Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اپوزیشن صرف گالم گلوچ اور شور شرابے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی ،بلاول

    اپوزیشن صرف گالم گلوچ اور شور شرابے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،

    قومی اسمبلی میں خطاب ، بعد ازاں اپنے چیمبر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام سیاستدانوں سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن اپوزیشن صرف گالم گلوچ اور شور شرابے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی صدر زرداری نے اپنے خطاب میں ہر ایشو پر بات کی .صدر زرداری نے پارلیمان میں تاریخی خطاب کیا، پہلی بار کسی سویلین صدر نے آٹھ بار خطاب کیا،صدر مملکت نے نفرت کی بجائے امید کی بات کی.دریائے سندھ سے نئی نہروں کےبارے متفقہ فیصلے لینے چاہئے،وزیراعلی خیبر پختونخوا کو صوبے میں بڑھتی دہشت گردی کی پرواز نہیں، وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہاں بڑھتی دہشت گردی خود دیکھے، وفاق سے بات چیت چلتی رہے گی. پیپلز پارٹی مثبت سیاست پر یقین رکھتی ہے.

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پانی کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی خاموشی کا بیانیہ سفید جھوٹ ہے
    ، پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس نے اس ایشو کو اٹھایا ،27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں بھی یہ ایشو اٹھایا ،ہر قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے تمام ارکان نے یہ بات کی ،نواب یوسف تالپور نے آخری تقریر وہیل چیئر پر آکر چیخ چیخ یہ آواز اٹھائی ،ہماری صوبائی حکومت، وزیراعلی سندھ سمیت دیگر وزراء نے یہ معاملہ اٹھایا ،پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو پانی کی تقسیم پر ہمیشہ آواز اٹھاتی آئی ہے اور اٹھا رہی ہے ،وہ سیاستدان جو جان بوجھ کر اس پر غلط فہمی پیدا کررہے ہیں وہ اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں،قومی ایشوز پر اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے آواز اٹھانے والوں کو نشانہ بنارہے ہیں ،ایسی بات کرکے آپ دھوکہ دہی کی سوا کچھ نہیں کررہے ہیں ،یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، پیپلز ہی صحیح معنوں میں اٹھا رہی ہے ،ہم مثبت سیاست پر یقین رکھتے ہیں مگر جو واقعی چاہتے ہیں کہ پانی کو غیر متنازعہ رکھیں وہ پھر مناسب جگہ تنقید کریں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہاف ٹرم کا وزیراعظم کا فارمولا ہمیشہ مسترد کیا ہے .حکومت کیساتھ ہمارے تعلقات سیاسی ساتھ سب کے سامنے ہے،آصف علی زرداری نے جمہوری تاریخ میں پہلی مرتبہ 8 ویں مرتبہ ایوان سے خطاب کرکے تاریخ رقم کی ،صدر زرداری نے نفرت کی بجائے احترام اور تقسیم کی بجائے اتحاد کی بات کی ،مسئلہ فلسطین و کشمیر سے لے کر دوست ممالک اور تمام شعبہ جات کے حوالوں تک امور پر روشنی ڈالی
    ،عوامی ایشوز پر انہوں نے زور دیا، وہ واحد منتخب وفاقی نمائندہ ہیں ،صدر مملکت نے حکومت کی یکطرفہ پالیسیوں پر بھی تبصرہ کیا ،خصوصاً انہوں نے نئی نہروں کے حوالے سے بڑے مثبت انداز میں حکومت وقت کو خبردار کیا،اس فیصلے سے وفاق پر ایک نشان لگ رہا ہے اس لئے اس معاملے کا حل متفقہ طور ہونا چاہیے ،آصف علی زرداری کا تاریخی خطاب عوامی ایشوز پر مشتمل تھا جو سامنے تھا ،اسی طرح اپوزیشن کا شور تماشا بھی عوام نے دیکھا،افطار ڈنر میں وزیراعظم میاں شہباز شریف کا شکر گزار ہوں ،معاشی اشاریے بہتر ہورہے ہیں جس پر وزیراعظم کو مبارک