Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم کا رمضان ریلیف پیکج کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کا رمضان ریلیف پیکج کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم پاکستان نے 2025 کے رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پیکیج کی پیشرفت اور مستحقین تک اس کی کامیاب فراہمی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ رمضان ریلیف پیکج پورے پاکستان بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے بلاتفریق متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکیج کا مقصد غریب اور مستحق افراد کو رمضان کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس پیکیج کو شفاف بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نادرا اور دیگر ٹیک اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے ان اداروں کی محنت اور تعاون کی تعریف کی اور کہا کہ یہ تعاون ہی اس پیکیج کو کامیاب بنانے کا ذریعہ ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کی شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے لیے اس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پیکیج کی افادیت اور مستحقین تک اس کی پہنچ کو بہتر بنایا جا سکے گا۔وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان ریلیف پیکج میں پیسے مستحقین تک ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں، جو کہ ایک انتہائی سہل اور شفاف نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کو دیگر حکومتی اسکیموں میں بھی اپنانا چاہیے تاکہ پورے ملک میں حکومتی امداد کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں کو رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے چلائی جانے والی آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد عوام کو اس پیکیج کے فوائد اور اس کے استعمال کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا ہے تاکہ کوئی بھی مستحق شخص اس سے محروم نہ ہو۔

    اجلاس میں وزارتوں کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے رمضان ریلیف پیکج 2025 کی پیشرفت پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ اب تک 63 فیصد مستحقین کو رقم پہنچا دی گئی ہے، اور اس میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے تمام مستحق افراد جن کو رقم مل چکی ہے، ان کی تمام تر دستاویزی تفصیلات موجود ہیں۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے 2224 ملازمین ڈیوٹی پر مامور ہیں، جو اس پیکیج کی عملدرآمد اور نگرانی کے عمل کو کامیابی سے چلانے میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔اب تک رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے ایک ڈیڑھ ملین سے زائد مستحقین کو ٹیلیفون کالز کی جاچکی ہیں، تاکہ ان تک اس پیکیج کی معلومات پہنچائی جا سکیں اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    اس اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرا، چیئرمین پی ٹی اے اور متعلقہ سرکاری افسران اور رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے معاون نجی کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔

  • عمران سے ملنے والا میڈیا ٹاک نہیں کرے گا، عدالت کا حکم

    عمران سے ملنے والا میڈیا ٹاک نہیں کرے گا، عدالت کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل ملاقاتوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ان کی جیل میں ملاقاتوں کی بحالی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمران خان سے ہفتے میں دو دن، یعنی منگل اور جمعرات کو ملاقاتوں کی اجازت دے دی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر سماعت کا عمل قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم پر مشتمل لارجر بینچ نے کیا۔ اس دوران جیل سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دسمبر تک جیل میں ملاقاتیں اسی ایس او پیز (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز) کے تحت کی جا رہی تھیں، تاہم جنوری کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی اور سیکورٹی تھریٹس کے باعث ملاقاتوں کا عمل متاثر ہوا۔جیل سپرینٹنڈنٹ کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا شیڈول منگل کے روز رکھا گیا ہے، کیوں کہ جنوری کے بعد عمران خان کا اسٹیٹس انڈر ٹرائل قیدی سے سزا یافتہ قیدی میں تبدیل ہو چکا ہے۔

    اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ہر قیدی کی طرف سے جیل ملاقاتوں کی درخواستیں آنا معمول بن چکا ہے، اور بعض اوقات جیل ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اگر جیل میں ملاقات کرنی ہے تو اس کے بعد میڈیا میں بات نہیں کی جانی چاہیے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں عمران خان کی جیل ملاقاتوں کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں کے دوران جو لوگ عمران خان سے ملیں گے، وہ صرف وہی افراد ہوں گے جو بانی پی ٹی آئی کے کوآرڈینیٹر کی طرف سے نامزد کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی، اور جو بھی عمران خان سے ملے گا، اسے اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ میڈیا کے سامنے کوئی بیان نہیں دے گا۔

