Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،پی ٹی آئی کے 25 افراد دوبارہ طلب

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،پی ٹی آئی کے 25 افراد دوبارہ طلب

    اسلام آباد: سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 اہم افراد کو دوبارہ طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، آج جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے 25 افراد کو طلب کیا تھا، جن میں بیرسٹر گوہر، رؤف حسن اور شاہ فرمان نے پیش ہو کر جے آئی ٹی کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ جے آئی ٹی نے ان رہنماؤں سے پانچ گھنٹے تک تفتیش کی، اور اس دوران شاہ فرمان کی جانب سے نامناسب رویے کا مظاہرہ کیا گیا جس پر جے آئی ٹی نے ان سے اضافی اور سخت سوالات کیے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور سوشل میڈیا ٹیم کو 11 مارچ کو دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 11 مارچ کو سلمان اکرم راجا، رؤف حسن، فردوس شمیم نقوی، خالد خورشید، اسلم اقبال، حماد رضا، عون عباس، عالیہ حمزہ، اور شہباز شبیر کو دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں، جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں شیخ وقاص، کنول شوذب، تیمور سلیم، اسد قیصر، شاہ فرمان، آصف رشید، محمد ارشد، صبغت اللہ ورک، اظہر مشوانی، اور نعمان افضل کو بھی طلب کیا ہے۔ ان کے علاوہ جبران الیاس، سلمان رضا، ذلفی بخاری، موسیٰ ورک، اور علی ملک کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ افراد ریاست مخالف پروپیگنڈے کے سلسلے میں تحقیقات کے دائرہ کار میں ہیں۔

    جے آئی ٹی کی تشکیل الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے تحت کی گئی تھی، جس کا مقصد قانون کے مطابق ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی تجویز کرنا ہے۔یہ تحقیقات اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف مواد پھیلایا گیا اور اس میں کون افراد ملوث ہیں۔

    سائلین سے رشوت،اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحقیقات کا حکم

    گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت،جے یوآئی نے پی ٹی آئی کو شرائط بتا دیں

    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟

  • افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحہ کے پاکستان میں استعمال کے ثبوت

    افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحہ کے پاکستان میں استعمال کے ثبوت

    پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پرآ گئے۔

    پاک فوج گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان سے دہشتگرد پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔سب پر یہ بات عیاں ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے۔ دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔ ان آپریشنز کی تفصیلات کے مطابق 4 مارچ 2025 کو فتنتہ الخوارج نے بنوں کینٹمنٹ پر حملے کی کوشش کی مگر سیکیورٹی فورسز کے بروقت ردعمل سے ان کے ناپاک ارادے ناکام ہو گئے۔ اپنی ناکامی کے خوف سے حملہ آوروں نے دو بارودی مواد سے لدی گاڑیاں کینٹمنٹ کی دیوار سے ٹکرا دیں۔آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے نے حملہ آوروں کو نشانہ بنا کر 16 دہشتگردوں سمیت 4 خودکش بمباروں کو ہلاک کر دیا۔ مارے گئے خوارجیوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جس میں ایم 4 کاربائن اور 40 ایم ایم وی او جی 25 پروجیکٹڈ گرینیڈز بھی شامل تھے۔ یہ دہشتگرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث رہے۔

    اس سے قبل 28 فروری 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلی میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فتنتہ الخوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر چھ خوارج کو ہلاک کیا۔ یہ خوارج سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث رہے۔ ہلاک خوارج سے ایم 24 اسنائپر رائفل، ایم 16 اے 4 اور ایم 4 سمیت اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔

    15 فروری 2025 کو خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دو الگ جھڑپوں میں پندرہ خوارج انجام کو پہنچے۔ 15 فروری 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ہتھالہ میں آئی بی او کرکے نو خوارجیوں کو ہلاک کر دیا۔ 15 فروری 2025 کو ایک اور آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں آپریشن کرکے چھ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا جو سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں استعمال ہوتا رہا۔