باد پیش کی ہے ،ہم نے اس کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر توجہ مبذول کرائی ،ایک طرف امن و امان کی یہ صورتحال ہے بنوں سے پارا چنار اور ڈی آئی خان سے پشاور تک آگ پھیلی ہے ،اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ صوبائی حکومت کی بجائے وفاقی حکومت سنجیدہ اقدام لے ،بلوچستان کی جو صورت حال ہے اس کے جانب بھی متوجہ کیا گیا ،پنجاب کے مسائل بھی وزیراعظم کے سامنے رکھے،موسمی تبدیلیوں، پانی کی کمی، آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے زراعت پر ٹیکس سامنے ہے،پانی کی کمی اور موسمی تبدیلی ایک حقیقت ہے،دنیا میں سب کو پتہ ہے مستقبل میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا،پیپلز پارٹی گرین پاکستان گرین سندھ گرین پنجاب گریں کے پی اور گرین بلوچستان کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ،سب سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کے ڈیم ہم نے بنائے،چولستان، تھر میرے اپنے علاقے ہیں ہم خود یہاں تک پانی پہنچائیں گے،ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمار نظریہ اور منشور ہے حکومت ساتھ دے،حکومت کے پاس اس سے بہتر تجویز ہے تو وہ ہمیں بتائیں،وزیراعظم کیساتھ ایک مثبت میٹنگ ہوئی ہے اور یقین دلایا ہے کہ وہ مسائل حل کریں گے ،دوسرا بجٹ آنے والا ہے اب تک ان شکایات کو حل ہونا چاہیئے تھا ،لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر اگر صوبائی حکومت کچھ نہیں کرتی تو وفاق کو کام کرنا ہوگا ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ خیبرپختونخوا کے حوالے آج مشاورت کرے گی ،وفاقی حکومت کیوں نہیں مانے گی کہ نہروں کے مسائل پر صدر زرداری کے تحفظات سنیں اور حل کرے ،میں امید رکھتا ہوں کہ اس بار پیپلز پارٹی اور ن لیگ مل کر بجٹ بنائیں گے ،چاروں صوبوں کے پی ایس ڈی پی بھی جب مل کر بنائیں گے تو پھر ہم کیوں اس کی حمایت نہیں کرینگے ،الیکشن کے بعد میں کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں گیا تھا ،اس سے پہلے وزیراعظم میاں شہباز شریف اپنی ٹیم کیساتھ چل کر آئے ،ہم نے اس کے بعد دو روز تک سی ای سی اجلاس چلایا،پی ٹی آئی نے تو از خود اکیلے چلنے کا فیصلہ کیا تھا ان کے پاس ہم نہیں گئے تھے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ نواب یوسف تالپور ایک عوامی سیاست دان تھے جن کی سیاسی جدوجہد طلباء سیاست سے شروع ہوئی، انہوں نے آمریت کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ضیا ء الحق اور پرویز مشرف تھا، نواب یوسف تالپور ہے،

  • ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا،سپریم کورٹ

    ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سپرلیوی ٹیکس کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،

    وکیل کمپنیزمخدوم علی خان نے کہاکہ حکومت سے پوچھا جائے سپرٹیکس کی مد میں کتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ یہ داستان بڑی لمبی ہو جائے گی،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ سپرٹیکس ایک مرتبہ کیلئے لگایا گیا تھا، سپر ٹیکس کسی خاص مقصد کیلئے لگایا گیا تھا، ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا،مخدوم علی خان نے کہاکہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں کی بحالی لوکل و صوبائی مسئلہ ہے،عدالت نے کہاکہ اعتراض ہے قومی مجموعی فنڈز سے رقم صوبوں کی رضا مندی کے بغیر کیسے خرچ ہو سکتی ہے، وکیل ایف بی آر نے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ مسلسل عمل ہے،

    وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ کیا دہشتگردی 2020میں ختم ہو گئی ؟حکومت نے 2020میں سپرٹیکس وصولی ختم کردی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپر ٹیکس آپریشن کے متاثرین کی بحالی کیلئے تھا، حقیقت یہ ہے دہشتگردی کا ہرروز سامنا کرنا پڑتا ہے،وکیل ایف بی آر نے کہاکہ متاثرہین دہشتگردی کے خاتمہ کے نتیجہ بے گھر ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر کتنے لوگ بے گھر ہوئے؟کن علاقوں سے لوگ بے گھر ہوئے؟سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • پاکستان نے آئی ایم ایف کو  بجلی کے نرخوں میں کمی پر منا لیا

    پاکستان نے آئی ایم ایف کو بجلی کے نرخوں میں کمی پر منا لیا

    اسلام آباد: پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو بجلی کی قیمت کم کرنے پر راضی کر لیا ہے، جس سے عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے جاری مذاکرات کے دوران توانائی شعبے کے حکام نے آج اور کل آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں پاکستانی حکام نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو بجلی کے نرخ 2 روپے فی یونٹ کم کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ڈیڑھ سے 2 روپے فی یونٹ کمی پر آئی ایم ایف کے ساتھ طویل سیشن ہوا، جس میں مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کا فیصلہ اپریل سے نافذ العمل ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے کہ ٹیرف کم کرنے سے پہلے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا ایک نیا جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے موجودہ منصوبے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ان کمپنیوں کے نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو ہر حال میں بہتر بنانا ہوگا تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے 3 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا نیا پلان آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت،پہلے مرحلے میں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کی جائے گی۔دوسرے مرحلے میں میپکو، لیسکو اور حیسکو کی نجکاری عمل میں لائی جائے گی۔

    اگر بجلی کے نرخوں میں کمی کا یہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے تو عوام کو کچھ حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو موثر طریقے سے مکمل کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات تاحال جاری ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں مزید مالیاتی اور توانائی اصلاحات کے اعلانات بھی سامنے آئیں گے۔

  • ڈاکٹر سید رفعت حسین کی وفات ،طلعت حسین پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ

    ڈاکٹر سید رفعت حسین کی وفات ،طلعت حسین پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ

    پاکستان کے معروف اسکالر اور پالیسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید رفعت حسین کی وفات کے بعد ان کے خاندان نے اپنے چھوٹے بھائی، معروف صحافی سید طلعت حسین پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ڈاکٹر رفعت حسین کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ سید طلعت حسین نے ان کے بھائی کے آخری ایام میں نہ صرف ذہنی اذیت پہنچائی بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لیے ایک منظم کردار کشی کی مہم بھی چلائی۔

    یہ الزامات ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان کی طرف سے 7 مارچ 2025 کو سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک سخت بیان میں سامنے آئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سید طلعت حسین نے اپنے بھائی کے بارے میں عوامی طور پر جو غم کا اظہار کیا وہ جھوٹا اور فریب تھا، اور ان کی سوشل میڈیا پر پوسٹوں کو "جھوٹی خبریں” اور "غلیظ پروپیگنڈا” قرار دیا گیا۔ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان کا کہنا ہے کہ سید طلعت حسین نے 7 مارچ 2025 کو اپنے بھائی کی تدفین میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ سید طلعت حسین نے نہ صرف خود تدفین میں شرکت نہیں کی بلکہ انہوں نے دیگر خاندان کے افراد کو بھی اس روحانی موقع پر شرکت کرنے سے روکا۔ یہ عمل ڈاکٹر رفعت حسین کے اہل خانہ کے لیے انتہائی افسوسناک اور توہین آمیز تھا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سید طلعت حسین کا ایسا رویہ ان کے بھائی کی عزت کے خلاف تھا۔

