اس کا والد اور سابق کالعدم تنظیم کا کمانڈر مومن خان 20 مارچ 2018ء کو سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران مارا گیا تھا.

    دوسری جانب گرفتار تینوں دہشت گردوں نے دوران تفتیش اپنے دیگر 19 ساتھیوں کے نام بھی اگل دئیے ہیں جبکہ دہشت سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد روپوشی اختیار کرنے کیلئے مختلف اوقات میں کراچی کے علاقے کورنگی میں واقعے گارمنٹس فیکٹری میں محنت مزدوری کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد کراچی میں تخریب کاری کا منصوبہ بنا رہے تھے جسے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی بروقت کارروائی نے ناکام بنا دیا اور تینوں دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا جبکہ فتنہ الخوارج کے دیگر کارندوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

    شدید گرمی کی لہر،کراچی اور سندھ میں بارش سے متعلق پیش گوئی

    کراچی، آگ 11 روز گزرنے کے باوجود شدت سے برقرار

    وزیراعظم سے ترکیہ،آذربائیجان اورعالمی شپنگ کمپنی کے وفود کی ملاقاتیں

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر انتقال کرگئے

  • وزیراعظم سے ترکیہ،آذربائیجان اورعالمی شپنگ کمپنی کے وفود کی ملاقاتیں

    وزیراعظم سے ترکیہ،آذربائیجان اورعالمی شپنگ کمپنی کے وفود کی ملاقاتیں

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ،آذربائیجان اورعالمی شپنگ کمپنی کے وفود کی ملاقاتیں ہوئیں جن میں توانائی و معدنی شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیر توانائی و قدرتی وسائل الپرسلان بائیرقطار کی قیادت میں 9 رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر بجلی اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے حالیہ دورہ پاکستان کو دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں بہتری کا باعث قرار دیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ سمٹ میں ترکیہ کے وزیر اور وفد کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کو وسعت دینے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش سے متعلق معاہدہ دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید تقویت دے گا جب کہ ملاقات میں دونوں ممالک نے توانائی، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ترک وفد نے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کو سراہا اور اس حوالے سے ترکیہ کا کامیاب تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی۔

    ترک وزیر توانائی الپرسلان بائیرقطار نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اس شعبے کو سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنا رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں نادر معدنیات کی دریافت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ترک وزیر نے کہا کہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ سمٹ میں شرکت سے پاکستان کے معدنی شعبے کی استعداد کا بخوبی اندازہ ہوا ہے۔

    اسی طرح وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے آذربائیجان کے وزیرِ معیشت میکائیل جباروف نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور پاکستان آذربائیجان تعاون کے مزید فروغ پر اتفاق، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافے پر گفتگو کی ،وزیرِ اعظم نےآذربائیجان کے وفد کو آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کیلئے خیر سگالی کا پیغام دیا ۔

    ملاقات میں معدنیات و کان کنی، تیل کی دریافت، قابل تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، علاقائی روابط کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر، دفاع، ہاسپیٹیلٹی و سیاحت اور افرادی قوت کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہءِ آذربائیجان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ عقیدے، ثقافت، باہمی احترام اور بھائی چارے پر مبنی ہیں۔ اپنے دورہ آذربائیجان کے مابین دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے آذربائیجان کو پاکستان میں تیل کی دریافت، معدنیات و کان کنی، قابل تجدید توانائی اور علاقائی روابط کیلئے انفراسٹرکچر میں موجود سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے مستفید ہونے کی دعوت دی۔

    وزیرِ اعظم نے اسلام آباد اور باکو کو جڑواں شہر قرار دینے کے بعد اسلام آباد میں بہترین تزئین و آرائش کے اقدامات پر آذربائیجان کی ٹیم کی تعریف بھی کی۔وزیرِ اعظم نے آذربائیجان کے صدر کے متوقع دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارت کے حجم کو 2 ارب ڈالر پر پہنچانے کیلئے دونوں ممالک کے مابین اعلی سطح پر گہری دلچسپی اور اقدامات خوش آئند ہیں۔

    آذربائیجان وزیر نے پاکستان کی جانب سے انکے وفد کی شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون اور تجارت کے فروغ میں آذربائیجان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیااور قابل تجدید توانائی، وائٹ آئل پائپ لائن، سوکار کی پاکستان میں سرمایہ کاری، آذربائیجان کی پاکستان کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات میں وفد کی پاکستان میں ملاقاتوں، مختلف شعبوں میں تعاون، تجارت کے فروغ، بین الاقوامی شمال-جنوب مواصلاتی کاریڈور، وائٹ آئل پائپ لائن، گورننس کی بہتری کیلئے آسان سہولت مراکز کے پاکستان میں قیام اور آذربائیجان کی پاکستان میں علاقائی روابط کیلئے موٹرویز میں سرمایہ کاری پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    ملاقات میں آذربائیجان کے پاکستان میں سفیر خضر فرہادوف، نائب وزیرِ معیشت صمد بشیری، نائب وزیرِ توانائی کمال عباسوف اور اعلی سطح آذری حکام کے ساتھ ساتھ وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم سید توقیر شاہ، معاون خصوصی طارق فاطمی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، نیشنل کوآرڈینیٹر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل لیفیٹیننٹ جنرل سرفراز احمد اور متعلقہ اعلی حکام موجود تھے۔