    اس سے قبل یکم فروری 2025 کو ہرنائی میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کرکے گیارہ دہشتگردوں کو ہلاک اور متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ 31جنوری اور یکم فروری کی شب سیکیورٹی فورسز نے قلات کے علاقے منگوچر میں دہشتگردوں کا روڈ بلاک بنانے کا منصوبہ ناکام بنا کر بارہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔11 جنوری 2025 کو ضلع شمالی وزیرستان کے ضلع دوسالی میں دو الگ الگ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کئے گئے۔ آپریشن کے دوران چھ خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جب کہ دو خوارج گرفتار ہوئے۔

    انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں کیا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سیکورٹی فورسز نے تین خوارج کو جہنم واصل کر دیا جبکہ دو خوارج زخمی ہو گئے۔ 9دسمبر 2024 کوسیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔ آپریشن کے نتیجے میں دو خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ ایک خارجی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ دہشتگردوں سے بھاری تعداد میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    10 نومبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دس خوارج کو جہنم واصل کیا، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ آپریشن میں بھاری تعداد میں غیرملکی اسلحہ ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔

    افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحے کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یورو ایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر ملکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے جس میں 300,000 انخلاء کے وقت باقی رہ گئے۔ اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔ امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشتگرد حملوں میں مدد دی۔

    یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان عبوری حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔

  • اتنا عرصہ ہوگیا، ارشد شریف کیس میں تاخیر کیوں ہوئی،سپریم کورٹ

    اتنا عرصہ ہوگیا، ارشد شریف کیس میں تاخیر کیوں ہوئی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ارشد شریف قتل کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نے ارشد شریف قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےکینیا سے باہمی قانونی امداد کے معاہدے کی توثیق کیلئے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں صدر سے معاہدے کی توثیق کروا لی جائے گی۔ جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ 10 دسمبر کو معاہدہ ہوا لیکن اب تک توثیق کیوں نہیں ہوسکی؟جسٹس مندوخیل نے سوال کیا، کیا آپ سے روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت رپورٹ مانگی جائے ؟ جسٹس علی مظہر نے کہا 3 ماہ بعد بھی وقت مانگا جا رہا ہے۔جسٹس حسن اظہر نے ریمارکس دیے کہ بے رحمی سے پاکستان کے ایک جانے پہچانے صحافی کو قتل کیا گیا، حکومت پاکستان کینیا میں صحافی کی فیملی کو کیوں سپورٹ نہیں کررہی، جسٹس مندوخیل نے کہا کہ وفاق کینیا میں جاکر فریق بن سکتی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہم نے 27 فروری کو وزارت داخلہ کو کارروائی آگے بڑھانے کے لیے لکھا ہے، جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ دسمبر میں آخری سماعت کے بعد آپ نےفروری میں کیوں وزارت داخلہ کو لکھا، جسٹس حسن اظہر نے کہا اب سے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ عدالت میں دیں۔

    جسٹس امین الدین نے کہا ہم جے آئی ٹیز کے حق میں نہیں، اس کا فائدہ نہیں ہوتا، ہماری بے چینی یہ ہے کہ اتنا عرصہ ہوگیا، ارشد شریف کیس میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا صدر کو سمری کس نے بھیجنی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا وزارت داخلہ کابینہ کی منظوری کے بعد صدر کو سمری ارسال کرے گی مگر وزارت داخلہ سے میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا، اس پر جسٹس علی مظہر نے کہا کہ وزارت داخلہ کے افسر تو آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ 27 فروری کو کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت خارجہ کو نوٹ بھجوا دیا، اس پر جسٹس علی مظہر نے سوال کیا معاہدےکی منظوری صدر نے دینی ہےتو کیا صدر مسترد بھی کرسکتے ہیں؟ وزارت داخلہ کے قانونی مشیر نے جواب دیا اس متعلق کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔

  • سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ ، پی ٹی آئی کے 25 رہنما،سوشل میڈیا اراکین طلب