    دی سکوپ کے مطابق ڈاکٹر رفعت حسین کے اہل خانہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سید طلعت حسین نے اپنے بھائی پر نہ صرف جذباتی بلکہ ذہنی دباؤ بھی ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ سید طلعت حسین نے ڈاکٹر رفعت حسین کے انتہائی نازک اور بیمار حالت میں، جب وہ آئی سی یو میں زیر علاج تھے، ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ جلد اسپتال سے رخصت ہو جائیں، حالانکہ ان کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ڈاکٹر رفعت حسین کی حالت میں نمونیا، اعضا کی ناکامی اور شدید خون کی شوگر کی سطح جیسے مسائل شامل تھے، جنہیں نظرانداز کرنا نہ صرف ان کی صحت کے لیے خطرہ تھا بلکہ یہ واضح کرتا ہے کہ سید طلعت حسین نے اپنے بھائی کے علاج کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھا۔اس کے علاوہ، خاندان نے سید طلعت حسین پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی فیاض حسین کے ساتھ مل کر ڈاکٹر رفعت حسین کی بیوی، سمیہ رفعت اور ان کے تین بیٹوں، حمزہ رفعت، ہانی حسین اور حیدر رفعت کو دھمکیاں دیں۔ ان دھمکیوں میں زبانی اور تحریری دونوں اقسام کی دھمکیاں شامل تھیں، جن کا مقصد ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان کو خوف زدہ کرنا اور ان پر اثر و رسوخ قائم کرنا تھا۔

    ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان نے ان الزامات کے حق میں دستاویزی شہادتیں پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سید طلعت حسین کے خلاف تحریری رابطوں اور دیگر ثبوتوں کی شکل میں مکمل شواہد موجود ہیں جو ان کے الزامات کی تائید کرتے ہیں۔ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان نے اس بیان میں کہا کہ ان کے والد کی عزت افزائی کے لیے یہ ان کا فرض تھا کہ وہ ان کی ذہنی اذیت اور ان پر ہونے والی زیادتی کو عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سید طلعت حسین کی سوشل میڈیا پر پوسٹس کو نظرانداز کیا جائے کیونکہ ان میں ان کے اپنے عملوں کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان نے عوام سے درخواست کی کہ وہ ان افراد سے براہ راست رابطہ کریں جو تدفین میں شرکت کرنے سے روکے گئے تھے، تاکہ سچائی کو سامنے لایا جا سکے۔

    ڈاکٹر سید رفعت حسین 7 مارچ 2025 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ ایک عالمی سطح پر معروف اسکالر اور پالیسی تجزیہ کار تھے اور ان کی خدمات کو ملک اور عالمی سطح پر سراہا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر نے پوری قوم کو غم میں ڈوبا دیا تھا، اور ان کے خاندان نے ان کی مغفرت کے لیے دعاؤں کی درخواست کی ہے۔ڈاکٹر رفعت حسین کی زندگی اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا .

  • امریکہ کی نئی سفری پابندیاں، لسٹ میں پاکستان بھی شامل

    امریکہ کی نئی سفری پابندیاں، لسٹ میں پاکستان بھی شامل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی سفری پابندیاں عائد ہوں گی،متعدد ممالک کے نام پر مشتمل ریڈ لسٹ جاری کردی گئی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ریڈ لسٹ میں موجود ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی،سوڈان، صومالیہ ،ایران، شام ، یمن اور شمالی کوریا فہرست میں شامل ہیں۔پاکستان اور افغانستان کا نام بھی فہرست میں شامل ہے،ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندی کل لگائی جا سکتی ہے۔دوسری جانب وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ امریکی ویزے سے متعلق بیان پر فارن افیئرز والے بہتر بتا سکتے ہیں،ہم تو چاہتے ہیں کہ امریکاسے تعلقات اچھے ہوں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈہ کرنے میں بھارتی امریکن لابی انتہائی ملوث رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کا گروپ بھی سازشیں کر رہا ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکہ کو مطلوب ایک خطرناک دہشت گرد کی پاکستان میں گرفتاری اور امریکہ کو حوالگی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں کافی قربت دیکھنے میں آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دوران پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان حالیہ رابطے میں سفری پابندیوں کی فہرست سب سے زیادہ زیر بحث رہی۔