  • ملک بھر میں یوم پاکستان ملی جوش وجذبے سے منایا جارہا ہے

    ملک بھر میں یوم پاکستان ملی جوش وجذبے سے منایا جارہا ہے

    اسلام آباد: ملک بھر میں آج یوم پاکستان ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہاہے۔

    باغی ٹی وی : یوم پاکستان کے موقع پر دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں توپوں کی سلامی سے ہوا جبکہ شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقار تقریب بھی منعقد ہوئی، یومِ پاکستان کی پریڈ ایوان صدر میں ہوئی جس کے مہمان خصوصی صدر آصف علی زردار ی ہیں، ایوان صدر میں منعقد ہونے والی پریڈ میں غیر ملکی سفیر، اعلیٰ سول اور فوجی حکام بھی شریک ہیں۔

    یوم پاکستان پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن یعنی 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان ، جسے قرارداد لاہور بھی کہا گیا تھا، پیش کی گئی تھی، قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس دن "23 مارچ” پورے پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے،اور 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین اپنایا گیا اور یوں مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔

    یوم پاکستان کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

    اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس وقت ملک کو سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، بہادر مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع میں بڑی قربانیاں دے رہی ہیں اپنی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ثابت قدم رہیں گے، ہر پاکستانی اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر، تقسیم اور منفی رجحانات کو مسترد کرے۔

    صدر نے یوم پاکستان پریڈ کی مرکزی تقریب سے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جو طاقتور اور ترقی یافتہ ہو، شاندار پریڈ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتاہوں، فتنہ الخوارج، دہشت تنظیموں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے، دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ ففتھ جنریشن وار فیئر ایک اہم چیلنج ہے، ہم باحوصلہ قوم ہیں، چیلنجز پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مادر وطن کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ہم نے بیرونی اور اندرونی دہشت گردی کا منہ توڑ مقابلہ کیا، بھارت ہمیشہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھتاہے،ہمارے سامنے سفر آسان نہیں ، لیکن ناممکن بھی نہیں، سب سے اپیل کرتا ہوں تمام تر توانائیاں ملکی ترقی کے لیے وقف کریں، اختلافات سے بالا تر ہوکر خوشحال اور پُر امن پاکستان کے لیے کام کرنا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک برس میں ہم نے پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا، افراط زر کی شرح میں مسلسل کمی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ۔

    عالمی مالیاتی ادارے اور ریٹنگ ایجنسیاں اس تبدیلی کی معترف ہیں، درست پالیسیوں، نیک نیتی اور قومی اتحاد سے ہم معاشی خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا وطن کی حفاظت میں جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کو بھی سلام ہے، یوم پاکستان پر اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں کویاد رکھنا چاہیے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا یوم پاکستان پر پیغام

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے قوم کویوم پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ آج کے دن غربت میں کمی، مساوات اور کمزو رطبقات کے تحفظ کاعہد کرتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ کے پی کا یوم پاکستان پر پیغام

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے یوم پاکستان کے موقع پر کہاکہ آج کا دن تقاضا کرتا ہے کہ ہم ملک کی بقا اور سلامتی کیلئے کردار ادا کریں، سب کو پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا یوم پاکستان پر پیغام

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ مربوط پالیسی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو مضبوط معیشت بنائیں گے، پاکستان میں خوشحالی نئے دور کا آغاز جلد ہوگا۔

    یوم پاکستان کے موقع پر مینارپاکستان مختلف رنگوں کی روشنیوں سے جگمگا اٹھا۔

    یوم پاکستان کی مناسبت سے پی ایچ اے کی جانب سے لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں لیزر لائٹ شو کا اہتمام کیا گیا، لیزر لائٹس سے مینار پاکستان پر قومی پرچم میں چاند تارا بھی بنایا گیا لیزر لائٹ شو کے دوران گریٹر اقبال پارک ملی نغموں سے گونجتا رہا، یوم پاکستان کو شایان شان طریقے سے منانے کے لیے لیزر لائٹ شو دوروز جاری رہے گا،اس کے علاوہ یوم پاکستان پر آئی ایس پی آر نے نغمہ بھی جاری کردیا۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروس چیفس نے قوم کو یومِ پاکستان پر مبارکباد پیش کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروس چیفس کی جانب سے قوم کو یومِ پاکستان کی 85 ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 23 مارچ 1940 ایک ایسا دن جب ہمارے اجتماعی عزم کو واضح سمت ملی،ہمارا وطن جمہوریت کے پرچم تلے ترقی کی راہ پر گامزن ہے،مسلح افواج ہمیشہ مقدس سرحدوں کی حفاظت کےلیے پُرعزم ہیں، پاکستان امن کا پیامبر ہے اور ہم اسے ہر حال میں محفوظ رکھیں گے۔