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ ، پی ٹی آئی کے 25 رہنما،سوشل میڈیا اراکین طلب

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والے پی ٹی آئی کے مزید 15 افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے گئے

    وفاقی حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے سوشل میڈیا پر منفی پروپگینڈا کرنے پر پی ٹی آئی کے مزید 15 افراد کو طلب کرلیا ہے، طلبی کے مزید نوٹس جن افراد کو جاری کئے گئے ان میں گوہر علی خان، سلمان اکرم راجا، رؤف حسن، سید فردوس شمیم نقوی، محمد خالد خورشید خان، میاں محمد اسلم اقبال، محمد حماد اظہر ،عون عباس، عالیہ حمزہ ملک، محمد شہباز شبیر، وقاص اکرم، کنول شوزاب، تیمور سلیم خان، اسد قیصر اور شاہ فرمان شامل ہیں،ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے پاس ان افراد سے پوچھ گچھ کے لیے کافی شواہد موجود ہیں، جے آئی ٹی ان افراد کیخلاف ریاست مخالف پروپگنڈے کی تحقیقات کرے گی، ان تمام افراد کو بذریعہ نوٹس 7 مارچ 2025ء دوپہر 12 بجے جے آئی ٹی کے سامنے طلب کیا گیا ہے،

    یاد رہے کہ جے آئی ٹی بذریعہ نوٹیفیکیشن https://F.No.8/9/2024-FIA/، الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت تشکیل دی گئی تھی، جے آئی ٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، اسلام آباد کی سربراہی میں تحقیقات کر رہی ہے، جے آئی ٹی کا مقصد قانون کے مطابق ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی تجویز کرنا ہے، نوٹسیز میں ان تمام افراد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں،

    قبل ازیں وفاقی حکومت کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ٹیم کے 10 ارکان کو سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے الزامات کے تحت طلب کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، ملزمان کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اور انہیں کل دوپہر 12 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ تحقیقات وفاقی حکومت کی ہدایت پر آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں کی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، جن افراد کو طلب کیا گیا ہے ان میں آصف رشید،محمد ارشد،صبغت اللہ ورک،اظہر مشوانی،محمد نعمان افضل،جبران الیاس،سید سلمان رضا زیدی،ذلفی بخاری،موسیٰ ورک،علی حسنین ملک شامل ہیں

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پوسٹس اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے الزامات درست ہیں یا نہیں۔ اگر ان افراد پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کو آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے سوشل میڈیا کارکنان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پارٹی نے اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

  • آرمی چیف کا بنوں کینٹ کا دورہ،سی ایم ایچ  میں زخمیوں کی عیادت

    آرمی چیف کا بنوں کینٹ کا دورہ،سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے بنوں کینٹ کا دورہ کیا، آرمی چیف کومجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    باغی ٹی وی :پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقاتَ عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بنوں چھاؤنی پر خوارج کے ناکام دہشت گرد حملے کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بنوں کینٹ کا دورہ کیا ہے، آرمی چیف کومجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سی ایم ایچ بنوں کا دورہ کیا اوروہاں زخمیوں کی عیادت کی، آرمی چیف نے فوجیوں کے بلند حوصلے، ثابت قدمی کوسراہا دورے کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرتی رہے گی،مجرموں کو بہادر فوجیوں نے فوری طور پر ختم کردیا، منصوبہ سازوں کوجلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    108 سالہ خاتون کا منفردعالمی ریکارڈ

    ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جوانوں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ریاست کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کرتی رہے گی۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے اس گھناؤنے اور بزدلانہ واقعے میں شہید ہونیوالے بے گناہ شہریوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں یقین دلایا کہ حملے کے گھناؤنے کرداروں کو بہادر جوانوں نے فوری کارروائی کرکے انجام تک پہنچایا تاہم اس گھناؤنے حملے کے منصوبہ ساز اور سہولت کار جہاں بھی ہوں گے، انہیں بھی جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہا،عرفان صدیقی