    دوسری طرف وزیراعظم نے عالمی شپنگ کمپنی کی پاکستان میں 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہوئے گزشتہ سال اے پی مولر۔میرسک کے ساتھ دستخط کی گئی مفاہمت کی یاداشتوں کو جلد از جلد معاہدوں کی شکل دینے کی ہدایت کی ۔وزیراعظم نے عالمی شپنگ کمپنی کے ساتھ میری ٹائم سیکٹر میں اشتراک کے معاہدے کی تشکیل کے عمل کو تیز کرنے کے لئے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ بنانے اور ایک ماہ کے اندر سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ تمام رکاوٹیں دور کر کے میری ٹائم شعبے کو عالمی مسابقتی معیار پر لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی مولر۔میرسک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری سے پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں وسیع پیمانے پر مثبت تبدیلی آئے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وسیع سمندری وسائل سے نوازا ہے، اس شعبے کی استعداد سے فائدہ اٹھا کر ان وسائل کو ملک کی بہتری کیلئے استعمال کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی منظر نامہ میں خطے میں تجارت اور نقل و حمل کے لئے پاکستان کی بطور راہداری اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، ملکی معیشت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہم خطے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے پاکستان کو ایک قابل اعتبار اور مؤثر اقتصادی راہداری بنائیں ۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اے پی مولر۔میرسک کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر رابرٹ میرسک نے وزیر اعظم کو بتایا کہ پوری دنیا میں اے پی مولر۔میرسک کے کلائنٹس نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، اس خطے میں اے پی مولر۔میرسک کا پہلا بحری جہاز 1924 میں آیا تھا اور آج خطے میں پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کسی بھی دور کے مقابلے میں مضبوط ترین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے لئے اس خطے میں بطور اقتصادی راہداری کلیدی کردار ہے

    جو کہ ہماری کمپنی کے لیے انتہائی اہم ہے۔رابرٹ میرسک نے پاکستان کی سمندری بندرگاہوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہوں میں لاجسٹکس کا جدید ترین نظام اور انکو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کر کے خطے میں بذریعہ سمندر تجارت کے لئے ایک منفرد مرکز قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ رابرٹ میرسک نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے پر کشش قرار دیا۔

    ملاقات میں عالمی شپنگ کمپنی کے ڈی ای او کیتھ سوینڈسن، ڈنمارک کے سفیر جیکب لینلف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری، وزیراعظم کے مشیر سید توقیر شاہ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

  • وسیع معدنی ذخائر ہوتے ہوئے مایوسی  کی کوئی گنجائش نہیں۔آرمی چیف

    وسیع معدنی ذخائر ہوتے ہوئے مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں۔آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ مجھے پختہ یقین ہے پاکستان عالمی معدنی معیشت میں ایک رہنما کے طور پر ابھرنے کےلیے تیار ہے۔

    پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم 2025 سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد معدنی شعبے کےلیے افرادی قوت، مہارت اور انسانی وسائل پیدا کرنا بھی ہے۔ وسائل کی ترقی اور سرمایہ کاری کےلیے عالمی ادارے شراکت داری کریں۔ اقتصادی سلامتی، قومی سلامتی کے ایک اہم جُزو کے طور پر ابھری ہے۔ آگے بڑھیں اور جدوجہد کریں ملک کےلیے اور اپنے لیے، آپ پاکستان پر پُراعتماد پارٹنر کے طور پر بھروسہ کر سکتے ہیں،پاکستان میں اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم معدنی صنعتوں کی ترقی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کو مضبوط سیکیورٹی فریم ورک اور فعال اقدامات کو یقینی بنائے گی۔ پاکستان میں ریفائننگ اور ویلیو ایڈیشن میں سرمایہ کاری کی جائے۔ ہم بین الاقوامی اداروں کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ اپنی مہارت سے پاکستان کو روشناس کرائیں، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔ بین الاقوامی ادارے وسائل کی وسیع صلاحیت کی ترقی میں ہمارے ساتھ شراکت داری کریں۔پاکستان کی معدنیات کی دولت کو اخذ کرنے کے لیے انجنیئر ، جیالوجسٹ، آپریٹر اور بہت سے ماہر کان کن درکار ہیں۔ہم اس شعبے کی ترقی کے لیے طلبا کو بیرون ملک تربیت کےلیے بھی بھیج رہے ہیں اس وقت بلوچستان کے 27 طلباء زیمبیا اور ارجنٹینا میں منرل ایکسپلوریشن میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کے پیروں کے نیچے وسیع معدنی ذخائر ہوتے ہوئے مایوسی اور بےعملی کی کوئی گنجائش نہیں۔ کاروبار اور معدنی دولت سے استفادہ کےلیے آپ کی مہارت سے مستفید ہونا ہماری اجتماعی قومی خواہش ہے۔میں بلوچ قبائلی عمائدین کی کاوشوں کا بھی معترف ہوں۔ بلوچ قبائلی عمائدین نے کان کنی کے فروغ اور بلوچستان کی ترقی اور پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مل کر کام کرنے سے پاکستان کا معدنی شعبہ اجتماعی فائدے کےلیے علاقائی ترقی، خوشحالی اور پائیداری کو فروغ دے سکتا ہے۔