  • پاکستان کا مستقبل روشن اور خوشحال ہے،یوم پاکستان پر عسکری قیادت کا پیغام

    پاکستان کا مستقبل روشن اور خوشحال ہے،یوم پاکستان پر عسکری قیادت کا پیغام

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ملک کی ترقی اور کامیابی کے عزم کو دہراتے ہوئے، پاکستانی عوام کی غیر متزلزل عزم اور حب الوطنی کو سراہا۔

    23 مارچ 1940 کا دن ہمارے تاریخ کا ایک سنگ میل تھا، جس نے ہماری اجتماعی نظریات اور اصولوں کو تشکیل دیا اور ایک آزاد وطن کے قیام کا راستہ دکھایا۔ یہ دن ہماری تاریخ میں ایک نیا آغاز تھا، جب ہماری قوم نے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کی جدوجہد شروع کی۔ ہمارا ایمان، ہماری امید اور ہماری عزم نے ہمیں ایک مضبوط اور خوشحال ریاست کی طرف رہنمائی فراہم کی۔ اللہ کی بے پایاں رحمت کے ساتھ، پاکستان نے ہمیشہ اپنے قومی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ترقی کی ہے۔پاکستان اپنے آئین اور جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے اور اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کی حفاظت کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاک فوج ہر وقت اپنی سرحدوں کی حفاظت اور مادر وطن کی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    آج پاکستان عالمی برادری کا ایک ذمہ دار اور پُرعزم رکن کے طور پر کھڑا ہے، جو امن، استحکام اور تعاون کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔ ہم ایک متحد قوم کے طور پر، اُمید اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر فلاح اور خوشحالی کا ایک نشان بنایا جا سکے۔پاک فوج نے اپنی لازوال قربانیوں اور عزم کے ساتھ قوم کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر قیمت پر تیار ہے۔ ہم پاکستان کو امن کا علمبردار بنانے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے ہر حال میں عزم کی تکمیل کریں گے، انشاء اللہ۔

    پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائِندہ باد

    پاکستان کا مستقبل روشن اور خوشحال ہے۔ ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنے ملک کی ترقی اور سلامتی کی طرف مسلسل کوششیں جاری رکھنی ہیں تاکہ پاکستان دنیا میں امن اور ہم آہنگی کا نمونہ بنے۔

  • ماہ رنگ بلوچ کو جیل منتقل کر دیا گیا

    ماہ رنگ بلوچ کو جیل منتقل کر دیا گیا

    کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے سریاب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہیں دیگر چار خواتین کے ہمراہ ایک ماہ کے لیے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تھری ایم پی او (قومی تحفظ آرڈیننس) کے تحت کیا گیا۔

    کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات نے میڈیا کو بتایا کہ یہ گرفتاری جعفر ایکسپریس کے ہلاک دہشت گردوں کے حق میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران پُرتشدد مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 مزدور اور ایک افغان شہری ہلاک ہوگئے۔حمزہ شفقات کے مطابق، احتجاج کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین کے ساتھ موجود مسلح افراد کی فائرنگ سے مذکورہ ہلاکتیں ہوئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین کی پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے پولیس کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

    ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کہا کہ سول اسپتال کوئٹہ پر ہونے والے حملے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی وائی سی کے احتجاج میں مسلح افراد بھی شامل تھے، اور ان کی موجودگی نے حالات کو مزید کشیدہ کردیا۔شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں بعض مخصوص حالات میں خصوصی قوانین کی ضرورت پیش آتی ہے، اور بلوچ یکجہتی کمیٹی مارے گئے دہشت گردوں کی لاشوں کے لیے احتجاج کر رہی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا تھا۔