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں، خواتین اور بوڑھوں سمیت شہریوں کو وحشیانہ نشانہ بنانے سے خوارج کے اسلام کے دشمنی کے حقیقی عزائم بے نقاب ہو ئے ہیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے، مسلح افواج پاکستان کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے حملہ آوروں کو ناکام بنانے اور ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے جرات مندانہ، فوری اور فیصلہ کن ردعمل کو سراہا۔

    پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ بند ہونیکا امکان

    آرمی چیف نے مزید کہا کہ دشمن عناصر کی ایماء پر کام کرنے والے خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں اور آلات کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان ایسے عناصر کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی بھی گروہ کو پاکستان کے امن و استحکام میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    قبل ازیں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی آمد پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقر ر

  • کب مارشل لا لگا،اس کا ملٹری کورٹ کیس سے کیا لنک ہے؟جسٹس جمال مندوخیل

    کب مارشل لا لگا،اس کا ملٹری کورٹ کیس سے کیا لنک ہے؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی ، لاہور بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان کے دلائل دیے۔ سماعت کے آغاز میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریری معروضات عدالت میں پیش کی گئیں جن میں کہا گیا کہ شہریوں کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی معروضات میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کی شقوں کو مختلف عدالتی فیصلوں میں درست قرار دیا جاچکا ہے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

    سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ شہریوں کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا آرمی ایکٹ مئی 1952 میں آیا، اس سے قبل پاکستان میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ان ساری باتوں کاملٹری ٹرائل سےکیاتعلق ہے؟ ملک میں کب مارشل لا لگا،اس کا ملٹری کورٹ کیس سے کیا لنک ہے؟ آئین میں مارشل لا کی کوئی اجازت نہیں، اس پر وکیل حامد خان نے کہا مارشل لا کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیا جاتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے سے مارشل لا کا راستہ بند ہوا۔،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آئین میں مارشل لا کا کوئی ذکر نہیں، مارشل لا ماورائے آئین اقدام ہوتا ہے۔

  • 2024 میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ

    2024 میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ

    2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گرد حملوں میں ہونے والی اموات کی تعداد 1081 تک جا پہنچی ہے۔ یہ رپورٹ انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک میں تیزی سے بڑھنے والی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے، اور یہ تنظیم 2024 میں پاکستان میں 52 فیصد ہلاکتوں کی ذمہ دار تھی۔ اس سال دہشت گرد حملوں میں ہونے والی اموات کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت بڑھ گئی ہے، جہاں 2023 میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 517 تھی جو 2024 میں بڑھ کر 1099 تک پہنچ گئی۔2024 میں ٹی ٹی پی نے 482 حملے کیے، جن میں 558 افراد جاں بحق ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں 91 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں شدت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال مسلسل بدتر ہو رہی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں مل گئی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملے تیزی سے بڑھ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں 2024 میں 116 سے بڑھ کر 504 تک جا پہنچیں۔ ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بھی چار گنا بڑھ کر 388 ہو گئی۔ یہ گروہ پاکستان کے جنوبی حصے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا چکے ہیں اور ان کے حملوں نے پورے ملک میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔

    پاکستان کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن "عزمِ استحکام” شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنا اور سکیورٹی کو مستحکم کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات دہشت گردوں کے خلاف ایک مضبوط ردعمل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، لیکن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ملکی امن و امان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والے اضافہ نے عالمی سطح پر پاکستان کی سکیورٹی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور سکیورٹی فورسز اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں تاکہ ملک میں امن و امان قائم کیا جا سکے۔