    کراچی ،پسند کی شادی ،سالوں کے ہاتھوں بہنوئی قتل

    ممبئی سے نیویارک جانے والی فلائٹ کو دوران پرواز بم کی دھمکی

    محسن نقوی کو 3 عہدوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، شاہد آفریدی

    کراچی ،پسند کی شادی ،سالوں کے ہاتھوں بہنوئی قتل

  • وزیراعظم کا بلاول کے اعزاز میں افطار ڈنر،تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

    وزیراعظم کا بلاول کے اعزاز میں افطار ڈنر،تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

    اسلام آباد: وزیرِاعظم ہاؤس میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو صوبوں میں عوامی امنگوں پر پورا اُترنے اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون سے عوامی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے فعال اور متحرک کردار ادا کرنے پر سراہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے وفاق، صوبوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ عوام کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں امن و امان کی صورت حال پر اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ضلع کرم میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن کی کمزوری کو وزیراعظم کے سامنے اٹھایا۔اس کے علاوہ پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم کو متنازع کینالوں کے مسائل سے متعلق بھی اپنے تحفظات پیش کیے، جن کے بارے میں پارٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اس کا حل فوری طور پر نکالا جانا چاہیے۔

    پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم کو بلوچستان میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ابھی تک سیلاب متاثرین کی مکمل دادرسی نہیں کی گئی ہے، جس پر وزیراعظم نے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کیا اور اس کے فوری حل کے لیے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کے وفد کے ان تحفظات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کیا اور یقین دلایا کہ متنازع کینالوں، ضلع کرم میں قیام امن، اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مسائل ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے حل کیے جانے ضروری ہیں، اور وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

  • پاکستان دشمنی پر پاکستانی قوم کا بھگوڑے عادل راجہ کے منہ پر تھپڑ

    پاکستان دشمنی پر پاکستانی قوم کا بھگوڑے عادل راجہ کے منہ پر تھپڑ

    پاکستان کا بھگوڑا عادل راجہ بازنہ آیا، پاکستان دشمنی کی ساری حدیں پار کر لیں

    عادل راجہ ایک مرتبہ پھر اپنے غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان دشمن بیانات کے باعث خبروں میں ہے۔ عادل راجہ، جو اب بیرون ملک مقیم ہے، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک متنازع پول کروایا جس میں اس نے جموں و کشمیر اور گلگت کے شہریوں سے سوال کیا کہ اگر اقوام متحدہ کی رائے شماری کے مطابق ان کو آزادی کا حق دیا جائے تو وہ کس ملک کے ساتھ جائیں گے، پاکستان یا بھارت؟

    یہ سوال اس قدر حساس اور پاکستان کے خلاف تھا کہ اس پر پاکستانیوں کا ردعمل فوراً سامنے آیا۔ پاکستانی عوام نے عادل راجہ کے اس سوال پر شدید غصے کا اظہار کیا اور 86 فیصد شہریوں نے اس پول میں پاکستان کے ساتھ جانے کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود، عادل راجہ نے اپنی پاکستان مخالف سرگرمیاں بند نہیں کیں اور بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے دشمنوں کی ترجمانی کرتا رہا۔

    عادل راجہ پر پاکستان میں کئی مقدمات درج ہیں اور اس کا کورٹ مارشل بھی ہو چکا ہے۔ یہ شخص اپنی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی یہ سرگرمیاں صرف سیاسی نہیں بلکہ ملکی مفاد کے خلاف بھی ہیں۔پاکستانی عوام اور حکام کی جانب سے عادل راجہ کی ان حرکتوں پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی فرد پاکستان کے خلاف اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز سرگرمیاں نہ کر سکے۔یہ وقت ہے کہ پاکستانی حکومت اس بات کو سنجیدگی سے لے اور ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو اپنے ذاتی مفادات کے لئے پاکستان کی بدنامی کا سامان کر رہے ہیں۔
    adil

  • قومی مفاد مقدم،ذاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں،صدر مملکت

    قومی مفاد مقدم،ذاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں،صدر مملکت

    پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا.