    ماہ رنگ بلوچ پر سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کوئٹہ،خود کش دھماکہ کرنیوالا ماہ رنگ بلوچ کا مسنگ پرسن نکلا

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • نیب کا ایکشن، ملک ریاض کی بحریہ فیز سیون میں جائیدادیں سیل

    نیب کا ایکشن، ملک ریاض کی بحریہ فیز سیون میں جائیدادیں سیل

    قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے احتساب عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں ملک ریاض کی ملکیتی جائیداد کو سیل کر دیا ہے۔ نیب کی اس کارروائی کا مقصد کرپشن کے خلاف قانونی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا اور ملک میں احتساب کا عمل تیز کرنا ہے۔

    نیب کی اس کارروائی کی قیادت ایڈیشنل ڈائریکٹر علی محمد نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ کرنل (ر) محمد رفیق اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ نیب کی ٹیم نے بحریہ ٹاؤن فیز 7 کے مختلف جائیدادوں پر کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں سرکاری نوٹسز چسپاں کیے۔ ان نوٹسز میں عوام کو مطلع کیا گیا کہ یہ اثاثے اب نیب کی تحویل میں ہیں اور ان جائیدادوں کا کوئی بھی لین دین اب نیب کے اختیار میں ہے۔نیب نے جن جائیدادوں کو سیل کیا ہے، ان میں ارینا سینما، بحریہ ٹاؤن انٹرنیشنل اکیڈمی، اور روبیش مارکی شامل ہیں۔ نیب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان جائیدادوں کی خرید و فروخت کے تمام قانونی حقوق اب نیب کے پاس ہیں، اور ان جائیدادوں کے کسی بھی قسم کے لین دین کا اختیار صرف نیب کے پاس ہوگا۔

    نیب حکام کا کہنا ہے کہ ان جائیدادوں کو سیل کرنے کا اقدام احتساب عدالت کے احکامات کے مطابق کیا گیا ہے اور اس عمل میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔نیب کے اس اقدام کو کرپشن کے خاتمے کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ عمل ملک میں احتساب کے عمل کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

    ملک ریاض کے خلاف کارروائی،بحریہ ٹاؤن کی جائیداد سیل

    ملک ریاض کی راولپنڈی میں جائیداد سرکاری تحویل میں لے لی گئی

    بحریہ ٹاؤن ،ملک ریاض کیخلاف دو نیب ریفرنس دائر

    ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

  • کیپٹن حسنین اختر نے وطن کی مٹی سے وفا  کا عہد نبھا دیا

    کیپٹن حسنین اختر نے وطن کی مٹی سے وفا کا عہد نبھا دیا

    جرات و بہادری کی داستان، کیپٹن حسنین اختر شہید،25 سالہ کیپٹن حسنین اختر شہید کا تعلق ضلع جہلم سے ہے