  • وزیرِ اعظم  سے انٹرنیشنل فری زونز اتھارٹی   متحدہ عرب امارات کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے انٹرنیشنل فری زونز اتھارٹی متحدہ عرب امارات کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے انٹرنیشنل فری زونز اتھارٹی متحدہ عرب امارات اور الیریا گروپ کے 8 رکنی وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل فری زون اتھارٹی (IFZA) اور سرمایہ کاری بورڈ پاکستان کے مابین پاکستان کے موجودہ اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) کا تبادلہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت IFZA پاکستان کے مختلف اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کرے گی، جس سے ملک میں صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ملاقات میں IFZA کے چیئرمین مارٹن گریگرز پیڈرسن (Martin Gregers Pederson) اور الیریا گروپ کے مینجنگ پارٹنر مانا علی محمد حماد الشمسی سمیت دونوں اداروں کے دیگر عہدیداران شریک تھے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی جانب سے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے وفد کا پاکستان آمد پر پرتپاک خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس قسم کے معاہدے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • عمران خان کی رہائی کے لئے پس پردہ پی ٹی آئی کی بات چیت جاری

    عمران خان کی رہائی کے لئے پس پردہ پی ٹی آئی کی بات چیت جاری

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں نے اسٹیبلشمنٹ سے پس پردہ رابطے قائم کر رکھے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے نجی ٹی وی جیونیوز کو بتایا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے خفیہ مذاکرات جاری ہیں۔ پارٹی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ عمران خان کی رہائی اسٹیبلشمنٹ کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ تاہم، بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور اس حوالے سے پرامید ہیں اور مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، براہ راست ملاقاتیں نہیں ہو رہیں، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت اسٹیبلشمنٹ سے گفت و شنید میں مصروف ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں، تو عمران خان کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہر سطح پر عمران خان کی رہائی کے لیے کام کر رہی ہے اور انہیں اس ضمن میں مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

    چند روز قبل، بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پشاور میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات بھی کی تھی۔ آرمی چیف نے اپنے دورہ پشاور کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں صوبے میں امن و امان اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق، اس ملاقات میں سکیورٹی امور پر گفتگو ہوئی تھی۔عمران خان کی رہائی کے لیے علی امین گنڈاپور اپنے سیاسی تعلقات استعمال کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں سرگرم عمل ہیں۔ تاہم، اسٹیبلشمنٹ کا مؤقف یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی قیادت کی کوششیں کیا رنگ لائیں گی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

  • بنوں،16 دہشتگرد جہنم واصل، 13 شہری، 5 سیکورٹی فورسز کے جوان شہید

    بنوں،16 دہشتگرد جہنم واصل، 13 شہری، 5 سیکورٹی فورسز کے جوان شہید

    بنوں کینٹ، دہشت گردانہ حملہ کرنے والے خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 4 مارچ 2025 کو بنوں چھاؤنی پر ایک بزدلانہ دہشت گرد حملے کی کوشش کی گئی، جس کے پیچھے خوارج عناصر کارفرما تھے۔ حملہ آوروں نے چھاؤنی کی سیکیورٹی میں شگاف ڈالنے کی ناپاک کوشش کی، تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی مستعد اور فوری کارروائی نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ حملہ آوروں نے دو بارود سے بھری گاڑیاں چھاؤنی کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دیں۔پاکستانی فوج کے بہادر سپاہیوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اس کارروائی میں سولہ دہشت گرد مارے گئے، جن میں چار خودکش بمبار بھی شامل تھے۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں پانچ بہادر فوجی مادر وطن پر قربان ہو گئے۔

    حملے کے نتیجے میں خودکش دھماکوں سے حفاظتی دیوار کا کچھ حصہ منہدم ہو گیا، جس سے قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ بدقسمتی سے، ایک مسجد اور ایک رہائشی عمارت شدید متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں تیرہ معصوم شہری شہید اور بتیس زخمی ہو گئے۔

    خفیہ معلومات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس وحشیانہ حملے میں افغان شہریوں کا براہ راست ملوث ہونا پایا گیا ہے، جبکہ شواہد اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملے کی منصوبہ بندی اور قیادت افغانستان میں موجود خوارج رہنماؤں نے کی۔پاکستان کو توقع ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔ پاکستان اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے بہادر سپاہیوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں ہمیں اپنے ملک کے دفاع کے لیے مزید مضبوط اور مستحکم بناتی ہیں