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر بلایا گیا ہے جس سے وہ آئین کے آرٹیکل 56 کی شق 3 کے تحت خصوصی خطاب کر رہے ہیں،اجلاس کے آغاز میں قومی ترانہ، تلاوتِ قرآن مجید اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے بائیں جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بیٹھے ہوئے ہیں، اسپیکر ایاز صادق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی صدرات کر رہے ہیں،وزیرِ اعظم شہبازشریف، وفاقی وزرا، اراکینِ قومی اسمبلی و سینیٹ اجلاس میں شریک ہیں۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جیسے ہی خطاب شروع کیا پی ٹی آئی کے ارکان پلےکارڈز لے کر اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے، اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، پارلیمانی سال کے آغاز پر اس ایوان سے بطور سویلین صدر 8ویں بار خطاب کرنا میرے لیے اعزاز ہے، یہ لمحہ ہمارے جمہوری سفر کے تسلسل کا عکاس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے، اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے مل کر کام کرنا ہے، ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی، زرِ مبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔صدرِ مملکت کا کہنا ہے کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہے، نیا پارلیمانی سال اپنی پیشرفت کا جائزہ لینے، پاکستان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع ہے، ایوان بہتر طرز حکمرانی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے، ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے محنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی،ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کر دیا، دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے، ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے ۔صدرِ مملکت نے کہا کہ انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، آئیے قومی مفاد مقدم رکھیں اور ذاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں، آئیے اپنی معیشت بحال کرنے، جمہوریت مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں، ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔

  • آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،لاہور بار کے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر پاکستان کی تاریخ پر دلائل دیے، پاکستان میں مارشل لاء اور ملٹری کورٹس کی تاریخ کا بتایا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ ایف بی علی کیس میں طے ہوا کہ آرمی ایکٹ فوج کے ممبرز کے لیے بنا ہے، مگر کیس میں یہ بھی کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن ڈی اس مقصد کے لیے نہیں بنا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اب تنازع یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں ایف بی علی کیس میں سویلینز کے ٹرائل کی بھی اجازت تھی، آپ کہہ رہے ہیں کہ اجازت نہیں تھی۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ایف بی علی کیس میں کہا گیا کہ پارلیمان اس معاملے پر 2 سال میں ریوو کرسکتی ہے، آج تک پارلیمان نے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا تنازع یہ نہیں کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کیا جائے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟ آرمی ایکٹ میں درج جرائم کرنے پر اس کا دائرہ اختیار سویلینز تک بڑھایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ حامد خان نے بتایا کہ آرمی ایکٹ میں شامل وہ شقیں جن کے تحت سویلین کا ٹرائل کیا جاتا ہے وہ غیر آئینی ہیں، فوجی عدالتوں کے حق میں دلائل دینے والوں کا انحصار آئین کے آرٹیکل 8(3) پر ہے۔

  • عدلیہ میں خواتین کی شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے،چیف جسٹس

    عدلیہ میں خواتین کی شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے،چیف جسٹس

    پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ انصاف تک رسائی کو حقیقت بنانے کے لیے ہم مسلسل محنت کر رہے ہیں اور خواتین وکلا اور ججز کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ججز کی خدمات کو تسلیم کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے کیونکہ صنفی مساوات اور عدلیہ میں خواتین کی شمولیت ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے۔

    چیف جسٹس نے خواتین ججز کی ثابت قدمی اور دیانت داری کو اگلی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین ججز کا کردار انصاف کی فراہمی میں نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ ان کا عدالتی نظام میں شفافیت اور انصاف کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی عدلیہ میں خواتین کی شمولیت کو مزید بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں اور انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

    چیف جسٹس نے خواتین کی معاشرتی، سیاسی اور عدلیہ میں کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام تب ہی مضبوط ہو سکتا ہے جب تمام طبقوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اور ہر شعبہ زندگی میں خواتین کو ان کا جائز مقام دیا جائے۔