    کیپٹن حسنین اختر شہید کے والد اختر محمود پاک فوج میں حوالدار کےعہدے پرفائز رہے،کیپٹن حسنین اختر شہید نے 4 سال قبل انتھک محنت اور لگن سے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی،کیپٹن حسنین اختر شہید نے 20 مارچ 2025کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فتنتہ الخوارج کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا،اس سے قبل کیپٹن حسنین اختر شہید نےدہشتگردوں کے خلاف مختلف آپریشنزمیں جرات و بہادری کاعملی مظاہرہ پیش کیا،کیپٹن حسنین اختر شہیدنے ان آپریشنز میں "لیڈنگ فرام دی فرنٹ” کا عملی نمونہ پیش کیا،27 دسمبر 2024 کو کیپٹن حسنین اختر شہید نے فتنتہ الخوارج کے خلاف آپریشن کے دوران بغیر فائر کیے 12 بچوں کی جان بچائی،اس آپریشن کے دوران 3 اطراف سے کیپٹن حسنین اختر شہید پر 35-40 خارجیوں نے حملہ کیا،اس حملے میں کیپٹن حسنین اختر شہید نے بڑی مہارت کامظاہرہ پیش کیا،27مئی 2024کو ٹانک کے علاقے بابر ملا خیل کے مقام پربھی ایک آپریشن کیا گیا،اس آپریشن میں کیپٹن حسنین اختر شہید نے انتہائی مطلوب دہشتگرد خارجی عباس بٹنی کو جہنم واصل کیا،آپریشن کے دوران 12 دہشتگرد بھی جہنم واصل ہوئے،اسی طرح نومبر 2024 میں بھی ایک آپریشن کے دوران کیپٹن حسنین اختر شہید کا سامنا ایک دہشتگرد کے ساتھ ہوا،دو بدو کی لڑائی میں کیپٹن حسنین اختر شہید کا ایک بازو فریکچر ہوا مگر انھوں نے دہشتگرد کوموقع پر جہنم واصل کر دیا،اس کے ساتھ ساتھ 30اور 31 جنوری 2025 کو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں ہلاک کئے جانے والے دہشتگرداحمد الیاس عرف بدر الدین کی ہلاکت میں بھی کیپٹن حسنین اختر شہید کا نہایت اہم کردار رہا،اس آپریشن کےدوران ہلاک ہونے والاخارجی احمد الیاس عرف بدرالدین ، صوبہ باغدیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد کا بیٹا تھا،خارجی بدر الدین نے پہلے افغان طالبان کے تربیتی مرکز میں تربیت حاصل کی اور پھرفتنتہ الخوارج میں شامل ہوا،کیپٹن حسنین اختر شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے وطن کی مٹی سے وفا کا عہد نبھا دیا،

  • افغان دہشتگردوں کا پاکستان پر خود کش حملوں کا برملا اعلان

    افغان دہشتگردوں کا پاکستان پر خود کش حملوں کا برملا اعلان

    پاکستان میں بڑھتی دہشتگردی میں افغان دہشتگردوں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر آ گئے

    خودکش افغان دہشتگرد مملکت پاکستان پر حملوں کا اعلان کر رہے ہیں،افغان دہشتگردوں کے اقرار نے افغان عبوری حکومت کے دوغلے پن کو عیاں کردیا ہے،ویڈیو میں خارجی منصور کہتا ہے کہ،”میں افغان صوبے اُرزگان کا رہائشی ہوں‘‘”میں ساڑھے تین سال سے استشہادی کے طور پر یہاں ہوں””میں پاکستان پر حملے کے لیے اپنا نام دے چکا ہوں، اس کام کے لیے وظیفہ بھی مل رہا ہے،ہم پاکستان کے خلاف خود کش حملے کے لیے تیار ہیں،

    ایک اور خارجی دہشتگرد نےاس حوالے سے کہا کہ؛”میں نے پشتون قوم اور دین کی خاطر جنگ اور پاکستان میں جہاد کے لیے نام دیا ہے،پاکستان ایک یزیدی ملک ہے، وہاں کی حکومت اور عوام بھی یزیدی ہیں، "پاکستان میں کفار نے اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں، ہم ان کا پیچھا وہاں جا کر کریں گے،افغانستان کے صوبہ کندوز کےخارجی دہشتگرد کا کہنا تھا کہ؛”پانچ سال سے جہاد کر رہا ہوں، افغانستان سے کفر کا خاتمہ ہو چکا ہے اور دشمن نکل چکا ہے””ہم نے خود کو اس مقصد کے لیے تیار کر لیا ہے کہ پاکستان میں کفر اور غلامی کا خاتمہ کریں””پاکستان نے کفر کو راستہ دیا ہے جبکہ ہمارے لیے دروازے بند کیے ہیں، ہم اس کفر کو ختم کریں گے””پاکستان کفر کو راستہ دے رہا ہے، ہم فدائی حملوں سے اسے ختم کریں گے،

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ "افغان دہشتگردوں کا پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونا خطے کی سلامتی کیلئے خطرناک ہے، فوری کارروائی ناگزیر ہے””پاکستان میں افغان دہشت گردوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان عبوری حکومت کی انہیں مکمل سہولت کاری حاصل ہے”” خوارج کا کھلے عام اقرار ایک نئے سیکیورٹی چیلنج کی جانب اشارہ ہے””پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان دہشتگردوں کا خاتمہ کرنا چاہئے””افغان دہشت گردوں کے خاتمے میں تاخیر ملکی استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے”

  • تین دن میں 200 معصوم بچوں سمیت 591 فلسطینی شہید

    تین دن میں 200 معصوم بچوں سمیت 591 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی جانب سےفلسطینی عوام پر بمباری، زمینی حملوں اور گولہ باری کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق محض تین دنوں میں 591 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 200 معصوم بچے شامل ہیں۔ یہ وحشیانہ حملے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کیے جا رہے ہیں، جہاں فلسطینی افطار کے بجائے ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں، جبکہ امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔گنجان آباد علاقے میں رہنے والے ہزاروں بے گھر افراد، جو پہلے ہی جنگ کے خوف میں زندگی گزار رہے تھے، اب مزید ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ان حملوں کے خلاف یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر بھی اسرائیلی بمباری کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف شدید عوامی احتجاج ہو رہا ہے۔ یروشلم میں ہزاروں اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے انتہا پسندانہ فیصلوں کے خلاف مظاہرے کیے، جس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔فلسطینی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ جارحیت دراصل فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے اور ان کی شناخت مٹانے کی کوشش ہے۔

    انٹرنیشنل ہیومن رائٹس گروپس نے اسرائیل کے ان اقدامات کو اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔فلسطینی سینٹر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے عالمی برادری سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، "دنیا کہاں ہے؟ مشترکہ انسانی اقدار کہاں ہیں؟”اس وقت غزہ خون میں ڈوبا ہوا ہے، اور عالمی برادری کی محض زبانی مذمت اور بےعمل تشویش فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

    نواز شریف کا بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

    میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو نظر ہی نہ لگ جائے ، والدہ کرکٹر حسن نواز

  • اہل غزہ کے ساتھ یکجہتی،اسرائیلی مظالم کیخلاف مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر  احتجاج

    اہل غزہ کے ساتھ یکجہتی،اسرائیلی مظالم کیخلاف مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر احتجاج

    اہل غزہ کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا، سحر و افطار کے موقع پر مختلف شہروں میں کانفرنسز ،سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، خطبات جمعہ کے موقع پر علماء کرام نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی ،خطبات جمعہ و دیگر پروگرامو ں سے مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ طلحہ سعید،حافظ عبدالرؤف، قاری محمد یعقوب شیخ،حافظ خالد نیک،چوہدری محمد سرور و دیگر نے خطاب کیا.

    سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں، دو دنوں میں دو سو بچوں سمیت 6 سو سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،تعلیمی ادارے، ہسپتال بھی غزہ میں محفوظ نہیں، اسرائیل کھلم کھلا جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، لیکن عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سے اس کے حوصلے مزید بڑھ رہے ہیں۔ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کلمہ کا رشتہ ہے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ غزہ کے مسلمانوں کی حمایت میں کھڑی ہے.

    حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی مسلسل اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا، مسلم ممالک کی طرف سے غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیلی حملوں کے خلاف صرف مذمتی بیانات دیے جا رہے ہیں، لیکن کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ فلسطینی عوام کو حقیقی مدد فراہم کرنے کے لیے مسلم دنیا کو ایک مضبوط حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی۔

    حافظ عبدالرؤف،قاری محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک،چوہدری محمد سرور ودیگر کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم رکنے کا نام نہیں لے رہے، لیکن دنیا جان لے،غزہ کی جنگ مسلمانوں نے جیتنی ہے ۔ پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ غزہ کے کھنڈروں پر افطاری کے مناظر امت مسلمہ دیکھ رہی ہے۔ فلسطینی اپنی قربانیوں پر پشیماں نہیں بلکہ پر امید ہیں کہ اسرائیل سے آزادی ملے گی۔ غزہ میں شہادتیں نقصان نہیں انعام ہیں خون آزادی کی علامت ہے غزہ فلسطینیوں کا ہے انکو وہاں سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ امت مسلمہ غزہ کے باسیوں کے لئے آواز اٹھائے۔